اسلامی شریعت اپنی ساخت اور مزاج کے اعتبار سے ایک جامع اور ہمہ گیر نظامِ حیات ہے جو ہر دور اور ہر معاشرتی صورتِ حال میں رہنمائی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم انسانی معاشرہ جامد نہیں بلکہ مسلسل تغیر پذیر ہے۔ وقت کے ساتھ ایسے نئے مسائل اور پیچیدہ صورتیں سامنے آتی رہتی ہیں جن کا صریح ذکر نصوصِ قطعیہ میں موجود نہیں ہوتا۔ انہی نو پیدا ہونے والے اور غیر معمولی مسائل کو فقہی اصطلاح میں "نوازل” کہا جاتا ہے، اور ان کے شرعی حل کے لیے جو علمی و اجتہادی کاوش کی جاتی ہے وہ "فقہ النوازل” کہلاتی ہے۔
فقہ النوازل دراصل اسلامی فقہ کی اس زندہ اور متحرک جہت کا اظہار ہے جس کے ذریعے علماء ہر عہد کے مسائل کو قرآن و سنت، اجماع، قیاس اور دیگر اصولی مصادر کی روشنی میں حل کرتے رہے ہیں۔ یہ محض فتوٰی نویسی کا عمل نہیں بلکہ ایک منظم اصولی منہج کا مظہر ہے جس میں نصوص کی تعبیر، علل کی تعیین، مقاصدِ شریعت کی رعایت، مصالح و مفاسد کا موازنہ اور عرف و حالاتِ زمانہ کی رعایت شامل ہوتی ہے۔ اس اعتبار سے فقہ النوازل اسلامی قانون کی تطبیقی اور عملی روح کی نمائندہ ہے۔
تاریخی طور پر دیکھا جائے تو نوازل کا عمل عہد نبوی ﷺ ہی سے شروع ہو جاتا ہے، جب مختلف واقعات پر وحی یا اجتہاد کے ذریعے رہنمائی دی جاتی تھی۔ عہد صحابہ میں پیش آنے والے نئے مسائل—سیاسی انتظام، مفتوحہ علاقوں کے احکام، مالیاتی نظم—نے اجتہادی فکر کو وسعت دی۔ بعد کے ادوار میں ائمہ مجتہدین نے اصولِ فقہ کی تدوین کے ذریعے اس عمل کو باقاعدہ منہج فراہم کیا۔ یوں فقہ النوازل ایک منظم علمی روایت کی صورت اختیار کر گئی جو ہر صدی میں نئے چیلنجز کا سامنا کرتی رہی۔
معاصر دور میں سائنس و ٹیکنالوجی، عالمی معاشی نظام، حیاتیاتی تحقیق، اور سماجی ڈھانچوں میں تبدیلی نے نوازل کی نوعیت کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اعضاء کی پیوندکاری، مصنوعی بارآوری، ڈیجیٹل کرنسی، عالمی معاہدات، اور اقلیتی فقہ جیسے مسائل نے فقہ النوازل کو ایک نئی جہت عطا کی ہے۔ اب انفرادی اجتہاد کے ساتھ ساتھ اجتماعی اجتہاد اور فقہی اکیڈمیوں کا کردار بھی نمایاں ہو چکا ہے۔
لہٰذا "فقہ النوازل میں علماء کا منہج” کا مطالعہ دراصل اس بات کا تجزیہ ہے کہ مختلف ادوار کے علماء نے کن اصولی بنیادوں پر نئے مسائل کا حل پیش کیا، نصوص اور مقاصد کے درمیان کس طرح توازن قائم کیا، اور بدلتے ہوئے حالات میں شریعت کی روح کو برقرار رکھتے ہوئے عملی رہنمائی فراہم کی۔ یہ موضوع نہ صرف فقہی فکر کے ارتقاء کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے بلکہ معاصر اسلامی قانون کی تشکیل اور مستقبل کی فقہی سمت کے تعین کے لیے بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
موضوع کی اہمیت
شریعت کی ابدیت کا دعویٰ اسی وقت قابلِ فہم بنتا ہے جب یہ واضح کیا جائے کہ بدلتے ہوئے سماجی، معاشی اور سائنسی حالات میں شرعی احکام کس اصولی طریقۂ کار کے تحت اخذ کیے جاتے رہے ہیں۔ اس تحقیق کی اصل اہمیت اسی سوال کے تجزیے میں مضمر ہے کہ اجتہاد ایک منضبط علمی عمل کیسے بنتا ہے اور اس کے ضوابط کیا ہیں۔
یہ موضوع اس اعتبار سے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ معاصر دنیا میں اسلامی قانون کو اکثر دو انتہاؤں کے درمیان دیکھا جاتا ہے: ایک طرف جمود اور تقلیدِ محض، اور دوسری طرف بے مہار تجدید پسندی۔ فقہ النوازل میں علماء کے منہج کا سنجیدہ مطالعہ ان دونوں رویّوں کے مابین اعتدال کی راہ واضح کرتا ہے۔ یہ دکھاتا ہے کہ اجتہاد نہ تو نصوص سے بے نیاز ہوتا ہے اور نہ ہی محض مصلحت پر مبنی؛ بلکہ یہ ایک اصولی توازن کا نام ہے جس کی بنیاد قرآن، سنت، مقاصدِ شریعت اور فقہی قواعد پر قائم ہوتی ہے۔
عصری سطح پر اس موضوع کی اہمیت اس لیے بھی دوچند ہو جاتی ہے کہ جدید ریاستی نظام، عالمی معاشی ڈھانچے، حیاتیاتی تحقیق، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل معیشت جیسے مسائل نے فقہی فکر کے سامنے ایسے سوالات رکھ دیے ہیں جن کی نوعیت ماضی سے مختلف ہے۔ ان مسائل کے حل کے لیے صرف جزوی فتاویٰ کافی نہیں بلکہ ایک واضح منہجِ استنباط درکار ہے۔ لہٰذا یہ تحقیق اس امر کی نشان دہی کرتی ہے کہ آیا کلاسیکی اصول معاصر مسائل کے لیے کافی ہیں یا ان کی تطبیق میں کسی نئے زاویۂ نظر کی ضرورت ہے۔
تحقیقی سطح پر یہ موضوع اصولِ فقہ، مقاصدِ شریعت اور فقہی قواعد کے باہمی ربط کو منظم انداز میں سامنے لاتا ہے۔ اس کے ذریعے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ علماء نے مختلف ادوار میں کس اصول کو ترجیح دی، کس دلیل کو راجح قرار دیا، اور کن حالات میں عرف، مصلحت یا سدّ الذرائع کو اختیار کیا۔ یوں یہ مطالعہ نہ صرف فقہی تاریخ کا تجزیہ ہے بلکہ اجتہادی فکر کی ساخت کو سمجھنے کا ذریعہ بھی ہے۔
اس لیے فقہ النوازل میں علماء کے منہج کا تحقیقی جائزہ اسلامی قانونی فکر کی معاصر تشکیل، تنقیدی تفہیم اور مستقبل کی سمت کے تعین کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
سابقہ تحقیقی کام کا جائزہ
فقہ النوازل کے موضوع پر ہونے والے سابقہ تحقیقی کام کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ قدیم فقہاء نے اگرچہ اس فن کو مستقل عنوان نہیں دیا تھا، تاہم دورِ صحابہ سے ہی نئے پیش آنے والے مسائل کے حل کے لیے مشاورت اور اجتہاد کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا، جس کی مثالیں حضرت ابوبکر صدیقؓ کے دور میں جمعِ قرآن اور حضرت عمر فاروقؓ کے دور میں زمینوں کے خراج جیسے معاملات میں ملتی ہیں۔ بعد کے ادوار میں امام شاطبیؒ نے اپنی مایہ ناز تصنیف "الموافقات” میں مقاصدِ شریعہ کا جامع تصور پیش کر کے نوازل کو حل کرنے کے لیے ایک مضبوط اصولی بنیاد فراہم کی، جبکہ اندلس اور مراکش کے فقہاء نے اس میدان میں عملی و گراں قدر کام کیا، جس میں امام ونشریسی کی "المعیار المعرب” ایک کلیدی حوالہ ہے۔ معاصر دور میں فقہ النوازل پر تحقیقی کام کی نوعیت مزید علمی اور منظم ہو گئی ہے؛ ڈاکٹر وہبہ الزحیلی نے اپنی مختلف تصانیف اور بالخصوص "الفقه الإسلامي وأدلته” میں معاصر طبی و معاشی مسائل کو قدیم فقہی اصولوں کے ساتھ منطبق کرنے کا اسلوب اختیار کیا، ڈاکٹر محمد عثمان شبیر نے جدید وقائع کی شرعی نوعیت کے تعین کے اصول اور مقومات پر بحث کی ہے، جبکہ ڈاکٹر امجد سعود القرالہ نے پی ایچ ڈی کی سطح پر اس فن کو ایک آزاد نظریے کے طور پر مرتب کرتے ہوئے عقودِ عینیہ پر اس کے اطلاق کی وضاحت کی ہے۔ اسی طرح ڈاکٹر ضیاء حسین عبید نے اس موضوع کے اصولی ضوابط اور قانونی موازنے پر کام کیا ہے، اور حالیہ برسوں میں نداء عزیز سالم الدویک نے اپنے تحقیقی مقالے (2023ء) میں جدید معاشی، طبی اور سماجی مسائل جیسے بٹ کوائن اور جینیاتی نوازل کے حل کے لیے ایک جامع عملی فریم ورک پیش کیا ہے۔
سوالات تحقیق
فقہ النوازل کا اصطلاحی مفہوم کیا ہے اور کسی نئے واقعے کے "نازلہ” بننے کی بنیادی خصوصیات کیا ہیں؟
عہدِ نبوی ﷺ اور دورِ صحابہؓ کے اجتہادی فیصلوں نے معاصر فقہِ نوازل کے لیے کیا بنیادیں فراہم کیں؟
فقہِ نوازل کے تین بنیادی مراحل کا علمی طریقۂ کار کیا ہے؟
جدید مسائل کے حل میں "نظر إلی المآل” (نتائج پر نظر) اور "مقاصدِ شریعت” کا اصول کیا کردار ادا کرتا ہے؟
جدید مسائل میں "یُسر و رفعِ حرج” اور "سدِّ ذرائع” کے بظاہر تعارض کو کس طرح حل کیا جاتا ہے؟
نوازل کے باب میں پیدا ہونے والی لغزشوں کے اسباب کیا ہیں اور ان کے تدارک میں اجتماعی اجتہاد کی کیا اہمیت ہے؟
مقاصد تحقیق
فقہ النوازل کے اصطلاحی مفہوم کو واضح کرنا اور کسی نئے واقعے کے "نازلہ” بننے کی بنیادی خصوصیات کا تعین کرنا۔
عہدِ نبوی ﷺ اور دورِ صحابہؓ کے اجتہادی فیصلوں سے معاصر فقہِ نوازل کے لیے فراہم کردہ اصولی بنیادوں کی نشان دہی کرنا۔
فقہِ نوازل کے تین بنیادی مراحل (فہمِ واقع، تکییفِ فقہی، اور تنزیلِ احکام) کے علمی طریقۂ کار کی وضاحت کرنا۔
جدید مسائل کے حل میں "نظر إلی المآل” (نتائج پر نظر) اور "مقاصدِ شریعت” کے اثرات و کردار کا تجزياتی جائزہ لینا ۔
جدید مسائل میں "یُسر و رفعِ حرج” اور "سدِّ ذرائع” کے بظاہر تعارض کو حل کرنے میں فقہاء کے منہج کو واضح کرنا ۔
نوازل کے باب میں پیدا ہونے والی لغزشوں کے اسباب کا سدِ باب کرنا اور ان کے تدارک میں اجتماعی اجتہاد کی اہمیت واضح کرنا۔
منہج تحقیق
اس مقالہ میں بنیادی طور پر تحلیلی (Analytical) منہج اختیار کیا جائے گا۔
فقہ النوازل کی لغوی تعریف
لفظ فقہ کی لغوی تعریفات
1۔ لسان العرب میں ابن منظور لکھتے ہیں:
الفِقْهُ: الفَهْمُ، وفَقِهَ الشيءَ يَفْقَهُه فِقْهاً: عَلِمَه وفَهِمَه.[1]
ترجمہ: فقہ کے معنی فہم کے ہیں، اور "فَقِهَ” کا مطلب ہے کسی چیز کو جاننا اور سمجھنا۔
لفظ نوازل کی لغوی تعریفات
1۔ لسان العرب میں ابن منظور لکھتے ہیں:
النَّازِلَةُ: الشِّدَّةُ من شدائد الدهر تنزل بالناس.[2]
ترجمہ: نازلہ زمانے کی سختیوں میں سے ایسی سختی ہے جو لوگوں پر نازل ہو۔
2۔ القاموس المحيط میں فیروزآبادی لکھتے ہیں:
النَّازِلَةُ: المُصِيبَةُ والحادِثَةُ تَنْزِلُ بالقوم.[3]
ترجمہ: نازلہ وہ مصیبت یا حادثہ ہے جو کسی قوم پر نازل ہو۔
3۔ تاج العروس امام زبیدی فرماتے ہیں:
النَّازِلَةُ: الدَّاهِيَةُ والشِّدَّةُ، وجمعها نَوَازِل.[4]
نازلہ بڑی آفت اور سختی کو کہتے ہیں، اور اس کی جمع نوازل ہے۔
فقہ النوازل کا لغوی و اصطلاحی مفہوم
لغت میں لفظ ‘فقہ’ کا معنی کسی شے کا ادراک کرنا اور اس کا فہم حاصل کرنا ہے، جیسا کہ امام خطیب بغدادیؒ نے ذکر کیا ہے۔[5]
دوسری جانب ‘نوازل’ نازلہ کی جمع ہے جس کا لغوی معنی کسی مصیبت یا شدائدِ زمانہ کا اترنا یا واقع ہونا ہے۔[6]
اس کے علاوہ اہل لغت اسے مصیبت اور پریشانی کے معنوں میں بھی لیتے ہیں جن سے لوگ دوچار ہوتے ہیں ۔[7]
اصطلاحِ شرع میں، نوازل سے مراد وہ جدید واقعات اور حادثات ہیں جن کے بارے میں شریعت میں پہلے سے کوئی صریح نص موجود نہ ہو۔[8]
فقہ النوازل کی اصطلاحی تعریف
دکتور حسن الفیلالی نوازل کی اصطلاحی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں :
ایسا واقعہ اور حادثہ جو کسی شخص کو درپیش ہو خواہ عبادات کے سلسلے میں یا معاملات، سلوکیات اور اخلاقیات کے سلسلے میں ہو تو یہ شخص اس انسان کی طرف رجوع کرتا ہے جو اس نازلہ کے سلسلے میں اسے شرعی حکم سے آگاہ کرے۔ [9]
بکر بن عبد اللہ ابو زیدؒ اس کی تعریف یوں کرتے ہیں :
فِقْهُ النَّوَازِلِ هُوَ مَعْرِفَةُ الأَحْكَامِ الشَّرْعِيَّةِ لِلْوَقَائِعِ المُسْتَجِدَّةِ الَّتِي لَمْ يَرِدْ فِيهَا نَصٌّ خَاصٌّ، عَنْ طَرِيقِ الاِجْتِهَادِ وَتَطْبِيقِ القَوَاعِدِ الشَّرْعِيَّةِ.[10]
فقہ النوازل وہ علم ہے جس کے ذریعے نئے پیش آنے والے ایسے واقعات کے شرعی احکام معلوم کیے جائیں جن کے بارے میں کوئی خاص نص وارد نہ ہو، اور یہ اجتہاد اور قواعدِ شرعیہ کے اطلاق سے حاصل ہوتا ہے۔
مجمع الفقہ الاسلامی میں فقہ النوازل کی تعریف اس طرح بیان کی گئی ہے:
النَّوَازِلُ هِيَ القَضَايَا المُسْتَجِدَّةُ الَّتِي تَحْتَاجُ إِلَى بَيَانِ حُكْمِهَا الشَّرْعِيِّ فِي ضَوْءِ أُصُولِ الشَّرِيعَةِ وَمَقَاصِدِهَا.[11]
نوازل وہ جدید مسائل ہیں جن کے شرعی حکم کو اصولِ شریعت اور مقاصدِ شریعت کی روشنی میں واضح کرنا ضروری ہو۔
مندرجہ بالا تعریفات کی روشنی میں:
فقہُ النَّوازِل سے مراد وہ اجتہادی علم ہے جس کے ذریعےنئے اور غیر منصوص مسائل، معاصر انفرادی و اجتماعی قضایا،
بدلتے عرف اور حالات کے شرعی احکام قرآن، سنت، اجماع، قیاس، قواعد فقہیہ اور مقاصدِ شریعت کی روشنی میں متعین کیے جائیں۔
فقہُ النَّوازِل کا تاریخی ارتقاء
فقہُ النَّوازِل (جدید و پیش آمدہ مسائل کی فقہی تحقیق) دراصل اسلامی فقہ کے اجتہادی مزاج کا عملی اظہار ہے۔ اس کا ارتقاء مختلف ادوار میں مختلف صورتوں میں ہوا، جسے درج ذیل مرحلوں میں سمجھا جا سکتا ہے:
عہدِ نبوی ﷺ: اصولی بنیاد
قرآن کریم اور سنتِ نبوی ﷺ نے اجتہاد، قیاس اور مقاصدِ شریعت کی بنیاد فراہم کی۔
- نئے سوالات کے جوابات وحی یا نبی ﷺ کے فرامین سے دیے گئے۔
- سیدنا معاذؓ کے واقعہ (یمن بھیجے جانے پر) میں قرآن، سنت اور رائے/اجتہاد کی ترتیب نے بعد کے فقہِ نوازل کے منہج کی اساس رکھی۔
عَنْ أُنَاسٍ مِنْ أَهْلِ حِمْصَ، مِنْ أَصْحَابِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَبْعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ، قَالَ:” كَيْفَ تَقْضِي إِذَا عَرَضَ لَكَ قَضَاءٌ؟، قَالَ: أَقْضِي بِكِتَابِ اللَّهِ، قَالَ: فَإِنْ لَمْ تَجِدْ فِي كِتَابِ اللَّهِ؟، قَالَ: فَبِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَإِنْ لَمْ تَجِدْ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا فِي كِتَابِ اللَّهِ؟، قَالَ: أَجْتَهِدُ رَأْيِي وَلَا آلُو، فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدْرَهُ، وَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَفَّقَ رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ لِمَا يُرْضِي رَسُولَ اللَّهِ”.[12]
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے اصحاب میں سے حمص کے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو جب یمن (کا گورنر) بنا کرب بھیجنے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”جب تمہارے پاس کوئی مقدمہ آئے گا تو تم کیسے فیصلہ کرو گے؟“ معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کی کتاب کے موافق فیصلہ کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اللہ کی کتاب میں تم نہ پا سکو؟“ تو معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے موافق، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر سنت رسول اور کتاب اللہ دونوں میں نہ پاس کو تو کیا کرو گے؟“ انہوں نے عرض کیا: پھر میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا، اور اس میں کوئی کوتاہی نہ کروں گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کا سینہ تھپتھپایا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد کو اس چیز کی توفیق دی جو اللہ کے رسول کو راضی اور خوش کرتی ہے“۔
عہدِ صحابہؓ: عملی اجتہاد کا آغاز - حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا مانعین زکوۃ کے خلاف قتال کا فیصلہ
فتوحات اور تمدنی پھیلاؤ کے ساتھ نئے سماجی و معاشی مسائل سامنے آئے۔ - سیدنا عمرؓ کے اجتہادات (مثلاً: اراضیِ مفتوحہ کی تقسیم کا مسئلہ)۔
استَعملَ ابنُ الزبير أَنَسَ بنَ مالكٍ على البصرة قال: فأرسَلَ إلى مولاه أنسِ بن سِيرين فاستعمله على الأُبُلَّة. فقال أنس بن سِيرِين: أتريد أن تجعلني عاشرًا!؟ أتريد أن تجعلني عاشرًا!؟ فقال له: أَفَتَرْضَى بكتاب عُمَرَ بنِ الخطاب؟ فأخرَجَهُ فإذا فيه: أن يأخُذَ من تجار المسلمين من كل أربعين درهمًا درهمًا. ومن تجارِ أهل الذِّمَّةِ من كل عشرين درهمًا درهمًا، ومن تجار أهل الحرب من كل عشرة دراهم درهمًا.[13]
حضرت عبداللہ ابن زبیر ؓ نے حضرت انس بن مالک ؓ کو بصرہ کا گورنر مقرر کیا۔ انس ؓ نے اپنے آزاد کردہ غلام انس بن سیرین کو پیغام بھیجا اور انہیں ‘ابلہ’ (ایک تجارتی مقام) کا عامل (ٹیکس وصول کنندہ) مقرر کرنا چاہا۔ انس بن سیرین نے (حیرت یا ہچکچاہٹ سے) کہا: ‘کیا آپ مجھے ٹیکس وصول کرنے والا (عاشر) بنانا چاہتے ہیں؟ کیا آپ مجھے ٹیکس وصول کرنے والا بنانا چاہتے ہیں؟’ انس ؓ نے ان سے کہا: ‘کیا تم حضرت عمر بن خطاب ؓ کی لکھی ہوئی تحریر پر راضی ہو؟’ پھر انہوں نے وہ دستاویز نکالی تو اس میں درج تھا کہ: ‘مسلمان تاجروں سے ہر چالیس درہم پر ایک درہم (زکوٰۃ/ٹیکس) لیا جائے، اور اہل ذمہ کے تاجروں سے ہر بیس درہم پر ایک درہم، اور حربی (غیر ملکی) تاجروں سے ہر دس درہم پر ایک درہم وصول کیا جائے۔ - نئے مالی و انتظامی ڈھانچوں پر اجتہادی فیصلے۔
خلاصہ یہ کہ فقہِ نوازل کا عہدِ نبوی ﷺ اور دورِ صحابہؓ میں یہ ابتدائی ارتقاء اس امر کی واضح دلیل ہے کہ نو پیدا مسائل کا شرعی حل کبھی بھی جامد سوچ کا مرہونِ منت نہیں رہا۔ دورِ صحابہؓ میں فتوحات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے غیر معمولی تمدنی، سیاسی اور مالیاتی تغیرات کو شریعت کے وسیع تر مقاصد اور مصلحتِ عامہ کے تحت حل کیا گیا۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور سیدنا عمر فاروقؓ کے یہ فیصلے محض جزوی فتاویٰ نہیں تھے، بلکہ انہوں نے آنے والے ادوار کے ائمہ مجتہدین اور فقہاء کے لیے ایک ایسا متحرک اور منضبط منہجِ استنباط فراہم کیا جس پر آگے چل کر فقہِ نوازل کی پوری علمی و اصولی عمارت قائم ہوئی۔
نوازل کی خصوصیات
فقہاء نے کسی بھی مسئلے کے ‘نازلہ’ ہونے کے لیے چند بنیادی خصوصیات بیان کی ہیں، جن میں
جدت (وہ واقعہ نیا ہو)،
وقوع (عملی طور پر پیش آ چکا ہو)،
شدت (مسئلہ انتہائی اہمیت اختیار کر چکا ہو)
عدمِ نص (صریح نص کی عدم موجودگی)
شامل ہیں [14]۔
ان خصوصیات کے پائے جانے کے بعد ہی مجتہدین پر لازم ہوتا ہے کہ وہ اجتہاد کے ذریعے شرعی حکم استنباط کریں، جیسا کہ امام ابن عبد البرؒ نے اس حوالے سے باقاعدہ باب باندھا ہے کہ نازلہ کے نزول کے وقت اصولوں پر اجتہادِ رائے کیا جائے ۔[15]
فقہاء کا منہجِ اجتہاد
جدید مسائل پر حکم لگانے کے لیے علمائے اصول اور فقہاء نے ایک نہایت منضبط، منطقی اور سائنسی منہج مرتب کیا ہے جو درج ذیل تین بنیادی مراحل (مراحل النظر في النازلة) پر مشتمل ہے:
- فہمِ واقع اور تصورِ مسئلہ
کسی بھی نازلہ پر شرعی حکم لگانے سے قبل اس کی حقیقت اور ماہیت کا عمیق ادراک ضروری ہے، کیونکہ صحیح تصور کے بغیر فتویٰ دینا درست نہیں ۔[16]
امام ابن القیمؒ نے واضح کیا ہے کہ مفتی کے لیے حق پر مبنی فتویٰ دینے کے لیے دو طرح کا فہم یعنی ‘فہمِ واقع’ اور ‘فہمِ شرع’ دونوں یکساں ضروری ہیں [17]۔ چونکہ جدید مسائل انتہائی پیچیدہ ہوتے ہیں اس لیے ماہرینِ فن (اہلِ خبرہ) کی طرف رجوع کرنا اس مرحلے کا اہم ترین جزو ہے، جسے امام غزالیؒ نے بھی معتبر قرار دیا ہے ۔[18] - تکییفِ فقہی
تصور کے بعد دوسرا مرحلہ تکییف کا آتا ہے۔ اس سے مراد کسی نئے اور پیچیدہ واقعے کو اسلامی فقہ کے معلوم اور مستند ابواب یا اصولوں کے ساتھ جوڑنا ہے [19]۔
یہ مرحلہ تخریج اور تنقیح المناط کے ذریعے انجام پاتا ہے، جس میں ظاہری الفاظ کے بجائے مقاصد اور معانی کو بنیاد بنایا جاتا ہے ۔
3.تنزیلِ احکام
یہ مرحلہ حاصل شدہ حکم کو مخصوص حالات اور وقوعے پر منطبق کرنے کا نام ہے، اور فقہاء کے نزدیک یہ سب سے مشکل مرحلہ ہوتا ہے کیونکہ بسا اوقات ایک شخص فقہی متون کا عالم ہوتا ہے مگر جزئیات پر انہیں منطبق کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ۔ [20]
فقہ النوازل کے اہم اصولی ضوابط جب فقہاء ان مراحل کو طے کر کے جدید مسائل حل کرتے ہیں، تو ان کا منہج چند بنیادی ستونوں پر کھڑا ہوتا ہے:
فقہُ النوازل میں نظر إلی المآل (نتائج پر نظر) کی اہمیت
نظر إلی المآل سے مراد یہ ہے کہ مجتہد یا مفتی کسی نئے پیش آمدہ مسئلے (نازلہ) کا حکم دیتے وقت صرف اس کی ظاہری صورت یا فوری دلیل پر اکتفا نہ کرے، بلکہ اس کے ممکنہ نتائج، اثرات اور انجام کو بھی مدِّ نظر رکھے—خواہ وہ دینی، معاشرتی، معاشی یا سیاسی ہوں۔ یہی وہ زاویۂ نگاہ ہے جو فقہُ النوازل کو محض نصّی تطبیق سے اٹھا کر مقاصدی و مصلحتی فقہ میں بدل دیتا ہے۔
قرآنی و نبوی اساس
قرآن مجید میں اللہ رب العزت فرماتے ہیں :
وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوا اللّٰہَ عَدۡوًۢا بِغَیۡرِ عِلۡمٍ ؕ [21]
اور انھیں گالی نہ دو جنھیں یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، پس وہ زیادتی کرتے ہوئے کچھ جانے بغیر اللہ کو گالی دیں گے۔
اس آیت میں میں غیر مسلم معبودوں کو گالی دینے سے روکا گیا، اس اندیشے سے کہ وہ ردِّ عمل میں اللہ کو برا کہیں گے—یہ واضح طور پر مآلات کا اعتبار ہے۔
- سورۃ البقرہ میں بعض الفاظ کے استعمال سے منع کیا گیا کیونکہ ان کے ممکنہ غلط مفہوم و نتائج تھے۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقُوۡلُوۡا رَاعِنَا وَ قُوۡلُوا انۡظُرۡنَا وَ اسۡمَعُوۡا ؕ [22]
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم ’’رَاعِنَا‘‘ (ہماری رعایت کر) مت کہو اور ’’اُنْظُرْنَا‘‘ (ہماری طرف دیکھ) کہو اور سنو۔
اس آیت میں بھی نظر الی المآل کی اہمیت واضح ہوتی ہے - نبی ﷺ کا کعبہ کو ابراہیمی بنیادوں پر از سرِ نو تعمیر نہ کرنا اس خوف سے کہ نئے مسلمان فتنے میں پڑ جائیں—یہ بھی مآلات کی رعایت ہے۔
عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:” سَأَلْتُ النَّبيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ” عَنِ الجَدْرِ، أَمِنَ الْبَيْتِ هُوَ؟، قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: فَمَا لَهُمْ لَمْ يَدْخِلُوهُ فِي الْبَيْتِ؟، قَالَ: إِنَّ قَوْمَكِ قَصَّرَتْ بِهِمُ النَّفَقَةُ، قُلْتُ: فَمَا شَأْنُ بَابِهِ مُرْتَفِعًا؟، قَالَ: فَعَلَ ذَاكِ قَوْمُكِ ليُدْخِلُوا مَنْ شَاءُوا وَيَمْنَعُوا مَنْ شَاءُوا، وَلَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثٌ عَهْدُهُم بِالْجَاهِلِيَّةِ، فَأَخَافُ أَنْ تُنْكِرَ قُلُوبُهُمْ أَنْ أُدْخُلَ الْجَدْرِ فِي الْبَيْتِ وَأَنْ أَلْصِقْ بَابَهُ فِي الْأَرْضِ”.[23]
عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (خانہ کعبہ کے) حطیم کے بارے میں پوچھا کہ کیا یہ بھی خانہ کعبہ کا حصہ ہے؟ فرمایا کہ ہاں۔ میں نے کہا: پھر کیوں ان لوگوں نے اسے بیت اللہ میں داخل نہیں کیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہاری قوم کے پاس خرچ کی کمی ہو گئی تھی، میں نے کہا کہ یہ خانہ کعبہ کا دروازہ اونچائی پر کیوں ہے؟ فرمایا کہ یہ اس لیے انہوں نے کیا ہے تاکہ جسے چاہیں اندر داخل کریں اور جسے چاہیں روک دیں۔ اگر تمہاری قوم (قریش) کا زمانہ جاہلیت سے قریب نہ ہوتا اور مجھے خوف نہ ہوتا کہ ان کے دلوں میں اس سے انکار پیدا ہو گا تو میں حطیم کو بھی خانہ کعبہ میں شامل کر دیتا اور اس کے دروازے کو زمین کے برابر کر دیتا۔
ان نصوص سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت نتیجہ و اثر کو حکم کی تشکیل میں معتبر قرار دیتی ہے۔
فقہی قواعد جو مآلات کی بنیاد بنتے ہیں - الضرر يزال (ضرر کو دور کیا جائے)
- درء المفاسد مقدم على جلب المصالح (مفاسد کا دفع کرنا مصالح کے حصول پر مقدم ہے)
- الأمور بمقاصدها (اعمال اپنے مقاصد کے تابع ہیں)
یہ قواعد دراصل نوازل میں نتیجہ کو منہجی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
مذکورہ بالا ابحاث سے یہ منہجی حقیقت نکھر کر سامنے آتی ہے کہ فقہ النوازل میں "نظر إلی المآل” کا اصول محض ایک ثانوی یا اختیاری زاویہ نہیں، بلکہ استنباطِ احکام کا ایک لازمی اور محکم ستون ہے۔ شریعت کی ابدیت کا راز ہی یہ ہے کہ وہ متن کے ظاہری الفاظ کو مستقبل کے نتائج اور انسانی مصالح سے کاٹ کر نہیں دیکھتی۔ معاصر پیچیدہ دنیا میں، جہاں مالیاتی، طبی اور سماجی مسائل کے اثرات دور رس اور بین الاقوامی ہوتے ہیں، کسی مفتی یا مجتہد کے لیے یہ ممکن ہی نہیں رہا کہ وہ مآلاتِ افعال (احمال و نتائج) سے نظریں چرا کر فتویٰ صادر کرے۔ لہٰذا، قواعدِ فقہیہ اور نصوصِ قطعیہ کی روشنی میں انجامِ کار پر گہری نظر رکھنا ہی وہ اعتدال پسند اسلوب ہے جو شریعتِ اسلامیہ کو ہر دور میں متحرک، قابلِ عمل اور حرج و مفسدہ سے پاک نظامِ حیات کے طور پر برقرار رکھتا ہے۔
اصولی تعبیرات
مقاصدِ شریعت اور سدّ ذرائع - مقاصدِ شریعت کی رعایت
امام شاطبیؒ فرماتے ہیں کہ شریعت کی تمام تکالیف بندوں کے مفادات (ضروریات، حاجیات، اور تحسینیات) کی حفاظت کے لیے وضع کی گئی ہیں[24]۔
لہٰذا فقہاء ہمیشہ مقاصد کو مدنظر رکھتے ہیں ۔امام شاطبی نے واضح کیا کہ افعال کے احکام ان کے مآلات سے مربوط ہیں؛ اگر کوئی مباح عمل غالباً مفسدہ تک لے جائے تو اس پر قدغن لگائی جا سکتی ہے (سدّ ذرائع)، اور اگر کسی سختی سے بڑا ضرر پیدا ہو تو تخفیف کی گنجائش نکلتی ہے (جلبِ مصالح و درءِ مفاسد)۔اسی فکری دھارے میں مقاصدِ خمسہ (دین، جان، عقل، نسل، مال کی حفاظت) کو معیار بنایا جاتا ہے۔
نوازل میں عملی تطبیق
(الف) مالیاتی و معاشی نوازل - نئی مالی مصنوعات (ڈیجیٹل ادائیگیاں، کارپوریٹ معاہدات) کی حِلّت یا حرمت کا فیصلہ کرتے وقت دیکھا جاتا ہے کہ کیا اس سے غرر، ظلم یا نظامی استحصال پیدا ہوگا؟
- اگر کسی مباح صورت سے معاشی بحران یا وسیع ضرر متوقع ہو تو مآلات کی بنیاد پر پابندی یا سخت شرائط عائد کی جا سکتی ہیں۔
(ب) طبی و حیاتیاتی مسائل - اعضاء کی پیوندکاری، مصنوعی بارآوری یا جینیاتی طریقۂ علاج میں جان کی حفاظت (حفظ النفس) اور ممکنہ سماجی و اخلاقی نتائج دونوں کا وزن کیا جاتا ہے۔
- کسی تکنیک کی وقتی مصلحت اگر طویل المدت مفاسد کو جنم دے تو حکم میں احتیاط برتی جاتی ہے۔
(ج) سماجی و ابلاغی مسائل - اظہارِ رائے، میڈیا یا سوشل پلیٹ فارم سے متعلق احکام میں دیکھا جاتا ہے کہ آزادیٔ اظہار کے ساتھ فتنہ، تشدد یا نفرت کے پھیلاؤ کا خطرہ تو نہیں۔
- بعض اوقات اصلًا مباح امر کو تنظیمی حدود میں رکھا جاتا ہے تاکہ مآلات منفی نہ ہوں۔
یُسر (تخفیف) اور سدِّ ذرائع میں باہمی تعارض اور اس کا حل
یُسر: شریعت کا وہ پہلو جو مکلفین پر آسانی، رفعِ حرج اور تخفیف کو ملحوظ رکھتا ہے۔ - سدّ الذرائع: وہ اصول جس کے تحت کسی بظاہر مباح امر کو اس اندیشے سے روکا جاتا ہے کہ وہ غالباً مفسدہ تک لے جائے گا۔
بسا اوقات نوازل میں یہ دونوں اصول بظاہر متعارض نظر آتے ہیں:
ایک طرف آسانی کی ضرورت (یُسر)، دوسری طرف مفسدے کے دروازے بند کرنے کی مصلحت (سدّ الذرائع)۔
الموافقات میں امام شاطبی نے واضح کیا کہ شریعت کے احکام مقاصد کے تابع ہیں۔ اگر کسی تخفیف سے بڑا مفسدہ پیدا ہو تو اسے محدود کیا جا سکتا ہے، اور اگر سدّ الذرائع سے غیر معمولی حرج پیدا ہو تو تخفیف کی راہ نکالی جا سکتی ہے۔یعنی مقاصد اور مآلات فیصلہ کن معیار ہیں۔
تعارض کی نوعیت
صورتِ اول: یُسر غالب ہو
مثلاً شدید ضرورت یا عمومی ابتلاء (عمومِ بلویٰ) کی صورت میں سخت پابندی معاشرے کو ناقابلِ برداشت تنگی میں ڈال دے۔ یہاں تخفیف دی جاتی ہے۔
صورتِ دوم: سدّ الذرائع غالب ہو
اگر کوئی سہولت غالب گمان کے مطابق بڑے فساد تک لے جائے (مالیاتی دھوکہ، اخلاقی بگاڑ، نظامی نقصان)، تو سہولت کو محدود یا مشروط کیا جاتا ہے۔
عملی مثال
مثال: آن لائن مالی لین دین - یُسر کا تقاضا: جدید کاروبار میں سہولت، تیز رفتار ادائیگیاں، معاشی آسانی۔
- سدّ الذرائع کا تقاضا: فراڈ، منی لانڈرنگ، سودی تعامل یا عوامی نقصان کے دروازے بند کرنا۔
حل یہ نہیں کہ یا تو مکمل جواز دے دیا جائے یا مکمل ممانعت۔بلکہ: - ضوابط، نگرانی، شفافیت کی شرائط،
- قانونی و اخلاقی کنٹرول،
- اور خطرے کی شرح کے مطابق پابندیاں۔
تعارض کے حل کا منہج
(1) مصلحت و مفسدہ کا تقابلی وزن
اگر مفسدہ قطعی اور غالب ہو تو سدّ الذرائع مقدم۔
اگر حرج شدید اور مفسدہ موہوم ہو تو یُسر مقدم۔
(2) درجۂ احتمال کا اعتبار
سدّ الذرائع کا اطلاق وہاں ہوگا جہاں فساد کا امکان قوی ہو، محض وہم پر نہیں۔
(3) تخصیص و تقیید کا اصول - جواز مع الشرط
- اجازت بقدرِ ضرورت
- یا وقتی و محدود رخصت
- تیسیر اور رفعِ حرج: شریعت کا مزاج تنگی پیدا کرنا نہیں بلکہ آسانی پیدا کرنا ہے، اور جب کوئی مصیبت عام ہو جائے تو اس میں تخفیف کی جاتی ہے ۔[25]
- عرف و عادت کا اعتبار: احکام زمانہ، مکان اور عرف کے بدلنے سے بدل جاتے ہیں، اور جو شخص محض پرانی منقولات پر جمود اختیار کرتا ہے اور جدید عرف کو نظر انداز کرتا ہے، وہ دین کے مقاصد سے جاہل ہے ۔[26]
- اجتماعی اجتہاد: عصرِ حاضر کے مسائل چونکہ کثیر الجہتی (Multidisciplinary) ہیں، اس لیے انفرادی فتوے کے بجائے شورائی اور ادارہ جاتی اجتہاد (جیسے مجمع الفقہ الاسلامی) فقہاء کا نمایاں منہج بن چکا ہے تاکہ غلطیوں کا امکان کم ہو ۔[27]
نوازل کے باب میں لغزشیں
منہج کی درستی کے ساتھ ساتھ فقہاء نے ان غلطیوں کی بھی نشاندہی کی ہے (مثارات الغلط) جن سے بچنا ناگزیر ہے: - نام پر دھوکہ کھانا (الاكتفاء بالاسم دون النظر إلى الحقيقة): کسی بھی جدید مسئلے کے صرف نام کو دیکھ کر اسے ماضی کی کسی حرام چیز پر قیاس کر لینا سنگین غلطی ہے، کیونکہ اعتبار معانی و حقائق کا ہے ۔[28]
- تتبعِ رخص: محض ہوائے نفس کی پیروی میں رخصتوں کی تلاش کرنا، بغیر شریعت کے اصولوں کے، علماء کے نزدیک فسق اور مذموم ہے ۔[29]
خلاصہِ تحقیق
اسلامی شریعت ہر دور کے نئے پیدا ہونے والے مسائل کا حل پیش کرتی ہے۔ تحقیق سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ فقہ النوازل محض جزئی فتاویٰ کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک منظم اصولی منہج کا مظہر ہے جس کی جڑیں عہدِ نبوی ﷺ اور دورِ صحابہؓ کے اجتہادی فیصلوں میں پیوست ہیں۔ فقہاء نے کسی نئے معاملے کو "نازلہ” قرار دینے کے لیے جدت، وقوع، شدت اور عدمِ نص جیسی کڑی شرائط طے کی ہیں، اور ان کے حل کے لیے فہمِ واقع، تکییفِ فقہی اور تنزیلِ احکام جیسے تین منطقی اور سائنسی مراحل وضع کیے ہیں، جو کسی بھی مجتہد کو فکری لغزشوں سے محفوظ رکھتے ہیں۔
جدید معاشی، طبی اور سماجی چیلنجز کے حل میں "مقاصدِ شریعت” کی رعایت اور "نظر إلی المآل” (نتائج پر نظر) کا اصول کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ شریعت کا بنیادی مزاج مکلفین کے لیے "یُسر و رفعِ حرج” (آسانی پیدا کرنا) ہے، تاہم جہاں کوئی مباح امر مفسدے کی طرف لے جا رہا ہو، وہاں فقہاء "سدِّ ذرائع” کے اصول کے تحت مصلحت اور مفسدہ کا تقابلی وزن کر کے اعتدال کی راہ نکالتے ہیں۔
عصرِ حاضر کی پیچیدگیوں اور بدلتے حالات نے بے شمار نئے چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں۔ ان سے نبرد آزما ہونے کے لیے فقہاء کا منہج نہایت معتدل اور سائنسی ہے۔ وہ نصوصِ شریعہ کی بالادستی، مقاصدِ شریعہ کی حکمتوں اور ماہرینِ فن کی آراء کو جمع کر کے ایک ایسا ‘فہمِ واقع’ تشکیل دیتے ہیں جو اسلام کی ابدیت کی روشن دلیل ہے ۔[30]
چونکہ معاصر مسائل کثیر الجہتی ہو چکے ہیں، اس لیے امتِ مسلمہ کے لیے ضروری ہے کہ انفرادی فتووں کی حوصلہ شکنی کی جائے اور اجتماعی و ادارہ جاتی اجتہاد سے شرعی رہنمائی حاصل کی جائے تاکہ خطا کا امکان کم سے کم ہو اور عصری تشکیلات میں شریعت کی روح کو برقرار رکھا جا سکے۔
مصادر و مراجع (Bibliography)
القرآن الکریم منزل من اللہ
ابن القیم الجوزیہ، محمد بن ابی بکر۔ إعلام الموقعين عن رب العالمين۔ بیروت: دار الجيل۔
ابن عبد البر، یوسف بن عبد اللہ النمری۔ جامع بيان العلم وفضله۔ دمام: دار ابن الجوزي۔
ابن فارس، احمد بن فارس القزوینی۔ معجم مقاييس اللغة۔ بیروت: دار الفكر۔
ابن منظور، محمد بن مکرم الانصاری۔ لسان العرب۔ قاہرہ: دار المعارف۔
ابو داود، سلیمان بن اشعث السجستانی۔ السنن۔ صیدا: المکتبة العصریة۔
ابو زید۔ بکر بن عبد اللہ۔ فقہ النوازل۔ ریاض: مؤسسة الرسالة، 1996ء۔
البخاری، ابو عبداللہ محمد بن اسماعیل۔ الجامع المسند الصحيح المختصر (صحيح البخاري)۔ بیروت: دار طوق النجاة۔
الخطاب الرعینی (الحطاب المالکی)۔ مواہب الجليل في شرح مختصر خليل۔ بیروت: دار الفکر۔
الخطيب البغدادی، احمد بن علی۔ الفقیہ والمتفقة۔ سعودی عرب: دار ابن الجوزي۔
الزرکشی، بدر الدین محمد بن عبد اللہ۔ البحر المحيط في أصول الفقه۔ قاہرہ: دار الکتبی۔
الزہری، محمد بن سعد بن منيع (ابن سعد)۔ الطبقات الکبری۔ قاہرہ: مکتبہ الخانجی، 2001ء۔
زبیدی، مرتضیٰ بن محمد الحسینی۔ تاج العروس من جواهر القاموس۔ کویت: دار الہدایۃ۔
الشورجی، عبد المجيد السوسوہ۔ "ضوابط الفتوى في القضايا المعاصرة”۔ مجلہ کلیة الشريعة والقانون، کویت۔
الشاطبی، ابراہیم بن موسیٰ اللخمی۔ الموافقات في أصول الشريعة۔ بیروت: دار المعرفة۔
شعبان محمد إسماعيل۔ "الاجتهاد الجماعي وأهميته في مواجهة مشكلات العصر”۔ مجلہ مجمع الفقہ الإسلامي الدولي، جدہ۔
عبد الوحيد عبد القادر سلفی۔ "عصرِ حاضر میں مسلم معاشرے کے لئے فقہ النوازل کی ضرورت و اہمیت”۔ ویب سائٹ: دی فری لانسر، 2018ء۔
الغذالی، ابو حامد محمد بن محمد۔ المنخول من تعليقات الأصول۔ بیروت: دار الفکر۔
الفیلالی، حسن۔ فقہ النوازل وقیمتہ التشريعية والفكرية۔ قاہرہ: دار السلام، 2011ء۔
فیروز آبادی، مجد الدین محمد بن یعقوب۔ القاموس المحيط۔ بیروت: مؤسسة الرسالة، 2005ء۔
الفیومی، احمد بن محمد بن علی۔ المصباح المنير في غريب الشرح الكبير للرافعي۔ بیروت: المکتبة العلمیة۔
القحطانی، مسفر بن علی۔ منہج استنباط أحكام النوازل الفقهية المعاصرة۔ جدہ: دار الأندلس الخضراء۔
القرافی، شہاب الدین احمد بن ادریس۔ الفروق (أنوار البروق في أنواء الفروق)۔ بیروت: عالم الکتب۔
مجمع الفقہ الإسلامي الدولي۔ قرارات وتوصيات مجمع الفقہ الإسلامي الدولي۔ جدہ: منظمة التعاون الإسلامي۔
محمد بن حسین الجیزانی۔ منہج السلف في التعامل مع النوازل۔ سعودی عرب: دار ابن الجوزي۔
وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية الكويتية (إدارة البحوث)۔ المدخل لفقه النوازل: تعريف وتأصيل۔ کویت، 2022ء۔
[1] ابن منظور، محمد بن مکرم۔ لسان العرب۔ قاہرہ: دار المعارف، [تاریخِ اشاعت دستیاب نہیں]۔ مادہ: "ن ز ل”۔
[2] ابن منظور، محمد بن مکرم۔ لسان العرب۔ قاہرہ: دار المعارف، ۔ مادہ: "ف ق ہ” ۔
[3] فیروز آبادی، مجد الدین محمد بن یعقوب۔ القاموس المحيط۔ بیروت: مؤسسة الرسالة، 2005۔ مادہ: "ن ز ل”۔
[4] زبیدی، مرتضیٰ۔ تاج العروس من جواہر القاموس۔ کویت: دار الہدایۃ، [سالِ طباعت دستیاب نہیں]۔ مادہ: "ن ز ل”۔
[5] الخطيب البغدادي، أبو بكر أحمد بن علي، الفقيه والمتفقه، مطبعة دار ابن الجوزي، 1/189
[6] ابن فارس، أحمد، معجم مقاييس اللغة، دار الفكر، 5/417
[7] الفيومي، أحمد بن محمد، المصباح المنير، المكتبة العلمية، 2/601
[8] محمد بن حسين الجيزاني، منهج السلف في التعامل مع النوازل، ص 21
[9] الفیلالی، حسن۔ فقہ النوازل وقیمتہ التشریعۃ والفکریۃ۔ قاہرہ: دار السلام للطباعة والنشر والتوزيع والترجمة، 2011ء ۔ ص230
[10] ابو زید، بکر بن عبد اللہ ، فقه النوازل (ریاض: مؤسسة الرسالة، 1996)، 1: 20۔
[11] مجمع الفقه الإسلامي الدولي۔ قرارات وتوصيات مجمع الفقه الإسلامي۔ جدہ: منظمة التعاون الإسلامي، مختلف ادوار۔
[12] ابو داود، سلیمانؑ بن اشعث، السنن، كتاب الأقضية، باب اجتهاد الرأى في القضاء، 3592
[13] الزھری، محمد بن سعد، الطبقات الکبری، مکتبہ الخانجی، القاھرہ،2001ء، ج5، ص334
[14] إدارة البحوث والموسوعات الإسلامية، المدخل لفقه النوازل: تعريف وتأصيل، ط1، الكويت، 2022م، ص 17-19
[15] ابن عبد البر، جامع بيان العلم وفضله، دار ابن الجوزي، 2/55
[16] د. عبد المجيد السوسوة، ضوابط الفتوى في القضايا المعاصرة، مجلة كلية الشريعة بالكويت، ص 255
[17] ابن القيم الجوزية، إعلام الموقعين عن رب العالمين، دار الجيل، 1/69
[18] الغزالي، أبو حامد محمد بن محمد، المنخول من تعليقات الأصول، دار الفكر، ص 437
[19] د. مسفر بن علي القحطاني، منهج استنباط أحكام النوازل الفقهية المعاصرة، دار الأندلس الخضراء، ص 90
[20] الخطاب الرعيني، مواهب الجليل في شرح مختصر خليل، دار الفكر، 1/90
[21] الانعام؛6:108
[22] البقرہ ؛2:104
[23] البخاری، ابو عبداللہ محمد بن اسماعیل ، الجامع، ح 7243
[24] الشاطبي، إبراهيم بن موسى، الموافقات في أصول الشريعة، دار المعرفة، 2/159
[25] الشاطبي، إبراهيم بن موسى، الموافقات في أصول الشريعة، دار المعرفة، 1/333
[26] القرافي، شهاب الدين، الفروق، عالم الكتب، 1/177
[27] د. شعبان محمد إسماعيل، الاجتهاد الجماعي وأهميته في مواجهة مشكلات العصر، مجلة مجمع الفقه، ص 20
[28] الحطاب المالكي، مواهب الجليل في شرح مختصر خليل، دار الفكر، 1/90
[29]الزركشي، بدر الدين، البحر المحيط في أصول الفقه، دار الكتبي، 8/382
[30] عبد الوحيد عبدالقادر سلفي، مقالہ: عصرِ حاضر میں مسلم معاشرے کے لئے فقہ النوازل کی ضرورت و اہمیت، ویب سائٹ دی فری لانسر، 2018م