ٹال مٹول سے نجات: جو کام آج ہونا چاہیے، اسے کل پر نہ چھوڑیں

انسان کی زندگی میں بعض کمزوریاں ایسی ہوتی ہیں جو بظاہر معمولی دکھائی دیتی ہیں، مگر رفتہ رفتہ پوری شخصیت کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہیں۔ ٹال مٹول بھی انہی خاموش کمزوریوں میں سے ایک ہے۔ انسان جانتا ہے

مصنف:ابرار حسین
تاریخ: 11 اگست 2026

دیگر مضامین

تمام مضامین دیکھیں

گوشۂ سہولت سے ایک قدم باہر: رسول ﷺ کی سیرت سے مسلسل جدوجہد کا سبق

انسان کو آرام چاہیے، سکون چاہیے، اپنے لیے ایک ایسی جگہ چاہیے جہاں زندگی کی

تاریخ: 3 اکتوبر 2026
مصنف:ابرار حسین

فقہ النوازل میں فقہاء کا منہج

اسلامی شریعت اپنی ساخت اور مزاج کے اعتبار سے ایک جامع اور ہمہ گیر نظامِ

تاریخ: 1 اکتوبر 2026
مصنف:مولانا عزیر احمد

کتب حدیث میں ضعیف وموضوع روایات کے ذکر کےاسباب و مقاصد:اصولی و تحقیقی مطالعہ

تمہیدعلمِ حدیث اسلامی علوم کا وہ عظیم الشان شعبہ ہے جس کے ذریعے رسول اللہ

تاریخ: 1 اکتوبر 2026
مصنف:محمد ندیم محمد

مقدمہ صحیح مسلم اور علل الصغیر ترمذی کے مناہج جرح و تعدیل کا تقابلی مطالعہ

تمہیدتیسری صدی ہجری علمِ حدیث کی تاریخ کا ایک اہم اور فیصلہ کن دور ہے،

تاریخ: 1 اکتوبر 2026
مصنف:محمد ذیشان

دیگر موضوعات

ابرار حسین

چیف ایڈیٹر کاروانِ علم، ٹرینر و محقق دینی و عصری علوم کے امتزاج کے حامل ایک وژنری ٹرینر اور ریسرچر ہیں۔ آپ جامعۃ الرشید کراچی کے فارغ التحصیل ہیں اور اس وقت مدرسہ ڈاٹ پی کے میں شعبۂ تربیت و شخصیت سازی کی نگرانی کر رہے ہیں۔ آپ کا مقصد مدارس کے فضلائے کرام کو معیاری تدریسی، تکنیکی اور قائدانہ مہارتوں سے آراستہ کرتے ہوئے انہیں مؤثر سماجی و فکری رہنماؤں کے طور پر تیار کرنا ہے۔

انسان کی زندگی میں بعض کمزوریاں ایسی ہوتی ہیں جو بظاہر معمولی دکھائی دیتی ہیں، مگر رفتہ رفتہ پوری شخصیت کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہیں۔ ٹال مٹول بھی انہی خاموش کمزوریوں میں سے ایک ہے۔ انسان جانتا ہے کہ اسے کیا کرنا ہے، یہ بھی جانتا ہے کہ اسے کب کرنا ہے، کبھی کبھی اس کے لیے وقت اور وسائل بھی موجود ہوتے ہیں، مگر پھر بھی وہ کام کو آگے بڑھانے کے بجائے اسے کسی آنے والے دن کے لیے چھوڑ دیتا ہے۔ ابتدا میں یہ معمولی تاخیر محسوس ہوتی ہے، لیکن جب یہی رویہ عادت بن جائے تو انسان کے بڑے بڑے منصوبے، علمی صلاحیتیں، دینی مقاصد اور زندگی کے اہم فیصلے ’’کل‘‘ کی دہلیز پر کھڑے رہ جاتے ہیں۔

ٹال مٹول کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ انسان کو بظاہر مصروف رکھتی ہے مگر حقیقی معنوں میں آگے نہیں بڑھنے دیتی۔ آدمی پورا دن مختلف کاموں میں لگا رہتا ہے، لیکن وہ کام جس کے لیے اصل توجہ درکار تھی، وہ جوں کا توں باقی رہتا ہے۔ یوں مصروفیت کا احساس پیدا ہوتا رہتا ہے مگر پیش رفت نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات ناکامی کا سبب صلاحیت کی کمی نہیں بلکہ اس صلاحیت کو بروقت عمل میں نہ لانا ہوتا ہے۔

قرآن مجید انسان کو وقت، عمل اور ذمہ داری کے بارے میں ایک ایسا بنیادی شعور عطا کرتا ہے جس میں ٹال مٹول کی گنجائش بہت کم رہ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ العصر میں زمانے کی قسم کھا کر انسان کے خسارے کا ذکر فرمایا اور پھر کامیابی کے چار بنیادی اوصاف بیان کیے: ایمان، عمل صالح، حق کی تلقین اور صبر کی تلقین۔ غور کیا جائے تو اس مختصر سورت میں انسان کو محض اچھا سوچنے کی نہیں بلکہ صحیح عمل کو بروقت اختیار کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ کیونکہ وقت گزرنے کے ساتھ انسان کے پاس امکانات کم ہوتے جاتے ہیں، جبکہ کیا ہوا عمل اس کے نامۂ اعمال کا حصہ بن جاتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے بھی انسان کو فرصت، صحت اور زندگی جیسی نعمتوں کے بارے میں غفلت سے متنبہ فرمایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں بہت سے لوگ دھوکے میں ہیں: صحت اور فراغت۔‘‘ (صحیح بخاری) اس حدیث میں ایک گہری حقیقت پوشیدہ ہے۔ انسان اکثر اس وقت کی قدر نہیں کرتا جب وقت اس کے پاس موجود ہوتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ ابھی بہت وقت ہے، بعد میں کر لیں گے، مناسب موقع آئے گا تو شروع کریں گے، حالات بہتر ہوں گے تو یہ کام کریں گے۔ مگر زندگی ہمیشہ انسان کے منصوبے کے مطابق نہیں چلتی۔ بعض مواقع دوبارہ نہیں آتے، بعض اوقات صحت ساتھ نہیں دیتی اور بعض کام ایسے ہوتے ہیں جنہیں مسلسل مؤخر کرتے کرتے انسان ایک دن ان کی ضرورت ہی کھو دیتا ہے۔

ٹال مٹول کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم اکثر بڑے کام کو ایک ہی دفعہ مکمل کرنے کا تصور کر لیتے ہیں۔ جب کوئی کام بہت بڑا دکھائی دیتا ہے تو ذہن اس سے گھبرانے لگتا ہے، نتیجتاً انسان آغاز ہی نہیں کرتا۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بڑے کام کو چھوٹے مراحل میں تقسیم کیا جائے۔ ایک کتاب لکھنی ہے تو آج پوری کتاب لکھنے کے بجائے چند صفحات لکھے جائیں۔ ایک علمی منصوبہ شروع کرنا ہے تو پہلے اس کا خاکہ بنایا جائے۔ قرآن سمجھ کر پڑھنا ہے تو پورے قرآن کے تصور سے گھبرانے کے بجائے روزانہ چند آیات کے لیے وقت مقرر کیا جائے۔ زندگی کی بڑی تبدیلیاں اکثر بڑے فیصلوں سے نہیں بلکہ چھوٹے مگر مسلسل اقدامات سے پیدا ہوتی ہیں۔

ٹال مٹول کا ایک دوسرا سبب ’’مناسب وقت‘‘ کا انتظار ہے۔ بہت سے لوگ کام اس لیے شروع نہیں کرتے کہ انہیں لگتا ہے ابھی حالات سازگار نہیں، ابھی ذہن مکمل تیار نہیں، ابھی وسائل پورے نہیں، یا پہلے کچھ اور کام مکمل ہو جائیں پھر اس طرف آئیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ کامل حالات کا انتظار اکثر انسان کو مستقل انتظار ہی میں مبتلا رکھتا ہے۔ کامیاب انسان ہمیشہ بہترین حالات کا انتظار نہیں کرتا بلکہ دستیاب حالات میں بہترین ممکن قدم اٹھاتا ہے۔ ابتدا میں کام ناقص ہو سکتا ہے، رفتار کم ہو سکتی ہے، لیکن آغاز نہ ہونے سے بہتر ہے کہ سفر شروع ہو جائے۔

سیرتِ نبوی ﷺ ہمیں عمل کے اس شعور کی نہایت خوب صورت مثالیں فراہم کرتی ہے۔ ہجرت کا فیصلہ محض ایک جذباتی اعلان نہیں تھا بلکہ اس کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی۔ راستے کا انتخاب، سواری کا انتظام، رہنمائی کے لیے ماہر شخص کا انتخاب، غارِ ثور میں قیام اور مدینہ تک پہنچنے کی حکمت عملی، یہ سب اس بات کی دلیل ہے کہ توکل کا مطلب اسباب کو چھوڑ دینا نہیں بلکہ اسباب اختیار کرکے اللہ پر بھروسا کرنا ہے۔ جو شخص ہر کام کو صرف نیت اور خواہش کی سطح پر رکھتا ہے، وہ دراصل اپنے مقصد کے ساتھ انصاف نہیں کرتا۔

اسی طرح غزوۂ خندق کے موقع پر جب مدینہ منورہ کو ایک غیر معمولی خطرے کا سامنا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے محض انتظار نہیں فرمایا بلکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مشاورت کی، دفاعی حکمت عملی اختیار کی اور خندق کھودنے کا فیصلہ کیا۔ اس موقع پر صحابہ کرام نے سخت حالات میں بھی عملی جدوجہد کی۔ یہ سیرت کا ایک بنیادی سبق ہے کہ مشکل حالات انسان کو مفلوج کرنے کے لیے نہیں بلکہ اس کی قوتِ فیصلہ اور عمل کو بیدار کرنے کے لیے آتے ہیں۔

ٹال مٹول کا تعلق صرف کام سے نہیں، بعض اوقات توبہ سے بھی ہوتا ہے۔ انسان گناہ کو چھوڑنے کا ارادہ کرتا ہے مگر کہتا ہے کہ ابھی عمر پڑی ہے، کچھ عرصے بعد اصلاح کر لوں گا۔ عبادت میں کوتاہی ہوتی ہے تو سوچتا ہے کہ حالات بہتر ہوں گے تو قرآن سے تعلق مضبوط کروں گا، نماز میں خشوع پیدا کروں گا، علم حاصل کروں گا۔ یہ ’’بعد میں‘‘ کا رویہ انسان کو اس مقام تک لے جاتا ہے جہاں وہ تبدیلی کا ارادہ تو بہت مرتبہ کرتا ہے مگر تبدیلی کا آغاز نہیں کر پاتا۔ اسی لیے قرآن انسان کو بار بار توبہ، نیکی اور خیر کی طرف سبقت لے جانے کی دعوت دیتا ہے: ’’پس نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھو۔‘‘ (البقرۃ: 148)

یہاں ایک اہم فرق سمجھنا بھی ضروری ہے۔ ہر تاخیر ٹال مٹول نہیں ہوتی۔ بعض اوقات انسان کسی کام کو مؤخر کرتا ہے کیونکہ اس کی ترجیحات مختلف ہوتی ہیں یا اسے مزید معلومات اور تیاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ حکمت یہ ہے کہ انسان "سوچی سمجھی تاخیر”اور "غیر ضروری ٹال مٹول” کے درمیان فرق کرے۔ اگر کسی کام کو مؤخر کرنے کی واضح وجہ ہے، نئی تاریخ مقرر ہے اور اس دوران ضروری تیاری جاری ہے تو یہ نظم کا حصہ ہو سکتا ہے؛ لیکن اگر انسان صرف بے دلی، خوف، سستی یا غیر ضروری مصروفیت کی وجہ سے کام کو آگے بڑھا رہا ہے تو اسے اپنی عادت کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے۔

ٹال مٹول کے پیچھے کبھی ناکامی کا خوف بھی چھپا ہوتا ہے۔ انسان سوچتا ہے کہ اگر میں نے کوشش کی اور کامیاب نہ ہوا تو کیا ہوگا؟ اس خوف کی وجہ سے وہ کوشش ہی نہیں کرتا۔ کبھی دوسروں کی تنقید کا خوف اسے روک دیتا ہے، کبھی اپنی صلاحیت کے بارے میں کم اعتمادی، اور کبھی یہ خواہش کہ جو کام شروع ہو وہ بالکل بہترین ہو۔ یوں کمال پسندی بھی عمل کی دشمن بن جاتی ہے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ پہلی کوشش کا کام ہمیشہ کامل ہونا نہیں ہوتا؛ پہلی کوشش کا اصل کام آغاز کرنا ہوتا ہے۔ بہتری سفر کے دوران آتی ہے۔

علمی زندگی میں ٹال مٹول کے اثرات خاص طور پر خطرناک ہیں۔ کتنے ہی لوگ کتاب لکھنا چاہتے ہیں مگر لکھتے نہیں، تحقیق کرنا چاہتے ہیں مگر موضوع کے انتخاب سے آگے نہیں بڑھتے، مطالعہ کرنا چاہتے ہیں مگر روزانہ کا معمول نہیں بناتے، کوئی زبان سیکھنا چاہتے ہیں مگر باقاعدہ مشق شروع نہیں کرتے۔ سال گزرتے رہتے ہیں اور خواہشات کی فہرست طویل ہوتی جاتی ہے۔ علم کے میدان میں فرق اکثر ذہانت نہیں بلکہ مستقل عمل پیدا کرتا ہے۔ جو شخص روزانہ تھوڑا پڑھتا، تھوڑا لکھتا اور تھوڑا غور کرتا ہے، وہ چند برسوں بعد اس شخص سے بہت آگے نکل جاتا ہے جو ہر روز بڑی بڑی منصوبہ بندی کرتا ہے مگر عمل نہیں کرتا۔

آج کے ڈیجیٹل ماحول نے ٹال مٹول کو مزید آسان بنا دیا ہے۔ انسان کے سامنے ہر وقت ایسی بے شمار چیزیں موجود ہیں جو فوری خوشی دیتی ہیں مگر طویل المدت فائدہ نہیں دیتیں۔ چند لمحوں کی بے مقصد مصروفیت آسان محسوس ہوتی ہے، جبکہ کتاب پڑھنا، تحقیق کرنا، ورزش کرنا، خاندان کے ساتھ وقت گزارنا یا کسی مشکل کام کو مکمل کرنا محنت مانگتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان آسان کام کو بار بار اختیار کرتا ہے اور اہم کام کو مؤخر کرتا رہتا ہے۔ اس صورت حال سے نکلنے کے لیے صرف ارادے کافی نہیں، بلکہ ماحول اور معمولات میں بھی تبدیلی ضروری ہے۔

اس کا آغاز ایک سادہ اصول سے کیا جا سکتا ہے: جس کام کو کرنا ضروری ہے، اسے اپنے دن کے کسی واضح حصے سے وابستہ کر دیجیے۔ محض یہ ارادہ کافی نہیں کہ ’’میں روزانہ مطالعہ کروں گا‘‘۔ اس کے بجائے یہ طے کیا جائے کہ فجر کے بعد بیس منٹ مطالعہ ہوگا۔ صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ ’’میں کتاب لکھوں گا‘‘ بلکہ روزانہ ایک صفحہ لکھنے کا ہدف مقرر کیا جائے۔ جب عمل کا وقت، جگہ اور مقدار واضح ہو جاتی ہے تو ارادہ آہستہ آہستہ معمول میں تبدیل ہونے لگتا ہے۔

اسی طرح ’’پانچ منٹ کا اصول‘‘ بھی مفید ہے۔ اگر کوئی کام بہت مشکل محسوس ہو تو خود سے کہیں کہ میں صرف پانچ منٹ اس پر کام کروں گا۔ اکثر مشکل کام کا سب سے بھاری مرحلہ آغاز ہوتا ہے۔ ایک مرتبہ انسان کام شروع کر دے تو ذہنی مزاحمت کم ہونے لگتی ہے اور مزید کام کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ مقصد یہ نہیں کہ پانچ منٹ میں کام مکمل ہو جائے، بلکہ مقصد یہ ہے کہ انسان اپنے ذہن کو آغاز کرنے کی عادت ڈالے۔

ایک اور مؤثر طریقہ یہ ہے کہ ہر دن کے آغاز میں صرف چند اہم کام متعین کیے جائیں اور دن کے اختتام پر ان کا جائزہ لیا جائے۔ جو شخص اپنے وقت کا محاسبہ نہیں کرتا، وہ اکثر یہ جان ہی نہیں پاتا کہ اس کی توانائی کہاں خرچ ہو رہی ہے۔ خود احتسابی انسان کو اپنے بہانوں سے آشنا کرتی ہے۔ کبھی ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے پاس وقت نہیں تھا، لیکن حقیقت یہ ہوتی ہے کہ وقت تھا مگر ترجیحات درست نہیں تھیں۔ کبھی ہم کہتے ہیں کہ کام بہت مشکل تھا، جبکہ اصل مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ہم نے اسے شروع ہی نہیں کیا۔

ٹال مٹول سے نجات کا آخری اور سب سے اہم مرحلہ یہ ہے کہ انسان اپنے مقصد کو واضح کرے۔ جس شخص کو معلوم ہو کہ اسے کہاں پہنچنا ہے، وہ راستے کی مشکلات کو زیادہ تحمل سے برداشت کرتا ہے۔ لیکن جب زندگی کا مقصد ہی دھندلا ہو تو معمولی مشغولیات بھی انسان کو اپنے اصل کام سے ہٹا دیتی ہیں۔ ایک مسلمان کے لیے سب سے بنیادی مقصد اللہ کی رضا اور آخرت کی کامیابی ہے، جبکہ اس مقصد کے تحت علم، خاندان، معاشرہ، پیشہ اور خدمتِ خلق سب اپنی اپنی جگہ ذمہ داریاں بن جاتے ہیں۔ مقصد واضح ہو تو ترجیحات واضح ہوتی ہیں، اور ترجیحات واضح ہوں تو ٹال مٹول کی گنجائش کم ہو جاتی ہے۔

ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ وقت پر کیا گیا ایک معمولی نیک عمل، اس بڑے نیک ارادے سے زیادہ قیمتی ہو سکتا ہے جو کبھی عمل میں نہ آئے۔ کسی بھوکے کو کھانا کھلانے کا فیصلہ کرنے سے زیادہ اہم اسے کھانا کھلا دینا ہے۔ کسی سے معافی مانگنے کا ارادہ کرنے سے زیادہ اہم اس کے پاس جاکر معافی مانگ لینا ہے۔ قرآن پڑھنے کا منصوبہ بنانے سے زیادہ اہم آج قرآن کھول کر چند آیات پڑھ لینا ہے۔ کتاب لکھنے کے بارے میں سوچتے رہنے سے زیادہ اہم آج اس کا پہلا صفحہ لکھ دینا ہے۔

آخرکار انسان کی زندگی ان کاموں سے نہیں بنتی جنہیں وہ کرنا چاہتا تھا، بلکہ ان کاموں سے بنتی ہے جو اس نے حقیقت میں کیے۔ خواہشیں بہت سے لوگوں کے پاس ہوتی ہیں، ارادے بھی بہت سے لوگ کرتے ہیں، مگر تاریخ انہی لوگوں کو یاد رکھتی ہے جنہوں نے اپنے ارادوں کو عمل میں تبدیل کیا۔ اس لیے اگر کوئی کام واقعی اہم ہے تو اسے ’’کبھی‘‘ کے حوالے نہ کریں۔” کبھی” ایک ایسا لفظ ہے جس کے پیچھے بے شمار نامکمل خواب دفن ہو جاتے ہیں۔

آج اپنے آپ سے ایک سادہ سوال کیجیے: وہ کون سا کام ہے جسے میں کئی دنوں، کئی مہینوں یا شاید کئی برسوں سے ’’کل‘‘ پر چھوڑ رہا ہوں؟ پھر اس کام کے لیے ایک چھوٹا سا قدم آج ہی اٹھا لیجیے۔ ممکن ہے وہ قدم بہت معمولی ہو، لیکن یہی معمولی قدم آپ کو جمود سے حرکت کی طرف لے جائے گا۔

زندگی کسی ایک بڑے موقع کی منتظر نہیں ہوتی۔ زندگی ہر صبح ہمیں چھوٹے چھوٹے مواقع دیتی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کچھ لوگ ان مواقع کو پہچان کر عمل شروع کر دیتے ہیں اور کچھ لوگ بہتر وقت کے انتظار میں انہیں گنوا دیتے ہیں۔ جو کام خیر، علم، اصلاح یا ذمہ داری سے متعلق ہے، اسے محض اس لیے مؤخر نہ کریں کہ آج کا دن معمولی ہے۔ کبھی کبھی انسان کی پوری زندگی کا رخ ایک ایسے معمولی دن میں بدل جاتا ہے جس دن اس نے پہلی مرتبہ ’’کل‘‘ کے بجائے ’’آج‘‘ کا انتخاب کیا تھا

گوشۂ سہولت سے ایک قدم باہر: رسول ﷺ کی سیرت سے مسلسل جدوجہد کا سبق

انسان کو آرام چاہیے، سکون چاہیے، اپنے لیے ایک ایسی جگہ چاہیے جہاں زندگی کی دوڑ کچھ دیر کے لیے تھم جائے، ذمہ داریوں کا بوجھ ہلکا محسوس ہو اور آدمی خود کو محفوظ سمجھے۔ یہ انسانی فطرت ہے اور

مصنف: ابرار حسین
تاریخ: 3 اکتوبر 2026
فقہ النوازل میں فقہاء کا منہج

اسلامی شریعت اپنی ساخت اور مزاج کے اعتبار سے ایک جامع اور ہمہ گیر نظامِ حیات ہے جو ہر دور اور ہر معاشرتی صورتِ حال میں رہنمائی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم انسانی معاشرہ جامد نہیں بلکہ مسلسل

مصنف: مولانا عزیر احمد
تاریخ: 1 اکتوبر 2026
کتب حدیث میں ضعیف وموضوع روایات کے ذکر کےاسباب و مقاصد:اصولی و تحقیقی مطالعہ

تمہیدعلمِ حدیث اسلامی علوم کا وہ عظیم الشان شعبہ ہے جس کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال اور تقریرات کو محفوظ کیا گیا۔ محدثینِ کرام نے اپنی پوری زندگیاں اس مقدس علم کی خدمت میں

مصنف: محمد ندیم محمد
تاریخ: 1 اکتوبر 2026
مقدمہ صحیح مسلم اور علل الصغیر ترمذی کے مناہج جرح و تعدیل کا تقابلی مطالعہ

تمہیدتیسری صدی ہجری علمِ حدیث کی تاریخ کا ایک اہم اور فیصلہ کن دور ہے، جس میں احادیثِ نبویہ کی جمع و تدوین کے ساتھ رواۃ کی جانچ پڑتال اور نقدِ حدیث کے باقاعدہ اصول مرتب کیے گئے۔ اس علمی

مصنف: محمد ذیشان
تاریخ: 1 اکتوبر 2026
وراثت میں عورت کے حق کی شرعی حیثیت اور پاکستانی معاشرت میں عملی اطلاق(تحقیقی و تنقیدی مطالعہ)

انسانی معاشرے میں وراثت محض مالی وسائل کی تقسیم کا نام نہیں بلکہ معاشی انصاف، خاندانی استحکام اور سماجی توازن کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ کسی بھی معاشرے میں وراثتی نظام اس کے قانونی، اخلاقی اور تہذیبی تصورات کی عکاسی

مصنف: حافظ بابر حسین ستی
تاریخ: 30 ستمبر 2026
ذکراللہ سے غفلت؛ معاشرتی اثرات

تمہید :‑انسان جسے اللہ رب العزت نے تمام مخلوقات میں اشرف بنایا ہے اپنے حقیقی خالق کی یاد سے غفلت اس کو پستی کا شکار بنا دیتی ہے میرا عنوان اگرچہ خالص دینی ہے لیکن اس کے معاشرے اگر اس

مصنف: نازیہ فضل
تاریخ: 30 ستمبر 2026