ہم اسکرول کر رہے ہیں، یا ہماری زندگی اسکرول ہو رہی ہے؟

کبھی غور کیجیے، انسان نے اپنی زندگی میں بے شمار چیزیں ایجاد کیں، مگر شاید اپنی توجہ سے زیادہ قیمتی کوئی چیز ایجاد نہیں کی۔ وقت سب کے پاس برابر تھا، مگر توجہ وہ سرمایہ تھی جس سے انسان نے

مصنف:ابرار حسین
تاریخ: 26 ستمبر 2026

دیگر مضامین

تمام مضامین دیکھیں

گوشۂ سہولت سے ایک قدم باہر: رسول ﷺ کی سیرت سے مسلسل جدوجہد کا سبق

انسان کو آرام چاہیے، سکون چاہیے، اپنے لیے ایک ایسی جگہ چاہیے جہاں زندگی کی

تاریخ: 3 اکتوبر 2026
مصنف:ابرار حسین

فقہ النوازل میں فقہاء کا منہج

اسلامی شریعت اپنی ساخت اور مزاج کے اعتبار سے ایک جامع اور ہمہ گیر نظامِ

تاریخ: 1 اکتوبر 2026
مصنف:مولانا عزیر احمد

کتب حدیث میں ضعیف وموضوع روایات کے ذکر کےاسباب و مقاصد:اصولی و تحقیقی مطالعہ

تمہیدعلمِ حدیث اسلامی علوم کا وہ عظیم الشان شعبہ ہے جس کے ذریعے رسول اللہ

تاریخ: 1 اکتوبر 2026
مصنف:محمد ندیم محمد

مقدمہ صحیح مسلم اور علل الصغیر ترمذی کے مناہج جرح و تعدیل کا تقابلی مطالعہ

تمہیدتیسری صدی ہجری علمِ حدیث کی تاریخ کا ایک اہم اور فیصلہ کن دور ہے،

تاریخ: 1 اکتوبر 2026
مصنف:محمد ذیشان

دیگر موضوعات

ابرار حسین

چیف ایڈیٹر کاروانِ علم، ٹرینر و محقق دینی و عصری علوم کے امتزاج کے حامل ایک وژنری ٹرینر اور ریسرچر ہیں۔ آپ جامعۃ الرشید کراچی کے فارغ التحصیل ہیں اور اس وقت مدرسہ ڈاٹ پی کے میں شعبۂ تربیت و شخصیت سازی کی نگرانی کر رہے ہیں۔ آپ کا مقصد مدارس کے فضلائے کرام کو معیاری تدریسی، تکنیکی اور قائدانہ مہارتوں سے آراستہ کرتے ہوئے انہیں مؤثر سماجی و فکری رہنماؤں کے طور پر تیار کرنا ہے۔

کبھی غور کیجیے، انسان نے اپنی زندگی میں بے شمار چیزیں ایجاد کیں، مگر شاید اپنی توجہ سے زیادہ قیمتی کوئی چیز ایجاد نہیں کی۔ وقت سب کے پاس برابر تھا، مگر توجہ وہ سرمایہ تھی جس سے انسان نے اپنے وقت کو معنی دیے۔ کسی نے اسی توجہ سے کتابیں پڑھیں، علم حاصل کیا، تعلقات سنوارے، عبادت میں دل لگایا، کوئی فن سیکھا، کوئی ادارہ بنایا اور کوئی قوم کی تقدیر بدلنے کے خواب دیکھتا رہا۔ پھر ایک زمانہ آیا جب انسان کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی اسکرین آئی، اور دیکھتے ہی دیکھتے اسکرین نے اس کی دنیا کو نہیں، اس کی توجہ کو اپنا میدان بنا لیا۔ اب معاملہ صرف یہ نہیں کہ ہم موبائل استعمال کرتے ہیں؛ سوال یہ ہے کہ ہماری توجہ کو کون استعمال کر رہا ہے؟

ایک نوٹیفکیشن آتا ہے۔ ہم اسے دیکھتے ہیں۔ ایک پیغام کھلتا ہے، پھر ایک اسٹیٹس سامنے آتا ہے، اس کے بعد ایک ریل، پھر دوسری، پھر تیسری۔ پھر تبصرہ، پھر کسی تبصرے کا جواب، پھر ایک نیا موضوع، پھر ایک نئی خبر۔ ہمیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ہم کس مقصد سے موبائل اٹھا کر بیٹھے تھے اور کہاں جا پہنچے۔ چند منٹ گزر جاتے ہیں، پھر آدھا گھنٹہ، پھر ایک گھنٹہ۔ اس دوران ہماری انگلی حرکت کرتی رہتی ہے، آنکھیں مصروف رہتی ہیں، دماغ کو مسلسل نئے مناظر ملتے رہتے ہیں؛ مگر زندگی کا اصل سوال خاموشی سے ہمارے سامنے کھڑا رہتا ہے: میں جو کچھ دیکھ رہا ہوں، کیا وہ میری زندگی کو وہاں لے جا رہا ہے جہاں میں پہنچنا چاہتا ہوں؟ شاید یہی سوال آج کے انسان کے لیے سب سے زیادہ ضروری ہے۔

قرآن نے انسان کے خسارے کو چند مختصر آیات میں بیان کیا: وَالْعَصْرِ ۝ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ۔ زمانے کی قسم! بے شک انسان خسارے میں ہے۔ ہم عموماً خسارے کو وقت کے گزر جانے سے جوڑتے ہیں، لیکن غور کیجیے تو وقت کا گزرنا خود خسارہ نہیں؛ خسارہ تو اس وقت پیدا ہوتا ہے جب گزرنے والا وقت انسان کے مقصدِ زندگی کے لیے استعمال نہ ہو۔ ایک شخص کے پاس دن کے چوبیس گھنٹے ہیں، دوسرے کے پاس بھی۔ ایک ہی عمر کسی کے لیے علم، عبادت، خدمت، خاندان اور تعمیرِ شخصیت کا ذریعہ بنتی ہے، اور کسی دوسرے کے لیے بے شمار منتشر لمحوں میں تقسیم ہو جاتی ہے۔ یہاں ڈیجیٹل دور کا سب سے بڑا مسئلہ سامنے آتا ہے: ہم نے وقت کو صرف ضائع نہیں کیا، ہم نے اسے توجہ کے ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا ہے۔

ایک کتاب کے لیے چند منٹ نہیں؛ ایک ویڈیو کے لیے چند سیکنڈ۔ ایک گہری گفتگو نہیں؛ چند جملے۔ ایک مکمل موضوع نہیں؛ ایک سرخی۔ ایک تحقیق نہیں؛ ایک کلپ۔ ایک فکر نہیں؛ ایک فوری رائے۔ اور یوں زندگی گھنٹوں میں نہیں، توجہ کے بکھرے ہوئے ٹکڑوں میں گزرنے لگتی ہے۔ انسان سمجھتا ہے کہ وہ معلومات جمع کر رہا ہے، حالاں کہ ممکن ہے وہ صرف اپنی ذہنی توانائی کو ایک محرک سے دوسرے محرک تک منتقل کر رہا ہو۔ معلومات کی فراوانی اگر بصیرت پیدا نہ کرے تو وہ انسان کے ذہن کو روشن کرنے کے بجائے اسے منتشر بھی کرسکتی ہے۔

ڈیجیٹل دنیا نے علم تک رسائی کو حیرت انگیز حد تک آسان بنا دیا ہے۔ چند لمحوں میں انسان کسی بھی موضوع پر ہزاروں معلومات حاصل کرسکتا ہے۔ لیکن معلومات کی فراوانی لازماً بصیرت کی فراوانی نہیں ہوتی۔ آج ایک عجیب انسان پیدا ہوا ہے: صبح صحت کا ماہر، دوپہر کو معاشیات کا تجزیہ کار، شام کو سیاسی مبصر، رات کو مذہبی اسکالر اور آدھی رات کے بعد ازدواجی تعلقات کا مشیر! کتاب شاید اس نے نہ پڑھی ہو، مکمل لیکچر شاید نہ سنا ہو، تحقیق کے بنیادی مراجع شاید اس کی نظر سے نہ گزرے ہوں؛ لیکن چند مختصر ویڈیوز نے اسے ہر موضوع پر رائے رکھنے کا اعتماد دے دیا ہے۔ مسئلہ صرف علم کی کمی نہیں، علم کی کمی کا احساس نہ ہونا ہے۔

علم انسان کو محتاط بناتا ہے۔ جتنا انسان کسی موضوع کی گہرائی میں اترتا ہے، اتنا ہی اسے معلوم ہوتا ہے کہ ابھی بہت کچھ جاننا باقی ہے۔ سطحی معلومات اکثر یقین پیدا کرتی ہیں، جبکہ گہرا علم سوال پیدا کرتا ہے۔ اسی لیے ایک سنجیدہ طالب علم کہتا ہے: "مجھے مزید تحقیق کرنی ہوگی”، جبکہ سطحی معلومات رکھنے والا کہتا ہے: "مجھے سب معلوم ہے۔” یہی وہ مقام ہے جہاں معلومات بصیرت کی جگہ لے لیتی ہے، اور انسان اپنے آپ کو دانشور سمجھنے لگتا ہے، حالاں کہ اس کے پاس شاید معلومات کے چند ٹکڑوں کے سوا کوئی منظم علمی بنیاد موجود نہیں۔

اسی لیے آج ہمیں وقت سے زیادہ توجہ کے بجٹ کا حساب رکھنے کی ضرورت ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ ہمارے پاس وقت نہیں، لیکن کئی گھنٹے اسکرول کرنے کا وقت نکل آتا ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ کتاب پڑھنے کا وقت نہیں، مگر درجنوں مختصر ویڈیوز دیکھنے کا وقت موجود ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ بچوں کے لیے وقت نہیں، مگر دوسروں کے بچوں کی ویڈیوز دیکھنے کا وقت ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ قرآن کے ترجمے اور تدبر کے لیے وقت نہیں، مگر غیر متعلقہ کلپس کے لیے وقت موجود ہے۔ اس لیے شاید ہمیں اپنی گھڑی دیکھنے سے پہلے اپنی توجہ کا حساب دیکھنا چاہیے: آج میری توجہ کہاں خرچ ہوئی؟ آج میری زندگی کا کتنا حصہ ایسی چیزوں پر لگا جن کا میرے مقصدِ زندگی سے کوئی تعلق نہیں تھا؟ آج میں نے کیا حاصل کیا؟ اور سب سے اہم سوال یہ کہ آج میری توجہ نے مجھے کس انسان میں تبدیل کیا؟

یہاں اسکرولنگ کا مسئلہ سامنے آتا ہے۔ انسان کے ہاتھ میں موجود موبائل کا ایک چھوٹا سا حصہ، اس کا انگوٹھا، مسلسل حرکت میں رہتا ہے۔ ایک منظر ختم ہوتا ہے، دوسرا آجاتا ہے؛ دوسرا ختم ہوتا ہے، تیسرا سامنے آجاتا ہے۔ انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ انتخاب کر رہا ہے، مگر کبھی کبھی وہ صرف اگلے محرک کا انتظار کرنے والا صارف بن چکا ہوتا ہے۔ ایک نوٹیفکیشن آیا، ہاتھ گیا؛ ایک آواز آئی، آنکھ گئی؛ ایک سرخی دیکھی، رائے بن گئی؛ ایک ریل دیکھی، دوسری شروع ہوگئی؛ پھر تیسری، پھر چوتھی۔ اور ہمیں خبر ہی نہیں ہوئی کہ جس موبائل کو ہم نے اپنی سہولت کے لیے خریدا تھا، وہ ہماری توجہ کا مالک بن بیٹھا۔ اس لیے اصول بہت سادہ ہے: موبائل کو ملازم رکھیے، آقا نہ بنائیے۔

یہ کہنا درست نہیں کہ ہر مختصر ویڈیو بری ہے اور ہر طویل مواد اچھا۔ مختصر مواد کبھی تعارف کرا سکتا ہے، ایک خیال دے سکتا ہے، کسی موضوع کی طرف متوجہ کرسکتا ہے اور کسی بڑے مطالعے کا دروازہ کھول سکتا ہے۔ مسئلہ وہاں شروع ہوتا ہے جہاں مختصر تعارف کو مکمل علم سمجھ لیا جائے۔ ایک پہاڑ کی تصویر پورا پہاڑ نہیں ہوتی، ایک خبر پورا واقعہ نہیں ہوتی، ایک اقتباس پوری کتاب نہیں ہوتا، ایک کلپ پوری تحقیق نہیں ہوتی اور ایک منٹ کی گفتگو کسی پیچیدہ علمی، معاشی، نفسیاتی، تہذیبی یا دینی مسئلے کا آخری فیصلہ نہیں بن سکتی۔ بڑے موضوعات کے لیے گہرائی چاہیے۔ سمندر کو مٹھی میں نہیں بھرا جاسکتا؛ اس میں اترنا پڑتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ طویل مطالعہ صرف معلومات نہیں دیتا، صبر پیدا کرتا ہے۔ کتاب انسان کو مجبور کرتی ہے کہ وہ ٹھہرے، سیاق سمجھے، مقدمات دیکھے، مختلف زاویوں پر غور کرے، اپنی پہلی رائے پر نظرثانی کرے اور پھر نتیجہ اخذ کرے۔ یہی تنقیدی سوچ ہے، یہی علمی دیانت ہے اور یہی وہ ذہنی تربیت ہے جو انسان کو "میں جانتا ہوں” سے "مجھے مزید جاننا ہے” تک لے جاتی ہے۔ گہرا مطالعہ انسان کو فیصلے سے پہلے شواہد دیکھنے، رائے سے پہلے تحقیق کرنے اور ایک واقعے کو اس کے پورے پس منظر میں سمجھنے کی تربیت دیتا ہے۔

آج کا طالب علم اس کا ایک عجیب نمونہ بن گیا ہے۔ وہ "پڑھائی کیسے کریں؟” کے موضوع پر چالیس ویڈیوز دیکھ لیتا ہے، مگر پڑھنا شروع نہیں کرتا۔ وہ "موٹیویشن کیسے حاصل کریں؟” کے بارے میں درجنوں کلپس دیکھ لیتا ہے، مگر کام شروع نہیں کرتا۔ اس کے ذہن کو ہر چند سیکنڈ بعد ایک نیا منظر، نئی آواز، نیا رنگ اور نیا انعام چاہیے۔ لیکن کتاب؟ کتاب نہ ناچتی ہے، نہ ہر چند سیکنڈ بعد نیا منظر دکھاتی ہے، نہ "اس کے بعد یہ دیکھیں” کا بٹن دیتی ہے۔ کتاب خاموش ہوتی ہے، اور خاموشی میں انسان کو اپنے آپ سے ملنا پڑتا ہے۔ شاید اسی لیے گہرا مطالعہ صرف کتاب کی تربیت نہیں، انسان کی تربیت بھی ہے۔

توجہ کے انتشار کا سب سے حساس میدان ہماری روحانی زندگی ہے۔ نماز میں جسم کھڑا ہوتا ہے، رکوع کرتا ہے، سجدہ کرتا ہے؛ لیکن کیا دل بھی ساتھ ہوتا ہے؟ قرآن کی آیت آنکھوں کے سامنے ہوتی ہے؛ لیکن کیا اس کا معنی دل تک پہنچتا ہے؟ ہم جانتے ہیں کہ یہی آیات دنیا بھر کے لوگوں کے دل بدلنے کی طاقت رکھتی ہیں، مگر ہم خود کبھی کبھی ان آیات کے سامنے ایسے گزرتے ہیں جیسے کوئی مسافر راستے کے مناظر کو دیکھے بغیر گزر جائے۔ مسئلہ شاید ایمان کی عدم موجودگی سے پہلے توجہ کی عدم موجودگی کا ہے۔ جس ذہن کو ہر چند سیکنڈ بعد نیا منظر چاہیے، اس کے لیے خاموش سجدہ مشکل ہوسکتا ہے؛ جس دل کو مسلسل شور کی عادت پڑ جائے، اس کے لیے ذکر کی خاموشی اجنبی محسوس ہوسکتی ہے؛ اور جس انسان نے اپنی توجہ ہر طرف بانٹ دی ہو، اس کے لیے اپنے رب کے سامنے پوری طرح حاضر ہونا ایک باقاعدہ مجاہدہ بن جاتا ہے۔

یہ انتشار گھر تک بھی پہنچتا ہے۔ باپ گھر میں ہے، بچہ اسے بلا رہا ہے: "ابو!” جواب آتا ہے: "بیٹا، ایک منٹ۔” وہ ایک منٹ کبھی کبھی بچے کے بچپن کا ایک حصہ ہوتا ہے۔ میاں بیوی ایک ہی کمرے میں بیٹھے ہیں، مگر دونوں کے درمیان ایک اسکرین ہے۔ گھر کا وائی فائی مضبوط ہوتا جاتا ہے، لیکن کبھی کبھی تعلق کا رابطہ کمزور ہوتا جاتا ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے پاس لوگ ہمیشہ رہیں گے، والدین، شریکِ حیات، بچے، دوست اور عزیز؛ لیکن وقت کسی کو محفوظ نہیں رکھتا۔ بچے بڑے ہوجاتے ہیں، والدین کی کرسی خالی ہوجاتی ہے، بچپن واپس نہیں آتا۔ پھر پرانی تصاویر اور ویڈیوز ہمیں ان لمحوں کی یاد دلاتی ہیں جنہیں ہم اس وقت پوری طرح جی نہیں سکے تھے۔ زندگی کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ کبھی ہم موجود لمحے کو چھوڑ کر محفوظ شدہ لمحوں کو دیکھتے رہتے ہیں۔

یہ مسئلہ صرف گھر یا فرد تک محدود نہیں؛ اس کا تعلق پوری اجتماعی اور تہذیبی زندگی سے بھی ہے۔ بڑے علمی، سیاسی، معاشی، مذہبی اور تہذیبی سوالات سیاق، تاریخ، شواہد اور مختلف زاویوں کا تقاضا کرتے ہیں۔ لیکن جب انسان ایک سرخی سے فیصلہ اور ایک مختصر کلپ سے نظریہ اخذ کرنے لگے تو تحقیق کی جگہ تاثر، دلیل کی جگہ جذبات اور علم کی جگہ اعتماد لے لیتا ہے۔ ایک ہی خبر اپنے پسندیدہ شخص کے بارے میں آئے تو ہم اسے فوراً قبول کرلیتے ہیں اور مخالف کے بارے میں آئے تو اسی لمحے شک میں ڈال دیتے ہیں۔ یوں ہم حقیقت تلاش کرنے کے بجائے اپنے پہلے سے موجود رجحانات کے لیے مواد تلاش کرنے لگتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں توجہ کا بحران اجتماعی شعور کا بحران بن جاتا ہے۔

اس پوری صورت حال کا ایک معاشی پہلو بھی ہے۔ بہت سے ڈیجیٹل پلیٹ فارم بظاہر مفت ہیں، مگر ان کی اصل معیشت ہماری توجہ کے گرد گھومتی ہے۔ جس پلیٹ فارم پر ہم زیادہ دیر ٹھہرتے ہیں، وہ ہماری پسند، ناپسند، ردعمل، عادات اور ترجیحات کے بارے میں زیادہ جانتا ہے۔ یوں ہماری توجہ خود ایک سرمایہ بن جاتی ہے، اور اگر ہمیں اپنے سرمائے کی قیمت کا اندازہ نہ ہو تو دوسروں کے لیے اسے استعمال کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ اس لیے ہر نوٹیفکیشن کو فوری جواب دینا ضروری نہیں۔ وہ کوئی شاہی فرمان نہیں، نہ موت کے فرشتے کی پکار، نہ ایسا حکم جس کا جواب اسی لمحے دینا لازم ہو۔ کبھی وہ صرف ایک دعوتِ توجہ ہوتی ہے، اور ہمیں فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ ہم اس دعوت کو قبول کریں یا نہیں۔

اگر سورۃ العصر کو اس زاویے سے دیکھا جائے تو "خسارہ” صرف چند گھنٹے ضائع ہونے کا نام نہیں۔ خسارہ یہ بھی ہے کہ وقت موجود تھا مگر مقصد غائب تھا، صلاحیت موجود تھی مگر توجہ منتشر تھی، کتاب موجود تھی مگر مطالعہ نہیں تھا، قرآن موجود تھا مگر تدبر نہیں تھا، بچے موجود تھے مگر والدین کی حضوری نہیں تھی، خواب موجود تھے مگر عمل نہیں تھا، منصب موجود تھا مگر ذمہ داری ادا نہیں ہوئی، زندگی موجود تھی مگر زندگی کا شعور کم ہوتا گیا۔ قرآن نے اس خسارے سے نکلنے کے لیے ایمان، عملِ صالح، حق کی تلقین اور صبر کا راستہ بتایا: إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۔ غور کیجیے، ان چاروں کے لیے بھی ایک چیز درکار ہے: توجہ۔ ایمان کے لیے توجہ چاہیے، عملِ صالح کے لیے توجہ چاہیے، حق کو پہچاننے کے لیے توجہ چاہیے، حق کی تلقین کے لیے توجہ چاہیے اور صبر کے لیے توجہ کو ایک مقصد کے ساتھ باندھنا پڑتا ہے۔

ہم اسکرول کرتے ہیں تو اگلا منظر سامنے آتا ہے۔ زندگی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ ایک لمحہ گزرا، دوسرا آیا؛ ایک دن گیا، دوسرا آگیا؛ ایک سال ختم ہوا، دوسرا شروع ہوگیا۔ فرق صرف یہ ہے کہ موبائل پر ہم "Next” دبا سکتے ہیں، زندگی میں نہیں۔ زندگی کا کوئی "Replay” بٹن نہیں، کوئی "Undo” نہیں، کوئی "Save for Later” نہیں۔ اور موت کے بعد دنیا کے تمام خزانے مل کر بھی ایک گزرا ہوا لمحہ واپس نہیں لا سکتے۔ تو سوال یہ نہیں کہ ہمارے پاس کتنا وقت باقی ہے؛ اصل سوال یہ ہے: جو وقت باقی ہے، اس کی توجہ کس کے پاس ہے؟

اس سوال کا جواب کسی بڑے انقلابی اعلان سے نہیں بلکہ ایک چھوٹی سی روزانہ کی مشق سے شروع ہوسکتا ہے۔ آج رات سونے سے پہلے چند منٹ خاموش بیٹھیں، موبائل ایک طرف رکھ دیں اور اپنے آپ سے پوچھیں: آج میری توجہ کہاں خرچ ہوئی؟ آج میں نے کیا ایسا دیکھا یا پڑھا جس نے مجھے بہتر انسان بنایا؟ آج میں نے کن لوگوں کو اپنی توجہ دینی چاہیے تھی مگر نہیں دی؟ اگر آج میری زندگی کا آخری دن ہوتا تو کیا میں اپنی آج کی توجہ کے استعمال سے مطمئن ہوتا؟ پھر اگلے دن کے لیے چند واضح ترجیحات طے کریں۔ نوٹیفکیشن بند کرنا کافی نہیں؛ اپنی توجہ کو ایک مقصد دینا ضروری ہے۔ موبائل پھینک دینا بھی اصل حل نہیں؛ اپنے شعور کی قیادت واپس لینا اصل حل ہے۔

شارٹ کلپس سے مکمل کنارہ کشی بھی اصل مقصد نہیں؛ اصل مقصد یہ ہے کہ انسان فیصلہ کرنا سیکھے کہ کون سا مواد اس کے وقت، علم، کردار، خاندان، دین اور مستقبل کے لائق ہے۔ کبھی کبھی صرف اتنا کرنا بھی کافی ہے کہ موبائل ہاتھ میں لینے سے پہلے خود سے پوچھ لیا جائے: "میں اسے کیوں کھول رہا ہوں؟” اگر جواب معلوم نہیں تو شاید اسے کھولنے کی ضرورت بھی نہیں۔

کیونکہ زندگی بہت مختصر ہے، مگر اس کا مقصد بہت بڑا۔ اور شاید سورۃ العصر ہمیں یہی یاد دلاتی ہے کہ انسان صرف وقت گزرنے سے خسارے میں نہیں جاتا؛ وہ اس وقت خسارے میں جاتا ہے جب اس کی زندگی کا قیمتی سرمایہ، اس کی توجہ، اس کے مقصدِ حقیقی سے کٹ جائے۔ اس لیے اپنے وقت کی حفاظت کیجیے، اپنی توجہ کی حفاظت کیجیے، اپنے دل کی حفاظت کیجیے۔ موبائل کو اپنے ہاتھ میں رکھیے، اپنے ذہن میں نہیں۔ اسکرین کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیے، اپنی زندگی کو اسکرین کا حصہ نہ بننے دیجیے۔ اور جب اگلی بار انگوٹھا اسکرول کرنے کے لیے اٹھے تو ایک لمحے کے لیے رک کر سوچیے:

میں اگلی ویڈیو دیکھ رہا ہوں، یا اپنی زندگی کا اگلا لمحہ خرچ کر رہا ہوں؟

گوشۂ سہولت سے ایک قدم باہر: رسول ﷺ کی سیرت سے مسلسل جدوجہد کا سبق

انسان کو آرام چاہیے، سکون چاہیے، اپنے لیے ایک ایسی جگہ چاہیے جہاں زندگی کی دوڑ کچھ دیر کے لیے تھم جائے، ذمہ داریوں کا بوجھ ہلکا محسوس ہو اور آدمی خود کو محفوظ سمجھے۔ یہ انسانی فطرت ہے اور

مصنف: ابرار حسین
تاریخ: 3 اکتوبر 2026
فقہ النوازل میں فقہاء کا منہج

اسلامی شریعت اپنی ساخت اور مزاج کے اعتبار سے ایک جامع اور ہمہ گیر نظامِ حیات ہے جو ہر دور اور ہر معاشرتی صورتِ حال میں رہنمائی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم انسانی معاشرہ جامد نہیں بلکہ مسلسل

مصنف: مولانا عزیر احمد
تاریخ: 1 اکتوبر 2026
کتب حدیث میں ضعیف وموضوع روایات کے ذکر کےاسباب و مقاصد:اصولی و تحقیقی مطالعہ

تمہیدعلمِ حدیث اسلامی علوم کا وہ عظیم الشان شعبہ ہے جس کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال اور تقریرات کو محفوظ کیا گیا۔ محدثینِ کرام نے اپنی پوری زندگیاں اس مقدس علم کی خدمت میں

مصنف: محمد ندیم محمد
تاریخ: 1 اکتوبر 2026
مقدمہ صحیح مسلم اور علل الصغیر ترمذی کے مناہج جرح و تعدیل کا تقابلی مطالعہ

تمہیدتیسری صدی ہجری علمِ حدیث کی تاریخ کا ایک اہم اور فیصلہ کن دور ہے، جس میں احادیثِ نبویہ کی جمع و تدوین کے ساتھ رواۃ کی جانچ پڑتال اور نقدِ حدیث کے باقاعدہ اصول مرتب کیے گئے۔ اس علمی

مصنف: محمد ذیشان
تاریخ: 1 اکتوبر 2026
وراثت میں عورت کے حق کی شرعی حیثیت اور پاکستانی معاشرت میں عملی اطلاق(تحقیقی و تنقیدی مطالعہ)

انسانی معاشرے میں وراثت محض مالی وسائل کی تقسیم کا نام نہیں بلکہ معاشی انصاف، خاندانی استحکام اور سماجی توازن کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ کسی بھی معاشرے میں وراثتی نظام اس کے قانونی، اخلاقی اور تہذیبی تصورات کی عکاسی

مصنف: حافظ بابر حسین ستی
تاریخ: 30 ستمبر 2026
ذکراللہ سے غفلت؛ معاشرتی اثرات

تمہید :‑انسان جسے اللہ رب العزت نے تمام مخلوقات میں اشرف بنایا ہے اپنے حقیقی خالق کی یاد سے غفلت اس کو پستی کا شکار بنا دیتی ہے میرا عنوان اگرچہ خالص دینی ہے لیکن اس کے معاشرے اگر اس

مصنف: نازیہ فضل
تاریخ: 30 ستمبر 2026