اختلافِ رائے، رواداری اور مکالمہ: عصرِ حاضر میں علمائے کرام کی ذمہ داریاں

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو ایک ہی مزاج، ایک ہی فہم اور ایک ہی زاویۂ نگاہ کے ساتھ پیدا نہیں فرمایا۔ رنگوں، زبانوں، صلاحیتوں اور مزاجوں کی طرح فہم و فکر کا تنوع بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت کا حصہ

مصنف:ابرار حسین
تاریخ: 18 جون 2026

دیگر مضامین

تمام مضامین دیکھیں

جذباتی ذہانت: وہ قوت جو انسان کو اپنے نفس کا قائد اور معاشرے کا رہنما بناتی ہے

علم اور کردار کا تعلق ہمیشہ سے ایک دوسرے کے ساتھ رہا ہے، لیکن انسانی

تاریخ: 21 جولائی 2026
مصنف:ابرار حسین

گھر: ایک ‘جائے سکینت یا محض چار دیواری؟ ہمارے کھوئے ہوئے سکون کا نوحہ

عالی شان عمارتیں اور کھوکھلے رشتے: ہمارے خاندانی سکون کو کس کی نظر لگ گئی؟انسانی

تاریخ: 21 جولائی 2026
مصنف:مولانا عبدالاحد

صبر:وہ قوت جو انسان کومعمولی سےغیر معمولی بنادیتی ہے

اور صبر کرنے والوں کو خوش خبری سنا دیجیے۔” (البقرۃ: 155) ہم ایک ایسے دور

تاریخ: 21 جولائی 2026
مصنف:ابرار حسین

مثبت سوچ: مومن کی وہ قوت جو اندھیروں میں بھی روشنی تلاش کر لیتی ہے

انسان کی زندگی کو اگر قریب سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس

تاریخ: 16 جولائی 2026
مصنف:ابرار حسین

دیگر موضوعات

ابرار حسین

چیف ایڈیٹر کاروانِ علم، ٹرینر و محقق دینی و عصری علوم کے امتزاج کے حامل ایک وژنری ٹرینر اور ریسرچر ہیں۔ آپ جامعۃ الرشید کراچی کے فارغ التحصیل ہیں اور اس وقت مدرسہ ڈاٹ پی کے میں شعبۂ تربیت و شخصیت سازی کی نگرانی کر رہے ہیں۔ آپ کا مقصد مدارس کے فضلائے کرام کو معیاری تدریسی، تکنیکی اور قائدانہ مہارتوں سے آراستہ کرتے ہوئے انہیں مؤثر سماجی و فکری رہنماؤں کے طور پر تیار کرنا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو ایک ہی مزاج، ایک ہی فہم اور ایک ہی زاویۂ نگاہ کے ساتھ پیدا نہیں فرمایا۔ رنگوں، زبانوں، صلاحیتوں اور مزاجوں کی طرح فہم و فکر کا تنوع بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت کا حصہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخِ انسانی اور تاریخِ اسلام دونوں اس حقیقت کی شاہد ہیں کہ اختلاف انسانوں کے درمیان ایک فطری امر ہے۔ مسئلہ اختلاف کے وجود کا نہیں، بلکہ اس کے نظم، آداب اور نتائج کا ہے۔ اختلاف اگر علم، اخلاق اور خیر خواہی کے دائرے میں رہے تو فکری وسعت اور علمی ارتقا کا ذریعہ بنتا ہے، لیکن جب اس میں تعصب، انا اور گروہی مفادات شامل ہو جائیں تو یہی اختلاف انتشار، نفرت اور باہمی کمزوری کا سبب بن جاتا ہے۔

آج کا دور فکری انتشار اور سماجی تقسیم کا دور ہے۔ ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا نے جہاں معلومات تک رسائی کو آسان بنایا ہے، وہیں رائے زنی، ردِ عمل اور فوری تبصروں کے ایک ایسے ماحول کو بھی جنم دیا ہے جس میں تحمل، غور و فکر اور ایک دوسرے کو سمجھنے کی روایت کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض اوقات دینی حلقے بھی اس فضا سے محفوظ نہیں رہ سکے۔ معمولی علمی اختلافات بھی ذاتی مناقشوں اور مسلکی کشیدگی کی صورت اختیار کر لیتے ہیں، حالانکہ امت کو اس وقت سب سے زیادہ ایسے علماء کی ضرورت ہے جو اختلاف کو انتشار نہیں بلکہ اصلاح، بصیرت اور امت کی فکری پختگی کا ذریعہ بنا سکیں۔

قرآنِ کریم اختلاف کے وجود سے انکار نہیں کرتا، بلکہ اس کی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے انسانوں کو اعلیٰ اخلاق کی تعلیم دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اور نیکی اور برائی برابر نہیں ہو سکتی، برائی کو اس طریقے سے دور کرو جو سب سے بہتر ہو، پھر وہ شخص جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی تھی، ایسا ہو جائے گا جیسے کوئی گہرا دوست ہو۔” (حم السجدہ: 34)۔ یہ آیت دراصل اختلاف کے ماحول میں مسلم شخصیت کا معیار متعین کرتی ہے۔ اختلاف کے جواب میں اشتعال نہیں، بلکہ احسن رویہ مطلوب ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی پوری دعوت اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ اختلاف کے باوجود مکالمہ اور خیر خواہی کا دروازہ کبھی بند نہیں ہونا چاہیے۔ مکہ مکرمہ میں آپ ﷺ کو شدید مخالفت، تمسخر اور اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن آپ ﷺ نے کبھی اپنی قوم سے گفتگو کا رشتہ منقطع نہیں کیا۔ آپ ﷺ ان کے سوالات سنتے، ان کے شبہات کا جواب دیتے اور ان کے لیے ہدایت کی دعائیں کرتے تھے۔ یہاں تک کہ جب طائف کے لوگوں نے سنگ باری کی اور فرشتے نے ان پر عذاب نازل کرنے کی اجازت طلب کی، تو آپ ﷺ نے بددعا کے بجائے ان کی آئندہ نسلوں کے لیے ہدایت کی امید ظاہر فرمائی۔ یہ واقعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ حقیقی داعی لوگوں کے رویوں سے مایوس نہیں ہوتا بلکہ ان کے اندر موجود خیر کے امکان کو زندہ رکھتا ہے۔

اختلافِ رائے کے باب میں سیرتِ نبوی ﷺ کی ایک نہایت اہم مثال غزوۂ احزاب کے بعد کا وہ واقعہ ہے جب رسول اللہ ﷺ نے صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے فرمایا: "تم میں سے کوئی عصر کی نماز بنو قریظہ پہنچنے سے پہلے نہ پڑھے۔” راستے میں عصر کا وقت ہو گیا۔ بعض صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے الفاظ کو ظاہر پر محمول کرتے ہوئے نماز مؤخر کی اور بعض نے مقصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے راستے میں نماز ادا کر لی۔ جب یہ معاملہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش ہوا تو آپ ﷺ نے دونوں میں سے کسی کو ملامت نہیں فرمائی۔ گویا ایک ہی نص کے فہم میں اختلاف پیدا ہوا، لیکن اسے نزاع اور عیب جوئی کا سبب نہیں بنایا گیا۔ یہ واقعہ امت کو یہ اصول سکھاتا ہے کہ ہر اختلاف گمراہی نہیں ہوتا اور ہر مختلف رائے رکھنے والا شخص حق سے دور نہیں ہوتا۔

اسی طرح صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ائمہ مجتہدین کی تاریخ ہمیں علمی رواداری کا ایک بے مثال نمونہ دکھاتی ہے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے: "میری رائے درست ہے مگر اس میں غلطی کا احتمال ہے، اور دوسرے کی رائے غلط ہے مگر اس میں درست ہونے کا احتمال موجود ہے۔” اس ایک جملے میں علمی انکسار، وسعتِ نظر اور مکالمے کی پوری روح سمٹ آئی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ائمہ کے درمیان شدید علمی اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کی دیانت، علم اور اخلاص پر اعتماد باقی رہا۔

عصرِ حاضر میں اس موضوع کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ ہمارا معاشرہ صرف مسلکی تنوع کا حامل نہیں بلکہ فکری اور تہذیبی سطح پر بھی مختلف رجحانات سے گزر رہا ہے۔ الحاد، سیکولر ازم، مادیت، انتہاپسندی، خاندانی نظام کی کمزوری اور نوجوانوں کے ذہنی سوالات جیسے مسائل نے ایک نئی فکری فضا پیدا کر دی ہے۔ ایسے میں اگر علماء اپنی توانائیاں باہمی نزاعات میں صرف کرتے رہے تو وہ ان بڑے چیلنجز سے نمٹنے میں اپنا مطلوبہ کردار ادا نہیں کر سکیں گے۔

یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ موجودہ دور میں علماء صرف اپنے مخصوص حلقے کے قائد نہیں رہے، بلکہ پوری امت ان کی طرف رہنمائی کے لیے دیکھتی ہے۔ ایک عالم کا ہر جملہ، ہر تحریر اور ہر تبصرہ چند لمحوں میں ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتا ہے۔ اس لیے ان کی گفتگو میں تحمل، احتیاط اور ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گئی ہے۔ قرآنِ کریم نے فرمایا: "اور میرے بندوں سے کہہ دو کہ وہ ایسی بات کہیں جو بہترین ہو۔” (بنی اسرائیل: 53)۔ اس آیت میں صرف سچ بولنے کا نہیں بلکہ بہترین انداز میں بات کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

اس تناظر میں مکالمے کی اہمیت بھی غیر معمولی ہے۔ مکالمہ اپنی بات منوانے کا نام نہیں بلکہ دوسرے کو سمجھنے اور خود سمجھے جانے کا عمل ہے۔ ایک داعی اور ایک عالم کی قوت اس میں نہیں کہ وہ ہر مجلس میں غالب آ جائے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ دلوں تک رسائی حاصل کر لے۔ بہت سے لوگ دلائل سے نہیں بلکہ حسنِ اخلاق، وسعتِ ظرف اور خلوصِ نیت سے متاثر ہوتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کی دعوت کی کامیابی میں آپ ﷺ کے حسنِ مکالمہ اور شفقت کا یہی عنصر بنیادی حیثیت رکھتا تھا۔

آج کے عالمِ دین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اختلاف کو دشمنی میں تبدیل نہ ہونے دے، سوال کو گستاخی نہ سمجھے اور تنقید کو ذاتی حملہ تصور نہ کرے۔ اسے اپنی علمی پختگی کے ساتھ نفسیاتی بصیرت اور سماجی حکمت بھی پیدا کرنا ہوگی۔ نوجوان نسل ایسے علماء کی متلاشی ہے جو ان کے سوالات سن سکیں، ان کی الجھنوں کو سمجھ سکیں اور انہیں عزت و احترام کے ساتھ جواب دے سکیں۔ آنے والے زمانے میں وہی علماء زیادہ مؤثر ثابت ہوں گے جو اپنے علم کے ساتھ مکالمے کی صلاحیت، تحمل کی قوت اور رواداری کی ثقافت کو بھی پروان چڑھائیں گے۔

حقیقت یہ ہے کہ امت کو آج ایسے علماء کی ضرورت ہے جو اختلافات کے درمیان پل تعمیر کریں، فاصلے کم کریں اور فکری رہنمائی کا ایسا ماحول پیدا کریں جس میں دلیل ہو مگر تکبر نہ ہو، اختلاف ہو مگر دشمنی نہ ہو، اور تنوع ہو مگر انتشار نہ ہو۔ یہی وہ علمی اور اخلاقی قیادت ہے جس کی بنیاد پر امتِ مسلمہ نے تاریخ میں اپنے روشن ادوار دیکھے تھے۔

اگر علماء کرام قرآن کی تعلیمات، سیرتِ نبوی ﷺ اور اسلاف کی علمی روایت کو سامنے رکھتے ہوئے اختلافِ رائے، رواداری اور مکالمے کی اس ثقافت کو دوبارہ زندہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو وہ نہ صرف امت کے داخلی زخموں پر مرہم رکھ سکیں گے بلکہ جدید دنیا کے سامنے اسلام کے اس حقیقی چہرے کو بھی پیش کر سکیں گے جو عدل، حکمت، رحمت اور انسانی وقار کا علم بردار ہے۔ اور یہی درحقیقت عصرِ حاضر میں علمائے کرام کی سب سے بڑی ذمہ داریوں میں سے ایک ہے۔

جذباتی ذہانت: وہ قوت جو انسان کو اپنے نفس کا قائد اور معاشرے کا رہنما بناتی ہے

علم اور کردار کا تعلق ہمیشہ سے ایک دوسرے کے ساتھ رہا ہے، لیکن انسانی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ محض علم انسان کو عظیم نہیں بناتا۔ دنیا میں ایسے بے شمار لوگ گزرے ہیں جو غیر معمولی علم

مصنف: ابرار حسین
تاریخ: 21 جولائی 2026
گھر: ایک ‘جائے سکینت یا محض چار دیواری؟ ہمارے کھوئے ہوئے سکون کا نوحہ

عالی شان عمارتیں اور کھوکھلے رشتے: ہمارے خاندانی سکون کو کس کی نظر لگ گئی؟انسانی تہذیب کی ابتدا ہی سے گھر محض اینٹ، گارے یا پتھر سے بنی ایک عمارت کا نام نہیں رہا، بلکہ یہ رشتے جوڑنے، دُکھ سُکھ

مصنف: مولانا عبدالاحد
تاریخ: 21 جولائی 2026
صبر:وہ قوت جو انسان کومعمولی سےغیر معمولی بنادیتی ہے

اور صبر کرنے والوں کو خوش خبری سنا دیجیے۔” (البقرۃ: 155) ہم ایک ایسے دور میں زندہ ہیں جہاں انسان پہلے سے زیادہ آسائشوں کا مالک ہے، مگر پہلے سے زیادہ بے چین بھی۔ ذرائع بڑھ گئے ہیں مگر تحمل

مصنف: ابرار حسین
تاریخ: 21 جولائی 2026
مثبت سوچ: مومن کی وہ قوت جو اندھیروں میں بھی روشنی تلاش کر لیتی ہے

انسان کی زندگی کو اگر قریب سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی کامیابی یا ناکامی صرف اس کے حالات سے متعین نہیں ہوتی، بلکہ اس سے کہیں زیادہ اس زاویۂ نگاہ سے وابستہ ہوتی ہے جس

مصنف: ابرار حسین
تاریخ: 16 جولائی 2026
خود اعتمادی: وہ قوت جو ایمان سے جنم لیتی ہے

خود اعتمادی: وہ قوت جو ایمان سے جنم لیتی ہے تاریخِ انسانی کا مطالعہ اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ بڑے کارنامے ہمیشہ غیر معمولی وسائل رکھنے والوں نے انجام نہیں دیے، بلکہ اکثر وہ لوگ زمانے کا رخ

مصنف: ابرار حسین
تاریخ: 16 جولائی 2026
عالمہ کا کردار: درس گاہ سے معاشرے تک

مسلم معاشرے کی تعمیر میں اہلِ علم کا کردار ہمیشہ بنیادی رہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی امت کو فکری، اخلاقی یا سماجی چیلنجز کا سامنا ہوا، رہنمائی کے لیے اہلِ علم ہی کی طرف رجوع کیا گیا۔

مصنف: اقراء شریف
تاریخ: 15 جولائی 2026