مسلم معاشرے کی تعمیر میں اہلِ علم کا کردار ہمیشہ بنیادی رہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی امت کو فکری، اخلاقی یا سماجی چیلنجز کا سامنا ہوا، رہنمائی کے لیے اہلِ علم ہی کی طرف رجوع کیا گیا۔ آج کا دور بھی ہمارے سامنے ایک اہم سوال رکھتا ہے: کیا ایک عالمہ کی ذمہ داری صرف درسِ قرآن، تدریس اور دینی تعلیم تک محدود ہے، یا اس کے علم کا دائرۂ اثر اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے؟
بلاشبہ تعلیم و تعلم ایک عالمہ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اسی کے ذریعے قرآن و سنت کا علم نسل در نسل منتقل ہوتا ہے، دینی شعور پروان چڑھتا ہے اور امت کی علمی روایت محفوظ رہتی ہے۔ لیکن اسلام علم کو محض معلومات کا ذخیرہ نہیں بناتا، بلکہ اسے ایک ایسی امانت قرار دیتا ہے جس کا مقصد انسانوں کی اصلاح، خیر خواہی اور صحیح رہنمائی ہے۔ جب علم کردار میں ڈھل جائے اور دوسروں کی زندگیوں میں خیر کا سبب بنے، تب وہ اپنے حقیقی مقصد کو پہنچتا ہے۔
قرآنِ کریم یہ حقیقت واضح کرتا ہے کہ دین کی گہری سمجھ حاصل کرنے والے اہلِ علم اپنی قوم کی طرف لوٹیں، انہیں آگاہ کریں اور انہیں ایسے راستے کی طرف رہنمائی دیں جو گمراہی سے بچا سکے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ علم اپنی ذات پر ختم نہیں ہوتا، بلکہ اس کا فطری تقاضا یہ ہے کہ اس کی روشنی دوسروں تک بھی پہنچے۔ گویا علم کا سفر کتاب سے شروع ہو کر معاشرے کی اصلاح پر مکمل ہوتا ہے۔یہ قرآنی اصول کسی ایک زمانے یا معاشرے کے لیے نہیں، بلکہ ہر دور کے اہلِ علم کی ذمہ داری کو واضح کرتا ہے۔ اسی لیے جب ہم اسے عصرِ حاضر کے تناظر میں دیکھتے ہیں تو اس کی معنویت پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں ہو جاتی ہے۔اگر اس قرآنی اصول کو موجودہ حالات پر منطبق کیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ عالمات کے لیے خدمت کے میدان پہلے سے کہیں زیادہ وسیع ہو چکے ہیں۔ خواتین کی دینی تربیت، نوجوان نسل کی فکری رہنمائی، خاندانی نظام کا استحکام، سماجی خیر خواہی اور جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعے دین کی صحیح نمائندگی ایسے شعبے ہیں جہاں ایک عالمہ اپنے علم کے ذریعے دیرپا اور مثبت اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ اس لیے آج یہ سوال مزید اہم ہو جاتا ہے کہ کیا ایک عالمہ کا کردار صرف درس گاہ تک محدود رہنا چاہیے، یا اسے اپنے علم کو معاشرے کی وسیع تر ضرورتوں سے بھی جوڑنا چاہیے؟قرآنِ کریم نے اہلِ علم کی ذمہ داری کا اصول بیان کیا ہے، جبکہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ارشادات کے ذریعے اس ذمہ داری کی روح اور عملی سمت کو واضح فرمایا۔قرآن کے اس تصور کی عملی تعبیر ہمیں رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات میں ملتی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "دین خیر خواہی کا نام ہے۔” یہ مختصر مگر جامع ارشاد اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ دین کا مقصد صرف عبادات کی ادائیگی نہیں، بلکہ انسانوں کی خیر خواہی، ان کی دینی و اخلاقی رہنمائی اور انہیں بھلائی کے راستے پر ثابت قدم رکھنے کی کوشش بھی ہے۔ یہی وہ جذبہ ہے جو علم کو معاشرے کے لیے نفع بخش بناتا ہے۔
اسی لیے جب ایک عالمہ دینی علم حاصل کرتی ہے تو وہ درحقیقت خیر خواہی کی ایک عظیم امانت اپنے سپرد لیتی ہے۔ اس کا علم صرف اس کی ذاتی فضیلت نہیں رہتا، بلکہ ایک ذمہ داری بن جاتا ہے، جس کا تقاضا یہ ہے کہ وہ لوگوں کے لیے آسانی، اصلاح اور امید کا ذریعہ بنے۔اسلامی تاریخ میں اس خیر خواہی، علمی بصیرت اور احساسِ ذمہ داری کا عملی نمونہ ہمیں متعدد عظیم شخصیات کی زندگیوں میں ملتا ہے، جن میں ام المؤ منین حضرت عائشہ رضہ اللہ عنہا مقام نہایت نمایاں ہے۔
اسلامی تاریخ اس حقیقت کی روشن گواہ ہے۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی زندگی اس کی بہترین مثال پیش کرتی ہے۔ آپؓ نے رسول اللہ ﷺ سے حاصل کیا ہوا علم صرف محفوظ نہیں رکھا، بلکہ اسے پوری امت تک پہنچایا۔ بے شمار صحابۂ کرامؓ رضی اللہ عنہم اور تابعین نے آپؓ سے حدیث، فقہ اور دینی مسائل میں رہنمائی حاصل کی۔ آپؓ کی علمی مجالس سے صرف خواتین ہی نہیں بلکہ جلیل القدر صحابۂ کرامؓ رضی اللہ عنہم بھی استفادہ کرتے تھے، جو آپؓ کے غیر معمولی علمی مقام کی واضح دلیل ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی شخصیت صرف علمی رہنمائی تک محدود نہیں تھی، بلکہ سخاوت، خیر خواہی اور خدمتِ خلق بھی آپؓ کی نمایاں صفات میں شامل تھیں۔ آپؓ ضرورت مندوں کی مدد کرتیں، اللہ تعالیٰ کی راہ میں فراخ دلی سے خرچ کرتیں اور دوسروں کی ضروریات کو اپنی ضرورت پر ترجیح دیتیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی علم انسان کو صرف صاحبِ معلومات نہیں بناتا بلکہ صاحبِ کردار بھی بناتا ہے۔ جب علم دل میں اترتا ہے تو وہ رحم، اخلاص، خدمت اور حسنِ اخلاق کی صورت میں انسان کی زندگی میں نمایاں ہو جاتا ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی زندگی یہ حقیقت آشکار کرتی ہے کہ جب علم، کردار، خیر خواہی اور خدمت ایک شخصیت میں جمع ہو جائیں تو اس کے اثرات اپنے زمانے تک محدود نہیں رہتے، بلکہ آنے والی نسلوں تک پہنچتے ہیں۔ یہی پیغام آج کی عالمات کے لیے بھی نہایت اہم ہے۔اگر آج کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ عالمات کے لیے خدمت کے مواقع پہلے سے کہیں زیادہ وسیع ہیں۔ وہ تعلیم و تدریس کے ساتھ خواتین کی دینی و اخلاقی تربیت، نوجوان نسل کی فکری رہنمائی، خاندانی نظام کے استحکام، دعوتِ دین، سماجی خدمت اور جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعے خیر کے پیغام کو وسیع پیمانے پر عام کر سکتی ہیں۔ یہ تمام شعبے دراصل اسی علم کا عملی اظہار ہیں جسے اسلام نے ایک امانت قرار دیا ہے۔
البتہ اس کردار کی بنیاد صرف جذبہ نہیں، بلکہ علم، اخلاص، حکمت اور حسنِ اخلاق ہے۔ ایک عالمہ کی اصل قوت اس کی شہرت یا اس کے سامعین کی تعداد نہیں، بلکہ اس کے علم کی پختگی، اس کے کردار کی سچائی اور اس کی خیر خواہی ہے۔ جب علم کے ساتھ عمل بھی شامل ہو جائے تو ایک شخصیت خاموشی سے بھی معاشرے میں ایسی مثبت تبدیلی پیدا کر سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک باقی رہتے ہیں۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ایک عالمہ کے کردار کی وسعت کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وہ اپنی بنیادی ذمہ داری، یعنی تعلیم و تربیت، سے ہٹ جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ تدریس ہی اس کی اصل بنیاد ہے۔ اسی بنیاد پر وہ ایسی نسل تیار کرتی ہے جو آگے چل کر خیر، اخلاق اور دینی شعور کو معاشرے میں عام کرتی ہے۔ گویا ایک عالمہ خود بھی خیر کا ذریعہ بنتی ہے اور دوسروں کو بھی خیر کا ذریعہ بناتی ہے۔
آج مسلم معاشرے کو ایسی عالمات کی ضرورت ہے جو علمی وقار کے ساتھ زمانے کے تقاضوں کو بھی سمجھتی ہوں، جو روایت سے مضبوط وابستگی رکھتے ہوئے عصرِ حاضر کے مسائل کا ادراک بھی رکھتی ہوں، اور جو اپنے علم کو صرف کتابوں اور درس گاہوں تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے کردار، دعوت، تربیت اور خدمت کے ذریعے معاشرے تک پہنچائیں۔
شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ایک عالمہ کے کردار کو صرف ایک معلمہ کے طور پر نہ دیکھیں، بلکہ اسے امت کی فکری، اخلاقی اور سماجی تعمیر میں شریک ایک مؤثر شخصیت کے طور پر پہچانیں۔
جب ایک عالمہ اپنے علم کو اللہ تعالیٰ کی رضا، خیر خواہی اور اصلاحِ معاشرہ کا ذریعہ بنا لیتی ہے تو اس کے اثرات ایک درس گاہ سے نکل کر گھروں، خاندانوں، معاشرے اور آنے والی نسلوں تک پہنچتے ہیں۔ یہی وہ وسیع کردار ہے جس کی ہمارے معاشرے کو آج پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔