تمہید:
برصغیر کی مذہبی تاریخ میں چند مذاہب ایسے ہیں جنہوں نے اپنے مخصوص فکری و اخلاقی نظام کے ذریعے گہرے اثرات مرتب کیے۔ انہی میں ایک اہم مذہب جین مت ہے، جسے دنیا کے قدیم ترین مذاہب میں شمار کیا جاتا ہے۔ جین مت نے ایسے دور میں جنم لیا جب ہندوستان میں برہمنی نظام اپنی انتہا کو پہنچ چکا تھا اور مذہبی رسوم، قربانیوں اور طبقاتی امتیاز نے عام
انسان کی زندگی کو پیچیدہ بنا دیا تھا۔ ایسے ماحول میں جین مت نے عدم تشدد (اہنسا)، مساوات، سادگی، ترک دنیا اور اخلاقی پاکیزگی کا پیغام دے کر ایک نئی فکری و عملی تحریک کو جنم دیا۔
انسان کی زندگی کو پیچیدہ بنا دیا تھا۔ ایسے ماحول میں جین مت نے عدم تشدد (اہنسا)، مساوات، سادگی، ترک دنیا اور اخلاقی پاکیزگی کا پیغام دے کر ایک نئی فکری و عملی تحریک کو جنم دیا۔
جین روایت کے مطابق اس مذہب کی بنیاد چوبیس تیرتھنکروں (راہنماؤں) نے رکھی، جن میں آخری اور سب سے نمایاں شخصیت مہاویر جین سوامی کی ہے۔ اگرچہ تاریخی اعتبار سے جین مت مہاویر سے پہلے بھی موجود تھا، لیکن اس کی تنظیم، اشاعت اور اصلاح میں ان کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ جین مت کی تعلیمات میں اخلاقیات کو مرکزی مقام حاصل ہے، اور نجات (موکش) کا حصول سخت ریاضت، ضبط نفس اور اعلیٰ اخلاقی اصولوں کی پابندی سے مشروط قرار دیا گیا ہے۔زیر نظر ارٹیکل جین مت کے تاریخی پس منظر، بانیٔ مذہب، بنیادی عقائد و اخلاقیات، فرقوں، اشاعت کے اسباب اور زوال کے عوامل کا تحقیقی و تجزیاتی جائزہ پیش کرتا ہے، تاکہ اس مذہب کی فکری ساخت اور اس کے سماجی اثرات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔
جین مت کا تعارف
جین جینا سے ماخوذ ہے جس کا مطلب تسخیر کرناہے جینا کا مطلب ایسا شخص جس نےتمام جذبات پر غلبہ پایا اور نجات حاصل کرلی جینوں کو تیز تھنکر (رہنما) بھی کہا جاتا ہے تیز تھ کا مطلب ہے دریا میں کھڑے ہونے کی جگہ جینوں کا یہ عقیدہ تھا کہ ان کا مذہب بہت پرانا ہے اس میں چوبیس تیر تھنکر یعنی راہنما ہو گزرے ہیں جو سب چھڑی گھرانوں سے صر رکھتے ہیں جین روایت کے مطابق رامشو پیلا مہاور اور دھمان جو بیسواں تیر تھنکر تھا ۔
ان مصلحین نے مختلف اوقات میں دین حق کی تبلیغ کی تاریخ میں ان رہنماؤں کی کوئی شہادت نہیں ملتی جین روایات کے مطابق ان کی عمریں ناقابل حد تک طویل تھیں اور وہ انتہائی طویل تھے ان میں سے اول ترین مصلح آدمی ناتھ کی عمر کئی کروڑ سال تھی اور قد دو ملی اونچا تھا سب سے اخری مصلح پر سونا تھ تھا مہاویر کی پیدائش پر سونا تھ سے اڑائی سو سال بعد ہوئی پر سوناتھ کا زمانہ آٹھویں صدی قبل مسیح ہے پر سونا تھ کے باپ کو بنارس کا راجہ بتایا جاتا ہے اور ایک عرصہ تک عیش و عشرت کا اور خوشحالی کی زندگی بسر کرنے کے بعد اس نے راہبانہ زندگی اختیار کی چوراسی دن مراقبہ کے بعد مکمل علم حاصل کر لیا حصول علم کے بعد ستر سال زندگی کو مکمل ترین بنانے اور طہارت ، پاکیزگی اور تقدس حاصل کرنے میں لگے ان منازل سے گزرنے کے بعد سمیٹا پہاڑ ہر اور پیروؤں کے درمیان نروان حاصل ہوا ۔ اس نے اپنے ماننے والوں کو عدم تشدد ، صداقت ، چوری سے اجتناب اور رہبانیت کی تعلیم دی ۔
سابقہ تحقیقی کام :
جین مت پر متعدد مسلم اور غیر مسلم محققین نے مختلف زاویوں سے تحقیق کی ہے۔ بعض اہل علم نے جین مت کی تاریخ، بعض نے اس کے عقائد، جبکہ کچھ نے اس کی اخلاقی تعلیمات پر بحث کی ہے۔ تاہم اخلاقی اور تاریخی جہات کو یکجا کرکے جامع انداز میں تحقیق نسبتاً کم ملتی ہے۔
سید سلیمان ندوی نے ہندوستانی مذاہب کے تعارف میں جین مت کا مختصر ذکر کیا اور اس کی قدیم مذہبی حیثیت کو بیان کیا۔
رنجن مہاپتر،امولیہ،فلسفہ مذہب،فکشن ہاؤس پبلشرز:لاہور،2007،ص:203
سید سلیمان ندوی، سیرت النبی (لاہور: مکتبہ رحمانیہ، 1991)، 4: 125۔
رام کرشن گوپال بھنڈارکر نے ہندوستانی مذاہب کی تاریخ پر گفتگو کرتے ہوئے جین مت کی تاریخی ارتقا اور اس کے فرقوں پر روشنی ڈالی۔
ولیم جیمز اور دیگر مغربی محققین نے جین مت کی اخلاقیات خصوصاً عدم تشدد کے نظریے کو فلسفیانہ انداز میں زیربحث لایا۔
برصغیر کی جامعات میں بھی جین مت کے تعارف، بدھ مت سے تقابل، اور ہندوستانی تہذیب پر اس کے اثرات کے حوالے سے کئی مقالات لکھے گئے ہیں، لیکن اخلاقی اور تاریخی جہات کو یکجا کرکے تنقیدی مطالعہ کم دکھائی دیتا ہے۔
جین مت کے ظہور کا تاریخی پس منظر:
جین مت کے ظہور کے وقت ہندوستان میں برہمنی مت کا دور دورہ تھا زندگی کے تمام ہی شعبوں پر بر ہمنوں کی اجرہ داری تھی اور خاص کر مذہب میں تو انھوں نے وہ افرا تفری مچارکھی تھی کہ خدا کی پناہ مختلف عبادتوں نئی قسم کی پرستشوں طرح طرح کے چڑھا ووں منتوں اور اعمال کا ایک ایسا مسلسل تاربندھا ہوا تھا کہ اس سے چھٹکارا پانا ایسا ہی تھا جیسے مکڑی کے جالے سے غریب مکھی کا اٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے کسی وقت بے جان رسوم اور اکتا دینے والے اعمال سے فرصت نہ تھی اور طرہ یہ کہ دن بہ دن یہ زنجیریں اور کڑی ہوتی جاتی تھیں۔
جسم و روح کی اصلاح و تربیت کے بجائے صرف ظاہری رسوم اور عمل کی بالادستی تھی قربانی اور یگیہ کا کافی رواج تھا یگیوں میں سینکڑوں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں جانور ذبح کیے جاتے تھے بودھوں کے ایک مذہبی نوشتے سل سینست میں ہے :بھگوان بدھ شراوستی میں رہتے تھے اس وقت پسیندی کوسل راجہ کا مہایگیہ شروع ہوا اس میں پانچ سو بیل ، پانچ سو بچھڑے ، پانچ سو بچھیاں ، پانچ سو بکرے اور پانچ سو مینڈے کھمبوں سے بندھے ہوئے تھے ۔
ویدک ادب کے قدیم سنسکرت زبان میں ہونے اور اسکی تعلیم و تشریح پر صرف برہمنوں کی اجارہ داری کی وجہ سے ہندوستانی سماج میں دوسرا اور تیسر ادرجہ رکھنے والے چھتری اور ویش ذات کے لوگوں کے لیے صرف برہمنوں کے واسطہ سے ہی مذہب سے کوئی استفادہ ممکن تھا شودروں اچھوتوں اور عورت ذات کے لیے عام مذہبی زندگی کے دروازے بالکل بندتھے مذہبی تعلیم اور مقدس کتابوں پر برہمنوں کی مکمل اجاروہ داری طبقاتی نظام کی کشمکش شودروں اور عورتوں کے لیے ویدک ادب سے استفادو کی ممانعت کی وجہ سے لوگ اس نظام سے چٹکارے کے شدید خواہش مند تھے یہ حالات تھے جب مہاویرجین سوامی نے اہنسا کا پرچار کیا روح اور جسم کی اصلاح کی جانب توجہ دلائی ،مایوس ہونے والو ں کو آس دی امیرو غریب برہمن اور شودر سب کو ایک نظر سے دیکھا مساوات اور اخوت کی صدائے عام دی اور ہندوستان کی ایک قابل ذکر آبادی کو جین مت کا پیرو بنالیا ۔
بانی مذہب کون؟
عموماً مہاویر جین سوامی کو ہی جین مت کا بانی سمجھا جاتا ہے لیکن تاریخی اعتبار سے یہ نظر یہ درست نہیں ہے کیوں کہ اس امرکے قوی شواہد موجود ہیں کہ جین مت مہاوریر کی پیدائش سے قبل موجود تھا حقیقت یہ ہے کہ آپ صرف ایک راہب تھے جنھوں نے اپنے خاندانی مذہب جین مت کو اختیار کر لیا تھا جین مت میں درآئی خرابیوں کی اصلاح اور اس کی اشاعت و استحکام کے لیے کی گئی آپ کی عظیم خدمات نیز موجودہ یگ کے آخری تیر تھینکر ہونے کی بنا پر جین روایت میں مہاویر کو وہ مقام حاصل ہے جس کی وجہ سے عام طور پر آپ کو ہی مذہب کا بانی سمجھ لیا جاتا ہے۔
مہا ویر جین کی پیدائش 13 چیت کو 599 ق م میں مشرقی ہندوستان کے مشہور صوبہ بہار کے شہرو یشالی کے ایک نواحی گاؤں کنڈپور (بعض روایتوں میں بساڑہ کا ذکر ملتا ہے ) میں ہوئی تھی آپ کا اصلی نام وردھما تھا آپ کے والد کا نام سدھا رتھ تھا جو ایک کشتری فرقہ کے امیر تھے ،والدہ کا نام تر شالہ تھا جو ودیہہ کے راجہ کی بہن تھیں ،مہاویر دو بھائی اور ایک بہن تھے بھائی کا نام نندی وردھن اور بہن کا نام سدرشن تھا۔آپ کی ابتدائی تعلیم و تربیت راج محل میں ہوئی اعلی تعلیم فنون لطیفہ نیز عسکری تربیت کے لیے آپ کو ایک مدرسہ میں داخل کر دیا گیا۔ آپ بڑے منکر المز اج اور عالی حوصلہ تھے بچپن سے ہی مذہبی غورفکر کی طرف مائل تھے لیکن والدین کی مرضی نہ پاکر آپ گرہست کی زندگی گزارتے رہے عنفوان شباب میں آپ کی شادی ایک با حیثیت گھرانے کی صاحبزادی یشودھا سے ہوئی تھی جن سے ان کے ہاں ایک لڑکی انوجا نام کی ہوئی جس کی شادی شہزادہ جمالی سے ہوئی تھی دگا مبر فرقہ کے نزدیک آپ نے مجرو زندگی گزاری ہے۔
تیس سال کی عمر میں جب آپ کے والدین کا انتقال ہوگیا تو آپ نے اپنی تمام دولت غریبوں میں تقسیم کر دی اور گھر بار چھوڑ کر انتہائی ریاضت میں محو ہو کر سنیاسی بن گئے سنیاس کے دوران اپنے خاندانی مذہب ، جین مت، کے مطابق انھوں نے مختلف قسم کی ریاضتوں کا سلسلہ شروع کیا، جس میں ترک دنیا کی انتہائی صورت اختیار کرنے کے لیے انھوں نے اپنے آپ کو ستر پوشی سے بھی بے نیاز کرلیا بارہ سال کی سخت ترین ریاضتوں کے بعد جامبھک نامی گاؤں کےپاس رج پالیکا ن کے ساحل پہ ان کو معرفت کا اعلیٰ ترین مقام سے جین ارہت (قابل پرستش) مہاویر عظیم بہادر جیسے القاب سے آپ کو پکارا جانے لگا معرفت کے حصول کے بعد چار طرف گھوم پھر کر آپ اپنے مذہب کی اصلاح و اشاعت میں لگ گئے اس دوران علاحدہ متعد معتقدین کے آپ نے گیارہ خاص شاگردوں کی ایک جماعت بنائی جس نے آپ کے بعد جین مت کی اشاعت اور ترقی کا کام اپنے ہاتھوں میں لیا ۔پاوا پوری (پٹنہ کے نزدیک ایک مقام ) میں آپ نے 73 سال کی عمر میں 527 قم میں وفات پائی۔
مذہبی ادب:
جینیوں کے پاس دو قسم کے اصلی صحائف ہیں انہیں یورہ انگ کہا جاتا ہے یوروں کی تعداد 14 ہے اور یہ ناپید ہوگئے ہیں ۔
جینیوں کی 4 مشہور کتابیں یہ ہیں
الطاف جاوید،غیرسامی مذاہب کےبانی،المطبعۃ العربیہ:لاہور،2003،ص:148
محمد شارق،تفہیم مذاہب،ص156
الطاف جاوید،غیرسامی مذاہب کےبانی، ص:148
آنگس یا انگا ،رمیور،سوترا،ایانگا۔
فرقے:
شوتیامبر ، ڈگامبر
شوتیامبر سفیدکپڑے پہنتا تھا جبکہ ڈگامبر برہنہ رہتے تھے لیکن اسلامی حکومت کے زمانے میں انہیں ستر پوشی پر مجبور کیا گیا ان کا ایک تیسر افرقہ بھی بعد میں بناتھا جسے سادھو کہتے تھے یہ لوگ جائداد رکھتے تھے لہذا موکش (نجات) سے محروم تھے ۔
جین مت کی اخلاقی تعلیمات:
جین مت کی اخلاقیات اس کے مابعد الطبیعیات اور نروان کی طرف اس کی افادیت پر مبنی ہے ان اخلاقیات کا مظاہرہ محض جسمانی حرکات سے نہیں بلکہ انسان کے الفاظ ، خیالات اور لب ولہجہ سے ہونا ضروری ہے یہی وجہ ہے کہ جین مت اپنے پیروکاروں کو روحانی ،جسمانی اور زبانی حیوانات سے دور دیکھنا چاہتا ہے ۔
جین مت میں اخلاقیات کے ذریعے انسان کی نجات کا راستہ بتایاگیا ہے یعنی ان اعلیٰ اخلاقیات کی بدولت ہی انسان ابدی نجات کی منزل پاسکتا ہے یہی وجہ ہے کہ جین مذہب میں فکری نظام ،مذہب سے وابستگی اور سخت ترین ریاضتوں کی بجائے اعلیٰ اخلاقیات کو اپنانے کی تعلیم دی گئی ہے کیونکہ ان کےنزدیک یہ اخلاقیات ہی نجات کے حصول کا ذریعہ ہیں ۔
فضائل ورزائل اخلاق:
جین مذہب میں فضائل اخلاق کے تحت پانچ عظیم اصولوں (اہمسا، ستیا، اچاریہ ،برہم چاریہ ، اپری گرہ ) کے علاوہ رحم ہمدردی اور بھائی چارے سے متعلق تعلیمات دی گئی ہیں اس کے علاوہ اس مذہب میں اخلاقیات کے حوالے سے تین قسم کے ضبط نفس ، پانچ طرح کی احتیاطیں ، دس نیکیاں ،پانچ سمیتاں اور تین گنپتیاں بتائی گئی ہیں ان کی تفصیل درج ذیل ہے۔
پانچ عظیم اصول: آزادی کے حصول کے لیے تین اصول یعنی راست علم ، راست عقیدہ ،راست عمل بتائے گئے ہیں اور ان تین اصولوں کے حصول کے لیے پانچ اصولوں کو مدنظر رکھنا ضروری قرار دیا گیا ہے یعنی :
- اہمسا (عدم تشدد)
- برہم چاریہ (جنسی فعل میں حصہ نہ لینا)
- ستیا (سچائی)
- اپری گرہ (مال و اسباب سے غیر وابستگی )
- اچارہ (چوری نہ کرنا)
ان اصولوں کی تفصیل درج ذیل ہے :
محمد یوسف خان ،تقابل ادیان ،بیت العلوم:لاہور،(س۔ن) ،ص:120
غلام رسولِ،مذاہب عالم کاتقابلی مطالعہ، ص:246
لیوس مور،مذاہب عالم کاانسائیکلوپیڈیا، ص:204
ایضا
اہمسا : ایک ایسا اصول ہے جو کہ جینیوں کو نہ صرف بنی نو ع انسان کی طرف بلکہ فطرت کی طرف بھی مشق سیکھاتاہے یہ اصول وسیع مفہوم رکھتاہے اس میں ظلم ، غلام بنانا ، توہین ،تشدد دشمنی ،نفرت جیسی برائیوں کی نفی شامل ہے ۔
تشدد کے چار درجے:
اس مذہب میں تشدد کی ممانعت کی گئی ہے اور اگر کبھی تشدد کرنا پڑجائے تو پھر اس سلسلے میں تشدد کے چار درجے بھی بیان کئے گئے ہیں اس حوالے سے رابڑت دین ڈی وئیر بیان کرتے ہیں :
- جان بوجھ کر کسی پر حملہ کرنا ۔
- اپنی زندگی کا وفاع کرتے ہوئے کسی پر حملہ کرنا۔
- کسی کو رزیل حرکت سے روکنے کے لیے تشدد کرنا۔
- معمول کے کاموں کو سر انجام دیتے ہوئے کسی قسم کا تشدد سر زد ہوجانا۔
ستیا: جین مذہب میں سچائی کو بہت اہمیت حاصل ہے اور غصہ ،لالچ ،خوف وغیرہ سے منع کیا گیاہے کیونکہ یہی چیزیں جھوٹ کو بنیاد فراہم کرتی ہیں رابرٹ وین وئیر اس حوالے سے قول نقل کرتے ہیں :
غصہ لالچ ،خوف اور لطائف وغیرہ جھوٹ کو بنیاد فراہم کرتے ہیں سچ بولنے کےلیے اخلاق جرات کی ضرورت ہوتی ہے صرف وہی لوگ سچ بول سکتے ہیں جنہوں نے لالچ خوف ، غصہ حسد اور تکبر پر فتح حاصل کرلی ہو۔
امولیہ رنجن مہاپتر بیان کرتے ہیں :
جین فلسفہ میں صداقت کا مطلب صرف سچ بولنا ہی نہیں بلکہ اچھی اورخوشگوار بات کہنا بھی ہے ۔
اچاریہ یا استیا (چوری کرنا)
جین مت کے پانچ اصولوں میں سے ایک اصول چوری نہ کرنے کے حوالے سے ہے چوری سے مراد یہ ہے کہ کسی کی چیز کو غیر اخلاقی طریقے لے لینا جین مت کے پیر وکار اس اصول پر سختی سے عمل پیرا ہوتے ہیں اور کوئی چیز خواہ وہ زمین سے ملی ہو یا کسی انسان کی ملکیت میں ہواس کو چھونے سے بھی گریز کرتے ہیں ۔
چوری ایک فعل بد ہے اور بددیانتی ہے لہذا جہاں بددیانتی کرنے سے منع کیا گیا ہے وہاں ایمانداری کو بھی ملحوظ خاطر رکھنے کی تعلیم دی گئی ہے ۔رابرٹ وین ڈی وئیر نقل کرتے ہیں :
وئیر ،رابرٹ وین, شنٹو ازم اور جین مت ,فکشن ہاؤس پبلشرز:لاہور،2017،ص:155
, شنٹو ازم اور جین مت،ص:89
مہاپتر،امولیہ رنجن،فلسفہ مذہب،یاسرجواد،سعدیہ جواد(مترجم)،فکشن ہاؤس:لاہور،1998،ص:207
چوری نہ کرنے کا اصول مکمل ایمانداری پالا گو ہوتا ہے یعنی ایمانداری نہ برتنا بھی چوری میں شمار کیا جاتا ہے ۔
برہم چاریہ (جنسی فعل میں حصہ نہ لینا)
جین مت میں کسی بھی قسم کے نسی فعل میں عدم شمولیت برہم چاریہ کہلاتی ہے اس میں جنسی فعل کی مذمت اس لئے کی گئی ہے کہ جینیوں کے نزدیک جنسی لفط انسان کی تمام خوبیوں کو ختم کر دیتا ہے یعنی جنسی فعل تمام قسم کے شور کو وقتی طور پر ختم کر دیتا ہے اس لئے جنسی فعل میں ملوث نہیں ہونا چاہیے ۔
رابرٹ وین ڈی وئیر اس حوالے سے بیان کرتے ہیں :
جنسی فعل اخلاقیات کو شدید نقصان پہنچاتا ہے لیکن تما م جینی لوگ اس سے مستشنی ہیں جین مت کے بھکش اس پر سختی سے عمل کرتے ہیں ۔
اپری گرہ (مال واسباب سے غیر وابستگی)
جین مذہب میں زیادہ دولت حاصل کرنے کی خواہش کو نا پسند کیا گیا ہے کیونکہ زیادہ مال واسباب کا حصول بہت سے گناہوں کے علاوہ لالچ ،حسد ،خود غرضی جیسی صفات کے پیدا ہونے کا ذریعہ بتایا گیا ہے رابرٹ وین ڈی وئیر اس حوالے سے بیان کرتے ہیں :
زیادہ مال واسباب اکٹھا کرنے کے لیے انسان زیادہ گناہ کرے گا اس طرح ایسا شخص زیادہ دکھ بھری زندگی بسر کرے گا دنیاوی دولت وابستگی پیدا کرتی ہے اور وابستگی مسلسل لالچ، حسد خود غرضی ،تکبر ،نفرت اور تشدد پیدا کرتے ہے ۔
اخلاقی تعلیمات کے حوالے سے جین مذہب میں کچھ امور جنہیں داخلی نر جار کہاگیا ہے جوکہ درج ذیل ہیں:
- پرائچت (صبر کرنا )
- ونایا(استاد کے ساتھ اچھارویہ اختیار کرنا)
- ووپادانا(بے لوث خدمت کرنا)
ان پانچوں اصولوں کے علاوہ جین مذہب میں درج ذل اخلاقی تعلیمات بیان کی گئی ہیں :
بھائی چارہ: جین مذہب میں اخوت و بھائی چارے کے حوالے سے بھی تعلیم دی گئی ہے اور تمام لوگوں کو اپنا بھائی سمجھنے اور پیارو محبت سے رہنے کی تعلیم دی گئی ہے ۔
امن: جین مت وہ واحد مذہب ہے جس کا بنیادی فلسفہ امن کا حصول ہے دیگر مذاہب میں بھی امن کی تعلیم موجود ہے مگر وہ اس امن کے اصول کی اس قدر پاسداری نہیں کرتے جتنا کہ جین مذہب کرتا ہے ۔
دس نیکیاں : جین مذہب میں اخلاقی تعلیما ت کے حوالے سے دس نیکیاں بیان کی گئی ہیں:
غلام رسولِ،مذاہب عالم کاتقابلی مطالعہ، ص:647
وئیر ،رابرٹ وین،شنٹو ازم اور جین مت ,فکشن ہاؤس پبلشرز:لاہور،۲۰۱۷،ص: 90
شنٹو ازم اور جین مت، ص: 91
انیس احمد، مذاہب عالم ایک تقابلی مطالعہ، ص:312
حددرجہ کی معافی حددرجہ کی نرمی حددرجہ کا اخلاص حددرجہ کی قناعت
حددرجہ کی راست حددرجہ ضبط نفس حددرجہ کی ریاضت حددرجہ کا ترک دنیا
حددرجہ کی بے لوثی حددرجہ کی پاک بازی
اس طرح بائیس قسم کی تکالیف بیان کی گئی ہیں جن سے چند درج ذیل ہیں :
بھوک ، پیاس ، سردی گرمی ،کپڑوں کے کاٹنے کی تکلیف ،ننگے رہنا ،ناپسندیدہ جگہ پر رہنا جنسی جذبے کے تقاضے ،برابھلا سننا ، مارپیٹ سہنا بھیک مانگنا ، جسمانی گندگی اور ناپاکیاں ،بے عزتی سہناو غیرہ ۔
جین مذہب میں بائیس قسم کی تکالیف برداشت کرنے کو اخلاقی تعلیمات میں بیان کیا گیا ہےجین مذہب کی اپنی ہی تعلیمات میں اختلاف ہے یعنی ایک طرف دس نیکیاں جس میں ہر چیز کو انتہا درجہ تک کرنے کی تعلیم ہے تو دوسری طرف بائیس ایسی تکالیف ہیں جو بہت سی زیادہ سخت اور انسانی برداشت سے باہر ہیں ۔
پانچ سمیتیاں (احتیاطیں)
جین مذہب میں اخلاقیات کےحوالے سے پانچ سمیتیاں بیان کی گئی ہیں یہ سمیتیاں یعنی احتیاطیں درج ذیل ہیں :
آریہ سمیتی (چلنے میں باقاعدگی):
اس احتیار کے تحت جینیوں کو اپنی آگے چھ قدم تک دیکھ بھال کر کے چلنا چاہیے تاکہ کوئی جاندار اس کےپاؤں کے نیچے دب کر ہلاک نہ ہو جائے۔
بھاشا سمیتی (بولنے میں باقاعدگی):
اس سےمراد یہ ہے کہ گفتگو کے دوران آٹھ غلطیوں سے بچنے کی کوشش کی جائے یعنی غصہ ،بغض ، لالچ ، قہقہ ، خوف ، فضول گوئی اور سکوت۔
ایسنا سمیتی (بھکشا مانگنے میں باقاعدگی):
اس سے مراد یہ ہے کہ بھکش پاک خوارک اور دوسری ضروریات کو بھکشا مانگ کر پورا کریں ۔
ادانا نکشیانہ سمیتی (کسی چیز کے رکھنے اور لینے میں باقاعدگی):
اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی جاندار یا کیڑا مر کر ہلاک نہ ہوجائے ۔
استاد گاسمیتی (اشیاء کو پھینکنے میں احتیاط سے کام لینا):
جیسا کہ گوبر یا فضلہ وغیرہ پھینکنے میں احتیاط بر تناکہ راستہ گندانہ ہو علاوہ ازیں دوسرے لوگوں کے لیے اذیت کا باعث نہ ہو۔
تین گنپتی (تین قسم کے ضبط نفس):
اخلاقیات کے حوالے سے بانی مذہب نے تین قسم کے ضبط نفس بھی بیان کئے ہیں ان کی تفصیل درج ذیل ہے ۔
صدیق،ابوطاہر،مولانا،مذاہب عالم کاانسائیکلوپیڈیا،ادارہ القرآں:کراچی،(س۔ن)،221
انیس احمد، مذاہب عالم ایک تقابلی مطالعہ، ص:204
مانا گنپتی (ذہن میں باقاعدگی):
اس سے مراد یہ ہے کہ ذہن میں برے اور گندے قسم کے خیالات کو آنے نہ دیا جائے یعنی غصہ ، نفرت ، لالچ ،وغیرہ سے اپنے ذہن کوپاک رکھا جائے۔
وچانہ دوکانہ گنپتی (گفتگو میں باقاعدگی):
اس سے مراد یہ ہے کہ گفتگو میں احتیاط کی جائے ایسی گفتگو نہ کی جائے جو دوسروں کے لئے تکلیف کا سبب ہو اس کے بعد گفتگو میں سختی کے علاوہ بری زبان استعمال کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔
گایا گنپتی (جسمانی کاموں میں باقاعدگی):
اس سے مراد یہ ہے کہ دوسروں کو اپنے ہاتھ یا جسم سے تقصان نہ پہنچایا جائے چلتے وقت احتیاط کی جائے تاکہ کوئی معصوم جاندار پاؤں تلے دب کر مرنہ جائے جین مذہب میں در ج ذیل چیزیں گناہ میں شامل ہیں :
پاپ اور گناہ :جین مذہب میں بعض ایسی سرگرمیاں جوکہ ذہن جسم یا گفتگو کی بناپر انجام پاتی ہیں ان کو گناہ قرار دیا گیا ہے ان میں درج ذیل چیزیں شامل ہیں ۔
تشدد، ظلم ،جھوٹ ،چوری ،وابستگی ،غصہ ،بغض ، لالچ ، حسد ،شہوت وغیرہ ۔
ان کی تفصیل درج ذیل ہے:
تشدد و ظلم انسانوں کےعلاوہ جانوروں کوبھی ایذادینے اورمارنے کے حوالے سے ہے جھوت، غصہ ، لالچ ،حسد ان تمام گناہوں کا تعلق قول اور ذہنی خیالات سے ہے اورجین مذہب میں ان گناہوں سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے شہوت یعنی ناجائز تعلق کو جین مت میں گناہ قرار دیا گیا ہے ۔
یہ وہ اخلاقی معیارات ہیں جن کے حصول کو ہر جینی کے لئے لازم قرار دیا گیا ہے اخلاقی مدارج کی انتہا کے طور پر ہر جینی اپنی عمر کے آکری حصے میں فاقہ کشی کرتاہے جس کا مقصد زندگی کے خاتمے کا عہد کرناہوتا ہے جینیوں کے ہاں عبادت میں پتسیاپر بہت زور دیاگیا ہے اور اس پتسیا میں فقروفاقہ کو بہت اہمیت دی گئی ہے نفس کشی ، ترک دینا ، ترک خواہشات ،بائیس قسم کی تکالیف وغیرہ یہ تمام چیزیں ان کے قریب بہترین عبادت تھیں اپنی تعلیمات میں بیان کردہ پانچ اصولوں میں سے پہلے اصول اہمسا یعنی عدم تشدد کے حوالے سے کسی جاندار کو اذیت اور قتل نہ کرنے کی تعلیم پر بہت زور دیا گیا ہے اور اپنی تین گنپتیوں اور پانچ سمیتیوں (احتیاطوں ) میں اسی اصول کو دہرایاگیا ہے ۔
جین مت کی اشاعت:
کیولیہ کے مقام پر فائز ہونے کے بعد مہاویر جین سوامی نے اپنی عمر کے بقیہ حصے کو جین مت کی اشاعت میں صرف کردیا آپ کی انتھک کوششوں سے جین مت مشرقی ہندوستان کی ریاست مگدھ سے نکل کر مغرب میں بنارس تک اور آپ کے انتقال کے بعد آپ کے خاص گیارہ شاگردوں کی کوششوں سے منڈا سر اور اجین تک پہنچ گیا۔
ایضا
فاروقی،طاہرمنصور،دنیاکےقدیم وجدیدمذاہب،تخلیقات:لاہور،2016،ص361
دنیاکےقدیم وجدیدمذاہب،ص:322
چھوتھی صدی قبل مسیح کے نصف میں جین مت کے آٹھویں سربراہ بھدرا بہو کی کوششوں سے جین مت کا دائر نیپال سے شرون بیلگو لا میسور تک وسیع ہوگیا صدی قبل مسیح میں مشہور جینی رہنما کلک آچاریہ کی کوششوں سے مغربی ہندوستان میں بھی اس کے قدم جم گئے اور جنوب کی متعدد ریاستوں کے حکمرانوں کی پر جوش سر پرستی کی وج سے جنوبی ہندوستان میں جین مت ہر خاص و عام کا مذہب بن گیا جین مت کی مقبولیت و اشاعت کے اہم اسباب درج ذیل ہیں :
عقیدہ مساوات:
جین دھرم نے ویدک ادب کے برخلاف ہر ذات و صنف کے لوگوں کے لیے مذہبی تعلیم کے دروازے کھول دیے مہاویر جین سوامی کا کہنا تھا کہ کائنات میں پائی جانےوالی تمام چیزوں کی روح ایک جیسی ہے لہذا حصول نجات کے لیے مردوزن ،برہمن و شودر کی تفریق کی بنا پر تفریق کرنا درست نہیں ہے اس کی وجہ سے شودروں اور عورتوں میں اس مذہب کو کافی پذیر ائی ملی۔
عوامی اور علاقائی زبانوں کا استعمال:
برہمنی مت سے متعلق تمام مذہبی ادب اور اس کی تعلیم و تدریس سنسکرت زبان میں تھی جب کہ عوام کی زبان وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بہت بدل چکی تھی اس لیے ہندوستان کے عوام کے لیے برہمنی مت کے افکار و خیالات سے براہ راست استفادہ ممکن نہیں رہ گیا تھا مہاویر نے برہمنی مت کے برخلاف اپنے مذہب کی تبلیغ کے لیے عوامی زبانوں کا استعمال کیا اور اس طرح وہ عوام سےبراہ راست رابطہ قائم کرنے اور ان کو پوری طرح اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب رہے ۔
سرکاری سرپرستی :
مہاویرجین سوامی شاہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے ، جس کی بنا پر مگدھ ریاست کے بااثر لوگوں نے جین مت قبول کر لیا اور اس کی اشاعت میں اہم رول ادا کیا بعد کے مختلف ادوار میں بھی جین مت کو سرکاری سر پرستی حاصل رہی چنانچہ اڑیسہ کے راجہ کھارویل اور اشوک کے پوتے سمپراتی نے پر جو ش طریقے سے جین مت کی سرپرستی فرمائی گجرات میں شاک حکومت کے کئی راجہ اور چھٹی صدی عیسوی سے بارہویں صدی عیسوی تک جنوبی ہندوستان میں قائم ہونے والی متعددریا ستوں (جیسے گنگا کڈمبا، چالو کیہ اور راشٹر کوٹ وغیرہ)کے حکمراں خاندانوں نے بھی اس مذہب کی اشاعت اور ترقی کے لیے کارہا ئے نمایاں انجام دیے ۔
تنظیم کا قیام :
مہاویر نےجین مت کے پیروؤں کی تنظیم قائم کی اس تنظیم کے ممبروں کو سیدھی سادی زندگی گزارنی ہوتی ، وہ مذہبی کتابوں کا مطالعہ کرتے نیز مہاویر کا وعظ سن کر عوام میں تبلیغ کرتے مہاویر کے انتقال کے بعد جین سنگھ کی صدارت سودھرمن کے ذمہ کی گئی انھوں نے اپنے بائیس سالہ دور صدارت میں اپنی انتھک کوششوں سے جین مت کو عروج پر پہنچا دیا آپ کی وفات کے بعد جمبکو صدر منتخب کیے گئے جنھوں نے 44 سال جین سنگھ کی صدارت کی اور اپنے دور صدارت میں دھرم کی اشاعت سے متعلق قابل قدر خدمات انجام دیں جین سنگھ نے مختلف کونسلیں منعقد کرکے جینی ادب کو مدون کیا اور امتداد زمانہ سے درآنے والی خرابیوں
انیس احمد، مذاہب عالم ایک تقابلی مطالعہ، ص:213
غلام رسولِ،مذاہب عالم کاتقابلی مطالعہ،ص:225
مذاہب عالم کاتقابلی مطالعہ،ص:262
کی اصلاح کرکے مذہب کو حالات کے مطابق قابل عمل بنا کر پیش کرنے کی بیش قیمت خدمات انجام دیں ۔
تہوار:
جین مت کے تمام ہی بنیادی اور اہم تہوار مہاویر جین سوامی کی زندگی کے اہم واقعات رحم مادر میں ان کا استقرار حمل یوم پیدائش اسباب دنیا سے علیحدگی ، علم مطلق اور نروان کا حصول کی مناسبت سے منائے جاتے ہیں جین مت میں پائے جانے والے تہواروں میں سب سے اہم تہوار پاریوسانا ہے یہ تہوار ماہ اگست و ستمبر میں منایا جاتا ہے اس میں پوری دل جمعی کے ساتھ دوسروں کی خدمت کرنا ، راہبوں کی خدمت میں نذرانہ پیش کرنا ور ریاضت و مراقبہ کی خاطر کسی گوشئہ تنہائی میں معتکف ہوجانا مستحب و پسندیدہ سمجھاجاتا ہے یہ تہوار کئی دن تک رہتا ہے جس میں ایک دن اعتراف جرم کی تقریب کے لیے مخصوص ہوتا ہے جس کا مقصد دانستہ یانادانستہ طریقہ سے کیے گئے گناہوں کے اثرات کا ازالہ ہے ۔
اولی کا تہوار سال میں دو مرتبہ نودنوں کے لیے منایا جاتا ہے اس میں مہاویر کے مجسمے بنائے جاتے ہیں اور ان مجسموں کے سامنے عقیدت و محبت کے نذرانے پیش کیے جاتے ہیں مہاویر جین سوامی کے نروان پانے کی مناسبت سے اکتوبر و نومبر کی چودہویں رات کو جینی چراغاں اور تہوار مناتے ہیں جس میں گھر ، گلیوں اور بازاروں کوچراغوں سے مزین کیا جاتا ہے جن پنچمی کے پانچ یوم بعد عبادت کا تہوار منایا جاتا ہے جس میں مندروں میں جاکر تیر تھینکروں کے فرضی مجسموں کی پر ستش کی جاتی ہے نیز ماہ اپریل میں مہاویر کی پیدائش کی مناسبت سے بھی خوشیوں کا اظہار کیا جاتا ہے ان تہواروں کے علاوہ جینی بعض ایسے تہوار بھی مناتے ہیں جو ہندوؤں اور جینیوں میں مشترک ہیں جیسے ہولی ،نرتھا وغیرہ جنوبی ہند میں موسم بہار کی مناسبت سے ایک تہوار منایا جاتا ہے۔
جینیوں کے علاقے اور ان کی آبادی:
جین مذہب اپنے الحاد اور مسائل حیات سے فرار اختیار کرنے کی بناپر ہندوستان سے باہر نہ پھیل سکا اور یہاں بھی ان کی آبادی مسلم دور حکومت میں سمٹ کر صرف گجرات تک رہ گئی تھی 1951ء کی مردم شماری کی رو سے ان کی تعداد سولہ لاکھ اٹھاون ہزار چار سو پانچ ہے اقتصادی اعتبار سے یہ کافی مضبوط ہیں کیوں کہ ان کی اکثریت بینکوں میں کام کرتی ہے۔پاکستان میں جین مت کے آثار اور تاریخی مقامات زیادہ تر سندھ اور پنجاب میں پائے جاتے ہیں۔ سندھ کے علاقے نگرپارکر کو جین مت کا اہم تاریخی مرکز سمجھا جاتا ہے، جہاں گوری مندر، ویراواہ جین مندر اور بھوڈیسر کے قدیم مندر موجود ہیں، جو اپنی تاریخی اور معماری اہمیت کی وجہ سے مشہور ہیں۔ اسی طرح پنجاب کے مختلف شہروں جیسے لاہور، گوجرانوالہ، جہلم، سیالکوٹ، قصور، ملتان اور راولپنڈی میں بھی جین مت کے قدیم آثار، عبادت گاہیں اور نوادرات پائے جاتے ہیں۔ تقسیمِ ہند سے قبل ان علاقوں میں جین برادری آباد تھی، تاہم بعد میں ان کی بڑی تعداد بھارت منتقل ہوگئی، لیکن ان کے مذہبی اور تاریخی آثار آج بھی پاکستان کے ثقافتی ورثے کا حصہ ہیں۔
امجد، اسلام اوردنیاکےمذاہب، ص287
اسرارالرحمان،محمد،تقابل ادیان،علمی کتب خانہ لاہور،2001ء،ص:232
Paul Dundas, The Jains (London: Routledge, 2002), 210–215.
Paul Dundas, The Jains (London: Routledge, 2002), 210–215.
جین مت کے زوال کے اسباب:
جین مت کے زوال کے اہم اسباب درج ذیل ہیں :
پرجوش داعیوں کا فقدان:
جین دھرم کی تنزلی کا بنیادی سبب بعد کی صدیوں میں پرجوش و مخلص مبلغین کا فقدان ہے آنے والی صدیوں میں ایثار و قربانی کی وہ روایات نہ رہیں جو مہاویر اور ان کے رفقاء میں پائی جاتی تھیں جس کی وجہ سے ان کے اندر خود فراموشی کا جذبہ سرد پڑگیا عبادات وریاضت کی جگہ تساہلی مندی نے لے لی قناعت پسندی اور سادگی جاتی رہی جس سے تبلیغ و اشاعت کا وہ جذبہ بھی جاتا رہا جو کبھی پہلے ان کے اسلاف کے اندر پایا جاتا تھا۔
داخلی افتراق و انتشار:
80 کے لگ بھگ جین مت دو بڑے فرقوں میں تقسیم ہوگیا اور بعد کی صدیوں میں جینی عالموں کی کوششوں کا محور تبلیغ و اشاعت کے بجائے اپنے اپنے فرقہ کی توسیع و استحکام قرار پایا، جس سے اشاعت کا کام رک گیا اور داخلی انتشار و تفریق کی بنا پر جین مت روبہ زوال ہوگیا۔
دوسرے مذاہب کا عروج:
جین مت کے زوال میں چھٹی صدی عیسوی میں ہندودھرم کے مشہور ومعروف فرقے شیومت اور و شنومت کے ظہور نے کافی اہم رول ادا کیا جنوبی ہند میں شیومت کا ظہور ہوا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جن صوبوں میں جین مت کو تحفظ حاصل تھا وہاں اس کا کوئی اثر باقی نہ رہا پھول راجاؤں نے مدورا کے جین مندروں کو شیو مندروں میں تبدیل کردیا آخری چالو کیہ راجہ نے جین بتوں کو ہٹا کر شیوبتوں کو نصب کر دیا مہاتما راما نو ج سوامی نے میسور میں وشنودھرم کا اثر بتدریج غیر محسوس طریقے سے بڑھانا شروع کیا اڑیسہ میں بھی وشنو مت کے مبلغوں نے اس کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کیا مزید برآں بودھ دھرم کی تبلیغی کو ششوں نے جین مت کی رہی سہی ساکھ کو بھی ختم کر دیا ان اہم اسباب کے علاوہ جین دھرم کے زوال میں رابطہ عامہ میں کمی ، سرکاری سرپرستی کا فقدان اور مخالفین کی سازشوں کا اہم رول رہا ہے۔
نتائج تحقیق:
اس تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ جین مت ہندوستان کے قدیم مذاہب میں ایک اہم مذہب ہے، جس کی بنیاد اخلاقیات، عدم تشدد، صبر اور تزکیۂ نفس پر قائم ہے۔ جین مت نے نہ صرف ہندوستانی تہذیب و معاشرت پر گہرے اثرات مرتب کیے بلکہ اس کی اخلاقی تعلیمات آج بھی امن، برداشت اور انسانی ہمدردی کے حوالے سے اہمیت رکھتی ہیں۔ تحقیق سے یہ بھی واضح ہوا کہ پاکستان خصوصا سندھ اور پنجاب میں جین مت کے تاریخی آثار موجود ہیں، جو اس مذہب کی قدیم موجودگی اور ثقافتی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔
انیس احمد، مذاہب عالم ایک تقابلی مطالعہ، ص:218
مذاہب عالم ایک تقابلی مطالعہ، ص:218
ایضا