تنبیہ الغافلین (ازفقیہ ابواللیث سمرقندی رحمتہ اللہ علیہ) کا منہج

واہمیتِ موضوع (Introduction & Significance) علامہ ابواللیث نصر بن محمدبن ابراھیم بن الخطاب الفقیہ الحنفی السمرقندیؒ لقبامام الہدی ازبکستان شہر سمرقند میں پیدا ہوئے جسے عربی میں سمران کہا جاتا ہے، یہمشھور شہر ماورءالنھر کے نام سے معروف ہے،علماء بلخ

مصنف:محمد جمیل
تاریخ: 2 اپریل 2026

دیگر مضامین

تمام مضامین دیکھیں

Imam Abu Hanifah’s Contribution to Hadith Sciences: A Reassessment

Sulaiman Kaka KhelM.Phil Islamic Studies, University of MalakandEmail: [email protected] Shaukat ZamanM.Phil Islamic Studies, University of

تاریخ: 15 مئی 2026
مصنف:سلیمان کاکا خیل

تنبیہ الغافلین (ازفقیہ ابواللیث سمرقندی رحمتہ اللہ علیہ) کا منہج

واہمیتِ موضوع (Introduction & Significance) علامہ ابواللیث نصر بن محمدبن ابراھیم بن الخطاب الفقیہ الحنفی

تاریخ: 2 اپریل 2026
مصنف:محمد جمیل

Belief in Life After Death (Ba‘th ba‘d al-Mawt) in the Light

of Surah al-Rum: Worldly Impacts Bi Bi Saima Aman ullah M.Phil. Scholar, Bahria University Karachi.Head

تاریخ: 1 اپریل 2026
مصنف:صائمہ امان اللہ

خلع وتنسیخ نکاح سےمتعلق فیملی کورٹ کے فیصلے:اسلامی تعلیمات کی روشنی

میں تجزیاتی مطالعہ )اسلام آبادکااختصاصی مطالعہ: 2022تا 2024 ( تمہید:ایک وقت تھاکہ مسلمان اپنے طرز

تاریخ: 30 مارچ 2026
مصنف:ڈاکٹر محمد رحمان

دیگر موضوعات

محمد جمیل


  • مقدمہ

واہمیتِ موضوع (Introduction &

Significance)

علامہ ابواللیث نصر بن محمدبن ابراھیم بن الخطاب الفقیہ الحنفی السمرقندیؒ لقب
امام الہدی ازبکستان شہر سمرقند میں پیدا ہوئے جسے عربی میں سمران کہا جاتا ہے، یہ
مشھور شہر ماورءالنھر کے نام سے معروف ہے،علماء بلخ میں سے امام کبیر ،فاضل بے
نظیر،فقیہ جلیل القدر،محدث وحید العصر،زاھد متورع شخصیت تھے ،امام محمدؒ وامام
وکیعؒ عبداللہ بن مبارکؒ اور امام ابو یوسف کے کتب آپ کو یاد تھے،فقہ وغیرہ علوم ابی

1
جعفر ہندوانیؒ سے حاصل کئے،ایک لاکھ احادیث کے حافظ تھے،آپ سے امت مسلمہ کے
ایک جم غفیر نے تفقہ کیا۔
متقدمین میں سےبعض علماءکرام نے وعظ وتذکیر کے موضوع کواپنی زندگی اہم شعبہ
بنایاتھا چنانچہ اسی موضوع پر بہت سی کتابیں تالیف فرمائی ہیں جن کےمطالعہ
سےآخرت کا شوق پیدا ہوجاتا ہے اور نفس کو رذائل سے پاک کرنے کی ترغیب ہوتی
ہے،ان میں سے ابو الیث سمرقندیؒ کی کتاب "تنبیہ الغافلین” بھی ہے، اپنی سلامت
وترتیب کےاعتبار سے بے نظیر بھی ہے، یہ کتاب (94) ابواب پر مشتمل ہے،اس میں
کل آیات مبارکہ کی تعداد(543)ہے،احادیث مبارکہ کی تعداد(962)ہے،متصوفانہ اقوال
کی تعداد(321)ہے،جب کہ قال الفقیہ کے ساتھ علامہ سمرقندی نے ایسےمعتدد بہ اقوال
ذکر کئےہیں جس میں فقہی احکام کاایک وسیع ذخیرہ موجود ہے۔
قضیۂ تحقیق (Statement of Research

Problem)

یہ کتاب میں نے تحقیق کے لئے اس لئے منتخب کیا کہ علامہ ذہبی فرماتےہے،اس میں
بہت سی موضوع روا یتیں ہے،اور اس کے علاوہ بہت سے علماء کرام نے کلام کیا
ہیں،کیونکہ اصل میں یہ کتاب وعظ کی کتاب ہے اس میں بیشتر آحادیث با المعنی ذکر
کی ہے۔ جن کی نقد انتہائی ضروری ہے۔اور مواعظ کی کتابوں میں عموماً کچی پکی ہر
قسم کی روایات درج کی جاتی ہے ،جسکا تحقیق وتخریج بہت ضروری ہے۔اور مذکورہ
کتاب میں متصوفانہ اقوال کابھی بہت اہتمام کیا ہے جس کا چاند بین ضروری ہے۔
اور آج کل یہ سوالات ہو رہے ہے کہ اسلام ایک سچا دین قر آن ایک سچا کتاب حضورﷺ
ایک سچا نبی ہے اور جو لوگ اسلام اور اسلامی تعلیمات پر زندگی گزارے گے تو وہ
بھی بہت اچھے اوقات کے حاملین بن جائے گے تو آج کل مسلمانوں کی حالات تنزل کی
طرف جا ررہیں کیونکہ ہر دوسرا شخص حالات میں پھنسا ہوا ہے تو میرا ارادہ بن گیا
کہ میں حضور ﷺکی روایات کی وضاحت کچھ یوں کر لوں کہ عصر حاضر میں اس پر
لوگو ںکا تعامل کیا ہے؟
اور اگر یہی تعلیمات لوگوں کی زندگیوں میں آجائےتو کیسے معاشرہ بن سکتا ہے؟ اسی
حالات سے نکل کر ہر ایک مسلمان ایک اچھی زندگی گزارنے کا قابل بن جائے
حضورﷺ کے تعلیمات حق و سچ ہے ،جو شخص بھی ان میں سے اپنی زندگی اسی کے
مطابق گزارے گا تو ان کے ساتھ دنیا و عقبیٰ میں کامیابی کے وعدے ہیں، جو کہ صحابہ
کرام رضی اللہ عنہم کی معاشرہ ہمارے لیے ایک زندہ مثال ہے۔
اہدافِ تحقیق (Objectives of the Study)
اس تحقیقی کاوش کے بنیادی اہداف مندرجہ ذیل ہوں گے۔

  1. تنبیہ الغافلین کی روایات حدیث کی نقد اورآیات قرآنیہ کی ترقیم کرنا۔
  2. مواعظ کی عصر معنویت وتطبیقی جائزہ لینا۔

1

  1. متصوفانہ اقوال کا علمی جائزہ لینا۔
  2. قال الفقیہ کے ساتھ علامہ سمرقندی کی اقوال کی وضاحت کرنا۔

تعارف علامہ ابو اللیث

السمرقندیؒ

نام:
نصر بن محمدبن ابراھیم بن الخطاب السمرقندیؒ 1

1

لقب:
الفقیہ، اور یہ وہ لقب ہے جس سے وہ مشہور ہوئے، اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ
وہ علم فقہ میں اس عظیم مرتبے پر پہنچے جس میں ان کے ہم عصروں میں سے کوئی
بھی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھاکیونکہ الفقیہ (ا لف لام معرفہ )کے ساتھ ملقب کیا ہے۔
حضرت امام ابو اللیث رحمۃ اللہ علیہ کو یہ لقب بہت پسند تھا اس لیے کہ حضور صلی اللہ
علیہ وسلم نے خواب میں یہ لقب دیا تھا، اور اس لقب سے تبرک حاصل کرتے تھے۔ جب
انہوں نے یہ کتاب "تنبیہ الغافلین "تصنیف فرمائی تومدینہ تشریف لے گئےاور حضور
صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ مبارک پریہ کتاب پیش کیا جب رات کو سو گئے تو
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے
ہاتھ مبارک میں یہ کتاب لی تھی اور فرمانے لگے "خذ کتابک یا فقیہ” جب نیند سے بیدار
ہوئے تو دیکھا کہ کتاب کے جس جگہ پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ مبارک
لگی تھی اسی جگہ پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ مبارک کی نشانات موجود
تھے تو اس وجہ سے اس لقب سے تبرک حاصل کرتے تھے کہ اور فرماتےتھے یہ لقب
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خواب میں دیا تھا۔ 2
کنیت :
علامہ سمرقندیؒ کو ابوالیث کنیت دیا گیا، اور یہ کنیت اس کے نام پراتنا غالب آیا یہاں
تک کہ اس کنیت کے بغیر اس کو کویئ جانتا ہی نھیں

تاریخ ولادت:
فقیہ ابو اللیث سمرقندی رحمۃ اللہ علیہ سنہ944 ء 3 301ھ ازبکستان کے مشہور شہر
سمرقند میں پیدا ہوئے۔
تحصیل علم :
آپ نے کئی جیداساتذہ کرام و مشائخ عظام سے علمی استفادہ کیا جن میں سب سے زیادہ
علمی استفادہ کیا اپنے والد گرامی سے جن کا نام محمد بن ابراہیم التوزیؒ ہیں جیسا کہ اپنی
تفسیر میں کئی جگہ پر فرمایا ہے” حدثنی ابی” تو اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اپنے
والد محترم سے علمی استفادہ بہت کیا ابتدائی علوم بھی اپنے والد محترم سے حاصل کی
1 عمر رضاءالکحالۃ،معجم المؤلفین(بیروت:مکتبہ المثنیٰ داراحیاءالتراث العربی 13
79ھ)ج:،13ص:91
2 محی الدین ابی محمدعبدالقادربن محمدبن محمدبن نصراللہ،الجواھرالمضیہ(بیروت:دارالنعم
1157ھ)ج:3،ص:360
3 قاسم بن قطلوبغاالحنفی المتوفٰی 879ھ،تاج التراجم(بیروت:مکتبہ المثنیٰ بغداد 775ھ)ص:842

1
اسی طرح فارسی اور عربی کی کتابیں بھی اپنے والد محترم سے پڑھیں اور ان کے بعد
ان کے سب سے مشہور شیخ واستاد جو تھے وہ ابو جعفر الہندوانی رحمۃ اللہ علیہ تھے
جو ابو حنیفہ صغیر سے مشہور تھے۔
علمی مقام:
فخر الاحناف فقیہ الاحناف امام الہدیٰ فقیہ اعظم محدث جلیل مفسر کبیر فاضل عظیم
حضرت فقیہ ابو اللیث سمرقندی رحمۃ اللہ علیہ آپ کا شمار فقہ حنفی کے عظیم فقہاء میں
ہوتا ہے ،آپ کی کُتب اور اقوال کی اہمیت ہر زمانے میں مسلم رہی ہے آپ کی شہرت و
عظمت کا اہم سبب آپ کا تصوف و علم الاخلاق کی طرف رجحان تھا اسی طرح علم و
فقاہت کے ساتھ زہد تقویٰ طہارت نے آپ کی عظمت کو چار چاند لگا دیے،آپ کا خاص
مشغلہ درس و تدریس تقریر و تحریر تھا قاضی خان اور دوسرے مفتیان عظام نے آپ
کے فتوے نقل کیے آپ بادشاہ ہو اور امراؤ کے پاس جانا ناپسند کرتے تھے، آپ ایک
لاکھ احادیث کے حافظ تھے جبکہ آپ کو 10 ہزار احادیث غیر مکرر حفظ تھے۔
حضرت سہل بن بشر رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ میں نے فقیہ ابو اللیث سمرقندی
رحمتہ اللہ علیہ سے زبانی سنا ہے کہ مجھے 10 ہزار احادیث غیر مکرر یاد ہے،حضرت
محمد بن یزید ؒکا قول ہے کہ میں نے ابواللیثؒ کو عبدان کے ساتھ ان کی مسند پر بیٹھے
ہوئے دیکھا اور عبدان آپ کی جلالت کو بیان کر رہے تھے۔
آپ امام محمد اور امام وکیع رحمۃ اللہ علیہ اور عبداللہ ابن مبارک رحمۃ اللہ علیہ کے کتب
کے حافظ تھے ،علاوہ ازیں امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کے کتاب امالی کے حافظ بھی
تھے۔
زہد وتقویٰ:
حضرت فقیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ قیامت کو میرے اعمال نامے سے کوئی عبث
چیز نہ نکلے گی اور میں نے جب سے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ سے پہچانا ہے (جب سے
ہوش سنبھالا ہے)جھوٹ نہیں بولا اور نہ کسی کے ساتھ برائی کا اس قدر بھی ارادہ کیا کہ
جس قدر جانور اپنے سر کو پانی میں مارتا ہے اور پھر اٹھا لیتا ہےجو شخص علم کلام
کے ساتھ مشغول ہوا اس کا نام زمر علماء سے محو کر دینا چاہیے (جس کا مطلب شہرت
و دنیاوی منفعت ہو) ایک دفعہ حضرت فقیہ رحمۃ اللہ علیہ تجارت کے واسطے روانہ
ہوئے راستے میں رہزنوں نےآپ کے قافلہ کو لوٹ لیا جب انہوں نے بوجھ کو لے تو کئی
ایک بوجھ ایسے پائیں جن میں صرف ڈھیلے بھرے ہوئے تھے رہزن اس بات سے بڑے
حیران ہوئے اور اہل قافلہ سے اس امر کو دریافت کیا انہوں نے کہا کہ فقیہ ابولیث رحمۃ
اللہ علیہ سے پوچھو کیونکہ ڈھیلے انہوں نے انہوں نے ہی لا دیتے جب چوروں نے اپ
سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ ڈھیلے ہم نے واسطے استنجا کے اپنی مملوکہ
زمین سے لادے ہیں تاکہ غیر کی زمین سے استنجاءکے لیے ڈھیلے اٹھانے کی نوبت نہ
پہنچے رہزنوں کو یہ بات سن کر بڑا خوف پیدا ہوا اور سب نے تائب ہو کر قافلہ کا مال

1
واپس کر دیا حضرت فقیہ رحمۃ اللہ علیہ کو بڑی معذرت کی تکلیف دینے کی اور یہ بڑا
رہزنوں کا قافلہ حضرت فقیہ رحمۃ اللہ علیہ کے زہد و تقوی کے واسطے سب تائب ہوئے
اور اللہ رب العزت سے توبہ کیا اور ایک نئی زندگی کا اغاز کیااسی دن سے،اس واقعہ
سے حضرت فقیہ رحمۃ اللہ علیہ کے تقویٰ کا اندازہوتا ہے 4 ،
تصانیف:
1۔بستان العارفین
2۔بحر العلوم تفسیر القران
3۔تنبیہ الغافلین
4۔حصر المسائل ،فی الفروع
5۔خزانۃ الفقہ
6۔دقائق الاخبارفی ذکرالجنۃ والنار
7۔شرح الجامع والصغیر للشیبانی فی الفروع
8۔عیون المسائل
9۔فتاوی ابو اللیث
10۔مبسوط فی الفروع
11۔مختلف الروایہ فی مسائل الخلاف
12۔مقدمہ فی الفقہ
13۔نوادرالفقہ
14۔النوازل فی الفروع
15۔مقدمۃ الصلاۃ المشہورہ
16۔تاسیس النظائر الفقہیۃ
17۔ قرۃ العیون ومفرح القلب المحزون
18۔عمدۃ العقائد
19۔فضائل رمضان
20۔شرعۃ الاسلام
21۔تفسیر جز عم یتساءلون
22 ۔رسالہ فی اصول دین 5
اساتذہ کرام:
1۔ان کے والد گرامی محمد بن ابراہیم التوزیؒ
2۔فقیہ ابو جعفر الہندوانیؒ 6
3۔المفسر محمد بن فضل البلخیؒ 7

4 فقیرمحمد،حدائق الحنفیۃ(ناشرمکتبہ حسن سہیل لمیٹڈلاہور 1906م)ص:87
5 تاج التراجم(بیروت:مکتبہ المثنیٰ بغداد 775ھ)ص:523
6 تاج التراجم(بیروت:مکتبہ المثنیٰ بغداد 775ھ)ص:63

1

4 ۔خلیل بن احمد القاضی السجزیؒ 8
تلامذہ:
1۔لقمان بن حکیم الفرغانیؒ( یہ آپ کے کتب کے راوی ہیں)
2۔ ابو سہل احمد بن محمدؒ
3۔ محمد بن عبدالرحمن الزبیری ؒ
4۔طاہر بن محمد بن احمد بن نصر ابو عبداللہ الحدادیؒ
ان کے علاوہ بھی اپ کے بہت شاگرد ہیں۔
تاریخ وفات:
تاریخ وفات میں کئ اقوال ہیں
صاحب طبقات السنیۃ فی تراجم الحنفیۃ منگل کی رات سنۃ383ھ زکر کیا ہے
صاحب تاج التراجم صاحب سنۃ385ھ زکر کیا ہے
صاحب الجواہر المضیہ منگل کی رات صاحب سنۃ383ھ زکر کیا ہے
صاحب معجم المولفین سنۃ 393ھ زکر کیا ہے
صاحب کشف الظنون کے تین اقوال ہیں سنۃ383/385/393

علامہ ابو اللیث السمرقندیؒ

کی خدمات:

حضرت فقیہ ابو للیث سمرقندی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمات تو بہت زیادہ ہیں اگر ان کی
خدمات قرآن کے حوالے سے دیکھا جائے تو تفسیر سمرقندی جو بحر العلوم کے نام سے
7 ابونعیم احمدبن عبداللہ الاصبھانی،حلیۃ الآولیاء(بیروت:الناشرمطبعۃالسعادۃ1409ھ)،ج:10،ص:233
8 ابوالفداءاسماعیل بن عمر بن کثیرالقرشی البصری،البدایۃ وانھایۃ(بیروت:الناشربیت
الافکارالدولیۃالطبعۃالاولیٰ،1418ھ1997م سنۃالنشر1424ھ2003م)ج:،11ص:328

1
مشہور ہیں یہ تفسیر چار جلدوں پر مشتمل ہے اور عربی زبان میں لکھا گیا ہے تفسیر
سمرقندی کو بھی تفسیر طبری اور دیگر مشہور تفاسیر اور مایا ناز تفاسیروں میں شمار
کیا جاتا ہے ۔
تفسیر کی روایتی نقطہ نظر کے ساتھ اس میں قرآن کی آیات کے معنی کی وضاحت
کرنے والے بہت سی احادیث موجود ہیں حضرت فقیہ رحمۃ اللہ علیہ نے تفسیر سے
پہلے علوم قرآن اور اس کے موضوعات کا تذکرہ کیا اور اپنے آپ کو ایک مختصر بیان
تک محدود رکھا جس میں تفسیر کی تلاش کی ترغیب دی گئی قرآن کے فضائل اور اس
کی تفسیر اور شرائط کی ترغیب دی گئی ہیں ۔
تفسیر سمرقندی میں حضرت فقیہ ابو اللیث سمرقندی رحمۃ اللہ علیہ نے تشریح کا منہج
کچھ یوں اختیار کیا ہے اس کا عمومی طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے
صحابہ رضی اللہ عنہم و تابعین سے احادیث اور روایات نقل کرنا ہے وہ سورتوں کا نام
ان کی نزول کی جگہ فضل اور احکام کے ذکر سے تفسیر شروع کرتے ہیں پھر مفسرین
اور علمائے کرام کے اقوال کا حوالہ دے کر آیات کی وضاحت میں شائستگی ادا کی جاتی
ہے ،تفسیر سمرقندی میں ایک بات قابل غور ہیں کہ طبریؒ کی تفسیر کی برعکس اکثر
حدیث اور حوالہ جات بغیر کسی دستاویز کے دیے جاتے ہیں اور بستان العارفین کے
تعارف میں سے زیادہ تر دستاویزات کو ہٹانے کی وجہ سے اس معاملے کو آسان بنانا ہے
اور پڑھنے والوں کے لیے مزید فائدہ پیدا کرنا ہے البتہ تفسیر کی تمہید میں اس نے اپنا
نہج بیان کیا ہے اور تفسیر کے اوائل میں جہاں اس کا طریقہ اس سے مختلف ہیں جو اس
نے تمہید میں ذکر کیا ہے وہاں اس کا تذکرہ کرتے ہیں۔
اگر فقہ کی طرف کی جائےتو فقہ حنفی میں ان کا کردار بھی بہت زیادہ ہے جو فتاوٰی
ابی اللیث سے مشہور ہیں، جس میں بہت بسط کے ساتھ احناف کی مسائل کو وضاحت
کے ساتھ بیان کیا ہے اور اپنے ہر مسئلے کو واضح دلیل کے ساتھ ثابت کیا ہے اسی
طرح فقہ میں اس کی نوادر المقیدۃ بھی شاہکار تصنیف ہے، اس کتاب میں فقہ کی جدید و
قدیم اصطلاحات و مفاہیم کوبیان کیا ہے، فقہ کی ترتیب و تدوین کوبیان کیا ہے علم کلام
فقہ و تصوف میں باہم نسبت کوبیان کیا ہے فقہ کے موضوع کے بیان کے بعد تصوف کی
حقیقت اور چند اہم نکات کی وضاحت بھی موجود ہے، آخر میں فقہ کی ماخذ و مصادر کو
تفصیل کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے جس کے ضمن میں قطعیت،ظنیت، یقین ،ظن غالب،
جیسے اہم مباحث پر کلام کیا گیا ہے ۔
قیامت اور علامات قیامت پر بیان کیا گیا ہے علامات قیامت کا اہمیت اور اس مسئلے میں
تعارض کا حل اور اقسام پر تفصیلی بحث کیا گیا ہے اس کے ساتھ ساتھ اس پر بھی بحث
کیا گیا ہے کہ شرح زکٰوۃ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ شرح زکوۃ کی تعین و ثبوت کس قسم
شرعی دلائل سے ممکن ہے؟ اس میں زکٰوۃ عشر کی سرکاری انتظام ،نیت کی بحث
،حولان حول کی بحث ،نابالغ اور مجنون پر زکٰوۃ ان جیسے مسائل پر بحث کیا گیا ہے ان
کے علاوہ درج ذیل مسائل پر بھی بحث کیا گیا ہے ،غیر مسلم کی گواہی ،قاضی کے لیے
مسلمان ہونے کی شرط، تعزیر کی کم سے کم مقدار، زنا بالجبر حرابہ میں داخل ہے یا

1
حد؟ حدود میں خواتین کی شہادت ،احصان کی تعریف ،رجم کی سزا ،سفید بالوں پر
خضاب ،لباس کی شرعی احکام اور اس سے قطع نظر بہت مفید مسائل پر حضرت فقیہ
ؒنے مدلل بحث کیا ہے۔
اسی طرح حضرت فقیہ رحمۃ اللہ علیہ نے وعظ اور نصائح پر بھی بہت خدمات سرانجام
دیےجن میں سر فہرست” تنبیہ الغافلین”اپنی ترتیب کے لحاظ سے کمال رکھتا ہے اس میں
اعمال کے فضائل اعمال پر ملنے والے انعامات اللہ تعالی کی طرف سے ،گناہوں پر
زواجر اور گناہوں پر وعیدات اور ان گناہوں پر جو کچھ ملنے والے ہیں اللہ کی طرف
سے ان کا بیان ،اللہ تعالی سے امید والے روایات، قبر اور حشر جنت اور جہنم کو
وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے ،اور مستقل روایات اور صوفیاءکرام کے اقوال لے کر
آئے ہیں۔
خصوصا حقوق العباد کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے کہ اللہ تعالی کے بندوں کے ساتھ
جس طرح رہیں گے یا جیسے معاملہ کریں گے اللہ کی طرف سے اسی طرح صلہ ملے
گا، اسی طرح اہل و عیال کے متعلق بحث کیا ہے یتیموں پر احسان کرنے کے متعلق بیان
کیا ہے مسجد کے احترام کے بارے میں اور رمضان کی فضیلت کے بارے میں اسی
طرح ذوالحجہ اور یوم عاشورہ کی فضیلت کے متعلق اور مسائل مقبول دعاؤں کا ذکر کیا
ہے آخر میں حکایات پندونسائح، کچھ دعائیں اور تسبیحات کا ذکر بھی بیان فرمایا ہے۔
اس کے علاوہ وعظ و نصیحت کے دیگر کتب بھی موجود ہیں جن میں بستان العارفین
اور قرۃ العیون و مفرح القلب المحزون بھی ہے ،یہ بھی اپنی جگہ پر کمال رکھتےہے ،ان
میں بھی کچھ اس طرح موضوعات ہیں جن کے پڑھنے سے زندگی پلٹ جاتی ہے مثلا
نماز میں کوتاہی کرنے والے کی سزا ،شراب پینے والے کی سزا، زنا کرنے والے کی
سزا، ہم جنس پرستی اور اور اس طرح کام کرنے والے کی سزا ،سود کھانے والے کی
سزا ،زکوۃ دینے سے انکار کرنے والے کی سزا ،والدین کی نافرمانی کرنے والے کی
سزا، حرمت ربا کی تفصیل، جنت کی تفصیل اور اس میں کیا ہے قیامت کے ہولناکیوں
کے بارے میں اور حشر کے دن کیا ہونے والا ہے اس کے بارے میں، اللہ کے دیدار کے
متعلق اور اللہ کا دیدار کن صفات والے لوگوں کو نصیب ہوگا ان کے متعلق بیان فرمایا
ہے۔

تنبیہ الغافلین کا تعارفی

جائزہ:

1

نام کتاب؛ تنبیہ الغافلین
نام مؤلف : علامہ فقیہ ابواللیث سمرقندی
یہ و عظ کی کتب میں ایک بے مثال کتاب ہے جو علامہ فقیہ ابواللیث سمرقندی نے
تالیف فرمائی ہے جن کےمطالعہ سےآخرت کا شوق پیدا ہوجاتا ہے اور نفس کو رذائل
سے پاک کرنی کی ترغیب ہوتی ہے،ان میں سے ابو الیث سمرقندیؒ کی کتاب "تنبیہ
الغافلین” بھی ہے، اپنی سلامت وترتیب کےاعتبار سے بے نظیر بھی ہے، یہ کتاب
(94) ابواب پر مشتمل ہے،اس میں کل آیات مبارکہ کی تعداد(543)ہے،احادیث مبارکہ
کی تعداد(962)ہے،متصوفانہ اقوال کی تعداد(321)ہے،جب کہ قال الفقیہ کے کےساتھ
علامہ سمرقندی نے ایک معتدد بہ اقوال ذکر کئےہیں جس میں فقہی احکام کاایک وسیع
ذخیرہ موجود ہے۔
تنبیہ الغافلین اپنی ترتیب کے لحاظ سے کمال رکھتا ہے اس میں اعمال کے فضائل اعمال
پر ملنے والے انعامات اللہ تعالی کی طرف سے ،گناہوں پر زواجر اور گناہوں پر وعیدات
اور ان گناہوں پر جو کچھ ملنے والے ہیں اللہ کی طرف سے ان کا بیان ،اللہ تعالی سے
امید والے روایات، قبر اور حشر جنت اور جہنم کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے ،اور
مستقل روایات اور صوفیاءکرام کے اقوال لے کر آئے ہیں۔
خصوصا حقوق العباد کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے کہ اللہ تعالی کے بندوں کے ساتھ
جس طرح رہیں گے یا جیسے معاملہ کریں گے اللہ کی طرف سے اسی طرح صلہ ملے
گا، اسی طرح اہل و عیال کے متعلق بحث کیا ہے یتیموں پر احسان کرنے کے متعلق بیان
کیا ہے مسجد کے احترام کے بارے میں اور رمضان کی فضیلت کے بارے میں اسی
طرح ذوالحجہ اور یوم عاشورہ کی فضیلت کے متعلق اور مسائل مقبول دعاؤں کا ذکر کیا
ہے آخر میں حکایات پندونسائح، کچھ دعائیں اور تسبیحات کا ذکر بھی بیان فرمایا ہے۔
حضر ت حاجی خلیفہ لکھتے ہے کہ” تنبیہ الغافلین” پند ونصائح پر فقیہ ابو اللیث سمر
قندیؒ کی کتاب ہے،جو نہائت دیدہ زیب ،اپنی نوعیت کا عظیم مرقع ہے،لہو لعب سے پاک
ہے ،قرآن وحدیث سے مزین ہے،نادر ونایاب تحفہ ہے،اہل علم کے لئے بیش بہا سرمایہ
ہے،فقھاء کرام کے لئے غذائے روح ہے،اس کا ہر گھر میں ہونا ایک عظیم سعادت ہے۔

خلاصہ بحث

زیربحث آرٹیکل شعبہ علوم اسلامیہ بعنوان”تنبیہ الغافلین کی منہج پرمشتمل ہے۔
باب اول کی شروع میں علامہ ابواللیث سمرقندی رحمۃ اللہ علیہ کا تعارف ،و خدمات کا
تذکرہ کیا گیا ہے ۔

1
تعارف میں مندرجہ ذیل باتوں کی وضاحت کی گئی ہے، علامہ ابواللیث سمرقندی رحمۃ
اللہ علیہ کا پورا نام، لقب ،تاریخ وفات، تحصیل علم، علمی مقام، زہد و تقوی، اور علمی
اسفار، شاہکار تصانیف کا تذکرہ اور ان کے جتنے بھی شیوخ کرام ہیں ،ان کا اسماء کا
تذکرہ اور ان کے مشہور تلامذہ کرام میں سے جومشھور شخصیات ہیں ان کا اسماءکا
تذکرہ کیاگیاہے، علامہ ابواللیث سمرقندی رحمۃ اللہ علیہ کی علم خدمات کا تذکرہ کیا گیا
ہے ،جو خدمات قران کی تفسیر کے حوالے سے دی گئی ہیں، احادیث کے حوالے سے
جو خدمات سرانجام دیے گئے ہیں، فقہ اور فتاوی کے حوالے سے جو خدمات دیے گئے
ہیں ان کا تذکرہ کیا گیا ہے ۔
تنبیہ الغافلین کا تعارفی جائزہ بیان کیا گیا ہے جس میں موصوف کی کتاب کی وقعت کو
بیان کیا گیا ہے، اور حضرات اکابرین کی جو رائے ہیں ان کتاب کے بارے میں ان کا
کچھ تذکرہ بھی کیا گیا ہے جنہوں نے تنبیہ الغافلین کے بارے میں جو رائے دی ہے اس
کو بھی قلم بند کیا گیا ہے۔
باب اول میں 151 احادیث مبارکہ کا اردو ترجمہ احادیث مبارکہ کا نقد اور ان احادیث
کے متعلق جتنے مواعظ بھی ہیں ان کی عصری معنویت کی وضاحت کی گئی ہے ۔
164 آیات مبارکہ کی وضاحت بمع ترجمہ کی گئی ہیں۔
صوفیاءکرام کی اقوال 41 ہیں ان کی بھی وضاحت کیا گیا ہے اور ان کا علمی جائزہ لیا
گیا ہے۔
باب دوم میں علامہ سمرقندی رحمۃ اللہ علیہ نے مندرجہ ذیل موضوعات پر بسط کے ساتھ
بحث کیا ہے قران کریم کی آیات مبارکہ کی روشنی میں اور احادیث مبارکہ کی روشنی
میں اور ان آیات مبارکہ اور احادیث مبارکہ کے متعلق صوفیائے کرام کے جتنے اقوال
ہیں وہ بھی ذکر کیے ہیں اور اسی کے ساتھ ساتھ قال الفقیہ کے ساتھ اکثر آیات مبارکہ کی
وضاحت فرمائی ہے اور اکثر احادیث کی وضاحت بھی فرمائی ہے اور جتنا صوفیاء کرام
کے اقوال ہیں وہ بھی ذکر کر کے اپنی رائی کا اظہار بھی کیا ہے۔
جن موضوعات پر بحث کیا ہے، وہ مندرجہ ذیل ہیں ،بیٹے کا باپ پر کیا حق ہے؟ صلہ
رحمی کے متعلق، ہمسائے کے حقوق کے متعلق، شراب پینے پر اللہ اور اللہ کے رسول
صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے وعید، جھوٹ بولنے پر وعید، غیبت کرنا اور غیبت
سننا اس پر اللہ کی طرف سے ملنے والی سزائیں، چغل خوری کتنی سنگین سزا ہیں اس
کی وعید، حسد کے متعلق آیات مبارکہ اور حدیث مبارکہ، تکبر پر وعید اور تکبر پر
انسان کو کیا ملنے والا ہے؟ ذخیرہ اندوزی کی وعید، ہنسی ترک کرنا اور ہنسی کے
نقصانات، غصہ کو پی جانا اور جو لوگ غصہ کو پیتے ہیں اللہ کی طرف سے ان کو کیا
ملنے والا ہے، زبان کی حفاظت اور جو لوگ زبان کی حفاظت کرتے ہیں ان کو ایمان کی
لذت محسوس ہوتی ہے ،لمبی لمبی امیدیں باندھنا اور موت کو بھولنا اس پر وعید۔
اور اس باب میں علامہ سمرقندی رحمۃ اللہ علیہ نے( 120)آیات مبارکہ ذکر کی ہے جن
کی ترقیم کی گئی ہیں۔
اور( 136 )احادیث مبارکہ ذکر کی ہیں جن کی نقد تخریج و تحقیق کی گئی ہے ۔

1
اور( 69 )صوفیاء کرام کے اقوال ذکر کی ہیں جن پر علمی تبصرہ کیا گیا ہے اور بہت
سے قال الفقیہ کے ساتھ اپنی رائے کا اظہار کیا ہے جن کا بھی وضاحت کیا گیا ہے۔
مقالے کا آخری باب بھی بفضل اللہ تعالیٰ اپنے تکمیلی مراحل کو پہنچا،جو تین فصلوں پر
مشتمل ہےاسکی پہلی فصل میں فضائل الفقراءتا بابالصبر علی المصیبۃ کی روایات کی
نقد،مواعظ کی عصر ی معنویت اور متصوفانہ اقوال کاعلمی جائزہ لیا گیا ہے۔دوسری
فصل فضل الوضوء تا باب الطھارۃ والنظافۃ کی روایات کی نقد،مواعظ کی عصری
معنویت اور متصوفانہ اقوال کاعلمی جائزہ لیا گیا ہے۔تیسری فصل فضل الجمعۃ تاباب
ماتدفع الصدقۃ عن صاحبھا کی روایات کی نقد،مواعظ کی عصری معنویت اور متصوفانہ
اقوال کاعلمی جائزہ لیا گیا ہے۔
باب اول کاعنوان”باب الاخلاص تاباب حق الوالدین کے روایات کی نقد،مواعظ کی عصری
معنویت اور متصوفانہ اقوال کاعلمی جائزہ "جس میں درجہ ذیل موضوع پربحث کی گئی
ہے۔ فصل اول علامہ ابواللیث السمرقندیؒ کاتعارف ،خدمات اورتنبیہ الغافلین کاتعارفی
جائزہ ،فصل دوم باب الاخلاص تاباب صفۃ الجنۃ واھلھا کی روایات کی نقد،مواعظ کی
عصری معنویت اور متصوفانہ اقوال کاعلمی جائزہ ،فصل سوم باب مایرجی من رحمۃ اللہ
تعالیٰ تاباب حق الوالدین کی روایات کی نقد،مواعظ کی عصری معنویت اور متصوفانہ
اقوال کاعلمی جائزہ لیاگیاہے۔
باب دوم کاعنوان”باب حق الولدعلی الوالدتاباب الحرث وطول الامل کی روایات کی
نقد،مواعظ کی عصری معنویت اور متصوفانہ اقوال کاعلمی جائزہ” فصل اول باب صلۃ
الرحم تاباب الغیبۃ کی روایات کی نقد،مواعظ کی عصری معنویت اور متصوفانہ اقوال
کاعلمی جائزہ ،فصل دوم باب النمیمۃتا باب الزجر عن الضحک کی روایات کی نقد،مواعظ
کی عصری معنویت اور متصوفانہ اقوال کاعلمی جائزہ ،
فصل سوم باب کظم الغیظ تا باب الحرص وطول الامل کی روایات کی نقد،مواعظ کی
عصر ی معنویت اور متصوفانہ اقوال کاعلمی جائزہ لیاگیاہے۔
باب سوم کاعنوان”باب سوم :باب فضائل الفقراء تاباب ماتدفع الصدقۃ عن صاحبھا کی
روایات کی نقد،مواعظ کی عصری معنویت اور متصوفانہ اقوال کاعلمی جائزہ”فصل اول
باب فضائل الفقراءتا بابالصبر علی المصیبۃ کی روایات کی نقد،مواعظ کی عصر ی
معنویت اور متصوفانہ اقوال کاعلمی جائزہ ،فصل دوم باب فضل الوضوء تا باب الطھارۃ
والنظافۃ کی روایات کی نقد،مواعظ کی عصری معنویت اور متصوفانہ اقوال کاعلمی
جائزہ ،فصل سوم باب فضل الجمعۃ تاباب ماتدفع الصدقۃ عن صاحبھا کی روایات کی
نقد،مواعظ کی عصری معنویت اور متصوفانہ اقوال کاعلمی جائزہ لیا گیا ہے۔

Imam Abu Hanifah’s Contribution to Hadith Sciences: A Reassessment

Sulaiman Kaka KhelM.Phil Islamic Studies, University of MalakandEmail: [email protected] Shaukat ZamanM.Phil Islamic Studies, University of MalakandEmail: [email protected] Abstract:Islam has the distinguished property of producing prominent personalities who served the faith in their respective times. Among these figures, Imam Abu Hanifah

مصنف: سلیمان کاکا خیل
تاریخ: 15 مئی 2026
تنبیہ الغافلین (ازفقیہ ابواللیث سمرقندی رحمتہ اللہ علیہ) کا منہج

واہمیتِ موضوع (Introduction & Significance) علامہ ابواللیث نصر بن محمدبن ابراھیم بن الخطاب الفقیہ الحنفی السمرقندیؒ لقبامام الہدی ازبکستان شہر سمرقند میں پیدا ہوئے جسے عربی میں سمران کہا جاتا ہے، یہمشھور شہر ماورءالنھر کے نام سے معروف ہے،علماء بلخ

مصنف: محمد جمیل
تاریخ: 2 اپریل 2026
Belief in Life After Death (Ba‘th ba‘d al-Mawt) in the Light

of Surah al-Rum: Worldly Impacts Bi Bi Saima Aman ullah M.Phil. Scholar, Bahria University Karachi.Head Of Markaz Ul Amaan Al Islami, [email protected] Esarullah M.Phil. Scholar, Bahria University Karachi. HR [email protected] Belief in Life After Death (Ba‘th ba‘d al-Mawt) in the

مصنف: صائمہ امان اللہ
تاریخ: 1 اپریل 2026
خلع وتنسیخ نکاح سےمتعلق فیملی کورٹ کے فیصلے:اسلامی تعلیمات کی روشنی

میں تجزیاتی مطالعہ )اسلام آبادکااختصاصی مطالعہ: 2022تا 2024 ( تمہید:ایک وقت تھاکہ مسلمان اپنے طرز معاشرت اور نظام خاندان پر فخر کیا کرتے تھےمگر آج عمومی صورتحال اغیار سے بھی بدتر ہو گئی ہے۔ جہیز ہراسانی اور انسداد گھریلوتشدد قوانین

مصنف: ڈاکٹر محمد رحمان
تاریخ: 30 مارچ 2026
اسلامی اورجدیدمعاشی ماڈلز؛ایک تقابلی مطالعہ
اسلامی اورجدیدمعاشی ماڈلز؛ایک تقابلی مطالعہ

تمہیدانسانی تاریخ کا مطالعہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ معیشت ہمیشہ سے انسانی معاشروں کی تشکیل، استحکام اور ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتی رہی ہے۔ معاشرتی نظام کی بقا اور ریاستی ڈھانچے کی مضبوطی کا انحصار ایک

مصنف: ڈاکٹر محمد رحمان
تاریخ: 28 مارچ 2026
اسلامی بینکاری کی معاصر تعبیرات کا تقابلی تجزیہ

محمد تقی عثمانی اور عبدالسلام بھٹوی کے نقطہ ہائے نظر کی روشنی میں تعارف (Introduction)اسلامی بینکاری عصر حاضر میں اسلامی مالیاتی نظام کی ایک اہم اور نمایاں پیش رفت کے طور پر سامنے آئی ہے، جس کا بنیادی مقصد سود

مصنف: حافظ عبد الحمید
تاریخ: 7 مارچ 2026