وراثت میں عورت کے حق کی شرعی حیثیت اور پاکستانی معاشرت میں عملی اطلاق(تحقیقی و تنقیدی مطالعہ)

انسانی معاشرے میں وراثت محض مالی وسائل کی تقسیم کا نام نہیں بلکہ معاشی انصاف، خاندانی استحکام اور سماجی توازن کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ کسی بھی معاشرے میں وراثتی نظام اس کے قانونی، اخلاقی اور تہذیبی تصورات کی عکاسی

مصنف:حافظ بابر حسین ستی
تاریخ: 30 ستمبر 2026

دیگر مضامین

تمام مضامین دیکھیں

گوشۂ سہولت سے ایک قدم باہر: رسول ﷺ کی سیرت سے مسلسل جدوجہد کا سبق

انسان کو آرام چاہیے، سکون چاہیے، اپنے لیے ایک ایسی جگہ چاہیے جہاں زندگی کی

تاریخ: 3 اکتوبر 2026
مصنف:ابرار حسین

فقہ النوازل میں فقہاء کا منہج

اسلامی شریعت اپنی ساخت اور مزاج کے اعتبار سے ایک جامع اور ہمہ گیر نظامِ

تاریخ: 1 اکتوبر 2026
مصنف:مولانا عزیر احمد

کتب حدیث میں ضعیف وموضوع روایات کے ذکر کےاسباب و مقاصد:اصولی و تحقیقی مطالعہ

تمہیدعلمِ حدیث اسلامی علوم کا وہ عظیم الشان شعبہ ہے جس کے ذریعے رسول اللہ

تاریخ: 1 اکتوبر 2026
مصنف:محمد ندیم محمد

مقدمہ صحیح مسلم اور علل الصغیر ترمذی کے مناہج جرح و تعدیل کا تقابلی مطالعہ

تمہیدتیسری صدی ہجری علمِ حدیث کی تاریخ کا ایک اہم اور فیصلہ کن دور ہے،

تاریخ: 1 اکتوبر 2026
مصنف:محمد ذیشان

دیگر موضوعات

حافظ بابر حسین ستی

انسانی معاشرے میں وراثت محض مالی وسائل کی تقسیم کا نام نہیں بلکہ معاشی انصاف، خاندانی استحکام اور سماجی توازن کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ کسی بھی معاشرے میں وراثتی نظام اس کے قانونی، اخلاقی اور تہذیبی تصورات کی عکاسی کرتا ہے۔ تاریخ کا مطالعہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ قدیم تہذیبوں اور قبل از اسلام معاشروں میں عورت کو عموماوراثت کے حق سے محروم رکھا جاتا تھا۔ عرب جاہلیت میں بھی عورت کو خود ایک قابل وراثت شے سمجھا جاتا تھا اور اسے باقاعدہ وارث تسلیم نہیں کیا جاتا تھا۔ مال و جائیداد پر صرف ان افراد کا حق تصور کیا جاتا تھا جو جنگ میں حصہ لینے اور قبیلے کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اس طرز فکر کے نتیجے میں خواتین، یتیم بچیاں اور کمزور طبقات وراثت کے حقوق سے محروم رہتے تھے۔
اسلام نے اس غیر منصفانہ نظام کو بنیادی طور پر تبدیل کرتے ہوئے عورت کو ایک مستقل قانونی و معاشی شخصیت عطا کی۔ قرآن مجید نے پہلی مرتبہ عورت کے حق ملکیت اور حق وراثت کو واضح الفاظ میں بیان کیا اور اسے کسی شخص کے احسان یا معاشرتی رعایت کے بجائے ایک شرعی اور قانونی حق قرار دیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ ۚ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا
"مردوں کے لیے بھی اس مال میں حصہ ہے جو والدین اور قریبی رشتہ دار چھوڑ جائیں اور عورتوں کے لیے بھی اس مال میں حصہ ہے جو والدین اور قریبی رشتہ دار چھوڑ جائیں، خواہ وہ مال کم ہو یا زیادہ، یہ حصہ مقرر کیا ہوا ہے۔”
اس آیت مبارکہ نے نہ صرف عورت کے حق وراثت کو تسلیم کیا بلکہ اسے "نصیباً مفروضاً” کہہ کر اس کی لازمی اور ناقابل تنسیخ حیثیت کو بھی واضح کر دیا۔ بعد ازاں سورۃ النساء کی آیات 11، 12 اور 176 میں مختلف وارثوں کے حصص تفصیل کے ساتھ بیان کیے گئے، جس سے یہ حقیقت نمایاں ہوتی ہے کہ اسلامی نظام وراثت محض اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ ایک مکمل قانونی اور عملی نظام ہے۔
عورت کے حصۂ وراثت کے بارے میں عام طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ اسلام نے ہر حال میں عورت کو مرد کے مقابلے میں نصف حصہ دیا ہے، حالانکہ فقہ اسلامی کا تفصیلی مطالعہ اس تصور کی تائید نہیں کرتا۔ متعدد ایسی صورتیں موجود ہیں جن میں عورت اور مرد برابر حصہ پاتے ہیں، بعض صورتوں میں عورت کا حصہ مرد سے زیادہ ہوتا ہے اور بعض مواقع پر صرف عورت ہی وارث بنتی ہے۔ اس لیے اسلامی نظام وراثت کو محض ایک آیت یا ایک مخصوص صورت کی بنیاد پر سمجھنے کے بجائے اس کے مجموعی فلسفے اور عدالتی اصولوں کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔
پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ہے جہاں آئین اور قانونی نظام میں اسلامی احکام کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ ملکی قوانین بھی خواتین کے حق وراثت کو تسلیم کرتے ہیں اور مختلف قانونی و عدالتی اقدامات کے ذریعے اس کے تحفظ کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے باوجود عملی صورت حال یہ ہے کہ معاشرے کے بہت سے طبقات میں خواتین کو اپنے جائز وراثتی حقوق حاصل نہیں ہو پاتے۔ بعض علاقوں میں خاندانی دباؤ، رسم و رواج، جہیز کو وراثت کا متبادل سمجھنے کا رجحان، زمین کی تقسیم سے گریز اور قانونی آگاہی کی کمی جیسی وجوہات خواتین کو ان کے شرعی اور قانونی حقوق سے محروم کر دیتی ہیں۔ نتیجتا نہ صرف معاشی ناانصافی جنم لیتی ہے بلکہ خاندانی تنازعات، معاشرتی عدم مساوات اور خواتین کی معاشی کمزوری جیسے مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں۔
موجودہ دور میں عورت کے حق وراثت کا مسئلہ محض فقہی بحث نہیں بلکہ ایک اہم سماجی، قانونی اور انسانی حقوق کا موضوع بن چکا ہے۔ اس پس منظر میں اس امر کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ اسلام نے عورت کو وراثت کے حوالے سے کیا حقوق عطا کیے ہیں، ان حقوق کی شرعی بنیادیں کیا ہیں، پاکستانی قوانین ان کے تحفظ کے لیے کس حد تک مؤثر ہیں، اور معاشرتی سطح پر ان حقوق کے نفاذ میں کون سی رکاوٹیں حائل ہیں۔
زیر نظر سکالر کا آرٹیکل "وراثت میں عورت کے حق کی شرعی حیثیت اور پاکستانی معاشرت میں عملی اطلاق” کے عنوان کے تحت انہی سوالات کا تحقیقی اور تنقیدی جائزہ پیش کرتا ہے۔ اس میں قرآن و سنت، فقہ اسلامی، پاکستانی قانونی نظام اور موجودہ معاشرتی حقائق کی روشنی میں عورت کے حق وراثت کا مطالعہ کیا جائے گا، نیز اسکالر اس حق کے مؤثر نفاذ کے لیے ممکنہ اصلاحی تجاویز بھی پیش کی جائیں گی۔
عورت کو وراثت دینا محض ایک قانونی تقاضا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ ایک فریضے کی ادائیگی ہے، اور اس سے محروم کرنا صرف ایک معاشرتی ناانصافی نہیں بلکہ ایک شرعی حق کی پامالی بھی ہے۔
وراثت کا نظام انسانی معاشرے کی قدیم ترین قانونی اور معاشرتی روایات میں سے ایک ہے۔ مختلف تہذیبوں میں وراثت کی تقسیم کے اصول رائج رہے، تاہم اکثر قدیم معاشروں میں عورت کو وراثتی حقوق سے محروم رکھا جاتا تھا یا اس کے حقوق نہایت محدود تھے۔ وراثت کو عموما خاندان کی طاقت، قبیلے کے تسلسل اور معاشی مفادات کے ساتھ جوڑا جاتا تھا، جس کے نتیجے میں مردوں کو ترجیح دی جاتی اور خواتین کو ثانوی حیثیت حاصل ہوتی تھی۔
قدیم یونانی اور رومی تہذیبوں میں عورت کی قانونی حیثیت محدود تھی۔ اگرچہ بعض حالات میں عورت کو جائیداد رکھنے کا حق حاصل تھا، لیکن وراثت کے معاملات میں مردوں کو بنیادی ترجیح دی جاتی تھی۔ اسی طرح قدیم ہندوستانی معاشرے میں بھی وراثت زیادہ تر مرد وارثوں تک محدود سمجھی جاتی تھی اور عورت کو عموما خاندان کی ملکیت میں مستقل حصہ دار تصور نہیں کیا جاتا تھا۔ مختلف تہذیبوں میں عورت کے مالی حقوق کا انحصار خاندانی روایات اور سماجی حیثیت پر تھا، نہ کہ کسی مستقل قانونی اصول پر۔
عرب معاشرے میں اسلام سے قبل صورت حال مزید سنگین تھی۔ دور جاہلیت میں وراثت کا معیار طاقت، جنگی صلاحیت اور قبیلے کے دفاع میں شرکت کو سمجھا جاتا تھا۔ چونکہ عورتیں عموما جنگوں میں حصہ نہیں لیتی تھیں، اس لیے انہیں وراثت سے محروم رکھا جاتا تھا۔ صرف وہ افراد وارث بنتے تھے جو ہتھیار اٹھانے اور قبیلے کے مفادات کا تحفظ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اس سوچ کے نتیجے میں نہ صرف خواتین بلکہ کم عمر بچوں کو بھی اکثر وراثت میں حصہ نہیں دیا جاتا تھا۔
بعض تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جاہلی معاشرے میں عورت خود بھی وراثت کا موضوع بن جاتی تھی۔ شوہر کے انتقال کے بعد اس کے وارث بیوہ عورت پر اپنا حق جتاتے اور بعض اوقات اسے اپنی ملکیت تصور کرتے تھے۔ قرآن مجید نے اس ظالمانہ رسم کی مذمت کرتے ہوئے عورت کی انسانی اور قانونی حیثیت کو تسلیم کیا اور اسے ہر قسم کے استحصال سے تحفظ فراہم کیا۔
اسلام کی آمد نے وراثت کے پورے تصور میں بنیادی اور انقلابی تبدیلی پیدا کی۔ قرآن کریم نے پہلی مرتبہ واضح اور قطعی انداز میں اعلان کیا کہ مردوں کی طرح عورتوں کا بھی وراثت میں مقررہ حق ہے۔ سورۃ النساء کی آیت 7 نے اس اصول کو متعین کیا کہ وراثت میں عورت کا حصہ کسی شخص کی مرضی، خاندانی روایت یا معاشرتی رعایت پر موقوف نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ حق ہے۔ اس اعلان نے اس دور کے رائج معاشرتی تصورات کو چیلنج کیا اور خواتین کو معاشی تحفظ فراہم کیا۔
اسلام نے نہ صرف عورت کو وارث تسلیم کیا بلکہ بیٹی، ماں، بیوی اور بہن سمیت مختلف حیثیتوں میں اس کے حصص بھی متعین کیے۔ یہ انسانی تاریخ کا ایک غیر معمولی اقدام تھا کیونکہ پہلی مرتبہ عورت کو قانونی طور پر جائیداد میں مستقل اور محفوظ حصہ دیا گیا۔ مزید برآں اسلام نے عورت کو حاصل شدہ وراثت پر مکمل ملکیت کا حق دیا، جس میں کسی ولی، شوہر یا دوسرے فرد کی مداخلت جائز قرار نہیں دی گئی۔
رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں بھی عورتوں کے وراثتی حقوق کے عملی تحفظ کی متعدد مثالیں ملتی ہیں۔ حضرت سعد بن ربیعؓ کی شہادت کے بعد ان کی بیٹیوں کو وراثت سے محروم کر دیا گیا تو ان کی والدہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ آپ ﷺ نے وحی الٰہی کی روشنی میں ان کے حصے مقرر فرمائے اور انہیں ان کا حق دلایا۔ یہ واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اسلامی نظام وراثت صرف نظری تعلیمات تک محدود نہیں بلکہ عملی نفاذ اور انصاف کے قیام پر بھی زور دیتا ہے۔
اسلامی تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان فقہاء نے علم فرائض کو ایک مستقل علمی شعبے کے طور پر فروغ دیا۔ قرآن و سنت کی روشنی میں وراثتی مسائل کی تفصیلی تشریح کی گئی اور ایسے اصول وضع کیے گئے جن کے ذریعے پیچیدہ ترین معاملات میں بھی وارثوں کے حقوق کا تعین کیا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی نظام وراثت دنیا کے منظم ترین اور جامع ترین وراثتی نظاموں میں شمار ہوتا ہے۔
اس تاریخی پس منظر سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام نے عورت کو وراثت کا حق کسی سماجی تحریک یا سیاسی دباؤ کے نتیجے میں نہیں بلکہ ایک بنیادی انسانی اور شرعی حق کے طور پر عطا کیا۔ چنانچہ آج اگر کسی معاشرے میں خواتین کو وراثت سے محروم کیا جاتا ہے تو یہ نہ صرف قانونی خلاف ورزی ہے بلکہ اس اسلامی انقلاب کی روح کے بھی منافی ہے جس نے عورت کو پہلی مرتبہ باعزت اور مستقل معاشی مقام عطا کیا تھا۔

موضوع کی ضرورت و اہمیت
اسلامی تعلیمات میں عدل و انصاف کو بنیادی حیثیت حاصل ہے، اور وراثت کا نظام اسی عدل اجتماعی کا ایک اہم مظہر ہے۔ قرآن مجید نے وراثت کے احکام کو تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہوئے عورتوں، یتیموں اور کمزور طبقات کے مالی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا ہے۔ عورت کے حق وراثت کی اہمیت اس حقیقت سے بھی واضح ہوتی ہے کہ قرآن کریم نے وراثت کے حصص کو براہ راست متعین کیا اور انہیں انسانی خواہشات یا معاشرتی رسوم و رواج کے تابع نہیں چھوڑا۔ اس اعتبار سے عورت کا حق وراثت محض ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک شرعی فریضہ اور سماجی انصاف کا تقاضا ہے۔
عصر حاضر میں اگرچہ دنیا بھر میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے شعور میں اضافہ ہوا ہے، تاہم مسلم معاشروں بالخصوص پاکستان میں خواتین کی ایک بڑی تعداد آج بھی اپنے جائز وراثتی حقوق سے محروم ہے۔ مختلف علاقوں میں خاندانی دباؤ، فرسودہ رسم و رواج، جہیز کو وراثت کا متبادل سمجھنے کا رجحان، زمین کی تقسیم سے گریز اور قانونی آگاہی کی کمی جیسے عوامل خواتین کو ان کے شرعی اور قانونی حق سے محروم کر دیتے ہیں۔ نتیجتا بہت سی خواتین معاشی عدم تحفظ، غربت اور سماجی انحصار کا شکار ہو جاتی ہیں۔
پاکستان چونکہ ایک اسلامی جمہوریہ ہے، اس لیے یہاں اسلامی احکام کے نفاذ کی ذمہ داری محض انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی اور ریاستی سطح پر بھی عائد ہوتی ہے۔ ملکی قوانین عورت کے حق وراثت کو تسلیم کرتے ہیں، لیکن عملی سطح پر قانون اور معاشرت کے درمیان نمایاں فرق موجود ہے۔ یہی فرق اس موضوع کو مزید اہم بناتا ہے، کیونکہ ایک طرف قرآن و سنت کے واضح احکام موجود ہیں اور دوسری طرف ان احکام کے عملی نفاذ میں متعدد رکاوٹیں پائی جاتی ہیں۔
اس موضوع کی اہمیت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وراثت میں عورت کے حقوق کا تعلق براہ راست خاندانی استحکام اور معاشی ترقی سے ہے۔ جب خواتین کو ان کا جائز مالی حق ملتا ہے تو وہ معاشی طور پر مضبوط ہوتی ہیں، خاندان کی کفالت میں مؤثر کردار ادا کرتی ہیں اور معاشرے میں ان کی عزت و وقار میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے برعکس وراثتی حقوق کی پامالی خاندانی تنازعات، عدالتی مقدمات، معاشی ناہمواری اور سماجی ناانصافی کو جنم دیتی ہے۔
اسلام کے خلاف بعض حلقوں کی جانب سے یہ اعتراض بھی کیا جاتا ہے کہ اسلامی نظام وراثت خواتین کے ساتھ مساوی سلوک نہیں کرتا۔ اس لیے اس موضوع کا تحقیقی مطالعہ ضروری ہے تاکہ قرآن و سنت اور فقہ اسلامی کی روشنی میں ان غلط فہمیوں کا علمی ازالہ کیا جا سکے اور یہ واضح کیا جا سکے کہ اسلامی نظام وراثت محض عددی مساوات کے بجائے عدل اور ذمہ داریوں کے توازن پر مبنی ہے۔
موجودہ حالات میں اس موضوع پر تحقیق اس لیے بھی ناگزیر ہے کہ اس کے ذریعے نہ صرف اسلامی احکام کی صحیح تفہیم پیدا کی جا سکتی ہے بلکہ پاکستانی معاشرے میں خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر تجاویز بھی پیش کی جا سکتی ہیں۔ چنانچہ یہ موضوع دینی، قانونی، سماجی اور معاشی ہر اعتبار سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے اور اس پر سنجیدہ علمی بحث وقت کی اہم ضرورت ہے۔

اسلام میں عورت کے حق وراثت کی شرعی بنیاد 🤝
قرآن مجید کی تعلیمات
اسلامی نظام وراثت کی سب سے مضبوط اور بنیادی دلیل قرآن مجید ہے۔ وراثت کے احکام ان معدودے چند مسائل میں شامل ہیں جن کے حصص اور اصول قرآن کریم نے خود متعین فرمائے ہیں۔ خصوصا سورۃ النساء میں عورت کے حق وراثت کو واضح انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت کا حق وراثت کسی سماجی رعایت یا خاندانی احسان کا نتیجہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ شرعی حق ہے۔
عورت کے حق وراثت کا عمومی اعلان
لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ ۚ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا۔[1]
"مردوں کے لیے بھی اس مال میں حصہ ہے جو والدین اور قریبی رشتہ دار چھوڑ جائیں اور عورتوں کے لیے بھی اس مال میں حصہ ہے جو والدین اور قریبی رشتہ دار چھوڑ جائیں، خواہ وہ مال کم ہو یا زیادہ، یہ حصہ مقرر کیا ہوا ہے۔”
امام ابن کثیر لکھتے ہیں کہ جاہلیت کے دور میں عورتوں اور کم عمر بچوں کو وراثت نہیں دی جاتی تھی۔ صرف وہ افراد وارث سمجھے جاتے تھے جو جنگ میں حصہ لینے کے قابل ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعے اس رسم کو ختم کرتے ہوئے عورتوں اور بچوں کے لیے بھی وراثت کا مقررہ حق ثابت فرمایا۔ "نصیباً مفروضاً” کے الفاظ اس بات کی دلیل ہیں کہ یہ حق اللہ تعالیٰ کی طرف سے لازم اور واجب قرار دیا گیا ہے اور کسی کو اسے ساقط کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔[2]
تحقیقی استدلال
یہ آیت عورت کے حق وراثت کی بنیادی اور اولین دلیل ہے۔ اس میں پہلی مرتبہ عورت کو مستقل وارث تسلیم کیا گیا اور واضح کیا گیا کہ جائیداد کم ہو یا زیادہ، عورت اپنے شرعی حصے کی حق دار ہے۔ اس آیت سے یہ اصول بھی اخذ ہوتا ہے کہ وراثت کا حق کسی شخص کی مرضی پر منحصر نہیں بلکہ شرعی فریضہ ہے۔
بیٹیوں، والدین اور دیگر وارثوں کے حصص
وْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِكُمْۗ-لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِۚ-فَاِنْ كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَۚ-وَ اِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُؕ-وَ لِاَبَوَیْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنْ كَانَ لَهٗ وَلَدٌۚ-فَاِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلَدٌ وَّ وَرِثَهٗۤ اَبَوٰهُ فَلِاُمِّهِ الثُّلُثُۚ-فَاِنْ كَانَ لَهٗۤ اِخْوَةٌ فَلِاُمِّهِ السُّدُسُ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍؕ-اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ لَا تَدْرُوْنَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًاؕ-فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا۔[3]
ترجمہ
اللہ تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے میں بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر پھر اگر نری لڑکیاں ہوں اگرچہ دو سے اوپر تو ان کو ترکہ کی دو تہائی اور اگر ایک لڑکی تو اس کا آدھا اور میت کے ماں باپ کو ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا اگر میت کے اولاد ہو پھر اگر اس کی اولاد نہ ہو اور ماں باپ چھوڑے تو ماں کا تہا ئی پھر اگر اس کے کئی بہن بھائی تو ماں کا چھٹا بعد اس و صیت کے جو کر گیا اور دَین کے تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے تم کیا جانو کہ ان میں کون تمہارے زیادہ کام آئے گا یہ حصہ باندھا ہوا ہے اللہ کی طرف سے بیشک اللہ علم والا حکمت والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
ابن کثیر کے مطابق اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اولاد اور والدین کے حصص تفصیل کے ساتھ بیان فرمائے ہیں۔ مفسرین کی رائے میں یہاں مرد کو دوہرا حصہ اس لیے دیا گیا ہے کہ اس پر نان و نفقہ، مہر، اہل و عیال کی کفالت اور دیگر مالی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، جبکہ عورت اپنی ملکیت اور مال کی خود مختار مالک ہوتی ہے اور اس پر خاندان کی مالی کفالت لازم نہیں۔[4]
تحقیقی استدلال
یہ آیت اسلامی نظامِ وراثت کے فلسفۂ عدل کو واضح کرتی ہے۔ یہاں تقسیم کا معیار محض صنفی مساوات نہیں بلکہ مالی ذمہ داریوں اور معاشرتی فرائض کا توازن ہے۔ اسی لیے اس آیت کو مجموعی نظامِ وراثت کے تناظر میں سمجھنا ضروری ہے۔
بیوی اور ماں کے حصص کا تعین
وَ لَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ اَزْوَاجُكُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهُنَّ وَلَدٌۚ-فَاِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍؕ-وَ لَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّكُمْ وَلَدٌۚ-فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ تُوْصُوْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍؕ-وَ اِنْ كَانَ رَجُلٌ یُّوْرَثُ كَلٰلَةً اَوِ امْرَاَةٌ وَّ لَهٗۤ اَخٌ اَوْ اُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُۚ-فَاِنْ كَانُوْۤا اَكْثَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَهُمْ شُرَكَآءُ فِی الثُّلُثِ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصٰى بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍۙ-غَیْرَ مُضَآرٍّۚ-وَصِیَّةً مِّنَ اللّٰهِؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَلِیْمٌﭤ[5]
ترجمہ
اور تمہاری بیبیاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو پھر اگر ان کی اولاد ہو تو ان کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے جو وصیت وہ کر گئیں اور دَین نکال کر اور تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں جو وصیت تم کر جاؤ اور دین نکال کر اور اگر کسی ایسے مرد یا عورت کا ترکہ بٹتا ہو جس نے ماں باپ اولاد کچھ نہ چھوڑے اور ماں کی طرف سے اس کا بھائی یا بہن ہے تو ان میں سے ہر ایک کو چھٹا پھر اگر وہ بہن بھائی ایک سے زیادہ ہوں تو سب تہائی میں شریک ہیں میت کی وصیت اور دین نکال کر جس میں اس نے نقصان نہ پہنچایا ہو یہ اللہ کا ارشاد ہے اور اللہ علم والا حلم والا ہے
تفسیر ابن کثیر
ابن کثیر اس آیت کی تشریح میں لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کے باہمی وراثتی حقوق کو نہایت وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ بیوی کو شوہر کی وفات کے بعد مقررہ حالات میں چوتھائی یا آٹھواں حصہ دیا گیا ہے، جبکہ شوہر کو بیوی کے ترکہ سے نصف یا چوتھائی حصہ ملتا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ عورت نہ صرف اپنے والدین کی وراثت میں حصہ دار ہے بلکہ ازدواجی رشتے کے ذریعے بھی اسے مالی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔[6]
تحقیقی استدلال
یہ آیت عورت کے مالی حقوق کے تحفظ کا ایک اہم مظہر ہے۔ اسلام نے بیوی کو محض خاندانی فرد نہیں بلکہ قانونی وارث بھی قرار دیا ہے، جو اس کے معاشی تحفظ اور خود مختاری کو یقینی بناتا ہے۔
وراثت کے احکام کو حدود اللہ قرار دینا
تِلۡکَ حُدُوۡدُ اللّٰہِ ؕ وَ مَنۡ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ یُدۡخِلۡہُ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ وَ ذٰلِکَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ۔[7]
ترجمہ
یہ اللہ کی (مقرر کردہ) حدیں ہیں، اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی فرمانبرداری کرے اسے وہ بہشتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں رواں ہیں ان میں ہمیشہ رہیں گے، اور یہ بڑی کامیابی ہے۔

وَ مَنۡ یَّعۡصِ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ یَتَعَدَّ حُدُوۡدَہٗ یُدۡخِلۡہُ نَارًا خَالِدًا فِیۡہَا ۪ وَ لَہٗ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ۔[8]
ترجمہ
اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نافرمانی کرے اور اس کی حدود سے تجاوز کرے اسے وہ دوزخ میں داخل کرے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، اور اس کے لئے ذلّت انگیز عذاب ہے
تفسیر ابن کثیر
امام ابن کثیر لکھتے ہیں کہ وراثت کے حصص بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں "حدود اللہ” قرار دیا۔ اس سے مراد وہ احکام ہیں جن میں کمی بیشی یا رد و بدل کی اجازت نہیں۔ جو لوگ ان احکام کی پابندی کریں گے ان کے لیے کامیابی اور جو ان کی خلاف ورزی کریں گے ان کے لیے سخت وعید ہے۔[9]
تحقیقی استدلال
ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ وراثت کی تقسیم کوئی اختیاری یا عرفی معاملہ نہیں بلکہ دینی ذمہ داری ہے۔ چنانچہ عورت کو اس کے شرعی حصے سے محروم کرنا درحقیقت اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز ہے۔
کلالہ کے مسئلے میں بہن کا حق
یَسْتَفْتُوْنَكَؕ-قُلِ اللّٰهُ یُفْتِیْكُمْ فِی الْكَلٰلَةِؕ-اِنِ امْرُؤٌا هَلَكَ لَیْسَ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَهٗۤ اُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَۚ-وَ هُوَ یَرِثُهَاۤ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهَا وَلَدٌؕ-فَاِنْ كَانَتَا اثْنَتَیْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثٰنِ مِمَّا تَرَكَؕ-وَ اِنْ كَانُوْۤا اِخْوَةً رِّجَالًا وَّ نِسَآءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِؕ-یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اَنْ تَضِلُّوْاؕ-وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ ۔[10]
ترجمہ
اے محبوب تم سے فتویٰ پوچھتے ہیں تم فرما دو کہ اللہ تمہیں کلالہ میں فتویٰ دیتا ہے اگر کسی مرد کا انتقال ہو جو بے اولاد ہے اور اس کی ایک بہن ہو تو ترکہ میں سے اس کی بہن کا آدھا ہے اور مرد اپنی بہن کا وارث ہوگا اگر بہن کی اولاد نہ ہو پھر اگر دو بہنیں ہوں ترکہ میں ان کا دو تہائی اور اگر بھائی بہن ہوں مرد بھی اور عورتیں بھی تو مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر اللہ تمہارے لئے صاف بیان فرماتا ہے کہ کہیں بہک نہ جاؤ اور اللہ ہرچیز جانتا ہے
تفسیر ابن کثیر
ابن کثیر بیان کرتے ہیں کہ اس آیت میں ایسے شخص کی وراثت کا حکم بیان کیا گیا ہے جس کی نہ اولاد ہو اور نہ والد۔ اس صورت میں بہنوں کے حصص کو واضح کیا گیا ہے۔ یہ آیت اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام نے عورت کے حق وراثت کو مختلف خاندانی تعلقات کے اعتبار سے محفوظ بنایا اور بہن کو بھی مستقل وارث تسلیم کیا۔[11]
تحقیقی استدلال
یہ آیت ظاہر کرتی ہے کہ اسلامی قانونِ وراثت میں عورت کو متعدد حیثیتوں سے وارث بنایا گیا ہے۔ بیٹی، ماں اور بیوی کے ساتھ ساتھ بہن کو بھی قانونی حق دیا گیا ہے، جو عورت کے مالی تحفظ کے جامع تصور کو واضح کرتا ہے۔

سنت نبوی ﷺ کی روشنی میں عورت کے حق وراثت کا تحفظ
قرآن مجید نے عورت کے حق وراثت کی بنیاد فراہم کی، جبکہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ارشادات، فیصلوں اور عملی اقدامات کے ذریعے ان احکام کو نافذ فرمایا۔ سنت نبوی ﷺ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے خواتین کو وراثت سے محروم کرنے کی جاہلی روایات کا خاتمہ کیا اور انہیں ان کے شرعی حقوق دلانے کے لیے عملی رہنمائی فراہم کی۔ متعدد احادیث سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اسلامی نظام وراثت محض نظری تعلیمات تک محدود نہیں بلکہ عملی انصاف کے قیام کا مؤثر ذریعہ ہے۔
حضرت سعد بن ربیعؓ کی بیٹیوں کا واقعہ: عورت کے حق وراثت کا عملی نفاذ
عورت کے حق وراثت کے تحفظ کے حوالے سے سب سے نمایاں واقعہ حضرت سعد بن ربیعؓ کی بیٹیوں کا ہے۔ حضرت سعد بن ربیعؓ غزوۂ اُحد میں شہید ہوگئے تو ان کے بھائی نے تمام جائیداد پر قبضہ کر لیا اور ان کی بیٹیوں کو کوئی حصہ نہ دیا۔ حضرت سعدؓ کی اہلیہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ ان کی دو بیٹیاں ہیں لیکن ان کے چچا نے سارا مال لے لیا ہے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے انتظار فرمایا یہاں تک کہ وراثت سے متعلق آیات نازل ہوئیں۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے فیصلہ فرمایا کہ دو تہائی مال بیٹیوں کو، آٹھواں حصہ ان کی والدہ کو دیا جائے اور باقی مال چچا کو ملے۔[12]
یہ واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عورت کے حق وراثت کو عملی طور پر نافذ فرمایا اور خواتین کو ان کے جائز حقوق دلانے کے لیے براہ راست مداخلت کی۔
علم فرائض سیکھنے اور سکھانے کی ترغیب
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے۔کہ آپ ﷺ نے فرمایا:
"فرائض (وراثت کے احکام) سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ، کیونکہ یہ علم کا نصف حصہ ہے۔”[13]
رسول اللہ ﷺ نے وراثت کے علم کو غیر معمولی اہمیت دی اور مسلمانوں کو اس کے سیکھنے اور سکھانے کی تلقین فرمائی۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی معاشرے میں وراثتی احکام کا علم عام ہونا چاہیے تاکہ کسی وارث، خصوصا خواتین اور کمزور طبقات کے حقوق ضائع نہ ہوں۔ فقہاء کے نزدیک علم فرائض کی اس اہمیت کا مقصد معاشرے میں عدل و انصاف کا قیام اور ورثاء کے حقوق کا تحفظ ہے۔
مستحق وارثوں کو ان کے حصص دینے کا حکم
رسول اللہ ﷺ نے وراثت کے اصول کو نہایت جامع انداز میں بیان فرمایا:
"مقررہ حصے ان کے حق داروں کو دو، پھر جو باقی بچے وہ قریبی مرد رشتہ دار کا حق ہے۔”[14]
یہ حدیث اسلامی قانونِ وراثت کی بنیاد شمار ہوتی ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ وراثتی حصص پہلے ان افراد کو دیے جائیں گے جن کے حصے قرآن و سنت نے مقرر کیے ہیں، جن میں عورتیں بھی شامل ہیں۔ اس اصول نے جاہلی معاشرے کی اس روایت کو ختم کر دیا جس میں صرف طاقتور مردوں کو وارث سمجھا جاتا تھا۔
خواتین کے مالی حقوق کے تحفظ کا نبوی اصول
رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ آپ ﷺ نے خواتین کی مالی خودمختاری کو تسلیم فرمایا۔ اسلام میں عورت اپنی ملکیت، مہر، ہبہ اور وراثت کی مکمل مالک ہے۔ نبی اکرم ﷺ کے متعدد فیصلوں سے یہ اصول ثابت ہوتا ہے کہ عورت کو حاصل ہونے والے مالی حقوق پر کسی دوسرے شخص کی ولایت یا ملکیت نہیں ہوتی۔
فقہائے اسلام نے وراثت سے متعلق احادیث کی روشنی میں یہ اصول اخذ کیا ہے کہ عورت کو اس کے حصے سے محروم کرنا یا اس پر دباؤ ڈال کر دستبردار کروانا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے، کیونکہ شریعت نے اسے ایک مستقل مالی شخصیت عطا کی ہے۔[15]
سنت نبوی ﷺ کا مطالعہ واضح کرتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عورت کے حق وراثت کو صرف ایک نظری حق کے طور پر بیان نہیں فرمایا بلکہ عملی طور پر نافذ بھی کیا۔ حضرت سعد بن ربیعؓ کی بیٹیوں کے واقعے سے خواتین کے حقوق کا تحفظ، علم فرائض سیکھنے کی ترغیب سے وراثتی نظام کی اہمیت، اور مقررہ حصص ادا کرنے کے احکامات سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ اسلامی نظام وراثت میں عورت کا حق ایک قطعی، محفوظ اور ناقابل تنسیخ شرعی حق ہے۔ لہٰذا کسی بھی معاشرے میں خواتین کو وراثت سے محروم کرنا نہ صرف قانونی اور سماجی ناانصافی ہے بلکہ سنت نبوی ﷺ کی تعلیمات کے بھی خلاف ہے۔
فقہ اسلامی کا مؤقف
اسلامی فقہ نے قرآن و سنت میں مذکور وراثتی احکام کو منظم اور تفصیلی قانونی شکل فراہم کی ہے۔ فقہائے اسلام نے علم فرائض کو فقہ کا ایک مستقل باب قرار دیا ہے اور اس کے اصول و ضوابط کو نہایت باریک بینی کے ساتھ مرتب کیا ہے۔ اسلامی فقہ کے تمام معروف مکاتب فکر اس بات پر متفق ہیں کہ عورت کا حق وراثت قرآن و سنت سے ثابت شدہ شرعی حق ہے اور کسی شخص یا خاندان کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ عورت کو اس کے مقررہ حصے سے محروم کرے۔ فقہی لٹریچر کا مطالعہ واضح کرتا ہے کہ عورت کے وراثتی حقوق کا تحفظ اسلامی قانون کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے۔[16]
عورت کے حق وراثت پر فقہاء کا اجماعی موقف
فقہائے اسلام اس امر پر متفق ہیں کہ عورت، خواہ وہ بیٹی ہو، ماں ہو، بیوی ہو یا بہن، مخصوص شرائط کے تحت وراثت میں مقررہ حصہ پانے کی حق دار ہے۔ حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی مکاتب فکر کے فقہاء نے قرآن مجید کی نصوص کی بنیاد پر عورت کے حصص کو تسلیم کیا ہے اور ان میں کسی بنیادی اختلاف کا وجود نہیں پایا جاتا۔ فقہی کتب میں عورت کے حصص کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ یہ حقوق براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کیے گئے ہیں، اس لیے ان میں رد و بدل یا انکار جائز نہیں۔
فقہائے امت کے اس اجماعی موقف کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ اسلامی قانون میں اجماع کو قرآن و سنت کے بعد ایک مضبوط شرعی دلیل کی حیثیت حاصل ہے۔ جب تمام فقہی مکاتب عورت کے حق وراثت کے وجوب پر متفق ہیں تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ اجتہادی اختلافات سے بالاتر اور قطعی نوعیت کا حامل ہے۔ چنانچہ عورت کو وراثت سے محروم کرنا نہ صرف قرآن و سنت کی مخالفت ہے بلکہ امت مسلمہ کے اجماعی موقف کے بھی خلاف ہے۔[17]
وراثت کا حق ایک لازمی اور شرعی حق
فقہ اسلامی کے مطابق وراثت محض ایک مالی فائدہ نہیں بلکہ ایک شرعی حق (الحق الشرعی) ہے جو مورث کے انتقال کے ساتھ ہی وارث کے لیے ثابت ہو جاتا ہے۔ فقہاء کے نزدیک جب کسی شخص کا انتقال ہوتا ہے تو اس کی جائیداد میں تمام مستحق وارثوں کا حق قائم ہو جاتا ہے اور اس کے بعد کسی ایک وارث کو بلا جواز محروم نہیں کیا جا سکتا۔
فقہی اصول کے مطابق وارث کا حق کسی دوسرے وارث کے احسان یا رضامندی پر موقوف نہیں ہوتا بلکہ شریعت کی طرف سے مقرر ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے فقہاء نے وراثتی حقوق کو "حقوق العباد” میں شمار کیا ہے جن کی ادائیگی شرعا لازم ہے۔ اگر کسی عورت کو اس کے حصے سے محروم کیا جائے تو یہ اس کے شرعی حق پر ناجائز تعدی شمار ہوگی۔
فقہائے احناف نے بھی تصریح کی ہے کہ وارث کا حق موت کے فورا بعد ثابت ہو جاتا ہے اور ترکہ تمام شرعی وارثوں کے درمیان تقسیم کیا جانا ضروری ہے۔ اس اصول کے مطابق بیٹی، بہن، والدہ یا بیوی کو حصہ نہ دینا فقہی اعتبار سے ظلم اور حق تلفی ہے۔[18]
علم فرائض کی فقہی اہمیت
فقہ اسلامی میں علم فرائض کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ فقہاء نے اسے ان علوم میں شمار کیا ہے جن کے ذریعے معاشرے میں عدل قائم ہوتا اور ورثاء کے حقوق محفوظ رہتے ہیں۔ اسی مقصد کے لیے فقہی کتب میں وراثت کے پیچیدہ مسائل کو بھی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے تاکہ کسی وارث کا حق ضائع نہ ہو۔
امام سرخسی، امام کاسانی اور دیگر فقہاء نے علم فرائض کی اہمیت بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ علم معاشرتی انصاف کا ضامن ہے، کیونکہ اس کے ذریعے ہر وارث کا حق متعین ہو جاتا ہے۔ عورت کے حق وراثت کے تحفظ میں علم فرائض کی اہمیت اس لیے بھی نمایاں ہے کہ اس نے مختلف خاندانی صورتوں میں عورت کے حصص کو واضح اور محفوظ بنایا۔
فقہی ذخیرے میں عورت کے حصص سے متعلق سینکڑوں مسائل کی تفصیلات ملتی ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ فقہائے اسلام نے خواتین کے مالی حقوق کے تحفظ کو سنجیدگی سے لیا اور اس کے لیے ایک جامع قانونی نظام تشکیل دیا۔[19]
وارث کو محروم کرنے کا فقہی حکم
فقہائے اسلام نے واضح طور پر بیان کیا ہے کہ کسی مستحق وارث کو اس کے حصے سے محروم کرنا جائز نہیں۔ اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں ایسی تدابیر اختیار کرے جن کا مقصد بعض وارثوں، خصوصا بیٹیوں یا بہنوں کو محروم کرنا ہو تو فقہاء نے ایسے طرز عمل کو شریعت کے مقاصد کے خلاف قرار دیا ہے۔
بعض معاشروں میں یہ رواج پایا جاتا ہے کہ خواتین سے دباؤ کے تحت وراثتی حقوق سے دستبرداری حاصل کر لی جاتی ہے یا جہیز کو وراثت کا متبادل سمجھ لیا جاتا ہے۔ فقہی نقطۂ نظر سے یہ رویے اس وقت تک معتبر نہیں سمجھے جاتے جب تک عورت مکمل رضامندی اور آزادانہ اختیار کے ساتھ فیصلہ نہ کرے۔ جبر، دباؤ یا دھوکے کی بنیاد پر حاصل کی گئی دستبرداری شرعی اصول انصاف کے منافی ہے۔
فقہاء کے نزدیک عورت کو اس کے شرعی حصے سے محروم کرنا نہ صرف ایک قانونی زیادتی ہے بلکہ ایک اخلاقی اور دینی جرم بھی ہے، کیونکہ اس سے اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود پامال ہوتی ہیں۔[20]
فقہ اسلامی میں عورت کے مالی استقلال کا تصور
فقہ اسلامی کا ایک اہم اصول یہ ہے کہ عورت ایک مستقل مالی شخصیت کی حامل ہے۔ وہ اپنی ملکیت، مہر، ہبہ اور وراثت کی خود مختار مالک ہوتی ہے اور کسی دوسرے شخص کو اس کے مال پر بلا اجازت تصرف کا حق حاصل نہیں۔ فقہاء نے واضح کیا ہے کہ عورت کو حاصل ہونے والا وراثتی حصہ اس کی ذاتی ملکیت ہے جس پر شوہر، بھائی یا دیگر رشتہ داروں کا کوئی حق قائم نہیں ہوتا۔[21]
یہ اصول اسلامی قانون وراثت کو دیگر قدیم قانونی نظاموں سے ممتاز کرتا ہے، کیونکہ یہاں عورت کو محض خاندان کا حصہ نہیں بلکہ ایک مستقل قانونی شخصیت کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ اسی مالی خودمختاری کی وجہ سے اسلام نے عورت کو مختلف خاندانی حیثیتوں میں وراثت کا حق عطا کیا اور اس کے تحفظ کے لیے واضح شرعی احکام مقرر کیے۔
فقہ اسلامی کا مطالعہ واضح کرتا ہے کہ عورت کا حق وراثت ایک قطعی، مسلمہ اور اجماعی شرعی حق ہے۔ تمام فقہی مکاتب اس حق کے وجوب پر متفق ہیں اور علم فرائض کی پوری علمی روایت اسی مقصد کے لیے قائم کی گئی ہے کہ کسی وارث کا حق ضائع نہ ہو۔ فقہی اصولوں کی روشنی میں عورت کو وراثت سے محروم کرنا، اس پر دباؤ ڈالنا یا اس کے حق کو کم کرنا شرعا ناجائز اور عدل اسلامی کے منافی ہے۔ اس لیے پاکستانی معاشرے میں خواتین کے وراثتی حقوق کا تحفظ صرف ایک قانونی تقاضا نہیں بلکہ فقہِ اسلامی کے بنیادی اصولوں کا بھی تقاضا ہے۔

عورت کے حصص وراثت کے بارے میں شرعی حقیقت
حصص وراثت کا تعین اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے
اسلامی نظام وراثت کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں وارثوں کے حصص انسانی رائے، سماجی روایت یا خاندانی فیصلوں کی بنیاد پر مقرر نہیں کیے گئے بلکہ خود اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ان کی تعیین فرمائی ہے۔ سورۂ نساء میں بیٹی، ماں، بیوی، بہن اور دیگر ورثاء کے حصص کو واضح انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ اسی لیے فقہائے اسلام نے تصریح کی ہے کہ وراثت کے حصص "توقیفی” ہیں، یعنی ان میں کمی بیشی یا رد و بدل کا اختیار کسی فرد یا ادارے کو حاصل نہیں۔ جب شریعت کسی عورت کے لیے مخصوص حصہ مقرر کرتی ہے تو وہ محض معاشرتی رعایت نہیں بلکہ ایک قطعی شرعی حق بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فقہِ اسلامی میں عورت کو اس کے حصے سے محروم کرنا اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود میں مداخلت شمار کیا جاتا ہے۔[22]
مرد کے مقابلے میں نصف حصہ: اس کی شرعی حکمت
اسلامی نظامِ وراثت پر سب سے زیادہ اعتراض اس مسئلے پر کیا جاتا ہے کہ بعض حالات میں مرد کو عورت کے مقابلے میں دوگنا حصہ دیا جاتا ہے۔ قرآن مجید نے اولاد کی بعض صورتوں میں یہ اصول بیان کیا ہے: "لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ” ۔ فقہائے اسلام اور مفسرین کی وضاحت کے مطابق یہ حکم مطلق اور ہر حالت کے لیے نہیں بلکہ ایک مخصوص وراثتی صورت سے متعلق ہے۔ مزید یہ کہ اس تقسیم کی بنیاد جنس نہیں بلکہ مالی ذمہ داری ہے۔ شریعت نے مرد پر مہر، نان و نفقہ، بیوی اور اولاد کی کفالت اور دیگر معاشی ذمہ داریاں عائد کی ہیں، جبکہ عورت اپنی وراثت، مہر اور ذاتی املاک کی مکمل مالک ہوتی ہے اور اس پر خاندان کی کفالت لازم نہیں۔ اسی لیے بعض مخصوص صورتوں میں مرد کو زیادہ حصہ دیا گیا ہے تاکہ مالی ذمہ داریوں اور حقوق کے درمیان توازن قائم رہے۔[23]
عورت ہر صورت میں نصف حصہ نہیں پاتی
اسلامی قانون وراثت کا غیر جانب دارانہ مطالعہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ عورت کا حصہ ہر حال میں مرد کے مقابلے میں نصف نہیں ہوتا۔ درحقیقت قرآن و سنت اور فقہی ذخیرے میں متعدد ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں عورت اور مرد کے حصص مختلف بنیادوں پر متعین ہوتے ہیں۔ بعض صورتوں میں مرد اور عورت برابر حصہ پاتے ہیں، بعض میں عورت زیادہ حصہ حاصل کرتی ہے اور بعض حالات میں صرف عورت ہی وارث بنتی ہے۔ معاصر فقہی تحقیقات کے مطابق وراثت کے مسائل کی بڑی تعداد میں "نصف حصہ” والا اصول لاگو ہی نہیں ہوتا۔ اس لیے اسلامی نظام وراثت کو صرف ایک آیت کی روشنی میں سمجھنا علمی دیانت کے خلاف ہے۔ پورا نظام مجموعی طور پر عدل اور خاندانی توازن پر قائم ہے۔[24]
عورت بعض صورتوں میں مرد کے برابر حصہ پاتی ہے
اسلامی نظام وراثت میں ایسی متعدد مثالیں موجود ہیں جن میں عورت اور مرد کے حصص بالکل برابر ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر میت کی اولاد موجود ہو تو والد اور والدہ دونوں کو چھٹا حصہ (سدس) ملتا ہے۔ اس صورت میں والدہ کا حصہ والد کے برابر ہے۔ اسی طرح بعض دیگر فقہی مسائل میں بھی مرد اور عورت کے حصص مساوی ہوتے ہیں۔ یہ مثالیں اس تصور کی تردید کرتی ہیں کہ اسلام نے ہر حال میں عورت کو کم تر حصہ دیا ہے۔ فقہائے اسلام کے نزدیک ان مثالوں سے یہ اصول واضح ہوتا ہے کہ شریعت کی نظر جنس پر نہیں بلکہ خاندانی تعلق، قرابت کے درجے اور مالی ذمہ داریوں پر ہے۔[25]
عورت بعض صورتوں میں مرد سے زیادہ حصہ پاتی ہے
فقہ اسلامی میں متعدد ایسی مثالیں ملتی ہیں جن میں عورت کا حصہ مرد سے زیادہ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی شخص کی وفات کے وقت ایک بیٹی، والد اور والدہ موجود ہوں تو بیٹی نصف ترکہ کی حق دار ہوتی ہے، جبکہ والد اور والدہ کو سدس سدس ملتا ہے۔ اسی طرح دو یا دو سے زیادہ بیٹیوں کو مجموعی طور پر دو تہائی ترکہ ملتا ہے، جو بعض مرد وارثوں کے حصوں سے زیادہ ہوتا ہے۔ معاصر محققین نے نشاندہی کی ہے کہ وراثتی مسائل کی ایک قابلِ ذکر تعداد میں عورت کا حصہ مرد سے زیادہ یا اس کے برابر ہوتا ہے۔ اس حقیقت سے واضح ہوتا ہے کہ اسلامی نظامِ وراثت کا مقصد مرد کو فوقیت دینا نہیں بلکہ ہر وارث کو اس کی شرعی حیثیت کے مطابق حق دینا ہے۔[26]
بعض صورتوں میں صرف عورت وارث بنتی ہے
اسلامی قانون وراثت میں بعض ایسی صورتیں بھی موجود ہیں جہاں صرف عورت وارث بنتی ہے اور کوئی مرد وارث ترکہ میں شریک نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر اگر کسی شخص کی وفات ہو اور اس کے وارثوں میں صرف ایک حقیقی بہن موجود ہو تو وہ نصف ترکہ کی حق دار ہوگی، اور اگر دو یا زیادہ بہنیں ہوں تو دو تہائی ترکہ ان کو ملے گا۔ اسی طرح بعض حالات میں بیٹی یا پوتی واحد وارث کے طور پر بھی حصہ حاصل کر سکتی ہے۔ یہ مثالیں اس دعوے کی نفی کرتی ہیں کہ اسلامی نظامِ وراثت ہمیشہ مرد کو ترجیح دیتا ہے۔ فقہی اصولوں کی رو سے اصل بنیاد جنس نہیں بلکہ قرابت اور شرعی استحقاق ہے۔[27]
اسلامی نظام وراثت میں عدل اور مساوات کا فرق
اسلامی قانون وراثت کو سمجھنے کے لیے عدل (Justice) اور مساوات (Equality) کے فرق کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ جدید مباحث میں اکثر مساوات کو یکساں تقسیم کے معنی میں لیا جاتا ہے، جبکہ اسلامی شریعت کا بنیادی اصول عدل ہے۔ عدل کا تقاضا یہ ہے کہ ہر فرد کو اس کی ذمہ داریوں، ضروریات اور خاندانی حیثیت کے مطابق حق دیا جائے۔ اسی وجہ سے بعض صورتوں میں مرد کو زیادہ حصہ ملتا ہے، بعض میں عورت کو زیادہ اور بعض میں دونوں برابر ہوتے ہیں۔ فقہائے اسلام کے نزدیک اسلامی نظامِ وراثت عددی مساوات پر نہیں بلکہ منصفانہ توازن پر قائم ہے۔ یہی توازن اسے ایک جامع اور پائیدار معاشی نظام بناتا ہے۔[28]
شرعی نصوص اور فقہی تحقیقات کے مطالعے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ عورت کے حصص وراثت کے بارے میں رائج بہت سی غلط فہمیاں ناقص معلومات کا نتیجہ ہیں۔ اسلام نے عورت کو پہلی مرتبہ مستقل وارث تسلیم کیا، اس کے حصص کو قانونی تحفظ فراہم کیا اور انہیں اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود قرار دیا۔ مزید یہ کہ عورت کا حصہ ہر صورت میں مرد سے نصف نہیں ہوتا بلکہ مختلف حالات میں وہ مرد کے برابر، اس سے زیادہ یا بعض اوقات واحد وارث بھی بن سکتی ہے۔ اس لیے اسلامی نظام وراثت کا صحیح فہم اسی وقت ممکن ہے جب اسے مجموعی شرعی اور فقہی تناظر میں دیکھا جائے، نہ کہ کسی ایک جزوی مثال کی بنیاد۔

پاکستانی قانونی نظام میں عورت کے حق وراثت کا تحفظ
آئین پاکستان اور خواتین کے وراثتی حقوق
پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ہے اور اس کے آئین میں تمام شہریوں کو قانون کے سامنے مساوات اور بنیادی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے۔ آئین پاکستان کا آرٹیکل 25 واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ تمام شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں اور جنس کی بنیاد پر امتیاز نہیں کیا جائے گا۔ اگرچہ آئین میں وراثت کے حصص کی تفصیلات موجود نہیں، تاہم خواتین کے مالی اور قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے بنیادی اصول فراہم کیے گئے ہیں۔ مزید برآں، آئین کا آرٹیکل 227 اس امر کی ضمانت دیتا ہے کہ ملک کا کوئی قانون قرآن و سنت کے منافی نہیں ہوگا۔ چونکہ قرآن مجید نے عورت کے حق وراثت کو صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے، اس لیے آئینی سطح پر بھی یہ حق شرعی اور قانونی تحفظ حاصل کرتا ہے۔ اس تناظر میں عورت کو وراثت سے محروم کرنا نہ صرف اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے بلکہ آئین کے بنیادی اصولِ مساوات اور انصاف کے بھی منافی ہے۔[29]
مسلم فیملی لاز اور وراثتی قوانین
پاکستانی قانونی نظام میں وراثت کے معاملات بنیادی طور پر اسلامی قانون کے مطابق طے کیے جاتے ہیں۔ مسلم پرسنل لا (شریعت) ایپلیکیشن ایکٹ 1962ء اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت مسلمانوں کے وراثتی معاملات شریعت اسلامی کے مطابق نمٹائے جاتے ہیں۔ ان قوانین کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ خاندانی رسم و رواج یا مقامی روایات کے بجائے شرعی اصولوں کی روشنی میں جائیداد تقسیم کی جائے۔ اس قانونی ڈھانچے کے ذریعے بیٹی، بہن، والدہ اور بیوی سمیت تمام خواتین کو ان کے شرعی حصص کا حق دیا گیا ہے۔ پاکستانی عدالتیں بھی وراثتی تنازعات میں عمومی طور پر فقہ اسلامی اور متعلقہ قانونی دفعات کو بنیاد بناتی ہیں۔ اس طرح قانونی سطح پر عورت کے حق وراثت کو واضح تحفظ حاصل ہے۔[30]
عورت کو وراثت سے محروم کرنے کے خلاف قانونی اقدامات
پاکستانی قانون نے خواتین کو وراثت سے محروم کرنے کے رجحان کی روک تھام کے لیے خصوصی اقدامات بھی کیے ہیں۔ فوجداری قانون (ترمیمی) ایکٹ 2011ء کے ذریعے پاکستان پینل کوڈ میں دفعہ 498-A شامل کی گئی، جس کے تحت کسی عورت کو دھوکے، جبر یا غیر قانونی ذرائع سے اس کے وراثتی حق سے محروم کرنا قابل تعزیر جرم قرار دیا گیا۔ اس قانون کے مطابق جرم ثابت ہونے پر قید اور جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔ اس ترمیم کا مقصد ان معاشرتی رویوں کی حوصلہ شکنی کرنا تھا جن کے ذریعے خواتین کو وراثت سے دستبردار ہونے پر مجبور کیا جاتا تھا یا ان کے حصے پر ناجائز قبضہ کر لیا جاتا تھا۔ یہ قانون اس حقیقت کا مظہر ہے کہ ریاست خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ کو ایک اہم قانونی مسئلہ سمجھتی ہے۔[31]
عدالتی نظائر (Judicial Precedents)
پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں نے متعدد فیصلوں میں خواتین کے وراثتی حقوق کو مضبوط قانونی تحفظ فراہم کیا ہے۔ سپریم کورٹ اور مختلف ہائی کورٹس نے یہ اصول واضح کیا ہے کہ عورت کو وراثت سے محروم کرنا اسلامی تعلیمات اور ملکی قوانین دونوں کے خلاف ہے۔ عدالتوں نے متعدد مقدمات میں خواتین کے حق میں فیصلے دیتے ہوئے قبضہ شدہ جائیداد واپس دلانے، جعلی دستبرداری ناموں کو کالعدم قرار دینے اور شرعی حصص کے مطابق تقسیم ترکہ کے احکامات جاری کیے ہیں۔ عدالتی نظائر سے یہ اصول بھی مستحکم ہوا ہے کہ اگر کسی خاتون سے دباؤ یا دھوکے کے ذریعے وراثتی حق ترک کروایا گیا ہو تو ایسا معاہدہ قانونی اعتبار سے قابل اعتراض ہو سکتا ہے۔ پاکستانی عدلیہ کے یہ فیصلے خواتین کے حقوق کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔[32]
نفاذ قانون میں عملی مشکلات
اگرچہ پاکستان میں خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ کے لیے واضح قانونی نظام موجود ہے، لیکن عملی سطح پر متعدد رکاوٹیں پائی جاتی ہیں۔ دیہی علاقوں میں روایتی رسم و رواج، خاندانی دباؤ، قانونی آگاہی کی کمی اور عدالتی کارروائی کی طوالت خواتین کے لیے اپنے حقوق کے حصول میں مشکلات پیدا کرتی ہیں۔ بعض خاندانوں میں خواتین کو جائیداد کے بدلے جہیز کو کافی سمجھ لیا جاتا ہے، جبکہ بعض جگہوں پر زبردستی دستبرداری نامے حاصل کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ عدالتی مقدمات کے اخراجات اور طویل قانونی عمل بھی خواتین کو اپنے حق کے حصول سے باز رکھنے کا سبب بنتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قانونی تحفظ کے باوجود بہت سی خواتین عملی طور پر اپنے وراثتی حقوق سے محروم رہ جاتی ہیں۔[33]
قانونی تحفظ اور زمینی حقائق کا تقابلی جائزہ
پاکستانی قانونی نظام اور زمینی حقیقت کا تقابلی مطالعہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ قانون اور عمل کے درمیان ایک واضح خلا موجود ہے۔ ایک طرف آئین، پارلیمنٹ اور عدالتیں خواتین کے حق وراثت کے تحفظ کی ضمانت دیتی ہیں، جبکہ دوسری طرف معاشرتی رویے اور ثقافتی رکاوٹیں ان حقوق کے مکمل نفاذ میں حائل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ محض قانون سازی کافی نہیں بلکہ عوامی شعور، قانونی تعلیم، مؤثر انتظامی اقدامات اور عدالتی نظام میں بہتری بھی ضروری ہے۔ جب تک خواتین اپنے حقوق سے آگاہ نہیں ہوں گی اور ریاستی ادارے ان کے تحفظ کے لیے فعال کردار ادا نہیں کریں گے، اس وقت تک قانونی ضمانتیں مطلوبہ نتائج پیدا نہیں کر سکیں گی۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ شرعی تعلیمات، قانونی نظام اور معاشرتی اصلاح کو یکجا کرکے خواتین کے وراثتی حقوق کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنایا جائے۔[34]
پاکستانی قانونی نظام عورت کے حق وراثت کو آئینی، قانونی اور عدالتی سطح پر مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔ تاہم عملی صورتِ حال یہ ظاہر کرتی ہے کہ محض قانون سازی کافی نہیں بلکہ مؤثر نفاذ، عوامی شعور اور سماجی رویوں میں تبدیلی بھی ضروری ہے۔ اگر ریاستی ادارے، مذہبی قیادت، تعلیمی ادارے اور سول سوسائٹی مشترکہ طور پر کردار ادا کریں تو خواتین کو ان کے شرعی اور قانونی حقوق کی فراہمی زیادہ مؤثر انداز میں ممکن ہو سکتی ہے۔

پاکستانی معاشرت میں عملی اطلاق
​خیبر پختونخوا انفورسمنٹ آف ویمن پراپرٹی رائٹس ایکٹ ۲۰۱۹ء کا تعارف اور دائرہ کار
​یہ ایکٹ خواتین کو ان کی ملکیت اور وراثت کے حقوق کے تحفظ کے لیے صوبائی محتسب (Ombudsman) کے ذریعے ایک تیز رفتار اور متبادل نظام فراہم کرتا ہے، تاکہ انہیں دیوانی عدالتوں (Civil Courts) کی طویل قانونی چارہ جوئی سے بچایا جا سکے۔[35] اس قانون کی دفعہ ۴ کے تحت محتسب کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی خاتون کی شکایت پر، جسے اس کے وراثتی یا ملکیتی حق سے محروم کیا گیا ہو، سول کورٹ کی طرح سماعت کرے اور اس کا حق بحال کروائے۔[36]
​ وراثت کے عملی نفاذ میں رکاوٹیں (باریک بینی سے تجزیہ)
​ دستبرداری کا دباؤ اور "حق دعویٰ” سے محرومی (Estoppel & Waiver)
​پاکستانی معاشرت میں خواتین پر شدید خاندانی اور سماجی دباؤ ہوتا ہے کہ وہ بھائیوں یا رشتہ داروں کے حق میں اپنے وراثتی حصے سے دستبردار ہو جائیں (جسے عرف عام میں ‘تملیک’ یا گفٹ کروا لینا کہا جاتا ہے)۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے تاریخی فیصلوں میں واضح کیا ہے کہ خواتین کی ایسی دستبرداری جو کسی دباؤ یا کم علمی پر مبنی ہو، قانوناً باطل ہے، اور بھائیوں کا بہنوں کو وراثت سے محروم رکھنے کے لیے تحفے یا دستبرداری کا سہارا لینا غیر قانونی ہے۔[37]
​ ریوینیو ریکارڈ (پٹواری کلچر) اور نادرا کا خودکار نظام
​اگرچہ حکومت نے نادرا (NADRA) کے فیملی ٹری کے ذریعے وراثت کی خودکار منتقلی کے قوانین بنائے ہیں، لیکن زمینی سطح پر ریوینیو حکام (پٹواری اور تحصیلدار) شجرہ نسب اور انتقال زمین (Mutation) کے عمل میں اب بھی خواتین کے ناموں کو نظر انداز کر دیتے ہیں یا خاندان کے مرد ارکان کے ساتھ مل کر جعل سازی کرتے ہیں، جو نفاذ میں سب سے بڑی انتظامی رکاوٹ ہے۔[38]
​ عدالتی تاخیر اور قانونی چارہ جوئی کے اخراجات (Litigation Costs)
​جب کوئی خاتون اپنے حق کے لیے دیوانی عدالت (Civil Court) کا رخ کرتی ہے، تو وراثت کے مقدمات اوسطاً ۱۰ سے ۱۵ سال تک لٹکے رہتے ہیں۔ ایک غریب یا گھریلو خاتون کے لیے طویل عرصے تک وکیل کی فیسیں ادا کرنا اور عدالتوں کے چکر لگانا ممکن نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے وہ اپنے حق سے دستبردار ہونے پر مجبور ہو جاتی ہے۔[39]
​ خیبر پختونخوا محتسب (Ombudsman) کے دائرہ اختیار کی حدود اور رکاوٹیں
​اگرچہ ۲۰۱۹ء کے ایکٹ نے صوبائی محتسب کو وسیع اختیارات دیے ہیں، لیکن اس کے نفاذ میں سب سے بڑی قانونی رکاوٹ یہ ہے کہ اگر وراثت کا مقدمہ پہلے ہی کسی دیوانی عدالت (Civil Court) میں زیرِ سماعت ہو، تو محتسب اس پر کارروائی نہیں کر سکتا ۔[40] اس شق کا فائدہ اٹھا کر مرد ارکان فوری طور پر سول کورٹ سے حکمِ امتناعی (Stay Order) لے لیتے ہیں، جس سے محتسب کا فورم غیر مؤثر ہو جاتا ہے۔[41]
​ تقابلی جائزہ: سپریم کورٹ کے حالیہ نظائر (Judicial Precedents)
​آرٹیکل کو علمی اعتبار سے سپریم کرنے کے لیے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ۲۰۲۱ء کے اس تاریخی فیصلے کا حوالہ لازمی دیں، جس میں عدالت عظمیٰ نے قرار دیا تھا کہ شریعت اور پاکستانی قانون دونوں میں خواتین کے وراثتی حقوق قطعی ہیں، اور اگر کوئی مرد وارث اپنی بہن یا ماں کو محروم کرتا ہے تو ریاست کا فرض ہے کہ وہ بغیر کسی تاخیر کے عورت کو اس کا قبضہ دلائے۔[42]

عورت کو حق وراثت سے محروم کرنے کے اثرات
اسلام نے عورت کو وراثت کا حق عطا کرکے اس کی معاشی خودمختاری، سماجی عزت اور خاندانی تحفظ کو یقینی بنایا ہے۔ قرآن مجید نے مرد اور عورت دونوں کے لیے وراثت میں حصہ مقرر کیا اور اس حق کو اللہ تعالیٰ کی حدود میں شمار کیا۔ تاہم جب عورت کو اس کے جائز حق وراثت سے محروم کیا جاتا ہے تو اس کے اثرات صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے خاندان، معاشرے اور اخلاقی نظام کو متاثر کرتے ہیں۔ یہ محرومی معاشی کمزوری، خاندانی تنازعات، سماجی عدم مساوات اور دینی و اخلاقی انحطاط کا سبب بن سکتی ہے۔
معاشی اثرات
خواتین کی مالی کمزوری
وراثت عورت کی معاشی زندگی میں ایک بنیادی ذریعۂ تحفظ کی حیثیت رکھتی ہے۔ جب عورت کو اس کے شرعی حصے سے محروم کر دیا جاتا ہے تو وہ ایک ایسے مالی حق سے محروم ہو جاتی ہے جو اس کی اقتصادی خودمختاری کو مضبوط بنا سکتا تھا۔ بہت سی خواتین، خصوصا بیوہ، مطلقہ یا معاشی طور پر کمزور خواتین کے لیے وراثت ایک مستقل مالی سہارا ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر یہ حق سلب کر لیا جائے تو عورت کی مالی حالت کمزور ہو جاتی ہے اور وہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے دوسروں پر زیادہ انحصار کرنے پر مجبور ہو سکتی ہے۔
معاشی خودمختاری صرف آمدنی کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی وقار اور فیصلہ سازی کی صلاحیت سے بھی متعلق ہے۔ جس عورت کے پاس اپنی ملکیت یا مالی وسائل موجود ہوں وہ تعلیم، صحت، کاروبار اور خاندانی معاملات میں زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس کے برعکس مالی محرومی اسے معاشرتی اور خاندانی سطح پر کمزور بنا سکتی ہے۔ اس طرح وراثتی حق کی عدم فراہمی عورت کی اقتصادی ترقی کے مواقع کو محدود کر دیتی ہے اور اس کے طویل المدتی اثرات اس کی آئندہ نسلوں تک پہنچ سکتے ہیں۔[43]
غربت میں اضافہ
خواتین کو وراثت سے محروم کرنے کا ایک اہم نتیجہ غربت میں اضافہ بھی ہے۔ معاشی مطالعات سے معلوم ہوتا ہے کہ جائیداد اور مالی اثاثوں تک رسائی غربت کے خاتمے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جب خواتین کو وراثتی املاک میں حصہ نہیں ملتا تو ان کی مالی بنیاد کمزور رہتی ہے اور وہ معاشی عدم تحفظ کا شکار ہو سکتی ہیں۔ خاص طور پر بیوہ خواتین یا وہ خواتین جن کے پاس مستقل آمدنی کا کوئی ذریعہ نہ ہو، ان کے لیے وراثت ایک اہم مالی تحفظ فراہم کرتی ہے۔
وراثتی حقوق سے محرومی کا اثر صرف فرد تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے بچوں اور خاندان پر بھی پڑتا ہے۔ اگر عورت کے پاس معاشی وسائل موجود نہ ہوں تو تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس طرح وراثت سے محرومی غربت کے ایک ایسے دائرے کو جنم دیتی ہے جو نسل در نسل منتقل ہو سکتا ہے۔[44]
خاندانی اثرات
تنازعات اور رشتہ داریوں میں کشیدگی
وراثت کی غیر منصفانہ تقسیم خاندانی تنازعات کا ایک اہم سبب بن سکتی ہے۔ جب کسی خاتون کو اس کے جائز حصے سے محروم کیا جاتا ہے تو اس کے دل میں احساس محرومی پیدا ہو سکتا ہے، جو وقت گزرنے کے ساتھ خاندانی اختلافات اور کشیدگی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات بھائیوں اور بہنوں کے درمیان تعلقات متاثر ہوتے ہیں اور خاندان کے افراد ایک دوسرے سے دور ہو جاتے ہیں۔
اسلامی تعلیمات کا مقصد خاندانی ہم آہنگی اور باہمی محبت کو فروغ دینا ہے۔ اسی لیے شریعت نے وراثت کے حصص خود متعین کیے تاکہ تنازعات کے امکانات کم ہوں۔ جب ان احکام کو نظر انداز کیا جاتا ہے تو خاندانی نظام میں عدم اعتماد اور بدگمانی پیدا ہو سکتی ہے، جو معاشرتی استحکام کے لیے نقصان دہ ہے۔[45]
خاندانی نظام پر منفی اثرات
وراثتی ناانصافی خاندانی نظام کے مجموعی استحکام کو بھی متاثر کرتی ہے۔ جب خاندان کے بعض افراد اپنے حقوق سے محروم ہو جائیں تو انصاف اور اعتماد کی فضا کمزور پڑ جاتی ہے۔ اس صورت حال میں آئندہ نسلوں کے لیے بھی منفی مثال قائم ہوتی ہے اور وراثتی تنازعات ایک مستقل سماجی مسئلہ بن سکتے ہیں۔
خاندان معاشرے کی بنیادی اکائی ہے۔ اگر خاندان کے اندر انصاف کا فقدان ہو تو اس کے اثرات پورے معاشرے تک پہنچتے ہیں۔ اسی لیے اسلامی نظام وراثت کو خاندانی استحکام اور سماجی توازن کا ایک اہم ذریعہ قرار دیا جاتا ہے۔[46]
سماجی اثرات
صنفی عدم مساوات
خواتین کو وراثت سے محروم کرنا صنفی عدم مساوات کو فروغ دیتا ہے۔ جب مردوں کو جائیداد اور مالی وسائل تک مکمل رسائی حاصل ہو جبکہ خواتین ان سے محروم رہیں تو معاشرتی طاقت اور وسائل کی تقسیم غیر متوازن ہو جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں خواتین کی معاشی اور سماجی ترقی کے مواقع محدود ہو سکتے ہیں۔
اسلام نے عورت کو وراثت کا حق دے کر اس عدم مساوات کا خاتمہ کیا تھا، لیکن جب معاشرتی رویے اس حق کے نفاذ میں رکاوٹ بنتے ہیں تو عملی طور پر وہی عدم مساوات دوبارہ جنم لے سکتی ہے جس کے خاتمے کے لیے اسلام نے اصلاحات متعارف کرائی تھیں۔[47]
خواتین کی معاشرتی حیثیت میں کمی
وراثتی حقوق سے محرومی خواتین کی معاشرتی حیثیت پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ معاشی وسائل تک رسائی کسی بھی فرد کی سماجی طاقت اور خوداعتمادی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جب خواتین مالی طور پر کمزور ہوں تو ان کی فیصلہ سازی میں شرکت اور معاشرتی اثرورسوخ بھی محدود ہو سکتا ہے۔
اس کے برعکس اگر خواتین کو ان کے جائز حقوق ملیں تو وہ نہ صرف اپنی ذاتی زندگی میں زیادہ بااختیار بنتی ہیں بلکہ خاندان اور معاشرے کی ترقی میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اس لیے وراثتی حقوق کا تحفظ خواتین کی سماجی عزت اور مقام کے استحکام کے لیے ضروری ہے۔[48]
دینی و اخلاقی اثرات
شرعی احکام کی خلاف ورزی
اسلامی نقطۂ نظر سے عورت کو وراثت سے محروم کرنا محض قانونی خلاف ورزی نہیں بلکہ ایک سنگین شرعی مسئلہ بھی ہے۔ قرآن مجید نے وراثت کے احکام کو اللہ تعالیٰ کی حدود قرار دیا ہے اور ان میں تبدیلی یا حق تلفی سے منع کیا ہے۔ اس لیے جب کسی عورت کو اس کے مقررہ حصے سے محروم کیا جاتا ہے تو یہ دراصل اللہ تعالیٰ کے واضح حکم کی مخالفت شمار ہوتی ہے۔
فقہائے اسلام نے اس عمل کو ظلم اور حق تلفی قرار دیا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے ایک ایسے حق کو سلب کیا جاتا ہے جو براہ راست شریعت نے عطا کیا ہے۔ اس اعتبار سے وراثتی ناانصافی صرف ایک معاشرتی مسئلہ نہیں بلکہ دینی ذمہ داریوں سے غفلت کی علامت بھی ہے۔[49]
معاشرتی ناانصافی کا فروغ
جب معاشرے میں خواتین کے وراثتی حقوق پامال ہوتے ہیں تو ناانصافی کا ایک ایسا ماحول پیدا ہو سکتا ہے جو دیگر سماجی مسائل کو بھی جنم دیتا ہے۔ انصاف کسی بھی معاشرے کے استحکام کی بنیاد ہے، اور جب لوگوں کو ان کے جائز حقوق نہ ملیں تو اعتماد، تعاون اور سماجی ہم آہنگی متاثر ہوتی ہے۔
اسلامی تعلیمات عدل و انصاف کو بنیادی قدر قرار دیتی ہیں۔ لہٰذا عورت کو اس کے حقِ وراثت سے محروم کرنا صرف ایک فرد کے ساتھ زیادتی نہیں بلکہ پورے معاشرتی عدالتی نظام کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ اس لیے وراثتی حقوق کا تحفظ ایک دینی فریضہ، اخلاقی ذمہ داری اور سماجی ضرورت ہے۔[50]
عورت کو حق وراثت سے محروم کرنے کے اثرات صرف مالی نقصان تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہ خاندانی استحکام، سماجی توازن، اخلاقی اقدار اور دینی ذمہ داریوں کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ اس لیے وراثتی حقوق کا تحفظ محض ایک قانونی تقاضا نہیں بلکہ ایک شرعی، اخلاقی اور سماجی ضرورت بھی ہے۔ اسلامی تعلیمات اور پاکستانی قانونی نظام دونوں اس امر پر زور دیتے ہیں کہ خواتین کو ان کے جائز حصص بروقت اور مکمل طور پر فراہم کیے جائیں تاکہ معاشرے میں عدل، استحکام اور خوشحالی کو فروغ مل سکے۔

اسلامی اور سماجی تناظر میں اصلاحی تجاویز
عورت کے حق وراثت سے متعلق شرعی احکام، قانونی ضمانتوں اور معاشرتی حقائق کا جائزہ یہ واضح کرتا ہے کہ مسئلہ صرف قانون سازی کا نہیں بلکہ شعور، رویوں اور عملی نفاذ کا بھی ہے۔ اگرچہ اسلام نے خواتین کو واضح وراثتی حقوق عطا کیے ہیں اور پاکستان کے قانونی نظام میں بھی ان کے تحفظ کے لیے متعدد اقدامات موجود ہیں، لیکن عملی سطح پر ابھی بھی بہت سی خواتین اپنے حقوق سے محروم رہ جاتی ہیں۔ اس صورت حال کے پیش نظر ضروری ہے کہ دینی، سماجی، تعلیمی، قانونی اور ریاستی سطح پر جامع اصلاحی اقدامات اختیار کیے جائیں تاکہ خواتین کو ان کے شرعی اور قانونی حقوق عملا حاصل ہو سکیں۔
دینی و شرعی آگاہی کا فروغ
عورت کے حق وراثت کے تحفظ کے لیے سب سے بنیادی ضرورت دینی اور شرعی شعور کی ترویج ہے۔ بہت سے معاشرتی مسائل کی جڑ اسلامی تعلیمات سے ناواقفیت یا ان کی ناقص تفہیم ہوتی ہے۔ قرآن مجید نے وراثت کے احکام کو صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے اور انہیں اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود قرار دیا ہے۔ اگر مسلمانوں میں یہ شعور عام ہو جائے کہ وراثت کی تقسیم محض خاندانی معاملہ نہیں بلکہ ایک دینی فریضہ ہے تو خواتین کے حقوق کے تحفظ میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔ مساجد، دینی مدارس، اسلامی مراکز اور مذہبی اجتماعات کے ذریعے وراثت کے احکام کو عام کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ معاشرے میں اس مسئلے کے بارے میں صحیح فہم پیدا ہو سکے۔[51]
خاندانی سطح پر شعور بیدار کرنا
وراثت کے بیشتر مسائل خاندان کے اندر ہی پیدا ہوتے ہیں، اس لیے اصلاح کا آغاز بھی خاندانی سطح سے ہونا چاہیے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کی تربیت میں عدل، امانت اور حقوق العباد کی اہمیت کو اجاگر کریں۔ خاندان کے بزرگوں کو یہ احساس دلانا ضروری ہے کہ بیٹیوں اور بہنوں کو ان کے شرعی حقوق دینا احسان نہیں بلکہ ایک دینی ذمہ داری ہے۔ اگر خاندانی سطح پر انصاف اور مساوات کے اسلامی اصولوں کو فروغ دیا جائے تو وراثت سے متعلق بہت سے تنازعات خود بخود کم ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح وراثت کی تقسیم کو جذباتی یا روایتی مسئلہ بنانے کے بجائے شرعی اصولوں کے مطابق حل کرنے کا رجحان پیدا کیا جانا چاہیے۔[52]
تعلیمی اداروں کا کردار
تعلیمی ادارے معاشرتی شعور کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ اسکولوں، کالجوں اور جامعات کے نصاب میں بنیادی قانونی اور شرعی حقوق کے موضوعات شامل کیے جانے چاہئیں تاکہ نوجوان نسل اپنے حقوق اور ذمہ داریوں سے آگاہ ہو سکے۔ اسلامیات، معاشرتی علوم اور شہری تعلیم (Civics) کے مضامین میں خواتین کے وراثتی حقوق کے بارے میں مناسب مواد شامل کرنا مفید ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ جامعات میں سیمینارز، ورکشاپس اور تحقیقی سرگرمیوں کے ذریعے بھی اس موضوع پر شعور بیدار کیا جا سکتا ہے۔ تعلیم کے ذریعے پیدا ہونے والی آگاہی طویل المدتی سماجی اصلاح کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔[53]
علماء اور خطباء کی ذمہ داریاں
علماء اور خطباء اسلامی معاشرے میں فکری اور اخلاقی رہنمائی کا اہم ذریعہ ہوتے ہیں۔ جمعہ کے خطبات، دروس قرآن اور دینی اجتماعات میں خواتین کے وراثتی حقوق کے موضوع کو زیادہ توجہ دی جانی چاہیے۔ علماء کو چاہیے کہ وہ واضح کریں کہ عورت کو وراثت سے محروم کرنا شرعی طور پر ناجائز اور اخلاقی طور پر قابل مذمت عمل ہے۔ اسی طرح نکاح، خاندانی معاملات اور مالی حقوق کے بارے میں عوامی رہنمائی فراہم کرتے وقت وراثت کے مسئلے کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔ جب مذہبی قیادت اس موضوع کو سنجیدگی سے اجاگر کرے گی تو معاشرتی رویوں میں مثبت تبدیلی پیدا ہونے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔[54]
قانونی نظام کے مؤثر نفاذ کی ضرورت
قانون سازی اس وقت تک مطلوبہ نتائج پیدا نہیں کر سکتی جب تک اس پر مؤثر عمل درآمد نہ ہو۔ اگرچہ پاکستان میں خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ کے لیے مختلف قوانین موجود ہیں، لیکن ان کے نفاذ میں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔ انتظامی اداروں، ریونیو محکموں اور عدالتی نظام کو اس حوالے سے زیادہ فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ وراثتی تنازعات کے جلد اور منصفانہ حل کے لیے خصوصی قانونی سہولیات اور آسان طریقہ کار متعارف کرائے جا سکتے ہیں۔ مؤثر نفاذ سے خواتین کے اعتماد میں اضافہ ہوگا اور حقوق کے حصول کا عمل زیادہ آسان ہو سکے گا۔[55]
خواتین کی قانونی اور معاشی آگاہی
بہت سی خواتین اپنے قانونی اور شرعی حقوق سے مکمل طور پر آگاہ نہیں ہوتیں، جس کے باعث وہ اپنے حق کا مطالبہ بھی نہیں کر پاتیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ خواتین کی قانونی تعلیم اور معاشی آگاہی پر خصوصی توجہ دی جائے۔ مختلف سرکاری اور غیر سرکاری ادارے تربیتی پروگراموں، قانونی مشاورت اور آگاہی مہمات کے ذریعے خواتین کو ان کے حقوق کے بارے میں معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔ جب خواتین اپنے حقوق اور ان کے حصول کے طریقۂ کار سے واقف ہوں گی تو ان کے استحصال کے امکانات کم ہو جائیں گے۔[56]
میڈیا اور سول سوسائٹی کا کردار
میڈیا اور سول سوسائٹی عوامی شعور کی تشکیل میں غیر معمولی اثر رکھتے ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا، اخبارات، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور عوامی مہمات کے ذریعے خواتین کے وراثتی حقوق کے بارے میں مثبت پیغام عام کیا جا سکتا ہے۔ سول سوسائٹی کی تنظیمیں قانونی معاونت، آگاہی پروگراموں اور تحقیقی سرگرمیوں کے ذریعے بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اگر میڈیا اور سماجی ادارے اس مسئلے کو مسلسل اجاگر کریں تو معاشرے میں مثبت رویوں کے فروغ اور غلط روایات کے خاتمے میں مدد مل سکتی ہے۔[57]
ریاستی سطح پر اصلاحی اقدامات
ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ خواتین کے وراثتی حقوق کے مؤثر تحفظ کے لیے حکومت کو قانونی اصلاحات، مؤثر نگرانی، عوامی آگاہی مہمات اور ادارہ جاتی تعاون کو فروغ دینا چاہیے۔ ریونیو ریکارڈ کی جدید کاری، وراثتی انتقال کے آسان طریقۂ کار، مفت قانونی معاونت اور دیہی علاقوں میں آگاہی پروگرام اس سلسلے میں مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ریاستی اداروں کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ خواتین کے خلاف وراثتی ناانصافی کے مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے۔[58]
عورت کے حق وراثت کے تحفظ کے لیے محض شرعی احکام یا قانونی دفعات کافی نہیں بلکہ ان کے مؤثر نفاذ کے لیے اجتماعی کوششیں بھی ضروری ہیں۔ دینی تعلیم، خاندانی تربیت، تعلیمی شعور، قانونی اصلاحات، میڈیا کی معاونت اور ریاستی اقدامات ایک دوسرے کے معاون بن سکتے ہیں۔ جب معاشرہ خواتین کے وراثتی حقوق کو شرعی فریضہ، قانونی حق اور اخلاقی ذمہ داری کے طور پر تسلیم کرے گا تو خواتین کو ان کے جائز حصص کی فراہمی زیادہ مؤثر انداز میں ممکن ہو سکے گی۔ یہی اسلامی تعلیمات، آئینی تقاضوں اور سماجی انصاف کا حقیقی تقاضا ہے۔

نتائج تحقیق
اسکالر کی اس تحقیق کے مطالعے سے سب سے پہلی اور بنیادی حقیقت یہ سامنے آتی ہے کہ اسلام نے عورت کو وراثت کا باقاعدہ، مستقل اور قانونی حق عطا کیا ہے۔ قبل از اسلام عرب معاشرے میں عورت کو وراثت کا حق حاصل نہیں تھا، بلکہ بعض اوقات خود عورت کو قابل وراثت مال سمجھا جاتا تھا۔ قرآن مجید نے اس غیر منصفانہ نظام کا خاتمہ کرتے ہوئے عورت کو بیٹی، بہن، والدہ اور بیوی کی حیثیت سے متعین حصے عطا کیے اور ان حصص کو اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود قرار دیا۔ اس طرح اسلام نے عورت کے معاشی تحفظ اور انسانی وقار کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کی۔
تحقیق سے یہ بھی واضح ہوا کہ عورت کے حق وراثت کی بنیاد صرف معاشرتی مصلحت نہیں بلکہ قرآن مجید، سنت نبوی ﷺ اور اجماع امت پر قائم ایک قطعی شرعی حکم ہے۔ سورۂ نساء کی آیات میراث اور متعدد احادیث نبویہ اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ وراثت کی تقسیم میں کسی قسم کی کمی بیشی یا جانبداری جائز نہیں۔ اسی وجہ سے فقہائے اسلام نے وراثت کے احکام کو شریعت کے ان احکام میں شمار کیا ہے جن میں انسانی خواہشات یا سماجی روایات کی بنیاد پر تبدیلی کی گنجائش نہیں۔
اسکالر کے مطالعے کا ایک اہم نتیجہ یہ بھی ہے کہ عورت کا حصہ ہر صورت میں مرد سے نصف نہیں ہوتا۔ قرآن و سنت اور فقہی ذخیرے کے تفصیلی جائزے سے معلوم ہوا کہ بعض صورتوں میں عورت مرد کے برابر حصہ پاتی ہے، بعض صورتوں میں اس سے زیادہ حصہ حاصل کرتی ہے اور بعض حالات میں وہ واحد وارث بھی بن سکتی ہے۔ لہٰذا یہ تصور کہ اسلامی نظام وراثت ہمیشہ عورت کو مرد سے کم حق دیتا ہے، علمی اور شرعی لحاظ سے درست نہیں۔
تحقیق سے یہ حقیقت بھی سامنے آئی کہ اسلامی نظام وراثت مساوات مطلقہ (Absolute Equality) کے بجائے عدل (Justice) کے اصول پر قائم ہے۔ شریعت نے حصص کا تعین محض جنس کی بنیاد پر نہیں بلکہ مالی ذمہ داریوں، خاندانی تعلقات اور معاشرتی فرائض کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا ہے۔ مرد پر عائد مالی ذمہ داریوں اور عورت کی مالی ملکیت کے تحفظ کو سامنے رکھتے ہوئے یہ تقسیم ایک متوازن معاشی نظام کی عکاسی کرتی ہے۔
پاکستانی قانونی نظام کے مطالعے سے یہ نتیجہ اخذ ہوا کہ ملک کا آئین، متعلقہ قوانین اور عدالتی نظائر خواتین کے وراثتی حقوق کو مکمل قانونی تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ آئین پاکستان کے اصول مساوات، مسلم پرسنل لا کے قواعد اور پاکستان پینل کوڈ کی متعلقہ دفعات اس بات کی ضمانت دیتی ہیں کہ خواتین کو ان کے شرعی حصص سے محروم نہ کیا جائے۔
اس کے باوجود تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عملی سطح پر بہت سی خواتین اپنے وراثتی حقوق سے محروم رہ جاتی ہیں۔ اس محرومی کی بنیادی وجوہات میں روایتی سماجی رویے، خاندانی دباؤ، جہیز کو وراثت کا متبادل سمجھنے کا غلط تصور، قانونی آگاہی کی کمی اور بعض علاقوں میں رسم و رواج کا غلبہ شامل ہیں۔ یہ عوامل خواتین کے قانونی اور شرعی حقوق کے مؤثر نفاذ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
تحقیق نے یہ بھی ثابت کیا کہ عورت کو حق وراثت سے محروم کرنے کے اثرات صرف مالی نقصان تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس کے نتیجے میں غربت، معاشی عدم استحکام، خاندانی تنازعات، سماجی ناانصافی اور صنفی عدم مساوات جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔ مزید برآں، یہ عمل دینی اعتبار سے بھی ایک سنگین خلاف ورزی ہے کیونکہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حقوق پامال ہوتے ہیں۔
مطالعے سے یہ نتیجہ بھی سامنے آیا کہ مسئلے کا بنیادی حل صرف قانون سازی میں نہیں بلکہ دینی شعور، سماجی اصلاح، تعلیمی آگاہی اور مؤثر نفاذ قانون میں پوشیدہ ہے۔ جب تک معاشرتی رویوں میں تبدیلی نہیں آتی اور خواتین اپنے حقوق سے آگاہ نہیں ہوتیں، اس وقت تک قانونی ضمانتیں مکمل طور پر مؤثر ثابت نہیں ہو سکتیں۔
سفارشات
تحقیق کے نتائج کی روشنی میں یہ سفارش کی جاتی ہے کہ خواتین کے وراثتی حقوق کے بارے میں قرآن و سنت کی تعلیمات کو عوامی سطح پر زیادہ مؤثر انداز میں عام کیا جائے۔ مساجد، مدارس، جامعات اور دیگر تعلیمی اداروں میں وراثت کے احکام کو خصوصی اہمیت دی جائے تاکہ عوام الناس اس مسئلے کی شرعی حیثیت سے مکمل آگاہی حاصل کر سکیں۔
خاندانی سطح پر والدین اور بزرگوں کو چاہیے کہ وہ اولاد کی تربیت میں عدل، امانت اور حقوق العباد کی اہمیت کو اجاگر کریں۔ بیٹیوں اور بہنوں کو ان کے حصص دینا احسان نہیں بلکہ شرعی فریضہ ہے، اس شعور کو خاندانوں میں فروغ دینا ضروری ہے۔
یہ بھی سفارش کی جاتی ہے کہ اسکولوں، کالجوں اور جامعات کے نصاب میں بنیادی قانونی اور وراثتی حقوق کے موضوعات شامل کیے جائیں تاکہ نوجوان نسل ابتدا ہی سے اپنے حقوق اور ذمہ داریوں سے آگاہ ہو سکے۔ اس اقدام سے مستقبل میں وراثتی تنازعات میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔
علماء، خطباء اور دینی راہنماؤں کو چاہیے کہ وہ جمعہ کے خطبات، دروس قرآن اور عوامی اجتماعات میں خواتین کے وراثتی حقوق کے موضوع کو نمایاں طور پر زیر بحث لائیں۔ چونکہ مذہبی قیادت معاشرتی رویوں پر گہرا اثر رکھتی ہے، اس لیے ان کی فعال شمولیت مثبت تبدیلی کا مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔
ریاستی اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ سے متعلق موجودہ قوانین پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ وراثتی مقدمات کے جلد فیصلے، قانونی معاونت کی فراہمی اور ریونیو نظام میں شفافیت اس مقصد کے حصول میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
خواتین کی قانونی اور مالی آگاہی کے لیے خصوصی پروگرام ترتیب دیے جانے چاہئیں۔ سرکاری اور غیر سرکاری ادارے ورکشاپس، سیمینارز، میڈیا مہمات اور قانونی مشاورتی مراکز کے ذریعے خواتین کو ان کے حقوق سے آگاہ کر سکتے ہیں تاکہ وہ اپنے جائز حقوق کے حصول کے لیے مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
میڈیا اور سول سوسائٹی کو بھی اس مسئلے کے حل میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے مثبت آگاہی مہمات چلائی جائیں اور ایسے سماجی رویوں کی حوصلہ شکنی کی جائے جو خواتین کے وراثتی حقوق کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
آخر میں یہ سفارش کی جاتی ہے کہ وراثت کے معاملات میں شرعی اصولوں، قانونی تقاضوں اور سماجی ذمہ داریوں کو یکجا کرتے ہوئے ایک ایسا ماحول پیدا کیا جائے جس میں خواتین کو ان کے حقوق کے حصول کے لیے کسی دباؤ، خوف یا قانونی پیچیدگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ یہی اسلامی تعلیمات، آئینی اصولوں اور سماجی انصاف کا حقیقی تقاضا ہے۔
اختتامیہ
مجموعی طور پر اسکالر کی اس تحقیق سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ عورت کا حق وراثت اسلام میں ایک قطعی، لازمی اور ناقابل انکار حق ہے جسے قرآن مجید نے واضح احکام کے ذریعے متعین کیا ہے اور سنت نبوی ﷺ نے اس کی عملی توثیق فرمائی ہے۔ یہ نظام محض مالی تقسیم کا ضابطہ نہیں بلکہ ایک جامع عدل پر مبنی معاشی ڈھانچہ ہے جو خاندان کے ہر فرد کی ذمہ داریوں اور سماجی کردار کو سامنے رکھ کر توازن قائم کرتا ہے۔ پاکستان کے آئینی اور قانونی نظام میں بھی اس حق کو مکمل تحفظ حاصل ہے، تاہم عملی سطح پر بعض سماجی رویے، روایتی تصورات اور آگاہی کی کمی اس کے مؤثر نفاذ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ دینی شعور، قانونی عملداری، تعلیمی اصلاح اور سماجی بیداری کو یکجا کر کے ایسے ماحول کو فروغ دیا جائے جہاں عورت کو اس کا شرعی اور قانونی حق بغیر کسی دباؤ، تاخیر یا محرومی کے حاصل ہو سکے، کیونکہ یہی قرآن و سنت کی تعلیمات، آئینی اصولوں اور اجتماعی انصاف کا حقیقی تقاضا ہے۔
عورت کا حق وراثت اسلام کے عطا کردہ ان بنیادی حقوق میں سے ہے جس نے خواتین کی معاشی خودمختاری، انسانی وقار اور سماجی تحفظ کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کی۔ قرآن مجید نے اس حق کو واضح انداز میں بیان کیا اور اسے اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود قرار دیا۔ پاکستان کے آئین اور قانونی نظام نے بھی ان حقوق کے تحفظ کی ضمانت دی ہے، تاہم عملی سطح پر ابھی بھی متعدد معاشرتی اور ثقافتی رکاوٹیں موجود ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دینی تعلیمات، قانونی تحفظات اور سماجی شعور کو یکجا کرکے ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جائے جہاں ہر عورت کو اس کا شرعی اور قانونی حق بلا امتیاز اور بلا تاخیر حاصل ہو سکے۔ یہی اسلامی عدل، خاندانی استحکام اور سماجی انصاف کے قیام کی بنیاد ہے۔

حوالہ جات/مصادر و مراجع
1۔القرآن: 4/7
2۔امام ابن کثیر،تفسیر القرآن العظیم، جلد 2،(ریاض دار طیبہ،1999)،210-211۔
3۔ القرآن: 4/11
4۔امام ابن کثیر،تفسیر القرآن العظیم، جلد 2،(ریاض دار طیبہ،1999)،214-218۔
5۔القرآن: 4/12
6۔امام ابن کثیر،تفسیر القرآن العظیم، جلد 2،صفحہ 220-230،(ریاض دار طیبہ،1999) ۔
7۔القرآن: 4/13
8۔القرآن: 4/14
9۔ امام ابن کثیر،تفسیر القرآن العظیم، جلد 2،صفحہ 225-226(ریاض دار طیبہ،1999)۔
10۔القرآن: 4/176
11۔ امام ابن کثیر،تفسیر القرآن العظیم، جلد 2،صفحہ 230-235(ریاض دار طیبہ،1999)۔
12۔سنن ابی داؤد، کتاب الفرائض،حدیث 2891، البیروت: دار الرشید العالمیہ،2009۔
13۔سنن ابن ماجہ، کتاب الفرئض،باب الحث کلی تعلیم الفرائض،حدیث 2719، ریاض دار سلام،2007۔
14۔ صحیح البخاری،کتاب الفرائض،باب میراث الولد من ابیہ وامہ،حدیث 6732،دار ابن کثیر،2002۔
15۔ وہبہ الزحیلی،الفقہ الاسلامی ا ادلیہ،جلد10،صفحہ 771،دمشق: دار الفکر،2007ء۔
16۔وہبہ الزحیلی، الفقہ الاسلامی وادلتہ،جلد 10،صفحہ 7715-7705،دمشق:دار الفکر، 2007ء۔
17۔ محمد ابو زہرہ، احکام الترکات والمواریث،صفحہ 38-44، قاہرہ: دار الفکر العربی،1978۔
18۔علاءالدین الکاسانی،بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع،جلد7،صفحہ 251-255،بیروت: دار الکتب العلمیۃ،1986ء۔
19۔محمد بن احمد السرخی، المبسوط، جلد 29، صفحہ 137-142،بیروت: دار المعرفۃ،1993ء۔
20۔ابن قدامہ، المغنی، جلد 8،صفحہ 391-395،ریاض:دار عالم الکتب،1997ء۔
21۔محمد ابو زہرہ، احکام الترکات والمورایث،صفحہ 60-64، قاہرہ: دار الفکر العربی،1978۔
22۔ وہبہ الزحیلی، الفقہ الإسلامی وأدلتہ، جلد 10 ،صفحہ 7705-7710 (دمشق: دارالفکر، 2007ء)،۔
23۔اسماعیل بن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، جلد 2 ،صفحہ 214-218،(ریاض: دارطیبہ، 1999ء)؛ محمد علی الصابونی، المواریث فی الشریعۃ الإسلامیۃ ، 41-45، (قاہرہ: دارالصابونی، 1989)۔
24۔محمد ابو زہرہ، احکام الترکات والمواریث ،صفحہ 66-71،(قاہرہ: دارالفکر العربی، 1978ء)۔
25۔محمد علی الصابونی، المواریث فی الشریعۃ الإسلامیۃ، 52-57،(قاہرہ: دارالصابونی، 1989)۔
26۔محمد ابو زہرہ، احکام الترکات والمواریث،صفحہ 72-79،(قاہرہ: دارالفکر العربی، 1978ء)۔
27۔ابن قدامہ، المغنی، جلد 8،صفحہ 398-405 (ریاض: دار عالم الکتب، 1997ء) ۔
28۔جاسم حمادی، فلسفۃ المواریث فی الإسلام،صفحہ 95-102، (بیروت: دار النفائس، 2003ء)۔
29آئین اسلامی جمہوریۂ پاکستان، 1973ء، آرٹیکل 25، 227؛ حامد خان، آئینی و سیاسی تاریخ پاکستان،صفحہ 812-815، (کراچی: آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، 2017ء) ۔
30 Muslim Personal Law (Shariat) Application Act, 1962؛ ڈی۔ ایف۔ ملا، اصول محمدن لا، ترجمہ و تشریح، 789-806 (لاہور: لاء پبلشنگ کمپنی، 2018ء) ۔
31۔Pakistan Penal Code, 1860, Sec. 498-A (as amended by Criminal Law Amendment Act, 2011)؛ طاہر محمود، خواتین کے قانونی حقوق اور پاکستانی قانون، 142-147، (اسلام آباد: نیشنل بک فاؤنڈیشن، 2016ء) ۔
32۔Mst. Sughran Bibi v. Mst. Badr-un-Nisa, PLD 1998 SC 1445؛ Mst. Shahida Parveen v. Ejaz Ahmad, 2014 SCMR 475؛ خالد رشید، پاکستانی عدالتی نظام اور عائلی قوانین، 219-225، (لاہور: منصور بک ہاؤس، 2018ء) ۔
33۔ روبینہ سہیل، پاکستان میں خواتین کے وراثتی حقوق: مسائل اور چیلنجز ، 31-39 ،(اسلام آباد: عورت فاؤنڈیشن، 2019ء) ؛ فرزانہ باری، پاکستان میں صنفی انصاف اور قانونی مسائل، 52-58، (اسلام آباد: فریڈرک ایبرٹ فاؤنڈیشن، 2017ء) ۔
34۔ نائلہ کبیر، Gender, Justice and Legal Rights in South Asia (نئی دہلی: راؤٹلیج، 2015ء)، 188-193؛ فرزانہ باری، پاکستان میں صنفی انصاف اور قانونی مسائل، 61-66۔
:35 The Khyber Pakhtunkhwa Enforcement of Women’s Property Rights Act, 2019 (K.P. Act No. XXVIII of 2019), sec. 3.
:36 Ibid., sec. 4.
:37 Ghulam Ali v. Mst. Ghulam Sarwar, Pakistan Legal Decisions (PLD) 1990 Supreme Court 1 (Pakistan(
:38 Shaza Khan, "Gender Disparities in Land Ownership and the Role of Revenue Administration in Pakistan,” Journal of Historical Studies 8, no. 2 (2022): 112–115.
:39 Farzana Bari, Gender Justice, Land Rights and Legal Impediments in Pakistan (Islamabad: Women’s Foundation, 2020), 45–48.
:40 The Khyber Pakhtunkhwa Enforcement of Women’s Property Rights Act, 2019, sec. 6.
:41 Rubina Sehgal, Women’s Property Rights in Pakistan: Challenges and Amending Laws (Lahore: Simorgh Women’s Resource and Publication Centre, 2021), 34–36.
:42 Mst. Azra Bibi v. Muhammad Nawaz, 2021 Supreme Court Monthly Review (SCMR) 1821 (Pakistan(
43۔محمد ابو زہرہ، احکام الترکات والمواریث ، صفحہ 72-79 ،(قاہرہ: دارالفکر العربی، 1978ء) ۔
44۔روبینہ سہیل، پاکستان میں خواتین کے وراثتی حقوق: مسائل اور چیلنجز،صفحہ 34-39، (اسلام آباد: عورت فاؤنڈیشن، 2019ء)۔
45۔ابن قدامہ، المغنی، جلد8 ،صفحہ 391-395،(ریاض: دار عالم الکتب، 1997ء) ۔
46۔محمد علی الصابونی، المواریث فی الشریعۃ الإسلامیۃ،صفحہ 61-67، (قاہرہ: دارالصابونی، 1989ء)۔
47۔ نائلہ کبیر، Gender, Justice and Legal Rights in South Asia، 194-198۔
48۔فرزانہ باری، پاکستان میں صنفی انصاف اور قانونی مسائل، 56-60۔
روبینہ سہیل، پاکستان میں خواتین کے وراثتی حقوق: مسائل اور چیلنجز، 28-33۔
49۔وہبہ الزحیلی، الفقہ الإسلامی وأدلتہ، جلد 10، صفحہ 7705-7710،(دمشق: دارالفکر، 2007ء)،۔
50۔جاسم حمادی، فلسفۃ المواریث فی الإسلام،صفحہ 95-102، (بیروت: دار النفائس، 2003ء)۔
51۔وہبہ الزحیلی، الفقہ الإسلامی وأدلتہ، جلد 10، صفحہ 7705-7715 (دمشق: دارالفکر، 2007ء)۔
52۔محمد ابو زہرہ، احکام الترکات والمواریث،صفحہ 84-89 (قاہرہ: دارالفکر العربی، 1978ء)۔
53۔ فرزانہ باری، پاکستان میں صنفی انصاف اور قانونی مسائل، صفحہ 61-66، (اسلام آباد: فریڈرک ایبرٹ فاؤنڈیشن، 2017ء)۔
54۔یوسف القرضاوی، مدخل لدراسۃ الشریعۃ الإسلامیۃ،صفحہ 141-148، (قاہرہ: مکتبۃ وہبہ، 1997ء)۔
55۔Pakistan Penal Code, 1860, Sec. 498-A؛ خالد رشید، پاکستانی عدالتی نظام اور عائلی قوانین،221-227، (لاہور: منصور بک ہاؤس، 2018ء)،۔
56۔ روبینہ سہیل، پاکستان میں خواتین کے وراثتی حقوق: مسائل اور چیلنجز،صفحہ 34-39، (اسلام آباد: عورت فاؤنڈیشن، 2019ء)۔
57۔ انیتا ایم۔ ویس، Interpreting Islam, Modernity, and Women’s Rights in Pakistan،صفحہ 146-150، (نئی دہلی: اورینٹ بلیک سوان، 2013ء)۔
58۔حامد خان، آئینی و سیاسی تاریخ پاکستان،صفحہ 812-815، (کراچی: آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، 2017ء)۔


[1] القرآن: 4/7
[2] امام ابن کثیر،تفسیر القرآن العظیم، جلد 2،صفحہ 210-211،(ریاض دار طیبہ،1999)۔

[3] القرآن: 4/11
[4] امام ابن کثیر،تفسیر القرآن العظیم، جلد 2،(ریاض دار طیبہ،1999)،214-218۔
[5] القرآن: 4/12
[6] امام ابن کثیر،تفسیر القرآن العظیم، جلد 2،صفحہ 220-230،(ریاض دار طیبہ،1999) ۔
[7] القرآن: 4/13
[8] القرآن: 4/14
[9] امام ابن کثیر،تفسیر القرآن العظیم، جلد 2،صفحہ 225-226(ریاض دار طیبہ،1999)۔
[10] القرآن: 4/176
[11] امام ابن کثیر،تفسیر القرآن العظیم، جلد 2،صفحہ 230-235(ریاض دار طیبہ،1999)۔
[12] سنن ابی داؤد، کتاب الفرائض،حدیث 2891، البیروت: دار الرشید العالمیہ،2009۔
[13] سنن ابن ماجہ، کتاب الفرئض،باب الحث کلی تعلیم الفرائض،حدیث 2719، ریاض دار سلام،2007۔
[14] صحیح البخاری،کتاب الفرائض،باب میراث الولد من ابیہ وامہ،حدیث 6732،دار ابن کثیر،2002۔
[15] وہبہ الزحیلی،الفقہ الاسلامی ا ادلیہ،جلد10،صفحہ 771،دمشق: دار الفکر،2007ء۔
[16] وہبہ الزحیلی، الفقہ الاسلامی وادلتہ،جلد 10،صفحہ 7715-7705،دمشق:دار الفکر، 2007ء۔
[17] محمد ابو زہرہ، احکام الترکات والمواریث،صفحہ 38-44، قاہرہ: دار الفکر العربی،1978۔
[18] علاؤالدین الکاسانی،بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع،جلد7،صفحہ 251-255،بیروت: دار الکتب العلمیہ،1986ء۔
[19] محمد بن احمد السرخی، المبسوط، جلد 29، صفحہ 137-142،بیروت: دار المعرفۃ،1993ء۔
[20] ابن قدامہ، المغنی، جلد 8،صفحہ 391-395،ریاض:دار عالم الکتب،1997ء۔
[21] محمد ابو زہرہ، احکام الترکات والمورایث،صفحہ 60-64، قاہرہ: دار الفکر العربی،1978۔
[22] وہبہ الزحیلی، الفقہ الإسلامی وأدلتہ، جلد 10 ،صفحہ 7705-7710 (دمشق: دارالفکر، 2007ء)،۔
[23] اسماعیل بن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، جلد 2 ،صفحہ 214-218،(ریاض: دارطیبہ، 1999ء)؛ محمد علی الصابونی، المواریث فی الشریعۃ الإسلامیۃ ، 41-45، (قاہرہ: دارالصابونی، 1989)۔
[24] محمد ابو زہرہ، احکام الترکات والمواریث ،صفحہ 66-71،(قاہرہ: دارالفکر العربی، 1978ء)۔

[25] محمد علی الصابونی، المواریث فی الشریعۃ الإسلامیۃ، 52-57،(قاہرہ: دارالصابونی، 1989)۔
[26] محمد ابو زہرہ، احکام الترکات والمواریث،صفحہ 72-79،(قاہرہ: دارالفکر العربی، 1978ء)۔
[27] ابن قدامہ، المغنی، جلد 8،صفحہ 398-405 (ریاض: دار عالم الکتب، 1997ء) ۔
[28] جاسم حمادی، فلسفۃ المواریث فی الإسلام،صفحہ 95-102، (بیروت: دار النفائس، 2003ء)۔
[29] آئین اسلامی جمہوریۂ پاکستان، 1973ء، آرٹیکل 25، 227؛ حامد خان، آئینی و سیاسی تاریخ پاکستان،صفحہ 812-815، (کراچی: آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، 2017ء) ۔
[30] Muslim Personal Law (Shariat) Application Act, 1962؛ ڈی۔ ایف۔ ملا، اصول محمدن لا، ترجمہ و تشریح، 789-806 (لاہور: لاء پبلشنگ کمپنی، 2018ء) ۔

[31] Pakistan Penal Code, 1860, Sec. 498-A (as amended by Criminal Law Amendment Act, 2011)؛ طاہر محمود، خواتین کے قانونی حقوق اور پاکستانی قانون، 142-147، (اسلام آباد: نیشنل بک فاؤنڈیشن، 2016ء) ۔
[32] Mst. Sughran Bibi v. Mst. Badr-un-Nisa, PLD 1998 SC 1445؛ Mst. Shahida Parveen v. Ejaz Ahmad, 2014 SCMR 475؛ خالد رشید، پاکستانی عدالتی نظام اور عائلی قوانین، 219-225، (لاہور: منصور بک ہاؤس، 2018ء) ۔
[33] روبینہ سہیل، پاکستان میں خواتین کے وراثتی حقوق: مسائل اور چیلنجز ، 31-39 ،(اسلام آباد: عورت فاؤنڈیشن، 2019ء) ؛ فرزانہ باری، پاکستان میں صنفی انصاف اور قانونی مسائل، 52-58، (اسلام آباد: فریڈرک ایبرٹ فاؤنڈیشن، 2017ء) ۔
[34] نائلہ کبیر، Gender, Justice and Legal Rights in South Asia (نئی دہلی: راؤٹلیج، 2015ء)، 188-193؛ فرزانہ باری، پاکستان میں صنفی انصاف اور قانونی مسائل، 61-66۔
[35] : The Khyber Pakhtunkhwa Enforcement of Women’s Property Rights Act, 2019 (K.P. Act No. XXVIII of 2019), sec. 3.
[36] : Ibid., sec. 4.
[37]: Ghulam Ali v. Mst. Ghulam Sarwar, Pakistan Legal Decisions (PLD) 1990 Supreme Court 1 (Pakistan(

[38] : Shaza Khan, "Gender Disparities in Land Ownership and the Role of Revenue Administration in Pakistan,” Journal of Historical Studies 8, no. 2 (2022): 112–115.
[39] : Farzana Bari, Gender Justice, Land Rights and Legal Impediments in Pakistan (Islamabad: Women’s Foundation, 2020), 45–48.
[40] : The Khyber Pakhtunkhwa Enforcement of Women’s Property Rights Act, 2019, sec. 6.
[41] : Rubina Sehgal, Women’s Property Rights in Pakistan: Challenges and Amending Laws (Lahore: Simorgh Women’s Resource and Publication Centre, 2021), 34–36.
[42] : Mst. Azra Bibi v. Muhammad Nawaz, 2021 Supreme Court Monthly Review (SCMR) 1821 (Pakistan(

[43] محمد ابو زہرہ، احکام الترکات والمواریث ، صفحہ 72-79 ،(قاہرہ: دارالفکر العربی، 1978ء) ۔
[44] روبینہ سہیل، پاکستان میں خواتین کے وراثتی حقوق: مسائل اور چیلنجز،صفحہ 34-39، (اسلام آباد: عورت فاؤنڈیشن، 2019ء)۔
[45] ابن قدامہ، المغنی، جلد8 ،صفحہ 391-395،(ریاض: دار عالم الکتب، 1997ء) ۔
[46] محمد علی الصابونی، المواریث فی الشریعۃ الإسلامیۃ،صفحہ 61-67، (قاہرہ: دارالصابونی، 1989ء)۔
[47] نائلہ کبیر، Gender, Justice and Legal Rights in South Asia، 194-198۔
[48] فرزانہ باری، پاکستان میں صنفی انصاف اور قانونی مسائل، 56-60۔
روبینہ سہیل، پاکستان میں خواتین کے وراثتی حقوق: مسائل اور چیلنجز، 28-33۔
[49] وہبہ الزحیلی، الفقہ الإسلامی وأدلتہ، جلد 10، صفحہ 7705-7710،(دمشق: دارالفکر، 2007ء)،۔

[50] جاسم حمادی، فلسفۃ المواریث فی الإسلام،صفحہ 95-102، (بیروت: دار النفائس، 2003ء)۔
[51] وہبہ الزحیلی، الفقہ الإسلامی وأدلتہ، جلد 10، صفحہ 7705-7715 (دمشق: دارالفکر، 2007ء)۔

[52] محمد ابو زہرہ، احکام الترکات والمواریث،صفحہ 84-89 (قاہرہ: دارالفکر العربی، 1978ء)۔
[53] فرزانہ باری، پاکستان میں صنفی انصاف اور قانونی مسائل، صفحہ 61-66، (اسلام آباد: فریڈرک ایبرٹ فاؤنڈیشن، 2017ء)۔
[54] یوسف القرضاوی، مدخل لدراسۃ الشریعۃ الإسلامیۃ،صفحہ 141-148، (قاہرہ: مکتبۃ وہبہ، 1997ء)۔
[55] Pakistan Penal Code, 1860, Sec. 498-A؛ خالد رشید، پاکستانی عدالتی نظام اور عائلی قوانین،221-227، (لاہور: منصور بک ہاؤس، 2018ء)،۔

[56] روبینہ سہیل، پاکستان میں خواتین کے وراثتی حقوق: مسائل اور چیلنجز،صفحہ 34-39، (اسلام آباد: عورت فاؤنڈیشن، 2019ء)۔
[57] انیتا ایم۔ ویس، Interpreting Islam, Modernity, and Women’s Rights in Pakistan،صفحہ 146-150، (نئی دہلی: اورینٹ بلیک سوان، 2013ء)۔
[58] حامد خان، آئینی و سیاسی تاریخ پاکستان،صفحہ 812-815، (کراچی: آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، 2017ء)۔

گوشۂ سہولت سے ایک قدم باہر: رسول ﷺ کی سیرت سے مسلسل جدوجہد کا سبق

انسان کو آرام چاہیے، سکون چاہیے، اپنے لیے ایک ایسی جگہ چاہیے جہاں زندگی کی دوڑ کچھ دیر کے لیے تھم جائے، ذمہ داریوں کا بوجھ ہلکا محسوس ہو اور آدمی خود کو محفوظ سمجھے۔ یہ انسانی فطرت ہے اور

مصنف: ابرار حسین
تاریخ: 3 اکتوبر 2026
فقہ النوازل میں فقہاء کا منہج

اسلامی شریعت اپنی ساخت اور مزاج کے اعتبار سے ایک جامع اور ہمہ گیر نظامِ حیات ہے جو ہر دور اور ہر معاشرتی صورتِ حال میں رہنمائی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم انسانی معاشرہ جامد نہیں بلکہ مسلسل

مصنف: مولانا عزیر احمد
تاریخ: 1 اکتوبر 2026
کتب حدیث میں ضعیف وموضوع روایات کے ذکر کےاسباب و مقاصد:اصولی و تحقیقی مطالعہ

تمہیدعلمِ حدیث اسلامی علوم کا وہ عظیم الشان شعبہ ہے جس کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال اور تقریرات کو محفوظ کیا گیا۔ محدثینِ کرام نے اپنی پوری زندگیاں اس مقدس علم کی خدمت میں

مصنف: محمد ندیم محمد
تاریخ: 1 اکتوبر 2026
مقدمہ صحیح مسلم اور علل الصغیر ترمذی کے مناہج جرح و تعدیل کا تقابلی مطالعہ

تمہیدتیسری صدی ہجری علمِ حدیث کی تاریخ کا ایک اہم اور فیصلہ کن دور ہے، جس میں احادیثِ نبویہ کی جمع و تدوین کے ساتھ رواۃ کی جانچ پڑتال اور نقدِ حدیث کے باقاعدہ اصول مرتب کیے گئے۔ اس علمی

مصنف: محمد ذیشان
تاریخ: 1 اکتوبر 2026
وراثت میں عورت کے حق کی شرعی حیثیت اور پاکستانی معاشرت میں عملی اطلاق(تحقیقی و تنقیدی مطالعہ)

انسانی معاشرے میں وراثت محض مالی وسائل کی تقسیم کا نام نہیں بلکہ معاشی انصاف، خاندانی استحکام اور سماجی توازن کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ کسی بھی معاشرے میں وراثتی نظام اس کے قانونی، اخلاقی اور تہذیبی تصورات کی عکاسی

مصنف: حافظ بابر حسین ستی
تاریخ: 30 ستمبر 2026
ذکراللہ سے غفلت؛ معاشرتی اثرات

تمہید :‑انسان جسے اللہ رب العزت نے تمام مخلوقات میں اشرف بنایا ہے اپنے حقیقی خالق کی یاد سے غفلت اس کو پستی کا شکار بنا دیتی ہے میرا عنوان اگرچہ خالص دینی ہے لیکن اس کے معاشرے اگر اس

مصنف: نازیہ فضل
تاریخ: 30 ستمبر 2026