انسان کو آرام چاہیے، سکون چاہیے، اپنے لیے ایک ایسی جگہ چاہیے جہاں زندگی کی دوڑ کچھ دیر کے لیے تھم جائے، ذمہ داریوں کا بوجھ ہلکا محسوس ہو اور آدمی خود کو محفوظ سمجھے۔ یہ انسانی فطرت ہے اور
بسم الله الرحمن الرحيم پس منظر اور اہمیت (Background and Significance): الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، وعلى آله وصحبه أجمعين. اسلامی تعلیمات کا آغاز ہی علم کی ترغیب اور قلم کی تقدیس سے ہوتا ہے۔
ہم دنیا کو صرف آنکھوں سے نہیں دیکھتے۔ آنکھیں ہمیں مناظر دکھاتی ہیں، لیکن ان مناظر کو معنی ہمارا ذہن دیتا ہے۔ ایک ہی واقعہ دو انسانوں کے سامنے پیش آ سکتا ہے، دونوں اسے دیکھ بھی سکتے ہیں، اس
انسان کے پاس علم ہو، تجربہ ہو، صلاحیت ہو اور نیک نیتی بھی ہو، لیکن اگر وہ اپنی بات دوسروں تک اس انداز سے نہ پہنچا سکے کہ سامنے والا اسے سمجھ بھی سکے، محسوس بھی کرے اور اس پر
خلاصہاسلام کی ترویج و اشاعت اور اسلامی تہذیب و ثقافت کی تشکیل میں روحانیت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اسلام نے عبادات، اخلاقیات اور معاشرتی نظم کے ذریعے ایک متوازن تمدن کی بنیاد رکھی، جبکہ تصوف نے تزکیۂ نفس اور
مسجد میں نماز کے لیے صفیں بنتی ہیں، امام آگے کھڑا ہوتا ہے، لوگ اس کے پیچھے نماز ادا کرتے ہیں اور چند منٹ بعد سب اپنے اپنے گھروں، دکانوں، دفاتر اور مصروفیات کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ لیکن ایک
خاندان کسی بھی معاشرے کی بنیادی اکائی ہے۔ معاشرے کی فکری، اخلاقی اور تہذیبی کیفیت کو سمجھنے کے لیے اس کے خاندانوں کی کیفیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایک مضبوط خاندان افراد کو محبت، تحفظ، تربیت اور
عالمہ اور نئی نسل کی فکری و اخلاقی تربیت معاشرے کی فکری اور اخلاقی تشکیل کا آغاز ہمیشہ نئی نسل سے ہوتا ہے۔ آج کی نسل ہی آنے والے کل کےخاندان، تعلیمی اداروں، معاشرتی رویوں اور اجتماعی زندگی کی نمائندگی
کسی بھی معاشرے کی مضبوطی کا آغاز اس کی بنیادی اکائی یعنی خاندان سے ہوتا ہے۔ خاندان صرف چند افراد کے ایک ساتھ رہنے کا نام نہیں، بلکہ یہی وہ پہلی درس گاہ ہے جہاں انسان زندگی کے ابتدائی اسباق
ذاتی قیادت کا موضوع دراصل قیادت کے پورے تصور کی بنیاد ہے۔ عموماً جب قیادت کی بات ہوتی ہے تو ذہن میں کسی ادارے کا سربراہ، کسی جماعت کا قائد، کسی تنظیم کا ذمہ دار یا کسی بڑے منصب پر