اختلافِ رائے، رواداری اور مکالمہ: عصرِ حاضر میں علمائے کرام کی ذمہ داریاں

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو ایک ہی مزاج، ایک ہی فہم اور ایک ہی زاویۂ نگاہ کے ساتھ پیدا نہیں فرمایا۔ رنگوں، زبانوں، صلاحیتوں اور مزاجوں کی طرح فہم و فکر کا تنوع بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت کا حصہ

مصنف:ابرار حسین
تاریخ: 18 جون 2026

دیگر مضامین

تمام مضامین دیکھیں

گوشۂ سہولت سے ایک قدم باہر: رسول ﷺ کی سیرت سے مسلسل جدوجہد کا سبق

انسان کو آرام چاہیے، سکون چاہیے، اپنے لیے ایک ایسی جگہ چاہیے جہاں زندگی کی

تاریخ: 3 اکتوبر 2026
مصنف:ابرار حسین

فقہ النوازل میں فقہاء کا منہج

اسلامی شریعت اپنی ساخت اور مزاج کے اعتبار سے ایک جامع اور ہمہ گیر نظامِ

تاریخ: 1 اکتوبر 2026
مصنف:مولانا عزیر احمد

کتب حدیث میں ضعیف وموضوع روایات کے ذکر کےاسباب و مقاصد:اصولی و تحقیقی مطالعہ

تمہیدعلمِ حدیث اسلامی علوم کا وہ عظیم الشان شعبہ ہے جس کے ذریعے رسول اللہ

تاریخ: 1 اکتوبر 2026
مصنف:محمد ندیم محمد

مقدمہ صحیح مسلم اور علل الصغیر ترمذی کے مناہج جرح و تعدیل کا تقابلی مطالعہ

تمہیدتیسری صدی ہجری علمِ حدیث کی تاریخ کا ایک اہم اور فیصلہ کن دور ہے،

تاریخ: 1 اکتوبر 2026
مصنف:محمد ذیشان

دیگر موضوعات

ابرار حسین

چیف ایڈیٹر کاروانِ علم، ٹرینر و محقق دینی و عصری علوم کے امتزاج کے حامل ایک وژنری ٹرینر اور ریسرچر ہیں۔ آپ جامعۃ الرشید کراچی کے فارغ التحصیل ہیں اور اس وقت مدرسہ ڈاٹ پی کے میں شعبۂ تربیت و شخصیت سازی کی نگرانی کر رہے ہیں۔ آپ کا مقصد مدارس کے فضلائے کرام کو معیاری تدریسی، تکنیکی اور قائدانہ مہارتوں سے آراستہ کرتے ہوئے انہیں مؤثر سماجی و فکری رہنماؤں کے طور پر تیار کرنا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو ایک ہی مزاج، ایک ہی فہم اور ایک ہی زاویۂ نگاہ کے ساتھ پیدا نہیں فرمایا۔ رنگوں، زبانوں، صلاحیتوں اور مزاجوں کی طرح فہم و فکر کا تنوع بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت کا حصہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخِ انسانی اور تاریخِ اسلام دونوں اس حقیقت کی شاہد ہیں کہ اختلاف انسانوں کے درمیان ایک فطری امر ہے۔ مسئلہ اختلاف کے وجود کا نہیں، بلکہ اس کے نظم، آداب اور نتائج کا ہے۔ اختلاف اگر علم، اخلاق اور خیر خواہی کے دائرے میں رہے تو فکری وسعت اور علمی ارتقا کا ذریعہ بنتا ہے، لیکن جب اس میں تعصب، انا اور گروہی مفادات شامل ہو جائیں تو یہی اختلاف انتشار، نفرت اور باہمی کمزوری کا سبب بن جاتا ہے۔

آج کا دور فکری انتشار اور سماجی تقسیم کا دور ہے۔ ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا نے جہاں معلومات تک رسائی کو آسان بنایا ہے، وہیں رائے زنی، ردِ عمل اور فوری تبصروں کے ایک ایسے ماحول کو بھی جنم دیا ہے جس میں تحمل، غور و فکر اور ایک دوسرے کو سمجھنے کی روایت کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض اوقات دینی حلقے بھی اس فضا سے محفوظ نہیں رہ سکے۔ معمولی علمی اختلافات بھی ذاتی مناقشوں اور مسلکی کشیدگی کی صورت اختیار کر لیتے ہیں، حالانکہ امت کو اس وقت سب سے زیادہ ایسے علماء کی ضرورت ہے جو اختلاف کو انتشار نہیں بلکہ اصلاح، بصیرت اور امت کی فکری پختگی کا ذریعہ بنا سکیں۔

قرآنِ کریم اختلاف کے وجود سے انکار نہیں کرتا، بلکہ اس کی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے انسانوں کو اعلیٰ اخلاق کی تعلیم دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اور نیکی اور برائی برابر نہیں ہو سکتی، برائی کو اس طریقے سے دور کرو جو سب سے بہتر ہو، پھر وہ شخص جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی تھی، ایسا ہو جائے گا جیسے کوئی گہرا دوست ہو۔” (حم السجدہ: 34)۔ یہ آیت دراصل اختلاف کے ماحول میں مسلم شخصیت کا معیار متعین کرتی ہے۔ اختلاف کے جواب میں اشتعال نہیں، بلکہ احسن رویہ مطلوب ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی پوری دعوت اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ اختلاف کے باوجود مکالمہ اور خیر خواہی کا دروازہ کبھی بند نہیں ہونا چاہیے۔ مکہ مکرمہ میں آپ ﷺ کو شدید مخالفت، تمسخر اور اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن آپ ﷺ نے کبھی اپنی قوم سے گفتگو کا رشتہ منقطع نہیں کیا۔ آپ ﷺ ان کے سوالات سنتے، ان کے شبہات کا جواب دیتے اور ان کے لیے ہدایت کی دعائیں کرتے تھے۔ یہاں تک کہ جب طائف کے لوگوں نے سنگ باری کی اور فرشتے نے ان پر عذاب نازل کرنے کی اجازت طلب کی، تو آپ ﷺ نے بددعا کے بجائے ان کی آئندہ نسلوں کے لیے ہدایت کی امید ظاہر فرمائی۔ یہ واقعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ حقیقی داعی لوگوں کے رویوں سے مایوس نہیں ہوتا بلکہ ان کے اندر موجود خیر کے امکان کو زندہ رکھتا ہے۔

اختلافِ رائے کے باب میں سیرتِ نبوی ﷺ کی ایک نہایت اہم مثال غزوۂ احزاب کے بعد کا وہ واقعہ ہے جب رسول اللہ ﷺ نے صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے فرمایا: "تم میں سے کوئی عصر کی نماز بنو قریظہ پہنچنے سے پہلے نہ پڑھے۔” راستے میں عصر کا وقت ہو گیا۔ بعض صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے الفاظ کو ظاہر پر محمول کرتے ہوئے نماز مؤخر کی اور بعض نے مقصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے راستے میں نماز ادا کر لی۔ جب یہ معاملہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش ہوا تو آپ ﷺ نے دونوں میں سے کسی کو ملامت نہیں فرمائی۔ گویا ایک ہی نص کے فہم میں اختلاف پیدا ہوا، لیکن اسے نزاع اور عیب جوئی کا سبب نہیں بنایا گیا۔ یہ واقعہ امت کو یہ اصول سکھاتا ہے کہ ہر اختلاف گمراہی نہیں ہوتا اور ہر مختلف رائے رکھنے والا شخص حق سے دور نہیں ہوتا۔

اسی طرح صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ائمہ مجتہدین کی تاریخ ہمیں علمی رواداری کا ایک بے مثال نمونہ دکھاتی ہے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے: "میری رائے درست ہے مگر اس میں غلطی کا احتمال ہے، اور دوسرے کی رائے غلط ہے مگر اس میں درست ہونے کا احتمال موجود ہے۔” اس ایک جملے میں علمی انکسار، وسعتِ نظر اور مکالمے کی پوری روح سمٹ آئی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ائمہ کے درمیان شدید علمی اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کی دیانت، علم اور اخلاص پر اعتماد باقی رہا۔

عصرِ حاضر میں اس موضوع کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ ہمارا معاشرہ صرف مسلکی تنوع کا حامل نہیں بلکہ فکری اور تہذیبی سطح پر بھی مختلف رجحانات سے گزر رہا ہے۔ الحاد، سیکولر ازم، مادیت، انتہاپسندی، خاندانی نظام کی کمزوری اور نوجوانوں کے ذہنی سوالات جیسے مسائل نے ایک نئی فکری فضا پیدا کر دی ہے۔ ایسے میں اگر علماء اپنی توانائیاں باہمی نزاعات میں صرف کرتے رہے تو وہ ان بڑے چیلنجز سے نمٹنے میں اپنا مطلوبہ کردار ادا نہیں کر سکیں گے۔

یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ موجودہ دور میں علماء صرف اپنے مخصوص حلقے کے قائد نہیں رہے، بلکہ پوری امت ان کی طرف رہنمائی کے لیے دیکھتی ہے۔ ایک عالم کا ہر جملہ، ہر تحریر اور ہر تبصرہ چند لمحوں میں ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتا ہے۔ اس لیے ان کی گفتگو میں تحمل، احتیاط اور ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گئی ہے۔ قرآنِ کریم نے فرمایا: "اور میرے بندوں سے کہہ دو کہ وہ ایسی بات کہیں جو بہترین ہو۔” (بنی اسرائیل: 53)۔ اس آیت میں صرف سچ بولنے کا نہیں بلکہ بہترین انداز میں بات کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

اس تناظر میں مکالمے کی اہمیت بھی غیر معمولی ہے۔ مکالمہ اپنی بات منوانے کا نام نہیں بلکہ دوسرے کو سمجھنے اور خود سمجھے جانے کا عمل ہے۔ ایک داعی اور ایک عالم کی قوت اس میں نہیں کہ وہ ہر مجلس میں غالب آ جائے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ دلوں تک رسائی حاصل کر لے۔ بہت سے لوگ دلائل سے نہیں بلکہ حسنِ اخلاق، وسعتِ ظرف اور خلوصِ نیت سے متاثر ہوتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کی دعوت کی کامیابی میں آپ ﷺ کے حسنِ مکالمہ اور شفقت کا یہی عنصر بنیادی حیثیت رکھتا تھا۔

آج کے عالمِ دین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اختلاف کو دشمنی میں تبدیل نہ ہونے دے، سوال کو گستاخی نہ سمجھے اور تنقید کو ذاتی حملہ تصور نہ کرے۔ اسے اپنی علمی پختگی کے ساتھ نفسیاتی بصیرت اور سماجی حکمت بھی پیدا کرنا ہوگی۔ نوجوان نسل ایسے علماء کی متلاشی ہے جو ان کے سوالات سن سکیں، ان کی الجھنوں کو سمجھ سکیں اور انہیں عزت و احترام کے ساتھ جواب دے سکیں۔ آنے والے زمانے میں وہی علماء زیادہ مؤثر ثابت ہوں گے جو اپنے علم کے ساتھ مکالمے کی صلاحیت، تحمل کی قوت اور رواداری کی ثقافت کو بھی پروان چڑھائیں گے۔

حقیقت یہ ہے کہ امت کو آج ایسے علماء کی ضرورت ہے جو اختلافات کے درمیان پل تعمیر کریں، فاصلے کم کریں اور فکری رہنمائی کا ایسا ماحول پیدا کریں جس میں دلیل ہو مگر تکبر نہ ہو، اختلاف ہو مگر دشمنی نہ ہو، اور تنوع ہو مگر انتشار نہ ہو۔ یہی وہ علمی اور اخلاقی قیادت ہے جس کی بنیاد پر امتِ مسلمہ نے تاریخ میں اپنے روشن ادوار دیکھے تھے۔

اگر علماء کرام قرآن کی تعلیمات، سیرتِ نبوی ﷺ اور اسلاف کی علمی روایت کو سامنے رکھتے ہوئے اختلافِ رائے، رواداری اور مکالمے کی اس ثقافت کو دوبارہ زندہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو وہ نہ صرف امت کے داخلی زخموں پر مرہم رکھ سکیں گے بلکہ جدید دنیا کے سامنے اسلام کے اس حقیقی چہرے کو بھی پیش کر سکیں گے جو عدل، حکمت، رحمت اور انسانی وقار کا علم بردار ہے۔ اور یہی درحقیقت عصرِ حاضر میں علمائے کرام کی سب سے بڑی ذمہ داریوں میں سے ایک ہے۔

گوشۂ سہولت سے ایک قدم باہر: رسول ﷺ کی سیرت سے مسلسل جدوجہد کا سبق

انسان کو آرام چاہیے، سکون چاہیے، اپنے لیے ایک ایسی جگہ چاہیے جہاں زندگی کی دوڑ کچھ دیر کے لیے تھم جائے، ذمہ داریوں کا بوجھ ہلکا محسوس ہو اور آدمی خود کو محفوظ سمجھے۔ یہ انسانی فطرت ہے اور

مصنف: ابرار حسین
تاریخ: 3 اکتوبر 2026
فقہ النوازل میں فقہاء کا منہج

اسلامی شریعت اپنی ساخت اور مزاج کے اعتبار سے ایک جامع اور ہمہ گیر نظامِ حیات ہے جو ہر دور اور ہر معاشرتی صورتِ حال میں رہنمائی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم انسانی معاشرہ جامد نہیں بلکہ مسلسل

مصنف: مولانا عزیر احمد
تاریخ: 1 اکتوبر 2026
کتب حدیث میں ضعیف وموضوع روایات کے ذکر کےاسباب و مقاصد:اصولی و تحقیقی مطالعہ

تمہیدعلمِ حدیث اسلامی علوم کا وہ عظیم الشان شعبہ ہے جس کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال اور تقریرات کو محفوظ کیا گیا۔ محدثینِ کرام نے اپنی پوری زندگیاں اس مقدس علم کی خدمت میں

مصنف: محمد ندیم محمد
تاریخ: 1 اکتوبر 2026
مقدمہ صحیح مسلم اور علل الصغیر ترمذی کے مناہج جرح و تعدیل کا تقابلی مطالعہ

تمہیدتیسری صدی ہجری علمِ حدیث کی تاریخ کا ایک اہم اور فیصلہ کن دور ہے، جس میں احادیثِ نبویہ کی جمع و تدوین کے ساتھ رواۃ کی جانچ پڑتال اور نقدِ حدیث کے باقاعدہ اصول مرتب کیے گئے۔ اس علمی

مصنف: محمد ذیشان
تاریخ: 1 اکتوبر 2026
وراثت میں عورت کے حق کی شرعی حیثیت اور پاکستانی معاشرت میں عملی اطلاق(تحقیقی و تنقیدی مطالعہ)

انسانی معاشرے میں وراثت محض مالی وسائل کی تقسیم کا نام نہیں بلکہ معاشی انصاف، خاندانی استحکام اور سماجی توازن کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ کسی بھی معاشرے میں وراثتی نظام اس کے قانونی، اخلاقی اور تہذیبی تصورات کی عکاسی

مصنف: حافظ بابر حسین ستی
تاریخ: 30 ستمبر 2026
ذکراللہ سے غفلت؛ معاشرتی اثرات

تمہید :‑انسان جسے اللہ رب العزت نے تمام مخلوقات میں اشرف بنایا ہے اپنے حقیقی خالق کی یاد سے غفلت اس کو پستی کا شکار بنا دیتی ہے میرا عنوان اگرچہ خالص دینی ہے لیکن اس کے معاشرے اگر اس

مصنف: نازیہ فضل
تاریخ: 30 ستمبر 2026