خود اعتمادی: وہ قوت جو ایمان سے جنم لیتی ہے

خود اعتمادی: وہ قوت جو ایمان سے جنم لیتی ہے تاریخِ انسانی کا مطالعہ اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ بڑے کارنامے ہمیشہ غیر معمولی وسائل رکھنے والوں نے انجام نہیں دیے، بلکہ اکثر وہ لوگ زمانے کا رخ

مصنف:ابرار حسین
تاریخ: 16 جولائی 2026

دیگر مضامین

تمام مضامین دیکھیں

جذباتی ذہانت: وہ قوت جو انسان کو اپنے نفس کا قائد اور معاشرے کا رہنما بناتی ہے

علم اور کردار کا تعلق ہمیشہ سے ایک دوسرے کے ساتھ رہا ہے، لیکن انسانی

تاریخ: 21 جولائی 2026
مصنف:ابرار حسین

گھر: ایک ‘جائے سکینت یا محض چار دیواری؟ ہمارے کھوئے ہوئے سکون کا نوحہ

عالی شان عمارتیں اور کھوکھلے رشتے: ہمارے خاندانی سکون کو کس کی نظر لگ گئی؟انسانی

تاریخ: 21 جولائی 2026
مصنف:مولانا عبدالاحد

صبر:وہ قوت جو انسان کومعمولی سےغیر معمولی بنادیتی ہے

اور صبر کرنے والوں کو خوش خبری سنا دیجیے۔” (البقرۃ: 155) ہم ایک ایسے دور

تاریخ: 21 جولائی 2026
مصنف:ابرار حسین

مثبت سوچ: مومن کی وہ قوت جو اندھیروں میں بھی روشنی تلاش کر لیتی ہے

انسان کی زندگی کو اگر قریب سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس

تاریخ: 16 جولائی 2026
مصنف:ابرار حسین

دیگر موضوعات

ابرار حسین

چیف ایڈیٹر کاروانِ علم، ٹرینر و محقق دینی و عصری علوم کے امتزاج کے حامل ایک وژنری ٹرینر اور ریسرچر ہیں۔ آپ جامعۃ الرشید کراچی کے فارغ التحصیل ہیں اور اس وقت مدرسہ ڈاٹ پی کے میں شعبۂ تربیت و شخصیت سازی کی نگرانی کر رہے ہیں۔ آپ کا مقصد مدارس کے فضلائے کرام کو معیاری تدریسی، تکنیکی اور قائدانہ مہارتوں سے آراستہ کرتے ہوئے انہیں مؤثر سماجی و فکری رہنماؤں کے طور پر تیار کرنا ہے۔

خود اعتمادی: وہ قوت جو ایمان سے جنم لیتی ہے

تاریخِ انسانی کا مطالعہ اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ بڑے کارنامے ہمیشہ غیر معمولی وسائل رکھنے والوں نے انجام نہیں دیے، بلکہ اکثر وہ لوگ زمانے کا رخ موڑنے میں کامیاب ہوئے جن کے پاس ایک زندہ دل، ایک بلند مقصد اور اپنے رب پر غیر متزلزل اعتماد تھا۔ انبیائے کرام علیہم السلام، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم، مجددینِ امت اور تاریخ کے عظیم مصلحین کی زندگیوں میں ایک قدر مشترک دکھائی دیتی ہے کہ ان کی قوت کا سرچشمہ ظاہری اسباب نہیں بلکہ باطنی یقین تھا۔ یہی یقین ان کے کردار میں خود اعتمادی، ان کے فیصلوں میں استقامت اور ان کی دعوت میں اثر پیدا کرتا تھا۔ اس لیے اگر کسی ایک صفت کو ایک کامیاب انسان، مؤثر قائد اور باکردار مسلمان کی بنیاد قرار دیا جائے تو وہ ایمان سے جنم لینے والی خود اعتمادی ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں خود اعتمادی کا مفہوم بڑی حد تک مغربی نفسیات کے زیرِ اثر سمجھا جانے لگا ہے۔ عام تصور یہ ہے کہ انسان اپنی صلاحیتوں پر مکمل یقین رکھے، اپنے بارے میں مثبت محسوس کرے اور ہر حال میں اپنی کامیابی کا یقین رکھے۔ اگرچہ اس تصور میں ایک پہلو درست ہے، لیکن اسلام اس سے کہیں زیادہ متوازن اور عمیق تصور پیش کرتا ہے۔ اسلام انسان کو اپنی ذات پر اندھا اعتماد نہیں سکھاتا، بلکہ اسے اللہ تعالیٰ پر توکل، اپنی ذمہ داری کا شعور اور اپنی صلاحیتوں کے درست استعمال کا سبق دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی خود اعتمادی انسان کو مغرور نہیں بناتی بلکہ منکسر المزاج بناتی ہے، خود پسندی نہیں بلکہ خدمت کا جذبہ پیدا کرتی ہے، اور شہرت کی خواہش نہیں بلکہ رضائے الٰہی کی طلب پیدا کرتی ہے۔

یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے۔ دنیا کہتی ہے: "اپنے آپ پر یقین رکھو، تم ہر چیز کر سکتے ہو۔” اسلام کہتا ہے: "اپنے رب پر یقین رکھو، پھر وہ تم سے وہ کام بھی لے سکتا ہے جن کا تم نے کبھی تصور بھی نہ کیا ہو۔” یہی فرق اسلامی شخصیت کو دوسروں سے ممتاز کرتا ہے۔ جب انسان کا اعتماد اپنی محدود قوت پر ہوتا ہے تو کامیابی اسے غرور میں مبتلا کر دیتی ہے اور ناکامی اسے توڑ دیتی ہے، لیکن جب اس کا اعتماد اللہ تعالیٰ کی لامحدود قدرت پر ہوتا ہے تو وہ کامیابی میں شکر گزار اور ناکامی میں ثابت قدم رہتا ہے۔

قرآن مجید بار بار اہلِ ایمان کے اندر اسی اعتماد کو بیدار کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "کمزور نہ پڑو، غم نہ کرو، اگر تم مومن ہو تو تم ہی غالب رہو گے۔” (آل عمران: 139)۔ یہ آیت صرف میدانِ جنگ کے لیے نہیں بلکہ پوری زندگی کا اصول ہے۔ اس میں غلبے کو دولت، طاقت یا تعداد کے ساتھ نہیں بلکہ ایمان کے ساتھ وابستہ کیا گیا ہے۔ گویا مومن کی اصل قوت اس کے وسائل میں نہیں بلکہ اس یقین میں ہے کہ وہ اپنے رب کے سہارے کھڑا ہے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی اس حقیقت کی روشن تصویر ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے انہیں فرعون جیسے جابر حکمران کے پاس بھیجنے کا حکم دیا تو انہوں نے اپنی بعض کمزوریاں ضرور عرض کیں، مگر اللہ کے حکم سے پیچھے نہیں ہٹے۔ پھر وہ لمحہ آیا جب ایک طرف سمندر تھا اور دوسری طرف فرعون کا لشکر۔ بنی اسرائیل نے گھبرا کر کہا: "اب تو ہم پکڑے گئے۔” مگر موسیٰ علیہ السلام کی زبان سے نکلا: "ہرگز نہیں، میرا رب میرے ساتھ ہے، وہ ضرور میری رہنمائی فرمائے گا۔” یہی وہ یقین تھا جس نے سمندر میں راستہ بنا دیا۔ اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ خود اعتمادی کا مطلب اپنی طاقت پر بھروسہ نہیں بلکہ اپنے رب کی نصرت پر یقین رکھنا ہے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی بھی اسی اعتماد کی داستان ہے۔ پوری قوم ان کے خلاف تھی، بادشاہ دشمن تھا، اور آگ روشن کی جا چکی تھی، لیکن ان کے دل میں خوف کے بجائے یقین تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اسی یقین کی برکت سے آگ کو سلامتی کا ذریعہ بنا دیا۔ حضرت یوسف علیہ السلام کنویں، غلامی اور قید کے مراحل سے گزرے، مگر ان کے اندر احساسِ کمتری پیدا نہ ہوا۔ جب ذمہ داری کا وقت آیا تو اعتماد کے ساتھ فرمایا: "مجھے ملک کے خزانوں پر مقرر کر دیجیے، میں حفاظت کرنے والا بھی ہوں اور علم رکھنے والا بھی۔” یہ تکبر نہیں تھا بلکہ اپنی اہلیت کو اللہ کی امانت سمجھتے ہوئے امت کی خدمت کے لیے پیش کرنا تھا۔

اگر قرآن ہمیں خود اعتمادی کی بنیاد سکھاتا ہے تو سیرتِ نبوی ﷺ اس کی کامل عملی تصویر پیش کرتی ہے۔ مکہ کے ابتدائی دور میں مسلمان تعداد، وسائل اور طاقت ہر اعتبار سے کمزور تھے، لیکن رسول اللہ ﷺ کے لہجے میں کبھی مایوسی نہ آئی۔ شعبِ ابی طالب کی سختیاں، طائف کی اذیتیں اور قریش کی مخالفت، کوئی بھی آزمائش آپ ﷺ کے اعتماد کو متزلزل نہ کر سکی۔ کیونکہ آپ ﷺ کا یقین حالات پر نہیں بلکہ ربِّ کائنات پر تھا۔

ہجرت کے موقع پر غارِ ثور میں جب دشمن دہانے تک پہنچ چکا تھا، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے تشویش ظاہر کی، مگر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔” یہی جملہ اسلامی خود اعتمادی کا خلاصہ ہے۔ یہ اعتماد خطرات کے ختم ہونے کے بعد پیدا نہیں ہوا، بلکہ خطرات کے عین درمیان بھی قائم رہا۔ یہی وہ یقین تھا جس نے ایک غار کو تاریخ کی محفوظ ترین پناہ گاہ بنا دیا۔

غزوۂ بدر کا منظر بھی اسی حقیقت کو واضح کرتا ہے۔ مسلمانوں کے پاس وسائل محدود تھے، لیکن رسول اللہ ﷺ نے پہلے تمام ممکنہ اسباب اختیار کیے، صحابہ سے مشورہ کیا، صف بندی کی، پھر اللہ تعالیٰ کے حضور دعا میں کھڑے ہو گئے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی خود اعتمادی اسباب کو ترک کرنے کا نام نہیں بلکہ اسباب اختیار کرنے کے بعد اللہ پر مکمل بھروسہ کرنے کا نام ہے۔ مومن نہ صرف منصوبہ بندی کرتا ہے اور نہ صرف دعا کرتا ہے، بلکہ دونوں کو جمع کرتا ہے۔

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیاں بھی اسی ایمان افروز اعتماد سے عبارت ہیں۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ شدید اذیتوں کے باوجود "احد، احد” کی صدا بلند کرتے رہے۔ حضرت ربعی بن عامر رضی اللہ عنہ جب رستم کے دربار میں داخل ہوئے تو ان کے پاس نہ شاہانہ لباس تھا اور نہ دنیاوی جاہ و جلال، مگر ایمان نے انہیں ایسا وقار عطا کیا تھا کہ ایک عظیم سلطنت کا سپہ سالار بھی ان کے سامنے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ یہی وہ اعتماد تھا جو ایمان سے پیدا ہوا تھا، نہ کہ دنیاوی قوت سے۔

اسلامی تاریخ کے مجددین نے بھی یہی سبق دیا۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے قید میں رہتے ہوئے فرمایا کہ میری جنت میرے دل میں ہے؛ قید میرے لیے خلوت ہے اور شہادت میری کامیابی۔ امام ابن القیم رحمہ اللہ نے لکھا کہ انسان کی سب سے بڑی کمزوری وسائل کی کمی نہیں بلکہ اللہ پر اعتماد کی کمی ہے۔ امام غزالی رحمہ اللہ کے نزدیک احساسِ کمتری روح کی بیماری ہے، جبکہ اللہ کی معرفت انسان کو اس کا صحیح مقام عطا کرتی ہے۔ شاہ ولی اللہ دہلوی رحمہ اللہ نے بھی بارہا اس حقیقت پر زور دیا کہ جب ایمان مضبوط ہو جائے تو فرد کے اندر ایسی اخلاقی قوت پیدا ہوتی ہے جو معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

دورِ حاضر کے مفکرین نے بھی اسی حقیقت کو مختلف انداز سے بیان کیا ہے۔ ڈاکٹر عبد الکریم بکار لکھتے ہیں کہ امت کی سب سے بڑی ضرورت ایسے نوجوان ہیں جو اپنی صلاحیتوں کو اللہ کی عطا سمجھیں اور انہیں امت کی خدمت میں صرف کریں۔ جدید نفسیات بھی اس بات کی تائید کرتی ہے کہ جو شخص اپنی صلاحیتوں پر کام کرنے کا یقین رکھتا ہے، وہ زیادہ ثابت قدم رہتا ہے اور مشکلات کا بہتر مقابلہ کرتا ہے۔ اسلام اس تصور کو ایک بلند بنیاد فراہم کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اپنی صلاحیتوں کو نکھارو، لیکن انہیں اپنی ملکیت نہیں بلکہ اللہ کی امانت سمجھو۔

آج خود اعتمادی کا سب سے بڑا دشمن دوسروں سے مسلسل موازنہ ہے۔ سوشل میڈیا نے اس بیماری کو مزید بڑھا دیا ہے۔ لوگ دوسروں کی کامیابیاں دیکھ کر اپنی زندگی کو ناکام سمجھنے لگتے ہیں۔ ایک طالب علم چند ناکامیوں کے بعد ہمت ہار دیتا ہے، ایک نوجوان دوسروں کی ظاہری زندگی دیکھ کر احساسِ کمتری میں مبتلا ہو جاتا ہے، اور بعض اہلِ علم فوری پذیرائی نہ ملنے پر اپنی دعوت سے بددل ہونے لگتے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی قدر کا معیار لوگوں کی تعریف نہیں بلکہ تقویٰ اور اخلاص کو قرار دیا ہے۔

خاص طور پر علمائے کرام کے لیے خود اعتمادی ایک بنیادی ضرورت ہے۔ ایک عالم اگر اپنی علمی روایت پر اعتماد کھو دے، اگر ہر نئی فکری لہر سے مرعوب ہو جائے، یا اگر اپنی دعوت کے بارے میں احساسِ کمتری کا شکار ہو جائے تو وہ نئی نسل کی رہنمائی نہیں کر سکتا۔ امت کو ایسے علماء درکار ہیں جو قرآن و سنت کے علم پر اعتماد رکھتے ہوں، مگر ساتھ ہی زمانے کی زبان، اس کے مسائل اور اس کے سوالات کو بھی سمجھتے ہوں۔ ان کی خود اعتمادی انہیں تکبر نہیں بلکہ حکمت، وقار اور تحمل عطا کرے۔

خود اعتمادی پیدا کرنے کا راستہ بھی واضح ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق مضبوط کیا جائے، علم میں اضافہ کیا جائے، اپنی صلاحیتوں کو مسلسل بہتر بنایا جائے، ناکامی کو سیکھنے کا ذریعہ سمجھا جائے، اپنے آپ کا موازنہ دوسروں کے بجائے اپنے گزشتہ کل سے کیا جائے، اور اپنی زندگی کو کسی بڑے مقصد سے وابستہ کیا جائے۔ جب انسان اپنے وجود کو اللہ کی بندگی اور انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کر دیتا ہے تو اس کے اندر ایک ایسا اطمینان پیدا ہوتا ہے جسے دنیا کی کوئی طاقت متزلزل نہیں کر سکتی۔

آخر میں ہر شخص کو اپنے آپ سے چند سوال ضرور کرنے چاہییں۔ کیا میری خود اعتمادی لوگوں کی تعریف پر قائم ہے یا اللہ پر یقین پر؟ کیا میں اپنی صلاحیتوں کو صرف اپنی ترقی کے لیے استعمال کر رہا ہوں یا امت کی بھلائی کے لیے بھی؟ اگر آج میری ظاہری کامیابیاں مجھ سے چھن جائیں تو کیا میرا حوصلہ بھی ختم ہو جائے گا؟

ان سوالات کے جواب ہی ہماری شخصیت کی اصل تصویر ہیں۔ یاد رکھیے، خود اعتمادی بلند آواز میں دعوے کرنے کا نام نہیں، بلکہ خاموش یقین کا نام ہے۔ یہ دوسروں کو شکست دینے سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ اپنے نفس پر غلبہ پانے سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ وقتی جوش کا نتیجہ نہیں بلکہ ایمان، علم، کردار اور مسلسل عمل کا ثمر ہے۔ جب یہ یقین دل میں راسخ ہو جاتا ہے کہ "جو اللہ پر بھروسہ کرے، اللہ اس کے لیے کافی ہے” تو پھر انسان صرف زندگی نہیں گزارتا بلکہ تاریخ میں اپنا نقش چھوڑ جاتا ہے۔

جذباتی ذہانت: وہ قوت جو انسان کو اپنے نفس کا قائد اور معاشرے کا رہنما بناتی ہے

علم اور کردار کا تعلق ہمیشہ سے ایک دوسرے کے ساتھ رہا ہے، لیکن انسانی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ محض علم انسان کو عظیم نہیں بناتا۔ دنیا میں ایسے بے شمار لوگ گزرے ہیں جو غیر معمولی علم

مصنف: ابرار حسین
تاریخ: 21 جولائی 2026
گھر: ایک ‘جائے سکینت یا محض چار دیواری؟ ہمارے کھوئے ہوئے سکون کا نوحہ

عالی شان عمارتیں اور کھوکھلے رشتے: ہمارے خاندانی سکون کو کس کی نظر لگ گئی؟انسانی تہذیب کی ابتدا ہی سے گھر محض اینٹ، گارے یا پتھر سے بنی ایک عمارت کا نام نہیں رہا، بلکہ یہ رشتے جوڑنے، دُکھ سُکھ

مصنف: مولانا عبدالاحد
تاریخ: 21 جولائی 2026
صبر:وہ قوت جو انسان کومعمولی سےغیر معمولی بنادیتی ہے

اور صبر کرنے والوں کو خوش خبری سنا دیجیے۔” (البقرۃ: 155) ہم ایک ایسے دور میں زندہ ہیں جہاں انسان پہلے سے زیادہ آسائشوں کا مالک ہے، مگر پہلے سے زیادہ بے چین بھی۔ ذرائع بڑھ گئے ہیں مگر تحمل

مصنف: ابرار حسین
تاریخ: 21 جولائی 2026
مثبت سوچ: مومن کی وہ قوت جو اندھیروں میں بھی روشنی تلاش کر لیتی ہے

انسان کی زندگی کو اگر قریب سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی کامیابی یا ناکامی صرف اس کے حالات سے متعین نہیں ہوتی، بلکہ اس سے کہیں زیادہ اس زاویۂ نگاہ سے وابستہ ہوتی ہے جس

مصنف: ابرار حسین
تاریخ: 16 جولائی 2026
خود اعتمادی: وہ قوت جو ایمان سے جنم لیتی ہے

خود اعتمادی: وہ قوت جو ایمان سے جنم لیتی ہے تاریخِ انسانی کا مطالعہ اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ بڑے کارنامے ہمیشہ غیر معمولی وسائل رکھنے والوں نے انجام نہیں دیے، بلکہ اکثر وہ لوگ زمانے کا رخ

مصنف: ابرار حسین
تاریخ: 16 جولائی 2026
عالمہ کا کردار: درس گاہ سے معاشرے تک

مسلم معاشرے کی تعمیر میں اہلِ علم کا کردار ہمیشہ بنیادی رہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی امت کو فکری، اخلاقی یا سماجی چیلنجز کا سامنا ہوا، رہنمائی کے لیے اہلِ علم ہی کی طرف رجوع کیا گیا۔

مصنف: اقراء شریف
تاریخ: 15 جولائی 2026