صبر:وہ قوت جو انسان کومعمولی سےغیر معمولی بنادیتی ہے

اور صبر کرنے والوں کو خوش خبری سنا دیجیے۔” (البقرۃ: 155) ہم ایک ایسے دور میں زندہ ہیں جہاں انسان پہلے سے زیادہ آسائشوں کا مالک ہے، مگر پہلے سے زیادہ بے چین بھی۔ ذرائع بڑھ گئے ہیں مگر تحمل

مصنف:ابرار حسین
تاریخ: 21 جولائی 2026

دیگر مضامین

تمام مضامین دیکھیں

گوشۂ سہولت سے ایک قدم باہر: رسول ﷺ کی سیرت سے مسلسل جدوجہد کا سبق

انسان کو آرام چاہیے، سکون چاہیے، اپنے لیے ایک ایسی جگہ چاہیے جہاں زندگی کی

تاریخ: 3 اکتوبر 2026
مصنف:ابرار حسین

فقہ النوازل میں فقہاء کا منہج

اسلامی شریعت اپنی ساخت اور مزاج کے اعتبار سے ایک جامع اور ہمہ گیر نظامِ

تاریخ: 1 اکتوبر 2026
مصنف:مولانا عزیر احمد

کتب حدیث میں ضعیف وموضوع روایات کے ذکر کےاسباب و مقاصد:اصولی و تحقیقی مطالعہ

تمہیدعلمِ حدیث اسلامی علوم کا وہ عظیم الشان شعبہ ہے جس کے ذریعے رسول اللہ

تاریخ: 1 اکتوبر 2026
مصنف:محمد ندیم محمد

مقدمہ صحیح مسلم اور علل الصغیر ترمذی کے مناہج جرح و تعدیل کا تقابلی مطالعہ

تمہیدتیسری صدی ہجری علمِ حدیث کی تاریخ کا ایک اہم اور فیصلہ کن دور ہے،

تاریخ: 1 اکتوبر 2026
مصنف:محمد ذیشان

دیگر موضوعات

ابرار حسین

چیف ایڈیٹر کاروانِ علم، ٹرینر و محقق دینی و عصری علوم کے امتزاج کے حامل ایک وژنری ٹرینر اور ریسرچر ہیں۔ آپ جامعۃ الرشید کراچی کے فارغ التحصیل ہیں اور اس وقت مدرسہ ڈاٹ پی کے میں شعبۂ تربیت و شخصیت سازی کی نگرانی کر رہے ہیں۔ آپ کا مقصد مدارس کے فضلائے کرام کو معیاری تدریسی، تکنیکی اور قائدانہ مہارتوں سے آراستہ کرتے ہوئے انہیں مؤثر سماجی و فکری رہنماؤں کے طور پر تیار کرنا ہے۔

اور صبر کرنے والوں کو خوش خبری سنا دیجیے۔” (البقرۃ: 155)

ہم ایک ایسے دور میں زندہ ہیں جہاں انسان پہلے سے زیادہ آسائشوں کا مالک ہے، مگر پہلے سے زیادہ بے چین بھی۔ ذرائع بڑھ گئے ہیں مگر تحمل کم ہوگیا ہے۔ معلومات کی فراوانی ہے مگر دلوں میں سکون کی کمی ہے۔ ہر چیز فوری چاہیے، کامیابی بھی، شہرت بھی، دولت بھی اور نتائج بھی۔ اگر چند دن کی محنت کے بعد مطلوبہ کامیابی نہ ملے تو بہت سے لوگ راستہ ہی بدل دیتے ہیں۔ یہی جلد بازی آج کی نسل کا ایک بڑا المیہ بن چکی ہے۔

ایسے ماحول میں اگر کوئی ایک وصف انسان کو سنبھال سکتا ہے، اسے شکست سے بچا سکتا ہے، اس کے کردار کو مضبوط کر سکتا ہے اور اسے اللہ کے قریب بھی لے جا سکتا ہے تو وہ صبر ہے۔ بدقسمتی سے صبر کو اکثر صرف مصیبت برداشت کرنے کا نام سمجھ لیا گیا ہے، حالانکہ قرآن مجید میں صبر ایک ایسی ہمہ گیر قوت کے طور پر سامنے آتا ہے جو انسان کے ایمان، کردار، تعلقات، دعوت، قیادت اور کامیابی، سب کی بنیاد ہے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے صبر کا حکم صرف آزمائش کے وقت نہیں دیا بلکہ فرمایا:

"اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعے اللہ سے مدد طلب کرو، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔” (البقرۃ: 153)

یہ آیت ایک عظیم حقیقت بیان کرتی ہے کہ اللہ کی معیت کسی قوم، نسل یا منصب کے ساتھ نہیں بلکہ صبر کے ساتھ وابستہ ہے۔ جو شخص صبر کو اپنا لیتا ہے، وہ درحقیقت اللہ کی خصوصی مدد کے دائرے میں داخل ہوجاتا ہے۔

اگر سیرتِ نبوی ﷺ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی پوری زندگی صبر کی عملی تفسیر ہے۔ مکہ مکرمہ میں تیرہ برس تک مسلسل مخالفت، تمسخر، معاشی بائیکاٹ اور جسمانی اذیتیں برداشت کیں، مگر کبھی انتقام کو دعوت پر ترجیح نہیں دی۔ طائف میں جب لہولہان کر دیے گئے تو فرشتے نے پہاڑوں کو ملا دینے کی اجازت چاہی، لیکن آپ ﷺ نے بددعا کے بجائے دعا فرمائی کہ شاید انہی کی نسلوں میں ایسے لوگ پیدا ہوں جو اللہ کی عبادت کریں گے۔ یہی صبر تھا جس نے دشمنوں کو بھی دوست بنا دیا۔

صلح حدیبیہ بھی صبر کی ایک بے مثال مثال ہے۔ بظاہر مسلمانوں کی کئی شرائط قبول نہ کی گئیں، حتیٰ کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے بھی یہ معاہدہ انتہائی دشوار محسوس ہوا، لیکن رسول اللہ ﷺ نے وقتی جذبات کے بجائے دور اندیشی اور صبر کا راستہ اختیار کیا۔ چند ہی برس بعد یہی معاہدہ اسلام کی تاریخ کا عظیم ترین سیاسی اور دعوتی موڑ ثابت ہوا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صبر صرف تکلیف برداشت کرنے کا نام نہیں بلکہ صحیح وقت کا انتظار کرنے کی حکمت بھی ہے۔

حضرت یوسف علیہ السلام کی پوری زندگی بھی صبر کا استعارہ ہے۔ کنویں کی تاریکی، غلامی، قید خانہ، جھوٹا الزام، برسوں کی تنہائی، ہر مرحلے پر انہوں نے اللہ سے تعلق کو مضبوط رکھا۔ اگر وہ جلد بازی کرتے تو شاید مصر کی قیادت تک کبھی نہ پہنچتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی کامیابی کو صبر اور تقویٰ سے جوڑتے ہوئے فرمایا:

"جو صبر کرے اور تقویٰ اختیار کرے تو اللہ نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔” (یوسف: 90)

یہی اصول ہر دور کے لیے ہے۔ عظیم کامیابیاں ہمیشہ ان لوگوں کے حصے میں آئی ہیں جنہوں نے وقتی مشکلات کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بجائے ثابت قدمی اختیار کی۔

اسلامی تاریخ میں حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی اذیتیں، حضرت خباب بن الارت رضی اللہ عنہ کی آزمائشیں، امام احمد بن حنبلؒ کی استقامت، امام ابن تیمیہؒ کی قید اور امام ابن القیمؒ کی علمی جدوجہد ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ بڑے لوگ آرام کی گود میں نہیں بلکہ صبر کی آغوش میں پروان چڑھتے ہیں۔

امام ابن القیمؒ نے ایک نہایت گہری بات لکھی ہے کہ صبر کی نسبت ایمان سے وہی ہے جو سر کی نسبت جسم سے ہے۔ جس طرح سر کے بغیر جسم زندہ نہیں رہ سکتا، اسی طرح صبر کے بغیر ایمان اپنی قوت برقرار نہیں رکھ سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کی عبادت، دعوت، علم، تعلقات اور خدمت، سب کو قائم رکھنے کے لیے صبر ناگزیر ہے۔

موجودہ دور کی نفسیات بھی اسی حقیقت کی تصدیق کرتی ہے۔ کامیاب افراد پر ہونے والی متعدد تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ کامیابی صرف ذہانت یا صلاحیت کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ مستقل مزاجی، مشکلات برداشت کرنے کی صلاحیت اور طویل عرصے تک اپنے مقصد پر قائم رہنے کی قوت ہی انسان کو دوسروں سے ممتاز بناتی ہے۔ جو شخص ہر ناکامی کے بعد دوبارہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے، وہ بالآخر منزل تک پہنچ جاتا ہے، جبکہ جلد مایوس ہونے والا شخص اپنی صلاحیتوں کے باوجود پیچھے رہ جاتا ہے۔

علمائے کرام کے لیے صبر کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ اصلاحِ معاشرہ چند خطبات یا چند دروس سے نہیں ہوتی۔ لوگوں کی عادتیں بدلنے، نئی نسل کی تربیت کرنے، غلط فہمیوں کو دور کرنے اور معاشرے میں خیر کو عام کرنے کے لیے برسوں کی مسلسل محنت درکار ہوتی ہے۔ اگر داعی ہر تنقید پر دل برداشتہ ہو جائے یا ہر مخالفت کے بعد راستہ بدل لے تو وہ کبھی دیرپا اثر پیدا نہیں کر سکتا۔ رسول اللہ ﷺ نے دعوت کا جو چراغ روشن کیا، اس کے پیچھے تئیس برس کی مسلسل جدوجہد، قربانی اور صبر تھا۔

عام مسلمان کی زندگی بھی صبر کے بغیر ادھوری ہے۔ والدین بچوں کی تربیت میں صبر چاہتے ہیں، اساتذہ تعلیم میں، تاجر دیانت داری پر قائم رہنے میں، طلبہ علم حاصل کرنے میں، شوہر اور بیوی خوشگوار ازدواجی زندگی کے لیے، اور ہر شخص اپنے نفس کی اصلاح میں صبر کا محتاج ہے۔ درحقیقت صبر زندگی کے ہر شعبے کی خاموش بنیاد ہے۔

البتہ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ صبر کا مطلب ظلم کو قبول کر لینا یا ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جانا نہیں۔ اسلام کا صبر کمزوری نہیں بلکہ قوت ہے۔ صبر کا مطلب یہ ہے کہ انسان حق پر قائم رہے، جذبات کو عقل کے تابع رکھے، مشکلات کے باوجود اپنے اصول نہ چھوڑے اور اللہ پر اعتماد کے ساتھ مسلسل کوشش کرتا رہے۔

صبر پیدا کیسے کیا جائے؟ اس کا آغاز مقصد کے واضح ہونے سے ہوتا ہے۔ جس شخص کو اپنی منزل کا یقین ہو، اس کے لیے راستے کی دشواریاں آسان ہو جاتی ہیں۔ نماز انسان کو اندرونی سکون عطا کرتی ہے، قرآن امید پیدا کرتا ہے، دعا دل کو مضبوط بناتی ہے، نیک لوگوں کی صحبت حوصلہ دیتی ہے، اور چھوٹے چھوٹے معاملات میں خود کو ضبط کرنا بڑے امتحانات کے لیے تیار کرتا ہے۔ صبر کوئی پیدائشی صلاحیت نہیں بلکہ مسلسل تربیت سے پیدا ہونے والی عادت ہے۔

آخر میں ہر انسان کو خود سے ایک سوال کرنا چاہیے: کیا میں نتائج کا عاشق ہوں یا مقصد کا؟ اگر ہماری وابستگی صرف فوری نتائج سے ہوگی تو ہر ناکامی ہمیں توڑ دے گی، لیکن اگر ہمارا تعلق اپنے مقصد اور اپنے رب سے ہوگا تو ہر آزمائش ہمیں مزید مضبوط بنا دے گی۔

یاد رکھیے، تاریخ میں وہی لوگ یاد رکھے گئے جنہوں نے مشکلات سے فرار اختیار نہیں کیا بلکہ انہیں اپنے کردار کی تعمیر کا ذریعہ بنایا۔ کامیابی اکثر ان لوگوں کے دروازے پر دستک دیتی ہے جو دوسروں کے ہار مان لینے کے بعد بھی ثابت قدم رہتے ہیں۔ اسی لیے قرآن نے صبر کرنے والوں کے لیے صرف اجر کی نہیں بلکہ "بے حساب اجر” کی خوش خبری سنائی ہے۔

آج ہمیں پہلے سے کہیں زیادہ ایسے افراد کی ضرورت ہے جو حالات کے شکوہ کرنے والے نہیں بلکہ صبر، امید اور استقامت کے ساتھ خیر کے سفر کو آگے بڑھانے والے ہوں۔ اگر ایک فرد صبر سیکھ لے تو اس کی شخصیت بدل جاتی ہے، اگر ایک معلم صبر اختیار کر لے تو نسلیں سنور جاتی ہیں، اور اگر ایک قوم صبر اور ثابت قدمی کو اپنا شعار بنا لے تو تاریخ اس کا رخ بدلتے دیر نہیں لگاتی۔

صبر صرف ایک اخلاقی صفت نہیں، بلکہ وہ بنیاد ہے جس پر مضبوط شخصیت، مؤثر قیادت، کامیاب معاشرہ اور اللہ کی رضا پر مبنی زندگی تعمیر ہوتی ہے۔ یہی وہ سرمایہ ہے جس کی آج ہر گھر، ہر مدرسے، ہر مسجد اور ہر انسان کو پہلے سے زیادہ ضرورت ہے۔

گوشۂ سہولت سے ایک قدم باہر: رسول ﷺ کی سیرت سے مسلسل جدوجہد کا سبق

انسان کو آرام چاہیے، سکون چاہیے، اپنے لیے ایک ایسی جگہ چاہیے جہاں زندگی کی دوڑ کچھ دیر کے لیے تھم جائے، ذمہ داریوں کا بوجھ ہلکا محسوس ہو اور آدمی خود کو محفوظ سمجھے۔ یہ انسانی فطرت ہے اور

مصنف: ابرار حسین
تاریخ: 3 اکتوبر 2026
فقہ النوازل میں فقہاء کا منہج

اسلامی شریعت اپنی ساخت اور مزاج کے اعتبار سے ایک جامع اور ہمہ گیر نظامِ حیات ہے جو ہر دور اور ہر معاشرتی صورتِ حال میں رہنمائی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم انسانی معاشرہ جامد نہیں بلکہ مسلسل

مصنف: مولانا عزیر احمد
تاریخ: 1 اکتوبر 2026
کتب حدیث میں ضعیف وموضوع روایات کے ذکر کےاسباب و مقاصد:اصولی و تحقیقی مطالعہ

تمہیدعلمِ حدیث اسلامی علوم کا وہ عظیم الشان شعبہ ہے جس کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال اور تقریرات کو محفوظ کیا گیا۔ محدثینِ کرام نے اپنی پوری زندگیاں اس مقدس علم کی خدمت میں

مصنف: محمد ندیم محمد
تاریخ: 1 اکتوبر 2026
مقدمہ صحیح مسلم اور علل الصغیر ترمذی کے مناہج جرح و تعدیل کا تقابلی مطالعہ

تمہیدتیسری صدی ہجری علمِ حدیث کی تاریخ کا ایک اہم اور فیصلہ کن دور ہے، جس میں احادیثِ نبویہ کی جمع و تدوین کے ساتھ رواۃ کی جانچ پڑتال اور نقدِ حدیث کے باقاعدہ اصول مرتب کیے گئے۔ اس علمی

مصنف: محمد ذیشان
تاریخ: 1 اکتوبر 2026
وراثت میں عورت کے حق کی شرعی حیثیت اور پاکستانی معاشرت میں عملی اطلاق(تحقیقی و تنقیدی مطالعہ)

انسانی معاشرے میں وراثت محض مالی وسائل کی تقسیم کا نام نہیں بلکہ معاشی انصاف، خاندانی استحکام اور سماجی توازن کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ کسی بھی معاشرے میں وراثتی نظام اس کے قانونی، اخلاقی اور تہذیبی تصورات کی عکاسی

مصنف: حافظ بابر حسین ستی
تاریخ: 30 ستمبر 2026
ذکراللہ سے غفلت؛ معاشرتی اثرات

تمہید :‑انسان جسے اللہ رب العزت نے تمام مخلوقات میں اشرف بنایا ہے اپنے حقیقی خالق کی یاد سے غفلت اس کو پستی کا شکار بنا دیتی ہے میرا عنوان اگرچہ خالص دینی ہے لیکن اس کے معاشرے اگر اس

مصنف: نازیہ فضل
تاریخ: 30 ستمبر 2026