اور صبر کرنے والوں کو خوش خبری سنا دیجیے۔” (البقرۃ: 155)
ہم ایک ایسے دور میں زندہ ہیں جہاں انسان پہلے سے زیادہ آسائشوں کا مالک ہے، مگر پہلے سے زیادہ بے چین بھی۔ ذرائع بڑھ گئے ہیں مگر تحمل کم ہوگیا ہے۔ معلومات کی فراوانی ہے مگر دلوں میں سکون کی کمی ہے۔ ہر چیز فوری چاہیے، کامیابی بھی، شہرت بھی، دولت بھی اور نتائج بھی۔ اگر چند دن کی محنت کے بعد مطلوبہ کامیابی نہ ملے تو بہت سے لوگ راستہ ہی بدل دیتے ہیں۔ یہی جلد بازی آج کی نسل کا ایک بڑا المیہ بن چکی ہے۔
ایسے ماحول میں اگر کوئی ایک وصف انسان کو سنبھال سکتا ہے، اسے شکست سے بچا سکتا ہے، اس کے کردار کو مضبوط کر سکتا ہے اور اسے اللہ کے قریب بھی لے جا سکتا ہے تو وہ صبر ہے۔ بدقسمتی سے صبر کو اکثر صرف مصیبت برداشت کرنے کا نام سمجھ لیا گیا ہے، حالانکہ قرآن مجید میں صبر ایک ایسی ہمہ گیر قوت کے طور پر سامنے آتا ہے جو انسان کے ایمان، کردار، تعلقات، دعوت، قیادت اور کامیابی، سب کی بنیاد ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے صبر کا حکم صرف آزمائش کے وقت نہیں دیا بلکہ فرمایا:
"اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعے اللہ سے مدد طلب کرو، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔” (البقرۃ: 153)
یہ آیت ایک عظیم حقیقت بیان کرتی ہے کہ اللہ کی معیت کسی قوم، نسل یا منصب کے ساتھ نہیں بلکہ صبر کے ساتھ وابستہ ہے۔ جو شخص صبر کو اپنا لیتا ہے، وہ درحقیقت اللہ کی خصوصی مدد کے دائرے میں داخل ہوجاتا ہے۔
اگر سیرتِ نبوی ﷺ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی پوری زندگی صبر کی عملی تفسیر ہے۔ مکہ مکرمہ میں تیرہ برس تک مسلسل مخالفت، تمسخر، معاشی بائیکاٹ اور جسمانی اذیتیں برداشت کیں، مگر کبھی انتقام کو دعوت پر ترجیح نہیں دی۔ طائف میں جب لہولہان کر دیے گئے تو فرشتے نے پہاڑوں کو ملا دینے کی اجازت چاہی، لیکن آپ ﷺ نے بددعا کے بجائے دعا فرمائی کہ شاید انہی کی نسلوں میں ایسے لوگ پیدا ہوں جو اللہ کی عبادت کریں گے۔ یہی صبر تھا جس نے دشمنوں کو بھی دوست بنا دیا۔
صلح حدیبیہ بھی صبر کی ایک بے مثال مثال ہے۔ بظاہر مسلمانوں کی کئی شرائط قبول نہ کی گئیں، حتیٰ کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے بھی یہ معاہدہ انتہائی دشوار محسوس ہوا، لیکن رسول اللہ ﷺ نے وقتی جذبات کے بجائے دور اندیشی اور صبر کا راستہ اختیار کیا۔ چند ہی برس بعد یہی معاہدہ اسلام کی تاریخ کا عظیم ترین سیاسی اور دعوتی موڑ ثابت ہوا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صبر صرف تکلیف برداشت کرنے کا نام نہیں بلکہ صحیح وقت کا انتظار کرنے کی حکمت بھی ہے۔
حضرت یوسف علیہ السلام کی پوری زندگی بھی صبر کا استعارہ ہے۔ کنویں کی تاریکی، غلامی، قید خانہ، جھوٹا الزام، برسوں کی تنہائی، ہر مرحلے پر انہوں نے اللہ سے تعلق کو مضبوط رکھا۔ اگر وہ جلد بازی کرتے تو شاید مصر کی قیادت تک کبھی نہ پہنچتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی کامیابی کو صبر اور تقویٰ سے جوڑتے ہوئے فرمایا:
"جو صبر کرے اور تقویٰ اختیار کرے تو اللہ نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔” (یوسف: 90)
یہی اصول ہر دور کے لیے ہے۔ عظیم کامیابیاں ہمیشہ ان لوگوں کے حصے میں آئی ہیں جنہوں نے وقتی مشکلات کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بجائے ثابت قدمی اختیار کی۔
اسلامی تاریخ میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی اذیتیں، حضرت خباب بن الارت رضی اللہ عنہ کی آزمائشیں، امام احمد بن حنبلؒ کی استقامت، امام ابن تیمیہؒ کی قید اور امام ابن القیمؒ کی علمی جدوجہد ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ بڑے لوگ آرام کی گود میں نہیں بلکہ صبر کی آغوش میں پروان چڑھتے ہیں۔
امام ابن القیمؒ نے ایک نہایت گہری بات لکھی ہے کہ صبر کی نسبت ایمان سے وہی ہے جو سر کی نسبت جسم سے ہے۔ جس طرح سر کے بغیر جسم زندہ نہیں رہ سکتا، اسی طرح صبر کے بغیر ایمان اپنی قوت برقرار نہیں رکھ سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کی عبادت، دعوت، علم، تعلقات اور خدمت، سب کو قائم رکھنے کے لیے صبر ناگزیر ہے۔
موجودہ دور کی نفسیات بھی اسی حقیقت کی تصدیق کرتی ہے۔ کامیاب افراد پر ہونے والی متعدد تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ کامیابی صرف ذہانت یا صلاحیت کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ مستقل مزاجی، مشکلات برداشت کرنے کی صلاحیت اور طویل عرصے تک اپنے مقصد پر قائم رہنے کی قوت ہی انسان کو دوسروں سے ممتاز بناتی ہے۔ جو شخص ہر ناکامی کے بعد دوبارہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے، وہ بالآخر منزل تک پہنچ جاتا ہے، جبکہ جلد مایوس ہونے والا شخص اپنی صلاحیتوں کے باوجود پیچھے رہ جاتا ہے۔
علمائے کرام کے لیے صبر کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ اصلاحِ معاشرہ چند خطبات یا چند دروس سے نہیں ہوتی۔ لوگوں کی عادتیں بدلنے، نئی نسل کی تربیت کرنے، غلط فہمیوں کو دور کرنے اور معاشرے میں خیر کو عام کرنے کے لیے برسوں کی مسلسل محنت درکار ہوتی ہے۔ اگر داعی ہر تنقید پر دل برداشتہ ہو جائے یا ہر مخالفت کے بعد راستہ بدل لے تو وہ کبھی دیرپا اثر پیدا نہیں کر سکتا۔ رسول اللہ ﷺ نے دعوت کا جو چراغ روشن کیا، اس کے پیچھے تئیس برس کی مسلسل جدوجہد، قربانی اور صبر تھا۔
عام مسلمان کی زندگی بھی صبر کے بغیر ادھوری ہے۔ والدین بچوں کی تربیت میں صبر چاہتے ہیں، اساتذہ تعلیم میں، تاجر دیانت داری پر قائم رہنے میں، طلبہ علم حاصل کرنے میں، شوہر اور بیوی خوشگوار ازدواجی زندگی کے لیے، اور ہر شخص اپنے نفس کی اصلاح میں صبر کا محتاج ہے۔ درحقیقت صبر زندگی کے ہر شعبے کی خاموش بنیاد ہے۔
البتہ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ صبر کا مطلب ظلم کو قبول کر لینا یا ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جانا نہیں۔ اسلام کا صبر کمزوری نہیں بلکہ قوت ہے۔ صبر کا مطلب یہ ہے کہ انسان حق پر قائم رہے، جذبات کو عقل کے تابع رکھے، مشکلات کے باوجود اپنے اصول نہ چھوڑے اور اللہ پر اعتماد کے ساتھ مسلسل کوشش کرتا رہے۔
صبر پیدا کیسے کیا جائے؟ اس کا آغاز مقصد کے واضح ہونے سے ہوتا ہے۔ جس شخص کو اپنی منزل کا یقین ہو، اس کے لیے راستے کی دشواریاں آسان ہو جاتی ہیں۔ نماز انسان کو اندرونی سکون عطا کرتی ہے، قرآن امید پیدا کرتا ہے، دعا دل کو مضبوط بناتی ہے، نیک لوگوں کی صحبت حوصلہ دیتی ہے، اور چھوٹے چھوٹے معاملات میں خود کو ضبط کرنا بڑے امتحانات کے لیے تیار کرتا ہے۔ صبر کوئی پیدائشی صلاحیت نہیں بلکہ مسلسل تربیت سے پیدا ہونے والی عادت ہے۔
آخر میں ہر انسان کو خود سے ایک سوال کرنا چاہیے: کیا میں نتائج کا عاشق ہوں یا مقصد کا؟ اگر ہماری وابستگی صرف فوری نتائج سے ہوگی تو ہر ناکامی ہمیں توڑ دے گی، لیکن اگر ہمارا تعلق اپنے مقصد اور اپنے رب سے ہوگا تو ہر آزمائش ہمیں مزید مضبوط بنا دے گی۔
یاد رکھیے، تاریخ میں وہی لوگ یاد رکھے گئے جنہوں نے مشکلات سے فرار اختیار نہیں کیا بلکہ انہیں اپنے کردار کی تعمیر کا ذریعہ بنایا۔ کامیابی اکثر ان لوگوں کے دروازے پر دستک دیتی ہے جو دوسروں کے ہار مان لینے کے بعد بھی ثابت قدم رہتے ہیں۔ اسی لیے قرآن نے صبر کرنے والوں کے لیے صرف اجر کی نہیں بلکہ "بے حساب اجر” کی خوش خبری سنائی ہے۔
آج ہمیں پہلے سے کہیں زیادہ ایسے افراد کی ضرورت ہے جو حالات کے شکوہ کرنے والے نہیں بلکہ صبر، امید اور استقامت کے ساتھ خیر کے سفر کو آگے بڑھانے والے ہوں۔ اگر ایک فرد صبر سیکھ لے تو اس کی شخصیت بدل جاتی ہے، اگر ایک معلم صبر اختیار کر لے تو نسلیں سنور جاتی ہیں، اور اگر ایک قوم صبر اور ثابت قدمی کو اپنا شعار بنا لے تو تاریخ اس کا رخ بدلتے دیر نہیں لگاتی۔
صبر صرف ایک اخلاقی صفت نہیں، بلکہ وہ بنیاد ہے جس پر مضبوط شخصیت، مؤثر قیادت، کامیاب معاشرہ اور اللہ کی رضا پر مبنی زندگی تعمیر ہوتی ہے۔ یہی وہ سرمایہ ہے جس کی آج ہر گھر، ہر مدرسے، ہر مسجد اور ہر انسان کو پہلے سے زیادہ ضرورت ہے۔