موجودہ دور میں امامت کا بدلتا ہوا کردار

مسجد میں نماز کے لیے صفیں بنتی ہیں، امام آگے کھڑا ہوتا ہے، لوگ اس کے پیچھے نماز ادا کرتے ہیں اور چند منٹ بعد سب اپنے اپنے گھروں، دکانوں، دفاتر اور مصروفیات کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ لیکن ایک

مصنف:ابرار حسین
تاریخ: 16 ستمبر 2026

دیگر مضامین

تمام مضامین دیکھیں

گوشۂ سہولت سے ایک قدم باہر: رسول ﷺ کی سیرت سے مسلسل جدوجہد کا سبق

انسان کو آرام چاہیے، سکون چاہیے، اپنے لیے ایک ایسی جگہ چاہیے جہاں زندگی کی

تاریخ: 3 اکتوبر 2026
مصنف:ابرار حسین

فقہ النوازل میں فقہاء کا منہج

اسلامی شریعت اپنی ساخت اور مزاج کے اعتبار سے ایک جامع اور ہمہ گیر نظامِ

تاریخ: 1 اکتوبر 2026
مصنف:مولانا عزیر احمد

کتب حدیث میں ضعیف وموضوع روایات کے ذکر کےاسباب و مقاصد:اصولی و تحقیقی مطالعہ

تمہیدعلمِ حدیث اسلامی علوم کا وہ عظیم الشان شعبہ ہے جس کے ذریعے رسول اللہ

تاریخ: 1 اکتوبر 2026
مصنف:محمد ندیم محمد

مقدمہ صحیح مسلم اور علل الصغیر ترمذی کے مناہج جرح و تعدیل کا تقابلی مطالعہ

تمہیدتیسری صدی ہجری علمِ حدیث کی تاریخ کا ایک اہم اور فیصلہ کن دور ہے،

تاریخ: 1 اکتوبر 2026
مصنف:محمد ذیشان

دیگر موضوعات

ابرار حسین

چیف ایڈیٹر کاروانِ علم، ٹرینر و محقق دینی و عصری علوم کے امتزاج کے حامل ایک وژنری ٹرینر اور ریسرچر ہیں۔ آپ جامعۃ الرشید کراچی کے فارغ التحصیل ہیں اور اس وقت مدرسہ ڈاٹ پی کے میں شعبۂ تربیت و شخصیت سازی کی نگرانی کر رہے ہیں۔ آپ کا مقصد مدارس کے فضلائے کرام کو معیاری تدریسی، تکنیکی اور قائدانہ مہارتوں سے آراستہ کرتے ہوئے انہیں مؤثر سماجی و فکری رہنماؤں کے طور پر تیار کرنا ہے۔

مسجد میں نماز کے لیے صفیں بنتی ہیں، امام آگے کھڑا ہوتا ہے، لوگ اس کے پیچھے نماز ادا کرتے ہیں اور چند منٹ بعد سب اپنے اپنے گھروں، دکانوں، دفاتر اور مصروفیات کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ لیکن ایک سوال ہے جو شاید ہمیں اس معمول سے ذرا آگے لے جانے کی ضرورت ہے: کیا امام کا کردار صرف اتنا ہی ہے کہ وہ نماز پڑھائے، جمعہ کا خطبہ دے، نکاح پڑھائے اور کبھی کبھار کسی دینی مسئلے کا جواب دے؟ اگر ایسا ہے تو پھر ہمارے پاس ایک بہت بڑا دینی اور سماجی امکان موجود ہوتے ہوئے بھی ہم اسے محدود کر رہے ہیں۔ اس لیے کہ امام محض نماز کا پیش امام نہیں ہوتا، وہ ایک ایسی شخصیت ہوتا ہے جس کے ساتھ ایک پوری بستی، محلہ یا مسجد سے وابستہ خاندانوں کا اعتماد جڑا ہوتا ہے۔ اس کی آواز لوگ سنتے ہیں، اس کے کردار کو دیکھتے ہیں، اس کے مشورے کو اہمیت دیتے ہیں اور بہت سے معاملات میں اس سے رہنمائی کی توقع رکھتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ امام کو یہ کردار ادا کرنا چاہیے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ اکیسویں صدی میں جب معاشرے کے مسائل پیچیدہ تر ہو چکے ہیں، کیا امام اپنی اس سماجی ذمہ داری کے لیے تیار بھی ہے؟

یہاں ایک بنیادی بات سمجھنا ضروری ہے کہ امام کے کردار کو وسیع کرنے کا مطلب اس کے اصل دینی منصب کو کم کرنا نہیں، بلکہ اس منصب کی حقیقی روح کو دوبارہ دریافت کرنا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی مسجد کو اگر ہم سیرت کی روشنی میں دیکھیں تو وہ صرف نماز کی جگہ نہیں تھی۔ وہ عبادت گاہ بھی تھی، تعلیم گاہ بھی، تربیت گاہ بھی، مشاورت کا مرکز بھی، سماجی مسائل کے حل کا مقام بھی اور ایک ایسی جگہ بھی جہاں افراد تیار ہوتے اور معاشرہ تشکیل پاتا تھا۔ مسجد نبوی میں آنے والا شخص صرف نماز پڑھ کر واپس نہیں جاتا تھا؛ وہ علم حاصل کرتا، سوال کرتا، تربیت پاتا، اپنی مشکلات بیان کرتا، رہنمائی حاصل کرتا اور کبھی کسی اجتماعی ذمہ داری کے لیے تیار کیا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ نبوی معاشرے میں مسجد ایک زندہ ادارہ تھی اور رسول اللہ ﷺ محض نماز کے امام نہیں بلکہ مربی، معلم، قائد، مصلح اور معاشرے کے رہنما تھے۔ اس لیے آج جب ہم امام کے کردار پر گفتگو کرتے ہیں تو دراصل ہم کسی نئے تصور کی ایجاد نہیں کر رہے، بلکہ نبوی نمونے کی روشنی میں موجودہ زمانے کی ضرورت کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

رسول اللہ ﷺ کے اس طرزِ قیادت کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ آپ ﷺ اپنے سامنے موجود انسان کو صرف ایک فرد کی حیثیت سے نہیں دیکھتے تھے بلکہ اس کے حالات، صلاحیت، کمزوری، ضرورت اور معاشرتی پس منظر کو بھی سمجھتے تھے۔ ایک نوجوان آتا ہے اور ایک خاص نوعیت کا سوال کرتا ہے تو آپ ﷺ اس سے اسی کے ذہنی اور جذباتی مقام کے مطابق گفتگو فرماتے ہیں۔ کوئی دیہاتی آتا ہے تو اس کے ساتھ انداز مختلف ہوتا ہے، کوئی صاحبِ حیثیت آتا ہے تو اس کے لیے رہنمائی کی نوعیت مختلف ہوتی ہے، کوئی کمزور یا ضرورت مند ہوتا ہے تو اس کے ساتھ معاملہ الگ ہوتا ہے۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجتے وقت آپ ﷺ نے صرف یہ نہیں کہا کہ وہاں جا کر لوگوں کو مسائل بتانا، بلکہ وہاں کے حالات، لوگوں کے اعتقادات، ان کی نفسیات اور دعوت کے مراحل کو سامنے رکھتے ہوئے رہنمائی فرمائی۔ اس سے ایک بنیادی قائدانہ اصول سامنے آتا ہے کہ جو شخص لوگوں کی قیادت کرنا چاہتا ہے، اسے پہلے لوگوں کو سمجھنا سیکھنا ہوگا۔

آج ہمارے بہت سے ائمہ اس مقام پر ایک نئے چیلنج سے دوچار ہیں۔ ایک ہی مسجد میں ایک عمر رسیدہ شخص بھی نماز پڑھتا ہے، یونیورسٹی کا طالب علم بھی، کاروباری شخص بھی، مزدور بھی، سرکاری ملازم بھی، مدرسے کا طالب علم بھی اور ایسا نوجوان بھی جو مذہب کے بارے میں سوالات اور ذہنی کشمکش سے گزر رہا ہے۔ کسی گھر میں میاں بیوی کے تعلقات کا مسئلہ ہے، کسی خاندان میں نوجوانوں کی تربیت کا مسئلہ ہے، کہیں بچوں کی دینی تعلیم کمزور ہے، کہیں مالی مشکلات ہیں، کہیں نشے یا جرائم کا خطرہ ہے، کہیں نوجوان سوشل میڈیا کے اثرات سے پریشان ہیں اور کہیں تعلیم یافتہ طبقہ مسجد سے ذہنی طور پر دور ہوتا جا رہا ہے۔ اگر امام ان تمام لوگوں کے سامنے صرف ایک ہی انداز میں گفتگو کرے اور یہ سمجھے کہ ایک خطبہ ہی تمام مسائل کا جواب ہے تو وہ اپنے منصب کے ایک بڑے حصے کو استعمال نہیں کر رہا۔ آج کے امام کے لیے ضروری ہے کہ وہ صرف یہ نہ جانتا ہو کہ لوگوں کو کیا بتانا ہے، بلکہ یہ بھی جانتا ہو کہ لوگ کن حالات سے گزر رہے ہیں۔

یہی وہ مقام ہے جہاں امام اور سماجی  راہنما کے کردار میں ایک گہرا تعلق پیدا ہوتا ہے۔ کمیونٹی لیڈر وہ شخص نہیں جو صرف لوگوں کو تقریریں کرے، بلکہ وہ شخص ہے جو اپنی کمیونٹی کے مسائل کو دیکھتا، سمجھتا، ترجیح دیتا اور ان کے حل کے لیے لوگوں کو ساتھ لے کر چلتا ہے۔ اگر کسی محلے میں نوجوانوں کے لیے کوئی تعلیمی یا تربیتی سرگرمی نہیں تو امام اس ضرورت کو محسوس کرے۔ اگر غریب خاندان موجود ہیں تو صرف ان کے لیے کبھی کبھار چندہ جمع کرنے کے بجائے ایک منظم فلاحی نظام کی بنیاد رکھنے کی کوشش کرے۔ اگر بچوں میں مطالعے کی عادت کمزور ہے تو مسجد میں مطالعہ یا تربیتی حلقہ شروع کیا جا سکتا ہے۔ اگر نوجوان مسجد سے دور ہیں تو ان کے ساتھ صرف یہ شکوہ نہ کیا جائے کہ وہ مسجد کیوں نہیں آتے، بلکہ یہ سوال کیا جائے کہ ہم نے مسجد کو ان کی زندگی سے جوڑنے کے لیے کیا کیا ہے؟

رسول اللہ ﷺ کی قیادت کا حسن یہی تھا کہ آپ ﷺ مسائل کو محض بیان نہیں فرماتے تھے بلکہ انسانوں کو متحرک کرتے تھے۔ ایک موقع پر مدینہ میں مہاجرین اور انصار کے درمیان مواخات کا نظام قائم کیا گیا۔ یہ محض ایک جذباتی خطاب نہیں تھا بلکہ معاشرتی مسئلے کا عملی حل تھا۔ ایک طرف نئے آنے والے مہاجرین تھے جنہوں نے اپنے گھر اور مال چھوڑے تھے، دوسری طرف انصار تھے جن کے پاس وسائل اور معاشرتی جڑیں موجود تھیں۔ آپ ﷺ نے دونوں کو محض صبر کی تلقین نہیں کی بلکہ ایسا سماجی رشتہ قائم کیا جس نے معاشرے کی ایک بنیادی ضرورت پوری کر دی۔ اسی طرح مدینہ کے معاشرے میں مختلف طبقات اور قبائل کے درمیان تعلقات کو منظم کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے گئے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ دینی قیادت صرف وعظ و نصیحت کا نام نہیں؛ دینی قیادت کا ایک اہم حصہ معاشرتی مسائل کو سمجھ کر ان کے لیے قابلِ عمل راستے پیدا کرنا بھی ہے۔

اسی لیے آج کے امام کو اپنی مسجد کے لیے ایک چھوٹے سے سماجی نقشے کی ضرورت ہے۔ وہ یہ جاننے کی کوشش کرے کہ اس مسجد سے کتنے خاندان وابستہ ہیں، ان میں کتنے بزرگ ہیں، کتنے بچے ہیں، کتنے نوجوان ہیں، کتنے طلبہ ہیں، کن خاندانوں کو مالی مدد کی ضرورت ہے، کہاں تعلیمی کمزوری ہے، کہاں گھریلو مسائل زیادہ ہیں، کون سے نوجوان صلاحیت رکھتے ہیں مگر انہیں مواقع نہیں مل رہے اور کون سے ایسے افراد ہیں جو اپنی صلاحیت اور وسائل کے ذریعے دوسروں کی مدد کر سکتے ہیں۔ یہ کام کسی بڑے ادارے یا پیچیدہ نظام کا محتاج نہیں۔ چند سوالات، چند ملاقاتیں اور لوگوں کے ساتھ مسلسل رابطہ بھی اس کا آغاز بن سکتا ہے۔ اصل تبدیلی اس وقت آئے گی جب امام یہ سمجھنے لگے گا کہ اس کی مسجد میں آنے والے لوگ صرف نمازی نہیں، بلکہ ایک پوری معاشرہ ہیں۔

جب معاشرہ سمجھ میں آنے لگے تو اگلا مرحلہ مسئلے کی ترجیح کا ہے۔ ہر مسئلہ ایک ساتھ حل نہیں کیا جا سکتا اور یہی وہ مقام ہے جہاں بہت سے اچھے ارادے عملی نتیجہ پیدا نہیں کر پاتے۔ ایک امام اگر یہ سوچے کہ میں اپنے علاقے کے تمام مسائل حل کر دوں گا تو ممکن ہے چند دن بعد تھک جائے، لیکن اگر وہ یہ طے کرے کہ اگلے چھ ماہ میں ہم صرف نوجوانوں کی تعلیمی و تربیتی ضرورت پر کام کریں گے، یا ہم اپنے علاقے کے مستحق خاندانوں کے لیے منظم معاونتی نظام قائم کریں گے، یا بچوں کے لیے ہفتہ وار تربیتی پروگرام شروع کریں گے، تو ایک واضح سمت پیدا ہو جائے گی۔ قیادت کی کامیابی صرف بڑے خواب دیکھنے میں نہیں، بلکہ بڑے مقصد کو قابلِ عمل چھوٹے مراحل میں تبدیل کرنے میں ہے۔

اس کے بعد امام کا کردار ایک اور سطح پر تبدیل ہوتا ہے۔ وہ خود ہر کام کرنے کے بجائے لوگوں کو ساتھ لے کر چلنا شروع کرتا ہے۔ نبوی قیادت کا یہ بھی ایک اہم پہلو ہے کہ آپ ﷺ نے ہر کام تنہا نہیں کیا بلکہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو ذمہ داریاں دیں، ان کی صلاحیتوں کو پہچانا اور انہیں میدانِ عمل میں استعمال کیا۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی ایک خاص نوعیت کی ذمہ داری تھی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی صلاحیتیں الگ انداز میں استعمال ہوئیں، حضرت معاذ رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مختلف مواقع پر ذمہ داریاں دی گئیں، حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں دعوت و تعلیم کے لیے بھیجا گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قائد وہ نہیں جو ہر کام اپنے ہاتھ سے کرتا ہے، بلکہ قائد وہ ہے جو لوگوں کی صلاحیتوں کو پہچان کر انہیں مقصد کے ساتھ جوڑ دیتا ہے۔

چنانچہ ایک امام اپنی مسجد میں نوجوانوں کی ایک چھوٹی ٹیم بنا سکتا ہے، کسی کو تعلیمی سرگرمی کی ذمہ داری دی جا سکتی ہے، کسی کو فلاحی امور کی، کسی کو بچوں کے پروگرام کی، کسی کو بزرگوں کے ساتھ رابطے کی اور کسی کو ڈیجیٹل رابطے کی۔ اس طرح مسجد ایک شخص کے گرد گھومنے کے بجائے ایک فعال اجتماعی نظام بن سکتی ہے۔ یہاں امام کی اصل قیادت سامنے آتی ہے، کیونکہ وہ ہر کام کرنے والا نہیں بلکہ لوگوں کو کام کے قابل بنانے والا بن جاتا ہے۔

آج کے دور میں اس قیادت کا ایک نیا میدان ڈیجیٹل دنیا بھی ہے۔ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اپنا وقت صرف مسجد کے اندر نہیں بلکہ اپنے موبائل کی اسکرین پر گزار رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ امام کو لازماً سوشل میڈیا کا مشہور شخصیت بننا چاہیے۔ اصل سوال شہرت کا نہیں، رسائی اور اثر کا ہے۔ اگر نوجوان اپنے سوالات، خیالات اور فکری الجھنیں ڈیجیٹل دنیا میں لے جا رہے ہیں تو دینی رہنمائی بھی وہاں موجود ہونی چاہیے۔ ایک مختصر ویڈیو، ایک فکر انگیز تحریر، ایک سوال و جواب کی نشست یا ایک منظم آن لائن تربیتی سلسلہ کسی ایسے نوجوان تک پہنچ سکتا ہے جو شاید مسجد کے دروازے تک نہ آتا ہو۔ لیکن یہاں بھی مقصد تعدادِ مشاہدات نہیں بلکہ انسانی اثر ہونا چاہیے۔ امام اگر ڈیجیٹل دنیا میں داخل ہو تو اسے یہ سمجھ کر داخل ہونا چاہیے کہ وہ ایک نئی منبر کی طرف جا رہا ہے، نہ کہ صرف ایک نئی نمائش گاہ کی طرف۔

یہاں ایک اور اہم پہلو سامنے آتا ہے اور وہ ہے مختلف طبقات اور مکاتبِ فکر کے ساتھ کام کرنے کی صلاحیت۔ ہماری مساجد اور دینی ادارے ایک ایسے معاشرے میں کام کرتے ہیں جہاں فقہی اور مسلکی اختلافات موجود ہیں۔ ان اختلافات کی اپنی علمی اہمیت ہے، لیکن معاشرے کے بہت سے مسائل ایسے ہیں جن کے حل کے لیے مشترکہ انسانی اور سماجی ذمہ داری ادا کی جا سکتی ہے۔ غربت، تعلیم، یتیموں کی کفالت، نوجوانوں کی تربیت، نشے سے بچاؤ، قدرتی آفات میں امداد، خون کے عطیات، صفائی، شجرکاری اور دیگر فلاحی کام کسی ایک مسلک کی ملکیت نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کے متنوع معاشرے میں اجتماعی ذمہ داری اور معاہداتی نظم کی بنیاد رکھی۔ اس لیے آج کا دینی قائد اپنے مسلکی تشخص کو برقرار رکھتے ہوئے مشترکہ خیر کے میدان میں دوسرے اہلِ علم اور اداروں کے ساتھ تعاون کی صلاحیت پیدا کر سکتا ہے۔ اختلاف کو ختم کیے بغیر بھی تعاون ممکن ہے، اور یہی بالغ قیادت کی علامت ہے۔

لیکن اس پورے تصور میں ایک چیز سب سے زیادہ بنیادی ہے، اور وہ ہے اعتماد۔ امام کے پاس اگر بہت بڑے وسائل نہ ہوں تو بھی وہ کام کر سکتا ہے، اگر اس کے پاس جدید دفتر نہ ہو تو بھی وہ کام کر سکتا ہے، اگر اس کے پاس بڑی ٹیم نہ ہو تو بھی آغاز کیا جا سکتا ہے، لیکن اگر لوگوں کا اعتماد نہ ہو تو کوئی بھی سماجی قیادت دیرپا نہیں ہو سکتی۔ اعتماد صرف منصب سے پیدا نہیں ہوتا؛ کردار، اخلاص، انصاف، دستیابی اور لوگوں کے دکھ درد میں شریک ہونے سے پیدا ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی قیادت کی سب سے بڑی قوت یہی اعتماد تھا۔ آپ ﷺ کی دعوت قبول کرنے سے پہلے بھی مکہ کے لوگ آپ ﷺ کو صادق اور امین کے طور پر جانتے تھے۔ یہی کردار بعد میں قیادت کی بنیاد بنا۔ اس لیے امام اگر اپنی معاشرے میں حقیقی تبدیلی پیدا کرنا چاہتا ہے تو اسے سب سے پہلے اپنی شخصیت کو اعتماد کا مرکز بنانا ہوگا۔

اس تمام گفتگو کا ایک براہِ راست تعلق مدارس کے نصاب اور علماء کی تیاری سے بھی ہے۔ اگر ہم مستقبل کے علماء کو صرف اس لیے تیار کر رہے ہیں کہ وہ کتاب پڑھا سکیں، مسئلہ بیان کر سکیں اور خطبہ دے سکیں تو ہم انہیں دینی علم کا ایک اہم حصہ تو دے رہے ہیں، مگر معاشرتی قیادت کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں کر رہے۔ آج کے عالم کو دینی علوم کے ساتھ انسانوں کو سمجھنے، ٹیم بنانے، منصوبہ بندی کرنے، مسئلے کی تشخیص کرنے، نوجوانوں سے گفتگو کرنے، اختلافات کو سنبھالنے، معاشرے کے وسائل کو منظم کرنے اور اپنے مقصد کو عملی منصوبے میں تبدیل کرنے کی بنیادی صلاحیت بھی درکار ہے۔ یہ علوم دین کے متبادل نہیں، بلکہ دین کی خدمت کو مؤثر بنانے کے ذرائع ہیں۔

یہاں شاید ہمارے لیے سب سے اہم سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ امام کو مزید کتنے کام کرنے چاہییں، بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ ہم امام کے لیے کون سا نیا تربیتی کردار تیار کر رہے ہیں؟ اگر ہم چاہتے ہیں کہ مسجد معاشرے کی تعمیر میں مرکزی کردار ادا کرے تو ہمیں ایسے ائمہ تیار کرنے ہوں گے جو محراب کے امام بھی ہوں اور معاشرے کے مربی بھی، منبر کے خطیب بھی ہوں اور نوجوانوں کے رہنما بھی، دینی مسائل کے عالم بھی ہوں اور سماجی مسائل کو سمجھنے والے بھی۔ انہیں لوگوں کو صرف حکم بتانے والا نہیں بلکہ لوگوں کو مقصد کے ساتھ جوڑنے والا بننا ہوگا۔

اور شاید اس تبدیلی کا آغاز کسی بڑے منصوبے سے نہیں بلکہ ایک چھوٹے سے سوال سے ہو سکتا ہے۔ ہر امام اپنے آپ سے پوچھے: میری مسجد اپنے علاقے کے لیے کیا کر رہی ہے؟ پھر وہ اپنے نمازیوں کو صرف تعداد کے اعتبار سے نہ دیکھے بلکہ انسانوں کے اعتبار سے دیکھے۔ ان کے حالات معلوم کرے، ان کی ضروریات سمجھے، ایک مسئلہ منتخب کرے، چند مخلص افراد کو ساتھ لے، چھ ماہ کا ایک چھوٹا سا منصوبہ بنائے اور اس کے نتائج کو دیکھے۔ چھ ماہ بعد دوبارہ جائزہ لے کہ کتنے نوجوان اس عمل سے جڑے، کتنے خاندانوں کو فائدہ پہنچا، کون سا مسئلہ کم ہوا اور کہاں مزید کام کی ضرورت ہے۔ اس طرح قیادت محض ایک خوب صورت تصور نہیں رہے گی بلکہ قابلِ مشاہدہ تبدیلی میں تبدیل ہونا شروع ہو جائے گی۔

آخرکار، مسجد کا مستقبل صرف اس بات سے وابستہ نہیں کہ اس کا امام کتنا اچھا خطیب ہے، بلکہ اس بات سے بھی وابستہ ہے کہ وہ اپنے اردگرد کے انسانوں کو کس حد تک سمجھتا، جوڑتا، تربیت دیتا اور آگے بڑھاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی مسجد ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ عبادت اور معاشرتی ذمہ داری ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ مسجد سے انسان اللہ سے بھی جڑتا ہے اور انسانوں کے حقوق ادا کرنا بھی سیکھتا ہے۔ اس لیے اکیسویں صدی کے امام کے سامنے اصل سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ میں نے آج مسجد میں کیا پڑھایا؟ بلکہ اس کے ساتھ یہ سوال بھی ہونا چاہیے کہ میں نے آج مسجد کے ذریعے کتنے انسانوں کو بہتر زندگی، بہتر کردار اور بہتر معاشرے کی طرف ایک قدم آگے بڑھایا؟

اگر ہماری مساجد میں یہ سوال زندہ ہو جائے تو شاید مسجد صرف نماز ادا کرنے کی جگہ نہ رہے، بلکہ ایک مرتبہ پھر معاشرے کی تعمیر کا مرکز بن جائے۔ اور اگر ہمارے مدارس ایسے علماء تیار کرنے لگیں جو محراب کے ساتھ میدانِ عمل کو بھی سمجھتے ہوں، منبر کے ساتھ معاشرے کو بھی پڑھتے ہوں اور علم کے ساتھ لوگوں کو منظم کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہوں، تو پھر ہم صرف اچھے خطیب یا اچھے مدرس نہیں بلکہ ایسے دینی قائد تیار کر سکیں گے جو اپنے علم کو معاشرتی خیر، انسانی خدمت اور حقیقی تبدیلی میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں امام کا منصب صرف امامت نہیں رہتا، بلکہ امامت، تربیت، خدمت اور قیادت ایک جامع نبوی ذمہ داری کی صورت اختیار کر لیتے ہیں

گوشۂ سہولت سے ایک قدم باہر: رسول ﷺ کی سیرت سے مسلسل جدوجہد کا سبق

انسان کو آرام چاہیے، سکون چاہیے، اپنے لیے ایک ایسی جگہ چاہیے جہاں زندگی کی دوڑ کچھ دیر کے لیے تھم جائے، ذمہ داریوں کا بوجھ ہلکا محسوس ہو اور آدمی خود کو محفوظ سمجھے۔ یہ انسانی فطرت ہے اور

مصنف: ابرار حسین
تاریخ: 3 اکتوبر 2026
فقہ النوازل میں فقہاء کا منہج

اسلامی شریعت اپنی ساخت اور مزاج کے اعتبار سے ایک جامع اور ہمہ گیر نظامِ حیات ہے جو ہر دور اور ہر معاشرتی صورتِ حال میں رہنمائی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم انسانی معاشرہ جامد نہیں بلکہ مسلسل

مصنف: مولانا عزیر احمد
تاریخ: 1 اکتوبر 2026
کتب حدیث میں ضعیف وموضوع روایات کے ذکر کےاسباب و مقاصد:اصولی و تحقیقی مطالعہ

تمہیدعلمِ حدیث اسلامی علوم کا وہ عظیم الشان شعبہ ہے جس کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال اور تقریرات کو محفوظ کیا گیا۔ محدثینِ کرام نے اپنی پوری زندگیاں اس مقدس علم کی خدمت میں

مصنف: محمد ندیم محمد
تاریخ: 1 اکتوبر 2026
مقدمہ صحیح مسلم اور علل الصغیر ترمذی کے مناہج جرح و تعدیل کا تقابلی مطالعہ

تمہیدتیسری صدی ہجری علمِ حدیث کی تاریخ کا ایک اہم اور فیصلہ کن دور ہے، جس میں احادیثِ نبویہ کی جمع و تدوین کے ساتھ رواۃ کی جانچ پڑتال اور نقدِ حدیث کے باقاعدہ اصول مرتب کیے گئے۔ اس علمی

مصنف: محمد ذیشان
تاریخ: 1 اکتوبر 2026
وراثت میں عورت کے حق کی شرعی حیثیت اور پاکستانی معاشرت میں عملی اطلاق(تحقیقی و تنقیدی مطالعہ)

انسانی معاشرے میں وراثت محض مالی وسائل کی تقسیم کا نام نہیں بلکہ معاشی انصاف، خاندانی استحکام اور سماجی توازن کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ کسی بھی معاشرے میں وراثتی نظام اس کے قانونی، اخلاقی اور تہذیبی تصورات کی عکاسی

مصنف: حافظ بابر حسین ستی
تاریخ: 30 ستمبر 2026
ذکراللہ سے غفلت؛ معاشرتی اثرات

تمہید :‑انسان جسے اللہ رب العزت نے تمام مخلوقات میں اشرف بنایا ہے اپنے حقیقی خالق کی یاد سے غفلت اس کو پستی کا شکار بنا دیتی ہے میرا عنوان اگرچہ خالص دینی ہے لیکن اس کے معاشرے اگر اس

مصنف: نازیہ فضل
تاریخ: 30 ستمبر 2026