تاریخ میں ایسے ادوار کم آتے ہیں جب انسانی زندگی کے انداز، ذرائع اور ترجیحات یکسر بدل جائیں۔ ہمارا دور انہی غیر معمولی ادوار میں سے ایک ہے۔ چند دہائیاں پہلے تک علم کتابوں، لائبریریوں اور درس گاہوں میں محدود تھا، پھر انٹرنیٹ آیا، اس کے بعد سوشل میڈیا نے دنیا کو بدل دیا، اور اب مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) ایک نئے عہد کے دروازے کھول رہی ہے۔ آج معلومات کی ترسیل کی رفتار تاریخ کے کسی بھی دور سے زیادہ تیز ہے۔ ایک خیال چند لمحوں میں براعظموں کو عبور کر سکتا ہے اور ایک پیغام لاکھوں ذہنوں تک پہنچ سکتا ہے۔ ایسے ماحول میں یہ سوال پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے کہ علمائے کرام اس نئی دنیا میں اپنا کردار کیسے ادا کریں گے؟
یہ سوال دراصل ٹیکنالوجی کا نہیں بلکہ قیادت کا سوال ہے۔ ہر دور میں معاشرے کی فکری سمت متعین کرنے والے طبقات وہی رہے ہیں جو زمانے کے مؤثر ذرائع کو سمجھنے اور استعمال کرنے میں کامیاب رہے۔ جب کتابت عام ہوئی تو علماء نے قلم اٹھایا۔ جب مدارس وجود میں آئے تو انہوں نے انہیں علم کی اشاعت کا ذریعہ بنایا۔ جب طباعت نے دنیا بدلی تو اسلامی علوم کے بے شمار ذخائر شائع ہوئے۔ آج اگر دنیا ڈیجیٹل ذرائع سے متاثر ہو رہی ہے تو یہ بھی اسی تسلسل کی ایک نئی شکل ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ڈیجیٹل دنیا اچھی ہے یا بری، بلکہ سوال یہ ہے کہ اس میدان میں حق کی نمائندگی کون کرے گا؟
رسول اللہ ﷺ کی سیرت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ دعوت کا پیغام ہمیشہ زمانے کے دستیاب ذرائع کے ذریعے پہنچایا جاتا ہے۔ آپ ﷺ نے عرب کے قبائل سے ملاقاتیں کیں، بازاروں میں دعوت دی، مختلف علاقوں کے وفود سے گفتگو کی اور پھر قیصر و کسریٰ سمیت دنیا کے حکمرانوں کو خطوط ارسال کیے۔ یہ خطوط دراصل اپنے زمانے کے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کا استعمال تھے۔ مقصد واضح تھا: پیغام کو محدود دائروں سے نکال کر وسیع تر انسانیت تک پہنچانا۔ اگر آج کا زمانہ ڈیجیٹل ذرائع کو سب سے مؤثر ذریعہ مانتا ہے تو سیرت کا تقاضا یہی ہے کہ دعوت اور تعلیم کے میدان میں ان ذرائع کو حکمت کے ساتھ استعمال کیا جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ آج کی نسل کا ایک بڑا حصہ اپنی فکری تشکیل مسجد یا مدرسے سے پہلے موبائل اسکرین پر حاصل کرتا ہے۔ اس کے سوالات، شبہات، رجحانات اور ترجیحات کا ایک بڑا حصہ ڈیجیٹل دنیا میں تشکیل پاتا ہے۔ اگر علماء کرام اس میدان میں مؤثر موجودگی نہیں رکھتے تو نوجوانوں کی فکری رہنمائی کا خلا دوسرے لوگ پُر کر دیں گے۔ تاریخ میں خلا کبھی خالی نہیں رہتے؛ اگر اہلِ علم اپنی جگہ پر موجود نہ ہوں تو کوئی اور اس جگہ کو بھر دیتا ہے، چاہے اس کے پاس علم ہو یا نہ ہو۔
یہاں ایک اہم غلط فہمی کو دور کرنا ضروری ہے۔ بعض لوگ ڈیجیٹل دنیا میں موجودگی کو صرف سوشل میڈیا پر چند پوسٹیں لگانے یا ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کے مترادف سمجھتے ہیں۔ حالانکہ اصل مسئلہ موجودگی کا نہیں بلکہ اثر پذیری کا ہے۔ دنیا میں لاکھوں لوگ آن لائن موجود ہیں، مگر مؤثر وہی ہیں جو اعتماد، علم اور حکمت کے ساتھ لوگوں کے ذہنوں اور دلوں تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ ایک عالمِ دین کی اصل قوت اس کے فالوورز کی تعداد نہیں بلکہ اس کے پیغام کی صداقت، گہرائی اور افادیت ہوتی ہے۔
اسی لیے موجودہ دور کا عالم صرف خطیب یا مدرس نہیں رہ سکتا۔ اسے لکھنا بھی آنا چاہیے، بولنا بھی، تحقیق بھی کرنی چاہیے اور ڈیجیٹل ذرائع کے استعمال کا شعور بھی ہونا چاہیے۔ اگر ایک عالم اپنی تحقیق کو مضمون، ویڈیو، پوڈکاسٹ یا آن لائن کورس کی شکل میں پیش کرنا جانتا ہے تو اس کا اثر سینکڑوں افراد تک نہیں بلکہ ہزاروں اور لاکھوں افراد تک پہنچ سکتا ہے۔ یہی وہ موقع ہے جہاں روایت اور جدید ذرائع ایک دوسرے کے معاون بن جاتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت نے اس میدان میں مزید امکانات پیدا کر دیے ہیں۔ آج تحقیق، ترجمہ، مواد کی ترتیب، علمی ذخائر تک رسائی اور تعلیمی منصوبہ بندی کے کئی کام پہلے کی نسبت کہیں زیادہ آسان ہو چکے ہیں۔ لیکن یہاں بھی اصل اہمیت ٹیکنالوجی کی نہیں بلکہ اس انسان کی ہے جو اسے استعمال کر رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت معلومات فراہم کر سکتی ہے، مگر بصیرت نہیں۔ وہ مواد ترتیب دے سکتی ہے، مگر حکمت پیدا نہیں کر سکتی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں عالمِ دین کی ضرورت پہلے سے بڑھ جاتی ہے، کیونکہ معاشرے کو صرف معلومات نہیں بلکہ صحیح فہم، اخلاقی رہنمائی اور فکری بصیرت درکار ہے۔
ڈیجیٹل دنیا کے فوائد کے ساتھ اس کے خطرات بھی موجود ہیں۔ جلد بازی، سطحیت، سنسنی خیزی اور غیر ذمہ دارانہ گفتگو اس ماحول کے نمایاں مسائل ہیں۔ بعض اوقات چند لمحوں کی شہرت کی خواہش علمی وقار کو نقصان پہنچا دیتی ہے۔ علماء کرام کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس میدان میں داخل ہوتے وقت اپنی علمی سنجیدگی اور دینی وقار کو برقرار رکھیں۔ ان کی گفتگو میں تحقیق ہو، ان کے تبصروں میں توازن ہو اور ان کے طرزِ عمل میں وہ اخلاق جھلکیں جو سیرتِ نبوی ﷺ کی پہچان ہیں۔
اس ضمن میں یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ ڈیجیٹل دنیا نے علماء کے لیے خدمتِ دین کے ایسے مواقع پیدا کیے ہیں جو شاید پہلے کبھی میسر نہیں تھے۔ ایک عالم اپنے مطالعے، تجربات اور تحقیقات کو پوری دنیا تک پہنچا سکتا ہے۔ وہ مختلف ممالک کے مسلمانوں سے رابطہ قائم کر سکتا ہے، علمی حلقے تشکیل دے سکتا ہے، نوجوانوں کے سوالات کے جوابات دے سکتا ہے اور اسلام کے بارے میں پھیلائے جانے والے شبہات کا مدلل جواب پیش کر سکتا ہے۔ گویا ایک چھوٹا سا موبائل فون بعض اوقات ایک بڑے منبر سے زیادہ وسیع سامعین تک رسائی فراہم کر دیتا ہے۔
مستقبل کی دینی قیادت کے بارے میں سوچا جائے تو ایک بات واضح دکھائی دیتی ہے: آنے والے زمانے میں وہی علماء زیادہ مؤثر ہوں گے جو علمی گہرائی کے ساتھ ڈیجیٹل مہارت بھی رکھتے ہوں گے۔ جو کتاب سے بھی وابستہ ہوں اور اسکرین سے بھی واقف ہوں۔ جو روایت کے محافظ بھی ہوں اور جدید ذرائع کے استعمال سے بھی آگاہ ہوں۔ جو صرف معلومات کے نگہبان نہ ہوں بلکہ معانی کے ترجمان بھی ہوں۔
آج کا دور علم اور ٹیکنالوجی کے امتزاج کا دور ہے۔ اگر علمائے کرام اس حقیقت کو سمجھ کر اس میدان میں قدم رکھتے ہیں تو ڈیجیٹل دنیا ان کے لیے خطرہ نہیں بلکہ ایک عظیم موقع بن سکتی ہے۔ ایسا موقع جس کے ذریعے وہ نہ صرف اپنے معاشرے بلکہ پوری دنیا میں خیر، علم اور ہدایت کے چراغ روشن کر سکتے ہیں۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اس نئے میدان کو دوسروں کے لیے چھوڑ دیں گے، یا اسے دعوت، تعلیم اور امت کی فکری رہنمائی کا ایک نیا محاذ بنا دیں گے ؟