تاریخ میں ایسے ادوار کم آتے ہیں جب انسانی زندگی کے انداز، ذرائع اور ترجیحات یکسر بدل جائیں۔ ہمارا دور انہی غیر معمولی ادوار میں سے ایک ہے۔ چند دہائیاں پہلے تک علم کتابوں، لائبریریوں اور درس گاہوں میں محدود
کسی بھی معاشرے کی حقیقی قوت اس کی عمارتوں، سڑکوں یا معاشی اعداد و شمار میں نہیں ہوتی، بلکہ ان اداروں میں ہوتی ہے جو انسان بناتے ہیں، کردار تعمیر کرتے ہیں اور اجتماعی شعور کو سمت دیتے ہیں۔ اسلامی
ہر دور کے اپنے غالب رجحانات ہوتے ہیں۔ کچھ ادوار میں انسان خوف کے زیرِ اثر زندگی گزارتا ہے، کچھ میں مادہ پرستی غالب آ جاتی ہے اور کچھ زمانے ایسے ہوتے ہیں جن پر مایوسی کے سائے چھا جاتے
ہر دور اپنے ساتھ کچھ نئے سوالات، نئے چیلنجز اور نئی ذمہ داریاں لے کر آتا ہے۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں عالمِ دین کا بنیادی فریضہ ایک ہی رہا ہے: اللہ کے دین کو سمجھنا، اس کی حفاظت کرنا
ہر دور کی اپنی کچھ نمایاں خصوصیات اور مخصوص چیلنجز ہوتے ہیں۔ اگر گزشتہ صدیوں میں امت کو سیاسی استعمار، فکری یلغار یا تہذیبی کشمکش کا سامنا تھا، تو موجودہ دور کا سب سے بڑا سوال نوجوان نسل کی فکری
انسانی علم کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ معاشروں میں تبدیلی ہمیشہ محض افکار کے پیدا ہونے سے نہیں آئی، بلکہ ان افکار کے مؤثر ابلاغ سے آئی ہے۔ بہت سے خیالات کتابوں کے اوراق
پاکستانی معاشرہ اس وقت ایک عجیب فکری اور سماجی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک طرف جدید دنیا کی تیز رفتار تبدیلیاں ہیں، جنہوں نے انسان کی سوچ، ترجیحات اور طرزِ زندگی کو بدل کر رکھ دیا ہے، اور دوسری طرف
واہمیتِ موضوع (Introduction & Significance) علامہ ابواللیث نصر بن محمدبن ابراھیم بن الخطاب الفقیہ الحنفی السمرقندیؒ لقبامام الہدی ازبکستان شہر سمرقند میں پیدا ہوئے جسے عربی میں سمران کہا جاتا ہے، یہمشھور شہر ماورءالنھر کے نام سے معروف ہے،علماء بلخ
of Surah al-Rum: Worldly Impacts Bi Bi Saima Aman ullah M.Phil. Scholar, Bahria University Karachi.Head Of Markaz Ul Amaan Al Islami, Karachi.Saimaamanullah83@gmail.com Esarullah M.Phil. Scholar, Bahria University Karachi. HR Assistantesarullah13@gmail.com Belief in Life After Death (Ba‘th ba‘d al-Mawt) in the
تمہیدانسانی تاریخ کا مطالعہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ معیشت ہمیشہ سے انسانی معاشروں کی تشکیل، استحکام اور ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتی رہی ہے۔ معاشرتی نظام کی بقا اور ریاستی ڈھانچے کی مضبوطی کا انحصار ایک