گھر: ایک ‘جائے سکینت یا محض چار دیواری؟ ہمارے کھوئے ہوئے سکون کا نوحہ

عالی شان عمارتیں اور کھوکھلے رشتے: ہمارے خاندانی سکون کو کس کی نظر لگ گئی؟انسانی تہذیب کی ابتدا ہی سے گھر محض اینٹ، گارے یا پتھر سے بنی ایک عمارت کا نام نہیں رہا، بلکہ یہ رشتے جوڑنے، دُکھ سُکھ

مصنف:مولانا عبدالاحد
تاریخ: 21 جولائی 2026

دیگر مضامین

تمام مضامین دیکھیں

جذباتی ذہانت: وہ قوت جو انسان کو اپنے نفس کا قائد اور معاشرے کا رہنما بناتی ہے

علم اور کردار کا تعلق ہمیشہ سے ایک دوسرے کے ساتھ رہا ہے، لیکن انسانی

تاریخ: 21 جولائی 2026
مصنف:ابرار حسین

گھر: ایک ‘جائے سکینت یا محض چار دیواری؟ ہمارے کھوئے ہوئے سکون کا نوحہ

عالی شان عمارتیں اور کھوکھلے رشتے: ہمارے خاندانی سکون کو کس کی نظر لگ گئی؟انسانی

تاریخ: 21 جولائی 2026
مصنف:مولانا عبدالاحد

صبر:وہ قوت جو انسان کومعمولی سےغیر معمولی بنادیتی ہے

اور صبر کرنے والوں کو خوش خبری سنا دیجیے۔” (البقرۃ: 155) ہم ایک ایسے دور

تاریخ: 21 جولائی 2026
مصنف:ابرار حسین

مثبت سوچ: مومن کی وہ قوت جو اندھیروں میں بھی روشنی تلاش کر لیتی ہے

انسان کی زندگی کو اگر قریب سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس

تاریخ: 16 جولائی 2026
مصنف:ابرار حسین

دیگر موضوعات

مولانا عبدالاحد

عالی شان عمارتیں اور کھوکھلے رشتے: ہمارے خاندانی سکون کو کس کی نظر لگ گئی؟
انسانی تہذیب کی ابتدا ہی سے گھر محض اینٹ، گارے یا پتھر سے بنی ایک عمارت کا نام نہیں رہا، بلکہ یہ رشتے جوڑنے، دُکھ سُکھ بانٹنے، زندگی سنوارنے اور آخرت بنانے کا اوّلین مرکز تسلیم کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن آج جب ہم اپنے اطراف نگاہ دوڑاتے ہیں تو ایک عجیب سا تضاد نظر آتا ہے۔ دورِ حاضر میں مسلم معاشرے کے ایک بڑے حصے نے مادی خوشحالی کی دوڑ میں عالی شان عمارتیں تو کھڑی کر لی ہیں، جنہیں ہم فخر سے ‘گھر’ کہتے ہیں، لیکن المیہ یہ ہے کہ ان چار دیواریوں کے اندر وہ روحانی اور جذباتی سکون بڑی حد تک مفقود ہو چکا ہے جو کبھی کچے اور مفلس گھرانوں میں بھی وافر مقدار میں پایا جاتا تھا۔
جب ہم اس کھوئے ہوئے سکون کے اسباب تلاش کرتے ہیں تو اکثر سارا ملبہ صرف ٹیکنالوجی یا ‘ٹیکنوفیرنس’ (رشتوں میں سکرینز کی دراندازی) پر ڈال کر بری الذمہ ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ بلاشبہ ڈیجیٹل دور نے دوریاں بڑھائی ہیں، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری اور تلخ ہے۔ اصل بگاڑ ہمارے اپنے اندرونی رویوں میں پیدا ہوا ہے۔ ہمارے گھروں کو دراصل ہماری اپنی ‘انفرادیت پسندی’ (Individualism)، انا پرستی اور بے رُخی کی نظر لگ گئی ہے۔ آج ایک ہی چھت تلے رہنے والے افراد کے درمیان برداشت کا مادہ کم ہوتا جا رہا ہے؛ ہر شخص اپنے حقوق کے حصول کے لیے تو مستعد ہے لیکن فرائض کی ادائیگی میں سرد مہری کا شکار ہے۔ مکالمے (Communication) کا وہ خوبصورت ماحول جہاں دن بھر کی تھکن باتوں سے اتاری جاتی تھی، اب خاموشی اور جذباتی فاصلوں میں بدل چکا ہے۔ ہمارے اسی طرزِ عمل نے رفتہ رفتہ گھر کو ایک ‘جائے سکینت’ کے بجائے محض ایک آرام گاہ یا ہوٹل بنا کر رکھ دیا ہے۔

  1. قرآنی تصورِ ‘سکینت’ اور نبویؐ گھرانہ: محبت، درگزر اور رحمت کا عملی نمونہ
    رشتوں میں پیدا ہونے والی اس سرد مہری کا علاج اس قرآنی وژن میں پوشیدہ ہے جس نے خاندان کی بنیاد ہی ‘سکون’ اور ‘رحمت’ پر رکھی ہے۔ اللہ رب العزت نے مرد اور عورت کے اس پاکیزہ رشتے کا مقصد محض نسلِ انسانی کی بقا نہیں بلکہ روحانی اور نفسیاتی پناہ گاہ قرار دیا ہے۔ سورۃ الروم (آیت 21) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
    وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ)الآیۃ)
    ترجمہ:اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی، بے شک اس میں غور و فکر کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔”
    اس آیتِ مبارکہ میں لفظ "لِّتَسْكُنُوا” (تاکہ تم سکون پاؤ) خاندانی نظام کی اصل روح ہے۔ یہ سکون اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتا جب تک دلوں میں "مَوَدَّة” (خالص محبت) اور "رَحْمَة” (ایثار اور درگزر) نہ ہو۔
    قرآن کے اس شاندار تصور کو محسنِ انسانیت ﷺ اور آپؐ کے تربیت یافتہ صحابہ کرامؓ نے اپنی عملی زندگیوں میں برت کر دکھایا۔ سیرتِ طیبہ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کی سب سے عظیم ہستی ہونے کے باوجود رسول اللہ ﷺ اپنے گھر والوں کے کام کاج میں ہاتھ بٹاتے اور ان کے لیے سراپا رحمت تھے۔ اسی طرح حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور سیدۃ النسا حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کے گھرانے کی مثال ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ وسائل کی کمی اور مشقت کے باوجود، جب چکی پیستے پیستے حضرت فاطمہؓ کے ہاتھوں میں چھالے پڑ جاتے، تب بھی اس گھر کی فضا میں شکوے شکایتیں یا بے رُخی نہیں ہوتی تھی، بلکہ باہمی احساس، محبت اور اللہ کی رضا پر صابر رہنے کا وہ جذبہ موجزن ہوتا تھا جو کچے حجرے کو بھی جنت کا ٹکڑا بنا دیتا تھا۔ اسلاف کے یہ گھر محض اینٹ گارے کی عمارتیں نہیں تھے، بلکہ وہ تربیت گاہیں تھیں جہاں سے حسنِ اخلاق کے چشمے پھوٹتے تھے۔
  2. انفرادیت پسندی اور ڈیجیٹل دور کی سرد مہری: کیا ہم ایک ہی چھت تلے اجنبی بن چکے ہیں؟
    ماضی کے ان روشن اور باہم جڑے ہوئے گھرانوں کے برعکس، آج معاشرے کا ایک نمایاں حصہ جن خاندانی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، وہ محض معاشی نہیں بلکہ فکری اور نفسیاتی ہیں۔ آج کے انسان نے ‘انفرادیت پسندی’ (Individualism) اور اپنی ذات کے خول میں قید رہنے کو آزادی کا نام دے دیا ہے۔ اس انا پرستی نے رشتوں کے درمیان قوتِ برداشت کو کمزور کر دیا ہے۔ جب میاں بیوی یا والدین اور بچوں کے درمیان ہر بات صرف اپنے ذاتی حقوق کے مطالبے اور خاندانی سیاست کی نذر ہونے لگے، تو فرائض کی ادائیگی کا احساس خود بخود دم توڑ دیتا ہے۔
    اس فکری بگاڑ کو ایک خطرناک حد تک پہنچانے میں ‘ڈیجیٹل انقلاب’ اور سوشل میڈیا نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ ماہرینِ نفسیات بجا طور پر اسے ‘ٹیکنو فیرنس’ (Technoference) یعنی رشتوں میں ٹیکنالوجی کی دراندازی قرار دیتے ہیں۔ آج صورتحال یہ ہے کہ ایک ہی کمرے میں بیٹھے افراد جسمانی طور پر تو قریب ہیں، مگر ان کے ہاتھ میں موجود سکرینز نے انہیں ایک دوسرے سے کوسوں دور، گویا اجنبی بنا دیا ہے۔ میاں بیوی کے درمیان دن بھر کے احوال بانٹنے کا وقت موبائل فونز کی نذر ہو رہا ہے، اور جب بچے توجہ مانگتے ہیں تو والدین گفتگو کرنے کے بجائے انہیں کارٹونز اور سکرینز کے حوالے کر کے اپنی جان چھڑا لیتے ہیں۔ یہ وہ سرد مہری ہے جس نے رشتوں کے درمیان مکالمے (Communication) کو ختم کر کے گھروں کو ایک خاموش اور جذباتی طور پر کھوکھلی عمارت میں تبدیل کر دیا ہے۔
  3. استحکامِ خاندان کے بنیادی ستون: حقوقِ زوجین اور مکالمے کا احیاء کیسے ممکن ہے؟
    ان عصری چیلنجز کا محض رونا رونے کے بجائے، ہمیں بحیثیتِ مسلم امہ ان کا عملی حل تلاش کرنا ہوگا۔ ہمارے پروجیکٹ ‘استحکامِ خاندان’ کے دو بنیادی ستون—الزوجین (میاں بیوی کے معاملات) اور الاولاد (بچوں کی تربیت)—دراصل اسی کھوئے ہوئے خاندانی سکون کی بحالی کا خاکہ پیش کرتے ہیں۔
    سب سے پہلے میاں بیوی کے رشتے کو انا اور ضد کے بجائے احسان، حیا اور درگزر پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ جب دو مختلف انسان ایک چھت تلے رہتے ہیں تو مزاج کا اختلاف فطری ہے، لیکن اسے حل کرنے کا نبویؐ اصول نہایت شاندار ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:
    عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي لله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«لَا يَفْرَكْ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَةً، إِنْ كَرِهَ مِنْهَا خُلُقًا رَضِيَ مِنْهَا آخَرَ» أَوْ قَالَ: «غَيْرَهُ»
    ترجمہ: کوئی مومن مرد کسی مومنہ عورت سے (مکمل طور پر) بغض نہ رکھے، اگر اسے اس کی کوئی ایک عادت ناپسند ہوگی تو کوئی دوسری عادت پسند آ جائے گی)۔ (صحیح مسلم)
    یہ حدیث ہمیں رشتوں میں برداشت اور مثبت پہلوؤں پر توجہ مرکوز کرنے کا عظیم سبق دیتی ہے۔ گھر کو عدالت نہ بنائیں جہاں صرف غلطیوں پر جرح ہو، بلکہ اسے ایسا مشاورتی مرکز بنائیں جہاں مکالمہ ہو۔
    دوسری جانب،بچوں کی اخلاقی اور ڈیجیٹل تربیت کے لیے ضروری ہے کہ گھروں میں ‘ڈیجیٹل حدود’ (Digital Boundaries) کا تعین کیا جائے۔ کھانے کی میز پر، یا سونے سے قبل کے اوقات کو سکرینز سے پاک (No-Screen Zones) قرار دیں۔ والدین بچوں کے لیے محض اے ٹی ایم (ATM) مشین یا ڈکٹیٹر نہ بنیں، بلکہ ان کے دوست اور مربی بنیں۔ ان کی کہانیاں سنیں، انہیں انبیاءؑ اور صحابہ کرامؓ کے واقعات سنائیں تاکہ وہ سوشل میڈیا کے مصنوعی کرداروں سے مرعوب ہونے کے بجائے اپنی تہذیبی شناخت پر فخر محسوس کریں۔
  4. تجدیدِ عہد اور امید کی کرن (امت سازی کی جانب پہلا قدم)
    ان تمام عصری چیلنجز اور ان کے نبویؐ حل پر غور کرنے کے بعد، یہ حقیقت پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ ہمارے گھروں کا کھویا ہوا سکون ہمیشہ کے لیے ناپید نہیں ہوا۔ مسائل چاہے کتنے ہی گہرے کیوں نہ ہوں، اسلامی تعلیمات کی روشنی اس خاندانی بحران کو ختم کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ ہمیں مایوسی، شکوے یا خوف کا شکار ہونے کے بجائے امید اور شعوری عمل کا راستہ چننا ہوگا۔
    یہ بنیادی اصول ہمیشہ پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ خاندان محض ایک ہی چھت کے نیچے رہتے ہوئے مادی ضروریات پوری کرنے کا نام نہیں ہے۔ یہ دراصل امت سازی، کردار سازی اور آنے والی نسلوں کی اخلاقی تعمیر کی سب سے پہلی اور نازک درسگاہ ہے۔ اگر ہم اپنے انفرادی رویوں میں لچک پیدا کر لیں، انا پرستی کو ایثار سے بدل دیں اور سکرینز پر ضائع ہونے والے وقت کو رشتوں کی آبیاری اور مکالمے کے لیے مختص کر دیں، تو ہمارے یہ گھر ایک بار پھر محبت اور رحمت کا گہوارہ بن سکتے ہیں۔
    ہمارا پروجیکٹ "استحکامِ خاندان” دراصل اسی فکری بیداری اور تجدیدِ عہد کی ایک پکار ہے۔ آئیے! آج ہم سب مل کر یہ شعوری فیصلہ کریں کہ ہم اپنے گھروں کو بے جان اینٹ گارے کی محض ایک ‘چار دیواری’ نہیں رہنے دیں گے، بلکہ انہیں قرآنی وژن کے عین مطابق ایک حقیقی ‘جائے سکینت’ بنائیں گے۔ ایک ایسا پرسکون آنگن، جہاں سے نکلنے والی نسلیں اخلاقی، نفسیاتی اور ایمانی طور پر اتنی مضبوط ہوں کہ وہ مستقبل کے ایک طاقتور، باشعور اور مستحکم مسلم معاشرے کی بنیاد رکھ سکیں۔
جذباتی ذہانت: وہ قوت جو انسان کو اپنے نفس کا قائد اور معاشرے کا رہنما بناتی ہے

علم اور کردار کا تعلق ہمیشہ سے ایک دوسرے کے ساتھ رہا ہے، لیکن انسانی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ محض علم انسان کو عظیم نہیں بناتا۔ دنیا میں ایسے بے شمار لوگ گزرے ہیں جو غیر معمولی علم

مصنف: ابرار حسین
تاریخ: 21 جولائی 2026
گھر: ایک ‘جائے سکینت یا محض چار دیواری؟ ہمارے کھوئے ہوئے سکون کا نوحہ

عالی شان عمارتیں اور کھوکھلے رشتے: ہمارے خاندانی سکون کو کس کی نظر لگ گئی؟انسانی تہذیب کی ابتدا ہی سے گھر محض اینٹ، گارے یا پتھر سے بنی ایک عمارت کا نام نہیں رہا، بلکہ یہ رشتے جوڑنے، دُکھ سُکھ

مصنف: مولانا عبدالاحد
تاریخ: 21 جولائی 2026
صبر:وہ قوت جو انسان کومعمولی سےغیر معمولی بنادیتی ہے

اور صبر کرنے والوں کو خوش خبری سنا دیجیے۔” (البقرۃ: 155) ہم ایک ایسے دور میں زندہ ہیں جہاں انسان پہلے سے زیادہ آسائشوں کا مالک ہے، مگر پہلے سے زیادہ بے چین بھی۔ ذرائع بڑھ گئے ہیں مگر تحمل

مصنف: ابرار حسین
تاریخ: 21 جولائی 2026
مثبت سوچ: مومن کی وہ قوت جو اندھیروں میں بھی روشنی تلاش کر لیتی ہے

انسان کی زندگی کو اگر قریب سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی کامیابی یا ناکامی صرف اس کے حالات سے متعین نہیں ہوتی، بلکہ اس سے کہیں زیادہ اس زاویۂ نگاہ سے وابستہ ہوتی ہے جس

مصنف: ابرار حسین
تاریخ: 16 جولائی 2026
خود اعتمادی: وہ قوت جو ایمان سے جنم لیتی ہے

خود اعتمادی: وہ قوت جو ایمان سے جنم لیتی ہے تاریخِ انسانی کا مطالعہ اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ بڑے کارنامے ہمیشہ غیر معمولی وسائل رکھنے والوں نے انجام نہیں دیے، بلکہ اکثر وہ لوگ زمانے کا رخ

مصنف: ابرار حسین
تاریخ: 16 جولائی 2026
عالمہ کا کردار: درس گاہ سے معاشرے تک

مسلم معاشرے کی تعمیر میں اہلِ علم کا کردار ہمیشہ بنیادی رہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی امت کو فکری، اخلاقی یا سماجی چیلنجز کا سامنا ہوا، رہنمائی کے لیے اہلِ علم ہی کی طرف رجوع کیا گیا۔

مصنف: اقراء شریف
تاریخ: 15 جولائی 2026