حیلہ کی شرعی حیثیت ا ور اسلامی بینکاری میں اس کے اطلاقات

کا تجزیاتی مطالعہ ) تحقیقی آرٹیکل بر ائے مدرسہ ڈاٹ ۔پی۔کے) تلخیص (Abstract) اسلامی شریعت انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے، جس میں معاشی عدل کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ فقہ اسلامی میں "حیلہ” ایک ایسا قانونی

مصنف:اویس رحمان جدون اویس رحمان جدون
تاریخ: 8 جون 2026

دیگر مضامین

تمام مضامین دیکھیں

جذباتی ذہانت: وہ قوت جو انسان کو اپنے نفس کا قائد اور معاشرے کا رہنما بناتی ہے

علم اور کردار کا تعلق ہمیشہ سے ایک دوسرے کے ساتھ رہا ہے، لیکن انسانی

تاریخ: 21 جولائی 2026
مصنف:ابرار حسین

گھر: ایک ‘جائے سکینت یا محض چار دیواری؟ ہمارے کھوئے ہوئے سکون کا نوحہ

عالی شان عمارتیں اور کھوکھلے رشتے: ہمارے خاندانی سکون کو کس کی نظر لگ گئی؟انسانی

تاریخ: 21 جولائی 2026
مصنف:مولانا عبدالاحد

صبر:وہ قوت جو انسان کومعمولی سےغیر معمولی بنادیتی ہے

اور صبر کرنے والوں کو خوش خبری سنا دیجیے۔” (البقرۃ: 155) ہم ایک ایسے دور

تاریخ: 21 جولائی 2026
مصنف:ابرار حسین

مثبت سوچ: مومن کی وہ قوت جو اندھیروں میں بھی روشنی تلاش کر لیتی ہے

انسان کی زندگی کو اگر قریب سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس

تاریخ: 16 جولائی 2026
مصنف:ابرار حسین

دیگر موضوعات

اویس رحمان جدون اویس رحمان جدون

کا تجزیاتی مطالعہ

) تحقیقی آرٹیکل بر ائے مدرسہ ڈاٹ ۔پی۔کے)

تلخیص (Abstract)

اسلامی شریعت انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے، جس میں معاشی عدل کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ فقہ اسلامی میں "حیلہ” ایک ایسا قانونی طریقہ کار ہے جس کے ذریعے کسی شرعی ممانعت یا رکاوٹ کو مخصوص تدبیر سے حل کیا جاتا ہے۔ یہ مقالہ حیلہ کی لغوی و اصطلاحی تعریف، مختلف فقہی مکاتبِ فکر (حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی) کے نزدیک اس کی حیثیت اور قرآن و سنت سے اس کے دلائل کا جائزہ لیتا ہے۔ مزید برآں، یہ تحقیق اسلامی بینکاری میں رائج جدید حیلوں (جیسے بیع العینہ، تورق، اور کموڈیٹی مرابحہ) کا تنقیدی جائزہ پیش کرتی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہ معاہدات مقاصدِ شریعت سے ہم آہنگ ہیں یا محض سودی نظام کا متبادل۔ آخر میں اسلامی بینکاری کو حقیقی اسلامی اصولوں پر استوار کرنے کے لیے ٹھوس سفارشات پیش کی گئی ہیں۔

تعارف موضوع : 

اسلامی شریعت ایک جامع اور متوازن نظام فراہم کرتی ہے جو مالیاتی معاملات کو بھی واضح اصولوں کے تحت منظم کرتی ہے۔فقہ اسلامی میں حیلہ ایک ایسا طریقہ ہے جس کے ذریعے شرعی موانع کو مخصوص اصولوں کے تحت عبور کیا جاتا ہے۔اس تحقیق میں حیلہ کے جواز، اقسام اور فقہی مذاہب کے نقطۂ نظر کا جائزہ لیا جائے گا۔ساتھ ہی اسلامی بینکاری میں حیلہ کے عملی استعمالات کا مطالعہ کیا جائے گا۔تحقیق یہ واضح کرے گی کہ اسلامی اور روایتی سودی نظام میں کیا بنیادی فرق ہے۔آخر میں یہ پرکھا جائے گا کہ موجودہ اسلامی بینکاری میں استعمال ہونے والے حیلے واقعی شریعت کے مطابق ہیں یا محض تکنیکی متبادل۔

ضرورت و اہمیت:  

اسلامی بینکاری کا مقصد ایک سودی نظام سے پاک اور شریعت کے مطابق مالیاتی نظام قائم کرنا ہے، لیکن موجودہ بینکاری میں بعض فقہی حیلوں کے استعمال سے شرعی جواز پر سوالات پیدا ہوئے ہیں۔ یہ تحقیق انہی حیلوں کے جائز و ناجائز اطلاقات کا تجزیہ کر کے اسلامی مالیاتی اداروں اور صارفین کو رہنمائی فراہم کرے گی، موجودہ ماڈلز کی شرعی حیثیت کی وضاحت کرے گی، اور شفاف، خالص اسلامی متبادل ماڈلز کی نشاندہی کرے گی، جس سے اسلامی مالیات میں علمی اضافہ اور بینکاری کے ارتقاء میں مدد ملے گی۔

حیلہ کی لغوی تعریف :

لفظ ”حیلہ“ کا ماخذ عربی زبان کے لفظ ”حَوْل“ ہے، جس کا معنی ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف منتقلی یا تبدیلی، اور قوت و تدبیر کے طور پر بھی بیان کیے جاتے ہیں ۔ لغوی طور پر ”حِیَلْ“ حیلہ کا جمع ہے  اور اس کے معنی ہیں مہارت، چالاکی اور باریکی سے کسی کام کو انجام دینا۔ ()
() ابن منظور، محمد بن مکرم، لسان العرب، بیروت، دار صادر، ج 1، ص 185 ۔
حیلہ کی شرعی حیثیت ا ور اسلامی بینکاری میں اس کے اطلاقات

کا تجزیاتی مطالعہ

) تحقیقی آرٹیکل بر ائے مدرسہ ڈاٹ ۔پی۔کے)

سیشن :   2025

 آرٹیکل نگار نگرانِ آرٹیکل

      اویس رحمان جدون                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                             ڈاکٹر محمد اعجاز

شعبہ علوم اسلامیہ

مدرسہ ڈاٹ ۔پی۔کے

تلخیص (Abstract)

اسلامی شریعت انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے، جس میں معاشی عدل کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ فقہ اسلامی میں "حیلہ” ایک ایسا قانونی طریقہ کار ہے جس کے ذریعے کسی شرعی ممانعت یا رکاوٹ کو مخصوص تدبیر سے حل کیا جاتا ہے۔ یہ مقالہ حیلہ کی لغوی و اصطلاحی تعریف، مختلف فقہی مکاتبِ فکر (حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی) کے نزدیک اس کی حیثیت اور قرآن و سنت سے اس کے دلائل کا جائزہ لیتا ہے۔ مزید برآں، یہ تحقیق اسلامی بینکاری میں رائج جدید حیلوں (جیسے بیع العینہ، تورق، اور کموڈیٹی مرابحہ) کا تنقیدی جائزہ پیش کرتی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہ معاہدات مقاصدِ شریعت سے ہم آہنگ ہیں یا محض سودی نظام کا متبادل۔ آخر میں اسلامی بینکاری کو حقیقی اسلامی اصولوں پر استوار کرنے کے لیے ٹھوس سفارشات پیش کی گئی ہیں۔

تعارف موضوع : 

اسلامی شریعت ایک جامع اور متوازن نظام فراہم کرتی ہے جو مالیاتی معاملات کو بھی واضح اصولوں کے تحت منظم کرتی ہے۔فقہ اسلامی میں حیلہ ایک ایسا طریقہ ہے جس کے ذریعے شرعی موانع کو مخصوص اصولوں کے تحت عبور کیا جاتا ہے۔اس تحقیق میں حیلہ کے جواز، اقسام اور فقہی مذاہب کے نقطۂ نظر کا جائزہ لیا جائے گا۔ساتھ ہی اسلامی بینکاری میں حیلہ کے عملی استعمالات کا مطالعہ کیا جائے گا۔تحقیق یہ واضح کرے گی کہ اسلامی اور روایتی سودی نظام میں کیا بنیادی فرق ہے۔آخر میں یہ پرکھا جائے گا کہ موجودہ اسلامی بینکاری میں استعمال ہونے والے حیلے واقعی شریعت کے مطابق ہیں یا محض تکنیکی متبادل۔

ضرورت و اہمیت:  

اسلامی بینکاری کا مقصد ایک سودی نظام سے پاک اور شریعت کے مطابق مالیاتی نظام قائم کرنا ہے، لیکن موجودہ بینکاری میں بعض فقہی حیلوں کے استعمال سے شرعی جواز پر سوالات پیدا ہوئے ہیں۔ یہ تحقیق انہی حیلوں کے جائز و ناجائز اطلاقات کا تجزیہ کر کے اسلامی مالیاتی اداروں اور صارفین کو رہنمائی فراہم کرے گی، موجودہ ماڈلز کی شرعی حیثیت کی وضاحت کرے گی، اور شفاف، خالص اسلامی متبادل ماڈلز کی نشاندہی کرے گی، جس سے اسلامی مالیات میں علمی اضافہ اور بینکاری کے ارتقاء میں مدد ملے گی۔

حیلہ کی لغوی تعریف :

لفظ ”حیلہ“ کا ماخذ عربی زبان کے لفظ ”حَوْل“ ہے، جس کا معنی ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف منتقلی یا تبدیلی، اور قوت و تدبیر کے طور پر بھی بیان کیے جاتے ہیں ۔ لغوی طور پر ”حِیَلْ“ حیلہ کا جمع ہے  اور اس کے معنی ہیں مہارت، چالاکی اور باریکی سے کسی کام کو انجام دینا۔ ()

کتاب العین میں حیلہ کا معنی اس طرح  بیان کیا ہے:

”الحِيلَةُ:ما يُتَوَصَّل به إلى حالَةٍ ما في خُفْيَةٍ  وأَصْلُها مِن الحَوْلِ، وهو التَّحَوُّل مِن حالٍ إلى حالٍ بِنَوْعِ تَدْبِيرٍ ولُطْفٍ يُحِيل به الشَّيْءَ عن ظاهِرِهِ، أو مِن الحَوْلِ بِمعنى القُوَّةِ وأَكْثَرُ اسْتِعْمالِها فيما في تَعاطِيهِ خُبْثٌ“()

 ” یعنی ایسا طریقہ جس کے ذریعے کسی مقصد یا حالت تک خفیہ انداز میں پہنچا جائے۔ بنیادی طور پر یہ لفظ ”حَوْل“ سے ماخوذ ہے، جس کے معنی ایک قسم کی حکمت عملی، باریک بینی اور کسی شے کو اس کے ظاہر سے ہٹاکر ایک حالت سے دوسری حالت میں منتقل کرنے کے ہیں۔ یا بعض اوقات یہ ”حَول“ یعنی قوت سے بھی ماخوذ ہے۔ زیادہ تر اس کا استعمال ایسے کاموں کے لیے کیا جاتا ہے جن کے انجام دینے میں بُرائی یا چالاکی شامل ہو۔ “

حیلہ کی اصطلاحی تعریف :

حیلہ کی اصطلاحی تعریف پر مندرجہ ذیل  اقوال موجود ہیں۔

امام تقی الدین السبکی ؒسے منقول ہے: 

(ٱلْحِيَلُ هِيَ ٱلتَّوَصُّلُ إِلَىٰ إِبَاحَةِ مَا حَرَّمَهُ ٱللَّهُ تَعَالَىٰ بِتَكَلُّفِ ٱلتَّعْلِيلِ، وَٱلتَّخْرِيجِ عَلَى ٱلْقَوَاعِدِ، وَٱلتَّوْصِيفِ

 فِي ٱلْأَفْعَالِ) ()

”یعنی حیلے وہ ہیں جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کو تعلیلات، اصولوں پر تطبیق  اور افعال کی خاص تعریفوں کے ذریعے مباح بنانے کی کوشش کی جائے۔

اسلامی فقہی مکاتبِ فکر میں حیلہ کی شرعی حیثیت

اسلامی فقہی مکاتبِ فکر کے درمیان حیلہ کی شرعی حیثیت کے بارے میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے:

فقہ حنفی میں حیلہ کا تصور

حنفی فقہاء نے حیلہ کے معاملے میں ایک وسیع النظر  مؤقف اختیار کیا ہے۔

مشہور حنفی فتاویٰ کی کتاب”الفتاویٰ الہندیہ“میں ایسے متعدد قانونی طریقے درج ہیں جن کے ذریعے قرض دینے والا اپنے قرض پر کچھ اضافی منافع حاصل کر سکتا ہے۔ایک مثال میں، ابن عابدینؒ (مصنف: رد المحتار) نے ایک طریقہ تجویز کیا ہے کہ اگر قرض خواہ اپنے مقروض کو قرض واپس کرنے کی مہلت دینا چاہے اور اس کے بدلے میں کچھ اضافی رقم لینا چاہے، تو وہ یہ کر سکتا ہے کہ وہ مقروض سے قرض کی رقم کے برابر کسی چیز کو نقد خریدے، پھر وہی چیز مقروض کو ادھار میں زیادہ قیمت پر فروخت کر دے۔مثال کے طور پر، اگر قرض کی اصل رقم 10درہم ہے اور قرض خواہ اسے 13درہم کرنا چاہتا ہے تو وہ مقروض سے کوئی چیز 10درہم میں خریدے، پھر اسی چیز کو ادھار میں 13درہم پر بیچ دے۔ابن عابدینؒ کہتے ہے :”اس طریقے سے وہ سود (ربا) سے بچ گیا۔“()

بیعُ الوفا وہ معاملہ ہے جس میں کوئی شخص ضرورت کے تحت اپنی چیز قرض دینے والے کو اس شرط پر بیچتا ہے کہ رقم واپس کرنے پر وہ چیز دوبارہ لے سکے گا۔ یہ ایک قانونی حیلہ ہے جو سود سے مشابہ ہے، کیونکہ قرض دینے والا اس مدت میں فروخت شدہ چیز سے فائدہ اٹھاتا رہتا ہے، جو دراصل قرض پر نفع لینے کی شکل بن جاتا ہے۔

حالانکہ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ  ہے:

ﯘيَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُّضَاعَفَةً ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَﯗ()

” اے ایمان والو! سود میں اضافی نہ لو اور نہ دوگنا چگنا کرو، اللہ تعالیٰ سے ڈرو تاکہ تم کامیابی اور فلاح حاصل کر سکو۔“

اسلیے شریعت میں قرض پر رہن (گروی) کی چیز سے نفع اٹھانا منع ہے، اس لیے فقہاء اکثر بیع الوفا کو گروی کے مترادف سمجھتے ہیں، کیونکہ اس میں قرض دینے والا فروخت شدہ چیز سے فائدہ اٹھاتا ہے، جو سود کے مترادف ہے۔

فقہ مالکی میں حیلہ کا تصور

مالکی فقہاء حیلہ کے معاملے میں سب سے سخت موقف رکھتے ہیں۔ وہ حیلوں کی مذمت کرتے ہیں اور انہیں باطل قرار دیتے ہیں۔

حیلہ کے حوالے سے امام شاطبیؒ لکھتے ہیں:

”حیلہ کا ظاہر مفہوم یہ ہے کہ کوئی ایسا عمل انجام دیا جائے جو بظاہر جائز ہو لیکن اس کا مقصد شریعت کے کسی حکم کو باطل کرنا یا اس کی خلاف ورزی کرنا ہو۔ یعنی ایسے عمل کا اصل مقصد شریعت کے طے شدہ اصولوں کو مجروح کرنا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، جب کوئی فرد سال مکمل ہونے سے فوراً پہلے زکوٰۃ کی رقم بطور ہبہ دے دیتا ہے تو دراصل وہ زکوٰۃ کی ادائیگی سے بچنے کی نیت سے ایسا کرتا ہے۔ اگرچہ خود ہبہ دینا جائز عمل ہے اور زکوٰۃ سے گریز ممنوع، لیکن جب ایک جائز کام کو ممنوع مقصد کے لیے استعمال کیا جائے تو وہ ناجائز بن جاتا ہے۔“()

  امام شاطبیؒ کے مطابق شریعت کے احکام کا مقصد انسان کی بھلائیاں اور مقاصدِ شریعت ہیں، اس لیے جو عمل ان مصالح کو نقصان پہنچائے، وہ ناجائز ہے۔ مالکی فقہاء حیلوں کو اس حد تک رد کرتے ہیں کہ وہ جائز ذرائع بھی نہیں مانتے جو 

برے نتائج کا امکان رکھتے ہوں، اور اسے سدّ الذرائع کہتے ہیں۔

فقہ حنبلی میں حیلہ کا تصور

حنبلی فقہاء اس میں  فرق کرتے ہیں:

  • وہ حیلے جو قانونی دشواری یا سختی کو دور کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔  ان کو وہ”مخارج“کہتے ہیں اور انہیں جائز تصور کرتے ہیں۔
  • اور وہ حیلے جو شریعت کی ممانعتوں کو دھوکا  دینے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ انہیں وہ ناجائز قرار دیتے ہیں۔()

ابن القیمؒ جو کہ ایک مشہور حنبلی فقیہ ہیں، انہوں نے حیلہ پر ایک مکمل باب تحریر کیا ہے اور اپنے ہم عصر مالکی فقیہ امام شاطبیؒ کی طرح نیت کو فقہی اعمال میں مرکزی حیثیت دیتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

”نیت ہر فقہی عمل کا جوہر ہے اور  عمل کا دارومدار نیت پر ہوتا ہے۔ اگر نیت درست ہو، تو عمل بھی درست ہوگا اور اگر نیت فاسد (ناجائز) ہو تو عمل بھی ناجائز شمار ہوگا۔ چنانچہ اگر کوئی شخص بظاہر بیع کا معاملہ کرے لیکن اس کی نیت سود لینے کی ہو، تو وہ بیع نہیں بلکہ سود کا معاملہ تصور کیا جائے گا۔ محض معاہدے کی ظاہری شکل و صورت کسی معاملے کو بیع نہیں بنا سکتی۔“()

ابنِ قیمؒ کے مطابق سدّ ذرائع کا مقصد ناجائز نتائج تک جانے والے راستے بند کرنا ہے، جبکہ حیلہ بعض صورتوں میں انہی ممنوع نتائج کے راستے کھول دیتا ہے، اس لیے دونوں اصول ایک دوسرے کے برخلاف ہیں۔

قرآن مجید  سے حیلہ کی  مثال:

ﯘوَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِهِ وَلَا تَحْنَثْ ۗ ﯗ()

” اور (اے ایوبؑ!) آپ چند تنکوں کی ایک جھاڑو لے لیں، پھر اسی سے (ہلکا سا) مار دیں، یوں آپ کی قسم بھی پوری ہو جائے گی اور قسم ٹوٹنے بھی نہ پائے گی ۔“

حضرت ایوب علیہ السلام نے ناراضی کے عالم میں قسم کھالی تھی کہ صحت یاب ہونے کے بعد اپنی اہلیہ کو سو کوڑے ماریں گے۔ صحت ملنے پر وہ اس مشکل میں پڑ گئے کہ قسم پوری کریں تو وفادار اور خدمت گزار بیوی کو تکلیف پہنچتی ہے، اور نہ کریں تو قسم ٹوٹ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ایک آسان حل بتایا کہ سو تنکوں کی جھاڑو لے کر ایک بار ہلکا سا مار دیں، اس طرح بیوی کو اذیت بھی نہ پہنچے اور قسم بھی پوری ہو جائے۔

احادیث سے حیلہ کی مثال:

سیدنا عبد اللہ بن زبیر سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہے:

” انصار کے ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم  کی خدمت میں حاضر ہو کر شکایت پیش کی کہ اس کا بیٹا ایک شخص کے ہاں خادم تھا، جہاں اس نے اس کی بیوی سے زنا کا ارتکاب کیا۔ اس نے اس بدلے میں سو بکریاں اور ایک باندی بطور فدیہ دے دی تھیں۔ بعد میں جب اس نے اہلِ علم سے دریافت کیا تو بتایا گیا کہ اس کے بیٹے پر، بطور زانی، سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی لازم ہے، جبکہ وہ عورت چونکہ محصنہ ہے اس لیے رجم کی سزا کی مستحق ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم  نے یہ سن کر فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! میں تمہارے درمیان اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ لہٰذا بکریاں اور باندی تمہیں لوٹا دی جائیں گی، تمہارے بیٹے کو سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے جلاوطن کیا جائے گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم  نے أُنیسؓ سے فرمایا کہ صبح اس عورت کے پاس جا کر تحقیق کریں، اور اگر وہ اقرار کرے تو اسے رجم کر دیں۔“()

فقہاء کے نزدیک حیلہ شریعت سے بچنے کے لیے نہیں بلکہ شریعت پر عمل کرنے اور قانون کی سختیوں کے باوجود مقصدِ شریعت پورا کرنے کے لیے جائز ہے، تاکہ قانون برقرار رہے اور مسائل کا حل ممکن ہو۔

حیلہ کی اقسام

فقہی اعتبار سے حیلہ ایک ایسی تدبیر ہے جو شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے کسی مقصد کے حصول یا حکمِ شرعی سے بچنے کے لیے اختیار کی جاتی ہے، اور چونکہ اس کا انحصار نیت پر ہے، فقہاء نے اسے مختلف اقسام میں تقسیم کیا تاکہ ہر نوع کی شرعی حیثیت واضح ہو سکے۔

علامہ تقی عثمانی صاحب نے اس بحث کو مدلل بیان کرکے اقسام الحیل کو واضح کیا، جس کا مختصر خلاصہ یہ ہے:

حیلہ کی پہلی قسم:

  وہ حیلے جن کا کرنا بھی ناجائز ہے اور اگر کوئی کرے تو ان کا وہ اثر بھی شرعاً ظاہر نہیں ہوتا جو ان کا مقصود ہوتا ہے یعنی جس مقصد کیلئے حیلہ کیا جاتاہے وہ مقصد کسی مانع کی وجہ سے حاصل نہیں ہوتا اور حیلہ کرنے والے کا عمل بھی ناجائز ہوتا ہے۔

 یہ عموماً دوصورتوں میں ہوتا ہے۔

1. ایک صورت یہ ہے کہ کسی حرام چیز کی حقیقت میں کوئی تبدیلی لائے بغیر حیلے کے طور پر صرف اس کی ظاہری صورت بدل دی گئی ہو۔

  اس کی ایک مثال یہ ہے کہ یہودیوں کے لئے چربی حرام کی گئی تھی تو انھوں نے اسے پگھلا کر استعمال کرنا شروع کر دیا جس کی وجہ سے ان پر لعنت فرمائی گئی۔ یہاں حلال کرنے کی غرض سے ان کا پھگلانا بھی ناجائز تھا  اور پگھلانے کے نتیجے میں وہ مقصد بھی حاصل نہ ہوا، یعنی چربی حلال نہیں ہوئی، کیونکہ پھگلانے سے چربی کی حقیقت میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہوتی۔ اسی قسم کے حیلے ہیں جن کے بارے میں ایک مستند حدیث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم  نے فرمایا:

(لَا تَرْتَكِبُوا مَا ٱرْتَكَبَتِ ٱلْيَهُودُ، فَتَسْتَحِلُّوا مَحَارِمَ ٱللَّهِ بِأَدْنَى ٱلْحِيَلِ) ()

” جو اعمال یہودی کرتے تھے، تم وہ نہ کرو  اور اللہ تعالیٰ کی حرام چیز کو کسی معمولی حیلے سے حلال نہ بناؤ۔ “

اس کی وضاحت کے لیے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ ارشاد بھی ایک مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے:

(لَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ، وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ، خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ) ()

”یعنی نہ متفرق مال کو (زکوٰۃ سے بچنے کے لیے) جمع کیا جائے اور نہ مجتمع مال کو (زکوٰۃ واجب نہ ہو) اس نیت سے الگ کیا جائے زکوٰۃ سے بچنے کے لیے۔“

  زکوۃ کم کرنے کے مقصد سے مویشیوں کو یکجا یا الگ کرنا ناجائز ہے، کیونکہ ایسا کرنے سے ملکیت یا مقدار میں کوئی حقیقی تبدیلی نہیں آتی اور زکوۃ کی اصل واجب مقدار بدستور برقرار رہتی ہے۔

2. دوسری صورت یہ ہے کہ اگر چہ کسی چیز یا معاملے کی صرف صورت ہی نہیں، حقیقت بھی بدلنے کی کوشش کی گئی، لیکن اس کے لئے جو طریقہ اختیار کیا گیا، وہ بذات خود ایسا تھا کہ اس سے شرعاً مطلوبہ نتیجہ ظاہر نہیں ہو سکتا تھا۔ 

مثال کے طور پر، اگر کوئی شخص زکوٰۃ سے بچنے کے لیے اپنا مال اپنی بیوی کو ہبہ کرے بغیر قبضہ منتقل کیے، تو یہ ناجائز ہے اور وہ گنہگار ہوگا، کیونکہ قبضہ نہ ہونے کی وجہ سے ہبہ صحیح نہیں ہوگی اور مال اس کی ملکیت میں رہنے کی وجہ سے زکوٰۃ واجب رہے گی۔ 

حیلہ کی دوسری قسم:

ایسے حیلے میں حیلہ کرنے والے پر بدنیتی کا گناہ عائد ہوگا، لیکن ظاہری اثر یہ ہوگا کہ زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی، کیونکہ زکوٰۃ کے وقت مال اس کی ملکیت سے نکل چکا ہوتا ہے، جیسے کسی نے سال ختم ہونے سے پہلے مال بیوی کو ہبہ کر دیا یا کوئی ایسی چیز خریدی جس پر زکوٰۃ فرض نہیں۔

حیلہ کی تیسری قسم: 

وہ ہے جہاں حیلہ کرنا گناہ بھی نہیں ہوتا، اُس حیلے کا شرعی اثر بھی ظاہر ہو جاتا ہے، یعنی جس مقصد کےلئے حیلہ کیا گیا وہ جائز طور پر حاصل ہو جاتا ہے۔

  حضرت ایوب علیہ السلام کو جس حیلے کی تقلین فرمائی گئی   یا حضور اقدس اللہ علیہ وسلم نے خیبر  کے کھجوروں کے بارے میں جو حیلہ بتایا ، وہ اسی قسم کا حیلہ تھا۔

ان تین اقسام الحیل میں قسم ثالث پر عمل کیا جائے اور حرام سے بچنے و مباح یا جائز تک پہنچنے میں اس سے مدد لی جائے لیکن اس کے علاوہ حیلوں بہانوں پر یقین رکھنا شرعاً و اخلاقاً جرم ہے۔

اسلامی بینکوں میں ناجائز حیلوں کا اطلاق

اس عنوان میں وہ قانونی حیلے زیرِ بحث ہیں جو شریعت کے مقاصد کو ناکام بنا کر ربا سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں، جیسے بیعِ عینہ، تورّق، کموڈیٹی مرابحہ، اور جزوی طور پر سیل اینڈ لیز بیک سکوک، جنہیں بین الاقوامی فقہی اکیڈمی نے غیر معتبر اور ناجائز قرار دیا ہے۔

بیع العِینہ (Buy-Back Agreement)کا اطلاق:

بیع العِینہ (بائے بیک ایگریمنٹ) ایک ایسا مالیاتی طریقہ ہے جو شریعت کے مقصد کو ناکام بناتا ہے۔ پاکستان میں یہ 1980 کی دہائی میں تجویز ہوا، لیکن 1992 میں وفاقی شرعی عدالت اور 1999 میں سپریم کورٹ نے اسے غیر شرعی اور کالعدم قرار دیا، اور AAOIFI نے بھی اسے غیر معتبر تسلیم کیا۔ بعد ازاں پاکستان میں اس کا استعمال بند ہو گیا۔

ملائیشیا میں بیع العینہ آج بھی استعمال ہوتی ہے، جہاں بینک کسی گاہک کو زمین قسطوں پر زیادہ قیمت پر فروخت کرتا اور پھر اسے نقد کم قیمت پر واپس خرید لیتا ہے، فرق بینک کا پہلے سے طے شدہ منافع ہوتا ہے۔ شافعی فقہ کے مطابق ظاہری طور پر یہ معاہدہ جائز سمجھا جاتا ہے، بشرطیکہ نیت غیر شرعی چھپی ہو۔مثال: اکبر نے جواد کو سامان ادھار بیچا اور بعد میں اسے کم قیمت پر نقد واپس خرید لیا، جسے علماء نے سود (ربا) قرار دیا۔ 

اس معاملے کے بارے میں حدیث میں بھی سخت وعید وارد ہوئی ہے ،چنانچہ فرمانِ نبوی صلی اللہ علیہ و سلم ہے :

(إِذَا تَبَايَعْتُمْ بِالْعِينَةِ، وَأَخَذْتُمْ أَذْنَابَ الْبَقَرِ، وَرَضِيتُمْ بِالزَّرْعِ، وَتَرَكْتُمُ الْجِهَادَ، سَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ 

ذُلًّا، لَا يَنْزِعُهُ حَتَّى تَرْجِعُوا إِلَى دِينِكُمْ) ()  

”حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت میں آتا ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جب تم لوگ عِینہ جیسی سودی چالوں کے ذریعے خرید و فروخت کرنے لگو، بیلوں کی دمیں تھام کر کھیتی باڑی ہی کو اپنا معمول بنا لو، دنیا کی دل چسپی میں جہاد کو ترک کر دو، تو اللہ تعالیٰ تم پر ذلت اور پستی مسلط فرما دے گا  اور یہ ذلت تم سے اس وقت تک دور نہ ہوگی جب تک تم اپنے دین کی اصل روح کی طرف واپس نہ لوٹ آؤ۔“ 

خلاصہ یہ کہ فقہاء کے نزدیک جائز حیلہ کو مستقل معمول بنانا پسندیدہ تو نہیں، مگر اسے حرام بھی نہیں کہا جا سکتا۔خصوصاً جب کوئی متبادل موجود نہ ہو۔ اسی لیے مدارس میں تملیک کا حیلہ اختیار کیا جاتا ہے، اور شرعی شرائط پوری ہونے کی صورت میں اس کا معمول بن جانا بھی اسے ناجائز نہیں بناتا۔

تورق کا اطلاق:

توریق وہ مالی طریقہ ہے جس میں مالی ضرورت مند شخص کسی چیز کو ادھار خرید کر فوری نقد فروخت کر دیتا ہے، تاکہ فوری رقم حاصل ہو۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی کمپیوٹر 30,000 روپے ادھار لے کر خریدے اور بازار میں 20,000 روپے نقد بیچ دے تو فوری نقدی مل جاتی ہے مگر قرض پیدا ہوتا ہے۔ اکثر فقہاء اسے ناجائز قرار دیتے ہیں کیونکہ یہ قرض پر نفع لینے کا طریقہ ہے، یعنی “پیسہ کے بدلے پیسہ زائد” جو ربا کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

مالکی مکتبِ فکر تورق کو غیر جائز قرار دیتا ہے اور ان کے مستند فقہی متن مختصر خلیل میں وضاحت کی گئی ہے:

”اگر ایک شخص دوسرے سے کہے: مجھے 80 قرض دو، میں تمہیں 100 واپس کروں گا۔ تو دوسرا کہے: یہ جائز نہیں، مگر میں تمہیں 80 کی چیز 100 میں بیچ دیتا ہوں۔“یہ طریقہ مالکی فقہ کے مطابق مکروہ اور ناپسندیدہ ہے۔یعنی یہ ایک حیلہ ہے جس کا مقصد سود کے ممنوعہ فائدے کو جائز طریقے سے حاصل کرنا ہے، جو شریعت کے مقاصد کے خلاف ہے۔()  

حنفی مکتبِ فکر میں توّرُق کے بارے میں دو مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔

 زَیلَعی (وفات: 743ھ) توّرُق کو بیع العِینہ کے مترادف قرار دیتے ہیں اور اسے ناجائز قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں:

” بیع العِینہ کی صورت یہ ہے کہ ایک محتاج شخص کسی تاجر کے پاس آتا ہے اور اس سے کچھ رقم بطور قرض حاصل کرنے کی درخواست کرتا ہے۔تاجر اس رقم سے نفع حاصل کرنا چاہتا ہے لیکن وہ سود (ربا) میں ملوث نہیں ہونا چاہتا۔چنانچہ وہ اُسے ایسی چادر دس (درہم) کی، پندرہ پر ادھار بیچ دیتا ہے تاکہ وہ شخص اسے نقد دس میں فروخت کر کے اپنی ضرورت پوری کرے۔یہ عمل ناجائز اور قابلِ مذمت ہے۔()

ابن ہمام حنفی فقہ کے جلیل القدر فقیہ ہیں  اور ان کی کتاب ”شرح فتح القدیر“ فقہ حنفی کی اہم اور معتبر شرحوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے تَوَرُّق کو اصولی طور پر جائز قرار دیا ہے، لیکن غیر پسندیدہ عمل سمجھا ہے، کیونکہ یہ شریعت کی روح سے متصادم ہو تا ہے اگر نیت صرف نقد رقم حاصل کرنے کی ہو۔()

شافعی فقہاء معاہدے کی ظاہری شکل کو اسلامی شرائط کے مطابق ضروری سمجھتے ہیں اور باطنی نیت پر زیادہ توجہ نہیں دیتے، اسی بنیاد پر وہ تَوَرُّق کو جائز قرار دیتے ہیں۔ حنبلی علماء بھی تَوَرُّق کو جائز سمجھتے ہیں؛ المرادوی اور امام احمد بن حنبل کے مطابق اگر کسی کو نقد رقم کی ضرورت ہو اور اس مقصد کے لیے کوئی چیز خریدے، تو یہ شرعی طور پر درست ہے۔()()

کموڈیٹی مرابحہ اور اس کی صورت

کموڈیٹی مرابحہ (Commodity Murabaha) ایک معاصر اسلامی مالیاتی طریقہ ہے جو عموماً اسلامی بینکوں میں نقد قرض کی جگہ استعمال ہوتا ہے، تاکہ شرعی طور پر سود سے بچا جا سکے۔ اسے بعض اوقات توییر التمویل یا Reverse Murabaha بھی کہا جاتا ہے۔

اسلامی بینکنگ سود، غرر اور میسر سے پاک مالیاتی نظام فراہم کرتی ہے، اور انہی اصولوں کے تحت کموڈیٹی مرابحہ بینک کو بین الاقوامی مارکیٹ سے کموڈیٹی خرید کر منافع کے ساتھ ادھار فروخت کرنے اور صارف کے نقدی مسائل حل کرنے کا ایک شرعی اور مؤثر ذریعہ ہے، جو پاکستان، سعودی عرب اور ملائیشیا میں لیکویڈیٹی مینجمنٹ کے لیے عام طور پر استعمال ہوتا ہے۔

چونکہ مضاربہ و مشارکہ جیسے PLS ماڈلز ہر کاروبار کے لیے مناسب نہیں اور مستحکم کاروبار اپنی ملکیت یا منافع تقسیم نہیں کرنا چاہتے، اس لیے وہ کموڈیٹی مرابحہ جیسے سود سے پاک متبادل کو اختیار کرتے ہیں، جو روایتی سودی قرض کے خلا کو شرعی انداز میں پُر کرتا ہے۔ عام مرابحہ کے برعکس، اس ماڈل میں کموڈیٹی کا مقصد اصل استعمال نہیں بلکہ جائز طریقے سے نقدی حاصل کرنا ہوتا ہے، البتہ خریدار کے پاس اسے بیچنے یا رکھنے کی آزادی برقرار رہتی ہے۔

عصرِ حاضر کے فقہاء اور AAOIFI شرعی معیار نے اس کے لیے واضح شرائط مقرر کی ہیں تاکہ یہ طریقہ حقیقی خرید و فروخت پر مبنی رہے اور محض سود کا ایک نیا طریقہ بن کر نہ رہ جائے۔

 ان شرائط میں شامل ہیں:

1. الگ بروکرز:خرید و فروخت مختلف بروکرز کے ذریعے ہو تاکہ لین دین اصلی ہو۔

2. حقیقی اثاثہ:لین دین کسی واقعتاً موجود شے پر ہو، نہ کہ کسی فرضی شے پر۔

3. حقیقی تجارت:شرعی اصولوں کے مطابق ایجاب و قبول، قیمت، فریقین کی اہلیت وغیرہ ہو۔

4. ملکیت:اصل فروخت کے ذریعے خریدار شے کا مالک بنے۔

5. قبضہ:جسمانی، مجازی یا ڈیجیٹل قبضہ ہو تاکہ خریدار تصرف کر سکے۔

6. صحیح ترتیب:تمام مراحل درست ترتیب سے انجام دیے جائیں۔

7. فروخت نہ کرنے کی آزادی:خریدار کو اثاثہ روکنے کا بھی اختیار ہو، تاکہ یہ فرضی سودا نہ بنے۔

8. الگ ایجنٹس:تمام فریقین کے لیے ایک ہی ایجنٹ نہ ہو، تاکہ مفادات کا ٹکراؤ نہ ہو۔

ان اصولوں پر عمل کر کے کموڈیٹی مرابحہ ایک شرعی موافق، اثاثہ پر مبنی فنانسنگ ماڈل بن جاتا ہے۔ خرد سطح پر اور برطانیہ جیسے غیر مسلم ماحول میں یہ ایک جائز متبادل فراہم کرتا ہے، جہاں عمومی طور پر ہر مالی پیشکش سود سے آلودہ ہوتی ہے۔

  پاکستان میں کموڈیٹی مرابحہ پر درج ذیل طریقے سے عمل کیا جاتا ہے:

  • کموڈیٹی مرابحہ میں لیکویڈیٹی کی ضرورت پر بینک ‘ABC’ اسلامی بینک (IB) سے فنڈز طلب کرتا ہے، اور ماسٹر مرابحہ فسیلٹی ایگریمنٹ (MMFA) کے تحت آرڈر فارم جمع کرواتا ہے۔
  • اسلامی بینک مارکیٹ سے کموڈیٹی خرید کر اس کا قبضہ حاصل کرتا ہے اور ڈلیوری آرڈر و انوائس کے ذریعے ملکیت تسلیم کرتا ہے۔
  • قبضہ کی تصدیق کے بعد، اسلامی بینک مرابحہ کی بنیاد پر (لاگت + منافع) مؤخر ادائیگی کے لیے بینک ‘ABC’ کو فروخت کرتا ہے۔
  • بینک ‘ABC’ قبضہ اور ملکیت حاصل کرنے کے بعد مکمل اختیار رکھتا ہے اور مقررہ مدت مکمل ہونے پر اسلامی بینک کو ادائیگی کرتا ہے۔()

کموڈیٹی مرابحہ بنیادی طور پر روایتی بینکوں کی لیکویڈیٹی پوری کرنے کا ٹریژری پروڈکٹ ہے، جس میں حقیقی قبضہ یا رسک نہیں ہوتا، اور یہ اکثر شرعی حیلے کے طور پر رقم پر طے شدہ اضافہ حاصل کرتا ہے، جو سود کے مشابہ ہے، اس طرح یہ اسلامی مالیات کے اصل مقصد سے ہٹ کر صرف نظامی سود کی جگہ لیتا ہے۔

اسلامی بینکاری کے نفاذ میں درپیش چیلنجز

اسلامی بینکاری کا مقصد سود سے پاک، شفاف اور عادلانہ مالی نظام قائم کرنا ہے، مگر عملی نفاذ میں فکری، معاشی اور انتظامی چیلنجز اس کے مقاصد میں رکاوٹ بنتے ہیں؛ ان مسائل کا جائزہ لے کر مؤثر حل تلاش کرنا ضروری ہے تاکہ نظام حقیقی معنوں میں ترقی کرے۔

اسلامی بینکاری کے نفاذ میں درپیش چیلنجز مندرجہ ذیل ہیں۔

  • اسلامی بینکاری اور روایتی بینکاری کے فرق کو سمجھنے میں مشکلات
  • شرعی نگران بورڈز کے اختلافات اور معیار کی عدم یکسانی
  • مشارکہ و مضاربہ جیسے حقیقی اسلامی ماڈلز کی کمی
  • رسک مینجمنٹ اور لیکویڈیٹی کے مسائل
  • عوامی آگاہی اور اسلامی بینکاری پر اعتماد کی کمی
  • پروڈکٹس میں جدت (Innovation) کی کمی
  • روایتی بینکوں کا دباؤ اور مارکیٹ کمپٹیشن
  • بین الاقوامی مالیاتی نظام میں سود کی بالادستی

اسلامی بینکاری کو فقہی حیلے، کم عوامی آگاہی، مضاربہ و مشارکہ کا کم استعمال، ماہرین و جدت کی کمی، اور عالمی سودی نظام و بین الاقوامی لین دین کی مشکلات جیسے فکری، عملی، ادارہ جاتی اور عالمی چیلنجز درپیش ہیں، جو اس کے فروغ کو محدود کرتے ہیں۔ 

صحیح اسلامی بینکاری کے لئے بنیادی تجاویز

  1. اسلامی بینک کو محض مالیاتی نہیں بلکہ حقیقی تجارتی ادارے کے طور پر رسک قبول کرتے ہوئے کام کرنا چاہیے۔
  2. مرابحہ و اجارہ تک محدود رہنے کے بجائے حقیقی مضاربہ و مشارکہ ماڈلز اپنانے چاہییں۔
  3. مضاربہ کے سرمایے کو صرف حقیقی تجارتی سرگرمیوں میں استعمال کیا جائے، نہ کہ محض تمویل میں۔
  4. اسلامی بینک کو ربّ المال کے اختیارات تسلیم کر کے شفاف طریقے سے مضارب کے طور پر کام کرنا چاہیے۔
  5. مضاربہ میں منافع کی وہی نسبت بینک اور ربّ المال دونوں کے لیے یکساں رکھی جائے۔
  6. تاخیرِ ادائیگی پر صدقہ یا مالی جرمانہ لینا جائز نہیں، بلکہ نرمی اور سہولت کے اصول کو ترجیح دی جائے۔
  7. تاخیر کے خدشے کی صورت میں مالی سزا کے بجائے غیر مالی شرعی تدابیر، مثلاً خدمات میں کمی یا تاخیر، اختیار کی جائیں۔
  8. مرابحہ میں خریدار کو وکیل بنانے کے بجائے کسی علیحدہ فرد کو وکالت دی جائے۔
  9. مرابحہ میں منظم التورق جیسے غیر شرعی طریقے سے اجتناب کیا جائے۔
  10. یک طرفہ وعدے کو قانونی طور پر پابند نہ بنایا جائے تاکہ شرعی قباحت پیدا نہ ہو۔
  11. اجارہ منتہی بالتملیک کے بجائے بیع التقسیط کا طریقہ اختیار کیا جائے تاکہ شرعی اشکالات سے بچا جا سکے۔
  12. اسلامی بینک اپنے معاہدات میں شرحِ سود کو کسی بھی صورت معیار کے طور پر استعمال نہ کرے۔

مصادر و مراجع

ابن منظور، محمد بن مكرم. لسان العرب. القاهرة: دار الحديث / كراتشي: قديمي۔

کتاب العین میں حیلہ کا معنی اس طرح  بیان کیا ہے:

”الحِيلَةُ:ما يُتَوَصَّل به إلى حالَةٍ ما في خُفْيَةٍ  وأَصْلُها مِن الحَوْلِ، وهو التَّحَوُّل مِن حالٍ إلى حالٍ بِنَوْعِ تَدْبِيرٍ ولُطْفٍ يُحِيل به الشَّيْءَ عن ظاهِرِهِ، أو مِن الحَوْلِ بِمعنى القُوَّةِ وأَكْثَرُ اسْتِعْمالِها فيما في تَعاطِيهِ خُبْثٌ“()

 ” یعنی ایسا طریقہ جس کے ذریعے کسی مقصد یا حالت تک خفیہ انداز میں پہنچا جائے۔ بنیادی طور پر یہ لفظ ”حَوْل“ سے ماخوذ ہے، جس کے معنی ایک قسم کی حکمت عملی، باریک بینی اور کسی شے کو اس کے ظاہر سے ہٹاکر ایک حالت سے دوسری حالت میں منتقل کرنے کے ہیں۔ یا بعض اوقات یہ ”حَول“ یعنی قوت سے بھی ماخوذ ہے۔ زیادہ تر اس کا استعمال ایسے کاموں کے لیے کیا جاتا ہے جن کے انجام دینے میں بُرائی یا چالاکی شامل ہو۔ “

حیلہ کی اصطلاحی تعریف :

حیلہ کی اصطلاحی تعریف پر مندرجہ ذیل  اقوال موجود ہیں۔

امام تقی الدین السبکی ؒسے منقول ہے: 

(ٱلْحِيَلُ هِيَ ٱلتَّوَصُّلُ إِلَىٰ إِبَاحَةِ مَا حَرَّمَهُ ٱللَّهُ تَعَالَىٰ بِتَكَلُّفِ ٱلتَّعْلِيلِ، وَٱلتَّخْرِيجِ عَلَى ٱلْقَوَاعِدِ، وَٱلتَّوْصِيفِ

 فِي ٱلْأَفْعَالِ) ()

”یعنی حیلے وہ ہیں جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کو تعلیلات، اصولوں پر تطبیق  اور افعال کی خاص تعریفوں کے ذریعے مباح بنانے کی کوشش کی جائے۔

اسلامی فقہی مکاتبِ فکر میں حیلہ کی شرعی حیثیت

اسلامی فقہی مکاتبِ فکر کے درمیان حیلہ کی شرعی حیثیت کے بارے میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے:

فقہ حنفی میں حیلہ کا تصور

حنفی فقہاء نے حیلہ کے معاملے میں ایک وسیع النظر  مؤقف اختیار کیا ہے۔

مشہور حنفی فتاویٰ کی کتاب”الفتاویٰ الہندیہ“میں ایسے متعدد قانونی طریقے درج ہیں جن کے ذریعے قرض دینے والا اپنے قرض پر کچھ اضافی منافع حاصل کر سکتا ہے۔ایک مثال میں، ابن عابدینؒ (مصنف: رد المحتار) نے ایک طریقہ تجویز کیا ہے کہ اگر قرض خواہ اپنے مقروض کو قرض واپس کرنے کی مہلت دینا چاہے اور اس کے بدلے میں کچھ اضافی رقم لینا چاہے، تو وہ یہ کر سکتا ہے
() الخلیل، الخلیل بن أحمد الفراہیدی، العین، قم، مرکز النشر، 1409ھ، ج 3، ص 297۔
()  السبکی، شمس الدین أبو العباس، فتاوى السبکی، بیروت، دار المعرفة، 1412ھ، ج 1، ص 204۔
کہ وہ مقروض سے قرض کی رقم کے برابر کسی چیز کو نقد خریدے، پھر وہی چیز مقروض کو ادھار میں زیادہ قیمت پر فروخت کر دے۔مثال کے طور پر، اگر قرض کی اصل رقم 10درہم ہے اور قرض خواہ اسے 13درہم کرنا چاہتا ہے تو وہ مقروض سے کوئی چیز 10درہم میں خریدے، پھر اسی چیز کو ادھار میں 13درہم پر بیچ دے۔ابن عابدینؒ کہتے ہے :”اس طریقے سے وہ سود (ربا) سے بچ گیا۔“()

بیعُ الوفا وہ معاملہ ہے جس میں کوئی شخص ضرورت کے تحت اپنی چیز قرض دینے والے کو اس شرط پر بیچتا ہے کہ رقم واپس کرنے پر وہ چیز دوبارہ لے سکے گا۔ یہ ایک قانونی حیلہ ہے جو سود سے مشابہ ہے، کیونکہ قرض دینے والا اس مدت میں فروخت شدہ چیز سے فائدہ اٹھاتا رہتا ہے، جو دراصل قرض پر نفع لینے کی شکل بن جاتا ہے۔

حالانکہ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ  ہے:

ﯘيَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُّضَاعَفَةً ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَﯗ()

” اے ایمان والو! سود میں اضافی نہ لو اور نہ دوگنا چگنا کرو، اللہ تعالیٰ سے ڈرو تاکہ تم کامیابی اور فلاح حاصل کر سکو۔“

اسلیے شریعت میں قرض پر رہن (گروی) کی چیز سے نفع اٹھانا منع ہے، اس لیے فقہاء اکثر بیع الوفا کو گروی کے مترادف سمجھتے ہیں، کیونکہ اس میں قرض دینے والا فروخت شدہ چیز سے فائدہ اٹھاتا ہے، جو سود کے مترادف ہے۔

فقہ مالکی میں حیلہ کا تصور

مالکی فقہاء حیلہ کے معاملے میں سب سے سخت موقف رکھتے ہیں۔ وہ حیلوں کی مذمت کرتے ہیں اور انہیں باطل قرار دیتے ہیں۔

حیلہ کے حوالے سے امام شاطبیؒ لکھتے ہیں:

”حیلہ کا ظاہر مفہوم یہ ہے کہ کوئی ایسا عمل انجام دیا جائے جو بظاہر جائز ہو لیکن اس کا مقصد شریعت کے کسی حکم کو باطل کرنا یا اس کی خلاف ورزی کرنا ہو۔ یعنی ایسے عمل کا اصل مقصد شریعت کے طے شدہ اصولوں کو مجروح کرنا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، جب کوئی فرد سال مکمل ہونے سے فوراً پہلے زکوٰۃ کی رقم بطور ہبہ دے دیتا ہے تو دراصل وہ زکوٰۃ کی ادائیگی سے بچنے کی نیت سے ایسا کرتا ہے۔ اگرچہ خود ہبہ دینا جائز عمل ہے اور زکوٰۃ سے گریز
()   ابن عابدین، محمد امین، رد المحتار علی الدر المختار، دمشق، مطبعة دار الکتب العلیا، 1370ھ، ج 1، ص 45۔
() آل عمران، 3: 130۔

ممنوع، لیکن جب ایک جائز کام کو ممنوع مقصد کے لیے استعمال کیا جائے تو وہ ناجائز بن جاتا ہے۔“()

  امام شاطبیؒ کے مطابق شریعت کے احکام کا مقصد انسان کی بھلائیاں اور مقاصدِ شریعت ہیں، اس لیے جو عمل ان مصالح کو نقصان پہنچائے، وہ ناجائز ہے۔ مالکی فقہاء حیلوں کو اس حد تک رد کرتے ہیں کہ وہ جائز ذرائع بھی نہیں مانتے جو 

برے نتائج کا امکان رکھتے ہوں، اور اسے سدّ الذرائع کہتے ہیں۔

فقہ حنبلی میں حیلہ کا تصور

حنبلی فقہاء اس میں  فرق کرتے ہیں:

  • وہ حیلے جو قانونی دشواری یا سختی کو دور کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔  ان کو وہ”مخارج“کہتے ہیں اور انہیں جائز تصور کرتے ہیں۔
  • اور وہ حیلے جو شریعت کی ممانعتوں کو دھوکا  دینے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ انہیں وہ ناجائز قرار دیتے ہیں۔()

ابن القیمؒ جو کہ ایک مشہور حنبلی فقیہ ہیں، انہوں نے حیلہ پر ایک مکمل باب تحریر کیا ہے اور اپنے ہم عصر مالکی فقیہ امام شاطبیؒ کی طرح نیت کو فقہی اعمال میں مرکزی حیثیت دیتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

”نیت ہر فقہی عمل کا جوہر ہے اور  عمل کا دارومدار نیت پر ہوتا ہے۔ اگر نیت درست ہو، تو عمل بھی درست ہوگا اور اگر نیت فاسد (ناجائز) ہو تو عمل بھی ناجائز شمار ہوگا۔ چنانچہ اگر کوئی شخص بظاہر بیع کا معاملہ کرے لیکن اس کی نیت سود لینے کی ہو، تو وہ بیع نہیں بلکہ سود کا معاملہ تصور کیا جائے گا۔ محض معاہدے کی ظاہری شکل و صورت کسی معاملے کو بیع نہیں بنا سکتی۔“()

ابنِ قیمؒ کے مطابق سدّ ذرائع کا مقصد ناجائز نتائج تک جانے والے راستے بند کرنا ہے، جبکہ حیلہ بعض صورتوں میں انہی ممنوع نتائج کے راستے کھول دیتا ہے، اس لیے دونوں اصول ایک دوسرے کے برخلاف ہیں۔

قرآن مجید  سے حیلہ کی  مثال:

ﯘوَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِهِ وَلَا تَحْنَثْ ۗ ﯗ()

()  الشاطبی، أبو إسحاق إبراهيم، الموافقات، قاہرہ، دار القلم، 1987ء، ج 4، ص 201 ۔
()  ابن قدامہ، امام عبد الله بن أحمد، المغنی فی الفقه الحنبلی، دمشق، دار الفكر، ج 6، ص 116 ۔
()  ابن القیم، محمد بن عبد الله، إعلام الموقعین عن رب العالمین، دمشق، دار ابن کثیر، ج 4، ص 217 ۔

 اور (اے ایوبؑ!) آپ چند تنکوں کی ایک جھاڑو لے لیں، پھر اسی سے (ہلکا سا) مار دیں، یوں آپ کی قسم بھی پوری ہو جائے گی اور قسم ٹوٹنے بھی نہ پائے گی ۔“

حضرت ایوب علیہ السلام نے ناراضی کے عالم میں قسم کھالی تھی کہ صحت یاب ہونے کے بعد اپنی اہلیہ کو سو کوڑے ماریں گے۔ صحت ملنے پر وہ اس مشکل میں پڑ گئے کہ قسم پوری کریں تو وفادار اور خدمت گزار بیوی کو تکلیف پہنچتی ہے، اور نہ کریں تو قسم ٹوٹ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ایک آسان حل بتایا کہ سو تنکوں کی جھاڑو لے کر ایک بار ہلکا سا مار دیں، اس طرح بیوی کو اذیت بھی نہ پہنچے اور قسم بھی پوری ہو جائے۔

احادیث سے حیلہ کی مثال:

سیدنا عبد اللہ بن زبیر سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہے:

” انصار کے ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم  کی خدمت میں حاضر ہو کر شکایت پیش کی کہ اس کا بیٹا ایک شخص کے ہاں خادم تھا، جہاں اس نے اس کی بیوی سے زنا کا ارتکاب کیا۔ اس نے اس بدلے میں سو بکریاں اور ایک باندی بطور فدیہ دے دی تھیں۔ بعد میں جب اس نے اہلِ علم سے دریافت کیا تو بتایا گیا کہ اس کے بیٹے پر، بطور زانی، سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی لازم ہے، جبکہ وہ عورت چونکہ محصنہ ہے اس لیے رجم کی سزا کی مستحق ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم  نے یہ سن کر فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! میں تمہارے درمیان اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ لہٰذا بکریاں اور باندی تمہیں لوٹا دی جائیں گی، تمہارے بیٹے کو سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کے لیے جلاوطن کیا جائے گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم  نے أُنیسؓ سے فرمایا کہ صبح اس عورت کے پاس جا کر تحقیق کریں، اور اگر وہ اقرار کرے تو اسے رجم کر دیں۔“()

فقہاء کے نزدیک حیلہ شریعت سے بچنے کے لیے نہیں بلکہ شریعت پر عمل کرنے اور قانون کی سختیوں کے باوجود مقصدِ شریعت پورا کرنے کے لیے جائز ہے، تاکہ قانون برقرار رہے اور مسائل کا حل ممکن ہو۔

حیلہ کی اقسام

فقہی اعتبار سے حیلہ ایک ایسی تدبیر ہے جو شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے کسی مقصد کے حصول یا حکمِ شرعی سے بچنے کے لیے اختیار کی
جاتی ہے، اور چونکہ اس کا انحصار نیت پر ہے، فقہاء نے اسے مختلف اقسام میں تقسیم کیا تاکہ ہر نوع کی شرعی حیثیت واضح ہو سکے۔

علامہ تقی عثمانی صاحب نے اس بحث کو مدلل بیان کرکے اقسام الحیل کو واضح کیا، جس کا مختصر خلاصہ یہ ہے:

حیلہ کی پہلی قسم:

  وہ حیلے جن کا کرنا بھی ناجائز ہے اور اگر کوئی کرے تو ان کا وہ اثر بھی شرعاً ظاہر نہیں ہوتا جو ان کا مقصود ہوتا ہے یعنی جس مقصد کیلئے حیلہ کیا جاتاہے وہ مقصد کسی مانع کی وجہ سے حاصل نہیں ہوتا اور حیلہ کرنے والے کا عمل بھی ناجائز ہوتا ہے۔

 یہ عموماً دوصورتوں میں ہوتا ہے۔

1. ایک صورت یہ ہے کہ کسی حرام چیز کی حقیقت میں کوئی تبدیلی لائے بغیر حیلے کے طور پر صرف اس کی ظاہری صورت بدل دی گئی ہو۔

  اس کی ایک مثال یہ ہے کہ یہودیوں کے لئے چربی حرام کی گئی تھی تو انھوں نے اسے پگھلا کر استعمال کرنا شروع کر دیا جس کی وجہ سے ان پر لعنت فرمائی گئی۔ یہاں حلال کرنے کی غرض سے ان کا پھگلانا بھی ناجائز تھا  اور پگھلانے کے نتیجے میں وہ مقصد بھی حاصل نہ ہوا، یعنی چربی حلال نہیں ہوئی، کیونکہ پھگلانے سے چربی کی حقیقت میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہوتی۔ اسی قسم کے حیلے ہیں جن کے بارے میں ایک مستند حدیث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم  نے فرمایا:

(لَا تَرْتَكِبُوا مَا ٱرْتَكَبَتِ ٱلْيَهُودُ، فَتَسْتَحِلُّوا مَحَارِمَ ٱللَّهِ بِأَدْنَى ٱلْحِيَلِ) ()

” جو اعمال یہودی کرتے تھے، تم وہ نہ کرو  اور اللہ تعالیٰ کی حرام چیز کو کسی معمولی حیلے سے حلال نہ بناؤ۔ “

اس کی وضاحت کے لیے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ ارشاد بھی ایک مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے:

(لَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ، وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ، خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ) ()

”یعنی نہ متفرق مال کو (زکوٰۃ سے بچنے کے لیے) جمع کیا جائے اور نہ مجتمع مال کو (زکوٰۃ واجب نہ ہو) اس نیت سے الگ کیا جائے زکوٰۃ سے بچنے کے لیے۔“
زکوۃ کم کرنے کے مقصد سے مویشیوں کو یکجا یا الگ کرنا ناجائز ہے، کیونکہ ایسا کرنے سے ملکیت یا مقدار میں کوئی حقیقی تبدیلی نہیں آتی اور زکوۃ کی اصل واجب مقدار بدستور برقرار رہتی ہے۔

2. دوسری صورت یہ ہے کہ اگر چہ کسی چیز یا معاملے کی صرف صورت ہی نہیں، حقیقت بھی بدلنے کی کوشش کی گئی، لیکن اس کے لئے جو طریقہ اختیار کیا گیا، وہ بذات خود ایسا تھا کہ اس سے شرعاً مطلوبہ نتیجہ ظاہر نہیں ہو سکتا تھا۔ 

مثال کے طور پر، اگر کوئی شخص زکوٰۃ سے بچنے کے لیے اپنا مال اپنی بیوی کو ہبہ کرے بغیر قبضہ منتقل کیے، تو یہ ناجائز ہے اور وہ گنہگار ہوگا، کیونکہ قبضہ نہ ہونے کی وجہ سے ہبہ صحیح نہیں ہوگی اور مال اس کی ملکیت میں رہنے کی وجہ سے زکوٰۃ واجب رہے گی۔ 

حیلہ کی دوسری قسم:

ایسے حیلے میں حیلہ کرنے والے پر بدنیتی کا گناہ عائد ہوگا، لیکن ظاہری اثر یہ ہوگا کہ زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی، کیونکہ زکوٰۃ کے وقت مال اس کی ملکیت سے نکل چکا ہوتا ہے، جیسے کسی نے سال ختم ہونے سے پہلے مال بیوی کو ہبہ کر دیا یا کوئی ایسی چیز خریدی جس پر زکوٰۃ فرض نہیں۔

حیلہ کی تیسری قسم: 

وہ ہے جہاں حیلہ کرنا گناہ بھی نہیں ہوتا، اُس حیلے کا شرعی اثر بھی ظاہر ہو جاتا ہے، یعنی جس مقصد کےلئے حیلہ کیا گیا وہ جائز طور پر حاصل ہو جاتا ہے۔

  حضرت ایوب علیہ السلام کو جس حیلے کی تقلین فرمائی گئی   یا حضور اقدس اللہ علیہ وسلم نے خیبر  کے کھجوروں کے بارے میں جو حیلہ بتایا ، وہ اسی قسم کا حیلہ تھا۔

ان تین اقسام الحیل میں قسم ثالث پر عمل کیا جائے اور حرام سے بچنے و مباح یا جائز تک پہنچنے میں اس سے مدد لی جائے لیکن اس کے علاوہ حیلوں بہانوں پر یقین رکھنا شرعاً و اخلاقاً جرم ہے۔

اسلامی بینکوں میں ناجائز حیلوں کا اطلاق

اس عنوان میں وہ قانونی حیلے زیرِ بحث ہیں جو شریعت کے مقاصد کو ناکام بنا کر ربا سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں، جیسے بیعِ عینہ، تورّق، کموڈیٹی مرابحہ، اور جزوی طور پر سیل اینڈ لیز بیک سکوک، جنہیں بین الاقوامی فقہی اکیڈمی نے غیر معتبر اور ناجائز قرار دیا ہے۔

بیع العِینہ (Buy-Back Agreement)کا اطلاق:
بیع العِینہ (بائے بیک ایگریمنٹ) ایک ایسا مالیاتی طریقہ ہے جو شریعت کے مقصد کو ناکام بناتا ہے۔ پاکستان میں یہ 1980 کی دہائی میں تجویز ہوا، لیکن 1992 میں وفاقی شرعی عدالت اور 1999 میں سپریم کورٹ نے اسے غیر شرعی اور کالعدم قرار دیا، اور AAOIFI نے بھی اسے غیر معتبر تسلیم کیا۔ بعد ازاں پاکستان میں اس کا استعمال بند ہو گیا۔

ملائیشیا میں بیع العینہ آج بھی استعمال ہوتی ہے، جہاں بینک کسی گاہک کو زمین قسطوں پر زیادہ قیمت پر فروخت کرتا اور پھر اسے نقد کم قیمت پر واپس خرید لیتا ہے، فرق بینک کا پہلے سے طے شدہ منافع ہوتا ہے۔ شافعی فقہ کے مطابق ظاہری طور پر یہ معاہدہ جائز سمجھا جاتا ہے، بشرطیکہ نیت غیر شرعی چھپی ہو۔مثال: اکبر نے جواد کو سامان ادھار بیچا اور بعد میں اسے کم قیمت پر نقد واپس خرید لیا، جسے علماء نے سود (ربا) قرار دیا۔ 

اس معاملے کے بارے میں حدیث میں بھی سخت وعید وارد ہوئی ہے ،چنانچہ فرمانِ نبوی صلی اللہ علیہ و سلم ہے :

(إِذَا تَبَايَعْتُمْ بِالْعِينَةِ، وَأَخَذْتُمْ أَذْنَابَ الْبَقَرِ، وَرَضِيتُمْ بِالزَّرْعِ، وَتَرَكْتُمُ الْجِهَادَ، سَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ 

ذُلًّا، لَا يَنْزِعُهُ حَتَّى تَرْجِعُوا إِلَى دِينِكُمْ) ()  

”حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت میں آتا ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جب تم لوگ عِینہ جیسی سودی چالوں کے ذریعے خرید و فروخت کرنے لگو، بیلوں کی دمیں تھام کر کھیتی باڑی ہی کو اپنا معمول بنا لو، دنیا کی دل چسپی میں جہاد کو ترک کر دو، تو اللہ تعالیٰ تم پر ذلت اور پستی مسلط فرما دے گا  اور یہ ذلت تم سے اس وقت تک دور نہ ہوگی جب تک تم اپنے دین کی اصل روح کی طرف واپس نہ لوٹ آؤ۔“ 

خلاصہ یہ کہ فقہاء کے نزدیک جائز حیلہ کو مستقل معمول بنانا پسندیدہ تو نہیں، مگر اسے حرام بھی نہیں کہا جا سکتا۔خصوصاً جب کوئی متبادل موجود نہ ہو۔ اسی لیے مدارس میں تملیک کا حیلہ اختیار کیا جاتا ہے، اور شرعی شرائط پوری ہونے کی صورت میں اس کا معمول بن جانا بھی اسے ناجائز نہیں بناتا۔

تورق کا اطلاق:
توریق وہ مالی طریقہ ہے جس میں مالی ضرورت مند شخص کسی چیز کو ادھار خرید کر فوری نقد فروخت کر دیتا ہے، تاکہ فوری رقم حاصل ہو۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی کمپیوٹر 30,000 روپے ادھار لے کر خریدے اور بازار میں 20,000 روپے نقد بیچ دے تو فوری نقدی مل جاتی ہے مگر قرض پیدا ہوتا ہے۔ اکثر فقہاء اسے ناجائز قرار دیتے ہیں کیونکہ یہ قرض پر نفع لینے کا طریقہ ہے، یعنی “پیسہ کے بدلے پیسہ زائد” جو ربا کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

مالکی مکتبِ فکر تورق کو غیر جائز قرار دیتا ہے اور ان کے مستند فقہی متن مختصر خلیل میں وضاحت کی گئی ہے:

”اگر ایک شخص دوسرے سے کہے: مجھے 80 قرض دو، میں تمہیں 100 واپس کروں گا۔ تو دوسرا کہے: یہ جائز نہیں، مگر میں تمہیں 80 کی چیز 100 میں بیچ دیتا ہوں۔“یہ طریقہ مالکی فقہ کے مطابق مکروہ اور ناپسندیدہ ہے۔یعنی یہ ایک حیلہ ہے جس کا مقصد سود کے ممنوعہ فائدے کو جائز طریقے سے حاصل کرنا ہے، جو شریعت کے مقاصد کے خلاف ہے۔()  

حنفی مکتبِ فکر میں توّرُق کے بارے میں دو مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔

 زَیلَعی (وفات: 743ھ) توّرُق کو بیع العِینہ کے مترادف قرار دیتے ہیں اور اسے ناجائز قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں:

” بیع العِینہ کی صورت یہ ہے کہ ایک محتاج شخص کسی تاجر کے پاس آتا ہے اور اس سے کچھ رقم بطور قرض حاصل کرنے کی درخواست کرتا ہے۔تاجر اس رقم سے نفع حاصل کرنا چاہتا ہے لیکن وہ سود (ربا) میں ملوث نہیں ہونا چاہتا۔چنانچہ وہ اُسے ایسی چادر دس (درہم) کی، پندرہ پر ادھار بیچ دیتا ہے تاکہ وہ شخص اسے نقد دس میں فروخت کر کے اپنی ضرورت پوری کرے۔یہ عمل ناجائز اور قابلِ مذمت ہے۔()

ابن ہمام حنفی فقہ کے جلیل القدر فقیہ ہیں  اور ان کی کتاب ”شرح فتح القدیر“ فقہ حنفی کی اہم اور معتبر شرحوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے تَوَرُّق کو اصولی طور پر جائز قرار دیا ہے، لیکن غیر پسندیدہ عمل سمجھا ہے، کیونکہ یہ شریعت کی روح سے متصادم ہو تا ہے اگر نیت صرف نقد رقم حاصل کرنے کی ہو۔()
شافعی فقہاء معاہدے کی ظاہری شکل کو اسلامی شرائط کے مطابق ضروری سمجھتے ہیں اور باطنی نیت پر زیادہ توجہ نہیں دیتے، اسی بنیاد پر وہ تَوَرُّق کو جائز قرار دیتے ہیں۔ حنبلی علماء بھی تَوَرُّق کو جائز سمجھتے ہیں؛ المرادوی اور امام احمد بن حنبل کے مطابق اگر کسی کو نقد رقم کی ضرورت ہو اور اس مقصد کے لیے کوئی چیز خریدے، تو یہ شرعی طور پر درست ہے۔()()

کموڈیٹی مرابحہ اور اس کی صورت

کموڈیٹی مرابحہ (Commodity Murabaha) ایک معاصر اسلامی مالیاتی طریقہ ہے جو عموماً اسلامی بینکوں میں نقد قرض کی جگہ استعمال ہوتا ہے، تاکہ شرعی طور پر سود سے بچا جا سکے۔ اسے بعض اوقات توییر التمویل یا Reverse Murabaha بھی کہا جاتا ہے۔

اسلامی بینکنگ سود، غرر اور میسر سے پاک مالیاتی نظام فراہم کرتی ہے، اور انہی اصولوں کے تحت کموڈیٹی مرابحہ بینک کو بین الاقوامی مارکیٹ سے کموڈیٹی خرید کر منافع کے ساتھ ادھار فروخت کرنے اور صارف کے نقدی مسائل حل کرنے کا ایک شرعی اور مؤثر ذریعہ ہے، جو پاکستان، سعودی عرب اور ملائیشیا میں لیکویڈیٹی مینجمنٹ کے لیے عام طور پر استعمال ہوتا ہے۔

چونکہ مضاربہ و مشارکہ جیسے PLS ماڈلز ہر کاروبار کے لیے مناسب نہیں اور مستحکم کاروبار اپنی ملکیت یا منافع تقسیم نہیں کرنا چاہتے، اس لیے وہ کموڈیٹی مرابحہ جیسے سود سے پاک متبادل کو اختیار کرتے ہیں، جو روایتی سودی قرض کے خلا کو شرعی انداز میں پُر کرتا ہے۔ عام مرابحہ کے برعکس، اس ماڈل میں کموڈیٹی کا مقصد اصل استعمال نہیں بلکہ جائز طریقے سے نقدی حاصل کرنا ہوتا ہے، البتہ خریدار کے پاس اسے بیچنے یا رکھنے کی آزادی برقرار رہتی ہے۔

عصرِ حاضر کے فقہاء اور AAOIFI شرعی معیار نے اس کے لیے واضح شرائط مقرر کی ہیں تاکہ یہ طریقہ حقیقی خرید و فروخت پر مبنی رہے اور محض سود کا ایک نیا طریقہ بن کر نہ رہ جائے۔

 ان شرائط میں شامل ہیں:

1. الگ بروکرز:خرید و فروخت مختلف بروکرز کے ذریعے ہو تاکہ لین دین اصلی ہو۔

2. حقیقی اثاثہ:لین دین کسی واقعتاً موجود شے پر ہو، نہ کہ کسی فرضی شے پر۔
. حقیقی تجارت:شرعی اصولوں کے مطابق ایجاب و قبول، قیمت، فریقین کی اہلیت وغیرہ ہو۔

4. ملکیت:اصل فروخت کے ذریعے خریدار شے کا مالک بنے۔

5. قبضہ:جسمانی، مجازی یا ڈیجیٹل قبضہ ہو تاکہ خریدار تصرف کر سکے۔

6. صحیح ترتیب:تمام مراحل درست ترتیب سے انجام دیے جائیں۔

7. فروخت نہ کرنے کی آزادی:خریدار کو اثاثہ روکنے کا بھی اختیار ہو، تاکہ یہ فرضی سودا نہ بنے۔

8. الگ ایجنٹس:تمام فریقین کے لیے ایک ہی ایجنٹ نہ ہو، تاکہ مفادات کا ٹکراؤ نہ ہو۔

ان اصولوں پر عمل کر کے کموڈیٹی مرابحہ ایک شرعی موافق، اثاثہ پر مبنی فنانسنگ ماڈل بن جاتا ہے۔ خرد سطح پر اور برطانیہ جیسے غیر مسلم ماحول میں یہ ایک جائز متبادل فراہم کرتا ہے، جہاں عمومی طور پر ہر مالی پیشکش سود سے آلودہ ہوتی ہے۔

  پاکستان میں کموڈیٹی مرابحہ پر درج ذیل طریقے سے عمل کیا جاتا ہے:

  • کموڈیٹی مرابحہ میں لیکویڈیٹی کی ضرورت پر بینک ‘ABC’ اسلامی بینک (IB) سے فنڈز طلب کرتا ہے، اور ماسٹر مرابحہ فسیلٹی ایگریمنٹ (MMFA) کے تحت آرڈر فارم جمع کرواتا ہے۔
  • اسلامی بینک مارکیٹ سے کموڈیٹی خرید کر اس کا قبضہ حاصل کرتا ہے اور ڈلیوری آرڈر و انوائس کے ذریعے ملکیت تسلیم کرتا ہے۔
  • قبضہ کی تصدیق کے بعد، اسلامی بینک مرابحہ کی بنیاد پر (لاگت + منافع) مؤخر ادائیگی کے لیے بینک ‘ABC’ کو فروخت کرتا ہے۔
  • بینک ‘ABC’ قبضہ اور ملکیت حاصل کرنے کے بعد مکمل اختیار رکھتا ہے اور مقررہ مدت مکمل ہونے پر اسلامی بینک کو ادائیگی کرتا ہے۔()

کموڈیٹی مرابحہ بنیادی طور پر روایتی بینکوں کی لیکویڈیٹی پوری کرنے کا ٹریژری پروڈکٹ ہے، جس میں حقیقی قبضہ یا رسک نہیں ہوتا، اور یہ اکثر شرعی حیلے کے طور پر رقم پر طے شدہ اضافہ حاصل کرتا ہے، جو سود کے مشابہ ہے، اس طرح یہ اسلامی مالیات کے اصل مقصد سے ہٹ کر صرف نظامی سود کی جگہ لیتا ہے۔

اسلامی بینکاری کے نفاذ میں درپیش چیلنجز

اسلامی بینکاری کا مقصد سود سے پاک، شفاف اور عادلانہ مالی نظام قائم کرنا ہے، مگر عملی نفاذ میں فکری، معاشی اور انتظامی چیلنجز اس کے مقاصد میں

رکاوٹ بنتے ہیں؛ ان مسائل کا جائزہ لے کر مؤثر حل تلاش کرنا ضروری ہے تاکہ نظام حقیقی معنوں میں ترقی کرے۔

اسلامی بینکاری کے نفاذ میں درپیش چیلنجز مندرجہ ذیل ہیں۔

  • اسلامی بینکاری اور روایتی بینکاری کے فرق کو سمجھنے میں مشکلات
  • شرعی نگران بورڈز کے اختلافات اور معیار کی عدم یکسانی
  • مشارکہ و مضاربہ جیسے حقیقی اسلامی ماڈلز کی کمی
  • رسک مینجمنٹ اور لیکویڈیٹی کے مسائل
  • عوامی آگاہی اور اسلامی بینکاری پر اعتماد کی کمی
  • پروڈکٹس میں جدت (Innovation) کی کمی
  • روایتی بینکوں کا دباؤ اور مارکیٹ کمپٹیشن
  • بین الاقوامی مالیاتی نظام میں سود کی بالادستی

اسلامی بینکاری کو فقہی حیلے، کم عوامی آگاہی، مضاربہ و مشارکہ کا کم استعمال، ماہرین و جدت کی کمی، اور عالمی سودی نظام و بین الاقوامی لین دین کی مشکلات جیسے فکری، عملی، ادارہ جاتی اور عالمی چیلنجز درپیش ہیں، جو اس کے فروغ کو محدود کرتے ہیں۔ 

صحیح اسلامی بینکاری کے لئے بنیادی تجاویز

  1. اسلامی بینک کو محض مالیاتی نہیں بلکہ حقیقی تجارتی ادارے کے طور پر رسک قبول کرتے ہوئے کام کرنا چاہیے۔
  2. مرابحہ و اجارہ تک محدود رہنے کے بجائے حقیقی مضاربہ و مشارکہ ماڈلز اپنانے چاہییں۔
  3. مضاربہ کے سرمایے کو صرف حقیقی تجارتی سرگرمیوں میں استعمال کیا جائے، نہ کہ محض تمویل میں۔
  4. اسلامی بینک کو ربّ المال کے اختیارات تسلیم کر کے شفاف طریقے سے مضارب کے طور پر کام کرنا چاہیے۔
  5. مضاربہ میں منافع کی وہی نسبت بینک اور ربّ المال دونوں کے لیے یکساں رکھی جائے۔
  6. تاخیرِ ادائیگی پر صدقہ یا مالی جرمانہ لینا جائز نہیں، بلکہ نرمی اور سہولت کے اصول کو ترجیح دی جائے۔
  7. تاخیر کے خدشے کی صورت میں مالی سزا کے بجائے غیر مالی شرعی تدابیر، مثلاً خدمات میں کمی یا تاخیر، اختیار کی جائیں۔
    مرابحہ میں خریدار کو وکیل بنانے کے بجائے کسی علیحدہ فرد کو وکالت دی جائے۔
  8. مرابحہ میں منظم التورق جیسے غیر شرعی طریقے سے اجتناب کیا جائے۔
  9. یک طرفہ وعدے کو قانونی طور پر پابند نہ بنایا جائے تاکہ شرعی قباحت پیدا نہ ہو۔
  10. اجارہ منتہی بالتملیک کے بجائے بیع التقسیط کا طریقہ اختیار کیا جائے تاکہ شرعی اشکالات سے بچا جا سکے۔
  11. اسلامی بینک اپنے معاہدات میں شرحِ سود کو کسی بھی صورت معیار کے طور پر استعمال ن
    مصادر و مراجع
  12. القرآن الکریم۔
  13. البرنو، محمد صدقي. موسوعة القواعد الفقهية. بيروت: مؤسسة الرسالة، 2003۔
  14. ابن عابدين، محمد أمين. رد المحتار على الدر المختار. مصر: مطبعة ومكتبة مصطفى البابي، 1984۔
  15. ابن القيم، محمد بن أبي بكر. إعلام الموقعين عن رب العالمين. مصر، 1388ھ / 1968۔
  16. ابن همام، كمال الدين محمد بن عبد الواحد. شرح فتح القدير. بيروت: دار صادر، 1990۔
  17. النووي، يحيى بن شرف. روضة الطالبين وعمدة المفتين. بيروت: دار الكتب العلمية، 1405ھ۔
  18. القرطبي، محمد بن أحمد. الجامع لأحكام القرآن. القاهرة: 1353ھ / 1935ء۔
  19. محمد امین. تنقیح فتاویٰ حامدیہ. قاہرہ: المکتبة المیمانیہ، 1995۔
  20. کمالی، محمد ہاشم. اسلامی اصولِ فقہ. سلانگور: دار الاحسان / پلنڈک پبلی کیشنز، 1989۔
  21. رابطہ العالم الاسلامی. قرارات المجمع الفقهي. جدہ: 1410ھ / 1998۔
  22. عثمانی، محمد تقی. تکملۃ فتح الملہم. کراچی: مکتبہ الحجاز، 1994۔
  23. السيوطي، جلال الدين. الاشباه والنظائر. بيروت: دار الكتاب العربي، 1987۔
  24. السرخسي، محمد بن أبي سهل. المبسوط. بيروت: دار الكتب العلمية، 1994م.
  25. الكاساني، علاء الدين.بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع. بيروت: دار الكتب العلمية، 1406هـ / 1986م. 
  26. ابن منظور، محمد بن مكرم. لسان العرب. القاهرة: دار الحديث / كراتشي: قديمي۔
جذباتی ذہانت: وہ قوت جو انسان کو اپنے نفس کا قائد اور معاشرے کا رہنما بناتی ہے

علم اور کردار کا تعلق ہمیشہ سے ایک دوسرے کے ساتھ رہا ہے، لیکن انسانی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ محض علم انسان کو عظیم نہیں بناتا۔ دنیا میں ایسے بے شمار لوگ گزرے ہیں جو غیر معمولی علم

مصنف: ابرار حسین
تاریخ: 21 جولائی 2026
گھر: ایک ‘جائے سکینت یا محض چار دیواری؟ ہمارے کھوئے ہوئے سکون کا نوحہ

عالی شان عمارتیں اور کھوکھلے رشتے: ہمارے خاندانی سکون کو کس کی نظر لگ گئی؟انسانی تہذیب کی ابتدا ہی سے گھر محض اینٹ، گارے یا پتھر سے بنی ایک عمارت کا نام نہیں رہا، بلکہ یہ رشتے جوڑنے، دُکھ سُکھ

مصنف: مولانا عبدالاحد
تاریخ: 21 جولائی 2026
صبر:وہ قوت جو انسان کومعمولی سےغیر معمولی بنادیتی ہے

اور صبر کرنے والوں کو خوش خبری سنا دیجیے۔” (البقرۃ: 155) ہم ایک ایسے دور میں زندہ ہیں جہاں انسان پہلے سے زیادہ آسائشوں کا مالک ہے، مگر پہلے سے زیادہ بے چین بھی۔ ذرائع بڑھ گئے ہیں مگر تحمل

مصنف: ابرار حسین
تاریخ: 21 جولائی 2026
مثبت سوچ: مومن کی وہ قوت جو اندھیروں میں بھی روشنی تلاش کر لیتی ہے

انسان کی زندگی کو اگر قریب سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی کامیابی یا ناکامی صرف اس کے حالات سے متعین نہیں ہوتی، بلکہ اس سے کہیں زیادہ اس زاویۂ نگاہ سے وابستہ ہوتی ہے جس

مصنف: ابرار حسین
تاریخ: 16 جولائی 2026
خود اعتمادی: وہ قوت جو ایمان سے جنم لیتی ہے

خود اعتمادی: وہ قوت جو ایمان سے جنم لیتی ہے تاریخِ انسانی کا مطالعہ اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ بڑے کارنامے ہمیشہ غیر معمولی وسائل رکھنے والوں نے انجام نہیں دیے، بلکہ اکثر وہ لوگ زمانے کا رخ

مصنف: ابرار حسین
تاریخ: 16 جولائی 2026
عالمہ کا کردار: درس گاہ سے معاشرے تک

مسلم معاشرے کی تعمیر میں اہلِ علم کا کردار ہمیشہ بنیادی رہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی امت کو فکری، اخلاقی یا سماجی چیلنجز کا سامنا ہوا، رہنمائی کے لیے اہلِ علم ہی کی طرف رجوع کیا گیا۔

مصنف: اقراء شریف
تاریخ: 15 جولائی 2026