استقامت: وہ قوت جو معمولی انسانوں کو غیر معمولی بنا دیتی ہے

"جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے، پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے، ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور کہتے ہیں: نہ ڈرو، نہ غم کرو، اور اس جنت کی خوش خبری لو جس کا تم

مصنف:ابرار حسین
تاریخ: 28 جولائی 2026

دیگر مضامین

تمام مضامین دیکھیں

گوشۂ سہولت سے ایک قدم باہر: رسول ﷺ کی سیرت سے مسلسل جدوجہد کا سبق

انسان کو آرام چاہیے، سکون چاہیے، اپنے لیے ایک ایسی جگہ چاہیے جہاں زندگی کی

تاریخ: 3 اکتوبر 2026
مصنف:ابرار حسین

فقہ النوازل میں فقہاء کا منہج

اسلامی شریعت اپنی ساخت اور مزاج کے اعتبار سے ایک جامع اور ہمہ گیر نظامِ

تاریخ: 1 اکتوبر 2026
مصنف:مولانا عزیر احمد

کتب حدیث میں ضعیف وموضوع روایات کے ذکر کےاسباب و مقاصد:اصولی و تحقیقی مطالعہ

تمہیدعلمِ حدیث اسلامی علوم کا وہ عظیم الشان شعبہ ہے جس کے ذریعے رسول اللہ

تاریخ: 1 اکتوبر 2026
مصنف:محمد ندیم محمد

مقدمہ صحیح مسلم اور علل الصغیر ترمذی کے مناہج جرح و تعدیل کا تقابلی مطالعہ

تمہیدتیسری صدی ہجری علمِ حدیث کی تاریخ کا ایک اہم اور فیصلہ کن دور ہے،

تاریخ: 1 اکتوبر 2026
مصنف:محمد ذیشان

دیگر موضوعات

ابرار حسین

چیف ایڈیٹر کاروانِ علم، ٹرینر و محقق دینی و عصری علوم کے امتزاج کے حامل ایک وژنری ٹرینر اور ریسرچر ہیں۔ آپ جامعۃ الرشید کراچی کے فارغ التحصیل ہیں اور اس وقت مدرسہ ڈاٹ پی کے میں شعبۂ تربیت و شخصیت سازی کی نگرانی کر رہے ہیں۔ آپ کا مقصد مدارس کے فضلائے کرام کو معیاری تدریسی، تکنیکی اور قائدانہ مہارتوں سے آراستہ کرتے ہوئے انہیں مؤثر سماجی و فکری رہنماؤں کے طور پر تیار کرنا ہے۔

"جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے، پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے، ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور کہتے ہیں: نہ ڈرو، نہ غم کرو، اور اس جنت کی خوش خبری لو جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔”
(سورۃ فصلت: 30)
تاریخِ انسانیت میں عظمت کا راز تلاش کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ دنیا نے ہمیشہ صلاحیت سے زیادہ استقامت کے سامنے سر جھکایا ہے۔ ذہانت بہت سے لوگوں کے پاس ہوتی ہے، مواقع بھی بہت سوں کو ملتے ہیں، وسائل بھی اکثر افراد کے لیے میسر ہوتے ہیں، لیکن منزل انہی کو ملتی ہے جو راستے کی طویل مسافت، آزمائشوں کی سختی اور حالات کی ناموافقت کے باوجود اپنے قدم جمانا جانتے ہیں۔ یہی استقامت ہے۔ یہ صرف کسی کام کو شروع کرنے کا نام نہیں، بلکہ اس پر ثابت قدم رہنے کا نام ہے۔ یہی وہ صفت ہے جو ایمان کو کردار میں، علم کو عمل میں اور خواب کو حقیقت میں تبدیل کرتی ہے۔
آج کا انسان ایک ایسے دور میں زندہ ہے جہاں ہر چیز فوری نتائج کی عادی ہو چکی ہے۔ چند لمحوں میں خبر، چند منٹوں میں خریداری، چند دنوں میں شہرت اور چند مہینوں میں کامیابی کی کہانیاں ہماری نفسیات پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ اس ماحول نے انسان کو صبر اور استقامت سے دور کر دیا ہے۔ ہم کسی نیک عمل کا آغاز تو بڑے جوش سے کرتے ہیں، مگر چند دن بعد ہماری ہمت جواب دے جاتی ہے۔ مطالعہ، عبادت، دعوت، اصلاحِ نفس، علم حاصل کرنا، صحت کی حفاظت یا معاشرتی خدمت، ہر میدان میں ہمارا مسئلہ آغاز نہیں بلکہ تسلسل کا فقدان ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قرآن ہمیں استقامت کا سبق دیتا ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے بارہا ایمان کے ساتھ عمل کا ذکر کیا، مگر بعض مقامات پر صرف عمل نہیں بلکہ ثبات کو اصل معیار قرار دیا۔ رسول اللہ ﷺ کو بھی حکم دیا گیا:
"پس آپ اسی طرح ثابت قدم رہیں جس طرح آپ کو حکم دیا گیا ہے۔”
(سورۃ ہود: 112)
یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ استقامت کا تقاضا صرف عام مسلمانوں سے نہیں بلکہ خود خاتم النبیین ﷺ سے بھی کیا گیا۔ اسی لیے حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سورۃ ہود نے مجھے بوڑھا کر دیا، کیونکہ اس میں استقامت کا حکم نہایت عظیم ذمہ داری کے ساتھ آیا ہے۔
ایک مرتبہ حضرت سفیان بن عبداللہ ثقفیؓ نے عرض کیا: یارسول اللہ! مجھے اسلام کے بارے میں ایسی بات بتا دیجیے کہ پھر مجھے کسی اور سے پوچھنے کی ضرورت نہ رہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
"کہو: میں اللہ پر ایمان لایا، پھر اس پر ثابت قدم رہو۔”
(صحیح مسلم)
یہ مختصر حدیث گویا پورے دین کا خلاصہ ہے۔ ایمان ایک اعلان ہے، مگر استقامت اس اعلان کی عملی سچائی ہے۔
سیرتِ نبوی ﷺ کا ہر باب استقامت کی روشن مثال ہے۔ مکہ کے تیرہ سال صرف دعوت نہیں تھے بلکہ استقامت کا امتحان تھے۔ طائف کی سنگ باری، شعبِ ابی طالب کا محاصرہ، قریش کی مخالفت، اپنے محبوب ساتھیوں کی شہادت اور مسلسل اذیتیں، یہ سب ایسے مراحل تھے جن میں کوئی بھی انسان مایوس ہو سکتا تھا، مگر رسول اللہ ﷺ کے قدم کبھی متزلزل نہ ہوئے۔ آپ ﷺ نے حالات کے مطابق حکمتِ عملی ضرور بدلی، مگر مقصد کبھی نہیں بدلا۔ یہی استقامت کی حقیقی تعریف ہے کہ طریقے بدل سکتے ہیں، مگر مقصد نہیں بدلتا۔
حضرت بلالؓ کی استقامت غلامی کی زنجیروں کو شکست دیتی ہے۔ حضرت خبابؓ کی استقامت ظلم کے پہاڑوں کو ہلا دیتی ہے۔ حضرت سمیہؓ کی استقامت تاریخ کی پہلی شہادت بن جاتی ہے۔ حضرت ابوبکرؓ کی استقامت ارتداد کے فتنے کو ختم کر دیتی ہے، اور حضرت عمرؓ کی استقامت ایک ایسی ریاست قائم کرتی ہے جس کا عدل آج بھی مثال بن کر پیش کیا جاتا ہے۔ ان تمام شخصیات میں ایک چیز مشترک تھی: انہوں نے وقتی مشکلات کو اپنے دائمی مقصد پر غالب نہیں آنے دیا۔
اسلامی تاریخ کے عظیم علماء کی زندگی بھی استقامت کا عملی نمونہ ہے۔ امام بخاریؒ نے صحیح بخاری مرتب کرنے کے لیے سولہ برس مسلسل محنت کی۔ امام نوویؒ نے اپنی مختصر زندگی میں ایسا علمی سرمایہ چھوڑا جو آج بھی دنیا بھر کے مدارس اور جامعات میں پڑھایا جاتا ہے۔ امام ابن تیمیہؒ نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، مگر اپنے علمی موقف اور دعوت سے پیچھے نہ ہٹے۔ یہ سب لوگ غیر معمولی ذہانت کے ساتھ ساتھ غیر معمولی استقامت کے بھی مالک تھے۔
استقامت کا تعلق صرف دینی زندگی سے نہیں بلکہ انسانی شخصیت کے ہر شعبے سے ہے۔ ایک طالب علم کی کامیابی روزانہ کے مطالعے میں پوشیدہ ہے، نہ کہ امتحان سے چند روز پہلے کی محنت میں۔ ایک معلم کی تاثیر سالہا سال کی مسلسل تربیت سے پیدا ہوتی ہے۔ ایک والدین کی کامیابی بچوں کی مسلسل نگرانی اور محبت میں ہے۔ ایک داعی کی دعوت ایک تقریر سے نہیں بلکہ برسوں کی مستقل جدوجہد سے اثر پیدا کرتی ہے۔ دنیا کا کوئی بھی بڑا کام یکدم نہیں ہوتا؛ ہر بڑی تبدیلی کے پیچھے چھوٹے مگر مسلسل قدم ہوتے ہیں۔
جدید نفسیات بھی اسی حقیقت کی تائید کرتی ہے۔ آج دنیا کے ماہرینِ نفسیات اور قیادت کے محققین اس بات پر متفق ہیں کہ مستقل مزاجی، جذباتی برداشت اور طویل المدت وابستگی، غیر معمولی کامیابی کی بنیادی شرائط ہیں۔ انسان کی شخصیت روزانہ کے معمولات سے بنتی ہے، نہ کہ وقتی جوش سے۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے رسول اللہ ﷺ نے صدیوں پہلے ان الفاظ میں بیان فرما دیا:
"اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے محبوب عمل وہ ہے جو ہمیشہ کیا جائے، اگرچہ تھوڑا ہی ہو۔”
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
یہ حدیث ہماری پوری زندگی کی سمت متعین کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ مقدار سے پہلے تسلسل کو دیکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ایک شخص روزانہ قرآن کا ایک صفحہ پڑھتے پڑھتے پورا قرآن ختم کر لیتا ہے، جبکہ دوسرا ایک ہی دن میں ایک پارہ پڑھ کر پھر کئی ہفتے قرآن نہیں کھولتا۔ ایک شخص روزانہ چند صفحات کا مطالعہ کرتا ہے تو چند برسوں میں سینکڑوں کتابیں اس کا سرمایہ بن جاتی ہیں، جبکہ دوسرا صرف منصوبے ہی بناتا رہ جاتا ہے۔
استقامت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بیرونی حالات نہیں بلکہ اندرونی بے ثباتی ہے۔ ہم اکثر اس وقت کام کرتے ہیں جب دل چاہے، جبکہ استقامت انسان کو سکھاتی ہے کہ صحیح کام اس وقت بھی کیا جائے جب دل نہ چاہے۔ جذبات بدلتے رہتے ہیں، مگر اقدار نہیں بدلنی چاہئیں۔ کامیاب لوگ اپنے مزاج کے غلام نہیں ہوتے بلکہ اپنے مقصد کے پابند ہوتے ہیں۔
علمائے کرام کے لیے استقامت کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے، کیونکہ وہ صرف اپنی ذات کے ذمہ دار نہیں بلکہ ایک پوری امت کی فکری رہنمائی ان کے کندھوں پر ہوتی ہے۔ ایک عالم کی روزانہ کی تیاری، مسلسل مطالعہ، علمی دیانت، نرم خوئی، معاشرے سے تعلق، نوجوانوں کی رہنمائی اور دعوتی سرگرمیوں میں تسلسل، یہ سب مل کر اس کی شخصیت کو مؤثر بناتے ہیں۔ اگر عالم خود استقامت کا نمونہ نہ ہو تو اس کی نصیحتوں میں وہ تاثیر پیدا نہیں ہوتی جو کردار سے پیدا ہوتی ہے۔
آج ہمیں ایسے علماء، معلمین اور قائدین کی ضرورت ہے جو وقتی شہرت کے بجائے دیرپا اثر چھوڑنے کا عزم رکھتے ہوں۔ جو ہر دن اپنے علم میں اضافہ کریں، ہر ہفتے اپنی دعوت کا جائزہ لیں، ہر مہینے اپنی شخصیت کو بہتر بنائیں اور ہر سال اپنے معاشرے کے لیے پہلے سے زیادہ مفید ثابت ہوں۔ یہی مسلسل ترقی استقامت کی عملی صورت ہے۔
استقامت پیدا کرنے کے لیے چند اصول ہمیشہ یاد رکھنے چاہییں۔ اپنے مقصد کو اللہ کی رضا سے جوڑ دیجیے، کیونکہ جس مقصد کی بنیاد اخلاص پر ہو، اس کا سفر آسان ہو جاتا ہے۔ چھوٹے مگر مستقل اہداف مقرر کیجیے، کیونکہ پہاڑ بھی قدم قدم چل کر ہی سر کیے جاتے ہیں۔ نیک صحبت اختیار کیجیے، کیونکہ ثابت قدم لوگوں کی رفاقت انسان کے عزم کو مضبوط کرتی ہے۔ ہر ناکامی کو اختتام نہیں بلکہ سیکھنے کا موقع سمجھیے، کیونکہ راستے میں گر جانا ناکامی نہیں، گر کر بیٹھ جانا ناکامی ہے۔ اور سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ سے استقامت کی دعا مانگتے رہیے، کیونکہ دلوں کو ثابت رکھنے والی ذات صرف اسی کی ہے۔
آخر میں ہر شخص کو اپنے آپ سے ایک سوال کرنا چاہیے: میں نے کتنے کام شروع کیے، اور کتنے کام پورے کیے؟ اکثر لوگ اپنی زندگی کا حساب کامیابیوں سے کرتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ زندگی کا معیار ان کاموں سے متعین ہوتا ہے جن پر انسان ثابت قدم رہا۔
یاد رکھیے، دنیا کو متاثر کرنے والے لوگ وہ نہیں تھے جنہوں نے ایک دن بہت بڑا کام کیا، بلکہ وہ تھے جنہوں نے برسوں تک چھوٹے چھوٹے درست کام ترک نہیں کیے۔ استقامت وہ خاموش قوت ہے جو وقت کے ساتھ مل کر انسان کی شخصیت، اس کے علم، اس کی دعوت اور اس کی میراث کو عظمت عطا کرتی ہے۔ اگر امت کو دوبارہ اپنے کھوئے ہوئے مقام تک پہنچنا ہے تو ہمیں غیر معمولی صلاحیتوں سے پہلے غیر معمولی استقامت پیدا کرنی ہوگی، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کامیابی صرف اچھا آغاز کرنے والوں کے لیے نہیں بلکہ آخر تک ثابت قدم رہنے والوں کے لیے ہے۔

گوشۂ سہولت سے ایک قدم باہر: رسول ﷺ کی سیرت سے مسلسل جدوجہد کا سبق

انسان کو آرام چاہیے، سکون چاہیے، اپنے لیے ایک ایسی جگہ چاہیے جہاں زندگی کی دوڑ کچھ دیر کے لیے تھم جائے، ذمہ داریوں کا بوجھ ہلکا محسوس ہو اور آدمی خود کو محفوظ سمجھے۔ یہ انسانی فطرت ہے اور

مصنف: ابرار حسین
تاریخ: 3 اکتوبر 2026
فقہ النوازل میں فقہاء کا منہج

اسلامی شریعت اپنی ساخت اور مزاج کے اعتبار سے ایک جامع اور ہمہ گیر نظامِ حیات ہے جو ہر دور اور ہر معاشرتی صورتِ حال میں رہنمائی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم انسانی معاشرہ جامد نہیں بلکہ مسلسل

مصنف: مولانا عزیر احمد
تاریخ: 1 اکتوبر 2026
کتب حدیث میں ضعیف وموضوع روایات کے ذکر کےاسباب و مقاصد:اصولی و تحقیقی مطالعہ

تمہیدعلمِ حدیث اسلامی علوم کا وہ عظیم الشان شعبہ ہے جس کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال اور تقریرات کو محفوظ کیا گیا۔ محدثینِ کرام نے اپنی پوری زندگیاں اس مقدس علم کی خدمت میں

مصنف: محمد ندیم محمد
تاریخ: 1 اکتوبر 2026
مقدمہ صحیح مسلم اور علل الصغیر ترمذی کے مناہج جرح و تعدیل کا تقابلی مطالعہ

تمہیدتیسری صدی ہجری علمِ حدیث کی تاریخ کا ایک اہم اور فیصلہ کن دور ہے، جس میں احادیثِ نبویہ کی جمع و تدوین کے ساتھ رواۃ کی جانچ پڑتال اور نقدِ حدیث کے باقاعدہ اصول مرتب کیے گئے۔ اس علمی

مصنف: محمد ذیشان
تاریخ: 1 اکتوبر 2026
وراثت میں عورت کے حق کی شرعی حیثیت اور پاکستانی معاشرت میں عملی اطلاق(تحقیقی و تنقیدی مطالعہ)

انسانی معاشرے میں وراثت محض مالی وسائل کی تقسیم کا نام نہیں بلکہ معاشی انصاف، خاندانی استحکام اور سماجی توازن کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ کسی بھی معاشرے میں وراثتی نظام اس کے قانونی، اخلاقی اور تہذیبی تصورات کی عکاسی

مصنف: حافظ بابر حسین ستی
تاریخ: 30 ستمبر 2026
ذکراللہ سے غفلت؛ معاشرتی اثرات

تمہید :‑انسان جسے اللہ رب العزت نے تمام مخلوقات میں اشرف بنایا ہے اپنے حقیقی خالق کی یاد سے غفلت اس کو پستی کا شکار بنا دیتی ہے میرا عنوان اگرچہ خالص دینی ہے لیکن اس کے معاشرے اگر اس

مصنف: نازیہ فضل
تاریخ: 30 ستمبر 2026