ہم دنیا کو صرف آنکھوں سے نہیں دیکھتے۔ آنکھیں ہمیں مناظر دکھاتی ہیں، لیکن ان مناظر کو معنی ہمارا ذہن دیتا ہے۔ ایک ہی واقعہ دو انسانوں کے سامنے پیش آ سکتا ہے، دونوں اسے دیکھ بھی سکتے ہیں، اس کے بارے میں معلومات بھی حاصل کر سکتے ہیں، لیکن اس واقعے سے دونوں کا اخذ کردہ نتیجہ بالکل مختلف ہو سکتا ہے۔ فرق ہمیشہ معلومات کا نہیں ہوتا؛ اکثر فرق اس ذہنی سانچے کا ہوتا ہے جس کے ذریعے ہم معلومات کو دیکھتے، پرکھتے اور معنی دیتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ انسان بعض اوقات نئی بات سن کر فوراً اسے قبول نہیں کرتا، حالاں کہ بات دلیل کے اعتبار سے مضبوط ہوتی ہے۔ اس کے برعکس بعض خیالات ایسے ہوتے ہیں جنہیں وہ بغیر زیادہ تحقیق کے قبول کر لیتا ہے، صرف اس لیے کہ وہ اس کے پہلے سے بنے ہوئے تصور کے مطابق ہوتے ہیں۔ گویا ہمارے ذہن میں کچھ ایسے غیر محسوس نقشے موجود ہوتے ہیں جن کی مدد سے ہم دنیا کو سمجھتے ہیں۔ ہم ہر نئی چیز کو انہی نقشوں پر رکھ کر دیکھتے ہیں؛ جو چیز نقشے میں سما جائے اسے ماننا آسان ہوتا ہے، اور جو اس سے باہر نکل آئے اسے سمجھنے میں وقت لگتا ہے۔
ہماری نظر سے پہلے ہمارا زاویۂ نظر کام کرتا ہے
ایک بچے کے لیے بارش خوشی کا سبب ہو سکتی ہے، کسان کے لیے رزق کی امید، کسی مسافر کے لیے پریشانی اور کسی شہر کے منتظم کے لیے شہری نظم کا ایک مسئلہ۔ بارش ایک ہی ہے، مگر اس کے معنی مختلف ہیں۔ اس مثال میں کوئی شخص غلط ضروری نہیں؛ ہر شخص اپنی ضرورت، تجربے اور پس منظر کے مطابق حقیقت کے ایک پہلو کو دیکھ رہا ہے۔
مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں انسان اپنے دیکھے ہوئے پہلو کو پوری حقیقت سمجھ لیتا ہے۔
ہم میں سے اکثر لوگ یہ نہیں جانتے کہ ہماری بہت سی آراء دراصل ہماری اپنی آزادانہ تحقیق کا نتیجہ نہیں ہوتیں۔ ہمارے خاندان، معاشرے، تعلیمی ماحول، اساتذہ، دوستوں، مطالعے، تجربات، کامیابیوں، ناکامیوں اور کبھی کبھی ہمارے زمانے کے عمومی رجحانات نے مل کر ہمارے اندر دنیا کا ایک تصور بنا دیا ہوتا ہے۔ پھر ہم اسی تصور کے مطابق نئے واقعات کی تشریح کرتے رہتے ہیں۔
یہ عمل ہمیشہ برا نہیں۔ انسان اگر ہر معاملے کو ابتدا سے دوبارہ سمجھنے لگے تو زندگی گزارنا ممکن نہ رہے۔ ذہن کو سابقہ تجربات کی بنیاد پر چیزوں کو سمجھنے کے لیے کچھ سانچوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن یہی سہولت اس وقت رکاوٹ بن جاتی ہے جب ہم اپنے سانچوں کو حقیقت کا آخری معیار سمجھ لیتے ہیں۔
ایک عجیب سوال: کیا ہم واقعی وہی دیکھتے ہیں جو ہمارے سامنے ہے؟
ذرا ایک سادہ تجربہ کیجیے۔ کسی ایسی شخصیت کے بارے میں سوچیے جس کے بارے میں آپ کے ذہن میں ایک واضح رائے قائم ہے۔ اب اس شخص کا کوئی ایسا عمل سامنے آئے جو آپ کی رائے کے خلاف ہو۔ ممکن ہے آپ فوراً کہیں: ’’اس کے پیچھے کوئی اور وجہ ہوگی۔‘‘ لیکن اگر یہی عمل کوئی ایسا شخص کرے جس کے بارے میں آپ پہلے ہی اچھی رائے رکھتے ہیں تو ممکن ہے آپ اسی واقعے کی ایک بالکل مختلف تشریح کریں۔
یہاں واقعہ تبدیل نہیں ہوا؛ واقعے کو دیکھنے والا ذہنی فریم تبدیل ہوا ہے۔
اسی طرح ایک طالب علم جسے ہم پہلے ہی ’’کمزور‘‘ سمجھ چکے ہوں، اگر کوئی اچھا جواب دے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ اتفاقاً درست ہوگیا ہوگا۔ لیکن جسے ہم ذہین سمجھتے ہوں، اس کی معمولی کامیابی بھی ہمیں اس کی ذہانت کا ثبوت محسوس ہو سکتی ہے۔
انسان صرف واقعات نہیں دیکھتا، وہ واقعات کو اپنے سابقہ تصورات کی روشنی میں پڑھتا ہے۔
یہی انسانی ذہن کی ایک بنیادی خصوصیت ہے کہ وہ نئی معلومات کو پہلے سے موجود علم اور تجربے کے ساتھ جوڑ کر سمجھتا ہے۔ اسی لیے سیکھنے کا عمل صرف نئی معلومات جمع کرنا نہیں؛ کبھی کبھی نئی معلومات کے لیے پرانے ذہنی ڈھانچوں کو بھی ازسرِنو دیکھنا پڑتا ہے۔
سب سے خطرناک سانچے وہ ہیں جن کا ہمیں علم ہی نہیں
اگر کوئی شخص جانتا ہو کہ اس کے پاس ایک خاص تعصب ہے تو اس کے ساتھ معاملہ کرنا نسبتاً آسان ہے۔ اصل مشکل ان خیالات کی ہے جنہیں ہم تعصب سمجھتے ہی نہیں، بلکہ انہیں ’’حقیقت‘‘ سمجھ کر جیتے ہیں۔
ہمیں اپنے بارے میں کچھ یقین ہوتے ہیں جیسے: میں ایسا ہی ہوں، یہ میرے بس کی بات نہیں، ہمارے ہاں یہ نہیں ہوسکتا، فلاں طبقہ ایسا ہی ہوتا ہے، فلاں علم کا کوئی فائدہ نہیں، نئی نسل کو کچھ سمجھ نہیں، پرانے لوگ زمانے کے تقاضے نہیں سمجھتے، جدید تعلیم دین سے دور لے جاتی ہے، دینی تعلیم کا تعلق عملی زندگی سے نہیں، مغربی دنیا کے پاس ہمارے لیے کچھ نہیں، یا اس کے برعکس جو کچھ وہاں سے آتا ہے وہ لازماً ترقی کی علامت ہے۔
ان میں سے بعض باتیں کسی خاص تجربے کی بنیاد پر درست بھی ہو سکتی ہیں، لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب جزوی تجربہ عمومی قانون بن جائے۔
یہی ذہنی سانچے پھر ہماری ترجیحات طے کرتے ہیں۔ ہم کچھ کتابیں کھولتے ہیں اور کچھ کتابیں اس لیے نہیں کھولتے کہ ہمیں پہلے ہی معلوم ہوتا ہے کہ ’’اس میں ہمارے لیے کیا رکھا ہے؟‘‘ ہم کچھ لوگوں کی بات غور سے سنتے ہیں اور کچھ کی بات شروع ہونے سے پہلے ہی ذہن میں اس کا جواب تیار کر لیتے ہیں۔
یوں کبھی کبھی ہمارا مسئلہ علم کی کمی نہیں ہوتا؛ مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنے محدود علم کی حفاظت بہت زیادہ کرتے ہیں۔
قرآن ہمیں صرف دیکھنے نہیں، غور کرنے کی دعوت دیتا ہے
قرآن مجید انسان کو بار بار دیکھنے، غور کرنے، سوچنے اور نتائج اخذ کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ آسمان و زمین کی تخلیق، رات اور دن کی گردش، انسانی وجود، تاریخ اور اقوام کے احوال، یہ سب محض معلومات فراہم کرنے کے لیے نہیں، بلکہ فکر کی تربیت کے لیے بیان کیے گئے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ
’’کیا وہ قرآن میں غور نہیں کرتے؟‘‘
(سورۃ محمد: 24)
تدبر کا مفہوم محض الفاظ پڑھ لینا نہیں۔ اس میں رک کر سوچنا، بات کے اندر اترنا، اس کے باہمی ربط کو سمجھنا اور اس کے نتائج تک پہنچنا شامل ہے۔
قرآن کا ایک اور اسلوب قابلِ غور ہے:
أَفَلَا تَعْقِلُونَ، أَفَلَا تَتَفَكَّرُونَ، أَفَلَا يَنْظُرُونَ۔
گویا وحی انسان سے اس کے ذہن کو بند کرنے کا مطالبہ نہیں کرتی؛ بلکہ اسے صحیح استعمال کرنے کی دعوت دیتی ہے۔
یہاں ایک بنیادی نکتہ سامنے آتا ہے: اسلام میں ایمان اور غوروفکر ایک دوسرے کے مخالف نہیں۔ وحی انسان کو سمت دیتی ہے اور عقل اس سمت میں غور، فہم اور تطبیق کے عمل میں اپنا کردار ادا کرتی ہے۔ اسی لیے اسلامی علمی روایت میں سوال، استدلال، مناظرہ، تدبر، قیاس، تحقیق اور نقد کے مختلف اسالیب پیدا ہوئے۔
اگر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو دیکھیں تو رسول اللہ ﷺ کی دعوت کا ایک بڑا پہلو یہ بھی تھا کہ آپ ﷺ نے لوگوں کے صرف اعمال نہیں بدلے، ان کے تصورات بھی بدلے۔
مکہ کے لوگوں کے ذہن میں انسان، قبیلہ، عزت، طاقت، دولت، معبود، آخرت اور کامیابی کے بارے میں مخصوص تصورات موجود تھے۔ اسلام آیا تو اس نے صرف چند نئے احکام نہیں دیے؛ اس نے انسان کو یہ سکھایا کہ اصل عزت نسب اور قبیلے سے نہیں بلکہ تقویٰ سے ہے، اصل کامیابی دنیاوی غلبہ نہیں بلکہ آخرت کی فلاح ہے، انسان کا مالک خود انسان نہیں بلکہ اس کا خالق ہے، اور طاقت کا مقصد ظلم نہیں بلکہ امانت اور ذمہ داری ہے۔
یہ تبدیلی محض معلومات منتقل کرنے سے نہیں آئی۔ قرآن نے بار بار انسان کے سوچنے کے انداز کو مخاطب کیا، اور رسول اللہ ﷺ نے اپنی دعوت، تربیت اور عملی نمونے سے ان تصورات کو ایک نئی زندگی عطا کی۔
یہی وجہ ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگی میں اسلام محض معلومات کا اضافہ نہیں تھا؛ وہ نظر کی تبدیلی تھی۔ دنیا وہی تھی، لیکن دنیا کو دیکھنے والا انسان بدل گیا تھا۔
کبھی کبھی نئی بات غلط نہیں ہوتی، ہمارا پرانا نقشہ چھوٹا ہوتا ہے
یہ جملہ شاید اس پورے مسئلے کی بنیاد ہے۔
ہمیں ہر نئی بات قبول کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہر جدید نظریہ درست نہیں، ہر مغربی تصور قابلِ اقتدا نہیں، ہر پرانی بات ناقابلِ تنقید نہیں، اور ہر نئی بات محض نئی ہونے کی وجہ سے قابلِ رد بھی نہیں۔
اصل مطلوب فکری دیانت ہے۔
یعنی انسان کسی خیال کو صرف اس لیے قبول نہ کرے کہ وہ اس کے پسندیدہ حلقے سے آیا ہے، اور صرف اس لیے رد بھی نہ کرے کہ وہ کسی دوسرے حلقے سے آیا ہے۔ وہ بات کو دیکھے، دلیل کو سمجھے، مفروضے کو پہچانے، نتائج کا جائزہ لے اور پھر اسے اپنے علمی و دینی اصولوں کی روشنی میں پرکھے۔
اسلامی علمی روایت میں یہ مزاج اجنبی نہیں۔ اہلِ علم نے مختلف تہذیبوں اور علوم سے استفادہ کیا، لیکن استفادہ اور مرعوبیت کو ایک نہیں سمجھا۔ جو چیز درست ملی اسے قبول کیا، جو غلط تھی اسے رد کیا، اور جہاں کسی تصور کو اسلامی اصولوں کے مطابق نئی تعبیر کی ضرورت تھی وہاں اس پر علمی کام کیا۔
یہی وہ رویہ ہے جسے ایک خوبصورت اصول میں یوں سمیٹا گیا ہے: خذ ما صفا ودع ما کدر
جو صاف اور درست ہو اسے لے لو، اور جو آلودہ ہو اسے چھوڑ دو۔
علم کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ وہ ہمیں اپنی لاعلمی دکھا دیتا ہے۔
ہم عام طور پر سمجھتے ہیں کہ علم بڑھنے سے ہمیں زیادہ جوابات ملیں گے۔ یہ درست ہے، لیکن علم کا ایک اور گہرا اثر بھی ہے: وہ ہمارے سوالات کو بہتر بنا دیتا ہے۔
ایک شخص کسی موضوع کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تو ممکن ہے اس کے ذہن میں صرف ایک سوال ہو۔ جب وہ اس موضوع کا سنجیدہ مطالعہ کرتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ مسئلہ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ مزید مطالعہ اسے مزید سوالات دیتا ہے، پھر مختلف زاویے سامنے آتے ہیں، پھر پہلے سے قائم بعض تصورات کمزور ہوتے ہیں اور بعض زیادہ مضبوط۔
یہ ذہنی اضطراب ہمیشہ نقصان دہ نہیں ہوتا۔ کبھی یہی اضطراب فکری بیداری کی علامت ہوتا ہے۔
اصل خطرہ اس وقت ہے جب انسان سوال سے گھبرا کر فوراً کسی تیار شدہ جواب میں پناہ لے لے۔
زندہ ذہن بعض اوقات ’’مجھے معلوم نہیں‘‘ کہنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وہ کسی مسئلے کو کچھ عرصہ اپنے ساتھ رہنے دیتا ہے۔ وہ پڑھتا ہے، سنتا ہے، سوال کرتا ہے، مختلف زاویے دیکھتا ہے اور پھر رائے قائم کرتا ہے۔
اس مضمون کو صرف پڑھ کر آگے بڑھ جانا شاید اس موضوع کے ساتھ انصاف نہ ہو۔ ذرا اپنے لیے چند سوال لکھیے:
میں کن لوگوں کی بات پہلے سے طے شدہ رائے کے ساتھ سنتا ہوں؟
کن موضوعات پر میری رائے اتنی پختہ ہے کہ میں مخالف دلیل سننے سے پہلے ہی جواب تیار کر لیتا ہوں؟
کون سی کتابیں یا علوم میں نے کبھی پڑھے ہی نہیں، لیکن ان کے بارے میں میری رائے بہت واضح ہے؟
کیا میں اپنے پسندیدہ لوگوں کی غلطی کو بھی اسی معیار سے دیکھتا ہوں جس معیار سے مخالف شخص کی غلطی کو دیکھتا ہوں؟
کیا میرے کسی سابقہ تجربے نے مجھے پوری ایک جماعت، علم، طبقے یا نسل کے بارے میں عمومی فیصلہ کرنے پر مجبور کر دیا ہے؟
اور سب سے اہم سوال:
اگر کوئی مضبوط دلیل میرے کسی پرانے تصور کو چیلنج کرے تو کیا میں اپنی رائے پر نظرِ ثانی کر سکتا ہوں؟
اگر ان سوالات میں سے چند کے جواب ہمیں بے چین کرتے ہیں تو شاید یہی بے چینی اس مضمون کا سب سے قیمتی حاصل ہے۔
اچھا یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ ذہنی وسعت کا مطلب اصولوں سے دستبرداری نہیں۔ کیونکہ اس غلط فہمی کو دور کرنا ضروری ہے۔ ذہن کو کھولنے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان حق و باطل کے درمیان فرق ختم کر دے، ہر نظریے کو یکساں درست سمجھنے لگے یا اپنی دینی بنیادوں سے دستبردار ہوجائے۔
بلکہ مضبوط علمی شخصیت وہ ہے جو اصولوں میں واضح اور غوروفکر میں کشادہ ہو۔
وہ قرآن و سنت کو اپنی بنیادی رہنمائی سمجھتے ہوئے دنیا کے تجربات کو دیکھ سکتی ہے۔ وہ کسی مفید علمی دریافت سے صرف اس لیے فائدہ نہیں اٹھاتی کہ وہ باہر سے آئی ہے، اور کسی کمزور تصور کو صرف اس لیے قبول نہیں کرتی کہ وہ جدید اصطلاحات میں پیش کیا گیا ہے۔
اس کے پاس ایک میزان ہوتا ہے۔
اسی میزان کی وجہ سے وہ دنیا سے سیکھ بھی سکتی ہے اور دنیا سے مرعوب ہوئے بغیر سیکھ سکتی ہے۔ وہ اپنے علمی ورثے پر فخر بھی کر سکتی ہے اور اپنے ورثے کے نام پر علمی جمود کا شکار بھی نہیں ہوتی۔
آخر میں اصل سوال دنیا کا نہیں، ہماری نظر کا ہے
ہم میں سے ہر شخص اپنے ذہن میں ایک دنیا لیے پھرتا ہے۔ اس دنیا میں کچھ راستے روشن ہیں، کچھ دھندلے، کچھ بالکل بند اور کچھ ایسے جن کے بارے میں ہمیں گمان ہی نہیں کہ وہاں کوئی راستہ موجود ہے۔
علم کا سفر شاید اسی وقت حقیقی سفر بنتا ہے جب ہم کبھی کبھی اپنے ذہن کے نقشے کو میز پر رکھ کر اسے دیکھیں اور پوچھیں: کیا یہ پوری دنیا ہے یا صرف وہ دنیا ہے جسے میں اب تک دیکھ سکا ہوں؟
ممکن ہے ہمیں معلوم ہو کہ بعض دیواریں حقیقت کی نہیں، ہمارے تصورات کی تھیں۔ بعض راستے بند نہیں تھے، ہم نے انہیں بند سمجھ رکھا تھا۔ بعض سوالات خطرناک نہیں تھے، ہم ان سے صرف اس لیے گھبراتے تھے کہ وہ ہمارے مانوس جوابات کو چیلنج کرتے تھے۔
اور شاید یہی فکری تربیت کا پہلا قدم ہے:
دنیا کو بدلنے سے پہلے اپنی نظر کو دیکھنا۔
کیونکہ جس انسان کی نظر وسیع ہو جائے، اس کے لیے علم صرف معلومات کا ذخیرہ نہیں رہتا؛ وہ بصیرت بننے لگتا ہے۔ بصیرت فیصلوں کو بدلتی ہے، فیصلے کردار بناتے ہیں، کردار قیادت کو جنم دیتا ہے اور پھر یہی سفر فرد سے