"قسم ہے زمانے کی! یقیناً انسان خسارے میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے، نیک عمل کیے، حق کی تلقین کی اور صبر کی نصیحت کرتے رہے۔”
(سورۃ العصر)
انسان کی زندگی میں بہت سی نعمتیں ایسی ہیں جن کا نعم البدل کسی نہ کسی صورت میں حاصل کیا جا سکتا ہے۔ کھویا ہوا مال دوبارہ کمایا جا سکتا ہے، بیماری کے بعد صحت لوٹ سکتی ہے، علم دوبارہ حاصل کیا جا سکتا ہے، حتیٰ کہ بگڑے ہوئے تعلقات بھی کبھی نہ کبھی سنور سکتے ہیں۔ مگر ایک نعمت ایسی ہے جو ایک لمحے کے لیے بھی ہاتھ سے نکل جائے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے واپس نہیں لا سکتی، اور وہ وقت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے وقت کو محض گزرنے والے لمحوں کا نام نہیں دیا بلکہ اسے انسان کی زندگی، اس کے اعمال اور اس کی آخرت کا سرمایہ قرار دیا ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے مختلف اوقات کی قسم کھائی ہے۔ کہیں فجر کی، کہیں صبح کی روشنی کی، کہیں رات کی، کہیں دن کی اور کہیں پورے زمانے کی۔ قرآن میں کسی چیز کی قسم اس کی عظمت اور اہمیت کو واضح کرنے کے لیے کھائی جاتی ہے۔ سورۃ العصر کی صرف تین آیات انسان کی پوری زندگی کا خلاصہ پیش کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ اعلان فرماتے ہیں کہ انسان خسارے میں ہے، مگر وہ لوگ اس خسارے سے بچ جاتے ہیں جو ایمان، عملِ صالح، حق کی دعوت اور صبر کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیتے ہیں۔ گویا اصل خسارہ مال یا منصب کا نہیں، بلکہ وقت کے ضائع ہونے کا خسارہ ہے، کیونکہ جب وقت ضائع ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ایمان، عمل اور خدمت کے مواقع بھی ضائع ہو جاتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے وقت کی حقیقت کو ایک نہایت جامع حدیث میں بیان فرمایا:
"دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں اکثر لوگ دھوکے میں رہتے ہیں: صحت اور فراغت۔”
(صحیح بخاری)
اس حدیث میں فراغت کو نعمت کہا گیا ہے، کیونکہ یہی وہ وقت ہے جس میں انسان اپنی شخصیت تعمیر کرتا ہے، علم حاصل کرتا ہے، عبادت کرتا ہے، تعلقات مضبوط کرتا ہے اور معاشرے کے لیے خیر کا ذریعہ بنتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ اکثر لوگ فراغت کو نعمت کے بجائے تفریح کا دوسرا نام سمجھ لیتے ہیں، اور جب ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ اصل سرمایہ تو خاموشی سے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔
ایک اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو: بڑھاپے سے پہلے جوانی، بیماری سے پہلے صحت، فقر سے پہلے مال داری، مصروفیت سے پہلے فراغت، اور موت سے پہلے زندگی۔”
(مستدرک حاکم)
یہ حدیث دراصل وقت کی منصوبہ بندی کا اسلامی منشور ہے۔ اسلام انسان کو مستقبل کے لیے تیار رہنے کی تعلیم دیتا ہے۔ جو شخص آج کے وقت کو صحیح استعمال کرتا ہے، وہ آنے والے کل کے لیے خود کو مضبوط بناتا ہے۔
اگر سیرتِ نبوی ﷺ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی زندگی کا ہر لمحہ مقصد سے وابستہ تھا۔ عبادت، تعلیم، دعوت، اہلِ خانہ، صحابہ کی تربیت، معاشرتی مسائل، ریاستی امور، سفر، جہاد، عبادت، دعا، آرام، حتیٰ کہ مزاح بھی اپنی جگہ متوازن تھا۔ آپ ﷺ کی زندگی میں نہ بے مقصد مصروفیت تھی اور نہ بے مقصد فراغت۔ یہی توازن ہمیں سکھاتا ہے کہ وقت کی قدر صرف زیادہ کام کرنے کا نام نہیں بلکہ صحیح کام کو صحیح وقت پر انجام دینے کا نام ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے:
"مجھے کسی چیز پر اتنا افسوس نہیں ہوتا جتنا اس دن پر ہوتا ہے جس کا سورج غروب ہو جائے اور اس میں میری عمر کم ہو جائے مگر میرے اعمال میں اضافہ نہ ہو۔”
یہ احساس دراصل زندہ دل انسان کی علامت ہے۔ وہ ہر دن کو ایک نئے موقع کے طور پر دیکھتا ہے، نہ کہ محض گزرنے والے چوبیس گھنٹوں کے طور پر۔
امام حسن بصریؒ کا مشہور قول ہے:
"اے آدم کے بیٹے! تو دنوں کا مجموعہ ہے۔ جب ایک دن گزر جاتا ہے تو گویا تیرا ایک حصہ بھی چلا جاتا ہے۔”
یہ جملہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ وقت صرف گھڑی کی سوئیوں کا سفر نہیں، بلکہ ہماری زندگی کا سفر ہے۔ ہم وقت کو نہیں گزارتے، بلکہ وقت ہمیں گزارتا ہے۔
بدقسمتی سے ہمارا دور توجہ بٹانے والا دور بن چکا ہے۔ چند لمحوں کے لیے موبائل کھولتے ہیں اور معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ایک گھنٹہ کہاں گزر گیا۔ سوشل میڈیا، غیر ضروری ویڈیوز، فضول مباحث، بے مقصد ملاقاتیں اور ٹال مٹول کی عادت آہستہ آہستہ انسان کی صلاحیتوں کو کھا جاتی ہیں۔ یہ صرف وقت کا ضیاع نہیں بلکہ زندگی کا ضیاع ہے، کیونکہ وقت ہی زندگی ہے۔
علمائے کرام کے لیے وقت کی اہمیت اور بھی زیادہ ہے۔ ایک عالم کی ایک گھنٹے کی تیاری سینکڑوں لوگوں کی اصلاح کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ ایک محقق کے چند مہینوں کی محنت آنے والی نسلوں کے لیے علمی سرمایہ بن سکتی ہے۔ ایک استاد کا ایک سبق کسی نوجوان کی پوری زندگی بدل سکتا ہے۔ اس لیے اہلِ علم کا ہر لمحہ دراصل امت کی امانت ہے۔
اسلامی تاریخ کے عظیم علماء وقت کی حفاظت میں غیر معمولی تھے۔ امام نوویؒ کے بارے میں آتا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کا ایک لمحہ بھی بے مقصد ضائع نہیں ہونے دیا۔ امام ابن جریر طبریؒ نے ہزاروں صفحات پر مشتمل علمی ذخیرہ اس لیے چھوڑا کہ وہ وقت کو مال سے زیادہ قیمتی سمجھتے تھے۔ امام ابن عقیلؒ فرماتے تھے کہ میں کھانا بھی اس انداز سے کھاتا ہوں کہ مطالعے کے وقت میں کمی نہ آئے۔ مقصد یہ نہیں کہ انسان اپنے آپ کو مشقت میں ڈال دے، بلکہ یہ ہے کہ وہ وقت کی قدر پہچان لے۔
جدید دنیا میں بھی کامیاب لوگوں کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو ایک بات مشترک ملتی ہے: وہ اپنے وقت کی حفاظت کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ کامیابی اچانک نہیں آتی بلکہ روزانہ کی چھوٹی چھوٹی درست ترجیحات سے جنم لیتی ہے۔ اسلام نے یہ حقیقت صدیوں پہلے سکھا دی تھی کہ قلیل مگر مسلسل عمل اللہ کو زیادہ محبوب ہے۔ یہی مستقل مزاجی وقت کو برکت عطا کرتی ہے۔
وقت کی قدر کا مطلب ہر وقت مصروف رہنا بھی نہیں۔ آرام، اہلِ خانہ، تفریح، ورزش، عبادت، مطالعہ اور خدمت، سب وقت کے درست استعمال کا حصہ ہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ہم کتنے مصروف ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہماری مصروفیت کس مقصد کے لیے ہے۔ بہت سے لوگ سارا دن مصروف رہتے ہیں، مگر شام کو محسوس ہوتا ہے کہ کوئی حقیقی کام انجام نہیں دیا۔ اس کے برعکس بعض لوگ کم وقت میں بڑی کامیابیاں حاصل کر لیتے ہیں، کیونکہ ان کی ترجیحات واضح ہوتی ہیں۔
اگر ہم واقعی وقت کی قدر کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ہر دن کا آغاز مقصد کے ساتھ کرنا ہوگا۔ اپنے دن کے اہم ترین کام پہلے طے کیجیے، غیر ضروری مصروفیات کو کم کیجیے، مطالعے اور عبادت کے لیے مستقل وقت رکھیے، اور ہر رات چند لمحے اپنے دن کا محاسبہ کیجیے کہ آج کا دن اللہ کی رضا، علم کے حصول، خاندان کی خدمت اور معاشرے کی بھلائی میں کتنا صرف ہوا۔
آخر میں خود سے صرف ایک سوال پوچھیے: اگر میری زندگی کا ہر دن ایک صفحہ ہے تو کیا میں ایسا صفحہ لکھ رہا ہوں جسے کل پڑھ کر خوش ہو سکوں؟
یاد رکھیے، زندگی لمبی ہونے سے زیادہ قیمتی ہونے کی محتاج ہے۔ جو شخص وقت کی قدر کرنا سیکھ لیتا ہے، وہ دراصل اپنی زندگی کی قدر کرنا سیکھ لیتا ہے۔ اور جو اپنی زندگی کی قدر کر لیتا ہے، وہی اپنے رب، اپنے علم، اپنے خاندان اور اپنی امت کے حقوق بھی بہتر طور پر ادا کر سکتا ہے۔
وقت دراصل اللہ تعالیٰ کی وہ خاموش امانت ہے جو ہر صبح ہمارے سپرد کی جاتی ہے۔ دانش مند وہ نہیں جو زیادہ وقت پاتا ہے، بلکہ وہ ہے جو ملے ہوئے وقت کو اللہ کی رضا، انسانیت کی خدمت اور اپنی شخصیت کی تعمیر کا ذریعہ بنا لیتا ہے۔ یہی وقت کی حقیقی قدر ہے، اور یہی کامیاب زندگی کا راز۔