تمہید
تیسری صدی ہجری علمِ حدیث کی تاریخ کا ایک اہم اور فیصلہ کن دور ہے، جس میں احادیثِ نبویہ کی جمع و تدوین کے ساتھ رواۃ کی جانچ پڑتال اور نقدِ حدیث کے باقاعدہ اصول مرتب کیے گئے۔ اس علمی ارتقا میں امام مسلم بن حجاج القشیری اور امام ابو عیسیٰ ترمذی کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ امام مسلمؒ نے اپنی صحیح میں صحتِ حدیث کے لیے نہایت سخت معیارات قائم کیے اور ضبط، اتقان اور اتصالِ سند کو مرکزی اہمیت دی، جبکہ امام ترمذیؒ نے حسن حدیث کی اصطلاح کو علمی استحکام عطا کرتے ہوئے جرح و تعدیل، عللِ حدیث اور فقہی تعامل کو باہم مربوط انداز میں پیش کیا۔
دونوں ائمہ کے نزدیک جرح و تعدیل محض عیب جوئی نہیں بلکہ سنت نبوی ﷺ کی حفاظت اور دین کی صیانت کا ایک شرعی و علمی فریضہ ہے۔ اگر امام مسلمؒ کا منہج اسنادی صحت اور روایت کی مضبوطی کا نمائندہ ہے تو امام ترمذیؒ کا اسلوب حدیث کے فقہی فہم اور تطبیقی پہلوؤں کو نمایاں کرتا ہے۔ زیرِ نظرآرٹیکل ان دونوں محدثین کے مناہجِ جرح و تعدیل کا تقابلی جائزہ پیش کرتا ہے تاکہ ان کے اصولی امتیازات، علمی خدمات اور علمِ حدیث پر مرتب ہونے والے اثرات کو واضح کیا جا سکے۔
امام مسلم بن حجاج القشیری کا منہج جرح و تعدیل اور فنی خصوصیات
امام مسلم بن حجاج القشیریؒ (206ھ–261ھ) اُن جلیل القدر محدثین میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے علمِ حدیث میں صحتِ روایت کے لیے نہایت دقیق اور سخت اصول متعین کیے۔ ان کا منہج صرف احادیث کو جمع کرنے تک محدود نہیں تھا، بلکہ انہوں نے رواۃ کی عدالت، ضبط اور ثقاہت کو کڑی تحقیق و تنقید کے معیار پر پرکھ کر ایسا مضبوط علمی نظام قائم کیا جس میں ضعیف، مشکوک اور غیر معتبر روایات کے لیے بہت کم گنجائش باقی رہتی ہے۔ امام مسلمؒ کے اصولِ نقد و جرح و تعدیل کی جامع توضیح ان کے شہرۂ آفاق مقدمۂ صحیح مسلم میں ملتی ہے، جو اصولِ حدیث اور فن اسماء الرجال کی تاریخ میں ایک بنیادی اور مستند ماخذ کی حیثیت رکھتا ہے۔
امام مسلمؒ کا منہج جرح و تعدیل
امام مسلمؒ بیان کرتے ہیں کہ محدثین کے ہاں رواۃِ حدیث کی جرح و تعدیل سے متعلق اقوال، مثالیں اور علمی مباحث نہایت کثرت سے موجود ہیں، جنہیں مکمل طور پر ذکر کیا جائے تو بحث بہت طویل ہو جائے؛ اس لیے انہوں نے اختصار کے ساتھ ایسے اصولی اشارات ذکر کیے ہیں جو اہلِ علم کے لیے منہجِ محدثین کو سمجھنے کے لیے کافی ہیں۔
امام مسلمؒ کے نزدیک رواۃ پر جرح کرنا محض عیب جوئی یا شخصی تنقید نہیں، بلکہ دین کی حفاظت کے لیے ایک شرعی اور علمی ذمہ داری ہے، کیونکہ احادیثِ نبویہ ہی حلال و حرام، اوامر و نواہی اور دینی احکام کا بنیادی ماخذ ہیں۔ لہٰذا اگر کوئی شخص کسی غیر معتبر یا غیر ثقہ راوی کی روایت اس کی حقیقت واضح کیے بغیر لوگوں تک پہنچائے تو وہ علمی خیانت اور دینی ذمہ داری میں کوتاہی کا مرتکب شمار ہوگا۔[3]
«إرادة التكثر بذلك عند العوام، ولأن يقال: ما أكثر ما جمع فلان من الحديث…من ذهب في العلم هذا المذهب. وسلك هذا الطريق فلا نصيب له فيه. وكان بأن يسمى جاهلا، أولى من أن ينسب إلى علم.» [4]
امام مسلمؒ اس امر پر زور دیتے ہیں کہ جب ثقہ اور مستند احادیث وافر مقدار میں موجود ہوں تو ضعیف اور غیر معتبر روایات کو نقل کرنا کسی علمی ضرورت کی بنا پر نہیں ہوتا، بلکہ بسا اوقات اس کا محرک شہرت حاصل کرنا، زیادہ روایات بیان کرنا اور عوام میں علمی مقام پیدا کرنا ہوتا ہے۔ ایسے طرزِ عمل کو امام مسلمؒ حقیقی علم کے منافی قرار دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ ایسا شخص علم سے زیادہ جہالت کے قریب ہے۔
مزید برآں امام مسلمؒ اپنے دور کے اُن افراد پر بھی تنقید کرتے ہیں جو اصول و تحقیق کے بغیر اسناد کی تصحیح و تضعیف میں گفتگو کرتے تھے۔ اگرچہ ان اقوال کو نظر انداز کرنا ممکن تھا، لیکن عوام کے گمراہ ہونے کے اندیشے کے پیشِ نظر انہوں نے علمی امانت داری کا تقاضا سمجھتے ہوئے ان غلط آرا کی وضاحت اور تردید کو ضروری قرار دیا۔[5]
1 جرح کا جواز اور اس کی شرعی حیثیت
امام مسلمؒ کے نزدیک رواۃِ حدیث پر جرح کرنا صرف جائز ہی نہیں بلکہ شریعت کے تحفظ کے لیے ایک ضروری دینی فریضہ ہے، کیونکہ اگر راویوں کی تحقیق کے بغیر ہر روایت قبول کر لی جائے تو دین میں جھوٹ، وہم اور غلط بیانی داخل ہو سکتی ہے۔
چنانچہ علامہ نووى رحمہ الله فرماتے ہے۔
«اعلم أن جرح الرواة جائز بل واجب بالاتفاق للضرورة الداعية إليه لصيانة الشريعة المكرمة وليس هو من الغيبة المحرمة»[6]
اسمیں یہ بیان ہے کہ جرح کرنا محض جائز ہی نہیں بلکہ ضرورت کے وقت واجب ہے، اور اس پر اہلِ علم کا اتفاق ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جرح کے بغیر شریعت مطہرہ کی حفاظت ممکن نہیں رہتی، کیونکہ اگر ہر راوی کی روایت بلا تحقیق قبول کر لی جائے تو جھوٹ، وہم اور غلطی دین میں داخل ہو جائے۔
یہ عمل غیبت حرام میں داخل نہیں، کیونکہ غیبت ذاتی عیب بیان کرنے کے لیے ہوتی ہے، جبکہ جرح دینی مصلحت اور نصیحت کے لیے کی جاتی ہے، لہٰذا یہاں مقصد کسی شخص کی توہین نہیں بلکہ نبی ﷺ کی سنت کو محفوظ رکھنا ہے۔
چنانچہ امام مسلم نے صحیح مسلم میں بھی جواز جرح میں احادیث مبارکہ ذکر کی ہے ، حضرت فاطمہ بنتِ قیسؓ بیان کرتی ہیں کہ ان کے شوہر ابو عمرو بن حفصؓ نے انہیں حالت غیاب میں طلاق بائن دے دی۔ ان کے وکیل نے نفقہ کے طور پر کچھ جو بھیجا، جسے انہوں نے ناکافی سمجھا۔ معاملہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے پیش ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ بائن طلاق کی صورت میں نفقہ واجب نہیں۔
آپ ﷺ نے انہیں عدّت کے لیے پہلے امِّ شریکؓ کے گھر ٹھہرنے کا حکم دیا، پھر فرمایا کہ وہاں صحابہ کا آنا جانا زیادہ ہے، اس لیے ابن ام مکتومؓ (جو نابینا تھے) کے گھر عدّت گزارو تاکہ پردے میں سہولت رہے۔
عدّت پوری ہونے کے بعد فاطمہؓ نے نبی ﷺ کو بتایا کہ معاویہ بن ابی سفیانؓ اور ابو جہمؓ نے نکاح کا پیغام دیا ہے۔ اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا: (ابو جہم کے بارے میں: وہ اپنی لاٹھی کندھے سے نہیں اتارتا (یعنی سخت مزاج یا کثرت ضرب کی طرف اشارہ، اور (معاویہ: وہ مفلس ہے، اس کے پاس مال نہیں)[7]
پھر آپ ﷺ نے انہیں اسامہ بن زیدؓ سے نکاح کا مشورہ دیا۔ ابتدا میں فاطمہؓ کو تردد ہوا، مگر نکاح کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس میں خیر رکھی اور وہ خوش رہیں۔
امام مسلم کا حضرات صوفیاں صالحین اور عبا دوز ہادپر جرح نقل کرنا
قال الامام مسلم:«سعيد القطان، عن أبيه، قال: لم نر الصالحين في شئ أكذب منهم في الحديث. قال ابن أبي عتاب: فلقيت أنا محمد بن يحيى بن سعيد القطان، فسألته عنه. فقال عن أبيه: لم تر أهل الخير في شئ، أكذب منهم في الحديث.قال مسلم: يقول: يجري الكذب على لسانهم ولا يتعمدون الكذب.»[8]
امام مسلم فرماتے ہے، محمد بن ابی عتاب بیان کرتے ہیں کہ عفّان نے ہمیں خبر دی، وہ محمد بن یحییٰ بن سعید قطّان سے، وہ اپنے والد (یحییٰ بن سعید قطّان) سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: ہم نے نیک لوگوں کو کسی چیز میں اتنا جھوٹا نہیں پایا جتنا حدیث کے معاملے میں۔
ابن ابی عتاب کہتے ہیں: پھر میری ملاقات محمد بن یحییٰ بن سعید قطّان سے ہوئی، تو میں نے ان سے اس بات کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے اپنے والد کے حوالے سے کہا: ہم نے اہلِ خیر کو کسی چیز میں اتنا جھوٹا نہیں پایا جتنا حدیث کے معاملے میں۔
امام مسلمؒ فرماتے ہیں:اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی زبان سے غلط بات جاری ہو جاتی ہے، وہ جان بوجھ کر جھوٹ نہیں بولتے۔[9]
اسں حدیث کی تشریح میں مولانا فضل محمد صاحب (تحفۃ المنعم ) میں فرماتے ہے:
(لم نر الصالحین )صوفی صالحین اور عبا دوز ہاد کی حدیثوں کا محدثین کے نزدیک کچھ زیادہ اعتبار نہیں ہے کیونکہ ان حضرات سے بچند وجوہ نادانستہ طور پر احادیث کی روایات میں بے احتیاطی ہو جاتی ہے وہ چند وجوہ یہ ہیں :
(۱) کچھ حضرات تو سب لوگوں کے ساتھ اچھا گمان رکھتے ہیں اس لئے ضعیف راویوں سے بھی حدیثیں لیتے ہیں۔
(۲) کچھ لوگ ترغیب و ترہیب وعظ و بیان اور فضائل اعمال میں حدیثیں گھڑنے کو جائز سمجھتے ہیں۔
(۳) کچھ حضرات فضائل اعمال میں ضعیف روایات سے آگے بڑھ کر موضوعات بھی بیان کرنے لگتے ہیں۔
(۴) سب سے اہم بات یہ کہ ان کو فن حدیث میں مہارت نہیں ہوتی ہے اور عبادت کی کثرت کی وجہ سے ان میں غفلت پیدا ہو جاتی ہے لیکن یہ تمام چیزیں حدیث کو ضعیف یا منکر یا موضوعی ہونے سے نہیں بچاسکتیں لہذا جو حکم ہوگا وہ ان کی روایات پر لگے گا کیونکہ کذب کی تعریف یہ ہے کہ خلاف واقعہ کسی چیز کو بیان کیا جائے چاہے غلطی سے ہو ، بھول سے ہو یا قصد وارادہ سے ہو اچھا ارادہ ہو یا برا ارادہ ہو ، جھوٹ ، جھوٹ ہے۔
(يجرى على لسانهم الكذب ) امام مسلم فرماتے ہیں کہ ان لوگوں کا ارادہ جھوٹ کا نہیں ہوتا مگر اختیار کے بغیر زبانوں پر جھوٹ جاری ہو جاتا ہے، قاضی عیاض ” فرماتے ہیں کہ کثرت عبادت سے غفلت آتی ہے اور قلت علم سے فضائل میں جھوٹ گھڑتے ہیں گویا ان حضرات نے صوفیوں کے جھوٹ کی ایک قسم تاویل کی ہے مگر حدیث پر اعتماد ختم ہونے کے لئے قصداً جھوٹ ہو یا سہو ہوسب تباہ کن ہے۔[10]
غیبت کی حقیقت (لغوی و شرعی)
لغوی اعتبار سے غیبت کا معنی کسی شخص کی ایسی برائی کا ذکر کرنا ہے جو اس کو ناپسند ہو۔[11]
شرعی اعتبار سے غیبت کی جامع اور قطعی تعریف خود نبی کریم ﷺ نے فرمائی، جیسا کہ صحیح مسلم وغیرہ میں حدیث ہے:
غیبت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کا ایسا ذکر کرو جو اسے ناپسند ہو،اگر وہ بات اس میں موجود ہو تو تم نے اس کی غیبت کی، اور اگر موجود نہ ہو تو تم نے اس پر بہتان باندھا۔[12]
اسی نبوی تعریف پر اہلِ لغت اور فقہاء نے اپنے مفاہیم کی بنیاد رکھی ہے۔
امام نوویؒ نے ( كتاب الاذكار ) ميں غیبت کی نہایت جامع تعریف بیان کرتے ہوئے واضح کیا کہ:غیبت صرف زبان سے نہیں ہوتی بلکہ لفظ، تحریر، اشارہ، علامت، یا کسی بھی طریقے سے، کسی انسان کی ایسی بات ظاہر کرنا جو اسے ناگوار ہو، سب غیبت میں داخل ہے، خواہ وہ، اس کے جسم (مثلاً اندھا، لنگڑا) ،دین (فاسق، نماز میں کوتاہ)، دنیاوی امور (بدتمیز، حریص)، اخلاق (تکبر،ریا)، لباس، چال ڈھال، حرکات، یا اس کے رشتہ داروں اور متعلقین کے حوالے سے ہو، یہ سب اگر ناپسندیدہ انداز میں ذکر کیے جائیں تو شرعاً غیبت شمار ہوں گے۔[13]
غیبت کا حکم اور اس کے شرعی تقاضے
1 غیبت کی حرمت
اسلام میں غیبت کی حرمت پر اجماع ہے، اور قرآن و سنت کی صریح نصوص اس پر دلالت کرتی ہیں۔
قرآن کریم میں واضح حکم ہے:ولا يغتب بعضكم بعضا[14]
پورى آيت مباركہ كا ترجمہ(اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو، بے شک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں، اور نہ تجسس کرو، اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے۔ کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے؟ تم اسے ناپسند کرتے ہو۔ اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم فرمانے والا ہے)
نبی کریم ﷺ نے خطبۂ حجۃ الوداع میں مسلمانوں کے جان، مال اور عزت (عرض) کو حرام قرار دیا، اور صحیح مسلم کی روایت کے مطابق فرمایا کہ مسلمان کی عزت بھی اسی طرح محترم ہے جیسے اس کا خون اور مال۔[15]
احادیثِ نبویہ سے یہ بات پوری وضاحت سے ثابت ہوتی ہے کہ: کسی مسلمان کی تحقیر یا عیب جوئی، خواہ معمولی ہو (مثلاً قد یا شکل کا ذکر)، شدید گناہ ہے۔
غیبت کا اثر اتنا سنگین ہے کہ نبی ﷺ نے اسے سمندر کے پانی کو آلودہ کرنے سے تشبیہ دی۔غیبت کرنے والوں کے لیے معراج کی رات عذاب کا منظر دکھایا گیا، جس سے اس جرم کی شدت ظاہر ہوتی ہے۔ بلا حق کسی مسلمان کی عزت پر حملہ کرنا سود سے بھی بڑا گناہ قرار دیا گیا۔ یہ تمام نصوص اس امر پر متفق ہیں کہ غیبت ایک قطعی حرام اور کبیرہ گناہ ہے۔
2 غیبت سننے والے کا حکم
جس طرح غیبت کرنا حرام ہے، اسی طرح غیبت سننا، اس پر خاموش رہنا، یا اس کی تائید کرنا بھی حرام ہے۔
شرعی حکم یہ ہے کہ: اگر سامع میں قدرت ہو تو زبان سے روکنا واجب ہے۔ اگر کسی واضح نقصان کا اندیشہ ہو تو، دل سے بیزاری اختیار کرے، اور ممکن ہو تو اس مجلس کو چھوڑ دے کم از کم یہ لازم ہے کہ، دل سے انکار کرے، اور کان لگا کر سننے سے اجتناب کرے، ذکر الٰہی یا کسی اور مباح مشغلے میں مصروف ہو جائے، قرآنِ کریم نے ظالموں کی مجلس سے کنارہ کشی کا حکم دیا ہے، جو غیبت کی مجالس پر بھی منطبق ہوتا ہے۔[16]
وہ مواقع جن میں غیبت جائز (مباح) ہوتی ہے
اسلام میں غیبت اصولاً حرام ہے، تاہم شریعت نے واضح شرعی مصلحت کی بنیاد پر بعض مخصوص حالات میں اسے جائز قرار دیا ہے، بشرطیکہ اس کے بغیر مطلوبہ شرعی مقصد حاصل نہ ہو سکے۔ فقہاء و محدثین نے ایسے چھ اسباب بیان کیے ہیں جن میں غیبت کی اجازت دی گئی ہے، اور ان میں سے اکثر پر اہلِ علم کا اجماع ہے۔
(1) تظلّم (فریادِ ظلم): مظلوم کے لیے جائز ہے کہ وہ،قاضی، حاکم، یا ایسے صاحبِ اختیار شخص کے سامنے اپنے ظالم کا ذکر کرے اور ظلم کی تفصیل بیان کرے، تاکہ اس کا حق واپس دلایا جا سکے۔
(2)ازالۂ منکر اور اصلاح: اگر کسی شخص کا مقصد: کسی برائی کو ختم کرنا، یا کسی گناہ گار کو راہِ راست پر لانا ہو تو وہ ایسے شخص کا ذکر کر سکتا ہے جو منکر کا ارتکاب کر رہا ہو، بشرطیکہ نیت خالص اصلاح ہو، نہ کہ عیب جوئی۔
(3) استفتاء (فتویٰ طلب کرنا): مفتی کے سامنے والدین، شوہر/بیوی، یا کسی اور شخص کے ظلم یا غلط رویے کا ذکر کرنا جائز ہے، تاکہ شرعی حل معلوم ہو سکے۔ اگرچہ بلا تعین سوال کرنا افضل ہے، مگر ضرورت کے وقت تعین بھی جائز ہے، جیسا کہ حدیثِ ہندؓ سے ثابت ہے۔
(4) مسلمانوں کو نقصان سے بچانے کے لیے نصیحت: یہ سب سے اہم اور وسیع سبب ہے، جس میں شامل ہیں: جرح و تعدیل رواۃ اورگواہ (بلکہ یہ واجب ہے)رشتہ، شراکت، امانت یا معاملہ کے بارے میں مشورہ دینا، کسی چیز یا شخص کے عیب سے خریدار یا سائل کو آگاہ کرنا، طالب علم کو فاسق یا مبتدع استاد سے بچانا، نااہل، فاسق یا مغفل صاحب منصب کے بارے میں بالا حکام کو مطلع کرنا۔
یہ سب اس شرط کے ساتھ جائز ہیں کہ نیت محض نصیحت ہو، کیونکہ اسی باب میں اکثر لوگ دھوکے میں پڑ جاتے ہیں اور حسد یا بغض کو نصیحت کا نام دے دیتے ہیں۔
(5) علانیہ فسق یا بدعت:جو شخص کھلے عام گناہ کرتا ہو، یا اپنی بدعت یا فسق کا اظہار کرتا ہو، اس کا ذکر اسی علانیہ برائی کے حوالے سے جائز ہے، البتہ اس کے دیگر مخفی عیوب بیان کرنا حرام ہے، الا یہ کہ کوئی اور شرعی سبب موجود ہو۔
(6) تعارف کے لیے لقب: اگر کسی شخص کی پہچان: کسی جسمانی وصف یا لقب سے ہو (مثلاً: اَعْمَش، اَعْرَج، اَصَم) تو محض تعریف و شناخت کی نیت سے ایسا کہنا جائز ہے، نہ کہ تحقیر کے لیے۔ اگر بغیر لقب کے تعارف ممکن ہو تو وہ بہتر ہے۔[17]
جرح میں احتیاط اور تقویٰ کی شرط
امام مسلمؒ سختی سے متنبہ کرتے ہیں کہ: کسی سالم راوی پر بلا دلیل جرح کرنا، یا غیر ثابت نقص کی بنیاد پر اسقاط روایت کرنا، نہایت خطرناک عمل ہے، کیونکہ: یہ ہمیشہ کی غیبت بن جاتی ہے، اور نبی ﷺ کی ایک سنت ساقط ہو سکتی ہے
علامه نووی شرح النووي على مسلم میں لکھا ہے کہ:
«ثم على الجارح تقوى الله تعالى في ذلك والتثبت فيه والحذر من التساهل بجرح سليم من الجرح»[18]
اس عبارت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ رواۃ پر جرح کرنا دینی ضرورت کے تحت جائز بلکہ واجب ہے، لیکن جرح کرنے والے پر لازم ہے کہ وہ:، اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرے، نہایت تحقیق اور احتیاط سے فیصلہ کرے، کسی بے عیب یا محفوظ راوی کو بلا دلیل مجروح کرنے میں جلد بازی نہ کرے۔
کیونکہ جرح ایک ایسا عمل ہے جس کے اثرات دائمی ہوتے ہیں، راوی کی تمام روایات کو ساقط کر سکتے ہیں، اور امت کو سنت کے ایک حصے سے محروم کر سکتے ہیں
جرح کون کر سکتا ہے؟
امام مسلمؒ کے نزدیک: جرح صرف عدل، متقی اور علم حدیث میں ماہر شخص ہی کر سکتا ہے، ناواقف یا غیر معتبر شخص کی جرح مردود ہے، ایسے شخص کی بات غیبت محرّمہ شمار ہوگی
یہ اصول علامه نووی نے قاضی عیاضؒ کے حوالے سے نقل کیا ہے۔
«ثم إنما يجوز الجرح لعارف به مقبول القول فيه أما إذا لم يكن الجارح من أهل المعرفة أو لم يكن ممن يقبل قوله فيه فلا يجوز له الكلام في أحد فإن تكلم كان كلامه غيبة محرمة»[19]
اس عبارت سے واضح ہوتا ہے کہ جرح و تعدیل کا حق ہر شخص کو حاصل نہیں، بلکہ یہ صرف: اس شخص کے لیے جائز ہے، جو اس فن کا ماہر ہو، اور جس کا قول اہلِ علم کے نزدیک معتبر اور قابل قبول ہو
اگر کوئی شخص: علمِ رجال اور اس کے اسباب سے ناواقف ہو، یا علمی حلقوں میں اس کا قول معتبر نہ سمجھا جاتا ہو تو اسے کسی راوی پر گفتگو کرنے کی اجازت نہیں، اور اگر وہ ایسا کرے تو: اس کی یہ گفتگو شرعی طور پر حرام غیبت شمار ہوگی۔
جرح اور تعدیل میں تعارض کا اصول
امام مسلمؒ کے نزدیک اگر کسی راوی کے بارے میں جرح اور تعدیل دونوں موجود ہوں، تو جرح کو ترجیح دی جائے گی، چاہے معدّلین (تعدیل کرنے والے) زیادہ ہوں، کیونکہ: جارح کسی خفی علت پر مطلع ہوتا ہے
«ولو تعارض جرح وتعديل قدم الجرح على المختار الذي قاله المحققون والجماهير»[20]
یعنی جب کسی راوی کے بارے میں جرح اور تعدیل دونوں موجود ہوں توراجح قول کے مطابق جرح کو مقدم رکھا جائے، چاہے تعدیل کرنے والوں کی تعداد زیادہ یا کم ہو۔اسکی دلیل یہ ہے کہ جرح کرنے والا کسی خفی عیب سے واقف ہوتا ہے جو تعدیل کرنے والے کے علم میں نہیں ہوتا۔
دوسرا قول: اگر تعدیل کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہو تو تعدیل کو ترجیح دی جائے۔امام نوویؒ اور جمہور محققین کے نزدیک پہلا قول صحیح ہے۔
ضعیف راویوں سے روایت کیوں کی جاتی ہے؟
موضوع روایت کے بارے میں، بعض اوقات امام مسلم اور دیگر ائمہ نے مغفل، ضعیف یا متروک راویوں کی روایات بھی نقل کی ہیں، حالانکہ وہ جانتے تھے کہ ان کی روایت اعتماد کے قابل نہیں۔
اعتراض : اگر محدثین ضعیف راویوں کو جانتے تھے تو ان سے روایت کیوں کرتے تھے؟
جواب : ضعف واضح کرنے کے لیے، اعتبار و متابعت کے لیے، نہ کہ احتجاج کے لیے کیونکہ ضعیف راوی کی بعض روایات صحیح بھی ہو سکتی ہیں، فضائل، ترغیب و ترہیب میں (بشرطِ عدمِ وضع)
چنانچہ علامہ نووی نے اسکے جواب دو بڑے وجوہات سے کرتے ہے۔«أن الضعيف يكتب حديثه ليعتبر به أو يستشهد»[21]
پہلی وجہ: ائمہ یہ روایات نقل کرتے تاکہ ضعف یا غلطی واضح ہو جائے۔ اس طرح بعد کے علماء اور طلبہ کو یہ معلوم ہو کہ یہ روایت قابل اعتماد نہیں، اور وہ وقت یا غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوں۔
دوسری وجہ: ضعیف راوی کی روایت بعض اوقات معتبر یا مستند روایت کے ساتھ موازنہ یا استدلال کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ مثلاً کسی حدیث کے ضمن یا استشهاد میں استعمال ہو، لیکن اس پر تنہا اعتبار نہیں کیا جاتا۔
جھوٹے رواۃ کی اقسام
امام نووى (قاضی عیاضؒ کے توسط سے) واضح کرتے ہیں کہ: جو شخص نبی ﷺ پر جھوٹ باندھے، یا جان بوجھ کر سماع اور ملاقات کا دعویٰ کرے ، وہ: کذاب، متروک الحدیث، اور اس کی روایت ناقابلِ قبول ہے«وهؤلاء كلهم كذابون متروكو الحديث»[22]
توبہ کے بعد روایت کا حکم
(امام نوویؒ) کے نزدیک: اگر کذاب نے سچی توبہ کر لی، اور آئندہ ضبط و صدق ثابت ہو، تو: اس کی توبہ قبول ہو سکتی ہے، اور روایت بھی (اختلاف کے باوجود) قبول کی جا سکتی ہے«قلت المختار الأظهر قبول توبته كغيره من أنواع الفسق»[23]
راویوں کے طبقات اور ان کا معیارانتخاب
امام مسلم نے راویوں کو ان کی دیانت، قوت حافظہ اور فنی مہارت کی بنیاد پر تین بڑے درجوں میں تقسیم کیا ہے ۔ یہ تقسیم ان کے جرح و تعدیل کے منہج کو سمجھنے کے لیے کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔ یہاں اسی مواد کو سہولت مطالعہ اور اختصار کے پیش نظر ایک جدول (Table) کی صورت میں پیش کیا جا رہا ہے۔
راوی کا طبقہ
علمی و فنی خصوصیات
امام مسلم کا طرزِ عمل
پہلا،طبقہ
(الحفاظ المتقنون)
وہ راوی جو صدق، امانت اور کمالِ حافظہ میں معروف ہوں اور ان کی روایات میں اختلاف نہ پایا جائے ۔
امام مسلم نے اپنی صحیح میں ان کی روایات کو بنیادی اثاثے کے طور پر پیش کیا ہے۔
دوسرا،طبقہ (المتوسطون)
وہ راوی جو سچے اور دیانت دار ہیں لیکن ان کا حافظہ اور ضبط پہلے طبقے کے مقابلے میں تھوڑا کم ہے ۔
ان کی روایات کو متابعات اور شواہد کے طور پر استعمال کیا گیا تاکہ مرکزی روایت کو تقویت ملے ۔
تیسرا،طبقہ (المتروکون)
وہ راوی جن کی عدالت مشکوک ہو، جو کثرت سے غلطیاں کرتے ہوں یا جن پر جھوٹ کی تہمت ہو ۔
امام مسلم نے اس طبقے کے راویوں سے مکمل اجتناب کیا اور ان کی روایات کو اپنی کتاب میں جگہ نہیں دی ۔
یہ طبقاتی تقسیم اس بات کی غماز ہے کہ امام مسلم نے حدیث کی صحت کے لیے "اتقان” اور "ضبط” کو بنیادی شرط قرار دیا ۔ ان کے نزدیک محض سچا ہونا کافی نہیں بلکہ راوی کا ذہنی طور پر مستعد ہونا بھی لازمی ہے تاکہ وہ الفاظ کی تبدیلی کے بغیر روایت منتقل کر سکے ۔
امام ترمذی کا منہج جرح و تعدیل
امام ابو عیسیٰ ترمذی (209ھ – 279ھ) نے امام بخاری اور امام مسلم کے بعد علم حدیث کو ایک نئی جہت عطا کی ۔ ان کا منہج امام مسلم کے مقابلے میں زیادہ وضاحتی اور تجزیاتی ہے ۔ انہوں نے نہ صرف روایات جمع کیں بلکہ ان پر نقد و جرح کا ایک ایسا نظام بنایا جو "جامع ترمذی” کو تمام صحاحِ ستہ میں ممتاز کرتا ہے ۔امام ترمذى فرماتےہے۔
«وقد عاب بعض من لا يفهم على أهل الحديث الكلام في الرجال وقد وجدنا غير واحد من الأئمة من التابعين قد تكلموا في الرجال»[24]
امام ابو عیسیٰ ترمذیؒ بیان کرتے ہیں کہ بعض ناواقف لوگ اہلِ حدیث کے رواۃ پر کلام کرنے کو ناپسند کرتے ہیں، حالانکہ جرح و تعدیل کا یہ منہج خود سلفِ صالحین اور ائمہ حدیث کا معمول رہا ہے۔ اسی لیے امام ترمذیؒ حسن بصریؒ، سعید بن جبیرؒ، شعبہؒ، سفیان ثوریؒ، امام مالکؒ، عبد اللہ بن مبارکؒ، یحییٰ بن سعید قطانؒ اور دیگر ائمہ کے اقوال نقل کرتے ہیں جنہوں نے رواۃ کی کمزوریوں کو واضح کیا۔
مزید برآں امام ترمذیؒ کے نزدیک اس طرزِ عمل کا مقصد کسی کی تحقیر یا غیبت نہیں تھا، بلکہ دین کی حفاظت اور امت کی خیر خواہی تھا۔ چونکہ بعض رواۃ بدعت، ضعفِ حفظ، کثرتِ خطا یا عدمِ ضبط کا شکار تھے، اس لیے محدثین نے ان کے احوال بیان کیے تاکہ غیر معتبر روایات دین میں شامل نہ ہو سکیں۔ اسی بنا پر امام ترمذیؒ اس اصول پر زور دیتے ہیں کہ دین کے باب میں روایت و شہادت کی تحقیق، مالی اور دنیاوی معاملات سے کہیں زیادہ احتیاط کی متقاضی ہے، لہٰذا جرح و تعدیل شریعت کی حفاظت کے لیے ایک ضروری اور مشروع علمی عمل ہے۔[25]
جرح و تعدیل پر کلام کا وجوب اور اس کا شرعی جواز
علامہ ابن رجب حنبلیؒ نے شرح علل الترمذی میں امام ترمذیؒ کے کلام کی توضیح کرتے ہوئے بیان کیا ہے کہ جرح و تعدیل پر گفتگو صرف جائز ہی نہیں بلکہ حفاظتِ سنت کے لیے ایک ضروری علمی فریضہ ہے، اور اس پر سلفِ امت اور ائمہ حدیث کا اتفاق پایا جاتا ہے۔ کیونکہ صحیح اور غیر صحیح روایات میں امتیاز، اور ثقہ و غیر ثقہ رواۃ کی پہچان، اسی علم کے ذریعے ممکن ہوتی ہے۔
امام ترمذیؒ اس غلط فہمی کی بھی تردید کرتے ہیں کہ جرح و تعدیل غیبت کے زمرے میں آتی ہے۔ ان کے نزدیک اگر کسی مصلحتِ شرعیہ کے تحت کسی شخص کے عیب کو بیان کرنا جائز ہے، جیسے جھوٹے گواہ کی حقیقت واضح کرنا، تو دین اور سنتِ نبوی ﷺ کی حفاظت کے لیے یہ عمل بدرجۂ اولیٰ جائز اور ضروری ہوگا۔ اسی لیے سلفِ صالحین نے اس بات پر زور دیا کہ دین کی روایت صرف انہی لوگوں سے قبول کی جائے جو ثقاہت، دیانت اور علمی ضبط کے اعتبار سے قابلِ اعتماد ہوں۔
اس پر حضرات ائمہ کی متعدد عملی مثالیں پیش کی ہے:
- نبی کریم ﷺ کا فاطمہ بنتِ قیسؓ کو نکاح کے مشورے میں معاویہؓ اور ابو جہمؓ کی حقیقت بیان کرنا؛
- شعبةؒ کا قول:” آؤ اللہ کے لیے ایک گھڑی غیبت کریں“یعنی جرح و تعدیل کریں؛[26]
- ابن المبارکؒ، امام احمدؒ، ابو زرعہؒ اور دیگر ائمہ کا صراحت سے یہ کہنا کہ یہ نصیحت اور امانت ہے، غیبت نہیں۔
ائمہ حدیث نے واضح کیا کہ اگر اہلِ علم اس باب میں خاموشی اختیار کر لیں تو: صحیح اور سقیم، حق اور باطل، ثقہ اور غیر ثقہ میں امتیاز ممکن نہ رہے گا۔
اسی لیے امام احمدؒ نے فرمایا کہ اگر وہ اور دوسرے محدثین خاموش ہو جائیں تو جاہل لوگ صحیح اور غلط حدیث میں فرق کیسے کریں گے۔[27]
امام ترمذیؒ کا منہج، اس متوازن اور اصولی رویّے کو نمایاں کرتا ہے جس کے تحت وہ رواۃ اور اسانید پر حکم لگاتے ہیں۔ امام ترمذیؒ نہ تو مطلق تشدد کے قائل ہیں اور نہ ہی بلا تحقیق توسع کے، بلکہ وہ عدل، ضبط، حفظ، اور قرائن کی بنیاد پر جرح و تعدیل کرتے ہیں۔
جرح و تعدیل کا مقصد: نصیحت اور دین کی حفاظت
امام ترمذیؒ واضح کرتے ہیں کہ سلف اور ائمہ حدیث نے رواۃ پر گفتگو اس لیے کی کیونکہ، بعض رواۃ بدعتی تھے، بعض حدیث میں متہم تھے، بعض شدید غفلت اور کثرتِ خطا کا شکار تھے ان کا مقصد طعن، غیبت یا تحقیر نہیں تھا بلکہ، دین کی حفاظت، سنت کی صیانت اور امت کی خیرخواہی اسی لیے امام ترمذیؒ بار بار تاکید کرتے ہیں کہ، دین کے معاملے میں شہادت، حقوق و اموال کی شہادت سے بڑھ کر احتیاط کی مستحق ہے۔[28]
جرح کا معیار: کذب نہیں بلکہ ضبط
امام ترمذی فرماتے ہے:
«وقد تكلم بعض أهل الحديث في قوم من جلة أهل العلم وضعفوهم من قبل حفظهم ووثقهم آخرون من الأئمة بجلالتهم وصدقهم»[29]
اس اقتباس سے امام ترمذیؒ کا ایک نہایت اہم اصول سامنے آتا ہے، ہر جرح کذب کی بنیاد پر نہیں ہوتی، بلکہ اکثر جرح ضعفِ حفظ، کثرتِ وہم، اضطرابِ روایت، اسناد میں خلط کی بنا پر ہوتی ہے اسی لیے امام ترمذیؒ متعدد مثالیں لاتے ہیں: محمد بن عمرو، سہیل بن ابی صالح، محمد بن عجلان، حماد بن سلمہ، ابن ابی لیلیٰ، عبد اللہ بن لہیعہ، مجالد بن سعید ان سب کے بارے میں فرمایا گیا کہ:یہ صالح، ثقہ یا مامون ہیں، لیکن حفظ میں ضعف کی وجہ سے ان کی بعض روایات پر کلام کیا گیاہے۔
ائمہ کے اختلاف کو سمجھنے کا اصول
امام ترمذیؒ یہ واضح کرتے ہیں کہ، ایک ہی راوی کو بعض ائمہ ضعیف کہتے ہیں، جبکہ دوسرے ائمہ اس سے روایت بھی کرتے ہیں یہ تضاد نہیں، کیونکہ بعض نے تشدد اختیار کیا بعض نے توسط اور بعض نے متابعات و شواہد میں روایت کی
مثلاً: یحییٰ بن سعید قطان نے بعض رواۃ کو ترک کیا مگر ابن المبارک، وکیع اور ابن مہدی نے انہی سے روایت کی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جرح و تعدیل مطلق نہیں بلکہ نسبی اور قرائن پر مبنی ہے۔[30]
تفرد کی صورت میں حکم
امام ترمذیؒ یہاں ضعف حفظ رکھنے والے رواۃ کے بارے میں ایک بنیادی اصول بیان کر رہے ہیں۔ مفہوم یہ ہے کہ ایسے رواۃ (جو صدوق تو ہیں مگر متقن نہیں) اگر کسی حدیث کو تنہا روایت کریں اور اس روایت کی کسی معتبر ثقہ راوی سے متابعت نہ ملے تو اس حدیث سے استدلال (احتجاج) نہیں کیا جائے گا۔تفرد (انفراد) کی صورت میں امام ترمذیؒ واضح کرتے ہیں کہ اگر کمزور ضبط والا راوی منفرد ہو جائے اور اس کی روایت کی کوئی متابعت یا شاہد موجود نہ ہوتو اس کی حدیث حجت نہیں بنتی
یہی اصول امام احمدؒ کے قول قال أحمد بن حنبل بن أبي ليلى لا يحتج به»کی وضاحت بھی ہے۔( یعنی ابن ابی لیلیٰ سے مطلقاً روایت ترک نہیں کی جاتی، بلکہ صرف اس وقت جب وہ کسی روایت میں تنہا ہو جائے)[31]
5 صالح ہونا روایت کے لیے کافی نہیں
امام ترمذی کچھ علماء کی کلام نقل کرتے ہوے لکھتے ہے،
«إنما تكلموا فيهم من قبل حفظهم وكثرة خطئهم»[32]
امام ترمذیؒ اس متن میں بار بار اس اصول پر زور دیتے ہیں کہ عبادت، زہد، اصلاح روایت کے لیے کافی نہیں، جب تک حفظ، ضبط اور اتقان موجود نہ ہو اسی لیے فرمایا: بہت سے صالح لوگ حدیث میں خطا کر جاتے ہیں اور یہی ان کی تضعیف کا سبب بنتا ہے
جرح و تعدیل اور فقہی ضرورت
امام ترمذی کا جرح و تعدیل کا منہج ان کے فقہی ذوق سے گہرا تعلق رکھتا ہے ۔ وہ صرف ان راویوں پر کلام نہیں کرتے جو ضعیف ہیں، بلکہ وہ ان احادیث کی فنی حیثیت بھی واضح کرتے ہیں جن پر فقہائے کرام کا عمل رہا ہے ۔ ان کی کتاب میں "العمل علیہ عند اہل العلم” (اہلِ علم کا اس پر عمل ہے) کے جملے کثرت سے ملتے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ کبھی راوی میں تھوڑا ضعف ہونے کے باوجود اگر امت کا تعامل اس پر ہو، تو وہ اس روایت کو قبولیت کا درجہ دیتے ہیں ۔
جيسا كہ فتح البارى ميں ذكر ہے،
«إسناد ضعيف، لكن قال الترمذي: إن العمل عليه عند أهل العلم،»[33]
اس کا مطلب یہ ہے کہ:اگرچہ سند ضعیف ہے، لیکن اہل علم (فقہاء و محدثین) نے اس حدیث کے مضمون پر عمل کیا ہے، یا اسے دیگر دلائل، آثارِ صحابہ، قیاس یا عمومی اصول کی تائید حاصل ہے۔ اسی وجہ سے امام ترمذیؒ نے اس حدیث کو فقہی اعتبار سے مقبول المعنیٰ قرار دیا، اگرچہ وہ اسے سنداً قوی نہیں سمجھتے تھے۔
امام مسلم اور امام ترمذی کا تقابلی تجزیہ
ان دونوں ائمہ کے مناہج میں پائے جانے والے فرق درحقیقت ان کے علمی مقاصد اور ترجیحات کا نتیجہ ہیں ۔
1 شدت اور نرمی کا موازنہ - امام مسلم: جرح و تعدیل میں امام مسلم کا رویہ "متوسط” اور بعض صورتوں میں "متشدد”ہے ۔ انہوں نے اپنی صحیح کے لیے راویوں کی جو شرائط مقرر کیں، ان پر وہ سختی سے کاربند رہے اور کسی بھی ایسے راوی کو جگہ نہیں دی جس کے حافظے پر ائمہ نے جرح کی ہو ۔[34]
- امام ترمذی: امام ترمذی کا رویہ "متساهل”سمجھا جاتا ہے ۔ وہ ایسی روایات کو بھی "حسن” کہہ کر قبول کر لیتے ہیں جن کے اسناد میں "مستور” یا معمولی سوءِ حفظ والے راوی ہوتے ہیں، بشرطیکہ وہ روایت شواہد سے تقویت پاتی ہو۔
2 سند کی اتصال اور انقطاع کا معاملہ
امام مسلم کے ہاں "اتصال” کے لیے معاصرت کافی ہے، جبکہ امام ترمذی اپنے استاد امام بخاری کے اثر کے تحت ملاقات اور سماع کی صراحت کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں، اگرچہ وہ امام مسلم کے معاصرت والے نظریے کو بھی کلی طور پر مسترد نہیں کرتے ۔[35]امام ترمذی نے "غریب” اور "منقطع” روایات پر جو کلام کیا ہے، وہ امام مسلم کے مقابلے میں زیادہ تفصیلی ہے کیونکہ وہ ان نقائص کو واضح کرنا چاہتے تھے۔
3 کتاب کی ترتیب اور جرح کا ظہور - امام مسلم: ان کی جرح و تعدیل "خاموش” ہے ۔ وہ کسی راوی پر براہِ راست تبصرہ کرنے کے بجائے اسے اپنی صحیح میں شامل کر کے اس کی تعدیل کر دیتے ہیں یا شامل نہ کر کے اس پر اپنی جرح ظاہر کر دیتے ہیں ۔[36]
- امام ترمذی: ان کی جرح و تعدیل "صریح” ہے۔ وہ ہر مقام پر راویوں کے نام لے کر ان کے اوصاف بیان کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ فلاں راوی کے بارے میں امام بخاری یا ابن معین کی کیا رائے ہے ۔[37]
دونوں ائمہ کے مناہج کے علمی و عملی اثرات
ان مناہج نے علمِ حدیث کی بعد کی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے اور کئی نئے علوم کی بنیاد رکھی ۔
1 مستخرج کتب کا ظہور
امام مسلم کے جرح و تعدیل کے سخت معیار اور ان کی اسناد کی مضبوطی نے بعد کے محدثین کو اس بات پر اکسایا کہ وہ ان احادیث کو اپنی اسناد سے بیان کریں ۔ اس کے نتیجے میں "مستخرجات” کا فن پیدا ہوا، جس میں محدثین امام مسلم کی روایت کردہ احادیث کو عالی سندوں یا متبادل اسناد سے پیش کرتے تھے تاکہ ان کی صحت مزید ثابت ہو سکے ۔[38]
2 فقہ اسلامی کی تدوین اور وسعت
امام ترمذی کے "حسن” کے درجے نے فقہائے کرام کے لیے استدلال کا دائرہ وسیع کر دیا ۔
مذاہبِ اربعہ کے دلائل: امام ترمذی نے جرح و تعدیل کے ذریعے ان روایات کو بھی فنی سہارا فراہم کیا جو مختلف فقہی مذاہب کی بنیاد تھیں ۔ [39]
تعاملِ امت کی اہمیت: انہوں نے یہ واضح کیا کہ جرح و تعدیل کا مقصد صرف راوی کو گرانا نہیں بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ اس کی روایت دین کے مجموعی مزاج اور ائمہ کے عمل سے کتنی ہم آہنگ ہے ۔[40]
3 اصول حدیث اور علل کا ارتقا
امام مسلم کا مقدمہ اور امام ترمذی کی کتاب العلل مل کر "اصولِ حدیث” کے فن کی بنیاد بنے ۔ بعد کے تمام محدثین، جیسے امام نووی، حافظ ابن الصلاح اور حافظ ابن حجر، نے ان دونوں ائمہ کے وضع کردہ قواعد کو ہی اپنی تحقیقات کا محور بنایا ۔ خاص طور پر "حسن صحیح” جیسی پیچیدہ اصطلاح پر ہونے والی ابحاث نے محدثین کو سند اور متن کے پوشیدہ پہلوؤں کو سمجھنے میں مدد دی ۔[41]
نتیجہ
اس تقابلی مطالعے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ امام مسلمؒ اور امام ترمذیؒ دونوں نے علمِ حدیث کی تشکیل و تدوین میں بنیادی اور فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے، تاہم ان کے مناہجِ جرح و تعدیل اپنے اسلوب اور عملی دائرۂ کار کے اعتبار سے مختلف ہونے کے باوجود مقصد اور علمی غایت کے لحاظ سے مکمل ہم آہنگ ہیں۔ امام مسلمؒ نے حدیث کی صحت کے تحفظ کے لیے نہایت سخت، منضبط اور اصولی معیار قائم کیا، جس میں ضبط، اتقان اور اتصالِ سند کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، جبکہ ان کا منہج زیادہ تر انتخاب و حذف اور خاموش نقد پر مبنی ہے۔
اس کے برعکس امام ترمذیؒ نے جرح و تعدیل کو ایک توضیحی، تجزیاتی اور فقہی جہت عطا کی، جس میں نہ صرف رواۃ کی حیثیت بیان کی گئی بلکہ احادیث کے عملی، استدلالی اور فقہی پہلو بھی واضح کیے گئے۔ ان کے ہاں "حسن حدیث” کا تصور ایک اہم علمی اضافہ ہے جس نے ضعیف اور صحیح کے درمیان ایک منضبط علمی درجہ متعارف کرایا اور فقہی استدلال کے دائرے کو وسعت دی۔
نتیجتاً یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام مسلمؒ کا منہج "تحفظِ سند و متن” کی اعلیٰ ترین صورت ہے، جبکہ امام ترمذیؒ کا منہج "فہمِ حدیث اور فقہی تطبیق” کے میدان کو وسعت دیتا ہے۔ دونوں مناہج ایک دوسرے کے متکامل ہیں؛ ایک حدیث کی صحت کی بنیاد مضبوط کرتا ہے اور دوسرا اس صحت کو عملی اور فقہی زندگی میں قابلِ اطلاق بناتا ہے۔ اسی باہمی توازن نے علمِ حدیث کو ایک مربوط، جامع اور ہمہ گیر علمی نظام کی صورت عطا کی۔
سفارشات
عملی تطبیق پر توجہ: محققین کو چاہیے کہ وہ امام مسلم کے نظریاتی اصولوں (جو مقدمہ میں بیان ہوئے) کا ان کی کتاب "التمییز” میں موجود عملی نمونوں سے تقابلی مطالعہ کریں، تاکہ ان کے اطلاقی منہج کی مزید باریکیاں واضح ہو سکیں۔
شارحین کے کام سے استفادہ: امام ترمذی کی العلل الصغیر کی تفہیم کے لیے امام ابن رجب حنبلی کی "شرح علل الترمذی” کو نصاب کا حصہ بنایا جائے، کیونکہ انہوں نے متقدمین کے منہج کی ایسی فنی تشریح کی ہے جو متآخرین کے ہاں نایاب ہے۔
اصطلاحات کا لغوی و فنی مطالعہ: محدثین کی اصطلاحات (جیسے منکر، شاذ، غریب) کو محض متآخرین کی تعریفات کی روشنی میں پرکھنے کے بجائے ائمہ متقدمین کے اپنے استعمال اور سیاق و سباق میں پڑھا جائے، تاکہ تغلیطِ ائمہ کے فکری مغالطے سے بچا جا سکے۔
تعلیمی نصاب میں شمولیت: جامعات اور دینی مدارس کے اعلیٰ درجات میں "اصولِ حدیث” کی جدید کتب کے ساتھ ساتھ ان بنیادی اوریجنل مآخذ (مقدمہ صحیح مسلم اور العلل الصغیر) کو براہِ راست پڑھایا جائے تاکہ طلبہ میں ناقدانہ بصیرت پیدا ہو سکے۔
جدید تحقیقی چیلنجز: موجودہ دور میں معلومات کی بھرمار اور سوشل میڈیا پر پھیلنے والی غیر مستند روایات کی بیخ کنی کے لیے محدثین کے جرح و تعدیل کے اصولوں اور تقابلی جانچ) کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے استعمال میں لایا جائے۔
تقابلی مناہج کے دائرہ کار میں وسعت: امام مسلم اور ترمذی کے علاوہ دیگر کتبِ ستہ کے مصنفین (نسائی، ابو داؤد، ابن ماجہ) کے انفرادی مناہجِ جرح و تعدیل پر بھی اسی طرح کی تقابلی ابحاث کی جائیں تاکہ "محدثین کے عمومی منہج” کے اندر موجود تنوع کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔
مصادر و مراجع
- مسلم بن حجاج القشیری، المسند الصحیح (صحیح مسلم)، تحقیق: محمد فؤاد عبدالباقی، دار إحياء التراث العربي، بیروت۔
- مسلم بن حجاج القشیری، المقدمة في صحيح مسلم، ضمن صحیح مسلم، دار إحياء التراث العربي، بیروت۔
- الترمذي، محمد بن عیسیٰ، الجامع (سنن الترمذي)، تحقیق: بشار عواد معروف، دار الغرب الإسلامي، بیروت۔
- الترمذي، محمد بن عیسیٰ، العلل الصغير، تحقیق: صبحي السامرائي / یا دیگر محققین (مطبوع نسخہ کے مطابق حوالہ دیا جائے)۔
- ابن رجب الحنبلي، عبد الرحمن بن أحمد، شرح علل الترمذي، تحقیق: د. همام عبد الرحيم سعيد، مكتبة المنار، الأردن، 1407هـ / 1987م۔
- امام نووي، يحيى بن شرف، شرح صحيح مسلم، دار إحياء التراث العربي، بیروت۔
- امام نووي، يحيى بن شرف، الأذكار، دار الفكر، بیروت۔
- ابن حجر العسقلاني، أحمد بن علي، فتح الباري شرح صحيح البخاري، دار المعرفة، بیروت۔
- قاضي عياض، عياض بن موسى، الإلماع إلى معرفة أصول الرواية وتقييد السماع، دار التراث، قاهرة۔
- ابن الصلاح، عثمان بن عبد الرحمن، مقدمة ابن الصلاح في علوم الحديث، دار الفكر، بیروت۔
- ابن رجب الحنبلي، عبد الرحمن بن أحمد، شرح علل الترمذي (متعدد ابواب و صفحات)، مكتبة المنار، الأردن۔
- ابن أبي حاتم الرازي، عبد الرحمن بن محمد، الجرح والتعديل، دار إحياء التراث العربي، بیروت۔
- امام ذهبي، شمس الدين، ميزان الاعتدال في نقد الرجال، دار المعرفة، بیروت۔
[1] M phil Scholar, Department of Islamiyat, University of Peshawar, Khyber Pakhtunkhwa Pakistan۔
Email: zeeshanokasha3@gmail.com
[2] Chairman, Department of Islamiyat, University of Peshawar, KP, Pakistan
e: muhammadnawaz@uop.edu.pk
[3] مسلم بن الحجاج القشیری النیسابوری، صحيح مسلم، تحقیق محمد فؤاد عبد الباقی (القاهرة: مطبعة عيسى البابي الحلبي وشركاه، 1374ھ/1955م) ج1،ص 28، باب،أن الإسناد من الدين.
[4] مسلم، صحيح مسلم،ج1،ص 28، باب،أن الإسناد من الدين.
[5] مسلم، صحيح مسلم،ج1،ص 29، باب،أن الإسناد من الدين.
[6] أبو زكريا محيي الدين يحيى بن شرف النووي، المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج،(بيروت: دار إحياء التراث العربي، ط 2، 1392هـ)، ج 1، ص 124۔
[7] مسلم، صحيح مسلم,ج2،ص124، «باب تحريم الغيبة» ۔
[8] مسلم، صحيح مسلم، ج 1، ص 18،«باب بيان أن الإسناد من الدين»۔
[9] مسلم، صحيح مسلم، ج 1، ص 17، «باب بيان أن الإسناد من الدين»۔
[10] مولانا فضل محمد یوسف زی، تحفة المنعم: اردو شرح صحیح مسلم،(کراچی: مکتبه اویس القرنی، شوال 1433ھ / ستمبر 2012ء)، ج 1، ص 166۔
[11] مجد الدين أبو طاهر محمد بن يعقوب الفيروزآبادي، القاموس المحيط، تحقيق مكتب تحقيق التراث، بإشراف محمد نعيم العرقسوسي،(بيروت: مؤسسة الرسالة للطباعة والنشر والتوزيع، ط 8، 1426هـ/2005م، ص 112.
[12] مسلم، صحيح مسلم،باب تحريم الغيبة ج4،ص 2001
[13] أبو زكريا محيي الدين يحيى بن شرف النووي، الأذكار، تحقيق عبد القادر الأرنؤوط،(بيروت: دار الفكر للطباعة والنشر والتوزيع، طبعة جديدة منقحة، 1414هـ/1994م)، ص 336، باب،تحريم الغيبة والنميمة۔
[14] القرآن الكريم، سورۃ الحجرات، آیت 12۔
[15] مسلم، صحيح مسلم،ج4،ص 1983 ،بابتحريم الغيبة۔
[16] محمد بن علي ، قرة عين المحتاج في شرح مقدمة صحيح مسلم بن الحجاج، ج 2، ص 211، المسألة الخامسة۔
[17] محمد عبد الحي بن محمد عبد الحليم الأنصاري اللكنوي، أبو الحسنات، الرفع والتكميل في الجرح والتعديل، تحقيق عبد الفتاح أبو غدة،(حلب: مكتب المطبوعات الإسلامية، ط 3، 1407هـ)، ص 11، باب: فيما ليس بغيبة۔
[18] يحيى بن شرف النووي، المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج، طبعہ دوم (بيروت: دار إحياء التراث العربي، 1392ھ)، ج 1، ص 124،باب، فرع في جملة المسائل والقواعد التي تتعلق بهذا الباب۔
[19]النووي، شرح صحيح مسلم، ج 1، ص 125، باب، فرع في جملة المسائل والقواعد التي تتعلق بهذا الباب۔
[20] النووي، شرح صحيح مسلم، ج 1، ص 126، باب، فرع في جملة المسائل والقواعد التي تتعلق بهذا الباب۔
[21] النووي، شرح صحيح مسلم، ج 1، ص 124۔
[22] النووي، شرح صحيح مسلم، ج 1، ص 126۔
[23] ايضا، ج 1، ص 126۔
[24] محمد بن عيسى الترمذي، العلل الصغير، تحقيق و تخريج بشار عواد معروف، طبعہ اولیٰ (بيروت: دار الغرب الإسلامي، 1996م)، ج 6، ص230۔
[25] ترمذی، العلل الواقع بآخر جامع الترمذي، ج 6، ص231۔
[26] زين الدين عبد الرحمن بن أحمد بن رجب الحنبلي، شرح علل الترمذي، تحقيق الدكتور همام عبد الرحيم سعيد، طبعہ اولیٰ (الزرقاء، الأردن: مكتبة المنار، 1407ھ/1987م)، ج1،ص 349۔
[27] أحمد بن محمد بن حنبل ، العلل ومعرفة الرجال، رواية ابنه عبد الله، تحقيق وصيّ الله بن محمد عباس،(الرياض: دار الخاني، الطبعة الثانية، 1422ه/2001م)، ج 1، ص 22، مقدمة التحقيق۔
[28] ترمذی، العلل الواقع بآخر جامع الترمذى، ج 6، ص239۔
[29] ترمذی، العلل الواقع بآخر جامع الترمذى، ، ج 6، ص244، «باب، التضعيف من جهة الحفظ»۔
[30] ترمذی، العلل الواقع بآخر جامع الترمذى، ، ج 6، ص244، «باب، التضعيف من جهة الحفظ»۔
[31] ترمذی، العلل الواقع بآخر جامع الترمذى، ج 6، ص244۔
[32] ترمذی، العلل الواقع بآخر جامع الترمذى، ج 6، ص245،«باب، التضعيف من جهة الحفظ»۔
[33] أحمد بن علي بن حجر العسقلاني، فتح الباري بشرح البخاري،ترقيم، محمد فؤاد عبد الباقي، تخريج، محبّ الدين الخطيب، (مصر: المكتبة السلفية، الطبعة السلفية الأولى، 1380–1390هـ)، ج 5، ص 377
[34] ڈاکٹر رفاقت رشید، “Imam Muslim’s Methods of Classification and Annotation”، Living Islam for Today، 31 جنوری 2018ء، ملاحظہ: 28 جنوری 2026ء
[35] Abu Eisa At-Tirmidhi and The Science Of Jarh and Taʿdil,” PDF, ResearchGate,
https://www.researchgate.net/publication/384963686_Abu_Eisa_At-Tirmidhi_and_The_Science_Of_Jarh_and_Ta’dil
(رسائی کی تاریخ: 28 جنوری 2026ء)۔
[36]مقدمہ صحيح مسلم فوائدو مسائل از پروفیسر یحی محمودجلالپوری.26189/) mohaddis.comforum، https://forum.mohaddis.com/threads/
[37] Authentic Islamic Info | Mohaddis Forum, https://forum.mohaddis.com/threads/سند كتاب اورمنہج محدثين.34848/’’.
[38] “Reasons why Imam Muslim did not narrate from his teacher Imam drrafaqat.wordpress.com,
https://drrafaqat.wordpress.com/2018/01/31/reasons-why-imam-muslim-did-not-narrate-from-his-teacher-imam-bukhari/
(رسائی کی تاریخ: 28 جنوری 2026ء)۔
[39] Dr. Muhammad Fakhar ud din, “The Impact of Different Schools of Thought on the Principles of Hadith: Criteria for Acceptance and Rejection of Narrations,” Advance Social Science Archive Journal 3, no. 02 (2025): 1507–1515, accessed January 28, 2026, https://assajournal.com/index.php/36/article/view/442
[40] Sayyid ‘Abd al-Majid (translated by Nabhan Khan, Maryam al-Jibaly, & Fatimah Abdul-Zahir), “The Methodology of Imam al-Tirmidhi in his Book ‘Al-Jami’ (or ‘Al-Sunan’),” IOK CHESS Journal, October 14, 2024, https://iokchess.com/journal/seminary/the-methodology-of-imam-al-tirmidhi-in-his-book-al-jami-or-al-sunan/
[41] “Meaning of ‘Hasan Sahih’ Hadith,” MuftiSays, https://www.muftisays.com/blog/Seifeddine-M/3769_30-10-2014/meaning-of-hasan-sahih-hadith.html