خلع وتنسیخ نکاح سےمتعلق فیملی کورٹ کے فیصلے:اسلامی تعلیمات کی روشنی

میں تجزیاتی مطالعہ )اسلام آبادکااختصاصی مطالعہ: 2022تا 2024 ( تمہید:ایک وقت تھاکہ مسلمان اپنے طرز معاشرت اور نظام خاندان پر فخر کیا کرتے تھےمگر آج عمومی صورتحال اغیار سے بھی بدتر ہو گئی ہے۔ جہیز ہراسانی اور انسداد گھریلوتشدد قوانین

مصنف:ڈاکٹر محمد رحمان
تاریخ: 30 مارچ 2026

دیگر مضامین

تمام مضامین دیکھیں

Imam Abu Hanifah’s Contribution to Hadith Sciences: A Reassessment

Sulaiman Kaka KhelM.Phil Islamic Studies, University of MalakandEmail: [email protected] Shaukat ZamanM.Phil Islamic Studies, University of

تاریخ: 15 مئی 2026
مصنف:سلیمان کاکا خیل

تنبیہ الغافلین (ازفقیہ ابواللیث سمرقندی رحمتہ اللہ علیہ) کا منہج

واہمیتِ موضوع (Introduction & Significance) علامہ ابواللیث نصر بن محمدبن ابراھیم بن الخطاب الفقیہ الحنفی

تاریخ: 2 اپریل 2026
مصنف:محمد جمیل

Belief in Life After Death (Ba‘th ba‘d al-Mawt) in the Light

of Surah al-Rum: Worldly Impacts Bi Bi Saima Aman ullah M.Phil. Scholar, Bahria University Karachi.Head

تاریخ: 1 اپریل 2026
مصنف:صائمہ امان اللہ

خلع وتنسیخ نکاح سےمتعلق فیملی کورٹ کے فیصلے:اسلامی تعلیمات کی روشنی

میں تجزیاتی مطالعہ )اسلام آبادکااختصاصی مطالعہ: 2022تا 2024 ( تمہید:ایک وقت تھاکہ مسلمان اپنے طرز

تاریخ: 30 مارچ 2026
مصنف:ڈاکٹر محمد رحمان

دیگر موضوعات

ڈاکٹر محمد رحمان

میں تجزیاتی مطالعہ

)اسلام آبادکااختصاصی مطالعہ: 2022تا 2024 (

تمہید:
ایک وقت تھاکہ مسلمان اپنے طرز معاشرت اور نظام خاندان پر فخر کیا کرتے تھے
مگر آج عمومی صورتحال اغیار سے بھی بدتر ہو گئی ہے۔ جہیز ہراسانی اور انسداد گھریلو
تشدد قوانین کے نافذ ہونے کے باوجود بحیثیت قوم ہماری روش نہیں بدلی بلکہ طلاق اور جہیز
ہراسانی کی شکایات میں زبردست اضافہ ہو گیا ہے۔ آج فیملی کورٹس میں جدھر نظر
دوڑائیں ادھر خواتین نظر آتی ہیں۔عمومی طور پر میاں بیوی کے درمیان ازدواجی تعلقات
برقرار نہ رہنے کی وجہ دونوں کے افکار اور نظریہ حیات میں ٹکراؤ ہوتا ہے جس کے باعث
سال بھر کے اندر علیحدگی کی نوبت آرہی ہے۔ خلع وطلاق کے واقعات میں اضافہ کا ایک سبب
طرز معاشرت میں تبدیلی بھی ہے۔ پاکستانی معاشرے میں عمومی طور پر جب کسی جوڑے
میں نااتفاقی پیدا ہوتی ہے تو وہ دھڑلے سے عدالت کا دروازہ نہیں کھٹکھٹاتے بلکہ انہیں اپنا
تنازعہ پہلے خاندان میں پیش کرنا ہوتا ہے، جہاں پنچائیت کے ذریعہ معاملہ کو رفع دفع کرنے
کی کوشش کی جاتی ہے مگر پاکستانی معاشرہ میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ فریقین بزرگوں کی
بات نہیں مانتے، جبکہ قران میں ہمیں یہ ہدایت دی گئی ہے کہ جب شوہر اور بیوی میں کسی
مسئلہ پر اختلاف ہو جائے تو افہام و تفہیم کے ذریعہ معاملہ کو حل کیا جائے اور دونوں کی
طرف سے ایک ایک حکم مقرر کیا جائے اور اگر فریقین میں بات نہ بن پائے تو پھر قاضی/
عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جاتا ہے۔
1 MS. Scholar, Department of Islamic Studies, Bahria University, E8 Islamabad./[email protected]
2 Assistant Professor, Department of Islamic Studies, Bahria University E8 Islamabad.
/[email protected]

Page 2 of 14
خلع و طلاق کی دیگر وجوہات کے ساتھ سوشل میڈیا کا بےدریغ استعمال، اس کے
معاشرے پر اثرات اور والدین کا حد سے زیادہ اپنی اولاد کی طرف داری کرنا بھی شامل ہے۔
اکثر اوقات دیکھا گیا ہے کہ میاں بیوی ایک ساتھ رہنا بھی چاہیں تو دونوں کے والدین یا عزیز
و اقارب اس میں رکاوٹ بنتے ہیں، حد تو یہ ہو گئی ہے کہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ بیٹی کا گھر
اجاڑنے میں موجود ہ دور میں سب سے زیادہ ہاتھ اس کی والدہ کا نظر آتا ہے جو ہر بات پر
بیٹی کو اپنی دانست میں بہترین مشورے دے رہی ہوتی ہیں لیکن وہی مسلسل مشورے بیٹی کا
گھر برباد کرنے کی وجہ بنتے جا رہے ہیں۔ اس لیے والدین خاص طور پر ماؤں کی ذمہ داری
بنتی ہے کہ بیٹی اور بہو کو اپنے مسائل خود حل کرنے کی تربیت ضرور دیں، لیکن مشورے
دینے سے گریز کریں۔
زیر نظر آرٹیکل میں اسلام آباد کی فیملی کورٹ میں 2022 تا 2024 تک
کےفیصلوں میں خلع و تنسیخ نکاح سے متعلقہ مقدمات کا ایک شرعی جائزہ پیش
کیا جائے گا۔
عائلی مقدمات میں زیادتی کی وجوہات میں بے روزگاری یا دیگر وجوہات کی
بنا پر نان و نفقہ کی عدم فراہمی، تشدد ،خاندان کی مداخلت، جذباتی فیصلہ جات، ذہنی ہم
آہنگی کا فقدان، صبر و تحمل سے عاری معاشرہ، تعلیم کی کمی اور دین سے دوری
سمیت پیچیدہ عدالتی نظام،وکلا اور منشیوں کا باہمی گٹھ جوڑ، اور دیگر عوامل کی
بنا پر مقدمات دائر کیے جاتے ہیں۔ خلع وتنسیخ نکاح میں شاذ و نادر ہی کوئی ایسا
مقدمہ ہوتا ہے جس میں تنسیخ نہیں ہوتی، بلکہ مصالحت کی تمام کوششیں اکثر ناکام
ہی ثابت ہوتی ہیں۔جہیز کی واپسی اور نان و نفقہ میں بہت سے مقدمات ایسے ہوتے
ہیں جو ایک لمبے اور تھکا دینے والے عدالتی نظام سے گزر کر جب فیصلہ ہوتے ہیں
تو اس پر عمل درآمد کروانے کے لیے بھی مقدمات اجراء کی عدالتوں میں پیش کیے
جاتے ہیں تب جا کر پایہ تکمیل تک پہنچتے ہیں۔ گارڈین مقدمات میں بچوں کی براہ
راست شمولیت کے باعث مصالحت کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود
فریقین کو عدالتی نظام اور معاشرتی خامیوں کے باعث جن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے
وہ بہت تکلیف دہ ہوتے ہیں۔
فیملی کورٹ 2022کے فیصلوں کاجائزہ :
ضلع اسلام آباد میں خلع و تنسیخ نکاح کے بڑھتے ہوئے مقدمات کا اندازہ اس امر
سے لگایا جا سکتا ہے کہ سال 2022 تا 2024 میں ضلع اسلام آباد کی فیملی عدالتوں
میں دائر شدہ خلع وطلاق کے مقدمات سےمتعلق ایک سروے میں کچھ وکلا حضرات کے
مطابق اسلام آباد میں تقریبا ایک سال میں 8ہزار فیملی کیسز رجسٹرڈ ہوتے ہیں جن
میں اکثر طلاق و خلع کے کیسز ہوتے ہیں۔ان میں جدید مقدمات کی تعداد ایسٹ اور
ویسٹ اسلام آباد دونوں کی مجموعی تعداد سال 2022ءمیں 2567ہے، 3 ان میں صرف ایسٹ
اسلام آباد ریکارڈروم کےمطابق 2022میں 1635کسسزہے، 4 ان مجموعی مقدمات میں سے
688مقدماتContestedتھے،یعنی یہ ایسے مقدمات تھےجس میں دونوں فریقین نے
باقاعدہ اپنے اپنے موقف کا دفاع کیا اور فیصلہ ہونے تک حاضر عدالت رہے
جبکہ1538مقدماتUncontestedتھے یعنی ایسے مقدمات تھےجن میں فیصلہ کسی
ایک فریق کےحق میں "یکطرفہ”ہوا۔ لہٰذا سال 2022میں خلع کے مقدمات اسلام آباد کی
فیملی کورٹ سے صادر کئے گئے،Uncontestedجس کی شرح 69فیصد بنتی ہے۔

3 Office of the Ahlamind, Asad Khan Family Court, Islamabad
4 Office of the Superintendent Imran Sahib Family Court Islamabad and record room

Page 3 of 14
سال 2022ءسےجن مقدمات کو تحقیق کی غرض سے منتخب کیاگیاہےان میں ایمن اسلام
وغیرہ بنام اختر علی، دعویٰ تنسیخ نکاح ونان ونفقہ وغیرہ،شمائلہ اقبال بنام خالد سعید پاشا، دعویٰ
تنسیخ نکاح وسامان جہیزاور مسماة ہماءہارون بنام نوید خان، دعویٰ تنسیخ نکاح و تشدد وغیرہ
شامل ہیں،جن میں سےایمن اسلام وغیرہ بنام اختر علی کے مقدمہ اور عدالتی فیصلہ کا شریعت
اسلامی کی روشنی میں تفصیلی جائزہ پیش کیا جارہاہے؛
عنوان مقدمہ
عنوان:ایمن اسلام وغیرہ بنام اختر علی(دعویٰ تنسیخ نکاح ونان ونفقہ وغیرہ)
مرجوعہ:19-09-2022
فیصلہ:02-03-2024
تفصیل مقدمہ
مورخہ 2022-09-29کو دعویٰ میں مدعیہ ایمن اسلام کی جانب سے درجہ ذیل اہم
نکات تحریر کیے گئے: یہ کہ مدعیہ کا نکاح وشادی 02-04-2018 کو بطریق شرح
محمدی عمل میں آئی۔ مدعیہ کے بطن اور مدعاعلیہ کے نطفہ سے ایک نابالغہ لڑکی بعمر
تقریبا 1 سال تولد شد ہیں جو بقید حیات ہیں اور مدعیہ نمبر 1 کے زیر پرورش ہیں۔
نابالغ کی پیدائش کے قریب مدعاعلیہ نےمدعیہ کے اس کے والدین کے گھر بھیج دیا
لہذا نابالغ کی ڈیلیوری کا کل خرچہ تقریباً 60 ہزار روپے مدعیہ کے والد نے اپنی جیب
سے ادا کیا جو ادا کیا جانا ضروری ہے۔مدعاعلیہ نے نکاح نامہ میں مدعیہ کو حق المہر
میں ڈھائی تولہ سونا طلائی زیورات کی صورت میں تحریر کر کے دیا تھا جو شادی
کے فوراً بعد مدعاعلیہ نے چھین کر اپنے قبضے میں لے لیا اور تاحال اس کے قبضے میں
ہے۔ مدعاعلیہ کا سلوک شروع دن ہی سے مدعیہ کے ساتھ ظلمانہ رہا ہے۔ بات بات پر مار
پیٹ کرنا،طعنہ دینا، بدصورت اورمنحوس کہنا مدعاعلیہ کا معمول تھا۔ دوران زوجیت
مدعاعلیہ نے مدعیان کو خرچہ نان و نفقہ سے بہت تنگ رکھا، تمام اخراجات مدعیہ کا والد
برداشت کرتا رہا۔ مدعاعلیہ نے دوران زوجیت مدعیہ کو اس کے سامان جہیز کے استعمال
سے بھی باز وممنوع رکھا، کیونکہ مدعیہ کے والد نے تقریباً ایک لاکھ 88795 روپے
مالیت کا سامان جہیز تحفتاً مدعیہ کو دیا تھا۔ مدعاعلیہ نے کئی دفعہ مدعیہ کو جان سے
مارنے کی بھی کوشش کی لیکن اہل خانہ کی مداخلت سے جان بخشی ہوئی۔ آخر کار مد
عاعلیہ اور اس کے گھر والوں نے مدعیہ کو باندھ کر گھر میں قید کر دیا اور کسی سے
ملنے کی اجازت نہ تھی۔ آخر کار مدعیہ کے والد نے سینئرسول جج صنم بخاری ،اسلام آباد
فیملی کورٹ کی عدالت معزز میں بذریعہ رٹ پٹیشن ،A451 ض ف کے ذریعے
عدالت کے ذریعے حاصل کیا اور یہ کہ مدعاعلیہ مدعیان کا خرچہ آسانی سے ادا کر
سکتا ہے لہٰذا عدالت ہذا سے درخواست ہے کہ مد عاعلیہ سے مدعیہ کو طلاق کے ساتھ نان و
نفقہ اور سامان جہیز واپس دلایا جائے۔ 5
مورخہ 2023-04-02کو مد عاعلیہ آختر علی کی جانب سے درج ذیل اہم نکات
تحریر کیے گئے: یہ کہ مدعیہ کو کوئی بنائے دعویٰ حاصل نہ ہے، دعویٰ قابل اخراج ہے۔
یہ کہ مدعا علیہ نے مدعیہ کو آباد کرنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن مدعیہ کے
والدین نے اسے آباد نہ ہونے دیا اور مدعیہ نے یہ دعویٰ بھی اپنے والد کے کہنے پر دائر
کیا ہے۔ مدعیہ کے والد نے مورخہ 2022ـ-02-03 کو فیملی کورٹ میں A-491کی
درخواست دائر کی جس میں مدعیہ نے جج صاحبہ کے روبرو پیش ہو کر مد عاعلیہ کے

5 ایمن اسلام وغیرہ بنام اختر علی، دعویٰ تنسیخ نکاح ودلاپانےنان ونفقہ وغیرہ، بعدالت جناب صنم بخاری،سینئر سول جج فیملی
کورٹ،اسلام آباد،تاریخ فیصلہ 02-03-2024ص3تا7

Page 4 of 14
ساتھ رہنے اور جانے کا بیان دیا اور اپنے والدین کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا۔ جس پر
مذکورہ درخواست خارج کر دی گئی۔ بعد ازاں 2022-05-16کومدعیہ کے والد نے دوبارہ
A491 کی درخواست دائر کردی جس پر مدعیہ دوبارہ جج صاحبہ کے روبرو پیش ہوئی
اور اپنے والدین کے ورغلانے پر اپنے والدین کے ساتھ چلی گئی۔ لہذا مدعیہ اپنی مرضی
سے بغیر کسی قانونی و شرعی جواز کے مدعاعلیہ کے گھر سے بے آباد ہوئی ہے،لہذا
کسی نان ونفقہ کی حقدار نہ ہے۔ یہ کہ دائری دعویٰ سے قبل آج تک باقاعدگی سے خرچہ نان
ونفقہ کا ادا کرتا رہا ہے۔ مدعیان نمبر 2 کی پیدائش مدعاعلیہ کے گھر میں ہوئی تھی
جس کے تمام اخراجات مدعاعلیہ نے خود ادا کیے تھے۔ 6
مورخہ 2022-09-19کو مدعیہ نےبذات خود بحیثیت 1-PWبطورP1- Exاور
بیان حلفی پر شہادت پیش کی اور اپنے دائر شدہ دعویٰ کےمندرجات کی توثیق کی۔ 7
مورخہ 2022-11-29 بروز سوموار کو کونسل مدعیہ نے معزز عدالت کے روبرو
اپنی مئوکلہ کے مؤقف کو پیش کرتے ہوئے بحث آخیر یکطرفہ میں حصہ لیا اور
دعویٰ،جواب دعویٰ،شہادت مدعیہ پر تفصیلی بحث میں حصہ لیا،جس سے فاضل عدالت کو
فیصلہ کرنے میں مدد حاصل ہوئی اور فاضل عدالت نے دو عدد مزید تاریخوں گزارنے
کے بعد موقع دیا آخر کار یکطرفہ فیصلہ صادر فرما دیا وضعی تنقیحات درج ذیل۔ 8
عدالت کی جانب سے بنائی گئی تنقیحات (Framing Of Issues)
تنقیح نمبر 1
عمومی طور پر وضعی تنقیحات کے بعد اس کے جوابات بھی ترتیب سے ہی دیے
جاتے ہیں لیکن بعض اوقات کسی ایک ایشو کی اہمیت کے پیش نظر عدالت اسے پہلے
بیان کر دیتی ہے۔ لہذا زیر نظر مقدمہ میں بھی عدالت نے تنقیح نمبر 4کو سب سے پہلے
تحریر کیا جس میں مدعیہ نے عدالت کے سامنے بیان دیا کہ مدعیہ مدعاعلیہ کےساتھ
رہنے کےبجائے موت کو گلے لگانا زیادہ بہتر سمجھتی ہے، لہذا عدالت کے پاس تنسیخ کو
منظور کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ موجود نہیں، لہذا عدالت تحریر کرتی ہےکہ:
"Mst.Ayman Islam while appearing before
the court reiterated the averments of the
plaint and deposet that She prefers death
rather to live with the defendant 9

تنقیح نمبر 2
تنقیحات نمبر1تا4 میں حق مہر، ڈلیوری اخراجات اور سامان جہیز کا ذکر ہے جس
کا بار شہادت مدعیہ پر تھا۔ اسی ایشو میں معزز عدالت نے تنسیخ منظور کر لی جس کی
وجہ سے مدعیہ نان و نفقہ کے حق دار نہ ٹہری جبکہ نابالغ مدعی کی حد تک ماہانہ تین
ہزار روپے خرچہ ان کی بلوغت تک سالانہ 10 فیصد اضافے کے ساتھ منظور کر لیا۔
"As per statement of the plaintiff suit of the
Plaintiff No.1 for dissolution of the marriage
is decreed.So far, as claim of the Minors aur
entitled maintenance allowance from
defendant @3000/- per month with 10%

6 ایمن اسلام وغیرہ بنام آختر علی،تاریخ فیصلہ 2024-03-02،ص7تا13
7 ایضاً،ص16تا19
8 یضاً،ص24
9 یضاً،ص14

Page 5 of 14

annual increment till their marriage is also
decreed 10 "

تنقیح نمبر 3
تنقیح نمبر2کا بار شہادت مدعیہ پرتھا۔مدعیہ کا دعویٰ ہےکہ نابالغ مدعیہ کے والدین
کےگھرمیں پیدا ہوئے جس کاکل خرچہ 60000روپےاس کے والدین نے برداشت کیا جو
کہ دلائےجائے۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ مدعیہ نے اپنی شہادت میں یہ بھی تسلیم کیا کہ
اس کےپاس اس بات کو ثابت کرنے کیلئے کوئی ڈاکٹری نسخہ جات موجود نہیں ہیں۔
"Plaintiff deposed that minors No.2were born in the
house her parents, and they born all delivery
charges but she also admitted that she did not
have any prescription in this regard, hence this is
decided in the favour of defendant 11 "
لہذٰا اپنے موقف کی تائید میں ٹھوس ثبوت پیش نہ کرنے کی صورت
میں عدالت نےمدعیہ کایہ ایشو اس کے خلاف ڈگری کرتے ہوئے
ڈلیوری کےاخراجات ختم کر دیئے۔
تنقیح نمبر 4
تنقیح نمبر 3 کا بارشہادت مدعیہ پر تھا۔ مدعیہ کا دعویٰ کہ اس کے والد نے
188795روپے مالیت کا سامان جہیز اسے دیا جو کہ مدعا علیہ کی ملکیت میں ہے
اسے واپس دلایا جائے جبکہ مدعاعلیہ نے اپنے جواب دعویٰ میں اس بات کی تردید کی۔

"Perusal of the record shows that she has been
given dowry articles of amounting RS.188795/-
by her parents, but she did not produce any
evidence to strengthen her stance, so, plaintiff
is not entitled to receive the ornaments. Hence
this issue partially decided in in the favour of
plaintiff 12 .”
عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد
چیزیں اپنی اصل مالیت کھو دیتی ہیں لہٰذا مدعا علیہ کہ یہ حق ختم
کیا جاتا ہے۔ جہاں تک سونے کی بات ہے تو یہ عمومی طور پر خواتین
کے زیر تصرف ہوتے ہیں اور مدعیہ اس بات کو بھی ثابت کرنے میں ناکام
رہی ہے کہ مدعا علیہ نے اس سے زیورات چھین لیے تھے، لہذا تنقیح
نمبر 3 کا یہ حصہ مدعیہ کے لیے خارج کیا جاتا ہے۔

تنقیحات نمبر 5
تنقیحات نمبر 5 کا بارشہادت بھی مدعیہ پر تھا جس کے تحت یہ ثابت ہوا کہ مدعیہ کیونکہ
بذات خود تنسیخ لینا چاہتی ہے لہٰذا تنسیخ کو منظور کی جاتی ہے لیکن اس کے ساتھ
ساتھ مدعیہ کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اپنا 50 فیصد حق المہر واپس مدعا علیہ کو کرے
گی۔

10 یضاً،ص14
11 یضاً،ص14
12 یضاً،ص11،12

Page 6 of 14

"Plaintiff No.2 herself obtained the dissolution
from defendant, so therefore, she is duty bound to
return the 50% dower to defendant 13 "

اسلامی تعلیمات کی روشنی میں فیصلہ(Judgment) کاجائزہ
خلع اور تنسیخِ نکاح اسلامی خاندانی قوانین میں نہایت اہم اور باریک موضوعات ہیں جن
کا براہِ راست تعلق میاں بیوی کے تعلقات اور ازدواجی زندگی کے خاتمے سے ہے۔ زیرِ نظر
مقدمہ اسلام آباد فیملی کورٹ کا ہے جس میں بیوی (مدعیہ) نے عدالت کے سامنے یہ موقف اختیار
کیا کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ مزید زندگی گزارنے کی سکت نہیں رکھتی بلکہ اس کے نزدیک مر
جانا زیادہ بہتر ہے۔ عدالت نے اس درخواست کو قبول کرتے ہوئے نکاح کو ختم کر دیا اور ساتھ
ہی یہ شرط عائد کی کہ چونکہ عورت نے خود تنسیخ نکاح حاصل کی ہے، اس لیے وہ اپنے مہر
کا پچاس فیصد حصہ شوہر کو واپس کرے گی۔یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ اس فیصلے کا
قرآن و سنت اور فقہی آراء کی روشنی میں جائزہ لیا جائے تاکہ دیکھا جا سکے کہ آیا یہ فیصلہ
اسلامی اصولوں کے مطابق ہے یا اس میں شریعت سے انحراف موجود ہے۔
قرآن مجید میں خلع کا تصور
قرآن مجید نے بیان کیا ہے۔
"فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ” 14
پس اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود قائم نہ رکھ سکیں گے تو عورت کے لیے کوئی
گناہ نہیں کہ وہ کچھ مال دے کر آزادی حاصل کرے۔”
اس آیتِ کریمہ میں خلع کا بنیادی اصول واضح کیا گیا ہے کہ اگر شوہر اور بیوی کے
درمیان موافقت ممکن نہ ہو اور ازدواجی زندگی برقرار رکھنا دشوار ہو جائے تو عورت اپنی
آزادی حاصل کرنے کے لیے کچھ مال دے سکتی ہے۔ مگر یہاں نہ تو کسی خاص مال کی مقدار
مقرر کی گئی ہے اور نہ ہی کسی فیصد یا تناسب کا ذکر ہے۔ اس سے یہ اصول اخذ ہوتا ہے کہ
خلع میں مہر کی واپسی یا کسی اور مال کی ادائیگی حالات، باہمی رضامندی اور عدالت کے
انصاف پر منحصر ہے۔
اس آیت کی روشنی میں اسلام آباد فیملی کورٹ کے فیصلے کا تجزیہ کیا جائے تو یہ بات
سامنے آتی ہے کہ عدالت نے عورت کو آزادی دے کر درست اقدام کیا، یعنی تنسیخ نکاح کی
بنیادفی الجملہ موجودہے۔لیکن مہر کے 50٪ حصے کی واپسی کو لازمی قرار دینا قرآن کے
عمومی اصول سے متصادم ہے کیونکہ قرآن نے کوئی مقررہ شرح بیان نہیں کی۔
حدیث نبوی ﷺ میں خلع کاتصور
احادیث میں بھی خلع کا ذکر متعدد مقامات پر آیا ہے۔ ان میں سب سے زیادہ معروف
حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ اور ان کی اہلیہ کا واقعہ ہے۔ بیوی نے رسول اللہ ﷺ کے
سامنے عرض کیا:
"مجھے اپنے شوہر کے دین و اخلاق پر کوئی اعتراض نہیں، لیکن ان کے ساتھ رہنے کو پسند
نہیں کرتی۔آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم ان کا باغ واپس کر دو گی جو انہوں نے مہر میں دیا تھا؟انہوں
نے کہا: جی ہاں۔نبی ﷺ نے حضرت ثابت کو فرمایا: اپنا باغ واپس لے لو اور اپنی بیوی کو
علیحدگی دے دو۔” 15

13 یضاً،ص11،12
14 البقرہ 229
15 صحیح بخاری، کتاب الطلاق، حدیث 5273

Page 7 of 14
یہ واقعہ اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ خلع میں مہر واپس کرنا جائز ہے، لیکن یہ
معاملہ حالات کے مطابق ہوتا ہے اور اس میں کوئی مخصوص فیصد یا لازمی شرح مقرر نہیں۔
نبی اکرم ﷺ نے عورت پر یہ لازم نہیں کیا کہ وہ آدھا مہر یا اس کا کچھ خاص حصہ واپس کرے،
بلکہ یہ اصل مہر (باغ) کی واپسی پر مبنی تھا، جو اس وقت ان دونوں کے درمیان طے ہوا تھا۔
یہاں سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ اگر عورت اپنی مرضی سے علیحدگی چاہے تو مہر واپس
کیا جا سکتا ہے، لیکن اگر شوہر ظلم یا زیادتی کرے تو عورت پر مہر واپس کرنا لازم نہیں۔
فقہاء کی آراء
امام مالک رحمہ اللہ نے خلع میں مہر کی واپسی کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ
اگر شوہر کے ناروا سلوک کی وجہ سے عورت خلع لے تو اسے مہر واپس کرنے کی ضرورت
نہیں ہوتی۔ امام ابو حنیفہ، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کے فقہی اصول بھی اس کو تسلیم
کرتے ہیں،
سامنے آتی ہے کہ اسلام آباد فیملی کورٹ کے اس فیصلے میں چند پہلو اسلامی اصولوں
کے مطابق تھے، جیسے نکاح کا خاتمہ، بچوں کے جہاں مہر کی واپسی کی شرط حالات اور
رضامندی پر منحصر ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مہر کے نصف یا کسی خاص حصے کی
واپسی کو لازمی قرار دینا شریعت کے منافی ہے۔
فیڈرل شریعت کورٹ نے 2022 میں ایک اہم فیصلہ (PLD 2022 FSC 25) میں
واضح کیا کہ خلع کے وقت مہر کا کوئی حصہ (25٪ یا 50٪) لازمی طور پر واپس لینا غیر
اسلامی ہے، کیونکہ قرآن و سنت میں ایسی کوئی پابندی موجود نہیں۔اس عدالتی نظیر کے مطابق
اسلام آباد فیملی کورٹ کا یہ فیصلہ، جس میں 50٪ مہر واپس کرنے کا حکم دیا گیا، اسلامی
اصولوں کے منافی ہے۔ 16
اس تجزیے سے یہ بات نفقے کا تعین اور ناقابلِ ثبوت دعووں کو مسترد کرنا۔ لیکن مہر
کے 50٪ کی واپسی کو لازم قرار دینا نہ قرآن و سنت سے ثابت ہے، نہ ہی فقہی آراء میں اس کی
کوئی بنیاد موجود ہے۔
ہمیں قرآن وسنت اور فقہاءکی آراءکامطالعہ کرتےہوئےزیرِ نظر مقدمہ اور اس پر کیے
گئے تحقیقی و تنقیدی جائزے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ خلع اور تنسیخِ نکاح اسلامی
خاندانی قوانین میں نہایت نازک اور باریک موضوعات ہیں جنہیں بڑی احتیاط، دقتِ نظر اور قرآن
و سنت کی روشنی میں سمجھنے اور نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ اسلام آباد فیملی کورٹ کے اس
فیصلے میں جہاں بعض پہلو اسلامی تعلیمات کے عین مطابق نظر آتے ہیں، وہیں چند پہلو ایسے
بھی ہیں جو شریعت کے مزاج اور فقہی اصولوں سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔ ان دونوں پہلوؤں کا تجزیہ
اس مقدمے کے نتائج کو زیادہ واضح کرتا ہے۔سب سے پہلے یہ بات سامنے آتی ہے کہ عدالت نے
عورت کی درخواست کو تسلیم کرتے ہوئے نکاح کو ختم کر دیا۔ عورت نے عدالت میں یہ بیان دیا
کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ مزید زندگی گزارنے کی سکت نہیں رکھتی بلکہ اس کے نزدیک موت
کو ترجیح دینا زیادہ بہتر ہے۔ یہ صورتِ حال قرآنِ مجید کی اس آیت سے مطابقت رکھتی ہے جس
میں فرمایا گیا ہے:
"فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ” 17
اس آیتِ کریمہ سے یہ اصول اخذ ہوتا ہے کہ جب میاں بیوی کے درمیان نباہ ممکن نہ
رہے اور خدشہ ہو کہ وہ اللہ کی حدود کو قائم نہیں رکھ سکیں گے تو عورت کو یہ حق حاصل ہے
کہ وہ خلع کے ذریعے اپنی آزادی حاصل کرے۔ عدالت نے اسی قرآنی اصول کے مطابق عورت

16 Shariat Petition 16-I of 2022

17 لبقرہ 229

Page 8 of 14
کی عرض داشت کو تسلیم کیا اور نکاح کو ختم کر دیا، جو کہ ایک درست اقدام تھا۔اسی طرح
عدالت نے بچوں کے نفقے کی ذمہ داری شوہر پر عائد کی۔ یہ فیصلہ بھی قرآن و سنت کی روشنی
میں بالکل درست ہے کیونکہ اسلامی قانون میں بچوں کے نفقے کی ذمہ داری ہمیشہ باپ پر ہی
رہتی ہے۔ نبی اکرم ﷺ کی احادیث اور فقہی کتب میں اس بات پر صریح دلائل موجود ہیں کہ اولاد
کی کفالت اور اخراجات باپ کی ذمہ داری ہیں، خواہ نکاح باقی رہے یا ختم ہو جائے۔ عدالت نے
اسی اصول کے مطابق شوہر کو نفقے کا پابند بنایا اور اس پہلو میں اس کا فیصلہ عین شرعی
اصولوں پر مبنی تھا۔عدالت نے ان مالی دعوؤں کو بھی مسترد کر دیا جنہیں عورت ثابت نہ کر
سکی۔ یہ فیصلہ اصولِ شہادت کے مطابق ہے کیونکہ اسلامی شریعت کا ایک مسلمہ اصول ہے:
“البینۃ علی المدعی” یعنی دعویٰ کرنے والے پر دلیل اور ثبوت پیش کرنے کی ذمہ داری ہوتی ہے۔
جب مدعیہ اپنے دعوے کو شواہد سے ثابت کرنے میں ناکام رہی تو عدالت نے ان مطالبات کو
مسترد کر کے ایک اصولی اور عادلانہ رویہ اپنایا۔تاہم اس فیصلے کا سب سے متنازعہ اور قابلِ
تنقید پہلو یہ ہے کہ عدالت نے عورت پر یہ لازم کیا کہ وہ اپنے مہر کا پچاس فیصد حصہ شوہر
کو واپس کرے۔ اس شرط کا نہ قرآنِ مجید میں کوئی ذکر ہے، نہ ہی سنتِ نبوی ﷺ میں اس کی
کوئی نظیر ملتی ہے۔ خلع کے معاملے میں قرآن نے صرف یہ اصول دیا ہے کہ عورت کچھ مال
دے کر آزادی حاصل کر سکتی ہے، لیکن اس مال کی مقدار، شرح یا تناسب کے بارے میں کوئی
صریح حکم موجود نہیں۔ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ اور ان
کی اہلیہ کے واقعے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ عورت نے مہر کے طور پر دیا گیا باغ واپس
کرنے پر آمادگی ظاہر کی، اور آپ ﷺ نے اس پر خلع کو نافذ کر دیا۔ لیکن اس واقعے میں بھی
نصف یا چوتھائی مہر کی شرط عائد نہیں کی گئی۔
فقہائے کرام کی آراء بھی اس پہلو کو مزید واضح کرتی ہیں۔ امام مالک رحمہ اللہ اور دیگر
فقہاء اس بات کے قائل ہیں کہ اگر شوہر کے ظلم و زیادتی کی وجہ سے عورت خلع لے تو اس پر
مہر واپس کرنا لازم نہیں۔ البتہ اگر عورت محض اپنی ذاتی ناپسندیدگی یا خواہش کی وجہ سے خلع
لینا چاہے تو وہ مہر واپس کر سکتی ہے، لیکن اس کی مقدار حالات اور باہمی رضامندی پر
منحصر ہوتی ہے۔ امام ابو حنیفہ، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کے اصول بھی اسی بات کی
تائید کرتے ہیں کہ مہر کی واپسی کو کسی مخصوص شرح پر لازم قرار دینا درست نہیں ہے۔
اس ضمن میں فیڈرل شریعت کورٹ کا حالیہ فیصلہ (PLD 2022 FSC 25) نہایت اہم
ہے۔ اس فیصلے میں واضح طور پر کہا گیا کہ خلع میں کسی خاص فیصد (25٪ یا 50٪) کو
لازمی قرار دینا غیر اسلامی ہے کیونکہ قرآن و سنت میں ایسی کوئی پابندی موجود نہیں۔ اس
عدالتی نظیر کی روشنی میں اسلام آباد فیملی کورٹ کا یہ فیصلہ کہ عورت لازماً نصف مہر واپس
کرے، نہ صرف قرآن و سنت کے اصولوں سے متصادم ہے بلکہ پاکستان کے عدالتی نظام میں
موجود بالائی عدالتوں کے فیصلوں کے بھی خلاف ہے۔
یہاں یہ حقیقت بھی ملحوظ رہنی چاہیے کہ اسلام میں خلع کا اصل مقصد عورت کو
مشکلات اور اذیت سے نجات دلانا ہے۔ شریعت نے اس عورت کے لیے ایک ریلیف اور سہولت
کے طور پر رکھا ہے تاکہ وہ ناپسندیدہ زندگی سے آزادی حاصل کر سکے۔ لیکن اگر عدالتیں خلع
کے ساتھ لازمی طور پر مالی بوجھ منسلک کر دیں تو یہ شریعت کے اس مقصد کے خلاف ہوگا
جو “رفع الحرج” یعنی تنگی اور اذیت کو دور کرنا ہے۔ اسلام آباد فیملی کورٹ کے فیصلے نے
اس سہولت کو ایک بوجھ میں بدل دیا، جو اسلامی روح کے منافی ہے۔
اس مقدمے سے ایک اور اہم نکتہ یہ بھی سامنے آتا ہے کہ پاکستان کے عدالتی نظام میں
فیملی کورٹس کے فیصلے بعض اوقات فیڈرل شریعت کورٹ کی نظیروں سے ہم آہنگ نہیں ہوتے۔
اس سے عدالتی نظام میں تضاد اور غیر یقینی پیدا ہوتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ فیملی
کورٹس کو ایسے واضح رہنما اصول فراہم کیے جائیں جن کی بنیاد قرآن و سنت اور مستند عدالتی
نظائر پر ہو، تاکہ ان کے فیصلے شرعی اصولوں اور آئینی تقاضوں دونوں کے مطابق
ہوں۔مجموعی طور پر اس مقدمے کا نتیجہ یہ ہے کہ عدالت نے بعض پہلوؤں میں قرآن و سنت کی

Page 9 of 14
صحیح ترجمانی کی، مثلاً نکاح کے خاتمے کا فیصلہ، بچوں کے نفقے کا تعین اور غیر ثابت شدہ
دعوؤں کی تردید۔ لیکن مہر کے نصف حصے کی واپسی کو لازمی قرار دینا نہ قرآن سے ثابت
ہے، نہ سنت سے اور نہ ہی فقہی اصولوں سے۔ بلکہ یہ فیصلہ فیڈرل شریعت کورٹ کی صریح
ہدایات کے بھی خلاف ہے۔ اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس مقدمے میں عدالت کا فیصلہ جزوی
طور پر شریعت کے مطابق اور جزوی طور پر اس سے انحراف پر مبنی تھا۔آخر میں یہ کہا جا
سکتا ہے کہ خلع کو اسلام نے عورت کے لیے سہولت اور تحفظ کا ذریعہ بنایا ہے، لیکن پاکستان
کے عدالتی نظام میں بعض اوقات اس سہولت کو مالی بوجھ میں بدل دیا جاتا ہے۔ اگر عدالتیں قرآن
و سنت کے اصل مزاج کو سامنے رکھیں اور خلع میں ایسی غیر شرعی شرائط عائد نہ کریں تو یہ
نہ صرف اسلامی اصولوں کے مطابق ہوگا بلکہ عورتوں کے حقوق کے تحفظ کی بھی ضمانت
فراہم کرے گا۔ یہی وہ راستہ ہے جو اسلامی خاندانی قوانین کے حقیقی مقاصد کو پورا کرتا ہے
اور ازدواجی زندگی میں عدل و انصاف کو یقینی بناتا ہے۔
مقدمہ کی ابتداء سے فیصلہ تک تمام بحث سے یہ پتہ چلتا ہے کہ فریقین کے
درمیان کئی سال مقدمہ بازی ہوتی رہی مگر عدالت کے آخری فیصلہ کے مندرجات سے پتہ
چلتا ہے کہ عدالت نے دعویٰ اور جواب دعویٰ کے مندرجات کے مطابق فیصلہ تو صادر کر
دیا، مگر یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس عدالتی خلع کے فیصلہ سے معاشرہ میں
کوئی بہتری آ سکتی ہے؟ کیا فریقین کی مشترکہ اولاد کا اس فیصلہ سے مستقبل
محفوظ ہو گیا ہے؟ کیا مستقبل میں نابالغان کو ماں اور باپ دونوں کا پیار میسر آئےگا یا
دونوں فریقین مستقبل میں بھی سامان جہیز ،حق مہر اور نان و نفقہ کے سلسلہ میں مقدمہ
بازی ہی کا شکار رہیں گے؟
فیملی کورٹ 2023کے فیصلوں کاجائزہ :
اسلام آباد میں سال 2023ء میں خلع و تنسیخ نکاح کے مقدمات ایسٹ اورویسٹ
اسلام آباد دونوں کی مجموعی تعداد 2802ہے،ان میں صرف ایسٹ اسلام آباد ریکارڈ روم
کے مطابق 2023میں 1937کسسز ہے،ان مجموعی مقدمات میں سے558مقدمات
Contested تھے،یعنی یہ ایسے مقدمات تھے جس میں دونوں فریقین نے باقاعدہ اپنے
اپنے موقف کا دفاع کیا اور فیصلہ ہونے تک حاضر عدالت رہے جبکہ 1380 مقدمات
Uncontested تھے یعنی ایسے مقدمات تھےجن میں فیصلہ کسی ایک فریق کےحق
میں "یکطرفہ”ہوا۔ لہٰذا سال 2023میں خلع کے مقدمات اسلام آباد کی فیملی کورٹ سے
صادر کئے گئے، Uncontested جس کی شرح 67فیصد بنتی ہے۔
سال 2023ءسےجن مقدمات کو تحقیق کی غرض سے منتخب کیاگیا ان میں
شمشاد بیگم بنام شاہد خان آفریدی بتاریخ 2023-12-11، دعویٰ تنسیخ نکاح ونان ونفقہ
وغیرہ، سردار بابر خان بنام عرفان نسیم 2023-12-15، دعویٰ تنسیخ نکاح و سامان جہیز،
خالد شبیر راجہ بنام ڈاکٹر ماریہ 2023-12-04، دعویٰ تنسیخ نکاح وتشدد وغیرہ،شامل
ہیں،تفصیل کیلئے ہمارے پاس جو فیصلہ ہے ان کا نکاح 2023ءاور تنسیخ نکاح
جنوری 2024ء میں ہوا ہے،مسماة مقدس بنام نجم امیر 2024-01-05،کےمقدمہ اور عدالتی
فیصلہ کا شریعت اسلامی کی روشنی میں تفصیلی جائزہ پیش کیا جارہا ہے؛
عنوان مقدمہ
عنوان:مسماة مقدس بنام نجم امیر(دعویٰ تنسیخ نکاح ونان و نفقہ وغیرہ)
مرجوعہ:2024-01-05
فیصلہ:2024-09-26
تفصیل مقدمہ

Page 10 of 14
مورخہ 2024-01-05کو دعویٰ میں مدعیہ مسماة مقدس بی بی کی جانب
سے درج ذیل اہم نکات تحریر کئے گئے:
یہ کہ مدعیہ کی شادی مورخہ 2023-09-10کو مسلم رسومات کے مطابق ہوئی تھی
مدعاعلیہ کےگھر آباد ہوکر حقوقِ زوجیت ادا کرنے لگی۔بعد ازاں کچھ عرصہ تک اس نے نکاح
کی پابندی کی۔ یہ کہ شادی کےبعد کچھ عرصہ تک مدعاعلیہ کاسلوک درست رہا مگر بعد میں
تبدیل ہونا شروع ہوگیا۔مدعیہ کے علم میں یہ بات آئی کہ مدعاعلیہ برے کردار کا آدمی (بدکردار
)ہے،مدعاعلیہ نے غلط کردار کی عورتوں کے ساتھ ناجائزتعلقات استوار کرلئے۔مدعیہ منع کرتی
تو مارپیٹ کرتا،خرچہ نان و نفقہ سے تنگ رکھتا،مدعیہ بیوی ہونے کے ناطے اور اپنے والدین
اور بھائیوں کی عزت کی خاطر مدعاعلیہ پر ظلم وستم برداشت کرتی رہی،مگرپھربھی مدعاعلیہ
کےرویہ میں تبدیلی نہ آئی۔ کہ وہ اپنی راہیں درست کر لے لیکن بار بار کی درخواست کے باوجود
کوئی نتیجہ نہ نکلا۔اورمدعاعلیہ نےمدعیہ کو تین کپڑوں میں مار مار کر گھر سے نکال دیا۔ مدعیہ
کے والدین نے مدعاعلیہ کو سمجھایا کہ وہ اپنا گھر خراب نہ کرے اور من محلفہ کو آباد کرے
لیکن مدعاعلیہ نے میرے والدین کے ساتھ بھی بدتمیزی کی،اب تک مدعاعلیہ نے من محلفہ کی آج
تک خیرگیری نہ کی ہے۔ان حالات میں مدعیہ کو مدعاعلیہ سےسخت نفرت ہوچکی ہےاور اس
کے ساتھ حدود اللّٰہ رہنا ناممکن ہے۔ لہٰذا مدعیہ تنسیخ نکاح بربنائے خلع کی حق دار ہے۔ تاہم مدعیہ
کو اس سے علیحدگی چاہئیے لیکن وہ طلاق نہیں دےرہاتو عدالت سے درخواست ہے کہ مدعیہ کو
خلع کی ڈگری جاری کی جائے۔
مورخہ 08.04.2024 کومدعا علیہ کی حاضری کو یقینی بنانے کے لیے تمام
حربےاورذرائع اطلاعات اختیار کیے گئے، لیکن اگر وہ حاضر نہ ہوا تو بالآخر اس کے
خلاف یکطرفہ کارروائی کا حکم جاری کیاجائےگا۔ اپنے دعویٰ کو ثابت کرنے کے لیے،
مدعیہ خود بطور گواہ (PW-1) گواہی کے لیے پیش ہوئی اور اپنا حلفیہ بیان EX.P-
1 کے طور پر جمع کروایا، جس میں اس نے دعویٰ میں کی گئی اپنی باتوں کی تصدیق
کی۔ مزید یہ کہ نکاح نامہ کی فوٹو کاپی EX.P-2 کے طور پر دستاویزی ثبوت کے طور
پر پیش کی گئی، جو فریقین کے درمیان تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔ لہذٰا دونوں
فریقین مصالحت پر راضی نہ ہونے کی صورت میں معزز عدالت نے تنقیحات وضع
کردیں۔ 18
فیصلہ کے پیراگراف نمبر 2 میں دعوی کو مکمل تفصیل کا ذکر کیا گیا، پیراگراف
نمبر3میں مدعی کی جانب سے غیر حاضر ہونےکا ذکر کرنے کے بعد پیراگراف نمبر 6 میں
فاضل جج صاحب کی جانب سے وضع کی گئیں تنقیحات (Framing of Issues ) پیش کی گئیں
،پیراگراف نمبر7 میں مدعیہ کی جانب سے پیش کی گئی شہادت اور پیراگراف نمبر 7 میں ابتدائی
و آخری مصالحت کا ذکر کیا گیا کہ عدالت کی جانب سے دونوں فریقین کو مصالحت کے لیے
وقت اور موقع دیا گیا مگر مصالحت ناکام ثابت ہوئی ۔پیراگراف نمبر 8 تا پیراگراف نمبر 32 میں
فاضل عدالت کی جانب سے بنائی گئی تنقیحات درج ذیل ہیں۔
عدالت کی جانب سے بنائی گئی تنقیحات (Framing Of Issues)
تنقیح نمبر1
مدعاعلییہ کی مسلسل غیر حاضری، باوجود اس کے کہ عدالت نے تمام ممکنہ ذرائع
(نوٹس، سمن، اخبارات کے اشتہار، وغیرہ) سے اس کی حاضری کو یقینی بنانے کی کوشش کی،
یہ ثابت کرتی ہے کہ وہ مقدمہ کو سنجیدگی سے لینے یا اپنی پوزیشن واضح کرنے پر آمادہ نہ

18 مسماة مقدس بنام نجم امیر، دعویٰ تنسیخ نکاح ودلاپانے نان و نفقہ وغیرہ،بعدالت جناب صنم بخاری،سینئر سول جج فیملی کورٹ،اسلام
آباد،تاریخ فیصلہ2024-09-26 صفحہ31

Page 11 of 14
تھا۔عدالت کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ رہا کہ وہ فیملی قوانین 1964ء کے تحت فراہم
کردہ اختیار کے مطابق ex-parte کارروائی کرے۔

all modes of service have been adopted in order
to procure the attendance of defendant but he
did not appear and ultimately proceeded against
ex-parte vide order dated 08-04-2024 19
کیا مدعا علیہ کی عدم حاضری کی صورت میں عدالت کی جانب سے یکطرفہ کارروائی
(Ex-parte Proceedings) اسلامی اصولِ عدل اور پاکستانی فیملی قانون کے مطابق ایک
درست قدم تصور کی جا سکتی ہے؟اسلامی شریعت بھی ایسی صورت حال میں قاضی کو یہ اختیار
دیتی ہے کہ جب ایک فریق بلانے کے باوجود حاضر نہ ہو، تو وہ موجود شہادت کی روشنی میں
مظلوم فریق کے حق میں فیصلہ کر دے۔لیکن اگر مدعاعلیہ کو خبر پہنچی نہ ہو تو شرعی اصولوں
کے مطابق فیصلہ معلق (suspended) یا قابلِ اعتراض قرار دیا جائے گا۔ ایسی صورت میں
مدعا علیہ کو بعد میں اعتراض کا شرعی حق حاصل ہے۔

"لَا يَجُوْزُ الحُكْمُ عَلٰى الغَائِبِ إلّا بَعْدَ بُلُوغِ الدّعْوٰى إليْهِ.” 20
(یعنی: کسی غیر حاضر فریق کے خلاف فیصلہ جائز نہیں، جب تک کہ دعویٰ اس

تک نہ پہنچ جائے۔)
عصر حاضر میں فیملی کورٹس میں بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ شوہر (مدعا علیہ) کی
مسلسل غیر حاضری کی وجہ سے عدالت، قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد، یکطرفہ طور پر
خلع کی ڈگری جاری کر دیتی ہے۔ تاہم، عملی مشاہدہ یہ ہے کہ بعض شوہروں کو عدالتی فیصلے
کا علم عدت گزر جانے کے بعد ہوتا ہے، جبکہ مدعیہ نے دوسری شادی کے لیے اقدامات شروع
کر دیے ہوتے ہیں۔ اس طرح کئی شرعی اور سماجی پیچیدگیاں جنم لیتی ہیں۔
یہ صورتحال کئی اہم سوالات کو جنم دیتی ہے:
کیا مدعا علیہ کو واقعی اطلاع ملی تھی یا صرف نوٹس بھیجنے کی رسمی کاروائی کی
گئی؟اگر مدعا علیہ لاعلم رہا اور عدت بھی گزر گئی، تو اس کے شرعی حقوق کا کیا بنے گا؟کیا
مدعیہ کی دوسری شادی شرعاً درست ہوگی اگر سابق شوہر کو علم ہی نہ تھا؟
یہ تمام سوالات اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ عدالتی خلع کے فیصلے میں
ابلاغ (Communication) کی مکمل تصدیق اور فریقین کو علم کی ضمانت دینا ضروری ہے،
ورنہ انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوتے، خواہ عدالتی عمل قانونی ہو۔
تنقیح نمبر2
زیرِ بحث مقدمہ ایک ایسی معاشرتی حقیقت کی بھرپور عکاسی کرتا ہے جس میں ایک
عورت ازدواجی زندگی نبھانے کی ہر ممکن کوشش کے باوجود، شوہر کے بدکردار رویے،
مارپیٹ، اور اخلاقی پستی کے باعث مجبور ہو جاتی ہے کہ وہ عدالت سے علیحدگی کی درخواست
کرے۔یہ صورت حال محض ازدواجی ناکامی نہیں بلکہ اس بات کی علامت ہے کہ جب شوہر، جو
خاندان کی قیادت اور حفاظت کا فطری و شرعی ذمہ دار ہوتا ہے، خودی کے معیار سے گر جائے
تو بیوی کی عزت، امن اور دین دونوں خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔مدعیہ نے رخصتی کے بعد
ازدواجی زندگی کو نبھانے کی کوشش کی، سمجھایا، برداشت کیا، حتیٰ کہ شوہر کے تشدد کے بعد
بھی خاموشی اختیار کی، لیکن جب معاملہ گھریلو ظلم اور اخلاقی بے راہ روی سے تجاوز کر کے
زندگی اور عزت کے خطرے تک پہنچ گیا، تو اس کے لیے علیحدگی ہی واحد راستہ بچا۔
یہ معاملہ ہمیں ایک اہم نکتہ سکھاتا ہے:

19 ایضاً،صفحہ31
20 المبسوط، جلد 16، ص 43

Page 12 of 14
نکاح صرف جسمانی یا قانونی بندھن نہیں بلکہ ایک اخلاقی، دینی اور انسانی معاہدہ ہے۔
جب اس معاہدے کے بنیادی اصول یعنی دیانت، شفقت، امانت، اور وفاداری پامال ہو جائیں، تو
عورت کو خلع لینا نہ صرف اس کا حق بن جاتا ہے بلکہ بعض اوقات اُس کی دینی ذمہ داری بن
جاتی ہے۔یہاں عورت نے نہ تو طمع کی بنیاد پر خلع مانگا، نہ عجلت سے کام لیا، بلکہ شوہر کی
اصلاح کی ہر ممکن کوشش کی۔ مگر جب مرد کی بدکرداری اس حد تک بڑھ گئی کہ عزت، دین
اور امن داؤ پر لگ گیا، تو عدالت سےرجوع کرناپڑا۔

Succinctly, Facts of the case are that plaintiff
filed a suit for dissolution of marriage on the
basis of khula by maintaining that her marriage
was solemnized with defendant on 10-09-2023
according to Muslim right. After the Rukhsati,
the plaintiff came to the house of defendant
where, she initially remained with the
defendant and performed her matrimonial
obligations; after some time of marriage, it
came into the knowledge of the plaintiff that
the defendant is a bad character person and he
has illicit relations with bad repute ladies. That
plaintiff requested the defendant many times to
leave such nefarious activities and mend his
ways but inspite of repeated requests, result
remained nil and the defendant expelled the
plaintiff with severe beaten from his house in
three clothes, now the plaintiff is residing with
her parents. Hence, it has become impossible
for plaintiff to live with the defendant within the
limits ordained by Almighty Allah 21 .
جب عورت نکاح کے بعد ازدواجی ذمہ داریاں نبھانے کے باوجود اس نتیجے پر پہنچے کہ
شوہر بدکردار ہے، اصلاح پر آمادہ نہیں، اور نوبت ظلم و تشدد تک جا پہنچے، تو کیا ایسی
صورت میں عدالت کا خلع دینا اسلامی حدود کے مطابق شمار ہوگا؟اسلامی شریعت میں نکاح کو
ایک مقدس معاہدہ قرار دیا گیا ہے جو محبت، امانت، وفاداری اور باہمی سکون پر قائم ہوتا ہے۔
جب ان بنیادی اقدار کی مسلسل پامالی ہو اور ازدواجی زندگی خوف، بے یقینی، اور بے عزتی کا
شکار ہو جائے، تو اسلام ایسی عورت کو محض زنجیروں میں جکڑے رہنے کا حکم نہیں دیتا،
بلکہ اسے نکلنے کی راہ دیتا ہے یعنی خلع۔زیرِ بحث معاملہ ان معاشرتی حقیقتوں کا عکاسی کرتی
ہے جہاں عورت نے اپنی ذمہ داری نبھائی، رخصتی کے بعد شوہر کے ساتھ رہ کر ازدواجی
فرائض انجام دیے، مگر جب اسے معلوم ہوا کہ شوہر فحش عورتوں سے ناجائز تعلقات رکھتا ہے،
اور اس پر نصیحت و فہمائش بھی بے اثر رہی، بلکہ اس پر ظلم و مارپیٹ شروع ہو گئی، تو
ایسے حالات میں عورت کے لیے نہ صرف یہ کہ علیحدگی لینا جائز ہے، بلکہ یہ اس کا شرعی و

21 ایضاً،صفحہ30

Page 13 of 14
انسانی حق بھی ہے۔ایسے مرد جو بیوی کی عزتِ نفس، ذہنی سکون، اور دینی سلامتی کو مجروح
کریں، وہ درحقیقت خود حدودِ الٰہی کو توڑ رہے ہوتے ہیں۔ اور جب نکاح کے بندھن میں رہنا
"حدود اللہ” کے اندر ممکن نہ رہے، تو عورت کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ خلع کے ذریعے خود کو
اس ظلم سے نجات دلائے۔عدالت کا کردار یہاں قاضی الشرع کے قائم مقام کے طور پر سامنے آتا
ہے، جو دونوں فریقین کو سنے، مصالحت کی کوشش کرے، اور اگر کوئی راستہ باقی نہ رہے تو
مظلوم فریق کے حق میں فیصلہ دے۔لہٰذا ایسے فیصلے جہاں عدالت نے مدعیہ کی شہادت، بیان،
اور حقائق کی بنیاد پر خلع کی ڈگری جاری کی، وہ شریعت کے عین مطابق ہیں اور ظلم سے
نجات کا ایک راستہ فراہم کرتے ہیں۔
اسلامی شریعت کا معیار "حدود اللہ” کی خلاف ورزی پر نکاح کو ختم کرنے سے متعلق
کیا ہے؟شوہر کی بدکرداری (فواحش، تشدد، ترکِ نان و نفقہ) کو خلع کی شرعی بنیاد بنانا کس حد
تک درست ہے؟عورت کی طرف سے اصلاح کی کوشش اور پھر عدالت کا کردار شریعت کی
روشنی میں؟کیا ایسے مقدمات عورت کے تحفظ اور انصاف کے شرعی اصولوں کی نمائندگی
کرتے ہیں؟
تنقیح نمبر3
عدالتی اقتباس سے ظاہر ہے کہ مدعیہ نے بطور اولین گواہ خود عدالت میں پیش ہو کر
بیان حلفی Ex.P-1 دیا، جو کہ اس کے دعوے کی تائید میں انتہائی اہم ابتدائی شہادت ہے۔ اس کے
ساتھ نکاح نامے کی فوٹو کاپی Ex.P-2بحیثیت ثبوت پیش کی گئی، جو فریقین کے درمیان
ازدواجی تعلق کی تصدیق کے لیے کافی تھی، کیونکہ نکاح ایک حقیقی معاملہ ہے جو صرف
دستاویز پر منحصر نہیں ہوتا۔
یہ بھی قابل ذکر ہے کہ اصل نکاح نامہ مدعیہ کے بجائے مدعا علیہ کے قبضہ میں تھا،
اور ایسا اکثر عورتوں کے کیسز میں ہوتا ہے۔ اس صورت میں قانون اجازت دیتا ہے کہ اگر اصل
دستاویز مخالف فریق کے پاس ہے اور وہ اسے پیش نہیں کرتا تو اس کا متبادل (فوٹو کاپی) قابل
قبول شہادت کے طور پر مانا جا سکتا ہے، بشرطیکہ اس کی صداقت بادی النظر میں ظاہر ہو۔
لہٰذا مدعیہ کی طرف سے دی گئی ابتدائی زبانی گواہی اور نکاح نامہ کی فوٹو کاپی، عدالت کے
نزدیک ابتدائی دعوے کو ثابت کرنے کے لیے کافی قرائن و شواہد پر مبنی بنیاد فراہم کرتی ہے۔
To prove her claim, plaintiff herself appeared in
the witness box as pw-1 and sworn her affidavit
as Ex.p-1, wherein she has solemnly affirmed
regarding her contention contained in the
plaint. Further, photocopy of Nikahnama, which
show the relationship between the parties was
produced as Ex.p-2 as documentary evidence 22 .
کیا کسی مقدمہ میں جب مدعیہ Plaintiff خود بطور گواہ PW-1عدالت میں پیش ہو کر
بیان حلفی جمع کراتے ہوئے اپنے دعویٰ کی تصدیق کر دے، اور نکاح نامے کی فوٹو کاپی
Ex.P-2 بطور دستاویزی شہادت پیش کرے، تو یہ ثبوت اس صورت میں قابلِ قبول ہوں گے جبکہ
اصل نکاح نامہ مدعا علیہ کے پاس ہے اور وہ جان بوجھ کر اصل دستاویز پیش نہیں کر رہا؟
اس سوال کے تناظر میں، عدالتی نظائر اور قانون شہادت آرڈیننس کے مطابق، جب کسی
مقدمہ کی اصل دستاویز کسی ایسے فریق کے قبضہ میں ہو جو اسے پیش نہ کرنا چاہے تو
دوسرے فریق کو قاعدہء انصاف کے تحت فوٹو کاپی یا ثانوی شہادت پیش کرنے کا اختیار حاصل
22 ایضاً،صفحہ31

Page 14 of 14
ہے۔ قانونی اصول یہ ہے کہ اگر کوئی فریق عدالت میں جان بوجھ کر اصل دستاویز پیش نہیں کرتا
تو اس کے مقابل صداقت پر مبنی متبادل شہادت قبول کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ متعلقہ دستاویز
کی حقیقت existence اور مصدقہ معلومات authenticity دیگر دستیاب شواہد سے ثابت ہو
جائیں (قانون شہادت آرڈیننس 1984ء)۔ مدعیہ کا بطور گواہ پیش ہو کر بیان دینا بھی اس کے
دعوے کو تقویت دیتا ہے، خصوصاً جب متعلقہ نکاح نامے کے اصل ہونے سے فریق مخالف بھی
انکار نہ کرے، بلکہ فقط فرد عمل میں رکاوٹ بن رہا ہو۔ اس لیگل اصول کی بنیاد پر، متعدد
پاکستانی عدالتی فیصلوں میں بھی فوٹو کاپی یا متبادل شہادت کو جواز دیا گیا جس وقت اصل
دستاویز مخالف فریق کے کنٹرول میں ہو اور وہ دانستہ طور پر پیش نہ کرے (Supreme
Court, PLD 2016 SC 457)۔ اس لیے مدعیہ کی طرف سے دی گئی زبانی شہادت اور پیش
کردہ فوٹو کاپی مکمل قانونی وقعت رکھتی ہے اور عدالت فیصلہ صادر کرتے وقت اسے قابل قبول
شہادت قرار دے سکتی ہے۔
تنقیح نمبر4
یہ فیصلہ اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ جب مدعا علیہ دعوے پر کوئی اعتراض نہیں
کرتا تو عدالت صرف مدعیہ کے شواہد اور بیانات کو بنیاد بنا کر فیصلہ سناتی ہے۔ یہ طریقہ
انصاف کے اس اصول کو اجاگر کرتا ہے کہ کسی بھی دعوے پر غیر حاضری یا خاموشی خود
بخود مدعی کی سچائی کو تقویت دیتی ہے اور عدالت کے فیصلے کو آسان بنا دیتی ہے ۔
plaintiff has claimed dissolution of marriage on the
basis of khula and defendant has not opted to
contest her claim, hence the court has no other
option, but to accept the evidence of the plaintiff
as gospel truth 23 .
اگر مدعیہ خلع کی بنیاد پر نکاح کے خاتمے کا دعویٰ کرے اور مدعا علیہ اس دعوے کو
چیلنج نہ کرے، تو کیا عدالت مدعیہ کے بیان کو یقینی طور پر سچ تسلیم کر کے فیصلہ دینے کی
پابند ہے؟ اس عدالتی رویے کے معاشرتی اور قانونی اثرات کیا ہیں؟اس کیس میں خلع کی بنیاد پر
نکاح کے خاتمے کے دعوے پر مدعا علیہ نے خاموشی اختیار کی، جس نے مدعیہ کا موقف یک
طرفہ طور پر طاقتور بنا دیا۔ قانونی لحاظ سے عدالت کسی بھی دعوے میں ہمیشہ دونوں فریقین
کے دلائل اور شواہد کو برابر موقع دینے کی کوشش کرتی ہے، تاکہ کوئی فریق ناانصافی کا شکار
نہ ہو۔ مگر جب مدعا علیہ کوئی دفاع پیش نہ کرے تو عدالت ناقدانہ سوچ کے تحت صرف مدعی
کی گواہی کو حقیقت تصور کرتی ہے اور اسی بنیاد پر حتمی فیصلہ سناتی ہے۔ ایسے میں قانونی
اصول یہ کہتا ہے کہ سچائی کو تلاش کرنے میں مدعا علیہ کی غیرحاضری یا خاموشی مدعی کے
حق میں جاتی ہے۔ اس کا ایک بڑا معاشرتی اثر یہ ہے کہ خواتین خلع کی صورت میں اعتماد سے
عدالت جا سکتی ہیں کہ جب ان کے شوہر خاموشی اختیار کریں تو عدالتی نظام ان کے حق میں
فیصلہ دے گا۔ تاہم اس سے عدالتی ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے کہ وہ صرف قانون کے مطابق
اور انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرے، تاکہ کسی بھی فریق کے ساتھ
زیادتی نہ ہو۔
تنقیح نمبر5

23 ایضاً،صفحہ31

Page 15 of 14
عدالت نے خلع کی بنیاد پر شادی توڑنے کی مدعیہ کی درخواست منظور کر لی۔ ساتھ یہ
بھی حکم دیا کہ اگر مہر ادا ہوا ہے تو وہ بطور زرِ خلع واپس کرنا ہو گا۔ یہ فیصلہ قانون کے
مطابق ہے اور خواتین کو عدالتی تحفظ فراہم کرتا ہے۔

Upon considering all the pros and corns of the
matter, the suit of the plaintiff for dissolution of
marriage is hereby decreed in her favour against
the defendant. marriage of the plaintiff stands
dissolved on the basis of khula and dower
amount is treated as Zar-e-khula. plaintiff will
return the dower to the defendant, if any, as per
law. Decree sheet be prepared accordingly.
Certified photocopy of decree be sent to the
Union Council concerned for necessary action as
ordained U/S 21 (2)of Family Court Act.1964. No
order as to costs. File be consigned to record
room, after its due completion 24 .

کیا عدالتی خلع کے بعد شوہر کی رضامندی کے بغیر بھی نکاح کو ختم کیا جا سکتا ہے، اور اس
صورت میں شریعت و پاکستانی قوانین اس فیصلے کی کیا حمایت کرتے ہیں؟عدالتی خلع کا تصور
اسلامی شریعت اور پاکستانی قانون دونوں میں واضح ہے۔ بیوی اگر شوہر سے ناپسندیدگی یا
ازدواجی زندگی میں ہم آہنگی نہ ہونے کی بنیاد پر خلع کا مطالبہ کرے تو فیملی کورٹس ایکٹ
1964 کے مطابق اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ عدالت سے نکاح کے خاتمے کی درخواست دے
سکتی ہے، چاہے شوہر راضی ہو یا نہ ہو۔ پاکستانی عدالتیں اس مقدمہ پر سماعت کر کے بیوی کی
گواہی اور دلائل کی روشنی میں بسا اوقات شوہر کی غیر حاضری یا عدم دلچسپی پر بھی نکاح
ختم کر دیتی ہیں اور شوہر کی جانب سے اعتراض نہ آنے پر فیصلہ بیوی کے حق میں ہوتا ہے۔
شریعت میں بھی خلع کے لیے مالی تصفیہ (مہر) واپس کرنے کی شرط آتی ہے، اور عدالتی حکم
کے بعد ازدواجی بندھن کو مکمل طور پر ختم مانا جاتا ہے۔ اس سے خواتین کو معاشرتی سطح پر
تحفظ، آزادی سے زندگی گزارنے کا حق اور انصاف ملتا ہے۔ تاہم، اس کا غلط استعمال روکنے
کے لیے عدالتی نگرانی اور قانونی رہنمائی لازم ہے تاکہ دونوں فریقین کے حقوق محفوظ رہیں
اور معاشرتی توازن برقرار رہے۔
اسلامی تعلیمات کی روشنی میں فیصلہ(Judgment) کاجائزہ
اسلام ایک آفاقی مذہب ہے جس نے زندگی کے کسی بھی شعبے کو ادھورا نہیں چھوڑا۔
انسانی زندگی کے وہ تمام امور جو زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہیں اس کی جزئیات تک
کے بارے میں شریعتِ اسلامی میں احکامات موجود ہیں۔ درج ذیل آیات میں اسلام کا سارا سیاسی
،قانونی اور دستوری نظام موجود ہے۔ ارشادِ باری تعالٰی ہے:

"اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ۔وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ
اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِؕاِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا یَعِظُكُمْ بِهٖاِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا” 25
"(مسلمانو!)بے شک اللّٰہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی
ہیں انہیں سپرد کرو اور یہ کہ جب تم لوگوں میں فیصلہ کرو تو

24 ایضاً،صفحہ31
النساء(4)58 25

Page 16 of 14

انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔ بے شک اللہ تمہیں کیا ہی خوب
نصیحت فرماتا ہے بے شک اللّٰہ سنتا دیکھتا ہے”
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کسی بھی معاشرے میں جو سیاسی نظام قائم کیا
جاتا ہے ،اس میں مختلف مناصب ہوتے ہیں، جن کے ساتھ مخصوص اختیارات اور ذمہ داریاں
وابستہ ہوتی ہیں۔ لہٰذا ،ان مناصب کے انتخاب میں دی جانے والی رائے ایک امانت کے طور پر
شمار ہوتی ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ رائے دہی میں مکمل سوچ بچار اور دیانتداری سے کام لیا
جائے، تاکہ حقدار کو اس کا جائز مقام مل سکے ۔اگر کوئی شخص محض ذات برادری ،رشتہ
داری ،ذاتی مفاد یا کسی دباؤ کے تحت اپنی رائے کسی کے حق میں استعمال کرے تو یہ ایک
کھلی خیانت ہوگی۔حق رائے دہی ایک اہم امانت ہے اور اس کا درست استعمال ہر شہری کی
اخلاقی اور شرعی ذمہ داری ہے ۔عام طور پر بھی امانت کی حفاظت لازم ہے اور جو بھی امانت
کسی کے سپر دکی جائے ،اسے دیانتداری سے واپس لوٹانا ضروری ہے ۔لیکن یہاں یہ اصول
صرف انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی زندگی کے ایک بنیادی قاعدے کے طور پر سامنے آتا ہے۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ جب لوگوں کے معاملات میں فیصلہ کیا جائے تو مکمل عدل و انصاف
کے ساتھ کیا جائے ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کا انتخاب اہلیت کی بنیاد پر ہونا چاہیے، جبکہ
عدلیہ کو ہر طرح کے تعصب اور تفریق سے پاک رکھ کر عدل و انصاف کی فراہمی یقینی بنائی
جائے۔
عام طور پر جب بھی کسی خاندان میں اس طرح کے مسائل پیدا ہوں کہ نوبت عدالت تک
جا پہنچے تو سب سے پہلا مرحلہ اچھے اور پیشہ ور وکیل کی تلاش ہوتا ہے جو خاندان کے
موقف کو دروست اور احسن طریقے سے عدالت کے روبرو پیش کر سکے ۔لہذا زیر نظر مقدمہ
میں بھی مدعیہ کے وکیل نے دعویٰ دائر کرتے ہوئے قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے متعلقہ
عدالت میں دعویٰ دائر کیا۔ مورخہ 2024-09-26 کو کونسل فریقین کی بحث آخیر سماعت کرنے
کے بعد فاضل عدالت نے متذکرہ بالا مقدمہ نمبر ی U/S 21(2) of Family Court
Act.1964.دائرشدہ مورخہ 2024-09-05 کا فیصلہ صادر فرمایا جس کے چند اہم نکات درج
ذیل ہیں:
مقدمہ”مسماة مقدس بنام نجم امیر” میں عدالت نے جو فیصلہ صادر کیا، وہ نہ صرف
پاکستان کے فیملی قوانین کے مطابق ہے بلکہ شریعتِ اسلامی کے اصول عدل و مساوات کی
مکمل ترجمانی کرتا ہے۔ مدعیہ نے جب عدالت سے رجوع کیا تو اس کی شکایت محض جذباتی یا
وقتی نہیں تھی، بلکہ وہ ایک مسلسل ظلم، بدسلوکی اور جذباتی و جسمانی اذیت کی داستان تھی،
جس کا اثر اس کی ازدواجی زندگی اور ذہنی سکون پر گہرا ہو چکا تھا۔
سب سے پہلے عدالت نے مدعیہ کا مکمل بیان حلفیہ (Affidavit) ریکارڈ کیا، جس میں
مدعیہ نے نہایت سنجیدگی سے اپنی ازدواجی زندگی کی حقیقت کو عدالت کے سامنے رکھا۔ اس
میں شوہر کی بدکرداری، ناجائز تعلقات، مارپیٹ، نان و نفقہ کی عدم ادائیگی، اور عزت نفس کو
مجروح کرنے جیسے نکات شامل تھے۔فیملی کورٹ کا فریضہ ہوتا ہے کہ وہ میاں بیوی کے
درمیان صلح و صفائی کی ہر ممکن کوشش کرے۔ چنانچہ عدالت نے اس مقدمے میں بھی دونوں
فریقین کو مصالحت کے لیے متعدد مواقع دیے، لیکن شوہر کی عدم دلچسپی، عدم حاضری اور
بدزبانی کے باعث مصالحت ممکن نہ ہو سکی۔مدعیہ نے جو نکاح نامہ عدالت میں بطور دستاویزی
شہادت جمع کروایا (Ex.P-2)، وہ دونوں فریقین کے درمیان ازدواجی رشتے کو ثابت کرتا ہے۔
مزید یہ کہ مدعیہ کا بیان حلفی (Ex.P-1) قانونی شہادت کے زمرے میں آتا ہے، جس کی بنیاد پر
عدالت نے مقدمے کو یکطرفہ طور پر آگے بڑھایا۔عدالت نے مدعا علیہ کو کئی مرتبہ نوٹس جاری
کیے، مگر وہ عدالت میں حاضر نہ ہوا، جو قانوناً عدالت کے لیے یہ جواز فراہم کرتا ہے کہ وہ
ex-parte (یکطرفہ) کارروائی کرتے ہوئے فیصلہ سنائے۔ اسلامی اصول بھی فی الجملہ یہی

Page 17 of 14
کہتے ہیں کہ جب مرد طلاق دینے سے انکار کرے اور عورت نجات چاہتی ہو، تو قاضی کو حق
حاصل ہے کہ وہ نکاح فسخ کر دے۔عدالت نے مدعیہ کے بیانات، شہادت، حالات و واقعات، اور
مدعا علیہ کی غیراخلاقی روش کو دیکھتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اس رشتے کا جاری رہنا نہ
صرف مدعیہ پر ظلم ہو گا بلکہ شریعت کی حدود کی خلاف ورزی بھی ہوگی۔ عدالت نے اس بنیاد
پر خلع کی ڈگری جاری کی۔
عدالتوں میں دائر کیے جانے والی عائلی مقدمات میں خواتین کی طرف سے اکثر و بیشتر
ایک جیسی الفاظ و الزامات ہی پیش کیے جاتے ہیں جس کی بڑی وجہ وکلاء حضرات ہیں۔ سائلین
کا موقف سننے کے بعد وکلاء حضرات یا تو خالی کاغذپر فوراً دستخط کروا لیتے ہیں کہ ہم دعویٰ
بعد میں لکھ لیں گے یا سائلین کی موجودگی میں دعویٰ کے مندرجات لکھ کر یا کمپوز کر کے
فوراً دستخط کروا لیے جاتے ہیں اور اکثر سائلین کو اپنا دعویٰ ٹھیک سے پڑھنے کا موقع بھی
نہیں مل پاتا۔ وکلا حضرات کی جانب سے ایسا کرنے کی وجہ یہ ہوتی ہےکہ جو بھی سائل ان کے
پاس آیا ہے ایک تو اسے فوراً تسلی ہو جائے کہ ہمارا مقدمہ بھی تحریر ہو گیا ہے اور پہلی
فرصت میں دائر کردیا جائے گا دوسری اور اہم وجہ یہ ہوتی ہیں کہ و کلا حضرات فوری کاروائی
کرنے کے بعد اپنی فیس حاصل کرنے کے مجاز ٹھہرتے ہیں۔ اس معاملے میں جلد بازی کی وجہ
سے تحریر کیا جانے والا دعویٰ اکثر وہ بیشتر ملتے جلتے الفاظ اور کروائی پر مشتمل ہوتا ہے
۔خواتین کی جانب سے دائر شدہ مقدمات میں مکرر الفاظ، الزامات اور خاص طور پر فہرست
سامان جہیز ایک جیسی ہونے کی وجہ بھی یہی جلد بازی ہے۔
داد رسی (Relief)
خلع اسلامی شریعت و قانون میں عورت کا وہ بنیادی حق ہے، جس کے ذریعے عورت
ازدواجی بندھن کو ختم کر سکتی ہے، اگر شوہر کے رویہ کی وجہ سے ازدواجی زندگی گزارنا
دوبھر ہو جائے یا باہمی نباہ ممکن نہ رہے۔ پاکستانی فیملی کورٹ Act 1964 اور شریعت دونوں
اس چیز کی گنجائش فراہم کرتی ہیں کہ اگر عورت کو حقیقی مجبوری یا شوہر کی طرف سے
زیادتی، نان و نفقہ کی عدم ادائیگی، ظلم و ستم، یا دیگر ناقابل برداشت وجوہات درپیش ہوں تو وہ
عدالت سے خلع کی ڈگری طلب کر سکتی ہے۔ خلع عورت کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں
ایک باوقار اور باعزت الگ راستہ فراہم کرتا ہے۔
عدالتی خلع یعنی فسخ نکاح میں سب سے اہم ریلیف نکاح کا ختم ہونا ہے۔ عدالت شادی کو
باضابطہ طور پر منسوخ کرتی ہے اور عورت و مرد کے درمیان ازدواجی رشتہ باقی نہیں رہتا۔
مزید یہ کہ اگر عورت نے جہیز یا مہر وصول کیا ہے، تو اسلامی حکم کے مطابق رفع تنازع اور
انصاف کے لیے اکثر صورتوں میں اس مال کی واپسی لازم ہوتی ہے، جسے "زرِ خلع” کہا جاتا
ہے۔ البتہ اگر طلاق یا علیحدگی شوہر کی زیادتی، ظلم یا نان و نفقہ نہ دینے پر ہو تو حالیہ لاہور
ہائیکورٹ کے مطابق عورت مہر میں سے اپنے پورے حقوق کی مستحق رہتی ہے اور اس حق کو
عدالتی ڈگری کے ذریعے تسلیم کیا گیا ہے
سابقہ بحث میں جن نکات کا ذکر ہوا، ان میں سے ایک اہم اور عملی مسئلہ یہ ہے کہ بعض اوقات
خاوند عدالت میں حاضر نہیں ہوتا۔ ایسے میں عوام الناس کے ذہنوں میں شریعت کا حکم جاننے کی
خواہش پیدا ہوتی ہے۔ چنانچہ اب ہم اس حوالے سے معتبر دینی اداروں کے فتاویٰ اور مفتیانِ کرام
کی آراء پیش کرتے ہیں۔
مفتیان کرام کی آراء
دارالعلوم کراچی کا ایک فتویٰ ہے جس میں پانچ سوالات کئے گئے ان میں عدالتی خلع کے
بارے تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔تیسرا سوال جس میں یہ ذکر ہے کہ مروجہ عدالتوں میں شوہر
کا حاضر عدالت نہ ہونا اس کے خلاف یکطرفہ فیصلہ کیلئے کافی ہے،اس کو فتاویٰ میں نکول
قرار دیا گیاہے۔

Page 18 of 14

جواب:
جی ہاں! شوہر کا عدالت میں حاضر نہ ہونا نکول ہے، کیونکہ عدالت نے شوہر کو بار بار
بلایا، نوٹس دیے، سمن بھیجے ،بیلف روانہ کیےاور اخبار میں بھی نوٹس دیا، اس کے باوجود
شوہر حاضر عدالت نہ ہوا، اس کو فقہائے شافعیہ نکول سے تعبیر فرماتے ہیں۔جیسا کہ اوپر ذکر
کردہ عبارات میں درج ہے، نیزاس سلسلے میں شوہر کو قصوروار ہے، کیونکہ قانوناً اگرچہ
عورت کے حق میں فیصلہ صادر ہوتا ہو ،لیکن جو کام اس کی اختیار میں تھا، وہ اس نے نہیں کیا،
اسی وجہ سے وہ ناکل کہلائے گا نیز اگر شوہر کا اس طرح غائب ہو جانا، اور جان بوجھ کر
روپوش ہو جانا، خاموشی اختیار کرنا اگر نکول قرار نہ دیں،اور فیصلہ کی اجازت مسلمان جج کو
نہ ہو، تو لوگوں کے حقوق ضائع ہونے کا قوی اندیشہ ہے،اس لیے فقہائے کرام کی عبارات کے
پیش نظر یہ صورت نکول میں داخل ہے،اور مدعیہ کے حق میں ایسا فیصلہ فقہائے شافعیہ کے
نزدیک درست اور معتبر ہے۔ 26

وَلَا يَلْزَم الْقَاضِي فِي حَقِّ هَذَا الْمُتَوَارِى أَنْ يَحْلِفَ الْمُدَّعى أَنَّهُ مَا قَبَضَ
هَذَا الْحَقِّ وَلَا شَيْئًا مِنْهُ. كَمَا يُحلِفُهُ لِلْغَائِبِ لِأَنَّ هَذَا قَادِر بِحُضُورِهِ عَلَى
الْمُطَالَبَةِ بِذَلِكَ لَوْ أَرَادَ بِخِلَافِ الْغَائِبِ فَافْتَرَقَا فِيهِ، فَإِنْ قَالَ الْمُدَّعى لَيْسَت
لِى بَيِّنَةٌ فَقَدِ اخْتَلَفَ أَصْحَابُنَا : هَلْ يَكُونُ هَذَا الامْتِنَاعُ مِنَ الْحُضُورِ
كَالنُّكُولِ فِي رَدّ الْيَمِينِ عَلَى الْمُدَّعى أَمْ لَا عَلَى وَجْهَيْنِ : أَحَدُهُمَا : أَنَّهُ لَا
يُجْعَلُ نُكُولًا لِأَنَّ النُّكُولَ بَعْدَ سَمَاعِ الدَّعْوَى، وَسُؤَالِهِ عَنِ الْجَوَابِ،
فَيَصِيرَانِ شَرْطَيْنِ فِي النُّكُولِ، وَهُمَا مَفْقُودَانِ مَعَ عَدَمِ الْحُضُورِ وَالْوَجْهُ
الثَّانِي: وَهُوَ أَشْبَهُ أَنْ يُجْعَلَ كَالنُّكُولِ بَعْدَ النِّدَاءِ عَلَى بَابِهِ بِمَبْلَغ الدَّعْوَى
وَإِعْلَامِهِ بِأَنَّهُ يُحْكَمُ عَلَيْهِ بِالنُّكُولِ لِوُجُودِ شَرْطَي النُّكُولِ فِي هَذَا الندَاءِ،
فَعَلَى هَذَا يَسْمَعُ الْقَاضِي الدَّعْوَى مُحَرَّرَةً ثُمَّ يُعِيدُ النِّدَاء عَلَى بَابِهِ ثَانِيَةً
بِأَنَّهُ يَحْكُمُ عَلَيْهِ بِالنُّكُولِ. 27
ابن عبد السلام : وظاهر ما ذكره ابن القاسم أنه سمعه عن مالك عدم
القضاء على الغائب ولو بعدت غيبته وَيَنْفُذُ الْقَضَاءُ عَلَى الْغَائِبِ بِالْبَيِّنَةِ
وَالْيَمِينِ عَلَى عَدَمِ الإِبْرَاءِ وَالاسْتِيفَاءِ وَالاعْتِیاضَ وَالإِحَالَةِ وَالاحْتِيَالِ
وَالتَّوْكِيلِ عَلَى الاقْتِضَاءِ فِيهِ وَفِي بَعْضِهِ، وَقِيلَ: وَإِنَّهُ بَاقٍ عَلَيْهِ إِلَى الآن..
أي: يحكم على الغائب بالدين إذا قامت للطالب بينة أو حلف . 28
فَإِن قَالَ الْمُدَّعى لَيْسَت لِى بَيِّنَة فَقَدِ اختَلَفَ أَصْحَابُنَا : هَلْ يَكُونُ هَذَا
الامْتِنَاعُ مِنَ الْحُضُورِ كَالنكُولِ فِي رَد الْيَمِينِ عَلَى الْمُدَّعى أَمْ لَا : عَلَى
وَجْهَيْنِ : أَحَدُهُمَا: أَنَّهُ لَا يُجْعَلْ نُكُولًا لِأَنَّ النُّكُولَ بعد سماع الدعوَى
وَسُؤَالِهِ عَنِ الْجَوَابِ فَيَصِيرَانِ شَرْطَيْنِ فِي النُّكُولِ، وَهُمَا مَفْقُودَانِ مَعَ
عَدَم الحُضُورِ وَالْوَجْهُ الثَّانِي: وَهُوَ أَشْبَهُ أَنْ يُجْعَل كَالنكُولِ بَعْدَ النِّدَاءِ
عَلَى بَابِهِ بمبْلَغ الدَّعْوَى وَإِعْلَامِهِ بِأَنَّهُ يُحکم عَلَيْهِ بِالنكُولِ لِوُجُودِ شَرْطي
النُّكُولِ فِي هَذَا النِّدَاءِ فَعَلَى هَذَا يَسْمَعُ الْقَاضِي الدعوَى مُحَرَّرَةً ثُمَّ يُعِيدُ
الندَاء عَلَى بَابِهِ ثَانِيَة بِأَنَّهُ يَحْكُمُ عَلَيْهِ بِالنُّكُولِ، فَإِذَا امْتَنَعَ مِنَ الْحُضُورِ
بَعْدَ النِّدَاءِ الثَّانِي، حَكَمَ بِنكُولِهِ وَرَدَّ الْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعى وَحَكم له
بالدعوى إذا حلف. 29

26 فتویٰ نمبر ٦/٢٦٢٦،دارالافتاءجامعہ دارالعلوم کراچی،کراچی
27 امام ماوردی، علی بن محمد۔ "الحاوی الکبیر”، جلد 16، صفحہ 302۔ دارالکتب العلمیہ، 1999ء۔
28 ابن الحاجب، محمود بن عبدالرحمن۔ التوضیح فی شرح مختصر ابن حاجب”، جلد 7، صفحہ 453۔ دار المدنیہ، السعودية، 1986ء۔

Page 19 of 14

جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کافتوی ؛
"اگر خاوند کو عدالت سے بار بار نوٹس بھجوائے جائیں، اخبار میں اشتہار بھی ہو، اس
کے باوجود خاوند عدالت میں حاضر نہ ہو اور اپنا دفاع نہ کرے، جبکہ عورت نے نان نفقہ نہ
ملنے یا تعنت پر دلیل پیش کی ہو، تو اس کے بعد عدالت عورت کے بیان حلفی پر مبنی خلع کی
ڈگری جاری کر سکتی ہے۔ اس صورت میں شوہر کا جان بوجھ کر پیش نہ ہونا ‘متعنت’ ہونا شمار
کیا جائے گا اور فسخ نکاح شرعاً درست سمجھا جائے گا۔ لہٰذا اگر عدت بھی گزر جائے تو
عورت پر دوبارہ نکاح کرنا جائز ہے۔” 30 شوہر کے بار بار طلب کیے جانے کے باوجود حاضر نہ
ہونے اور عذر نہ دینے کی بنیاد پر عدالت کا فسخ شرعاً درست اورمعتبر ہے، خاص طور پر اگر
نان نفقہ نہ ملنے یا ظلم کا ثبوت ہو۔ ہر فیصلہ شریعت کی بنیاد پر مخصوص حکم کے مطابق دیا
جاتا ہے۔
نتیجہ بحث
اسلام نے نکاح کو ایک مضبوط، مقدس اور باہمی رضا مندی و محبت پر مبنی رشتہ قرار
دیا، اور قرآن مجید نے بار بار اس رشتے کے احترام، حقوق اور حسنِ معاشرت پر زور دیا ہے۔
تاہم شریعت مطہرہ نے یہ بھی تسلیم کیا کہ کبھی کبھار ازدواجی زندگی میں ایسی ناہمواریاں،
بدسلوکیاں یا ایسی اخلاقی بے راہ رویاں سامنے آجاتی ہیں کہ جو میاں بیوی کے درمیان اصلاحِ
ذات البین ناممکن بنا دیتی ہیں۔ ایسے حالات میں اسلام صرف شوہر کو الگ ہونے کا اختیار نہیں
دیتا بلکہ عورت کو بھی حقِ خلع عطا کرتا ہے کہ وہ حدود اللہ کے قائم نہ رہنے کا اندیشہ پیدا
ہوجائے تو نکاح کے بندھن کو ختم کرا سکتی ہے۔
قرآنِ مجید کی سورۂ بقرہ آیت 229 میں ارشاد ہے:
فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا ٱفْتَدَتْ بِهِۦ…”
"اگر تمہیں ڈر ہو کہ دونوں (زوجین) اللہ کی حدود کو قائم نہیں رکھ سکیں گے، تو اس میں
دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ عورت کچھ دے کر (طلاق لے لے)۔”
اسی اصول کی بنیاد پر فقہاء اسلام نے خلع کو جائز اور عورت کے لیے شرعی حق تسلیم
کیا، خصوصاً جب شوہر اصلاح یا مصالحت پر آمادہ نہ ہو اور ازدواجی زندگی عورت کے لیے
جہنم بن جائے۔
اس کیس میں عدالت نے واضح طور پر تمام قانونی تقاضے پورے کیے اور مدعا علیہ کو
بار بار نوٹس اورسمن کے ذریعے بھی طلب کیا، مگر اس نے حاضر ہو کر اپنا دفاع پیش نہ کیا۔
مدعیہ نے عدالتی بیان، دستاویزی شہادت اور نکاح نامہ جس طرح پیش کیا، اس سب کے پیش نظر
عدالت نے مدعیہ کے حق میں فیصلہ دیا اور عدالتی خلع جاری کر دی۔ یہ عمل فقہی اعتبار سے
"نکول” یا "متعنت” کہلاتا ہے، یعنی شوہر کا جان بوجھ کر غیر حاضر رہنا۔ شریعت نے اسے
قاضی کو نکاح فسخ کرنے کا جائز سبب قرار دیا ہے۔رسول اکرم ﷺاور صحابہ کرام رضوان اللہ
علیہم اجمعین کے عہد میں بھی متعدد ایسے واقعات پیش آئے، جن میں صحابیات نے بدخلقی
اورازدواجی ناممکنی کے پیش نظر خلع طلب کیا اور ان کا حق تسلیم کیا۔ حضرت ثابت بن قیس
کی اہلیہ کا واقعہ

عَنْ اِبْنِ عَبّاس أن إمَرَأةَ ثَابِتِ بْنِ قَیْس أتَتْ النّبیَ ﷺ فَقالَتْ: يَا رسُولَ
اللهِ، مَا أنقُم عَلٰى ثابِتٍ مِن دِيْنٍ وَلَا خُلقٍ إلّا أنّي أخافُ الكُفْر فِي

29 امام ماوردی، علی بن محمد۔ "الحاوی الکبیر”، جلد 16، صفحہ 302۔ دار الکتب العلمیہ، 1999ء۔

30 https://banuri.edu.pk/questions/fasal/khla-ki-sharaet

Page 20 of 14

الْإسْلَامِ… فقال النّبيُ ﷺ: أتَردِينَ عَليهِ حَديقته؟ قالَتْ: نَعمْ. قَالَ النّبيُ ﷺ:
اَقْبلِ الحَديقَةَ وَطَلّقْهَا تَطْليْقَةً.” 31
اس حوالے سے نہایت نمایاں ہے کہ جب عورت نے علیحدگی کی ٹھوس
وجہ بیان کی، تو نبی ﷺ نے صرف مہر واپس لوٹا کر نکاح ختم کرنے کا حکم دیا۔
اسی طرز پر فقہاء اور بعد کے مفتیانِ کرام نے بھی اگر مرد بلاوجہ رغبت نہ کرے،
حقوق ادا نہ کرے یا عدالت سے مسلسل غائب رہے تو، قاضی کو نکاح فسخ کرنے
کا حق دیا ہے۔
فیملی کورٹ 2024کے فیصلوں کاجائزہ :
اسلام آباد میں سال 2024ء میں خلع و تنسیخ نکاح کے مقدمات ایسٹ اورویسٹ
اسلام آباد دونوں کی مجموعی تعداد 2872ہے،ان میں صرف ایسٹ اسلام آباد ریکارڈ روم
کے مطابق 2024میں 1970کسسز ہے،ان مجموعی مقدمات میں سے640مقدمات
Contested تھے،یعنی یہ ایسے مقدمات تھے جس میں دونوں فریقین نے باقاعدہ
اپنے اپنے موقف کا دفاع کیا اور فیصلہ ہونے تک حاضر عدالت رہے جبکہ1371مقدمات
Uncontested تھے یعنی ایسے مقدمات تھےجن میں فیصلہ کسی ایک فریق
کےحق میں "یکطرفہ”ہوا۔ لہٰذا سال 2024میں خلع کے مقدمات اسلام آباد کی فیملی
کورٹ سے صادر کئے گئے، Uncontested جس کی شرح 68فیصد بنتی ہے۔
سال 2024ءسےجن مقدمات کو تحقیق کی غرض سے منتخب کیاگیا ان میں
عابدہ حسین بنام سخی سلطان بتاریخ 2024-03-04، دعویٰ تنسیخ نکاح ونان ونفقہ
وغیرہ، مسماة حمیرا بنام علی رضا بتاریخ 2024-03-13، دعویٰ تنسیخ نکاح و سامان
جہیز، انیبہ بی بی بنام اسد خان ولد فضل کریم بتاریخ 2024-09-24، دعویٰ تنسیخ
نکاح و تشدد وغیرہ،شامل ہیں،تفصیل کیلئے ہمارے پاس جو فیصلہ ہے ان کا نکاح
2024ءاور تنسیخ نکاح بھی سمتبر2024ء میں ہوا ہے،انیبہ بی بی بنام اسد خان ولد
فضل کریم 2024-09-24،کےمقدمہ اور عدالتی فیصلہ کا شریعت اسلامی کی روشنی
میں تفصیلی جائزہ پیش کیا جارہا ہے؛
عنوان مقدمہ
عنوان: انیبہ بی بی بنام اسد خان ولد فضل کریم (دعویٰ تنسیخ نکاح ونان و نفقہ
وغیرہ)
اجراء: 2024 -04-06
فیصلہ: 2024-09-26
تفصیل مقدمہ
مورخہ 2024-04-06 دعویٰ میں مدعیہ انیبہ بی بی کی جانب سے
درج ذیل نکات تحریر کئے گئے:
مدعیہ اور مدعا علیہ کا نکاح 11 مارچ 2024 کو اسلام آباد میں اسلامی طریقے
اور رسم و رواج کے مطابق ہوا، جس میں حق مہر کی رقم 5000 روپے مقرر کی گئی
جو ادا کر دی گئی، جبکہ 5 تولہ سونے کے زیورات مطالبے پر ادا کئے جانےتھے۔حقیقت
یہ ہے کہ مدعیہ اپنے نابالغ بھتیجوں کی خیریت دریافت کرنے کے لیے مدعا علیہ
31 بخاری، محمد بن اسماعیل۔ صحیح البخاری، حدیث نمبر 5273۔

Page 21 of 14
کے گھر گئی، مگر مدعا علیہ نے مدعیہ کی مرضی اور رضاء کے بغیر زبردستی اس
سے نکاح کر لیا۔ 32 بعد میں پتہ چلا کہ نکاح نامے کے مطابق حق مہر 5000 روپے مقرر
ہوا ہے، جسے ادا کیا جانا بتایا گیا اور 5 تولہ سونا مطالبے پر دینا طے ہوا (مہر غیر
معجل)۔اس نکاح کے بعد مدعیہ نے اپنی والدہ سے رابطہ کیا، جنہوں نے اُسے اپنے ساتھ
واپس گھر لے گئیں۔مدعیہ نے دیگر قانونی اختیارات اختیار کرنے کی بجائے مدعا
علیہ کے نفرت آمیز رویے کے باعث خلع کی بنیاد پر شادی کے خاتمے کی درخواست
دینے کا فیصلہ کیا ہے۔اب صورتحال یہ ہو چکی ہے کہ مدعیہ کے دل میں مدعا
علیہ کے لیے اس قدر نفرت پیدا ہو چکی ہے کہ نکاح کے رشتے کو اللہ تعالیٰ کے
مقرر کردہ حدود کے مطابق نبھانا ناممکن ہو گیا ہے۔مدعیہ کے لیے سب سے پہلے وجہ
11 مارچ 2024 کو پیدا ہوئی اور دوسری وجہ دو دن پہلے سامنے آئی، جب مدعا علیہ
نے قطعی طور پر طلاق دینے سے انکار کر دیا۔چونکہ مدعیہ اسلام آباد میں مقیم ہے،
اس لیے اس معزز عدالت کو اس مقدمے کی سماعت اور فیصلے کا مکمل قانونی
اختیار حاصل ہے۔اس دعوے کے ساتھ 15 روپے عدالتی فیس جمع کرا دی گئی ہے۔ 33
درج بالا حالات کے پیش نظر معزز عدالت سے استدعا ہے کہ مدعیہ کے حق میں خلع
کی بنیاد پر شادی ختم کرنے کا ڈگری بمعہ اخراجات جاری کی جائے۔
مورخہ 2024-03-11کو مدعاعلیہ اسد خان کی جانب سے درج ذیل اہم
نکات تحریر کئے گئے:
مدعیہ کے پاس اس مقدمے کو دائر کرنے کا کوئی جائز اور معقول جواز موجود
نہیں ہے۔یہ دعویٰ نہ تو قانونی لحاظ سے قابلِ سماعت ہے اور نہ ہی اس پر مزید
کارروائی ہو سکتی ہے۔مدعیہ نے عدالت میں غیر صاف نیت اور بدنیتی کے ساتھ
رجوع کیا ہے، اس لیے وہ کسی رعایتی ریلیف کی حق دار نہیں بنتی۔مدعا
علیہ نے مکمل مہر مدعیہ کو ادا کر دیا تھا، حتیٰ کہ مدعیہ نے رہائش کے دوران پانچ
تولہ سونے کے زیورات مانگے، جو اس کے مطالبے پر ادا کئےگئے۔ اسی طرح 5000
روپے نقد مہر بھی مدعیہ کو مل چکے ہیں۔مدعا علیہ کو مدعیہ سے گہرا پیار اور
محبت ہے اور اس نے مدعیہ کو زندگی کی ہر سہولت مہیا کی، جبکہ مدعیہ مکمل
آزادی سے اپنی زندگی گزار رہی تھی۔ لیکن بدقسمتی سے مدعیہ کے والدین اور بہنوں
کی مداخلت اور اکسانے سے یہ رشتہ خراب ہو گیا۔آج بھی مدعا علیہ مدعیہ کو الگ گھر
میں آباد کرنے کے لیے تیار ہے۔ 34
تھانہ سمبل اسلام آباد SHOکے نام ایک بیان دیا ہے جس میں گزارش کی گئی
ہے کہ میں اسد خان ولد فضل کریم ساکن میرا جعفر سیکٹر G-12 اسلام آباد کا رہائشی ہو
آج مورخہ 2024-03-11 کو بوقت 11:30 بجے رات میرے سسرال میں میری ساس فارن
بی بی اور میری ساس کا حقیقی بھائی دلدار اور میرا سالہ اجمل ولد محمد صدیق اور
15/20نامعلوم لوگ میرے گھر پر آئے اور گھر کے اندر زبردستی گھستے ہی میرے ساتھ
مارپیٹ شروع کر دی اور میری بیوی انیبہ بی بی کو زبردستی میرے گھر سے
اٹھا کر لے گئے۔ میں نے مورخہ 2024-03-11 کو12بجےرات کے ٹائم اپنی بیوی انیبہ
بی بی کے ساتھ اس کی رضامندی سے کورٹ میرج کیا تھا۔ میری بیوی اپنی
رضامندی سے میرے سسرال والوں کے ساتھ جانا نہیں چاہتی تھی اس کو میرے گھر سے
مار پیٹ کر کے زبردستی لے جایا گیا۔ آپ جناب سے بذریعہ درخواست التماس ہے کہ
ان ملزمان کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے اور مجھے انصاف دلوایا جائے۔ 35 مصالحت
32 انیبہ بی بی بنام اسد خان ولد فضل کریم،26.09.2024،ص8
33 ایضاً،ص10
34 ایضاً،ص14
35 ایضاً،ص26

Page 22 of 14
کےباوجود کوئی نتیجہ نہیں نکل آنےکی صورت میں فیملی کورٹ کی طرف سے
تنقیحات وضع کردیں۔
دعویٰ ہے کہ فیصلہ کےپیراگراف نمبر 1 میں صرف نکاح کے بارے میں بات درست ہے، باقی
تمام نکات غلط ہیں اور انہیں مسترد کیا جاتا ہے۔ مکمل حق مہر مدعیہ کو ادا کیا جا چکا
ہے۔پیرا نمبر 2 درست نہیں، اس لیے اسے بھی تسلیم نہیں کیا جاتا۔ حقیقت یہ ہے کہ مدعیہ اور
مدعا علیہ ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے اور مدعیہ نے ہی مدعا علیہ کو نکاح کی
پیشکش کی، جسے مدعا علیہ نے قبول کیا اور دونوں نے عدالت میں نکاح کیا۔ باقی تمام باتیں
بے بنیاد اور جھوٹے الزامات ہیں۔پیرا نمبر 3 میں بیان کی گئی باتیں غلط ہیں۔ اصل صورت یہ
ہے کہ مدعیہ کی والدہ اپنے بیٹے اجمل کھوکھر اور کچھ نامعلوم افراد کے ساتھ مدعیہ کے گھر
میں زبردستی داخل ہوئیں اور مدعیہ کو جبراً مدعا علیہ کے گھر سے لے گئیں۔ اس پر مدعا
علیہ نے متعلقہ تھانے میں درخواست بھی دی ہے۔ مدعا علیہ آج بھی مدعیہ کو الگ گھر میں
رکھنے کے لیے تیار ہے۔ (درخواست کی نقل منسلک ہے)اس 4پیراگراف کا بھی انکار کیا جاتا
ہے کیونکہ شادی ختم کرنے کا کوئی معقول جواز نہیں لیا گیا، لہذا خلع کا دعویٰ نا قابلِ سماعت
ہے۔پیرا نمبر 5 کی باتیں بھی حقائق کے منافی اور غلط ہیں۔پیراگراف نمبر 6 بھی غلط ہے اور
اس کی سختی سے تردید کی جاتی ہے۔ مدعا علیہ کے خلاف کوئی وجہ وقوع پذیر ہی نہیں
ہوئی۔پیراگراف نمبر 7 صحیح اور قانونی ہے۔پیراگراف نمبر 8 بھی قانونی طور پر درست
ہے۔مجموعی طور پر، اوپر بیان کی گئی گزارشات کی روشنی میں مدعیہ کا دعویٰ سراسر
جھوٹ، من گھڑت اور بے بنیاد ہے، اس کی کوئی قانونی یا اخلاقی بنیاد نہیں، بلکہ بدنیتی اور
ذاتی مقاصد کے تحت دائر کیا گیا ہے۔ اس لیے درخواست ہے کہ یہ 2024-04-06 اخراجات
کے ساتھ مسترد کیا جائے۔
تنقیح نمبر1
پہلے تنقیح میں مدعیہ نے اپنے شوہر کے خراب رویے کی وجہ سے اس کے
ساتھ مزید رہنے سے صاف انکار کر دیا، اور عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔ اُس نے
حق مہر کی رقم واپس کر کے اپنی غیر رضامندی اور نکاح کے خاتمے کی صاف
وجوہات پیش کیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فیملی لاز میں عورت کو یہ اختیار
حاصل ہے کہ اگر وہ شوہر کے رویے یا حالات سے ناخوش ہو تو خلع کی بنیاد پر عدالت
سے علیحدگی مانگ سکتی ہے، اور اس میں حق مہر کی واپسی اس کے خلوص نیت
کی علامت ہے۔

Today the case was fixed far pre-trial reconciliation
precedings.the plaintiff got recorded her statement
and started that due to bad behavior of
defendant,she doesn’t want to live with the
defendant within the limits set out by almighty
Allah and prayed for decree of dissolution of
marriage on the basis of khula. she has also
returned the dower amount of RS.5,000/- which was
received at time of Nikah to the defendant 36 ۔

تنقیح نمبر2

دوسرے تنقیح میں شوہر نے مکمل آمادگی ظاہر کی کہ وہ رشتہ برقرار
رکھنا چاہتا ہے، اور علیحدگی نہیں چاہتا۔ یہ عمل عدالت کے سامنے دونوں
فریقین کے مؤقف کی وضاحت کرتا ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خلع

36 ایضاً،ص22

Page 23 of 14
کے معاملات میں مرد کے جذبات اور موقف کو بھی اہمیت دی جاتی ہے،
مگر اس کے باوجود عورت کی مرضی مقدم رکھی جاتی ہے۔ اس سے
سوال اٹھتا ہے کہ کیا ہر صورت میں عورت کی رضامندی کو ہی فیصلہ
کن حیثیت حاصل ہے یا مرد کے موقف کو بھی نظر میں رکھا جانا چاہیے؟
On the other hand, defendant appeared before the
Court along with his counsel,and stated that he is
ready to continue marital bond but plaintiff is trying
to dissolve the marriage 37 ۔

تنقیح نمبر3
عدالت نے فریقین کے بیانات سُن کر اور مصالحت کی کوشش ناکام ہونے کے
بعد سیکشن 10(4) ویسٹ پاکستان فیملی کورٹس ایکٹ 1964 کے تحت خلع کی ڈگری
جاری کر دی۔ اس عمل سے ثابت ہوتا ہے کہ عدالت شواہد اور دونوں فریقین کے موقف
سننے کے بعد فیصلہ کرتی ہے، اور اگر عورت کا مؤقف واضح اور مصمم ہو تو قانونا
تنسیخ نکاح کی ڈگری دینا عدالت کی ذمہ داری بن جاتی ہے۔

In view the statement of plaintiff pre-trial
reconciliation has ended in failure and as such,
there is no option with the Court except to decree
the suit of plaintiff. He,suit of the plaintiff for
dissolution of marriage on the basis of khula is
decreed in her favour against the defendant and the
marriage between the parties is dissolved on the
basis of khula, under section 10(4) of West
Pakistan Family Courts Act 1964.Decree sheet be
prepared accordingly.Copy of this order be sent to
concerned Union Council/Arbitration Council for
necessary action.File be consigned to record room
after its due completion 38 .

اسلامی تعلیمات کی روشنی میں فیصلہ(Judgment) کاجائزہ
کسی بھی قوم کی ترقی اور خوشحالی کے لیے عدل و انصاف بنیادی حیثیت
رکھتا ہے۔ یہ نہ صرف مظلوم کو اس کا حق دلاتا ہے بلکہ ظالم کے خلاف کارروائی کر کے
امن و امان قائم کرتا ہے۔ انصاف کی بدولت حقوق ان کے حقداروں تک پہنچتے ہیں اور
فسادی عناصر کی روک تھام ہوتی ہے، تاکہ ہر فرد کی جان، مال، عزت اور نسل کی
حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔ اسی لیے اسلام نے عدل و قضا کو غیر معمولی اہمیت
دی ہے اور اسے انبیاء کی سنت قرار دیا ہے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ
تعالی نے لوگوں میں فیصلہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
"وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ” 39
اور جو اللہ نے نازل کیا ہے اس کے مطابق فیصلہ نہ کرے
تو وہی لوگ کافر ہیں۔

اللّٰہ رب العزت انصاف کے قائم کرنے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:
37 ایضاً،ص23
38 ایضاً،ص23
39 المائدہ(5)44

Page 24 of 14

” وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِؕ” 40
اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ
فیصلہ کرو”

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ امت کے لیے ہمیشہ سے مشعل راہ رہا ہے۔
اگر مسلمان اس پر حقیقی معنوں میں عمل پیرا ہوں تو آج کی پرفتن دور میں بھی دنیا پر قیادت
حاصل کر سکتے ہیں ۔اسلام میں عدل و انصاف کو بنیادی حیثیت حاصل ہے، جس میں اختساب،
مساوات اور سماجی انصاف شامل ہیں۔ سماجی انصاف کا تقاضا ہے کہ امیر و غریب میں فرق
نہ ہو، مرد و عورت کے حقوق برابر ہوں،اور کسی کو کسی دوسرے کے استحصال کی اجازت
نہ ہو۔ ایک مثالی معاشرہ وحی کہلائے گا جہاں تعلیم ہر فرد کے لیے یکساں اور مساوی دستیاب
ہو، قانون سب پر یکساں لاگو ہو، اور کوئی بھی قانون سے بالاتر نہ ہو۔ کسی کو محض اس کی
نسل، حسب و نسب ،مذہب، رنگ یا علاقے کی بنیاد پر برتری یا کمتری کا سامنانہ کرنا پڑے۔
وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی ہو، تاکہ ہر فرد کو اس کا حق بلا تفریق ملے اور کوئی بھی
بنیادی ضروریات سے محروم نہ رہے۔ کسی کو زبردستی کسی پر قابض ہونے کی اجازت نہ ہو
اور ہر فرد کی ملکیت، عزت و وقار محفوظ رہے۔
یہ تمام اصول کسی بھی مہذب اور منصفانہ معاشرے کی بنیاد ہوتے ہیں۔ نبی کریم صلی
اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ مسلمانوں کے لیے ہر شعبہ زندگی میں کامل نمونہ ہے۔ آپ صلی
اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس میں ایک عظیم حاکم، مدبر قائد، شفیق مربی، دانا مرشد اور عادل
منصف کی تمام خوبیاں یکجا تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز حکمرانی، عدل و انصاف کا
نظام، اور سماجی مساوات کے اصول اج بھی دنیا کے لیے روشنی کا مینار ہیں ۔اگر امت مسلمہ
انہی اصولوں پر کر بند ہو جائے تو ایک مثالی اسلامی معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے، جو ہر
فرد کے لیے امن، انصاف اور خوشحالی کی ضمانت بنے گا۔
حسب روایت جب بھی کسی خاندان میں اس طرح کے مسائل پیدا ہوں کہ نوبت عدالت
تک جا پہنچے تو سب سے پہلا مرحلہ ایسے وکیل کی تلاش ہوتا ہے جو ان کے موقف کو
اچھے سے اچھے طریقے سے عدالت کے روبرو پیش کر سکے۔ لہذا زیر نظر مقدمہ میں بھی
مدعیہ کے وکیل نے دعوی دائر کرتے ہوئے قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے اسلام آباد کی
فیملی کورٹ میں دعویٰ دائر کیا۔ مورخہ2024-09-26 کو کونسل مدعیان بحث آخر یکطرفہ
سماعت کرنے کے بعد فاضل عدالت نے متذکرہ بالا مقدمہ نمبری under section 10 (4)
of west Pakistan Family Courts Act 1964.دائر شدہ مورخہ2024-04-06 کا
فیصلہ صادر فرمایا جس کے چند اہم نکات درج ذیل ہیں:
مورخہ 2024-04-06کو مدعیہ کی جانب سے تنسیخ نکاح ودلاپانے نان و نفقہ
وغیرہ کا عائلی مقدمہ دائر کرنےکےبعد مورخہ 2024-03-11کو اسد خان ولد فضل کریم
کی جانب سے جواب دعویٰ دائر کیا گیا جس میں اس نے(حقوق اعادہ زن آشوئی)کا
مقدمہ دائر کرنے کے بارے میں معزز عدالت کو آگاہ کیا کہ بندہ پہلے ہی مدعیہ کو بسانے
کی غرض سے حقوق اعادہ زن آشوئی کا دعویٰ دائر کرچکاہے۔ 41
زیر نظر مقدمہ میں دعویٰ اور جواب دعویٰ دونوں میں اکثر وبیشتر عدالت میں
پیش کئے جانے والے مقدمات کی طرح ایک جیسے الفاظ والزامات ہی پیش کئے گئے
ہیں۔
مدعیہ کادعوی
زیر بحث مقدمہ میں مدعیہ کے بقول مدعاعلیہ اچھا انسان نہ ہےجو اسےزدوکوب
کرتا رہا اور زبردستی بھگاکر شادی کرلینا وغیرہ۔مقدمہ کا آخری فیصلہ بڑی حد تک

40 النساء(4)58
41 ایضاً،ص14

Page 25 of 14
مختصر فیصلہ ہے۔لیکن شریعت اسلامی کی روشنی میں دیکھا جائے تو اس مقدمہ
میں بھی گزشتہ مقدمات کی طرح فریقین کی جانب سے جا بجا شریعت کی خلاف
ورزیاں نظر آتی ہیں۔مثلا مدعیہ کے دعویٰ جات میں مدعاعلیہ پر جو الزامات لگائے
گئے ان میں شروع دن سے ہی ظالمانہ رویہ اختیار کرنا وغیرہ ، حق المہر کی ادائی نہ
کرنا، مہر میں دیےجانےوالےسونےسےانکار،یہ تمام الزامات وہی ہیں جو گزشتہ مقدمات
کے مطالعے سے سامنے آتے ہیں کہ تقریباً تمام ہی فیملی مقدمات میں بیوی کی
جانب سے اس جیسے الزامات شوہر پر لگائے جاتے ہیں۔مگر دوران سماعت تقریباً تمام ہی
دعویٰ جات کوثابت کرنےمیں مکمل ناکام رہی۔
مدعاعلیہ کادعوی
دوسری طرف مدعاعلیہ نےبھی اپنے جواب دعویٰ میں وہی الزامات لگائے کہ
مدعیہ اپنی مرضی سے شادی کی یعنی راضی تھی ،پیار ومحبت تھی،مدعیہ
اپنےگھر نہیں جاناچاہتی تھی،توساس کےگھر والےرات میں آئے زبردستی گھر میں گھس
گئے مارپیٹ کی اور بیوی کو لےگئی ،15پر فون کیاسارا ڈیٹیل بتایا 42
،5000مہردیاتھااور سونا بھی دیا تھا،مدعیہ کا دعویٰ غلط بیانی،جھوٹ اور دروغ گوئی
پر مبنی ہے وغیرہ ۔
گزشتہ مقدمات کی طرز پر مقدمہ زیر بحث میں بھی عدالت نے "جھوٹ” بولنے پر
کسی قسم کا کوئی ایکشن نہیں لیا اور صرف مقدمہ کے فیصلہ کو ہی انصاف کے
تقاضے پورے کرنے میں کافی سمجھا ہے۔ حالانکہ قران کریم میں ارشاد باری ہے:
آیت(1)

"یا أَیُّهَا الَّذینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّهَ وَ کُونُوا مَعَ الصّادِقینَ” 43
اے ایمان والو! خدا ( کے ہر حکم کی مخالفت ) سے ڈرو اور سچوں
کا ساتھ دو ۔
آیت(2)

"وَ اجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ” 44
جھوٹی بات سے اجتناب کرو”

جھوٹ کی اس سے بڑی دنیاوی سزا اور کیا ہوسکتی ہے کہ اللّٰہ رب العزت قرآن
مجید میں ارشاد فرمارہے ہیں کہ جھوٹے کو ہدایت نصیب نہیں ہوتی:
آیت(3)

"اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ كٰذِبٌ كَفَّارٌ” 45
بےشک خدا اس شخص کو جو جھوٹا ناشکراہےہدایت نہیں دیتا”

حدیث (1)

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺانَّ الصِّدْقَ
يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ، وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَصْدُقُ حَتَّى يُكْتَبَ عِندَ اللهِ
صِدِّيقًا، وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ، فَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ، وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى
النَّار 46 "
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "بے شک سچائی نیکی کی طرف رہنمائی کرتی ہے اور
نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے، اور آدمی سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ

42 ایضاً،ص26
43 التوبہ (9)119
44 الحج(22)30
45 الزمر(39)3
46 البخاری، محمد بن اسماعیل،صحیح البخاری، کتاب الأدب، ح6094۔ بیروت: دار ابن کثیر، 1987ء

Page 26 of 14
کے نزدیک صدیق لکھ دیا جاتا ہے، اور جھوٹ سے بچو، کیونکہ جھوٹ فجور
(گناہ) کی طرف لے جاتا ہے اور فجور آگ کی طرف لے جاتا ہے۔”
حدیث (1)
"عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رضي الله عنه، أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ:رَأَيْتُ رَجُلًا يُشَقُّ شِدْقُهُ إِلَى
قَفَاهُ، كُلَّمَا شُقَّ عَادَ كَمَا كَانَ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقِيلَ: هَذَا الرَّجُلُ يَغْدُو مِنْ بَيْتِهِ
فَيَكْذِبُ الْكَذْبَةَ تَبْلُغُ الآفَاقَ” 47
نبی ﷺ نے فرمایا: "میں نے ایک شخص کو دیکھا جس کے چہرے کا
ایک طرفہ حصہ پھاڑا جا رہا تھا، اور وہ پھٹنے کے بعد دوبارہ ٹھیک ہو جاتا،
پھر دوبارہ پھاڑا جاتا۔ میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ کہا گیا: یہ وہ شخص ہے جو
صبح اپنے گھر سے نکلتا ہے اور جھوٹ بولتا ہے، جو ساری دنیا میں پھیل جاتا
ہے۔
جھوٹ کی شدید ممانعت کے باوجود زیر بحث مقدمہ میں کئی مقامات پر مدعیہ مدعاعلیہ
کی جانب سے غلط بیانی، لالچ وطمع، مبالغہ آرائی،الزام تراشی اور جھوٹ بولا جانا ثابت
ہوا۔اگر ہمارے عدالتی نظام میں ایسی اصطلاحات کر دی جائیں کہ مقدمہ کی ابتداء میں ہی اس
بات کا اچھی طرح سے جائزہ لینے کے لیے کوئی جج مقرر کر دیا جائے، جس کا کام صرف
یہ ہو کہ معائنہ کرے کہ مقدمہ کے مندرجات جھوٹ پر مبنی ہیں یا سچ پر تو نہ صرف بہت
سے مقدمات ابتدائی مراحل میں خارج ہو جائیں گے بلکہ آئندہ کے لیے مقدمات کی روک تھام
میں بھی مدد میسر آئے گی۔ مگر عدالت نے ہر موقع پر چشم پوشی کرتے ہوئے سزا دینا تو
دور کی بات معمولی سی سرزنش بھی نہیں کی ۔عائلی مقدمات میں روزبروز اضافہ ہونے کی
وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ابتداء مقدمہ سے لے کر ہم فیصلہ ہونے
تک فریقین جتنا مرضی جھوٹ لکھ دیں، بول دیں، مگر عدالت اس پر کوئی سزا نہیں دے گی
بلکہ عدالت کا اصل ہدف صرف مقدمہ کا آخری فیصلہ کرنا ہے تاکہ مقدمات کی زیادہ سے
زیادہ ڈسپوزل (فیصلہ جات) ہو اور عدالت کے ماہانہ پوائنٹس میں اضافہ ہو سکے ،جن کی بنیاد
پر ترقی میں آسانی ہوتی ہے۔ اس طرح کی خامیوں کی وجہ سے جہاں ایک طرف ڈسپوزل بڑھ
رہی ہے تو دوسری طرف جھوٹے مقدمات دائر کیے جانے کی حوصلہ افزائی بھی ہو رہی ہے۔
مقدمہ کی ابتدا سے لے کر فیصلہ تک تمام بحث سے یہ پتہ چلتا ہے کہ فریقین کے
درمیان مقدمہ کی جو ٹائم گزری ہے مگر عدالت کے آخری فیصلہ کے مندرجات سے پتہ چلتا
ہے کہ عدالت نے دعویٰ اور جواب دعویٰ کے مندرجات کے مطابق فیصلہ تو صادر کر دیا،
مگر یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس فیصلے سے معاشرے میں کوئی بہتری آسکتی ہے؟
مدعیہ نے جابجا جھوٹ کا سہارا لیتے ہوئے تمام تر غلطیوں کا سہارا مدعاعلیہ پرڈال
دیا۔اپنےوالدین کی مرضی کےبغیر گھر سے بھاگ کر مدعاعلیہ سے شادی کی اور بعد میں الزام
لگایا کہ مدعاعلیہ نے زبردستی سے یہ سب کچھ کیا۔آج کے دور میں کون سی لڑکی ہے جو
اپنی مرضی کے بغیر کسی کے بہلانے پسلانے پر اپنے والدین کا گھر چھوڑ کر شادی کرتی
ہے ،اور ساتھ ہی عدالت میں والدین کے خلاف بیان بھی دیتی ہے ،اور پھر والدین سے اپنی
جائیداد کے حصول کی خاطر ایک لمبی چوڑی عدالتی کروائی کے ذریعے اپنا وراثتی جائیداد
کا حصہ بھی حاصل کر لیتی ہے ،اور اس دوران تین،چار یاپانچ بچوں کی ماں بننے کے بعد
اسے خیال آتا ہے کہ اس کا شوہر لالچی ہے اور اس کی جائیداد کو بیچ کر ہڑپ کرنا چاہتا ہے۔
اصل میں مدعیہ اور مدعا علیہ کے درمیان پہلے سے محبت کا تعلق موجود تھا، اسی
وجہ سے مدعیہ اکثر مدعا علیہ کے گھرکسی بہانے آتی جاتی رہی۔ اچانک یہ سب نہیں ہوا بلکہ
دونوں کے تعلقات پہلے سے تھے اور مدعیہ نے بھی اپنی مرضی سے اس رشتے کے لیے
آمادگی ظاہر کی تھی۔ تاہم بعد میں جب گھر والوں، خصوصاً ماں یا بھائی کی مداخلت اور دباؤ
47 البخاری، محمد بن اسماعیل،صحیح البخاری، کتاب التعبیر، ح7047۔ بیروت: دار ابن کثیر، 1987ء

Page 27 of 14
آیا تو مدعیہ خود پرانے مؤقف سے ہٹ گئی اور علیحدگی کا مطالبہ کر دیا۔اس پس منظر سے
اندازہ ہوتا ہے کہ کبھی کبھار خاندانی دباؤ اور رائے عوامل کو بدل دیتے ہیں، جو کہ ایسے
مقدمات میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
سونے پر سہاگہ ان تمام حالات کے باوجود عدالت صرف تنسیخ کرنے، نان و نفقہ جاری
کرنے اور اپنے یونٹس پورے کرنے کے چکر میں نہ صرف دو خاندانوں کے ٹوٹنے کا سبب بنتی
ہے بلکہ پاکستانی معاشرے کی توڑ پھوڑ میں بڑھ چڑھ کر اپنا حصہ ڈالنے سے بھی گریز نہیں
کرتی۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا عدالتی نظام دنیا بھر کے عدالتی نظاموں میں آخری نمبروں پر
براجمان ہے کیونکہ پاکستان کی عدالتوں کو اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ ان کے فیصلوں
سے معاشرے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہے ہیں، عدم تحفظ کا شکار ہو رہے ہیں، نوجوانوں کی
زندگیاں برباد ہو رہی ہیں، بچوں کے مستقبل داؤ پر لگ رہے ہیں۔

نتائج البحث
 اسلام آباد میں گزشتہ تین سالوں(2022ءتا2024ء)میں خلع و تنسیخ نکاح اور
طلاق کے مقدمات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔
 اسلام آباد میں گزشتہ تین سالوں (2022ءتا2024ء) میں دائر شدہ خلع و تنسیخ
نکاح کے مقدمات کی کل تعداد 8,241ہے۔
 خلع و تنسیخ نکاح کے مقدمات میں تاخیری حربے وکلاء،فریقین مقدمہ اور عدالت
تینوں کی طرف سے استعمال کئے جاتے ہیں۔
 اسلام آباد میں خلع و تنسیخ نکاح کے ہراگلےسال میں مقدمات کی تعداد میں
اضافہ ہی دیکھنے میں ملا۔
 خلع و تنسیخ نکاح کے بڑھتے ہوئے مقدمات کی وجہ سے معاشرہ پر سماجی،معاشی
اور معاشرتی لحاظ سے منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔

سفارشات

 چونکہ یہ تحقیق 2022 تا 2024 کے عدالتی فیصلوں تک محدود ہے، اس لیے آئندہ
2025 تا 2030 کے عرصے میں دیگر شہروں کی فیملی کورٹس کے فیصلوں کا
تقابلی مطالعہ کیا جائے تاکہ ملک گیر سطح پر خلع کے رجحان کا درست تجزیہ سامنے
آئے۔
 فیملی کورٹس میں ثالثی کونسلوں اور مصالحتی نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ خلع
کے مقدمات میں فوری فیصلے کی بجائے مصالحت کے امکانات بڑھیں۔
 فیملی کورٹس میں خلع کے مقدمات کے حوالے سے ڈیجیٹل ریکارڈنگ اور سالانہ
تجزیاتی رپورٹنگ سسٹم قائم کیا جائے تاکہ مستقبل کی تحقیق کے لیے ٹھوس اعداد و
شمار دستیاب ہوں۔
 آئندہ برسوں میں علما اور دینی ادارے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں خاندانی نظام کے
استحکام پر خصوصی توجہ دیں تاکہ خلع کے بڑھتے رجحان میں کمی لائی جا سکے۔

Imam Abu Hanifah’s Contribution to Hadith Sciences: A Reassessment

Sulaiman Kaka KhelM.Phil Islamic Studies, University of MalakandEmail: [email protected] Shaukat ZamanM.Phil Islamic Studies, University of MalakandEmail: [email protected] Abstract:Islam has the distinguished property of producing prominent personalities who served the faith in their respective times. Among these figures, Imam Abu Hanifah

مصنف: سلیمان کاکا خیل
تاریخ: 15 مئی 2026
تنبیہ الغافلین (ازفقیہ ابواللیث سمرقندی رحمتہ اللہ علیہ) کا منہج

واہمیتِ موضوع (Introduction & Significance) علامہ ابواللیث نصر بن محمدبن ابراھیم بن الخطاب الفقیہ الحنفی السمرقندیؒ لقبامام الہدی ازبکستان شہر سمرقند میں پیدا ہوئے جسے عربی میں سمران کہا جاتا ہے، یہمشھور شہر ماورءالنھر کے نام سے معروف ہے،علماء بلخ

مصنف: محمد جمیل
تاریخ: 2 اپریل 2026
Belief in Life After Death (Ba‘th ba‘d al-Mawt) in the Light

of Surah al-Rum: Worldly Impacts Bi Bi Saima Aman ullah M.Phil. Scholar, Bahria University Karachi.Head Of Markaz Ul Amaan Al Islami, [email protected] Esarullah M.Phil. Scholar, Bahria University Karachi. HR [email protected] Belief in Life After Death (Ba‘th ba‘d al-Mawt) in the

مصنف: صائمہ امان اللہ
تاریخ: 1 اپریل 2026
خلع وتنسیخ نکاح سےمتعلق فیملی کورٹ کے فیصلے:اسلامی تعلیمات کی روشنی

میں تجزیاتی مطالعہ )اسلام آبادکااختصاصی مطالعہ: 2022تا 2024 ( تمہید:ایک وقت تھاکہ مسلمان اپنے طرز معاشرت اور نظام خاندان پر فخر کیا کرتے تھےمگر آج عمومی صورتحال اغیار سے بھی بدتر ہو گئی ہے۔ جہیز ہراسانی اور انسداد گھریلوتشدد قوانین

مصنف: ڈاکٹر محمد رحمان
تاریخ: 30 مارچ 2026
اسلامی اورجدیدمعاشی ماڈلز؛ایک تقابلی مطالعہ
اسلامی اورجدیدمعاشی ماڈلز؛ایک تقابلی مطالعہ

تمہیدانسانی تاریخ کا مطالعہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ معیشت ہمیشہ سے انسانی معاشروں کی تشکیل، استحکام اور ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتی رہی ہے۔ معاشرتی نظام کی بقا اور ریاستی ڈھانچے کی مضبوطی کا انحصار ایک

مصنف: ڈاکٹر محمد رحمان
تاریخ: 28 مارچ 2026
اسلامی بینکاری کی معاصر تعبیرات کا تقابلی تجزیہ

محمد تقی عثمانی اور عبدالسلام بھٹوی کے نقطہ ہائے نظر کی روشنی میں تعارف (Introduction)اسلامی بینکاری عصر حاضر میں اسلامی مالیاتی نظام کی ایک اہم اور نمایاں پیش رفت کے طور پر سامنے آئی ہے، جس کا بنیادی مقصد سود

مصنف: حافظ عبد الحمید
تاریخ: 7 مارچ 2026