غصہ انسانی فطرت کا حصہ ہے۔ کوئی انسان ایسا نہیں جس کے اندر غصے کا جذبہ موجود نہ ہو۔ کبھی ناانصافی پر غصہ آتا ہے، کبھی کسی کی بدتمیزی پر، کبھی اپنے حق کے پامال ہونے پر، اور کبھی اس
انسان کی زندگی کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ اسے بہت کم علم حاصل ہوا، بلکہ یہ ہے کہ ایک وقت کے بعد وہ یہ سمجھنے لگے کہ اب اسے مزید سیکھنے کی ضرورت نہیں۔ جس دن انسان
معاشرے میں علم رکھنے والے افراد کی کبھی کمی نہیں رہی، اور نہ ہی ایسے لوگوں کی جو دوسروں کو تعلیم دیتے ہوں۔ لیکن تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ ہر صاحبِ علم مؤثر رہنما نہیں بنتا، اور نہ
سیکھنے کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا انسان کی زندگی کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ اسے بہت کم علم حاصل ہوا، بلکہ یہ ہے کہ ایک وقت کے بعد وہ یہ سمجھنے لگے کہ اب اسے مزید
"قسم ہے زمانے کی! یقیناً انسان خسارے میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے، نیک عمل کیے، حق کی تلقین کی اور صبر کی نصیحت کرتے رہے۔”(سورۃ العصر) انسان کی زندگی میں بہت سی نعمتیں ایسی ہیں جن
انسان کی زندگی میں بعض کمزوریاں ایسی ہوتی ہیں جو بظاہر معمولی دکھائی دیتی ہیں، مگر رفتہ رفتہ پوری شخصیت کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہیں۔ ٹال مٹول بھی انہی خاموش کمزوریوں میں سے ایک ہے۔ انسان جانتا ہے
مقدمہ موضوع تحقیق کا تعارف اور اہمیت جب انسان کسی پیش آمدہ مسئلے کے حل کے لیے اپنےپاس موجود علم کی طرف رجوع کرتا ہے، اور اس علم کے ذریعے وہ مسئلہ کے حل یا نتیجے تک پہنچتا ہےاس حاصل
انسان کی زندگی بڑے فیصلوں سے کم اور روزانہ دہرائے جانے والے چھوٹے اعمال سے زیادہ تشکیل پاتی ہے۔ ہم عموماً سمجھتے ہیں کہ عظیم شخصیات کسی ایک غیر معمولی کارنامے کی وجہ سے عظیم بنتی ہیں، حالانکہ تاریخ کا
"جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے، پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے، ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور کہتے ہیں: نہ ڈرو، نہ غم کرو، اور اس جنت کی خوش خبری لو جس کا تم
معاشرے میں علم رکھنے والے افراد کی کبھی کمی نہیں رہی، اور نہ ہی ایسے لوگوں کی جو دوسروں کو تعلیم دیتے ہوں۔ لیکن تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ ہر صاحبِ علم مؤثر رہنما نہیں بنتا، اور نہ