انسان کو آرام چاہیے، سکون چاہیے، اپنے لیے ایک ایسی جگہ چاہیے جہاں زندگی کی دوڑ کچھ دیر کے لیے تھم جائے، ذمہ داریوں کا بوجھ ہلکا محسوس ہو اور آدمی خود کو محفوظ سمجھے۔ یہ انسانی فطرت ہے اور
اسلامی شریعت اپنی ساخت اور مزاج کے اعتبار سے ایک جامع اور ہمہ گیر نظامِ حیات ہے جو ہر دور اور ہر معاشرتی صورتِ حال میں رہنمائی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم انسانی معاشرہ جامد نہیں بلکہ مسلسل
تمہیدعلمِ حدیث اسلامی علوم کا وہ عظیم الشان شعبہ ہے جس کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال اور تقریرات کو محفوظ کیا گیا۔ محدثینِ کرام نے اپنی پوری زندگیاں اس مقدس علم کی خدمت میں
تمہیدتیسری صدی ہجری علمِ حدیث کی تاریخ کا ایک اہم اور فیصلہ کن دور ہے، جس میں احادیثِ نبویہ کی جمع و تدوین کے ساتھ رواۃ کی جانچ پڑتال اور نقدِ حدیث کے باقاعدہ اصول مرتب کیے گئے۔ اس علمی
انسانی معاشرے میں وراثت محض مالی وسائل کی تقسیم کا نام نہیں بلکہ معاشی انصاف، خاندانی استحکام اور سماجی توازن کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ کسی بھی معاشرے میں وراثتی نظام اس کے قانونی، اخلاقی اور تہذیبی تصورات کی عکاسی
تمہید :‑انسان جسے اللہ رب العزت نے تمام مخلوقات میں اشرف بنایا ہے اپنے حقیقی خالق کی یاد سے غفلت اس کو پستی کا شکار بنا دیتی ہے میرا عنوان اگرچہ خالص دینی ہے لیکن اس کے معاشرے اگر اس
AbstractIslamic dawah is a universal obligation and in light of the digital revolution, adapting its methodologies has become an indispensable scholarly necessity. This study aims to examine contemporary methods of dawah within the framework of modern intellectual and social contexts,
کبھی غور کیجیے، انسان نے اپنی زندگی میں بے شمار چیزیں ایجاد کیں، مگر شاید اپنی توجہ سے زیادہ قیمتی کوئی چیز ایجاد نہیں کی۔ وقت سب کے پاس برابر تھا، مگر توجہ وہ سرمایہ تھی جس سے انسان نے
بسم الله الرحمن الرحيم پس منظر اور اہمیت (Background and Significance): الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، وعلى آله وصحبه أجمعين. اسلامی تعلیمات کا آغاز ہی علم کی ترغیب اور قلم کی تقدیس سے ہوتا ہے۔
کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ ہم میں سے بہت سے لوگ سوالوں سے نہیں، سوال کرنے والے سے پریشان ہوتے ہیں؟ بچہ کسی بات کی وجہ پوچھے تو ہم کہتے ہیں: ’’بس ایسے ہی ہوتا ہے۔‘‘ طالب علم
ہم دنیا کو صرف آنکھوں سے نہیں دیکھتے۔ آنکھیں ہمیں مناظر دکھاتی ہیں، لیکن ان مناظر کو معنی ہمارا ذہن دیتا ہے۔ ایک ہی واقعہ دو انسانوں کے سامنے پیش آ سکتا ہے، دونوں اسے دیکھ بھی سکتے ہیں، اس
انسان کی شخصیت کا اصل امتحان اس وقت نہیں ہوتا جب لوگ اس کی تعریف کر رہے ہوں، اس کی کامیابیوں کے چرچے ہوں اور ہر طرف سے اس کے لیے تحسین کے کلمات بلند ہو رہے ہوں۔ اصل امتحان
کبھی کبھی انسان کی پوری زندگی کسی ایک کتاب سے بدل جاتی ہے۔ کوئی ایک جملہ اس کے اندر ایسا سوال پیدا کر دیتا ہے جو برسوں اس کا تعاقب کرتا رہتا ہے، کوئی ایک واقعہ اس کی سوچ کا
انسان کے پاس علم ہو، تجربہ ہو، صلاحیت ہو اور نیک نیتی بھی ہو، لیکن اگر وہ اپنی بات دوسروں تک اس انداز سے نہ پہنچا سکے کہ سامنے والا اسے سمجھ بھی سکے، محسوس بھی کرے اور اس پر
خلاصہاسلام کی ترویج و اشاعت اور اسلامی تہذیب و ثقافت کی تشکیل میں روحانیت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اسلام نے عبادات، اخلاقیات اور معاشرتی نظم کے ذریعے ایک متوازن تمدن کی بنیاد رکھی، جبکہ تصوف نے تزکیۂ نفس اور
مسجد میں نماز کے لیے صفیں بنتی ہیں، امام آگے کھڑا ہوتا ہے، لوگ اس کے پیچھے نماز ادا کرتے ہیں اور چند منٹ بعد سب اپنے اپنے گھروں، دکانوں، دفاتر اور مصروفیات کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ لیکن ایک
خاندان کسی بھی معاشرے کی بنیادی اکائی ہے۔ معاشرے کی فکری، اخلاقی اور تہذیبی کیفیت کو سمجھنے کے لیے اس کے خاندانوں کی کیفیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایک مضبوط خاندان افراد کو محبت، تحفظ، تربیت اور
صورت سے سیرت تک شخصیت سازی، ذہن، کردار، جذبات اور تعلقات کی ایک فکری جہت انسان اپنی پوری زندگی میں سب سے زیادہ کس چیز کو سنوارتا ہے؟ اپنا چہرہ، لباس، گھر، دفتر، گاڑی، موبائل، اپنی تصویریں یا اپنی شہرت؟
عالمہ اور نئی نسل کی فکری و اخلاقی تربیت معاشرے کی فکری اور اخلاقی تشکیل کا آغاز ہمیشہ نئی نسل سے ہوتا ہے۔ آج کی نسل ہی آنے والے کل کےخاندان، تعلیمی اداروں، معاشرتی رویوں اور اجتماعی زندگی کی نمائندگی
کسی بھی معاشرے کی مضبوطی کا آغاز اس کی بنیادی اکائی یعنی خاندان سے ہوتا ہے۔ خاندان صرف چند افراد کے ایک ساتھ رہنے کا نام نہیں، بلکہ یہی وہ پہلی درس گاہ ہے جہاں انسان زندگی کے ابتدائی اسباق
ذاتی قیادت کا موضوع دراصل قیادت کے پورے تصور کی بنیاد ہے۔ عموماً جب قیادت کی بات ہوتی ہے تو ذہن میں کسی ادارے کا سربراہ، کسی جماعت کا قائد، کسی تنظیم کا ذمہ دار یا کسی بڑے منصب پر
غصہ انسانی فطرت کا حصہ ہے۔ کوئی انسان ایسا نہیں جس کے اندر غصے کا جذبہ موجود نہ ہو۔ کبھی ناانصافی پر غصہ آتا ہے، کبھی کسی کی بدتمیزی پر، کبھی اپنے حق کے پامال ہونے پر، اور کبھی اس
انسان کی زندگی کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ اسے بہت کم علم حاصل ہوا، بلکہ یہ ہے کہ ایک وقت کے بعد وہ یہ سمجھنے لگے کہ اب اسے مزید سیکھنے کی ضرورت نہیں۔ جس دن انسان
معاشرے میں علم رکھنے والے افراد کی کبھی کمی نہیں رہی، اور نہ ہی ایسے لوگوں کی جو دوسروں کو تعلیم دیتے ہوں۔ لیکن تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ ہر صاحبِ علم مؤثر رہنما نہیں بنتا، اور نہ
سیکھنے کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا انسان کی زندگی کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ اسے بہت کم علم حاصل ہوا، بلکہ یہ ہے کہ ایک وقت کے بعد وہ یہ سمجھنے لگے کہ اب اسے مزید
"قسم ہے زمانے کی! یقیناً انسان خسارے میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے، نیک عمل کیے، حق کی تلقین کی اور صبر کی نصیحت کرتے رہے۔”(سورۃ العصر) انسان کی زندگی میں بہت سی نعمتیں ایسی ہیں جن
تمہید: برصغیر کی مذہبی تاریخ میں چند مذاہب ایسے ہیں جنہوں نے اپنے مخصوص فکری و اخلاقی نظام کے ذریعے گہرے اثرات مرتب کیے۔ انہی میں ایک اہم مذہب جین مت ہے، جسے دنیا کے قدیم ترین مذاہب میں شمار
انسان کی زندگی میں بعض کمزوریاں ایسی ہوتی ہیں جو بظاہر معمولی دکھائی دیتی ہیں، مگر رفتہ رفتہ پوری شخصیت کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہیں۔ ٹال مٹول بھی انہی خاموش کمزوریوں میں سے ایک ہے۔ انسان جانتا ہے
مقدمہ موضوع تحقیق کا تعارف اور اہمیت جب انسان کسی پیش آمدہ مسئلے کے حل کے لیے اپنےپاس موجود علم کی طرف رجوع کرتا ہے، اور اس علم کے ذریعے وہ مسئلہ کے حل یا نتیجے تک پہنچتا ہےاس حاصل
انسان کی زندگی بڑے فیصلوں سے کم اور روزانہ دہرائے جانے والے چھوٹے اعمال سے زیادہ تشکیل پاتی ہے۔ ہم عموماً سمجھتے ہیں کہ عظیم شخصیات کسی ایک غیر معمولی کارنامے کی وجہ سے عظیم بنتی ہیں، حالانکہ تاریخ کا
"جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے، پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے، ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور کہتے ہیں: نہ ڈرو، نہ غم کرو، اور اس جنت کی خوش خبری لو جس کا تم
معاشرے میں علم رکھنے والے افراد کی کبھی کمی نہیں رہی، اور نہ ہی ایسے لوگوں کی جو دوسروں کو تعلیم دیتے ہوں۔ لیکن تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ ہر صاحبِ علم مؤثر رہنما نہیں بنتا، اور نہ
"قسم ہے زمانے کی! یقیناً انسان خسارے میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے، نیک عمل کیے، حق کی تلقین کی اور صبر کی نصیحت کرتے رہے۔”(سورۃ العصر) انسان کی زندگی میں بہت سی نعمتیں ایسی ہیں جن
علم اور کردار کا تعلق ہمیشہ سے ایک دوسرے کے ساتھ رہا ہے، لیکن انسانی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ محض علم انسان کو عظیم نہیں بناتا۔ دنیا میں ایسے بے شمار لوگ گزرے ہیں جو غیر معمولی علم
عالی شان عمارتیں اور کھوکھلے رشتے: ہمارے خاندانی سکون کو کس کی نظر لگ گئی؟انسانی تہذیب کی ابتدا ہی سے گھر محض اینٹ، گارے یا پتھر سے بنی ایک عمارت کا نام نہیں رہا، بلکہ یہ رشتے جوڑنے، دُکھ سُکھ
اور صبر کرنے والوں کو خوش خبری سنا دیجیے۔” (البقرۃ: 155) ہم ایک ایسے دور میں زندہ ہیں جہاں انسان پہلے سے زیادہ آسائشوں کا مالک ہے، مگر پہلے سے زیادہ بے چین بھی۔ ذرائع بڑھ گئے ہیں مگر تحمل
انسان کی زندگی کو اگر قریب سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی کامیابی یا ناکامی صرف اس کے حالات سے متعین نہیں ہوتی، بلکہ اس سے کہیں زیادہ اس زاویۂ نگاہ سے وابستہ ہوتی ہے جس
خود اعتمادی: وہ قوت جو ایمان سے جنم لیتی ہے تاریخِ انسانی کا مطالعہ اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ بڑے کارنامے ہمیشہ غیر معمولی وسائل رکھنے والوں نے انجام نہیں دیے، بلکہ اکثر وہ لوگ زمانے کا رخ
مسلم معاشرے کی تعمیر میں اہلِ علم کا کردار ہمیشہ بنیادی رہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی امت کو فکری، اخلاقی یا سماجی چیلنجز کا سامنا ہوا، رہنمائی کے لیے اہلِ علم ہی کی طرف رجوع کیا گیا۔
دنیا میں بعض لوگ ایک ہی کام کرتے ہیں، ایک ہی میدان میں محنت کرتے ہیں، ایک جیسی صلاحیتیں رکھتے ہیں، لیکن ان کی زندگیوں کے نتائج یکساں نہیں ہوتے۔ بعض کی محنت صرف دنیا تک محدود رہ جاتی ہے،
دنیا کا ہر انسان کامیابی، سکون اور باوقار زندگی کا خواہاں ہے، لیکن ایک بنیادی سوال ایسا ہے جسے اکثر لوگ پوری زندگی نظر انداز کیے رکھتے ہیں، اور وہ یہ ہے کہ "میں حقیقت میں کون ہوں؟” انسان دنیا
انسان کی زندگی کو اگر کسی ایک چیز سے پہچانا جائے تو وہ اس کے وسائل نہیں بلکہ اس کے عزائم ہوتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑے کارنامے ہمیشہ بڑے وسائل سے نہیں بلکہ بڑی ہمت رکھنے والے انسانوں
انسان کی زندگی میں کچھ سوالات ایسے ہوتے ہیں جن کے جواب پر اس کی پوری زندگی کی سمت متعین ہوتی ہے۔ ان میں سب سے بنیادی اور فیصلہ کن سوال یہ ہے کہ "میں کیوں زندہ ہوں؟” بظاہر یہ
تاریخ میں ایسے ادوار کم آتے ہیں جب انسانی زندگی کے انداز، ذرائع اور ترجیحات یکسر بدل جائیں۔ ہمارا دور انہی غیر معمولی ادوار میں سے ایک ہے۔ چند دہائیاں پہلے تک علم کتابوں، لائبریریوں اور درس گاہوں میں محدود
کسی بھی معاشرے کی حقیقی قوت اس کی عمارتوں، سڑکوں یا معاشی اعداد و شمار میں نہیں ہوتی، بلکہ ان اداروں میں ہوتی ہے جو انسان بناتے ہیں، کردار تعمیر کرتے ہیں اور اجتماعی شعور کو سمت دیتے ہیں۔ اسلامی
ہر دور کے اپنے غالب رجحانات ہوتے ہیں۔ کچھ ادوار میں انسان خوف کے زیرِ اثر زندگی گزارتا ہے، کچھ میں مادہ پرستی غالب آ جاتی ہے اور کچھ زمانے ایسے ہوتے ہیں جن پر مایوسی کے سائے چھا جاتے
ہر دور اپنے ساتھ کچھ نئے سوالات، نئے چیلنجز اور نئی ذمہ داریاں لے کر آتا ہے۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں عالمِ دین کا بنیادی فریضہ ایک ہی رہا ہے: اللہ کے دین کو سمجھنا، اس کی حفاظت کرنا
ہر دور کی اپنی کچھ نمایاں خصوصیات اور مخصوص چیلنجز ہوتے ہیں۔ اگر گزشتہ صدیوں میں امت کو سیاسی استعمار، فکری یلغار یا تہذیبی کشمکش کا سامنا تھا، تو موجودہ دور کا سب سے بڑا سوال نوجوان نسل کی فکری
اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو ایک ہی مزاج، ایک ہی فہم اور ایک ہی زاویۂ نگاہ کے ساتھ پیدا نہیں فرمایا۔ رنگوں، زبانوں، صلاحیتوں اور مزاجوں کی طرح فہم و فکر کا تنوع بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت کا حصہ
گیارہویں صدی عیسوی کا بغداد یاد کیجیے، جہاں دجلہ کے کنارے علم و حکمت کی وہ شمع روشن تھی جس کی روشنی سے پورا عالم منور تھا۔ وزیر نظام الملک طوسی کے ہاتھوں قائم ہونے والا "مدرسہ نظامیہ” محض ایک
1۔ مقدمہ: جب سائنس اور دین ہم قدم تھے اسلامی تاریخ کا ایک وہ سنہرا دور تھا جب علم کی خانوں میں کوئی تفریق نہیں تھی۔ بغداد، دمشق، اور اندلس کی گلیوں میں مسلم سائنسدانوں اور علماء کے نزدیک کائنات
انسانی علم کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ معاشروں میں تبدیلی ہمیشہ محض افکار کے پیدا ہونے سے نہیں آئی، بلکہ ان افکار کے مؤثر ابلاغ سے آئی ہے۔ بہت سے خیالات کتابوں کے اوراق
شعبہ قرآنک اسٹڈیز دی اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور تفسیرمعارف القرآن و تفسیر بیان القرآن کے احکامی تفسیری ادب کا تجزیاتی و ادبی مطالعہ An Analytical and literey study of the Quranic Commentary and the Interpretation of the Quran "The Holy
Bakhti RahmanPHD Scholar:International Islamic University Islamabad.E-mail:bakhtir509@gmail.comAbstract:This article examines the Shariah (Islamic legal) status of advertising and exploresthe historical evolution of promotional practices from early human societies to thecontemporary digital era. It analyzes how the Qur’an, Sunnah, classical jurists, andcontemporary fatwas
کا تجزیاتی مطالعہ ) تحقیقی آرٹیکل بر ائے مدرسہ ڈاٹ ۔پی۔کے) تلخیص (Abstract) اسلامی شریعت انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے، جس میں معاشی عدل کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ فقہ اسلامی میں "حیلہ” ایک ایسا قانونی
بسم الله الرحمن الرحيم المقدمة: الحمد لله الذي أنزل على عبده الكتاب ولم يجعله عوجا، والصلاة والسلام على من أرسل إلى الخلق بشيرا ونذيرا، وعلى آله وصحبه ومن سار على نهجه وسلك على دربه ليلا ونهارا، أما بعد: إن القرآن
A Research thesis submitted by Syeda FasihaZahraRegister No:01.03.25.81One year program of madrasa.pk Lahore.PakistanSubmitted to :Dr.Mufti Muhammad Umer Farooq AssistantProfessorAL-QadirUniversity,JhelumAugust 22, 2025PART 1IntroductionChange and sustainable development are deeplyconnected to how we care for the environment. One ofthe simplest yet most effectivesolutionstoenvironmental
پاکستانی معاشرہ اس وقت ایک عجیب فکری اور سماجی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک طرف جدید دنیا کی تیز رفتار تبدیلیاں ہیں، جنہوں نے انسان کی سوچ، ترجیحات اور طرزِ زندگی کو بدل کر رکھ دیا ہے، اور دوسری طرف
Sulaiman Kaka KhelM.Phil Islamic Studies, University of MalakandEmail: sulaimankakakhel@gmail.com Shaukat ZamanM.Phil Islamic Studies, University of MalakandEmail: shaukatzaman067@gmail.com Abstract:Islam has the distinguished property of producing prominent personalities who served the faith in their respective times. Among these figures, Imam Abu Hanifah
واہمیتِ موضوع (Introduction & Significance) علامہ ابواللیث نصر بن محمدبن ابراھیم بن الخطاب الفقیہ الحنفی السمرقندیؒ لقبامام الہدی ازبکستان شہر سمرقند میں پیدا ہوئے جسے عربی میں سمران کہا جاتا ہے، یہمشھور شہر ماورءالنھر کے نام سے معروف ہے،علماء بلخ
of Surah al-Rum: Worldly Impacts Bi Bi Saima Aman ullah M.Phil. Scholar, Bahria University Karachi.Head Of Markaz Ul Amaan Al Islami, Karachi.Saimaamanullah83@gmail.com Esarullah M.Phil. Scholar, Bahria University Karachi. HR Assistantesarullah13@gmail.com Belief in Life After Death (Ba‘th ba‘d al-Mawt) in the
میں تجزیاتی مطالعہ )اسلام آبادکااختصاصی مطالعہ: 2022تا 2024 ( تمہید:ایک وقت تھاکہ مسلمان اپنے طرز معاشرت اور نظام خاندان پر فخر کیا کرتے تھےمگر آج عمومی صورتحال اغیار سے بھی بدتر ہو گئی ہے۔ جہیز ہراسانی اور انسداد گھریلوتشدد قوانین
تمہیدانسانی تاریخ کا مطالعہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ معیشت ہمیشہ سے انسانی معاشروں کی تشکیل، استحکام اور ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتی رہی ہے۔ معاشرتی نظام کی بقا اور ریاستی ڈھانچے کی مضبوطی کا انحصار ایک
محمد تقی عثمانی اور عبدالسلام بھٹوی کے نقطہ ہائے نظر کی روشنی میں تعارف (Introduction)اسلامی بینکاری عصر حاضر میں اسلامی مالیاتی نظام کی ایک اہم اور نمایاں پیش رفت کے طور پر سامنے آئی ہے، جس کا بنیادی مقصد سود
. موضوع تحقیق کا تعارف، اہمیت اور پس منظر: اسلامی تعلیمات میں عقیدہ ختم نبوت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے ۔ عقیدہ ختم نبوت کا مطلب یہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ آخری نبی ہیں اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ یہ عقیدہ اسلام کے بنیادی عقائد میں شامل ہے اور اس کی حفاظت مسلمانوں کی اولین ذمہ
اسلامی تاریخ کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ علمائے کرام ہمیشہ سے معاشرے کے فکری ستون اور اخلاقی رہنما رہے ہیں۔ ان کی علمی گہرائی، دینی بصیرت اور سچی خیر خواہی نے صدیوں تک امت کو فکری سمت بھی دی