انسان کے پاس علم ہو، تجربہ ہو، صلاحیت ہو اور نیک نیتی بھی ہو، لیکن اگر وہ اپنی بات دوسروں تک اس انداز سے نہ پہنچا سکے کہ سامنے والا اسے سمجھ بھی سکے، محسوس بھی کرے اور اس پر غور کرنے کے لیے آمادہ بھی ہو جائے، تو اس کی بہت سی صلاحیتیں اپنی تاثیر کھو دیتی ہیں۔ زندگی میں بڑے بڑے فاصلے اکثر خیالات کے اختلاف سے نہیں بلکہ ایک دوسرے کو درست طور پر سمجھ نہ پانے سے پیدا ہوتے ہیں۔ ایک ہی بات کسی کے لیے نصیحت بن جاتی ہے، کسی کے لیے تنقید، کسی کے لیے حوصلہ افزائی اور کسی کے لیے دل آزاری۔ فرق اکثر الفاظ کے مضمون میں نہیں بلکہ ان کے انتخاب، لہجے، وقت، موقع اور مخاطب کی کیفیت کو سمجھنے میں ہوتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ابلاغ محض گفتگو کا نام نہیں رہتا بلکہ شخصیت کی ایک بنیادی صلاحیت بن جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو "بیان” کی صلاحیت عطا کرکے اس کی ایک نمایاں خصوصیت کی طرف اشارہ فرمایا۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: "خَلَقَ الْإِنسَانَ، عَلَّمَهُ الْبَيَانَ”۔ یعنی اس نے انسان کو پیدا کیا اور اسے بیان سکھایا۔ گویا انسان کا دوسروں تک اپنے شعور، احساس اور علم کو منتقل کرنا اس کی فطرت کا حصہ ہے۔ اسی لیے قرآن مجید نے گفتگو کے بارے میں صرف یہ نہیں بتایا کہ کیا کہا جائے، بلکہ یہ بھی سکھایا کہ کیسے کہا جائے۔ کہیں "قَوْلًا سَدِيدًا” کی ہدایت ہے، کہیں "قَوْلًا لَيِّنًا” کا حکم ہے اور کہیں "يَقُولُوا الَّتِي هِيَ أَحْسَنُ” کا اصول دیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی تصورِ ابلاغ میں سچائی، درستگی، نرمی اور حسنِ بیان ایک دوسرے سے الگ چیزیں نہیں بلکہ ایک ہی اخلاقی ذمہ داری کے مختلف پہلو ہیں۔
مؤثر ابلاغ کا پہلا اصول یہ ہے کہ انسان کو معلوم ہو کہ وہ کیا کہنا چاہتا ہے۔ بہت سے لوگ بات اس لیے مؤثر انداز میں نہیں کر پاتے کہ ان کے ذہن میں خود بات واضح نہیں ہوتی۔ خیالات منتشر ہوں تو الفاظ بھی منتشر ہوجاتے ہیں، مقصد غیر واضح ہو تو گفتگو بھی ادھر ادھر بھٹکتی رہتی ہے۔ اس لیے اچھی گفتگو بولنے سے پہلے سوچنے کا نام ہے۔ ایک سنجیدہ انسان اپنے آپ سے پوچھتا ہے: میری اصل بات کیا ہے؟ میں یہ بات کیوں کہنا چاہتا ہوں؟ میرے مخاطب کو اس سے کیا فائدہ ہوگا؟ اور میری گفتگو کے بعد میں اس سے کیا تبدیلی چاہتا ہوں؟ جب یہ سوالات واضح ہو جائیں تو گفتگو میں غیر ضروری طوالت کم اور تاثیر زیادہ ہو جاتی ہے۔
لیکن صرف اپنی بات کا واضح ہونا کافی نہیں۔ مؤثر ابلاغ کا دوسرا اور شاید زیادہ اہم پہلو یہ ہے کہ آپ اپنے مخاطب کو سمجھتے ہوں۔ ایک ہی بات ایک بچے، ایک نوجوان، ایک عالم، ایک مزدور، ایک استاد اور ایک بزرگ سے یکساں انداز میں نہیں کہی جا سکتی۔ رسول اللہ ﷺ کی دعوتی حکمت میں مخاطب شناسی ایک نمایاں وصف ہے۔ آپ ﷺ لوگوں کے حالات، ذہنی استعداد اور موقع و محل کے مطابق گفتگو فرماتے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب کوئی بات فرماتے تو بعض اوقات اسے تین مرتبہ دہراتے تاکہ بات اچھی طرح سمجھ لی جائے۔ یہ معمولی بات نہیں۔ اس میں ایک عظیم ابلاغی اصول پوشیدہ ہے کہ بات کرنے والے کی ذمہ داری صرف بول دینا نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ بات سمجھ میں آئے۔
یہی وجہ ہے کہ علم کی کثرت اور ابلاغ کی مہارت دو الگ صلاحیتیں ہیں۔ ایک شخص بہت بڑا عالم ہو سکتا ہے، لیکن ضروری نہیں کہ وہ پیچیدہ بات کو سادہ انداز میں سمجھانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو۔ دوسری طرف ایک اچھا مقرر اپنی گفتگو سے لوگوں کی توجہ حاصل کر سکتا ہے، لیکن اگر اس کے پاس علمی گہرائی نہ ہو تو اس کی تاثیر دیرپا نہیں ہوتی۔ اصل کمال اس وقت پیدا ہوتا ہے جب علم، حکمت، زبان، مخاطب شناسی اور کردار ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں عالم صرف صاحبِ علم نہیں رہتا بلکہ صاحبِ اثر بن جاتا ہے۔
یہاں سننے کی صلاحیت کا ذکر بھی ضروری ہے، کیونکہ ہم عموماً مؤثر ابلاغ کو بولنے کی صلاحیت سمجھتے ہیں، حالانکہ اچھا بولنے والا بننے سے پہلے اچھا سننے والا بننا پڑتا ہے۔ جو شخص دوسروں کی بات پوری طرح سنے بغیر جواب دینا شروع کر دیتا ہے، وہ اکثر اس سوال کا جواب دے رہا ہوتا ہے جو سامنے والے نے پوچھا ہی نہیں۔ حقیقی سماعت کا مطلب یہ ہے کہ ہم صرف الفاظ نہ سنیں بلکہ ان کے پیچھے موجود احساس، خوف، ضرورت اور سوال کو بھی سمجھنے کی کوشش کریں۔ جدید ابلاغی تربیت میں بھی فعال سماعت کو تعلقات اور باہمی اعتماد کی بنیادی مہارت قرار دیا جاتا ہے، اور یہ اصول ہماری دینی روایت میں بھی نہایت گہری بنیاد رکھتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں لوگ اپنے حالات بیان کرتے، سوالات کرتے، اپنی پریشانیاں پیش کرتے اور مختلف معاملات میں رہنمائی لیتے تھے۔ آپ ﷺ صرف جواب دینے والے نہیں بلکہ انسانوں کو سمجھنے والے رہنما تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ کی گفتگو ہر شخص کے لیے اس کی ضرورت کے مطابق ہوتی تھی۔ کسی کو مختصر جواب کافی ہوتا، کسی کے لیے تفصیل ضروری ہوتی، کسی کو نصیحت دی جاتی، کسی کی حوصلہ افزائی کی جاتی اور کسی کے اندر موجود صلاحیت کو ابھارا جاتا۔ ایک قائد کے لیے یہ صلاحیت نہایت اہم ہے کہ وہ صرف یہ نہ دیکھے کہ "مجھے کیا کہنا ہے”، بلکہ یہ بھی سمجھے کہ "اس شخص کو اس وقت کیا سننے کی ضرورت ہے۔”
ابلاغ کا ایک تیسرا ستون لہجہ ہے۔ بعض اوقات بات درست ہوتی ہے مگر انداز غلط ہوتا ہے، نتیجتاً درست بات بھی دل تک نہیں پہنچتی۔ قرآن نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام کو فرعون جیسے متکبر اور سرکش حکمران کے پاس بھیجتے ہوئے فرمایا: "فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَيِّنًا”، یعنی اس سے نرم بات کرنا۔ غور کیجیے کہ یہ حکم کسی نرم مزاج انسان کے لیے نہیں بلکہ فرعون کے لیے دیا گیا تھا۔ اس میں دعوت اور ابلاغ کا ایک عظیم اصول موجود ہے کہ مخاطب کی سختی ہمیں اپنے اخلاق کی سختی کا جواز نہیں دیتی۔ نرمی کمزوری نہیں؛ بعض اوقات نرمی ہی وہ قوت ہوتی ہے جو بند دروازے کھول دیتی ہے۔
اسی طرح قرآن مجید نے فرمایا: "وَقُل لِّعِبَادِي يَقُولُوا الَّتِي هِيَ أَحْسَنُ، إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنزَغُ بَيْنَهُمْ”۔ یعنی میرے بندوں سے کہہ دیجیے کہ وہی بات کہیں جو سب سے بہتر ہو، بے شک شیطان ان کے درمیان فساد ڈالتا ہے۔ یہاں صرف "اچھی بات” نہیں بلکہ "سب سے بہتر بات” کہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ گفتگو میں صرف درست اور غلط کا مسئلہ نہیں، بعض اوقات دو درست باتوں میں سے بھی زیادہ مناسب، زیادہ نرم اور زیادہ حکمت والی بات کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔
یہ اصول آج کے دور میں پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے، کیونکہ ہمارے پاس گفتگو کے ذرائع بہت بڑھ گئے ہیں لیکن گفتگو کا تحمل کم ہوتا جا رہا ہے۔ ایک شخص چند سیکنڈ میں تبصرہ کر سکتا ہے، چند لمحوں میں کسی کی تحریر کو رد کر سکتا ہے اور ایک مختصر جملے سے برسوں کے تعلق کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ڈیجیٹل دنیا نے اظہار کو آسان کیا ہے، لیکن اس آسانی نے ذمہ داری کو کم نہیں کیا بلکہ بڑھا دیا ہے۔ اب ہماری زبان صرف ہمارے سامنے بیٹھے ہوئے چند لوگوں تک محدود نہیں رہتی؛ ایک جملہ ہزاروں لوگوں تک پہنچ سکتا ہے اور بعض اوقات برسوں تک محفوظ رہ سکتا ہے۔ اس لیے موجودہ دور میں مؤثر ابلاغ کے ساتھ ذمہ دار ابلاغ بھی ضروری ہے۔
یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا چاہیے: ہر وائرل بات مؤثر نہیں ہوتی اور ہر مؤثر بات وائرل نہیں ہوتی۔ شور پیدا کرنا اور اثر پیدا کرنا دو الگ چیزیں ہیں۔ سنسنی لوگوں کی توجہ حاصل کر سکتی ہے، لیکن اعتماد نہیں۔ غصہ وقتی طور پر مجمع کو گرم کر سکتا ہے، لیکن دلوں کو مستقل طور پر نہیں بدلتا۔ بلند آواز کسی کو خاموش کرا سکتی ہے، مگر ضروری نہیں کہ اسے قائل بھی کر دے۔ حقیقی ابلاغ وہ ہے جو انسان کے اندر سوچ پیدا کرے، اسے اپنی غلطی دیکھنے کا حوصلہ دے اور اسے خیر کی طرف قدم بڑھانے پر آمادہ کرے۔
اسی مقام پر جدید ابلاغی فکر کا ایک مفید پہلو سامنے آتا ہے۔ ڈیل کارنیگی جیسے ماہرین نے انسانی تعلقات میں دوسروں کو اہمیت دینے، توجہ سے سننے، ان کے نقطۂ نظر کو سمجھنے اور غیر ضروری بحث سے بچنے پر زور دیا۔ ان کے تربیتی اصولوں میں یہ تصور نمایاں ہے کہ انسان کو اپنی بات منوانے سے پہلے دوسرے انسان کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ اصول اپنی اصل اخلاقی بنیادوں کے اعتبار سے اسلامی تعلیمات سے متصادم نہیں؛ البتہ اسلام اسے محض لوگوں کو متاثر کرنے کی تدبیر نہیں بناتا بلکہ حسنِ اخلاق، خیر خواہی اور حق کی دعوت کے ساتھ جوڑتا ہے۔ یہاں مقصد صرف یہ نہیں کہ "لوگ میری بات مانیں”، بلکہ یہ ہے کہ حق بات اس انداز سے پہنچے کہ مخاطب اسے انصاف کے ساتھ سننے اور سمجھنے کے قابل ہو جائے۔
مؤثر ابلاغ میں کہانی اور مثال کا بھی غیر معمولی مقام ہے۔ انسان محض خشک معلومات سے نہیں بدلتا؛ وہ واقعات، تجربات، مثالوں اور انسانی صورتِ حال سے بھی سیکھتا ہے۔ قرآن مجید نے تعلیم و تربیت کے لیے واقعات اور مثالوں کا کثرت سے استعمال کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی تعلیم کے مختلف مواقع پر مثالوں، سوالات، واقعات اور مشاہدات سے مدد لی۔ اس لیے ایک اچھا استاد یا مقرر صرف معلومات نہیں دیتا بلکہ ان معلومات کو ایسی صورت میں پیش کرتا ہے کہ وہ ذہن میں ٹھہر جائیں۔ ایک پیچیدہ مسئلے کو ایک مناسب مثال آسان بنا سکتی ہے اور ایک مناسب واقعہ کبھی کبھی وہ بات سمجھا دیتا ہے جس کے لیے کئی صفحات درکار ہوتے ہیں۔
مؤثر گفتگو کا ایک اہم حصہ یہ بھی ہے کہ انسان اپنی زبان کو اپنے مخاطب کے علمی درجے کے مطابق رکھے۔ علمی ہونا اور مشکل زبان استعمال کرنا مترادف نہیں۔ بعض اوقات ہم اپنی علمی حیثیت ثابت کرنے کے لیے ایسی اصطلاحات اور پیچیدہ جملے استعمال کرتے ہیں جو مخاطب کو بات سے دور کر دیتے ہیں۔ حالانکہ علم کی اصل شان یہ ہے کہ وہ پیچیدہ حقیقت کو بھی مناسب زبان میں واضح کر سکے۔ جو شخص ایک گہری بات کو عام فہم انداز میں سمجھا سکتا ہے، وہ صرف صاحبِ علم نہیں بلکہ صاحبِ بیان بھی ہے۔
اسی طرح مؤثر ابلاغ کا تعلق جسمانی رویے اور چہرے کے تاثرات سے بھی ہے۔ مخاطب صرف ہمارے الفاظ نہیں سنتا، وہ ہماری آنکھیں، چہرہ، نشست، توجہ اور لہجہ بھی پڑھتا ہے۔ اگر زبان کہہ رہی ہو کہ "میں تمہاری بات سن رہا ہوں” لیکن نگاہ موبائل پر ہو تو اصل پیغام موبائل دیکھنے سے پہنچتا ہے۔ اگر ہم کسی شخص کی بات سنتے ہوئے بار بار اسے روکیں تو ہمارے الفاظ سے زیادہ ہمارا رویہ اسے یہ بتا رہا ہوتا ہے کہ اس کی بات ہمارے لیے اہم نہیں۔ اس لیے مؤثر ابلاغ دراصل مکمل انسانی موجودگی کا نام ہے۔
تعلقات کے میدان میں ابلاغ کی ایک اور بڑی آزمائش اختلاف ہے۔ ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ اچھا ابلاغ وہ ہے جس میں ہماری بات تسلیم کر لی جائے، حالانکہ حقیقی کمال اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب سامنے والا ہم سے اختلاف کرے اور ہم پھر بھی اس کے احترام کو برقرار رکھ سکیں۔ اختلافِ رائے انسانی زندگی کا لازمی حصہ ہے۔ مسئلہ اختلاف نہیں، اختلاف کا اخلاق ہے۔ اگر اختلاف ہمیں تحقیر، طنز، بدگمانی اور قطع تعلق تک پہنچا دے تو ہم نے اپنی بات شاید ثابت کر دی ہو، مگر تعلق اور خیر دونوں کھو دیے۔
اسلامی تعلیمات میں مکالمے کا حسن اسی لیے نمایاں ہے۔ قرآن مجید نے دعوت کے لیے حکمت، اچھی نصیحت اور بہترین انداز میں گفتگو کی راہ دکھائی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کا واقعہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ سخت ترین مخاطب کے ساتھ بھی گفتگو کے آداب ختم نہیں ہوتے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ حق بات میں مداہنت کی جائے، بلکہ یہ ہے کہ حق کی مضبوطی اور اسلوب کی نرمی ایک ساتھ چل سکتے ہیں۔ سختی کو اصول پسندی سمجھ لینا اور نرمی کو کمزوری سمجھ لینا دونوں غلط فہمیاں ہیں۔
مؤثر ابلاغ کا سب سے گہرا مرحلہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب انسان اپنی گفتگو اور اپنے کردار کے درمیان فاصلہ کم کر دیتا ہے۔ انسان الفاظ سے زیادہ شخصیت سے متاثر ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص صبر کی بات کرے مگر معمولی اختلاف پر غصے میں آ جائے، اگر وہ حسنِ اخلاق کا درس دے مگر اپنے ماتحتوں سے تحقیر آمیز انداز میں پیش آئے، اگر وہ وقت کی قدر پر گفتگو کرے مگر خود ہمیشہ وعدے کے خلاف تاخیر سے پہنچے، تو اس کا پیغام اس کے الفاظ سے نہیں بلکہ اس کے کردار سے پڑھا جائے گا۔ اسی لیے مؤثر ابلاغ کا سب سے مضبوط ذریعہ زبان نہیں بلکہ کردار ہے۔
یہ اصول خاص طور پر والدین، اساتذہ، علماء، خطباء اور قائدین کے لیے اہم ہے۔ ایک استاد کا شاگرد اس کے الفاظ سے پہلے اس کا رویہ سیکھتا ہے۔ ایک والد اپنے بچوں کو نصیحت سے زیادہ اپنے طرزِ زندگی کے ذریعے تربیت دیتا ہے۔ ایک عالم اپنے درس سے زیادہ اپنے معاملات کے ذریعے لوگوں پر اثر ڈالتا ہے۔ ایک قائد اپنی تقریر سے زیادہ اس وقت پہچانا جاتا ہے جب حالات مشکل ہوں۔ اس لیے ابلاغ کی تربیت دراصل شخصیت کی تربیت بھی ہے۔
آج کے دور میں مؤثر ابلاغ کی ضرورت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ معلومات کی کمی نہیں، درست فہم کی کمی ہے۔ ہر شخص کے ہاتھ میں معلومات ہیں، مگر ہر شخص کے پاس ان معلومات کو پرکھنے، ترتیب دینے اور درست تناظر میں سمجھنے کی صلاحیت نہیں۔ ایسے ماحول میں معاشرے کو صرف بولنے والے لوگوں کی نہیں بلکہ سمجھانے والے لوگوں کی ضرورت ہے؛ صرف مقررین کی نہیں بلکہ رہنماؤں کی ضرورت ہے؛ صرف جواب دینے والوں کی نہیں بلکہ سوال سمجھنے والوں کی ضرورت ہے۔
ایک مسلمان کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی زبان کو عبادت، خیر خواہی اور اصلاح کا ذریعہ بنائے۔ گھر میں گفتگو کا انداز بہتر کرے، اختلاف میں زبان کو قابو میں رکھے، بچوں سے بات کرتے ہوئے ان کی عزتِ نفس کا خیال رکھے، دوستوں کے ساتھ گفتگو میں خیر خواہی اختیار کرے، اور سوشل میڈیا پر ہر ایسی بات سے بچے جو دل آزاری، انتشار یا غلط فہمی کا سبب بن سکتی ہو۔ جو شخص اپنی زبان کی حفاظت کرتا ہے وہ دراصل اپنے تعلقات، اپنی عزت اور اپنے معاشرے کی حفاظت کرتا ہے۔
لیکن مؤثر ابلاغ صرف بولنے کا ہنر نہیں، یہ ایک مسلسل مشق ہے۔ ہمیں اپنی گفتگو کا جائزہ لینا ہوگا۔ کیا ہم دوسروں کی بات مکمل سنتے ہیں؟ کیا ہم غصے میں گفتگو روک سکتے ہیں؟ کیا ہم اختلاف کے باوجود احترام قائم رکھتے ہیں؟ کیا ہم مشکل بات کو آسان الفاظ میں سمجھا سکتے ہیں؟ کیا ہم اپنے مخاطب کی ضرورت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں؟ کیا ہماری گفتگو لوگوں کو ہمارے قریب لاتی ہے یا ہم سے دور کرتی ہے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا ہماری زبان ہمارے کردار کی گواہی دیتی ہے؟
شاید یہی وہ مقام ہے جہاں مؤثر ابلاغ، شخصیت سازی اور قیادت ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔ جو شخص خود کو سنبھال نہیں سکتا وہ دوسروں سے مؤثر گفتگو نہیں کر سکتا۔ جو دوسروں کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں وہ انہیں طویل عرصے تک رہنمائی نہیں دے سکتا۔ جو اختلاف برداشت نہیں کر سکتا وہ اجتماعی زندگی میں بڑی ذمہ داری نہیں اٹھا سکتا۔ اور جو اپنی زبان کو حکمت، سچائی اور خیر خواہی کے تابع نہیں کر سکتا، اس کے لیے اثر و رسوخ بھی ایک آزمائش بن سکتا ہے۔
ہمیں ایسے انسانوں کی ضرورت ہے جو صرف اچھی بات کہنا نہ جانتے ہوں بلکہ اچھی بات کو اچھے انداز میں، صحیح وقت پر، صحیح شخص تک پہنچانا جانتے ہوں۔ ایسے لوگ جو گفتگو کو اپنی برتری ثابت کرنے کا ذریعہ نہ بنائیں بلکہ دلوں کو جوڑنے، غلط فہمیوں کو دور کرنے، علم منتقل کرنے اور خیر پھیلانے کا وسیلہ بنائیں۔ یہی ابلاغ کی وہ صورت ہے جو انسان کو محض اچھا مقرر نہیں بلکہ اچھا انسان بناتی ہے، اور یہی صلاحیت اسے آگے چل کر مؤثر استاد، قابلِ اعتماد قائد اور معاشرے کے لیے نفع بخش فرد بناتی ہے۔
آج سے ہم ایک چھوٹی سی مشق شروع کر سکتے ہیں۔ اگلی گفتگو میں فوراً جواب دینے کے بجائے پہلے پوری بات سنیں۔ کسی اختلاف میں آواز بلند کرنے کے بجائے اپنے لہجے پر توجہ دیں۔ کسی پیچیدہ بات کو بیان کرتے وقت خود سے پوچھیں کہ کیا سامنے والا اسے واقعی سمجھ سکے گا۔ کسی تنقید کا جواب دینے سے پہلے یہ دیکھیں کہ اس میں ہمارے لیے کوئی اصلاح کا پہلو تو موجود نہیں۔ اور ہر رات چند لمحوں کے لیے اپنے دن کی گفتگو کا محاسبہ کریں کہ آج ہماری زبان سے کتنے دل جڑے اور کتنے دل دکھے۔
آخرکار انسان کی زندگی میں بہت سی چیزیں بھلا دی جاتی ہیں، مگر اس کا برتاؤ اور اس کے الفاظ لوگوں کے دلوں میں دیر تک باقی رہتے ہیں۔ اس لیے ابلاغ کو محض بولنے کا فن نہ سمجھیں؛ اسے انسان سے انسان تک خیر، علم، محبت اور حکمت پہنچانے کا وسیلہ بنائیں۔ ہماری گفتگو میں سچائی ہو، لہجے میں نرمی ہو، سماعت میں توجہ ہو، اختلاف میں وسعت ہو، اور الفاظ کے پیچھے خیر خواہی کا دل ہو۔ کیونکہ مؤثر ابلاغ کی اصل کامیابی یہ نہیں کہ لوگ ہماری بات سن لیں، بلکہ یہ ہے کہ ہماری بات ان کے اندر سوچ، اصلاح اور خیر کی ایک نئی حرکت پیدا کر دے