تمہید
انسانی تاریخ کا مطالعہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ معیشت ہمیشہ سے انسانی معاشروں کی تشکیل، استحکام اور ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتی رہی ہے۔ معاشرتی نظام کی بقا اور ریاستی ڈھانچے کی مضبوطی کا انحصار ایک منصفانہ اور متوازن معاشی نظام پر ہوتا ہے۔ معاشی وسائل کی منصفانہ تقسیم، انسانی محنت کا اعتراف، اور سماجی انصاف کی فراہمی کسی بھی معاشی نظام کی کامیابی کے بنیادی اصول ہیں۔ دنیا کے مختلف ادوار میں معیشت کے مختلف ماڈلز سامنے آئے، جنہوں نے اپنے اپنے فکری، نظریاتی اور اخلاقی پس منظر کے مطابق انسانی سماج کو متاثر کیا۔ جدید دور میں سرمایہ دارانہ “Capitalist” اور اشتراکی “Socialist” نظام معیشت دو نمایاں ماڈلز کے طور پر سامنے آئے، جنہوں نے دنیا کی معیشتوں اور معاشرتی ڈھانچوں پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ تاہم، ان دونوں ماڈلز میں انسانی فلاح و بہبود سے زیادہ مادی مفادات اور طبقاتی ترجیحات کو اہمیت دی گئی، جس کے نتیجے میں دولت کی غیر منصفانہ تقسیم، معاشرتی ناہمواری، اور اخلاقی زوال جیسے مسائل جنم لیتے رہے۔اسلامی معیشت ان تمام ماڈلز سے مختلف ایک ایسا جامع اور متوازن نظام پیش کرتی ہے جو نہ صرف اقتصادی ترقی پر زور دیتا ہے بلکہ اخلاقی، سماجی اور انسانی قدروں کو بھی پیشِ نظر رکھتا ہے۔ اسلام میں معیشت محض مادی وسائل کے حصول کا ذریعہ نہیں بلکہ عبادت کا ایک پہلو ہے، جس میں انسان کو ذمہ داری، عدل، دیانت اور اعتدال کے اصولوں کا پابند بنایا گیا ہے۔ اسلامی معیشت کا بنیادی مقصد معاشی خوشحالی کے ساتھ ساتھ انسانی برابری،
MS. Scholar, Department of Islamic Studies, Bahria University, E8 Islamabad./mr3342663@abrar-hussain
Assistant Professor, Department of Islamic Studies, Bahria University E8 Islamabad. /[email protected]
وسائل کی منصفانہ تقسیم اور سماجی انصاف کو یقینی بنانا ہے۔ اسلام دولت کے ارتکاز کی مخالفت کرتا ہے اور اسے معاشرے میں مسلسل گردش میں رکھنے کی تلقین کرتا ہے تاکہ دولت چند ہاتھوں میں محدود نہ رہے۔ اسی طرح اسلامی نظامِ معیشت کے بنیادی ستونوں میں زکوٰۃ، صدقات، عشر، خراج، اور بیت المال جیسے ادارے شامل ہیں، جو وسائل کی منصفانہ تقسیم اور غریب طبقے کی مالی معاونت کے ذریعے معاشرتی توازن پیدا کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، جدید سرمایہ دارانہ نظام میں دولت کی تقسیم منڈی کی قوتوں “Market Forces” اور طلب و رسد کے اصولوں کے تابع ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں امیر اور غریب کے درمیان فاصلہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔ دوسری جانب اشتراکی نظام میں ریاستی اجارہ داری اور انفرادی آزادیوں کی نفی نے انسانی فطرت اور محنت کے حقیقی محرکات کو دبایا، جس کے باعث یہ نظام بھی پائیدار ثابت نہ ہو سکا۔اسلامی معیشت ایک ایسا توازن فراہم کرتی ہے جو ان دونوں انتہاؤں کے درمیان ایک معتدل اور منصفانہ راستہ ہے۔ یہ نظام انسان کو دولت کے استعمال میں آزاد تو رکھتا ہے، مگر اس آزادی کو اخلاقی حدود اور اجتماعی ذمہ داری کے ساتھ مشروط کرتا ہے۔ اسلام میں پیداوار، تجارت اور سرمایہ کاری کو ترغیب دی گئی ہے، لیکن اس کے ساتھ سود “Interest” اور جوا “Gambling” جیسے غیر اخلاقی ذرائع کی سخت ممانعت کی گئی ہے۔ اس طرح اسلامی نظام معیشت میں دولت کا بہاؤ حلال ذرائع سے ہوتا ہے اور اس کا مصرف بھی انسانی فلاح کے مقاصد کے مطابق متعین کیا جاتا ہے۔جدید دور میں جب عالمی معیشت سرمایہ دارانہ نظام کی گرفت میں ہے، تو اس کے نتیجے میں دنیا معاشی بحرانوں، بے روزگاری، افراطِ زر، قرضوں کے بوجھ، اور طبقاتی تفاوت جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ ان مسائل کے حل کے لیے اسلامی معیشت کے اصول ایک جامع اور پائیدار متبادل فراہم کرتے ہیں۔ اسلامی بینکاری، سود سے پاک سرمایہ کاری، مضاربہ، مشارکہ اور تکافل جیسے ادارے اس بات کا ثبوت ہیں کہ اسلامی اصول جدید دنیا
میں بھی نہ صرف قابلِ عمل ہیں بلکہ ایک منصفانہ اور پائیدار اقتصادی نظام کے لیے رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
اس تحقیقی مطالعے کا مقصد اسلامی اور جدید معاشی ماڈلز کے بنیادی اصولوں، ساخت اور نتائج کا تقابلی جائزہ لینا ہے۔ اس تحقیق میں یہ واضح کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ اسلامی نظامِ معیشت جدید دنیا کے معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کس قدر مؤثر اور قابلِ عمل رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی دیکھا جائے گا کہ جدید سرمایہ دارانہ اور اشتراکی نظام نے کن عوامل کے باعث انسان کو حقیقی معاشی امن اور اطمینان دینے میں ناکامی کا سامنا کیا۔ اس مطالعے کے ذریعے اسلامی معیشت کے ان اصولوں کو نمایاں کیا جائے گا جو انسانی فلاح، معاشرتی توازن اور اخلاقی ترقی کے ضامن ہیں۔
اقتصادی انصاف اور مروجہ اقتصادی نظام:
اقتصادی انصاف سے مراد ایسا معاشی اصول ہے جس میں معاشرے کا ہر فرد اپنی اہلیت اور محنت کے مطابق معاشی طور پر حصہ دار ہوتا ہے۔ اس کا مقصد معاشی ناانصافیوں کا خاتمہ،استحصال کو روکنا، اور ایک ایسا نظام قائم کرنا ہے ،جس میں کوئی فرد یا جماعت دولت کے ذرائع یا وسائل پر قابو پا کر چند ہی ہاتھوں میں سمیٹ سکنے کے قابل نہ رہے اور نتیجتا لوگوں کے درمیان معاشی توازن قائم رہ سکے ۔
لہذا ہر فرد اقتصادی انصاف کی بنیاد پر یہ بنیادی حق رکھتا ہے کہ اگر کسی وجہ سے وہ معاشی میدان میں پیچھے رہ گیا ہے تو اسے بھی اس کا معاشی حق دیا جائے۔
جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے:
"نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَهُمْ مَّعِیْشَتَهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ رَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّا وَ رَحْمَتُ رَبِّكَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ”
ہم نےان میں ان کی معیشت کودنیاکی زندگی میں تقسیم کردیاہے اور ہم نے ان میں ایک کو دوسرے پر کئی درجے بلندکیا ہے تاکہ ان میں ایک دوسرے کو اپنا خادم بنائے اور تمہارے رب کی رحمت اس سے بہتر ہے جو وہ جمع کررہے ہیں ۔
اس حوالے سے تین نظام موجود ہیں جن کا یہاں ایک جائزہ پیش کیا جاتاہے۔
سرمایہ دارانہ نظام{CAPITALISM}
دنیائے معاش کا ترقی یافتہ یہ نظام انفراد پسندی کے اصول پر قائم ہے۔ اسے عدم مداخلت کا نظام یا آزادانہ معاشی نظام بھی کہتے ہیں۔
"Capitalism also called free market economy or free enterprise economic system”
سرمایہ دارانہ نظام ایک ایسا معاشی ڈھانچہ ہے جو فرد کی اقتصادی آزادی ،نجی ملکیت اور منڈی کی قوت محرکہ پر استوار ہے۔ اس نظام کے مطابق جب منڈی کو ریاستی مداخلت سے آزاد رکھا جائے اور ہر فرد کو معاشی سرگرمیوں میں آزادی حاصل ہو تو معیشت کی مجموعی ترقی اور استحکام ممکن ہوتا ہے۔ جبکہ اس نظام کا گہرائی سے تجزیہ کیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ سرمایہ داری میں اقتصادی انصاف کا تصور ایک نظری مفروضہ ہے، جو عملی دنیا میں نہایت کمزور بنیادوں پر قائم ہے ۔جس کے لیے اس نظام کی نظریاتی اساس سے اگاہی بے حد ضروری ہے جو اس کے فرضی دعویٰ انصاف سے نقاب کشائی کرتی نظر آتی ہیں۔
(الف)سرمایہ دارانہ نظریاتی اساس:
سرمایہ دارانہ فکر کا بنیادی مقدمہ یہ ہے کہ ہر فرد اپنی عقل ،محنت اور قابلیت کے بل بوتے پر ترقی کر سکتا ہے بشرطیکہ ریاستی مداخلت نہ ہو۔ تا ہم یہ آزادی حقیقی معنوں میں صرف ان افراد کو حاصل ہوتی ہے جو پہلے ہی وسائل اور سرمائے کے مالک ہیں۔ معروف ماہر اقتصادیات تھامس "Thomas Piketty”اس امر کی وضاحت کرتے ہیں کہ سرمایہ داری میں دولت کا ارتکاز مسلسل بڑھتا ہے اور اقتصادی طور پر عدم انصاف اس قدر شدید ہو جاتا ہے کہ آزادی صرف اور صرف اشرفیہ کی حد تک محدود رہ جاتی ہے ۔
Capitalism automatically generates arbitrary and unsustainable inequalities that radically undermine the meritocratic values on which democrates scienties are based
سرمایہ داری ایسا نظام ہے جو خود ہی غیر منصفانہ اور غیر مستقل فرق کر پیدا کرتا ہے،جو جمہوری معاشروں کی میرٹ پر مبنی اقدار کو نقصان پہنچاتا ہے۔
(ب)سرمایہ دارانہ ارتکاز دولت:
سرمایہ داری کا سب سے بڑا معاشی تضاد دولت کا شدید ارتکاز ہے۔ چونکہ نفع Profit ہی اس نظام کی محرک قوت ہے لہذا سرمایہ صرف ان شعبوں اور طبقات میں مرتکز ہو جاتا ہے جو منافع بخش ہوں ۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ امیر مزید امیر اور غریب مزید غریب ہو جاتا ہے۔ معاشی ترقی کا راستہ اشرافیہ کے لیے کھلا رہتا ہے جبکہ نچلے طبقات اس دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ ابوالاعلی مودودی لکھتے ہیں:
"سرمایہ داری نے انسانی زندگی کو محض مادی کامیابی اور ذاتی مفاد کی بنیاد پر استوار کر دیا ہے، جہاں اخلاقی قدریں اور فلاح عامہ کی روح بتدریج ختم ہوتی جا رہی ہے”
(ج)مادیت پرستی سرمایہ دارانہ نظام کی روح:
سرمایہ دارانہ نظام میں انسانی ضرورتوں کو محض مادی معیارات پر ناپا جاتا ہے ،جس کے نتیجے میں معاشرتی ذمہ داریوں اور اخلاقی اقدار کی اہمیت مفقود ہو جاتی ہے۔ جبکہ اقتصادی انصاف کا تقاضہ ہے کہ فرد کی مجموعی فلاح کو مدنظر رکھا جائے نہ کہ صرف اس کی مادی خواہشات کو لہذا سرمایہ دارانہ نظام اپنی فطرت میں اقتصادی انصاف کے بنیادی اصولوں سے متصادم نظر آتا ہے ۔پروفیسر عبدالحمید ڈار لکھتے ہیں:
"نظام سرمایہ داری مادی فلسفہ حیات سے ماخذ ہے اس نظریہ کے مطابق حیات و کائنات کی اصل مادہ ہے ،مادہ سےماورا یہاں کچھ بھی نہیں ہے اس لیے انسان کی جدوجہد کا مرکز و محور مادی اختیاجات کی تسکین ہی ہونی چاہیے”
(د)نظام سرمایہ داری اور خواہشات:
سرمایہ داروں کی زندگی کا مقصد کائنات پر اپنی خواہشات کو مسلط کرنا ہے ۔نیز سرمایہ دار کا مقصد اپنی آزادی کو بڑھانا اور دنیا کی تمام قوتوں کو اپنی مرضی کے مطابق زیر تسلط لانا ہوتا ہے تاکہ وہ اپنی نفسانی خواہشات کو پورا کر سکے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سرمایہ دار اپنے مفادات کے لیے سماجی اور معاشی انصاف کو نظر انداز کرتا ہے ۔جاوید اکبر انصاری لکھتے ہیں:
"ہر وہ شخص سرمایہ دار ہے جس کی زندگی کا مقصد کائنات پر اپنی خواہشات کو مسلط کرنا ہوتا ہے ۔اور ہر سرمایہ دار کی زندگی کا مقصد اپنی آزادی کو ترقی دینا ہوتا ہے تاکہ کائنات کی تمام قوتوں کو مسخر کر کے اس کی تمام خواہشات نفسانی پوری کی جا سکیں”
سرمایہ دارانہ نظام نےفرد کو اجتماعی تعلقات سے بے گانہ کر کے افراد کو ایک ایسی مادی دنیا میں مقید کر دیا ہے، جہاں اس کی معاشرتی ذمہ داریاں اخلاقی اقدار اور انسانیت کی بنیادیں فراموش ہو چکی ہیں۔ اس نظام کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ انسان کو اپنے نفع اور فائدے کی فکر میں اس حد تک غرق کر دیتا ہے کہ وہ دوسروں کی تکالیف، معاشرتی و معاشی انصاف اور اخلاقی اصولوں کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ اس سے پیدا ہونے والی معاشرتی برائیاں جیسے کہ غربت، محرومی اور استحصال نہ صرف فرد بلکہ پورے معاشرے کے اخلاقی بگاڑ کا سبب بنتی ہیں ۔سرمایہ داری کےاس مادی فلسفے بے لگام آزاری اور بے قید ملکیت نے انسان کے لیے ہر قسم کی ہمدردی ،تعاون یا خیر خواہی کی جگہ کو خالی چھوڑ دیا ہے۔ نتیجتاً اس کے اثرات معاشرتی عدم توازن، غیر منصفانہ تقسیم جیسی خرابیوں کی شکل میں سامنے آتے ہیں۔
اشتراکی نظام {SOCIALISM}
سرمایہ دارانہ نظام کے مقابلے میں اشتراکیت معاشی نہ ہمواریوں اور غیر منصفانہ اقتصادی نظام کا حل کچھ اس طرح لیے میدان میں اتری کہ جب تک پیداوار کے وسائل ریاست کی تحویل میں نہیں ہوں گے، اور نجی ملکیت کا خاتمہ نہیں کیا جائے گا، اس وقت تک اقتصادی انصاف اور سماجی مساوات کا قیام ممکن نہیں۔ اشتراکی فکر اس بات پر زور دیتی ہے کہ ہر فرد کو بلامتیاز بنیادی
ابوالاعلیٰ مودودی،اسلامی نظام زندگی اوراس کےبنیادی تصورات(لاہور:ادارةترجمان القرآن،1995)112/1۔
عبدالحمیدڈار،اسلامی معاشیات(لاہور:علمی کتاب خانہ،2007)98/1۔
جاویداکبرانصاری،سرمایہ داری کے نقیب(لاہور:لیگسی بکس،2019)24/1۔
ضروریات زندگی جیسے: خوراک، لباس، اور ر ہائش تک مساوی رسائی حاصل ہونی چاہیے تاکہ ایک استحصالی طبقاتی اور غیر منصفانہ نظام کی بجائے ایک مساوی اورعادلانہ معاشرہ تشکیل دیا جا سکے ۔لیکن میدان عمل میں سرمایہ دارانہ نظام کی طرح اس کے پلڑے میں بھی سوائے فرضی نعروں کی کچھ نہیں تھا بجائے معاشی انصاف کے قیام کے نادار اور مزدور کا اس قدر استحصال کیا کہ اس کے خون پسنے سے کمائی گئی محنت پر حکومت کو قابض کیا اور اس کے حق کو سلب کر کے انسان کو ایک ایسا نظریہ دیا کہ جس سے انسان کی فطری عظمت انفرادیت آزادی فکر اور اخلاقی اقدار کچل دی گئیں اور انسان کی حیثیت صرف خام مال کی طرح رہ گئی ۔مسعود عالم ندوی تحریر کرتے ہیں:
"اس نظام نے انسانی شخصیت کے ارتقاء کے امکان کو ختم کر دیا اور افراد کو مواد خام کی حیثیت دے دی جہاں انسانوں کی منصوبہ بندی ہوتی ہے اور ایک منتخب گروہ انسانوں کو لوہے کے پرزے یا چمڑے کے جوتوں کی طرح ڈھالتا اور بناتا ہے”
معلوم ہوا کہ اشتراکیت نے انسان کو انصاف کی فراہمی تو در کنار اس کے مقام اور شرف کی نفی کر کے اسے روٹی ، کپڑا اورمکان کا نعرہ دے دیا جس کے بدلے انسان سے اس کی دینی شناخت، اخلاقی نظریات اورفردکی شخصی خود مختاری کو بھی سلب کر لیا گیا۔ علامہ شمس الحق افغانی لکھتے ہیں :
“انسان کی اصلی شرافت اس کی حریت اور فکر و عمل ہے۔ اگر یہ حریت نہ ہو تو انسان مقام شرف انسانیت سے گر کر ایک حیوان بن جاتا ہے ۔اور حیوان کیا ہے؟ وہ ہمارے اختیار کے مطابق چلتا ہے پھر ہم اس کو گھاس ودانہ وغیرہ کھلاتے ہیں، اسی طرح کمیونزم انسان سے اپنے اختیار کے مطابق کام لیتا ہے اور پھر اس کے بدلے روٹی اور کپڑے کا بندوبست کر دیتا ہے۔ اس طریقے سے انسان کے فکر و عمل کی آزادی اور اختیار ختم ہو کر رہ جاتا ہے۔”
اسلامی نظام معیشت {ISLAMIC ECONOMIC SYSTEM}
اسلام ایک ایسا نظام ہے جو صرف اقتصادی ہی نہیں بلکہ مکمل نظام حیات ہے جو انسانی فطری تقاضوں کے عین مطابق ہونے کے ساتھ ساتھ فلاح انسانی کا بھی ضامن ہے ،انسان کے روحانی اور مادی تقاضوں کی تکمیل کرتا ہے ۔معاشرت ہو، معیشت ہو یا سیاست ان تمام شعبوں میں اسلام نے عدل و انصاف پر مبنی راہنما اصول دیے ہیں جن میں معیشت بھی شامل ہے ،جس کے لیے ایسے رہنما وصول فراہم کیے گئے ہیں، جن کی پیروی کرتے ہوئے ہر دور میں ایک عادلانہ ،منصفانہ اور قابل نفاذ نظام وضع کیا جا سکتا ہے ۔فرمان باری تعالٰی ہے:
"اِعْدِلُوْا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى وَ اتَّقُوا اللّٰهَ”
انصاف کرو، یہ پرہیزگاری کے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرو
اسلامی اقتصادی نظام میں اقتصادی عدل و انصاف سے افراد معاشرہ کی معاشی سر گرمیوں رہائش ،کاروبار ،مال و دولت ،لباس، خوراک اور دیگر معاملات وغیرہ کا مساوی ہونا مراد نہیں ہے۔ مثلاً جتنا ایک فرد کے پاس مال و دولت ہے معاشرے کے ہر فرد کے پاس اتنا ہی ہو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کیونکہ معاشرے کے ہر فرد کی ذہنی استعداد اور کام کرنے کی مہارت ایک جیسی نہیں ہے اور ایسی مساوات کا حصول ایک غیر فطری اور ناقابل عمل امر ہے جو کہ اسلام کے بنیادی اصولوں کے بھی متصادم ہے۔
مسعودندوی،اشتراکیت اور اسلام(لاہور:ادارہ معارف،1993)153/1۔
شمس الحق افغانی،سرمایہ دارانہ اور اشتراکی نظام کااسلامی معاشی نظام سے موازنہ(کوہاٹ:ادارةالبحوث والدعوةالاسلامیہ،1993)50/1
القرآن8/5۔
لہذا اس باب میں اقتصادی انصاف سے مراد قومی پیداواری وسائل اور ذرائع ہیں جن سے استفادے کا حق اسلامی معاشرے کا ہر ہر فرد رکھتا ہر ہر فرد رکھتا ہے۔ اگرچہ اس حق کے استعمال میں کوئی فرد اپنی صلاحیت اور محنت کی وجہ سے دوسرے سے آگے بڑھ جائے تو وہ اس کی صلاحیت اور محنت کا نتیجہ ہے۔
1۔اقتصادی انصاف کے اسلامی اصول:
اسلام اقتصادی انصاف کے لیے چند بنیادی اصول معاشرے کو فراہم کرتا ہے جن پر عمل پیرا ہو کر ہر زمانے میں ایک مستحکم ،متوازن، اور منصفانہ معاشی نظام کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔
(الف)حرام آمدنی کی ممانعت:
اسلامی اقتصادیات ایک ایسا جامع نظام فکر پیش کرتی ہے جو دولت کے حصول اس کے استعمال اور اس کی تقسیم کے تمام مراحل کو اخلاقی و شرعی اصولوں کے تابع قرار دیتا ہے۔ اس نظام میں حرام آمدنی کی ممانعت ایک نہایت اہم وصول ہے جس کا مقصد معاشی تعلقات کو عدل، شفافیت، اور دیانت کی بنیاد پر استوار کرنا ہے۔ قانون اسلامی کے مطابق مال صرف اسی وقت مشروع قرار پاتا ہے ،جب وہ جائز طریقے سے حاصل کیا گیا ہو۔ فرمان حق تعالیٰ ہے :
"یٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّا اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ”
اے ایمان والو! باطل طریقے سے آپس میں ایک دوسرے کے مال نہ کھاؤ البتہ یہ کہ تمہاری باہمی رضامندی سے تجارت ہو”
یہ آیت مبارکہ اسلامی اقتصادیات کے لیے منصفانہ بنیادی اصول فراہم کرتی ہے جہاں” باطل” کی اصطلاح تمام غیر مشروع ذرائع سود ،رشوت، جوا، خیانت، چوری ،اور دھوکہ دہی کو شامل ہے، چنانچہ حصول دولت اور تقسیم دولت میں انسان اپنے آپ کو اس حد تک آزاد نہ سمجھے کہ جو اور جہاں سے مرضی کمائے اور استعمال میں لائے بلکہ اس معاملے میں اس حد تک احتیاط کرے کہ کسی دوسرے کا کوئی ذرہ برابر حق بھی اس کے حق میں خلط ملط نہ ہو جائے ۔
(ب)گردش دولت کااسلامی تصور:
یہ اسلامی معیشت کا بنیادی اور نہایت اہم موصول ہے۔ اسی اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے اسلام ہر وہ دروازہ جو چند ہی ہاتھوں میں ارتکاز دولت کا سبب بنتا ہے اسے بند کر دینے کا حکم دیتا ہے اور حوصلہ افزائی کرتا ہے ہر اس راستے کے کھولنے کی جو دولت کی گردش کا رخ اس اہل ثروت سے محروم المعیشت افراد کی طرف سے پھر نے میں معاون ثابت ہو اور محرومی معاش کے تدارک کا امکان ہو۔ تاکہ اقتصادی انصاف برقرار رہ سکے اور معاشرے کا ہر ہر فرد اس سے مستفید ہو سکے۔ قرآن مجید میں رب کائنات نے دولت کو امانت اور انسان کو خلیفہ قرار دے کر اس کی تقسیم کی ذمہ داری انسانوں پر ڈال دی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"وَ اَنْفِقُوْا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُّسْتَخْلَفِیْنَ فِیْهِ”
اور اس کی راہ میں کچھ خرچ کرو جس میں تمہیں اَوروں کا جانشین کیاہے۔
اس آیت مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ دولت صرف چند ہی ہاتھوں میں مرتکز نہیں ہونی چاہیے بلکہ اسے سماج کے محروم المعیشت افراد تک پہنچانا لازمی امر قرار دیا گیا ہے۔
احتکار:
جب کوئی فرد یا ادارہ ضروری چیزیں جیسے خوراک، یا دوا مارکیٹ سے خرید کر اس نیت سے روک لیتا ہے ،کہ جب ان کی قلت ہو تو مہنگے داموں بیچے "احتکار "کہلاتا ہے۔ اسے نہ صرف
القرآن29/4۔ القرآن7/57۔
اخلاقی طور پر قابل مذمت سمجھا جاتا ہے بلکہ شریعت اسلامیہ بھی گناہ شمار کرتی ہے ۔حضرت معمر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں:
"لا یحتکر الا خاطی”
اس حدیث مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ وہ اجناس یا دولت جو لوگوں کی ضروریات سے وابستہ ہو اسے اس نیت سے روک لینا ،کہ احتیاج غلہ کے وقت مہنگے داموں فروخت کیا جائے تو اس عمل پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے۔
اکتناز:
ایسا طرز عمل جس میں کوئی شخص اپنی مالی حیثیت کے مطابق زکوۃ ادا کیے بغیر دولت جمع کرتا ہے، اور اسے خرچ میں نہیں لاتا، ایک تناز کہلاتا ہے ۔اس سے دولت کا بہاؤ رکتاہے اور سماج میں معاشی نہ انصافی اور عدم توازن بڑھ جاتا ہے ۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے:
"وَ الَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ وَ لَا یُنْفِقُوْنَهَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ”
اور وہ لوگ جو سونا اور چاندی جمع کررکھتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری سناؤ ۔
چنانچہ اختکار و اکتناز دونوں ایسے اعمال ہیں، جو اسلامی معیشت کے اس بنیادی مقصد کی خلاف ہیں جو دولت کی منصفانہ تقسیم اور معاشی توازن کا قیام ہے ۔ایک اسلامی ریاست اور معیشت کے لیے ضروری ہے کہ ان دونوں رویوں کا سد باب کیا جائے تاکہ "اقتصادی انصاف” محض نظریہ نہ رہے بلکہ ایک عملی حقیقت بن جائے۔
(ج)معاشی حقوق کا تحفظ:
اسلامی اقتصادی نظام میں معاشی حقوق کا تصور ایک عملی ،قانونی ،اور دینی ذمہ داری کی حیثیت رکھتا ہے یہ صرف اخلاقی ترغیب میں پر مبنی نہیں بلکہ اجتماعی دینی فریضے کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے ۔جو اقتصادی انصاف اور دولت کی منصفانت تقسیم کا بنیادی ستون ہے۔ ان حقوق کی اساس قرآن و حدیث میں واضح طور پر بیان کیا گیاہے، جو فرد اور معاشرے کے درمیان دولت کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ معاشی طور پر فرض کیے گئے چند حقوق درج ذیل ہیں:
(د)روزگار کاحق:
اسلامی تعلیمات میں محنت کو نہایت بلند مقام حاصل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
"عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِی كَرِبَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: مَا أَكَلَ أَحَدٌ طَعَامًا قَطُّ خَيْرًا مِنْ أَنْ يَأْكُلَ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ، وَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ يَاكُلُ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ”
مقدام بن معدی کربؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
کسی آدمی نے کبھی ایسا کھانا نہیں کھایا جو اپنے ہاتھ کی کمائی سے بہتر ہو، اور بے شک اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھایا کرتے تھے۔
یہ حدیث اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ معاشرے میں ہر فرد کو روزگار کے مواقع میسر آنے چاہییں، تاکہ وہ باعزت طریقے سے اپنی معاشی ضروریات پوری کر سکیں۔
(س)اجرت کاحق:
ابوعبداللّٰہ ابن ماجہ،السنن،کتاب التجارت،باب الحکرة والجلب(بیروت:دارالجیل،1998)519/3۔
القرآن34/9۔
محمدبن اسماعیل البخاری،الجامع الصحیح،کتاب البیوع،باب کسب الرجل وعملہ بیدہ(بیروت:دارطوق النجاة،1422)57/3۔
اسلام میں مزدور کی اجرت کے حوالے سے واضح اصول موجود ہیں۔ جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
"عَنْ عَبْدِاللّٰهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ: أَعْطُوا الْأَجِيرَ أَجْرَهُ قَبْلَ أَنْ يَجِفَّ عَرَقُهُ”
عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:مزدور کو اس کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کر دو۔
یہ ارشاد مزدور کے مالی تحفظ اجرت کی بروقت ادائیگی اور اس کی محنت کا احترام اجاگر کرتا ہے۔ اسلامی معیشت کے اصولوں کے مطابق اجرت کا تعین اس انداز میں ہونا چاہیے کہ مزدور کی بنیادی ضروریات کی تکمیل ہو سکے ، وہ عزت اوروقارکےساتھ زندگی گزار سکے ۔صرف بقائے حیات کافی نہیں بلکہ ایسی اجرت ضروری ہے جو فلاحی معیار زندگی فراہم کرے۔
(ص)حق کفالت عامہ:
یہ معاشی انصاف کے بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے جو معاشرتی ذمہ داریوں اور انسانی ہمدردی کو اہمیت دیتا ہے۔ یہ تصور عمومی طور پر اس حق کی طرف اشارہ کرتا ہے جس کے تحت ریاست یا معاشرہ اپنے کمزور طبقات کو امداد فراہم کرتا ہے، تاکہ وہ زندگی کی بنیادی ضروریات کو پورا کر سکیں۔جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے:
"وَ فِیْ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّآىٕلِ وَ الْمَحْرُوْمِ”
اور ان کے اموال میں حق ہے سوالی کااورمحروم کا
معلوم ہوا کہ یہ تصور صرف خیرات یا اخلاقی احسان تک محدود نہیں بلکہ ایک منظم اور شرعی فریضہ ہے جو کہ باہمی امداد کے اصولوں پر قائم ہے۔
(ط)نظام زکوٰۃ:
انہیں کفالت عامہ اور امداد باہمی کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اسلام نے زکوٰۃ کا نظام متعارف کروایا ہے، جو کہ نہ صرف انفرادی عبادت بلکہ یہ ایک سماجی معاشی نظام کا جزو اعظم ہے ۔ قرآن میں ارشاد ہے:
"خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا”
ان کے مالوں سے صدقہ لو تاکہ تم ان کو پاک اور صاف کرو۔
اسلامی اقتصادی انصاف کا تصور محض مالی ادائیگیوں کا نام نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت تصور اور فکر کا نام ہے جس میں فلاح عامہ، باہمی امداد، اور ریاستی ذمہ داری سب شامل ہیں۔ حق کفالت عامہ ایک ایسا اصول ہے ،جو نہ صرف اسلامی نظام معیشت کو انفرادیت عطا کرتا ہے بلکہ اسے عصری نظام سے ممتاز بھی کرتا ہے۔
تقسیم دولت اور نظام ہائے معیشت:
یہ اقتصادی نظام کا وہ اصول ہے جو انگلش میں”Distribution of Wealth”کی اصطلاح سے متعارف ہے۔اسی اصول کے ذریعے کسی بھی ملک کی مجموعی دولت اور آمدنی کو اس کے شہریوں کے درمیان بانٹا جاتا ہے یا عالمی سطح پر مختلف ممالک کے درمیان دولت اور آمدنی کی تقسیم کا جائزہ لیا جاتا ہے ۔جیسا کہ انسائیکلوپیڈیا آف بریٹانیکا میں ہے:
ابن ماجہ،السنن،کتاب الاحکام،باب اکرام الاجیرواعطائہ حقہ،93/4۔
القرآن19/51۔ القرآن103/9۔
Encyclopaedia Britannica, last modified January2025, Accessed January23,2025.http://www.britannica.com.
محمدتقی عثمانی،اسلام اورجدیدمعیشت وتجارت(کراچی: مکتبہ معارف القرآن،2012)27/1۔
زمین اور اس سےجونفع حاصل ہوتا ہے ان دونوں کا مالک ہے کل ہے ۔جسے وہ اپنی مرضی کے مطابق جیسے چاہے رک کر رکھے ہیں یا استعمال میں لائے ۔جس میں کسی دوسرے کا حق شامل نہیں ہے ۔
John Lockeنےنجی ملکیت کو اس طرح بیان کیا ہے :
"Property is a person’s life and liberaty as well as his physical possessions”
جائیداد ایک شخص کی زندگی اور آزادی کے ساتھ ساتھ اس کا ذاتی مال بھی ہے۔
مفتی تقی عثمانی صاحب لکھتے ہیں:
"سرمایہ دارانہ نظام میں ہر انسان کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ اپنی ذاتی ملکیت میں اشیاء بھی رکھ سکتا ہے اور وسائل پیداوار بھی رکھ سکتا ہے "
چنانچہ سرمایہ صاحب ثروت لوگوں کے ہاتھوں میں ہونے کی وجہ سے جو اسے اپنے لیے مزید بڑھانے کے دوڑ میں قومی وسائل کا ایک بڑا حصہ اپنے ہاتھوں میں مرتکز کر لیتے ہیں ۔نجی ملکیت، ناجائز منافع خوری ،سود اور بےلگام اقتصادی آزادی جیسے عوامل اس نظام کے ہاتھ میں توازن اور غیر منصفانہ تقسیم کو مزید گہرا کر کے مزدور کمزور اور نادار طبقے کو مالی معاونت کرنے کی بجائے شدید مالی مشکلات کی طرف دھکیل دیتے ہیں جو کہ بعض اوقات بنیادی ضروریات سے بھی محروم رہ جاتے ہیں۔
(ج)معاشی آزادی:
سرمایہ دارانہ نظام میں دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کی دوسری وجہ اس نظام کی بنیادی اساس "بے قید آزادی "کا نظریہ بھی ہے یہ وہی” آزادی "ہے جو مغربی فلسفے کی قدر مطلق ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ انسان مطلق العنان ہے جو الہامی ضوابط اور اصولوں سے ماوراء ہے اور کسی ضابطے یا کسی اصول کا پابند نہیں ہے ۔ڈاکٹر جاوید اکبر انصاری "آزادی "کا معنی لکھتے ہیں :
"آزادی کا مطلب یہ کہ انسان جو چاہے خواہش کر سکتا ہے وہ کسی کا پابند نہیں ہے وہ آزاد پیدا ہوا ہے لہٰذا اسے کسی الہامی ضابطے کا پابند نہیں کیا جا سکتا "
اسی نظریہ کے تحت یہ نظام اس بات کی مکمل آزادی فراہم کرتا ہے، کہ فرد جتنا چاہے جو چاہے اور جیسے چاہے سرمایہ اکٹھا کرنے میں آزاد ہے۔ اسی طرح اس سے حاصل کیے گئے سرمائے کو اس کی چاہت کے مطابق تقسیم کرنے یا نہ کرنے کا مکمل طور پر آزادانہ اختیار بھی رکھتا ہے۔ زاہد صدیق مغل لکھتے ہیں:
"آزادی یہ ہے کہ ارادہ انسانی کے اظہار کے حق کو "خیر” پر فوقیت دینا یعنی "خیر اور شر” کا تعین کرنے کا مساوی حق ہر انسان کو ہونا چاہیے، ماورائے اس سے کہ انسان اس حق کو استعمال کرکے اپنے لیے خیر اور شر کا کون سا پیمانہ طے کرتا ہے "
لہٰذا سرمایہ دارانہ نظام ایک سرمایہ دار کو اس بات کی کبھی اجازت نہیں دے گا کہ وہ سرمائے کو مادی مفاد کے علاوہ کسی محروم المعیشت افراد کی مالی معاونت میں بھی خرچ کر دے ۔البتہ وہ اسے یہ ضرور لالچ دیتا ہے کہ مزید سرمایہ اکٹھا کرنے کے لیے اس کے عوض باری بھر کم سود بھی
John Locke Two Treatises of government (USA, :publisher, New York, New American Library,
جاوید اکبر انصاری،مغربی تہذیب کااساسی نظام اور اس کی استعماری توسیع سرمایہ دارانہ نظام ایک تعارف(لاہور:کتاب محل،س ن)7/1۔
زاہدصدیق مغل،جاویداکبرانصاری،سرمایہ دارانہ انفرادیت کاحال اورمقام(2)(گوجرانولہ:مجلہ ماہنامہ الشریعہ،شمارہ8،اگست2012)17/1۔
وصول کرنا پڑے تو اس سے بھی وہ گریز نہ کرے ۔جس سے تقسیم دولت کے اعتبار سے ایک غیر منصفانہ نظام تشکیل پائے گا۔
اشتراکیت اور تقسیم دولت {Communism and distribution wealth}
"اشتراکیت” اشتراک سے ماخوذ ہے جس کے معنی مشترک شراکت یا ساجھا کے ہیں ،یہاں پر اشتراکیت سے مراد وہ تحریک ہے جو سرمایہ دارانہ نظام کے مد مقابل اپنا ایک نظام معیشت لے کر میدان میں آئی "
اشتراکیت کے نظریات بنیادی طور پر افلاطون کے فلسفہ کے ساتھ ملتے ہیں ،افلاطون نے انفرادی ملکیت کی کشمکش کو اجارہ داری کا سبب گردانا ہے، جس کے حل میں اس نے تمام دولت اور وسائل کی نجی ملکیت کی بجائے ان کی اجتماعی حیثیت کو ترجیح دینے کا تصور پیش کیا ہے۔ اس تناظر میں بلال زبیر ی افلاطون کے خیالات کی ترجمانی کرتے ہوئے واضح کرتے ہیں:
"جس طرح فرد کی ملکیت اس کے تمام خاندان کے لیے وقف ہے اور خاندان کی ملکیت پوری وسوسائٹی کے لیے ہے ،اسی طرح سوسائٹی کی ملکیت پوری کی پوری مملکت کے قبضے میں ہونی چاہیے کیونکہ مملکت اپنے شہریوں کی کفیل ہوتی ہے اور جو مملکت اپنے شہریوں کی کفیل نہیں بنتی وہ مملکت نہ ہی کہلاسکتی”
(الف)اجتماعی ملکیت:
اشتراکیت میں وسائل پیداوار یعنی کارخانے، زمین، جائیداد، وغیرہ کسی نجی ملکیت میں نہیں ہوں گے جیسا کہ سرمایہ دارانہ نظام میں لامحدود نجی ملکیت کی وجہ سے انسان میں دولت کے جمع کرنے کی لالچ اور ہوس پیدا ہو جاتی ہے ،سرمایہ سمیٹ کر ایک جگہ اکٹھا ہونا شروع ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں انسان سرمائے کے حصول کے لیے جائز وناجائز کی تمیز کھو بیٹھتا ہے، لیکن اشتراکیت کے دعویٰ کے مطابق تمام تر وسائل پیداوار پر حکومت کا قبضہ ہونے کی وجہ سے دولت کی تقسیم منصفانہ ہوگی جس میں سود کا تصور مفقود ہونے کے ساتھ ساتھ دولت کا ارتکاز بھی نہیں ہوگا جو کہ کئی معاشی و معاشرتی خرابیوں سے رکاوٹ کا سبب بنے گا۔
(ب)معاشرے کی فلاح:
اشتراکیت کا دعویٰ یہ تھا کہ اجتماعی ملکیت کا ہونا اس بات کا فائدہ دیتا ہے کہ حکومت اس سے ایسی پالیسی آسانی سے تیار کر سکتی ہے کہ جس سے تمام معاشرے کی فلاح ہو اور دولت کی تقسیم منصفانہ ہو ،اسی طرح قومی ملکی منصوبے اور ملک کی تمام ضروریات کو پایہ تکمیل تک پہنچانا نہایت سہل ہو جاتا ہے۔ مولانا مودودی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
روس میں افراد کے قبضے سے زمین، کارخانے اور تمام کاروبار نکال لینے سے یہ ہوا کہ اشیاء کی لاگت اور ان کی بازاری قیمت کے درمیان جو منافع پہلے زمیندار کارخانہ دار اور تاجر لے کر لے جاتے تھے اب حکومت کے خزانے میں آنے لگا اور ممکن ہوا کہ اس منافع کی کو اجتماعی فلاح کے کاموں پر صرف کیا جا سکے ،اور دوسرا نامساعد حالات کے پیش نظر بعض لوگ کام کاج کے قابل نہیں رہتے مثلا بوجہ بیماری یا معزوری تو ان لوگوں کو ایک مشترکہ فنڈ سے مدد دی جاتی ہے”
(ج)اشتراکی ناانصافیاں :
فرحان،اردولغت تاریخی اصول پر(کراچی:ناشر ترقی اُردوبورڈ،1977)96/1۔
بلال زبیری،اسلامی حکومت اور سوشلزم(جھنگ:ادبی اکیڈمی،1972)34/1۔
ابوالاعلیٰ مودودی،اسلام اور جدید معاشی نظریات54/1۔
اشتراکیت نے دولت کی منصفانہ تقسیم اور اجتماعی فلاح کے اس نعرے کی آڑ میں دولت، سرمائے اور ذرائع معاش کو سرمایہ دارانہ چھوٹے چھوٹے سرمایہ داروں کے چنگل سے چھڑا کر ایک بڑے سرکاری سرمایہ دار کے چنگل میں پھنسا دیا۔ علامہ شمس الحق افغانی رحمت اللہ علیہ لکھتے ہیں ۔
"اس تحریک کا مقصد انسانوں کو سرمایہ داروں کے ظلم سے نجات دلانا تھا اس لیے کمیونسٹ حکومتوں نے ذرائع معاش پر قبضہ کیا لیکن درحقیقت انہوں نے تمام سرمایہ داروں کو مٹا کر ذرائع معاش کو ایک سرمایہ دار کے ہاتھ میں دے دیا”
چنانچہ عوام کے لیے اس اشتراکی حکومت کی طرح سے ظلم اور زیادتی کے صورت میں کوئی دوسرا راستہ موجود نہیں ہے جو افراد کا دست بازو بن کر ان کی فریاد رسی کر سکے سوائے اس زیادتی اور ظلم کو مجبورا اپنے اوپر نافذ کرنے کے کیونکہ ہر چیز خود اسی حکومت کے ہی قبضے میں ہے، جو عوام سے دو وقت کی روٹی کے لیے کو لہو کے بیل کی طرح کام کرواتی ہے، جس کے مطابق انہیں معاوضہ نہیں دیا جاتا ۔اور دولت ایک ہی جگہ پر مرتکز ہو کر رہ جاتی ہے۔
آر ویل جارج اپنی کتابAnimal Farm میں لکھتا ہے :
"اشتراکی نظام میں سب برابر ،مگر کچھ زیادہ برابر ہیں "
اشتراکی حکومتیں مزدوروں کو کارخانوں میں انتہائی سخت محنت پر مجبور کرتی ہیں جہاں ان کی پیدا کردہ تمام اشیاء پر ریاستی کنٹرول ہوتا ہے ۔حکومت ان مصنوعات کو اپنی مقرر کردہ قیمتوں پر فروخت کرتی ہے، جس پر عام مزدور کا کوئی اختیار نہیں ہوتا ۔بظاہر مزدوروں کو دیگر ممالک کی نسبت کچھ زیادہ اجرت دی جاتی ہے، تاکہ حکومتی پرپیگنڈے کو تقویت ملے لیکن حقیقت میں یہ اجرت بھی ریاست کی ہی قابو میں رہتی ہے۔ مزدور اپنی محنت سے تیار کردہ اشیاء کو خریدنے کے لیے وہی اجرت خرچ کرتے ہیں مگر ان پر ریاست کی اجارہ داری ہونے کے باعث قیمتیں اس حد تک بڑھا دی جاتی ہیں کہ وہ اپنی کمائی کا ایک بڑا حصہ دوبارہ حکومت کو لوٹا دیتے ہیں۔ نتیجتا حکومت جو کچھ بظاہر اضافی اجرت کے طور پر دیتی ہیں وہ دگنا یا بعض اوقات اس سے بھی زیادہ واپس حاصل کر لیتی ہے، یوں مزدوروں کو کسی حقیقی معاشی فائدے کے بغیر محض ایک سرکاری چکر میں الجھا کر رکھا جاتا ہے۔
اسلام اور تقسیم دولت {Islam and distribution wealth}
تاریخ میں مختلف معاشی نظام متعارف کرائے گئے تاکہ دولت کی منصفانہ تقسیم ممکن ہو لیکن عملی طور پر چاہے وہ سرمایہ دارانہ نظام ہو، اشتراکی ہو، یا کوئی اور ماڈل ،حقیقی انصاف فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس کے برعکس اسلام ایک متوازن اور عادلانہ معاشی نظام پیش کرتا ہے، جس میں دولت کی منصفانہ تقسیم کے لیے جامع اصول وضع کیے گئے ہیں۔ یہ اصول انسانی ضروریات، معاشی استحکام اورمعاشی مساوات کو مدنظر رکھتے ہیں۔اسلامی معیشت کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ دولت چند مخصوص افراد، یا طبقات تک محدود نہ رہے بلکہ پورے معاشرے میں منصفانہ بنیادوں پر گردش میں رہے۔ تاکہ ہر فرد کو اس کے معاشی حقوق حاصل ہو سکیں۔ قرآن کریم میں ارشاد باری ہے:
"كَیْ لَا یَكُوْنَ دُوْلَةً بَیْنَ الْاَغْنِیَآءِ مِنْكُمْ”
تاکہ وہ دولت تمہارے مالداروں کے درمیان گردش کرنے والی نہ ہوجائے۔
اسلامی اصول:
شمس الحق افغانی،سرمایہ دارانہ اور اشتراکی نظام کااسلامی معاشی نظام سے موازنہ،42/1۔
Orwell, George. Animal Farm, (London: Secker and Warburg, 1945)1/37.
القرآن:7/59۔
اسلام میں دولت کی منصفانہ اور متوازن تقسیم کے لیے اہم اصول متعین کیے گئے ہیں جو قرآن و حدیث کی تعلیمات پر مبنی ہیں۔ان اصولوں کو عملی طور پر نافذ کر کے ایک ایسا معاشی نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے، جو عدل و انصاف پر مبنی ہو اور سماج میں معاشی استحکام کو یقینی بنائے۔
(الف)ملکیت کا تصور:
اسلام ملکیت کا انتہائی متوازن اور عادلانہ تصور پیش کرتا ہے جو سرمایہ دارانہ نظام کی طرح نہ تو مطلق طور پر نجی ملکیت کی اجازت دیتا ہے اور نہ ہی اشتراکیت کی طرح مکمل طور پر قومی ملکیت گردانتا ہے ۔بلکہ اسلامی معاشی نظام دولت کی ہر ایک شکل کو حقیقتا اللہ تعالی کی ملکیت اور انسان کے مالکانہ حقوق کو عطاء باری تعالی قرار دیتا ہے ۔جیسا کہ قران مجید کی ذکر کردہ آیات مبارکہ سے واضح ہوتا ہے:
آیت (1)
"وَآتُوهُم مِّن مَّالِ اللَّهِ الَّذِي آتَاكُمْ”
اور انہیں اللہ کے اس مال میں سے دو جو اللہ نے تمہیں دیا ہے۔
آیت(2)
"وَلِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ وَمَا فِيْهِنَّ”
اور اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب کی بادشاہی ہے۔
آیت(3)
"لِيَأْكُلُوا مِنْ ثَمَرِهِ وَمَا عَمِلَتْهُ أَيْدِيهِمْ أَفَلَا يَشْكُرُونَ”
تاکہ وہ اس کے پھلوں میں سے کھائیں، اور یہ ان کے ہاتھوں کا بنایا ہوا نہیں پھر کیا وہ شکر ادا نہیں کرتے؟
ان آیات بینات سے واضح ہوتا ہے کہ دولت کی ہر صورت کا اصل مالک اللہ تعالی ہے ہر چیز اسی کی ہی پیدا کردہ ہے۔ اسی کے اختیار میں ہے کہ وہ جسے چاہے اس میں تصرف کا حق دے۔ جو اسی کے بتائے ہوئے قوانین اور احکامات کے تابع ہوگا۔
(ب)دولت کے حقدار:
اسلام صرف عاملین پیدائش کو ہی دولت کا حقدار قرار نہیں دیتا بلکہ اس میں کچھ وہ نادار، فقراء، اور مساکین افراد بھی شامل کرتا ہے جو محروم المعیشت ہیں جن تک حق پہنچانے کا اس مالک حقیقی نے حکم دے کر حقیقتاً استحکام کو ثابت کر دیا ہے ۔اور اس حق کے پہنچانے میں احسان کی نفی فرما دی کہ ان تک پہنچانا احسان نہیں بلکہ ان کا حق ہے ۔اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
"وَ فِیْ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّآىٕلِ وَ الْمَحْرُوْمِ”
اور ان کے مالوں میں حق تھا منگتا اور بے نصیب کا
دوسری جگہ ارشاد باری ہے:
"وَاٰتُوا حَقَّهٗ يَومَ حَصَادِهٖ”
اور جب ان کی کٹائی کا دن آئے تو ان کا حق ادا کرو
آیات بالا سے واضح ہوتا ہے کہ دولت کا استحقاق صرف اس کی پیداوار میں حصہ لینے والوں تک ہی محدود نہیں ،بلکہ وہ مفلس اور ضرورت مند افراد بھی اس کے مستحق ہیں جنہیں اللہ نے اس کا حقدار ٹھہرایا ہے ۔اسلام کی نظر میں دولت کی منصفانہ تقسیم یہی ہے کہ تمام عوامل پیدائش کو ان کی
القرآن:33/24۔
القرآن:120/5۔
القرآن:24/70
القرآن:141/6۔
محنت کا صلہ ملنے کے بعد وہ افراد بھی اس میں شامل ہوں جو مستحق سمجھے جاتے ہیں۔ اس طرح دولت کا بہاؤ معاشرے کے تمام طبقات تک پہنچتا ہے، تاکہ کوئی بھی بنیادی ضروریات سے محروم نہ رہے۔
محنت:
اسلام قطعا یہ نہیں کہتا کہ لاپرواہی کر کے مل جانے کی لالچ رکھ کر رزق نہ کمایا جائے بلکہ اسلام میں پہلی شرط محنت اورسعی رزق ہے، اللہ رب العزت نے انسان کو پیدا فرما کر اس کے لیے وسائل رزق مہیا فرمائے ہیں اور انسان کو اپنی کوشش کے ساتھ انہیں حاصل کرنے کی ترغیب دی ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے:
"فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ ابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ”
پھر جب نماز پوری ہوجائے تو زمین میں پھیل جاؤ اوراللہ کا فضل تلاش کرو اوراللہ کو بہت یاد کرو اس امید پر کہ تم کامیاب ہوجاؤ۔
محنت سے کمائی کرنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"مَا أَكَلَ أَحَدٌ طَعَامًا قَطُّ خَيْرًا مِنْ أَنْ يَأْكُلَ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ، وَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ يَأْكُلُ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ۔”
کسی انسان نے کبھی ایسا کھانا نہیں کھایا جو اپنے ہاتھ کی کمائی سے بہتر ہو،اور بے شک اللہ کے نبی داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھایا کرتے تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسب حلال کو فریضہ قرار دیاہے،چناچہ ارشاد نبوی ہے:
"طَلَبُ الْحَلَالِ فَرِيضَةٌ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ”
حلال روزی طلب کرنا فرض نماز کے بعد ایک اور فرض ہے
(ج)معاشی اصول کا موازنہ:
اسلام معیشت کو متوازن سمت پر چلانے کے لیے جیسے احکامات جاری کرتا ہے اسی طرح کچھ پابندیاں اصولوں کی شکل میں بھی عائد کرتا ہے۔ وہ درج ذیل تین قسم کی ہیں۔
خدائی پابندیاں:
اسلام نے انسانی زندگی کے تمام معاملات کی طرح معاشیات کے باب میں بھی حلال و حرام کے کچھ احکامات اور کچھ حدبندیاں جاری کی ہیں جن کی اپنی الگ ابدی حیثیت ہونے کے ساتھ ساتھ ہر زمانے میں اور ہر جگہ ان پر عمل کرنا لازمی ہے ۔ اسلام ان پابندیوں کو انسانی عقل کا محتاج نہیں ٹھہراتا بلکہ وہی الہی ان کا اصل منبع اور ماخذ ہیں خدا کے انسانی عقلوں میں تفاوت معاشرے کو ان پابندیوں سے آزاد کروا کر معاشرے کو معاشی بےرا ہ روی کا شکار نہ بنا دے ۔مثال کے طور پر سود ،قمار، سٹہ بازی ،اکتناز،احتکار، کے علاوہ باقی تمام بیوعات باطلہ کو ناجائز قرار دیا جن سے معاشرہ معاشی بداخلاقی غیر منصفانہ تقسیم دولت اور فرسودگی کا شکار ہو۔ چنانچہ مفتی تقی عثمانی لکھتے ہیں:”فَلَا يَجُوزُ لِأَحَدٍ مِنَ الْمُكْتَسِبِينَ أَنْ يَكْسِبَ الْمَالَ بِطَرِيقَةٍ غَيْرِ مَشْرُوعَةٍ مِنَ الرِّبَا وَالْقِمَارِ وَالتَّخمِينِ وَسَائِرِ الْبُيُوعِ الْفَاسِدَةِ أَوِ الْبَاطِلَةِ۔”
القرآن:10/62۔
بخاری،الجامع الصحیح،کتاب البیوع ،باب کسب الرجل وعملہ بیدہ،58/3۔
ابوکراحمدبن الحسین البیہقی،السنن الکبری،کتاب الاجارہ،باب کسب الرجل وعملہ بیدہ(حیدرآبادالہند:مجلس دائرةالنظامیہ،1344)128/6۔
محمدتقی عثمانی،تکملہ فتح الملھم،کتاب البیوع،المذہب الاقتصادی الاسلامی(کراچی:مکتبہ دارالعلوم،س ن)312/1۔
لہٰذا کسی بھی کمائی کرنے والے شخص کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنا مال کسی غیر شرعی طریقے سے حاصل کرے،جیسے سود، جُوئے، ناجائز منافع خوری، یا دیگر فاسد اور باطل بیوع کے ذریعے۔
ریاستی پابندیاں:
خدائی ابدی پابندیوں کے بعد اسلامی حکومت وقت کو یہ اختیار دیتا ہے کہ اگر تمام معاملات عین شریعت اسلامیہ کے مطابق چل رہے ہوں تو مداخلت نہ کرے اور اگر مباحات وغیرہ سے اجتماعی خرابی لازم آرہی ہو تو عمومی مصلحت کے تحت پابندی لگا سکتی ہے، تاکہ معاشی ناہمواریوں کا سدباب کیا جا سکے ۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ایک دفعہ بازار تشریف لائے اور دیکھا کہ ایک شخص چیز کو اس کے معروف نرخ سے بہت کم داموں میں فروخت کر رہا ہے۔ تو عمررضی اللّٰہ عنہ نےفرمایا:
"قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِبَعْضِ التُّجَّارِ:أَمَّا أَنْ تَزِيدَ فِي السِّعْرِ، وَإِمَّا أَنْ تَرْفع منْ سُوقِنَا”
حضرت عمر بن الخطابؓ نے بعض تاجروں سے فرمایا: تو تم اپنی قیمت میں اعتدال پیدا کرو ،ورنہ ہمارے بازار سے چلے جاؤ۔
حدیث مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ اگر اولی الامر کسی معاملے میں عمومی مفاد یا کسی مصلحت عامہ کی وجہ سے کوئی پابندی عائد کرنا چاہے تو اسے اختیار ہے ۔جیسا کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے معروف قیمت سےکم بیچنے پر پابندی عائد کی، گویا کہ آپ کا پابندی لگانا کسی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے اس کے کم نرخ سے زرخیز اندوزی یا لوگوں کا وہ چیز ضرورت سے زیادہ مقدار میں خریدنا اسراف کا سبب بن سکتا ہو۔اولی الامرکی لگائی گئی پابندی پر عمل کرنا واجب ہوتا ہے۔ چنانچہ قران مجید میں باری تعالی ہے :
"یٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْ”
اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور ان کی جو تم میں سے حکومت والے ہیں۔
اس آیت مبارکہ میں یہ وضاحت ملتی ہے کہ اولی الامرکی اطاعت واجب العمل ہے۔ البتہ ایک بات واضح رہے کہ یہ اطاعت اس وقت ہوگی جب قرآن و حدیث سے کوئی حکم نہ ملے دوسرا یہ کہ پابندیاں قرآن و حدیث کے کسی حکم کے متضاد نہ ہوں ،اگر حکم اولی الامرکسی حکم شرعی سےمتصادم ہو اور اس میں کوئی اجتماعی مصلحت نہ ہوئی تو وہ واجب العمل نہیں ہوگا کیونکہ اسلام نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ مخلوق کی اطاعت جائز نہیں جب خدائی حکم
آ جائے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ”
خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں کی جا سکتی۔
اورفقہی قاعدہ ہےکہ:
"التصرف علی الرعیة منوط بالمصلحة”
عوام پر حکومت کے اختیارات مصلحت کے ساتھ بندھےہوئےہیں۔
مالک بن انس،الموطا،کتاب البیوع،باب الحکرةوالتربص(کراچی:قدیمی کتب خانہ س ن)591/1۔
القرآن:59/4۔
ولی الدین ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ التبریزی ،مشکاة المصابیح ،کتاب الامارةو القضاء ،الفصل الثانی (بیروت: دارالکتب العلمیہ،1424)8/3۔
احمد الحجی الکردی، القواعد الفقہیۃ الکلیہ، القاعدۃ الثامنا: نظریۃ الولایہ (کویت: وزارت الوقف والثوون الاسلامیہ بدولت الکویت ،س ن)85/1۔
لہذا اولی الامر کے پابندی لگانے میں کوئی اجتماعی مصلحت نہ ہوئی تو قاضی اس پر پابندی کو ختم کرنے کا حق رکھتا ہے۔
نتیجہ{Conclusion}
- کسی بھی ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے دولت کی منصفانہ تقسیم بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
- دولت کا چند مخصوص طبقوں تک محدود رہنا معاشرتی عدم توازن اور ناہمواری کو جنم دیتا ہے۔
- وسائل اور دولت کے غیر مساوی ارتکاز سے عوامی سطح پر غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہوتا ہے۔
- معاشی عدم مساوات کے باعث عوام کے لیے ترقی اور بہتر معیارِ زندگی کے مواقع محدود ہو جاتے ہیں۔
- پائیدار ترقی کے لیے ضروری ہے کہ ریاست وسائل کی منصفانہ تقسیم اور سماجی انصاف کو یقینی بنائے۔
سفارشات {Recommendations}
جائیداد ٹیکس کا اختیار مقامی حکومتوں کو دیا جائے اور بڑے مالکان کی آمدنی کو ٹیکس کے دائرے میں لایا جائے۔
ایسا نظام قائم کیا جائے جو دولت کی منصفانہ گردش اور مساوی معاشی مواقع کو یقینی بنائے۔
حکومت فلاحی منصوبے، متوازن تنخواہی ڈھانچہ، اور مؤثر ٹیکس پالیسی نافذ کرے۔
زکوٰۃ اور غیر سودی مالیاتی نظام کو فروغ دے کر دولت کی منصفانہ تقسیم ممکن بنائی جائے۔
بجٹ میں عوامی ضروریات کو ترجیح دی جائے اور وفاقی حکومت کا حجم آئینی تقاضوں کے مطابق کم کیا جائے۔