شعبہ قرآنک اسٹڈیز
دی اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور
تفسیرمعارف القرآن و تفسیر بیان القرآن کے احکامی تفسیری ادب کا تجزیاتی و ادبی مطالعہ
An Analytical and literey study of the Quranic Commentary and the Interpretation of the Quran
"The Holy Quran is the final divine and revolutionary book revealed by Allah Almighty. It was sent down to transform the lives of human beings. Without this sacred guidance, creation cannot truly recognize or understand its Creator.”
"The Holy Quran is a source of guidance for all human beings. It encompasses all matters related to human life, from birth to death. Moreover, the possibility of any distortion in it has been eliminated until the Day of Judgment.” "The Holy Qur’an is a treasure trove of knowledge, from which scholars extract insights according to their individual capacities. Allah Almighty has revealed two primary types of verses within it. One category consists of clear commands and legal rulings. The other encompasses a broad range of themes, including monotheism (Tawheed), prophethood, exhortation and guidance, warnings and admonitions, narratives and parables, vivid depictions of the Day of Judgment, and detailed descriptions of Paradise and Hell. Each type serves a divine purpose, addressing the intellect, spirit, and moral compass of humanity.” "Approximately five hundred verses in the Holy Qur’an pertain to legal rulings, the details of which have been thoroughly explained by jurists and commentators. Over the centuries, countless translations and interpretations of the Qur’an have been produced in various languages—an immense blessing for the Muslim Ummah. Allah Almighty has instilled such wisdom and flexibility in the rulings of the Qur’an and Sunnah that they continue to offer guidance for issues that arise up to the Day of Judgment. For this reason, the door of ijtihad (independent legal reasoning) has remained open, allowing qualified scholars to address new challenges in light of the foundational principles of Islam.” This is why the door of ijtihad has been kept open until the Day of Judgment—to address emerging issues in light of the Qur’an and Sunnah. In the present era, the Muslim Ummah is confronted with numerous unprecedented challenges. However, some scholars tend toward exaggeration or deviation when engaging in ijtihad directly from the Qur’an and Sunnah without proper methodology. Recognizing this, the three selected commentators have addressed various jurisprudential issues in their respective interpretations, offering insights that are particularly relevant to contemporary life. This article presents a
research-based, comparative analysis of these selected verses across these three interpretations, focusing on the legal rilings derived from them and their application to modern contexts .
Keywords: This article presents a comparative analysis of these selected Ayat al-Ahkam—verses of legal significance—from the Holy Qur’an as interpreted by three prominent commentators. Through a careful study of classical tafsir and contemporary applications, the research explores how Islamic jurisprudence (fiqh) continues to evolve through ijtihad in response to the complex challenges faced by the modern Muslim Ummah. By examining the rulings derived from these verses, this study sheds light on the dynamic nature of Sharia as a living legal system rooted in revelation, yet flexible enough to address emerging fiqh issues in the 21st century. The work contributes to the discourse on modern Islamic thought, emphasizing the importance of sound methodology in interpreting Quranic rulings and maintaining the balance between tradition and modernity.
تمہید:
قرآن کریم اللہ کی آخری الہامی اور انقلابی کتاب ہے۔ جو پوری انسانیت کے لیے اللہ کی طرف سے رشد و ہدایت ہے ۔اس کا مخاطب نوع انسان ہے۔ اس کا خطاب تمام بنی نوع انسان کے لیے یکساں ہیں۔ لیکن اس کتاب سے مستفید ہونے کی صلاحیت سب کی یکساں نہیں ہوتی۔ قران کریم انسانوں کی زندگی میں تبدیلی لانے کے لیے نازل ہوا ۔اس کتاب کی بنا پر مخلوق اپنے خالق کو صحیح معنوں میں نہیں پہچان سکتی۔ چونکہ قران مجید تمام انسانوں کے لیے ہدایت کا ذریعہ ہے۔ جو پیدائش سے لے کر موت تک انسان سے متعلقہ تمام امور پر محیط ہے۔ اور قیامت تک اس میں تحریف کے امکانات ختم ہو گئے ہیں ۔قران میں بے شمار علوم کا خزانہ ہے۔ جس سے علماء اپنی بساط کے مطابق مستفید ہوتے ہیں ۔اللہ تعالی نے قران مجید میں دو قسم کی ایات نازل کی ہیں۔ ان میں سے ایک قسم احکام پر مشتمل ہوتی ہے
جبکہ دوسری قسم کی آیات میں توحید ،رسالت واعظ و نصیحت، ،قصص، امثال ،قیامت کی ہولناکیاں، جنت اور جہنم کے تذکرے شامل ہوتے ہیں ۔قران میں احکام سے متعلق ایات کی تعداد تقریبا 500 سو کے قریب ہے ۔جن کی تفصیلات مفسرین نے اور فقہاء نے بیان کی ہے۔ قران پاک کے بے شمار تراجم اور تفاسیر مختلف زبانوں میں شائع ہو چکی ہیں۔ جو کہ مسلم امت کے لیے بہت بڑی نعمت ہے۔
مفسرین نے نہایت عرق ریزی کے ساتھ قران پاک کی تفسیر و تشریح بیان کی ہے۔ اور مختلف علوم و فنون پر مشتمل تفاسیر لکھی ہیں۔ ان مفسرین میں فقہ کے ماہرین مفسرین بھی شامل ہیں۔ جنہوں نے فقہی مسائل کو بیان کیا ہے۔ اور بعض نے احادیث اور اقوال تابعین کو
سامنے رکھتے ہوئے تفسیریں لکھی ہیں۔ عصر حاضر میں امت مسلمہ کو بےشمار نئے مسائل کا سامنا ہو رہا ہے۔ ان سے پیدا ہونے والے نئے مسائل کے حل کے لیے قران اور سنت سے براہ راست اجتہاد کے حوالے سے اہل علم استفادہ کر رہے ہیں۔ اس لیے ان مفسرین نے اپنی اپنی تفاسیر میں ایسی فقہی مسائل کا ذکر کیا ہے۔ جو عصر حاضر میں انسانوں کی ضرورت ہے۔فقہی مفسرین نے قران مجید کی تفسیرات میں احکامات کو خاص توجہ دی ہے۔ اور انہیں علیحدہ علیحدہ طور پر بیان کیا ہے ۔ان مفسرین کی تفسیروں میں احکامات کا تفصیلی مطالعہ اور سمجھ انسان کو ان کی عملی زندگی میں ان کو پورا کرنے کی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ مفسرین کرام نے احکام القرآن پر مشتمل تفاسیر میں قران مجید کی مختلف آیات کو ان کے اصل موضوع کے مطابق تشریح کی ہے ۔یہ تشریحات انسان کو دینی ،معاشی اور معاشرتی اور سیاسی میدانوں میں ہدایت فراہم کرتی ہے، ان مفسرین نے قران مجید کی آیات کو معاشرتی اور زندگی کے مختلف پہلوؤں میں لاگو کیا ہے۔ تاکہ انسان ان کی روشنی میں اپنی بہترین زندگی کو بہتر بنا سکے۔ اس طرح کی تفسیرپں احکام القران کی سمجھ اور ان کی عملی اطلاق کے لیے بہت اہم ثابت ہوتی ہیں۔ اس سے انسان کو اپنی روز مرہ کی زندگی کے مختلف معاملات میں احکام القرآن کی روشنی میں عمل کرنے کی سمجھ ملتی ہے۔ وہ اپنی زندگی کو دینی اصولوں کے مطابق چلانے میں کامیاب ہوتا ہے۔ زیر نظر مضمون ’’تفسیر معارف القرآن و تفسیر بیان القرآن کے اھکامی تفسیری ادب کا تجزیاتی و ادبی مطالعہ ‘‘میں احکامی تفاسیر پر ہونے والی علمی خدمات کا ادبی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ بیان القرآن کا تعارف و اسلوب و منھج : حکیم الامت مجدد الملت، حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کی مشہور تفسیر "بیان القرآن” کی بابت کچھ تحریر کرنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ بیان القرآن تمام علوم متعلقہ قرآن کریم کی جامع اور تفسیری علوم کی حادی نابعد روزگار تفسیر ہے۔ اس تفسیر سے حضرت تھانوی کی فقہی بصیرت اور جامعیت کے تمام پہلوؤں پر نظر عمیق کا ہم جیسے کم فہمیوں کو بھی اندازہ ہو سکتا ہے۔ حکیم الامت نے اس میں بعض خاص تفسیر ی تحقیقات ہی نہیں فرمائی۔ بلکہ اردو اور عربی محاورے کے دقیق فرض کو بھی ملحوظ رکھا ہے۔حوالہ جات تفسیر بیان القران کا تعارف اور اسلوب و منہج : یہ ترجمہ و تفسیر مولانا اشرف علی تھانوی نے 1323 ھ بمطابق 1905 ء میں مکمل کیا تھا۔ جو پہلی مرتبہ 1326 ھ 1908 ء کو مطبہ مجتبائی دہلی سے 12 جلدوں میں شائع ہوا۔ اس تفسیر میں قرانی متن کے نیچے اردو اور بقیہ صفحے پر تفسیر ہے۔ مولانا تھانوی کی تفسیر کی خوبی کا اختصار اور اعجاز ہے۔ کہ اپ حتی الامکان فلسفانہ مباحث اور اسرائیلیات سے بچتے تھے۔اختلاف کی صورت میں صرف مذہب حنفی کو اختیار فرماتے ہیں۔ اپ کی تفسیر میں آیات بالایات، احادیث اور صحابہ کے اقوال پر مشتمل تفسیر یعنی تفسیر بالماثور ہے
۔حضرت تھانوی تفسیر کے دوران فقہی مسائل بیان کرنے کا خیال بھی رکھتے ہیں۔ آپ چونکہ حنفی المذہب تھے ۔ اس لیے احکام کے استخراج و استنباط میں حنفی مذہب کی پیروی کرتے ہیں ۔اپ اجتہاد نہیں کرتے ۔بلکہ مسائل کے سلسلے میں اپنی تقلید و کیفیت کا اظہار کرتے ہیں۔ تفسیر معارف القرآن کا تعار ف و اسلوب و منھج:معارف القرآن مفتی محمد شفیع عثمانی کی اردو تفسیر ہے۔ جو کہ آٹھ جلدوں پر مبنی تفسیر ہے۔ تفسیر کے آغآز میں قرآن کی خصوصیات و الزامات کے تحت اپنے انداز اور اسلوب کو بیان کیا گیا ہے۔ معارف القرآن ایک اہم تفسیر ہے۔ یہ ایک آسان اور سادہ زبان میں قرآن کے بنیادی اصولوں کو بیان کرتی ہے۔ تاکہ عام لوگ قران کے معانی اور احکامات کو آسانی سے سمجھ سکیں۔ اس تفسیر کی خوبی یہ ہے۔ کہ اس میں عصر حاضر کے مسائل اور توجیہات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔۔ معارف القرآن کا اسلوب و منھج معارف القرآن کا اسلو ب و منہج کی بات کریں۔ تو تفسیر معارف القرآن ایک خالص فقہی تفسیر ہے۔ جس میں عوام کی سہولت کے لیے روزمرہ کے مسائل پر بھرپور روشنی ڈالی جاتی ہے۔ آپ کی تفسیر میں عربی الفاظ کے معنی اور ان کی تشریح بیان کرنے کا بھی پورا اہتمام ہے۔ اس تفسیر کو سادہ، عام فہم، اور دل نشین انداز میں بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ معارف القرآن میں اسرائیلی اخیارو واقعات کا بھی استعمال بہت اعتدال کے ساتھ کیا گیا ہے۔ اس تفسیر میں احادیث کا بکثرت استعمال ہے۔اس میں علماء اور فقہاء کے مذہب اور مسلک بیان کرنے کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ آب چونکہ حقیقت پسندانہ ہیں۔ اسی حقیقت پسندانہ شخصیت کی روشنی میں آپ مسائل بیان کرتے ہیں۔ تفسیر معارف القرآن جدید علوم کے ارتقا کے ساتھ ساتھ جو نئے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ ان کے پیش نظر قرآن پاک کی تعلیمات کی تشریح اور اس کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث اور صحابہ کے اسوہ حسنہ کو اس انداز سے پیش کیا گیا ہے۔ کہ جس کو جدید تعلیم سے آراستہ لوگوں نے بخوشی قبول کیا ہے ان دونوں مفسرین نے قران پاک کی ایک طرف جدید انداز میں تفسیر کی ہے۔ بلکہ قران میں موجود احکامات کی نہایت فقہانہ انداز میں تشریح و توضیح بیان کی ہے۔ ان تفا سیر کی خصوصیات میں یہ بھی شامل ہے۔ کہ احادیث صحیحہ، آثار صحابہ، تفسیر بالماثور، احکامات وغیرہ کا عمدہ نمونہ پیش کیا گیا ہے۔ اس زیر نظر مضمون میں قرآن کے احکامات کو دونوں مفسرین کے نقطہ نظر سے بیان کیا جاتا ہے۔ ان دونوں تفاسیر میں موجود احکامات و معاملات کا ادبی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ ان دونوں مفسرین نے مسلمانوں کی اجتماعی قوت کو مضبوط بنانے کے لیے نہایت مہذبانہ تفسیر بیان کی ہے۔ اور ناقابل تسخیر بنانے کے اصول وضع کیے ہیں ۔اور مسلمانوں کو اس بات پر تنبیہ کی ہے۔ کہ اہل کتاب اور دوسرے لوگ جو گمراہی میں مبتلا کرنے چاہتے ہیں۔ ان کی گمراہی سے باخبر رہ کر سے بچنے کا اہتمام
کریں۔ قرآن فتنوں سے نکالنے والا ہے۔ اس بات کی اس آیتِ میں مفسرین نے بہت مہذبانہ انداز میں تفسیر بیان کی ہے
آ یت :يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ ۔وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُو:
ترجمہ: اے ایمان والو: اللہ سے ڈرو.جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔تم کو موت نہ آئے۔ مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوط پکڑ لو۔ اور آپس میں تفرقے میں نہ پڑھو۔ٓ
اس آیت کی تفسیر میں مولانا شفیع عثمانی مسلمانوں کی اجتماعی قوت کے دو اصول بیان کرتے ہیں ۔پہلا اصول تقوی اور دوسرا اصول باہمی اتفاق بتلاتے ہیں۔آپ نےدرج ذیل آیت میں پہلا اصول” تقوی” یعنی اللہ سے ڈرنا۔ جو چیزیں اللہ کو ناپسندیدہ ہے ۔ان سے بچنے کے بارے میں وضاحت سے بیان کیا ہے۔ آپ نے اپنی تفسیر میں تقوی لفظ کے معنی بچنے کے اور اجتناب کرنے کے بیان کیے ہیں۔ آپ نے تقوی کے کئی درجات بیان کیے ہیں ۔جن میں ادنی درجہ کفر اور شرک سے بچنا ہے۔ آپ نے بیان کیا ہے۔ کہ تقوی کے اس معنی کے لحاظ سے ہر مسلمان متقی ہو سکتا ہے۔ دوسرے درجے کے بارے میں اپ نے فرمایا وہ اس چیز سے بچنا جو اللہ تعالی اور اس کے رسول کے نزدیک پسندیدہ نہیں۔ اپ کے مطابق تقوی سے حاصل ہونے والے فضائل جو قران و حدیث میں موجود ہیں۔ وہ اسی قدر ہیں۔ جس قدر قران اور حدیث میں موجود ہیں ۔تیسرا درجہ جس سے تقوی حاصل ہوتا ہے۔ وہ تقوی کا اعلی مقام ہے ۔جو انبیاء علیہ السلام اور ان کے خاص تائیبین اولیاء اللہ کو نصیب ہوتا ہے۔ چونکہ انبیاء کرام اپنے قلب کی ہر طرح سے حفاظت فرماتے ہیں۔ یعنی وہ اپنے قلوب کو غیر اللہ سے بچاتے ہیں اور ہر کام اللہ کی یاد اور اللہ کی رضا جوئی حاصل کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ آپ نے بیان فرمایا کہ اس آیت میں بیان ہے ۔کہ تقوی کا وہ درجہ حاصل کرو جو اس کا حق ہے۔ آپ حق تقوی کی وضاحت میں حضرت عبداللہ بن مسعود ،اور ربیع، اور قتادہ اور حسن بصری سے روایت بیان کرتے ہیں ۔جو مرفوعا خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی منقول ہے۔ کہ حق تقوی سے مراد ہے۔ کہ ہر کام میں اللہ کی اطاعت کی جائے ۔کوئی کام اللہ کے حکم کے برعکس نہ ہو۔ اللہ کو ہر وقت یاد رکھا جائے اس کو کبھی نہ بھولو ۔ہر دم اللہ کا شکریہ ادا کرو۔ اور اس رب کی کبھی ناشکری نہ کریں۔ آپ نے اس آیت کی تفسیر میں دوسری آیت سے بھی بیان فرمایا ہے کہ( اتقو اللہ ماستطعتم) یعنی اللہ سے ڈرو جتنی تمہارے میں صلاحیت ہے۔ جتنی تمہارے میں قدرت ہے۔ یعنی معاصی اور گناہوں سے بچنے کے لیے اپنی پوری سمت اور قوت لگا دیں تو
تقوی ادا ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر اس کے باوجود کوئی ناجائز میں مبتلا ہو گیا۔ تو وہ حقوق تقوی کے خلاف نہیں۔
آیت کے اگلے حصے کے بارے میں (فلا تمو تن الا و انتم مسلمون )آپ فرماتے ہیں ۔کہ اس حصے سے معلوم ہوا۔ کہ تقوی حقیقت میں پورا اسلام ہے ۔آپ کے نزدیک اسلام اسی کو کہا جاتا ہے۔ کہ اللہ اور اس کے رسول کی پوری اطاعت کرو اور اس کی نافرمانی سے مکمل پرہیزگاری یعنی تقوی اختیار کرو۔ اس آیت کے دوسرے حکم کے بارے میں آپ لکھتے ہیں۔ کہ مسلمان کی موت اسلام پر ہی انی چاہیے۔ اسلام کے سوا کسی حال پر موت نہیں آنی چاہیے۔ آپ اس شعبہ کو دور کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں ۔کہ موت تو آدمی کے اختیار میں نہیں ۔کسی وقت کسی حال میں بھی ا ٓ سکتی ہے۔ اس شبہ کو دور کرنے کے لیے آپ احادیث کا حوالہ پیش کرتے ہیں۔ حدیث میں ہے ۔ ’’ترجمہ، جس حالت میں تم زندگی گزار دو گے ۔ اسی پر موت آئے گی۔ حشر کے دن اسی حالت میں کھڑے ہو گئے۔ جس حالت میں موت واقع ہوگی۔‘‘
اس حدیث کے مطابق آپ بیان فرماتے ہیں ۔کہ جو انسان اپنی پوری زندگی اسلام کے مطابق زندگی گزارنے کا عہد کرتا ہے۔ اور اسلام کے مطابق گزارتا بھی ہے۔ اس پر انشاءاللہ اسلام کی حالت میں ہی موت آئے گی۔ اس کے برعکس آپ روایات نقل کرتے ہیں۔ کہ بعض ادمی ایسے بھی ہوں گے ۔کہ ساری زندگی نیک اعمال کرتے ہوئے گزار دیں گے ۔لیکن آخر میں کچھ ایسا کر جائیں گے جس سے سارے اعمال ضائع ہو جائیں گے۔ لیکن یہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا ۔جن کے عمل میں شروع سے ہی خلوص اور مضبوطی نہ ہوگی۔( واللہ اعلم )آپ دوسری آیت (واعتصمو بحبل اللہ جمیعا )کو مسلمانوں کی اجتماعی قوت کا دوسرا اصول یعنی باہمی اتفاق بیان کرتے ہیں ۔آپ نے اس بات کو نہایت بلیغ اور حکیمانہ انداز میں بیان کیا ہے۔ کہ یہ سب سے پہلے وہ اصول اور ضوابط بیان کیے ہیں۔ جن پر عمل کر کے انسان باہمی ربط اور متفق ہو سکتے ہیں۔ آپ بیان فرماتے ہیں کہ اس آیت میں مسلمانوں کو اپس میں اتفاق یعنی متفق رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کے بعد افترا ق و انتشار پھیلانے سے منع کیا گیا ہے ۔آپ نے اس بات کی تشریح ان الفاظ میں بیان کی ہے ۔کہ اتفاق سے مراد ایسا اتفاق قائم کرنا کہ اس کے قائم کرنے کے بعد دنیا کے تمام انسان کو کسی بھی ملک اور کسی بھی زمانے یا کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں ۔سب کا اتفاق ہے۔ یعنی ایک بات ایک رائے پر قائم رہنا اس میں دو رائے نہیں ہو سکتی نہ ہی ہونے کا امکان ہو سکتا ہے۔آپ بیان کرتے ہیں ۔کہ دنیا میں شائد کوئی شخص ایسا ہو۔ جو لڑائی جھگڑے کو مفید اور بہتر جانتا ہو۔ اس لیئے دنیا کی ہر جماعت ہر گروہ لوگوں کو متفق رہنے کی ہی دعوت دیتی ہے۔ آپ ساتھ ہی دنیا میں موجود سب کے اتفاق پر ہونے کے باوجود کیا حالات ہیں۔ بیان کرتے ہیں۔ کہ پوری انسانیت، فرقوں ،گروہوں اور پارٹیوں میں بٹی ہوئی ہے۔ پھر ہر فرقے کے اندر مختلف فرقے اور پارٹ
مختلف فرقے اور پارٹی کے اندر مختلف پارٹیاں غرض یہ سلسلہ ایسا لامحدود ہے۔ کہ صحیح معنی میں دو لوگوں کا اتحاد و اتفاق بھی ایک افسانہ بن کر رہ گیا ہے ۔ آپ اس پر مزید غور فرماتے ہوئے بیان کرتے ہیں۔ کہ ہر فرقہ و گروہ کے لوگ اپنے خود ساختہ پروگرام پر اتفاق کرنا چاہتے ہیں۔ جب کہ دوسرے لوگ اپنے خود ساختہ پروگرام پر متفق یعنی اتفاق کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ اس لیے ہی گروہوں اور جماعتوں کا افتراق و انتشار پھیلتا ہے۔ اور یہ انتشار وسیع و عریض ہوتا رہتا ہے۔ آپ فرماتے ہیں ۔ کہ اسی لیے قرآن مجید نے صرف اتحاد و اتفاق کو تنظیم و اجتماع کی نصیحت ہی نہیں۔ بلکہ اسے قائم رکھنے کے لیے ایک عادلانہ اصول بھی بتلایا ہے ۔ جس پر عمل کرنے سے کسی گروہ کو اختلاف نہیں ہونا چاہیے۔ جیسا کہ کسی انسانی دماغ یا چند انسانوں کے بنائے ہوئے نظام کو دوسروں پر مسلط کر کے یہ امید رکھنا کہ اس سب اس نظام پر اتفاق کر لیں۔ انصاف کے خلاف اور خود کو دھوکہ دینے کے سوا کچھ نہیں۔ لیکن اس کے برعکس اللہ رب العالمین کا بنایا ہوا نظام و پروگرام لازم و ملزوم ہے ۔ کہ اس پر سب انسانوں کو اتفاق ہونا چاہیے ۔ کوئی عقل اور سمجھ رکھنے والا انسان اس اصول سے انکار نہیں کر سکتا۔
لیکن اختلاف صرف اس بات کو پہچاننے میں ہو سکتا ہے۔ کہ رب العالمین کا بھیجا ہوا نظام کیا اور کون سا ہے۔ آپ نے بڑی وضاحت سے بیان کیا کہ مشرکین کی مختلف جماعتیں اپنی اپنی مذہبی رسومات کو اللہ ہی کی طرف منسوب کرتی ہیں ۔لیکن اگر انسان اپنی عقل خدا داد سے کام لے۔ تو یہ حقیقت ہے نقاب ہو کر سامنے ا جاتی ہے۔ کہ نبی کریم جو دین جو پیام قران کی صورت میں لے کر آئے۔ اس کے سوا کوئی نظام اللہ کے نزدیک قبول نہیں۔ آپ ان تمام باتوں کو قطع نظر کر کے بیان کرتے ہیں۔ کہ اس وقت ادھر مسلمانوں کو مخاطب کیا گیا ہے ۔اور قران میں واضح بیان فرمایا گیا ہے۔ کہ یہی کتاب( قرآن) ہی ایک ایسا نظام حیات ہے۔ جو بلا شبہ اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہے۔ اور اس کی حفاظت کا ذمہ بھی خود اللہ نے لیا ہے۔ اسی لیے قیامت تک اس میں کوئی کسی قسم کی تبدیلی اور تغیر و تبدیلی نہیں ۔آپ یہاں غیر مسلم جماعتوں کی بحث کو نظر انداز کر کے ایمان والے مسلمانوں سے ہی مخاطب ہو کر بیان کرتے ہیں ۔کہ مسلمانوں کے لیے صرف یہی لائحہ عمل ہے۔ کہ اگر مسلمانوں کی مختلف پارٹیاں قران کے نظام پر اتفاق کر لیں ۔تو ہزاروں گروہی اور نسل وطنی اختلافات ختم ہو سکتے ہیں ۔جو انسانی ترقی کی راہ میں حائل ہے۔ اپ کے نظریے کے مطابق اس کے بعد اگر کوئی با ہمی اختلاف مسلمانوں میں ہوگا ۔تو وہ صرف فہم قران ،قرآن کو سمجھنے اور تفسیر قران، قران کی تشریح و توضیح میں رہ سکتا ہے۔ ایسا اختلاف بھی اگر حدود کے اندر ہے تو وہ انسان کی اجتماعی زندگی کے لیے مضر نہیں ہے ۔ آپ نے بیان کیا کہ ایسا اختلاف جو رائے عقلاء کے درمیان ہونا فطری امر ہے ۔سو اس پر قابو پانا مشکل نہیں۔ لیکن اگر قرآنی نظام سے بالاتر ہو کر ہماری پارٹیاں لڑتی رہیں۔ تو اس طرح کے اختلافات کا کوئی علاج نہیں رہتا۔ اسی طرح کے اختلاف اور انتشار کو قران نے سختی کے ساتھ منع
فرمایا ہے ۔آپ نے اس جدید دور میں ملت کے درمیان بڑھتے ہوئے انتشار و افتراق کی بھی یہی وجہ بتائی ۔یعنی قرآنی اصول کو نظر انداز کرنا ہی بتلائی ہے۔
آپ نے اس آیت مذکورہ کو افتراق و انتشار کے مٹانے کا ذریعہ بتایا ہے۔ کہ (و عتصمو بحبل اللہ جمیعا) یعنی اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو ۔آپ اس آیت میں اللہ کی رسی سے مراد قران مجید لیتے ہیں۔ اور اس بات کی توضیح روایات سے بیان فرماتے ہیں۔
کہ عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے۔ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کتاب اللہ ھو حبل اللہ عب الممدور من اسماء الی الارض ) یعنی کتاب اللہ، اللہ کی رسی ہے۔ جو آسمان سے زمین تک لٹکی ہوئی ہے۔ آپ نے قران کو یا دین کو رسی سے تعبیر کرنے کی وضاحت کرتے ہوئے بیان فرمایا ہے۔ کہ یہی وہ رشتہ ہے۔ جو ایک طرف اہل ایمان کا تعلق اللہ سے قائم کرتا ہے۔ اور دوسری طرف ایمان والوں کو باہم ملا کر ایک جماعت بناتا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ قرآن کے اس ایک جملے میں آپ نے نہایت حکیمانہ اصول بتائے گئے ہیں۔ کہ ہر انسان پر لازم ہے ۔کہ اللہ کے بھیجے ہوئے نظام حیات یعنی قرآن پر مضبوطی سے عامل ر ہو ۔ دوسرا یہ کہ سب مسلمان مل کر اس پر عمل کریں۔ تاکہ تمام مسلمان باہم متفق و متحد اور منظم ہو جائیں ۔ مولانا اشرف علی تھانوی کا مؤقف : بیان القرآن میں مولانا اشرف علی تھانوی صاحب اس آیت کی تفسیر میں بیان فرماتے ہیں۔ کہ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے ۔ آپ ڈرنے کا حق سے مراد یہ لیتے ہیں۔ کہ انسان اللہ سے اس طرح ڈرے۔ کہ وہ کفر اور شرک سے مکمل طور پر خود کو بچا لے۔ اور ہر طرح کے گناہوں سے بھی خود کو بچا لو۔ آپ مسلمانوں کے اتفاق کے بارے میں بیان فرماتے ہیں۔ کہ شرعی معاملات میں بلا وجہ لڑنا معصیت ہے ۔ یعنی انتشار و افتراق پیدا ہوتا ہے ۔ تو اس سے بھی بچنے کا اور ڈرنے کا حق ادا کرنا کے برابر فرض ہے۔ آپ کی رائے میں کامل ڈرنے والا ہی اسلام کو پا لیتا ہے۔ آب مزید بیان فرماتے ہیں۔ کہ ایک متقی شخص ہی مسلمان ہے۔ اور اگر وہ شخص کامل تقوی اور کامل اسلام پر قائم یعنی مضبوطی سے پکڑے رہے۔ حتی کہ اس کی موت واقع ہو جائے۔ تو وہ اسلام ہی کے دائرے میں داخل ہوگا۔ اور اسی حالت پر مضبوطی سے قائم رہنا ہے۔ اور کسی حالت پر جان مت دینا ۔یعنی اس کامل تقوی اور کامل اسلام پر مرتے دم تک قائم رہنا ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے ۔ آپ (واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقو) کی تفسیر میں بیان فرماتے ہیں۔ کہ آپ اللہ کی رسی کو اللہ کے سلسلے سے تشبیح دیتے ہیں۔ کہ اللہ کے سلسلے کو مضبوطی سے پکڑے رہو۔ یعنی اللہ کے دین کو جس میں اصول اور فروع سب شامل ہیں۔ کو مضبوطی سے تھامے رکھو ۔اور اس طریقے سے اللہ کے دین میں اصول اور فروع کو بھی عمل پیرا ہو۔ کہ تمام
امت مسلمہ اس پر اتفاق بھی رکھتے رہو۔ جس کی اس دین میں مسلمانوں کو تعلیم دی گئی ہے۔ اور آپس میں تفرقے یعنی نا اتفاقی میں مت پڑو۔ آپ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ اسی تفرقے اور اسی نااتفاقی کے بارے میں قرآن میں منع کیا گیا ہے۔آب بیان فرماتے ہیں ۔کہ اللہ اس آیت میں بندوں کو اپنا انعام جو اس نے نوازا اس کو بھی یاد اسی سلسلے میں دلاتے ہیں؟ کہ اور تم پر جو اللہ کا انعام ہوا ہے۔ اس کو یاد کرو جب کہ تم باہم ایک دوسرے کے دشمن تھے۔ یعنی وہ وقت جب اسلام نہیں غالب آیا تھا۔ جیسے اسلام سے پہلے اوس اور خزرج میں ایک طویل عرصے سے جنگ چلی آئی تھی۔ اور عام طور پر اکثر عرب کے لوگوں کا یہی کا یہی حال تھا ۔کہ بس اللہ نے ان کے دلوں میں ایک دوسرے کی محبت ڈال دی ۔سو تم اللہ کے اس انعام (تالیف بین القلوب) اور آپس میں بھائی بھائی بن گئے۔ آپ نے (حق تقاتہ ) کی تشریح کرتے ہوئے مزید بیان فرمایا کہ ڈرنے کے حق کا مطلب یہ نہیں ۔کہ ہم ڈر کر اللہ کی عظمت کا حق ادا کر سکتے ہیں۔ کیونکہ یہ تو کسی سے نہیں ہو سکتا ۔کہ وہ پورا حق ادا کر سکے بلکہ مطلب یہ ہے کہ جتنا آپ پر فرض کر دیا گیا ہے ۔اتنا حق پورا کرو۔ ہر طرح کے برے کاموں سے بچا کرو۔۔ آپ بھی تقوی کے درجات بیان کرتے ہیں۔ آپ تقوی کے درجہ ادنی کی تفصیل میں بیان فرماتے ہیں۔ کہ ادنی تقوی سے مراد کفر و شرک سے بچنا ہے۔ یہ تقوی کے ادنی درجے میں شامل کرتے ہیں۔ آپ اس آیت کے معنی میں یہ بیان کرتے ہیں۔ کہ ادنی تقوی کو ہی کافی نہ سمجھو۔ بلکہ اعلی اور کامل درجے کا تقوی اختیار کرو ۔ جس میں بہت سارے گناہوں سے بچنا شامل ہے۔ آپ (واعتصموا بحبل اللہ) اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہو کے بارے میں بیان فرماتے ہیں۔ کہ تقوی اختیار کرنے کے بعد اللہ تعالی (اتفاق فی دین )یعنی دین میں اتفاق کا حکم دیتے ہیں.۔ اور تفرق یعنی فرقے سے بٹنے سے منع فرماتے ہیں۔ آپ نے اس آیت میں جو تفریق واختلاف کی مذمت کی ہے۔ اس سے مراد ہے وہ تفریق لیتے ہیں۔ جو اصول دین میں ہو یا فروع میں ۔ اصول دین سے مراد دین کی وہ تعلیمات جن کا تعلق فکر و تفکر سے ہے۔ اس کے مقابلے میں فروع دین ہے۔ فرو ع دین، دین کا وہ حصہ جس کا تعلق عمل سے ہے۔ فروع میں آپ نفسانیت کو بھی شامل کرتے ہیں۔ آپ نے اہل اہوا کا اہل سنت کے ساتھ اختلاف کا ذکر بھی کرتے ہیں۔ آپ بیان فرماتے ہیں۔ کہ اگر نفسانیت نہ ہو تو اختلاف کی گنجائش نہیں ہوتی۔
آیت ۔۔ وَ اَتِمُّوا الحَجَّ وَ العُمرَۃَ لِلّٰہِ ؕ فَاِن اُحصِرتُم فَمَا استَیسَرَ مِنَ الہَدیِ ۚ وَ لَا تَحلِقُوا رُءُوسَکُم حَتّٰی یَبلُغَ الہَدیُ مَحِلَّہٗ ؕ فَمَن کَانَ مِنکُم مَّرِیضًا اَو بِہٖۤ اَذًی مِّن رَّاسِہٖ فَفِدیَۃٌ مِّن صِیَامٍ اَو صَدَقَۃٍ اَو نُسُکٍ ۚ فَاِذَاۤ اَمِنتُم فَمَن تَمَتَّعَ بِالعُمرَۃِ اِلَی الحَجِّ فَمَا استَیسَرَ مِنَ الہَدیِ ۚ فَمَن لَّم یَجِد فَصِیَامُ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ فِی الحَجِّ وَ سَبعَۃٍ اِذَا رَجَعتُم تِلکَ عَشَرَۃٌ کَامِلَۃٌ ؕ ذٰلِکَ لِمَن لَّم یَکُن اَہلُہٗ حَاضِرِی المَسجِدِ الحَرَامِ ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ وَ اعلَمُوا اَنَّ اللّٰہَ شَدِیدُ العِقَابِ
ترجمعہ : حج اور عمرے کو اللہ تعالیٰ کے لیے پورا کرو۔ ہاں اگر تم روک لیے جاؤ تو جو قربانی میسر ہو اسے کر ڈالو (اللہ کے حضور پیش کرو ۔) اور اپنے سر اس وقت تک نہ منڈواؤ۔ جب تک کہ قربانی قربان گاہ تک نہ پہنچ جائے۔ ہاں اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو۔ یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو۔ تو اس پر فدیہ ہے خواہ روزے رکھ لے خواہ صدقہ دے ۔ خواہ قربانی کرے ۔ پھر جب تم امن کی حالت میں ہوجاؤ تو جو شخص حج کے ساتھ عمرے کا بھی فائدہ اٹھائے۔ وہ جو قربانی میسر ہو ۔اسےاللہ کے حضور کر ڈالے ۔ہاں جسے طاقت نہ ہو تو وہ تین روزے حج کے دنوں میں رکھ لے اور سات اس وقت جب تم واپس آو ۔ یہ کل دس ہو گئے ۔ یہ حکم ان کے لیے ہے جو مسجد حرام کے رہنے والے نہ ہوں۔ لوگو ! اللہ سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب بڑا سخت ہے۔
مولانا مفتی شفیع صاحب کا موقف : اس آیت کی روشنی میں آپ کا بیان ہے ۔کہ حج اسلام کے ارکان میں سے ایک اہم رکن اور فرائض سے اسلام میں سے اہم فرض ہے ۔جس کے بارے میں بہت سی آیات اور احادیث موجود ہیں۔ آپ اپنی تفسیر میں بیان فرماتے ہیں ۔اسں آیت میں حج کے فرض ہونے کی شرط اور باوجود استطاعت کے حج نہ کرنے پر اللہ کی طرف سے سخت وعید ہے۔ اور آپ بیان کرتے ہیں۔ کہ اس آیت میں عمرے کا بیان فرضیت کا نہیں بلکہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص حج یا عمرہ کا احرام باندھ لے گا۔ تو اس کا ادا کرنا اس پر واجب ہو جائے گا ۔آپ کے خیال میں جیسے نفلی نماز روزے کے بارے میں بھی یہی حکم ہے ۔کہ شروع کرنے سے پہلے واجب ہو جاتی ہیں۔ ایسے ہی عمرہ واجب ہے یا نہیں اس آیت میں واضح معلوم نہیں ہوسکتا۔ البتہ صرف یہ معلوم ہوتا ہے ۔کہ اگر کوئی شخص شروع کر دے تو اس کا پورا کرنا واجب ہے۔ اس بات کی وضاحت آپ ابن کثیر سے باحوالہ ترمذی ،احمد، بہیقی اور حضرت جابر سے روایت نقل کرتے ہیں ۔آپ ان سے نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں۔
کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ عمرہ واجب ہے ۔آپ نے فرمایا واجب تو نہیں ۔ لیکن کر لو تو بہترین اور افضل ہے ۔
آپ بیان فرماتے ہیں کہ اسی وجہ سے احرام ابو حنیفہ ،امام مالک کے نزدیک عمرہ واجب نہیں سنت ہے۔ آپ(فان احصرتم ) یعنی اگر احرام باندھنے کے بعد کوئی مجبوری پیش آ جائے ۔حج اور عمرہ دادا نہ کر سکیں ۔تو کیا کریں اس بارے میں آپ شان نزول کے مطابق اسے فدیہ کے طور پر ایک قربانی دینا بیان فرماتے ہیں۔ شان نزول کے بارے میں آپ بیان فرماتے ہیں ۔کہ یہ آیت واقعہ حدیبیہ میں نازل ہوئی ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کو کفار مکہ نے مکہ میں جانے سے اور عمرہ ادا کرنے سے روک دیا ۔تو اللہ کا یہ حکم ہوا کہ حرام کا فدیہ ایک قربانی ،بکری ،گائے،یا اونٹ جو بھی آسانی سے دے سکو دے دیں۔ اور
احرام کو کھول دیں۔ آپ نے مزید وضاحت کرتے ہوئے بیان کیا۔ کہ اگر اس حکم سے یہ واضح ہو گیا کہ اگر آپ احرام کے حدود میں داخل ہو کر کسی بھی مجبوری کا سامنا کرتے ہو تو ایک قربانی فدیہ کے طور پر کر دیں ۔اور بعد میں قضا کرنا چاہیے۔ آپ نے اگلے جملے( ولا تحلفو روسکم )میں یہ بھی بتایا کہ سر کے بال منڈوانا یا کٹوانا اس وقت تک جائز نہیں ۔جب تک فدیہ دے کر احرام نہ کھول دیں۔۔ آپ امام ابو حنیفہ اور دوسرے آئمہ کی رائے کو اس کو شامل کرتے ہوئے بیان فرماتے ہیں۔ کہ صرف دشمن کے حائل ہونے کے علاوہ بیماری وغیرہ کو بھی مجبوری میں شامل کیا جائے۔ آب امام ابو حنیفہ کی رائے بیان کرتے ہیں کہ اگر کوئی شخص قربانی کو حدود حرم میں خود نہ لے کر جا سکے۔ تو وہ کسی دوسرے کے ذریعے بھی کرا سکتے ہیں ۔آپ اس آیت میں (فمن کان منکم مریضا اس بہ اذمن راسہ ) کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں۔ کہ اگر کسی بیماری کی وجہ سے یا سر یا جسم کے کسی حصے کے بال منڈانے کی مجبوری ہو یا اگر جوئیں ہونے کی وجہ سے تکلیف ہو تو اس صورت میں بال منڈانا مشکل ہو جائے ۔تو کیا کرے بہتر یہی ہے کہ بال منڈا ہے۔ مگر اس کا فدیہ اور بدلہ یہ ہے ۔کہ وہ شخص روزے رکھے، صدقہ دے یا قربانی کرے۔ قربانی کی حدود و جگہ مقرر ہے۔ لیکن روزے اور صدقے کے لیے کوئی جگہ متعین نہیں۔ جہاں چاہے ادا کر سکتے ہیں۔ آپ روزے اور صدقے کی مقدار کے بارے میں سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کرتے ہیں۔ آپ صحیح بخاری کی حدیث نقل کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں۔ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت کعب بن عجرہ کو ایسی صورت میں تین روزے رکھیں یا آدھا صیاع گندم کا صدقہ دیں۔آپ آیت کے اگلے حصے میں حج اور عمرہ کو جمع کرنے کے احکامات کے بارے میں بیان کرتے ہیں۔ کہ اسلام سے پہلے عربوں کا خیال تھا ۔کہ حج اور عمرے کو جمع کرنا سخت گناہ ہے۔ آپ زمانہ جاہلیت کے اس خیال کی اصلاح اس آیت کے آخری حصے کے نازل ہونے سے مراد لیتے ہیں ۔کہ آیت میں حدود اور میقات کے اندر رہنے والوں کے لیے حج اور عمرہ کو ان دنوں میں جمع کرنے سے روک دیا گیا۔ کیونکہ ان لوگوں نے اشہر حج کے بعد دوبارہ عمرہ کے لیے سفر کرنا مشکل نہیں۔لیکن حدود و میقات کے باہر سے آنے والے لوگوں کے لیے جائز قرار دیا گیا ہے کیونکہ ان لوگوں کے لیے دور دراز سے عمرے کے لیے دوبارہ سفر کرنا مشکل ہے۔ آپ اشہر حج کو حج کے ساتھ عمرہ ادا کرنے کی دو صورتیں بیان کرتے ہیں۔ ایک یہ کہ میقات سے ہی حج اور عمرہ دونوں کا احرام اکٹھا باندھ کر ادا کرنا اس کو صورت کو قران کہا گیا ہے۔ اس صورت میں احرام حج کی ادائیگی کے بعد ہی کھولنا ہوتا ہے۔ دوسری صورت یہ کہ میقات سے صرف عمرے کا احرام باندھ کر عمرہ ادا کر کے احرام کھول دینا۔ پھر حج کے لیے دو بارہ احرام باندھنا۔ اس سورت کو تمتع کہا جاتا ہے۔ آخر میں اس آیتِ میں تقوی اختیار کرنے کے حکم کی وضاحت بیان کرتے ہیں۔ تقوی کے معنی بیان کرتے ہوئے آپ بیان فرماتے ہیں ۔کہ اس سے مراد اللہ کے احکام کی نافرمانی یا خداوندی خلاف ورزی سے ڈرنے اور بچنے کے ہیں۔ (واعلمو ان اللّٰہ شدید العقاب ) یعنی جو شخص جان بوجھ کر اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ اس پر اللہ کا سخت عذاب ہے۔ آپ آخر میں بیان فرماتے ہیں۔
کہ اج کل حج اور عمرہ کرنے والے بہت سے لوگ اس سے غافل ہیں۔ کہ ایک تو وہ حج اور عمرے کے احکام کو جاننے کی پوری طرح کوشش ہی نہیں کرتے ۔دوسرا گر ان احکام کو اگر جانتے بھی ہوں تو ان کے مطابق عمل نہیں کرتے غلط کار معلموں اور ساتھیوں کی وجہ سے ان لوگوں کے حج کے بہت سے واجبات چھوٹ جاتے ہیں آپ ایسے لوگوں کی اصلاح عمل کی دعا فرماتے ہیں۔ مولانا اشرف علی تھانوی کا موقف۔۔ اس آیت کی تفسیر میں آپ بیان فرماتے ہیں۔ کہ جو شخص استطاعت رکھتا ہو ۔وہ حج ادا کرے اور حج شروع سے ہی فرض ہے۔ آپ بیان کرتے ہیں۔ اگر کوئی شخص استطاعت نہ رکھتا ہو۔ تو اگر وہ شروع کر دے۔ تو اس پر بھی پورا کرنا لازم ہو جاتا ہے۔ آپ بھی عمرہ کو واجب یا فرض نہیں بلکہ سنت موکدہ ہی قرار دیتے ہیں ۔آپ کی رائے بھی یہی ہے ۔کہ اگر عمرہ شروع کر دیں۔ تو اس کا پورا کرنا واجب ہو جاتا ہے۔ آپ بیان کرتے ہیں۔ کہ اگر کسی قسم کے عذر یا راستے میں کوئی بدامنی یا کوئی بیماری جس نے مجبور کر دیا ہو کہ ہر حج و عمرہ ادا کر سکیں۔ اور وہ حرم تک نہ پہنچ سکے ۔تو وہ کسی ایسے شخص کے ذریعے اسی تاریخ تک حرم کے اندر، فدیہ کے طور پر اپنی طرف سے ایک جانور، جس کا اقل درجہ ایک بکری ہے ،کی قربانی ادا کرے۔ اور آپ اس بات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں۔ کہ اگر حج کی دونوں صورتوں میں قران اور تمتع میں سے کسی بھی صورت میں ادا کر رہے ہو۔ تو دو بکری یا جانور یا استطاعت ذبح کر دینا۔ آپ نے مزید بیان فرمایا ہے۔ کہ اور یہ فدیہ قربانی کی تاریخ آنے سے پہلے ادا کرنا ہوگا۔ آپ بھی سر منڈانے یا بال کاٹنے کے بارے میں فرماتے ہیں۔ کہ جانور کے ذبح ہونے سے پہلے نہ منڈوائے۔ اور سر کے بال منڈوانے سے احرام کھل جائے گا۔ اور جو معاملات احرام باندھنے سے روک دیے گئے تھے ۔سب درست ہو جائیں گے۔ اور آپ فدیہ دینے کے بعد حج یا عمرے کو قضا کرنا بھی لازم قرار دیتے ہیں آپ عورت کا سر منڈانا حرام قرار دیتے ہیں۔ آپ نے بیان کیا ہے کہ عورت کو چاہیے کہ وہ صرف ایک انگل کے بال کاٹے۔ آپ بیان کرتے ہیں۔ کہ حج اور عمرہ پورا کرنے سے مجبوری نہیں ہوئی۔ بلکہ کسی اور وجہ سے سر منڈانے میں مشکل پیش آرہی ہے۔ تو اسے چاہیے کہ وہ تین روزے رکھ لے یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دیں ۔یا ایک بکری ذبح کر دے۔ یا مسکینوں میں بانٹ دے ۔آپ یہ بھی بیان فرماتے ہیں ۔کہ ذبح کرنے کے لیے کوئی جگہ حرم میں متعین ہے۔ لیکن روزہ اور صدقہ کسی بھی جگہ دیا جائے ۔ آپ حج کی تین اقسام بیان کرتے ہیں۔ آپ کے مطابق حج تین طرح کا ہوتا ہے ۔ پہلی قسم افراد ہے۔ جس میں حج کے دونوں میں صرف حج ادا کیا جائے ۔ دوسری قسم تمتع اور اور تیسری قسم قران دونوں سے مراد آپ حج کے دنوں میں عمرہ اور حج دونوں کی ایک ساتھ ادائیگی لیتے ہیں۔ تمتع اور قران میں جانور کو ذبح کرنا اور ایام قربانی میں حرم کے اندر ہی ذبح کرنا واجب سمجھتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر کسی شخص کو قربانی کا جانور میسر نہ ہو ۔ تو اس کے بدلےدس روزے اس
پر واجب ہے۔ آپ احادیث سےبیان فرماتے ہیں۔ کہ تین روزے تو دسویں ذی الحج سے پہلے ہی رکھ لیں۔ اور باقی سات حج کرنے کے بعد چاہے۔ اپنے وطن واپس آ کر رکھ لیں ۔ یا وہیں رکھ لیں ۔ آپ یہ بھی بیان کرتے ہیں۔ کہ اگر دس ذوالحج سے پہلے تین روزے نہیں رکھ سکا ۔تو اب قربانی ہی فرض ہے ۔آپ حج کی اقسام کی تشریح میں بیان فرماتے ہیں ۔ کہ افراد ہر شخص کو جائز ہے۔ کہ وہ اس صورت کا حج ادا کر سکتا ہے۔ لیکن تمتع اور قران جیسی صورت صرف انہی لوگوں کو جائز ہے ۔ جو میقات کی حدود سے باہر رہتے ہوں۔ جو میقات کے اندر رہتے ہیں۔ ان کے لیے دونوں صورتوں کا ادا کرنا جائز نہیں ہے۔
آیت : يَسْاَلُوْنَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيْهِ ۖ قُلْ قِتَالٌ فِيْهِ كَبِيْـرٌ ۖ وَصَدٌّ عَنْ سَبِيْلِ اللّـٰهِ وَكُفْرٌ بِهٖ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَاِخْرَاجُ اَهْلِهٖ مِنْهُ اَكْبَـرُ عِنْدَ اللّـٰهِ ۚ وَالْفِتْنَةُ اَكْبَـرُ مِنَ الْقَتْلِ ؕ وَلَا يَزَالُوْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ حَتّـٰى يَرُدُّوْكُمْ عَنْ دِيْنِكُمْ اِنِ اسْتَطَاعُوْا ۚ وَمَنْ يَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِيْنِهٖ فَيَمُتْ وَهُوَ كَافِرٌ فَـاُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُـهُـمْ فِى الـدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ۚ وَاُولٰٓئِكَ اَصْحَابُ النَّارِ ۚ هُـمْ فِيْـهَا خَالِـدُوْنَ
ترجمعہ آپ سے پوچھتے ہیں ۔حرمت والے مہینے میں لڑائی کا حکم ۔ آپ فرما دو۔ اس میں لڑنا بڑا (گناہ) ہے، اور اللہ کے راستہ سے روکنا اور اس پر ایمان لانا ۔اور مسجد حرام سے روکنا ۔اور اس کے رہنے والوں کو اس میں سے نکالنا ۔اللہ کے نزدیک یہ گناہ اس سے بھی بڑے ہیں۔، اور اس کا فساد تو قتل سے بھی بڑا جرم ہے۔، اور وہ تم سے ہمیشہ لڑتے رہیں گے۔ یہاں تک کہ تمہیں تمہارے دین سے پھیر دیں ۔اگر ان کا بس چلے، اور جو تم میں سے اپنے دین سے پھر جائے ۔پھر کافر ہی مرجائے ۔پس یہی وہ لوگ ہیں ۔کہ ان کے عمل دنیا اور آخرت میں ضائع ہو گئے، اور وہی دوزخی ہیں جو اسی میں ہمیشہ رہیں گے۔مولانا شفیع عثمانی کا موقف:مولانا شفیع عثمانی اس آیت کے شان نزول کے بارے میں روایت بیان فرماتے ہیں ۔کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ کا ایک سفر میں اتفاق سے کفار کے ساتھ مقابلہ ہو گیا ۔ ایک کافر ان کے ہاتھوں مارا گیا ۔اور یہ جس روز قصہ ہوا ۔ یہ رجب کی پہلی تاریخی تھی ۔ مگر صحابہ اس کو جمادی الاخر کی 30 سمجھے تھے۔ اور ر جب کا مہینہ اشہر حرم میں سے ہے۔ کفار مکہ نے اس بات پر طعنہ زنی شروع کر دی۔ کہ مسلمانوں نے حرام مہینوں میں حرمت کا بھی خیال نہ رکھا ۔اس بات کی مسلمانوں کو فکر لاحق ہو گئی۔ تو انہوں نے حضور سے پوچھا آپ روایات کے بارے میں بیان کرتے ہیں ۔کہ بعض روایات میں خود کفار قریش کے کفار لوگوں نے بھی اس پر اعتراض کرتے ہوئے حضور سے سوال کیا۔ تو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور وحی اس سوال کا جواب ارشاد ہوا ۔کہ یہ لوگ آپ سے حرام مہینوں میں قتال کے بارے میں سوال
کرتے ہیں ۔آپ ان سے کہہ دیجیے ۔کہ اس حرام مہینے میں قتال کرنا واقعی جرم عظیم ہے۔ لیکن مسلمانوں سے یہ فعل جان بوجھ کر نہیں ہوا۔ بلکہ یہ غلط فہمی کی وجہ سے ہوا ہے ۔جس کی وجہ تاریخ کا صحیح معلوم ہونا نہیں تھا۔ آپ اشہر حرام کے معنی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ کہ اشہر حرام سے مراد چار مہینے رجب، ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم ہے۔ اور انہی میں قتال حرام ہے۔ اسی طرح قران کی بہت سی آیات میں بڑی وضاحت کے ساتھ ان چار مہینوں میں قتال حرام قرار دیا آپ ایک دوسری آیت کے ساتھ وضاحت کرتے ہوئے بیان فرماتے ہیں۔ مثلا ” منھا اربعت حرم ذلک الدین القیمہ "اور آپ اس آیت کی تفصیل میں مزید وضاحت میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے مشہور و معروف خطبہ حجة الوداع میں نبی کرام کے بیان کے بارے میں فرماتے ہیں۔ کہ آپ نے فرمایا ۔”منہا اربعة حرم ثلاث متواليات و رجب صفر ” آپ ان مہینوں کی حرمت کے سلسلے میں ان آیات و روایات سے ثابت کرتے ہیں۔ آپ اس آیت کی تفصیل میں مزید وضاحت سے تشریح فرماتے ہیں۔ کہ امام تفسیر عطا بن ابی رباح قسم کھا کر فرماتے ہیں ۔کہ یہ حکم ہمیشہ کے لیے باقی ہے۔ اور بھی مزید وضاحت کرتے ہوئے بیان فرماتے ہیں۔ کہ بہت سے تابعین حضرات اس حکم کو غیر منسوخ قرار دیتے ہیں۔ آپ اس آیت کے منسوخ ہونے کے حوالے سے بیان فرماتے ہیں۔ کہ جمہور فقہاء کے مطابق اور امام جصاص کے مطابق عام فقہاء ،امصار کے مسلک کے مطابق یہ حکم منسوخ ہے۔ اب کسی مہینے بھی میں بھی قتال کرنا منع نہیں ہے۔ آپ اپنی تفسیر میں اٹھنے والے اس سوال کی بھی وضاحت فرماتے ہیں۔ کہ اس حکم پر کون سی آیت ناسخ ہے۔ اس بات کی وضاحت مختلف فقہاء کے اقوال سے بیان کرتے ہیں۔ آپ کے مطابق بعض فقہاء نے فرمایا۔ کہ آیت "وقاتلو المشرکین کافة "حوالہ جات. اس کی ناسخ آیت ہے .اور آپ اکثر حضرات کے اقوال کے مطابق آیت "فاقتلو المشرکین حيث وجدتم ” کو ناسخ قرار دیتے ہیں ۔ یہ حضرات "حیث”، لفظ کو اس جگہ زمانے کے معنی میں لیتے ہیں۔ کہ مشرکین کو جس مہینے میں اور جس زمانے میں پاؤ قتل کر دو ۔آپ اپنی تفسیر میں دیگر حضرات کے قول کے مطابق حضور کے اپنے عمل کو بھی لیتے ہیں ۔کہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا محاصرہ اشہرحرم میں فرمایا ۔ اور حضرت عامر اشعری کو اسی اشہر حرم کے مہینے میں ہی اوطاس کے جہاد کے لیے بھیجا ۔ اسی وجہ سے بعض فقہاء اس حکم کو منسوخ قرار دیتے ہیں۔ آپ جصاص رحمۃ اللہ سے نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ کہ جصاص نے فرمایا۔ "وهو قول فقهاء الاحصار ” روح المعانی نے بھی اسی آیت کے تحت اس حکم کو منسوخ قرار دیا ہے۔ اور بیضاوی نے سورہ براءت کے پہلے رکوع کی تفسیر مظہری میں اس تمام دلائل کا جواب اس طرح دیا ہے ۔کہ اشہر حرم کی حرمت کی تصریح خود اس آیت میں ہے۔ جس کو اية السیف کہا جاتا ہے. یعنی "ان عدة الشهور عند الله اثنا عشر شهر ا حرم فى كتب الله يوم خلق السموات والأرض
منها أربعة یہ اآیت آیات قتال میں سب سے آخر میں نازل ہوئی ۔ اور خطبہ حجۃ الوداع میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے صرف 80 روز پہلے ہوا ہے۔ اس میں بھی اشہر حرم کی حرمت کی وضاحت موجود ہے ۔اس وجہ سے بھی اس آیت کو اس کا ناسخ نہیں کہا جا سکتا۔ آپ یہ بھی فرماتے ہیں۔ کہ تفسیر مظہری میں ہے۔ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا محاصرہ ذوالقعدہ میں نہیں شوال میں ہوا ہے۔ اس لیے اس کو بھی ناسخ ہونے کی وجہ نہیں کہہ سکتے۔ آپ اس بات کی وضاحت تفسیر مظہری کے نقطہ نظر سے کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔کہ آیت اشہر حرم میں قتال کی حرمت کے سلسلے میں جو مذکورہ آیت سے معلوم ہو رہی ہے۔ وہ اس میں سے ایک صورت میں مستشنی قرار دے دی گئی ہے۔ کہ خود کفار ان مہینوں میں مسلمانوں سے قتال کرنے لگیں۔تو مسلمانوں کو اپنے دفاع کے لیے جوابی کاروائی کرنا جائز ہے۔ آپ آیت کے اس حصے کو منسوخ قرار دیتے ہیں۔ جس کی تصریح اس آیت میں ہے ۔(اشہر احرم باشہر احرام) 2۔ 194۔ خلاصہ کلام۔ آپ کی تفسیر کے مطابق خلاصہ یہ ہوا کہ قتال تو ان مہینوں میں ہمیشہ کے لیے حرام ہے۔ یعنی آپ قتال کو حرمت والے مہینوں میں حرام قرار دیتے ہیں۔ لیکن اگر کفار ان مہینوں میں سے کسی مہینے میں حملہ آور ہو جائیں ۔ تو مسلمانوں کو بھی دفاع کی اجازت ہے۔ آپ اس بات کی وضاحت میں امام جصاص کی روایت جو کہ حضرت جابر بن عبداللہ سے نقل سے کرتے ہیں ۔کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کسی شہر حرام میں اس وقت تک قتال نہ کرتے تھے۔ جب تک قتال کی ابتدا کفار کی طرف سے نہ ہو جائے۔مولانا اشرف علی تھانوی کا موقف:آپ اس آیت کے شان نزول میں بیان فرماتے ہیں ۔کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم چند صحابہ رضی اللہ عنہ کا ایک سفر میں اتفاق کے ساتھ مقابلہ ہو گیا۔ ایک کافر ان کے ہاتھ سے مارا گیا ۔جس روز یہ قصہ ہوا ۔ رجب کی پہلی تاریخ تھی۔ مگر صحابہ اس۔ کو جمادی الاخری کی تیس تاریخ سمجھتے تھے ۔اور رجب اشہر حرم میں سے ہے۔ پھر جب کفار نے اس واقعہ پر طعنہ زنی کی۔ کہ مسلمانوں نے تو حرام مہینوں کی حرمت کا بھی خیال نہ کیا۔ اس بات کی وجہ سے مسلمانوں کو پریشانی ہوئی۔ تو حضور سے پوچھنے لگے ۔آپ یہ بھی بیان فرماتے ہیں۔ کہ بعض روایت میں یہ بھی ہے۔ کہ خود کفار قریش کے بعض لوگ حضور کی خدمت میں حاضر ہو کر اعتراضا سوال کرتے تھے ۔تو اس سوال کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی ۔کہ لوگ آپ سے اشہر حرام میں قتال کرنے کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ آپ ان سے کہہ دیں کہ اس میں خاص طور پر (یعنی عمدا) قتال کرنا جرم عظیم ہے۔ مگر اس طور پر قتال کرنا مسلمانوں سے نہیں ہوا بلکہ ایک غلط فہمی جو کہ تاریخ کے سمجھنے میں ہوئی ہے۔ جس کی وجہ ایسے ہوا ہے۔ یہ تو ایک تحقیقی سا جواب ہے۔ آپ مزید وضاحت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں۔ کہ الزامی جواب تو یہ ہے۔ کہ
کفار اور مشرکین کا تو کسی طرح سے جواز ہی نہیں کہ وہ مسلمانوں پر اعتراض کریں ۔آپ فرماتے ہیں کہ اگرچہ حرام مہینوں میں لڑنا جرم عظیم ہے۔ لیکن کفار کی جو حرکتیں ہیں جیسا کہ وہ اللہ کی راہ یعنی دین سے لوگوں کو روکتے ہیں۔ مسلمانوں کو تکلیفیں پہنچاتے ہیں۔ تاکہ لوگ ڈر کے مارے مسلمان نہ ہو جائیں۔ اللہ کے ساتھ کفر کرتے ہیں ۔مسجد حرام یعنی کعبہ میں بت رکھتے ہیں ۔اور اللہ کی عبادت کی بجائے ان بتوں کی عبادت اور طوائف کرتے تھے۔ اور جو لوگ مسجد حرام یعنی کعبہ میں رہنے کے اہل تھے۔ یعنی اللہ کے رسول اور مومنین ان کو تنگ اور پریشان کرتے تھے۔ خانہ کعبہ سے نکل جانے پر مجبور کر دینا ۔جس کی وجہ سے ہجرت پہ مجبور ہوئے مسلمان۔ ایسی تمام حرکتیں ان کفار کی شہر حرام کی قتال کرنے سے بھی زیادہ بڑا جرم ہے۔ اللہ کے نزدیک یہ حرکت دین حق کے اندر فتنہ پرپا کرنا ہے۔ اور ایسا فتنہ پرپا کرنا ہے۔ اس قتل سے جو مسلمانوں سے ہوا ہے۔ بہت بڑھ کر ہے۔ آپ کے مطابق اول تو مسلمانوں سے کوئی گناہ نہیں ہوا ۔ اگر فرض کریں ہوا بھی ہے تو اعتراض کرنے والے مشرکین کے اس سے بھی زیادہ بڑے بڑے گناہ یعنی کفر و مزاحمت دین حق میں مبتلا ہوئے ہیں۔ اس لحاظ سے انہیں مسلمانوں پر اعتراض کرنے کا حق ہی نہیں پہنچتا ۔ آپ اس آیت کی وضاحت روح المعانی اور بیضاوی کی روایات سے نقل کرتے ہیں ۔ کہ روح المعانی اور بیضاوی میں سورہ براءت کے پہلے رکوع کی تفسیر میں دونوں علماء کرام اشہر حرم میں حرمت قتال کے منسوخ ہونے پر اتفاق کرتے ہیں۔ آپ اس آیت کے منسوخ ہونے کی نقل روح المعانی اور بیضاوی سے کرتے ہیں۔
آیت: يَسْاَلُوْنَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ ۖ قُلْ فِـيْهِمَآ اِثْـمٌ كَبِيْـرٌ وَّّمَنَافِــعُ لِلنَّاسِ وَاِثْمُهُمَآ اَكْبَـرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا ۖ وَيَسْاَلُوْنَكَ مَاذَا يُنْفِقُوْنَ ؕ قُلِ الْعَفْوَ ؕ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللّـٰهُ لَكُمُ الْاٰيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّـرُوْنَ
ترجمہ : لوگ آپ سے شراب اور جوئے کی بابت پوچھتے ہیں، کہہ دو ان دونوں چیزوں میں بڑا گناہ ہے ۔اور لوگوں کے لیے کچھ فائدے بھی ہیں اور ان کا گناہ بہت زیادہ ہے ان کے فائدے سے ، اور وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں، کہہ دو جو حاجت سے زائد ہو، ایسے ہی اللہ تمہارے لیے احکام کو بیان کرتا ہے تاکہ تم دھیان کرو۔مولانا شفیع عثمانی کا موقف : مولانا شفیع عثمانی شراب کی حرمت کے بارے میں بیان فرماتے ہیں ۔کہ یہ آیات مسلمان کے اتفاق سے مکی آیات کہلاتی ہیں۔ آپ الجصاص والقرطبی کی متفقہ رائے پر اتفاق کرتے ہیں۔ یہ آیات مکی آیات ہیں ۔لیکن شراب کی حرمت کے بارے میں اس کے بعد مدینہ میں آیات نازل ہوئی تھی ۔اسلام کے شروع میں شراب اگرچہ
ہلال تھی۔ اور مسلمان عام طور پر پیتے بھی تھے۔ اس وقت اس آیت میں صرف اشارہ دیا گیا تھا۔ کہ یہ ایک اچھا فعل نہیں ہے۔ لیکن بعد کی آیات میں شراب کو شدت کے ساتھ حرام قرار دیا گیا تھا ۔آپ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔ کہ یہ آیت صحابہ کرام کی طرف سے سوال کی وجہ سے اللہ کی طرف سے جواب کے طور پر نازل ہوئی ہے۔ آپ ان دونوں مسئلوں کو بہت اہم قرار دیتے ہیں۔ آپ بیان کرتے ہیں۔ کہ اسلام کے جاہلیت کے دنوں میں شراب خوری عام تھی ۔ مدینہ کی طرف ہجرت کے وقت مدینہ میں شراب اور جوئے کا بہت عام رواج تھا۔ مولانا صاحب بیان کرتے ہیں ۔ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو اخلاق حسنہ کے پیکر تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تو پہلے ہی ایسی چیزوں سے نفرت تھی ۔بعض صحابہ کرام بھی کچھ ایسی عادات کے مالک تھے ۔جنہوں نے حلال ہونے کے زمانے میں بھی کبھی شراب کو ہاتھ نہیں لگایا تھا۔ انہی صحابہ کرام میں سے فاروق اعظم، معاذ بن جبل اور چند انصاری صحابہ کرام رضی اللہ عنہ اسی احساس کی بناء پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اور سوال کیا۔ شراب اور قمار انسان کی عقل کو خراب اور مال کو برباد کر دیتے ہیں۔ ان کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا ارشاد ہے۔ اس سوال کے سلسلے میں یہ آیت نازل ہوئی ۔جو کہ مسلمان کو شراب اور جوئے سے روکنے کے لیے پہلی آیات میں شمار ہوتی ہے۔ یعنی آپ کے مطابق یہ شراب کے منع کرنے کی پہلی آیات ہے۔ آپ کہتے ہیں۔کہ اس آیت میں شراب اور جوئے کے فوائد کے ساتھ ساتھ نقصانات اور گناہوں کے بارے میں بھی اگاہی دی گئی ہے۔ اور اس بات کی وضاحت کی گئی ہے۔ کہ ان سے فوائد کی نسبت نقصان اور گناہ کی باتیں زیادہ ہیں۔ آپ گناہ کی باتوں سے مراد وہ چیزیں لیتے ہیں ۔جو کسی گناہ کی وجہ بن جاتی ۔ جیسے شراب عقل و ہوا زائر کر دیتی ہے اور عقل و ہواش زائل کر دیتی ہے۔ جو انسانوں کو برے کاموں سے روکتی ہے ۔آپ بیان کرتے ہیں کہ اس آیت میں شراب کو واضح طور پر حرام نہیں کہا گیا۔لیکن اس کے نقصانات اور فوائد سے اگاہ کیا گیا تھا ۔ اور یہ واضح کر دیا گیا تھا۔ کہ شراب کی وجہ سے انسان بہت سے گناہوں اور خرابیوں میں مبتلا ہو سکتا ہے۔ لہذا اس آیت کے ذریعے شراب کو ترک یعنی چھوڑ دینے کا مشورہ دیا گیا تھا۔آپ فرماتے ہیں۔ کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد بہت سے صحابہ نے شراب کو تو اسی وقت چھوڑ دیا۔ اور بعض نے یہ سوچا کہ شراب حرام تو نہیں۔ اس لیے اس بات کا خیال رکھ کر کہ کوئی نقصان نہ ہو ۔ شراب کو پینے میں کوئی حرج نہیں۔ کیونکہ یہ گناہوں میں پڑنے کی وجہ سے گناہ قرار دیا گیا ہے۔ ایسی بات کہ پیش نظر آپ ایک واقعہ بیان کرتے ہیں ۔کہ جن لوگوں نے شراب نہ چھوڑی ان کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا۔ کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف نے صحابہ سے چند دوستوں کی دعوت کھانے کے بعد شراب پی لی تھی۔ اسی حال میں مغرب کی نماز کا وقت ہوا ۔تو ان میں سے ایک امامت کے لیے آگے بڑھا ۔اور نشے کی حالت میں سورہ قل یا ایھالکفرون کو غلط پڑھا ۔اس وجہ سے شراپ کو روکنے کے لیے دوسری آیت نازل ہوئی ۔(یا ایھا الذین امنو لا تقرابو
الصلاۃوانتم )اے ایمان و الو ـتم نشے کی حالت میں نماز کے پاس نہ جاؤ۔ اس آیت میں نماز کے اوقات میں شراب کو قطعی طور پر حرام قرار دیا گیا ۔باقی اوقات میں اجازت رہی۔ جن صحابہ کرام نے پہلی آیت کے بعد شراب نہ چھوڑ دی ۔انہوں نے اب دوسری کے بعد چھوڑ دی ۔کیونکہ جو چیز انسان کو نماز سے روکے اس میں کوئی خیر نہیں۔ لیکن آپ نے بتایا کہ ابھی بھی ان دو آیات نزول کے بعد بھی شراب کو مکمل طور پر حرام نہیں کیا گیا ۔یعنی ابھی بھی واضح حکم موجود نہیں تھا ۔اس لیے کچھ حضرات ابھی بھی باقی اوقات میں پیتے رہے ۔اس سلسلے میں آپ ایک اور واقعہ بیان کرتے ہیں ۔کہ عتبان بن مالک نے چند صحابہ کرام کی دعوت جن میں سعد بن ابی وقاص بھی تھے ۔کھانے کے بعد شراب کا دور چلا سعد بن ابی وقاص نے نشے کی حالت میں ایک قصیدہ پڑھا۔ جس میں انصار مدینہ کی ہجو اور اپنی قوم کی مدح وثنا تھی ۔اس پر ایک انصاری نے غصے میں اونٹ کے جبرے کی ہڈی سے سعد کے سر پہ مار دی ۔جس سے ان کو زخم آگیا ۔حضرت سعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس انصاری کی شکایت کرنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت دعا فرمائی۔ اللہ شراب کے بارے میں کوئی واضح حکم بیان فرما دیں ۔اور قانون عطا فرما دے۔ اس پر تیسری آیت سورۃ المائدہ کی تفصیل کے ساتھ نازل ہوئی۔ جس میں شراب کو مکمل طور پر حرام قرار دے دیا گیا۔ آیت ہے (یا ایھا الذین امنو انما الخمر والمیسر وانا نصاب ) آپ حرمت قمار کے بارے میں کہتے ہیں۔ کہ قمار کے لیے بولے جانے والا لفظ میسر مصدر ہے۔ جس کے لغت میں معنی تقسیم کرنے کے ہیں۔ جاہلیت عرب میں مختلف قسم کے جوئے کھیلے جاتے تھے۔ آپ قمار لفظ کے لیے بولے گئے لفظ میسر کی وجہ تسمیہ یہ بتانے کے لیے وضاحت کی ہے۔ کہ عرب کے رسم و رواج میں جوئے کی ایک قسم تھی ۔کہ وہ اونٹ ذبح کر کے حصے تقسیم کر لیتے تھے۔ اور پھر اس پر جوا لگاتے تھے۔ جس کی وجہ سے بعض کو ایک یا زیادہ حصے ملتے تھے اور بعض کو کچھ حصے نہ آتا ۔محروم رہنے والوں کو پورے اونٹ کی قیمت ادا کرنا پڑتی تھی۔ پھر جو گوشت ہے۔ وہ فقراء میں تقسیم کر دیا جاتا تھا ۔خود استعمال نہ کرتے تھے۔ آپ کہتے ہیں۔ کہ اسی تقسیم کی مناسبت کی وجہ سے قمار کو میسر کہا گیا ہے۔ آپ صحابہ کرام و تابعین کے اتفاق کو بیان کرتے ہیں۔ کہ میسر میں قمار یعنی جوئے کی تمام صورتیں شامل ہو جاتی ہیں۔ اور یہ سب بھی حرام ہے ۔آپ ابن کثیر اور جصاص سے نقل کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں۔ کہ مفسر القران حضرت عبداللہ بن عباس اور ابن عمر اور قتادہ ،معاویہ بن صالح، عطا اور طاؤس نے فرمایا، ( المیسر القمار حتى لعب العسبان بالكعاب والجوز) یعنی ہر قسم کا قمار میسر ہے ۔یہاں تک کہ بچوں کا کھیل، لکڑی کے کٹگوں اور اخروٹ وغیرہ کے ساتھ۔ آپ الجصاص سے روایت بیان کرتے ہیں۔ کہ ابن عباس نے فرمایا۔ (المخاطرہ من القمار ) یعنی مخاطرہ قمار میں سے ہے۔ آپ ایک اور روایت روح البیان سے بیان کرتے ہیں۔ کہ ابن
سیرین نے فرمایا۔ جس کام میں مخاطرہ ہو۔ وہ میسر میں داخل ہے ۔آپ مخاطرہ کے معنی بیان کرتے ہیں۔ کہ ایسا معاملہ کیا جائے ۔جو نفع و ضرر کے درمیان دائر ہو۔ یعنی یہ بھی احتمال ہو کہ بہت سا مال مل جائے اور یہ بھی ہو کہ نہ کچھ نہ ملے مراد لیتے ہیں۔ آپ اج کل کے دور کی بھی بات بیان کرتے ہیں۔ کہ اج کل کے دور میں جو لاٹری کے مختلف طریقوں میں جوا پایا جاتا ہے۔ یہ سب قسمیں قمار و میسر میں داخل ہوتی ہیں اور یہ تمام حرام ہے۔ آپ قمار اور میسر کی تعریف میں بیان فرماتے ہیں ۔ کہ کوئی شخص کسی مال کا مالک اس شرط پر بن جاتا ہے۔ جو ایسی صورت پر مبنی ہو جس کے واقع ہونے یا نہ ہونے کے برابر امکانات ہو ں ۔ یعنی دو افراد یا زیادہ افراد اس بات پر شرط لگاتے ہیں۔ کہ شرط کا نتیجہ معلوم نہیں ہوتا ۔ ایک فریق جیت کر نفع حاصل کرے گا ۔ جبکہ دوسرا ہر کا نقصان ہوتا ہے۔ دونوں کو حالانکہ علم ہوتا ہے ۔ کہ یا تو سب کچھ جیتیں گے ۔ یا سب کچھ ہاریں گے ۔ آپ جدید دور کی بات کرتے ہوئے کہتے ہیں ۔ کہ جوئے کی جتنی قسمیں اور صورتیں ہیں پہلے زمانے میں رائج تھی ۔ یا آج کل کے زمانے میں رائج ہے یا آئندہ ہوں گی۔ سب میسر اور قمار اور جوا کہلائیں گی۔ آپ معمے حل کرنے کا چلتا ہوا کاروبار ،تجارتی اور لاٹری کی تمام صورتیں جو ئے میں شامل کرتے ہیں۔ آپ بیان کرتے ہیں ۔ کہ احادیث صحیحہ میں شطرنج اور چوسر وغیرہ کو بھی حرام قرار دیا گیا ہے۔ کسی کھیل پر اگر روپیہ کے ہار جیت ہو تو وہ حرام ہے۔ آپ صحیح مسلم کی روایت بیان کرتے ہیں۔ کہ حضور نے فرمایا۔ جو شخص نرو شیر (چوسر )کھیلتا ہے۔ وہ گویا خنزیر کے گوشت اور خون میں اپنے ہاتھ رنگتا ہے۔ اور آپ تفسیر ابن کثیر سے حضرت علی کے قول اور عبداللہ بن عمر کی روایت سے وضاحت کرتے ہیں۔ کہ حضرت علی نے فرمایا کہ شطرنج میسر یعنی جوئے میں داخل ہے ۔ اور حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا ۔ کہ شطرنج تو نرو شیر سے بھی زیادہ بری چیز ہے۔ آپ بیان کرتے ہیں ۔ کہ شروع میں شراب کی طرح قمار بھی حلال تھا۔ آپ بتاتے ہیں کہ جب سورہ روم کی آیت (غلبت الرؤم ) نازل ہوئی . تو قران نے خبر دی کہ عنقریب رومی غلب ا جائیں گے. مشرکین مکہ نے اس کا انکار کیا تو ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح قمار کی شرط ٹہرائی۔ اور مال وصول کیا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس واقعے پر اظہار مسرت کے ساتھ مال کو صدقہ کرنے کا حکم دے دیا۔ اور اس لحاظ سے آپ کی رائے کے مطابق قمار شروع میں حلال تھی۔ آپ نے بیان کیا کہ قمار کے متعلق بھی قرآن نے وہی ارشاد فرمایا گیا ۔ جو شراب کے بارے میں آیا ہے ۔ کہ اس میں منافع کم اور نقصان اور ضرر زیادہ ہے ۔ آپ نے جوئے کا نام میسر رکھنے کی وجہ کے بارے میں ایک اور جگہ بتایا ہے۔ کہ اس کے ذریعے آسانی سے دوسروں کا مال اپنا بن جاتا ہے۔ جس میں نہ کوئی محنت ہوتی ہے نہ مشقت۔ آپ جدید دور کے مطابق بیان کرتے ہیں۔ کہ اس دور میں جیسے شراب کی نئی نئی قسمیں اور نئے نئے نام رکھ دیے گئے ہیں۔ سود کی
بھی نئی نئی قسمیں اور نئے نئے اجتماعی بینکنگ کے نام سے ایجاد کر لیے گئے ہیں۔ ایسے ہی قمار اور جوئے کی بھی ہزاروں قسمیں نکل گئی ہیں۔
مولانا اشرف علی تھانوی کا بیان :شراب آپ اس آیت کی تفسیر میں بیان فرماتے ہیں کہ لوگ آپ سے شراب قمار کی نسبت دریافت کرتے ہیں ۔آپ فرما دیں کہ ان دونوں چیزوں کے استعمال میں گناہ کی بڑی بڑی باتیں ہیں ۔اور لوگوں کو بعض فائدے بھی نظر آتے ہیں ۔اور فائدے جو ہیں وہ ان کے گناہوں سے زیادہ نہیں ۔اس لیے دونوں کو ترک کر دینا ہی بہتر ہے ۔آپ کہتے ہیں کہ پہلے یہ دونوں چیزیں حلال تھی۔ آپ کہتے ہیں۔کہ یہ شراب اور جوئے کے متعلق سب سے پہلی آیت ہے۔ جو نازل ہوئی ہے۔ اس کا مطلب اس آیت کے نازل ہونے کا مطلب یہ نہیں تھا۔ کہ ان دونوں چیزوں کو کا استعمال منع ہے۔ بلکہ مطلب یہ تھا کہ ان کے استعمال سے اکثر اوقات دوسری باتیں ہیں ۔اور گناہ کی باتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ کیونکہ شراب سے عقل جاتی رہتی ہے ۔اور جس کی وجہ سے ہے انسان گناہوں کا ارتکاب کرتا ہے ۔اور آپ کے مطابق قمار سے مال کے حاصل کرنے کی ہرص بڑھ جاتی ہے۔ اور اس ہرص کی وجہ سے چوری وغیرہ کی عادت پیدا ہو جاتی ہے۔ اور اسی عادت کی وجہ سے مال میں منافہ اور زیادہ سے زیادہ وصول کی خواہش بڑھ جاتی ہے۔ آپ اس آیت سے دونوں کی حرمت کا بیان کرنا مقصود نہیں لیتے بلکہ آپ کہتے ہیں۔ کہ یہ آیات صرف ایک ان دونوں کو چھوڑ دینے کے لیے مشورے کے طور پر نازل ہوئی تھی ۔کہ جتنا نقصان ان سے ہوتا ہے اتنا فائدہ نہیں ہوتا ۔کیونکہ نفع تو معمولی سا ہے۔ اور نقصان بہت زیادہ ہے۔ یہی وجہ تھی کہ اس آیت کو سن کر بعض لوگوں نے تو فورا دونوں چیزوں کو چھوڑ دیا تھا۔ اور بعض نے کہا کہ یہ حرام نہیں ہے ۔اگر صرف شر اور فساد کا ذریعہ ہے تو ہم کچھ انتظام کر کے منافع کے لیے استعمال کیا کریں گے۔ کچھ صحابہ کے خیال کے مطابق یہ آیات منع ہونا تو ثابت نہیں کرتی ۔اس لیے انہوں نے پینا ترک نہ کی ۔اور وہ غلطی میں پڑ گئے ۔جس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی ۔اگرچہ ترک نہ کرنے کی وجہ سے جنہوں نے شراب پی کر نماز پڑھی ۔اور غلط پڑھ لی تھی ۔تو اس وجہ سے نماز کے اوقات میں پینا بھی منع ہو گیا۔ یہ اس بارے میں دوسری آیت ہے۔ پھر اور اس کے بعد کی آیت میں جو کہ تیسری دفعہ نازل ہوئے ۔اس میں اس کو مکمل حرام کر دیا گیا اور یہی آخری حکم تھا ۔جس نے پہلے تمام احکام کو منسوخ کر دیا ۔یعنی آپ کے بیان کے مطابق آخری حکم نے پہلے دو احکام کو منسوخ کر دیا تھا ۔آپ بھی اس بات پر اتفاق کرتے ہیں۔ کہ پہلی دو آیات کو اگلی آیات منسوخ قرار دیتی ہے ۔
خلاصہ بحث:
تفسیر معارف القرآن میں مولانا شفیع عثمانی صاحب الفاظ کی لغوی تشریح اور معنی بڑی وضاحت سے بیان کرتے ہیں ۔ اور آپ اپنی تفسیر میں مختلف علماء کرام کی رائے سے
استفادہ حاصل کرتے ہیں۔ اور جگہ جگہ علماء کرام کا موقف بیان کرتے ہیں۔ تاکہ موضوعات کی تشریح اور تفسیر میں اختلافات اور تضادات کا مواد حاصل ہو سکے۔ جس سے پڑھنے والے کو مختلف فہمیں حاصل ہو سکیں۔ اور وہ اپنی ترجیحات کے مطابق تفسیر کا انتخاب کر سکیں۔ آپ نہایت آسان اور سادہ الفاظ میں تفسیر بیان کرتے ہیں۔ مفتی شفیع عثمانی عربی الفاظ کے معنی اور ان کی تشریح بیان کرنے کا پورا اہتمام کرتے ہیں۔ اور آپ احادیث مبارکہ اور آثار صحابہ و تابعین سے اپنی تفسیر کو مزین و آراستہ کرتے ہیں۔ آپ اس کے بعد آئمہ اربعہ کے اقوال اور مذاہب فقہاء کی روشنی میں اس مسئلے کو بیان کرتے ہیں۔ آپ اپنی تفسیر میں اسرائیلی واقعات اور اخبارات کا بھی استعمال کرتے ہیں ۔ آپ علماء وفقہاء کے مذاہب اور مسلک بھی بیان کرتے ہیں۔ آپ چونکہ حقیقت پسندا نا شخصیت ہیں۔ اسی کی روشنی میں مسائل بیان کرتے ہیں۔ آپ ایات الاحکام پر تفصیلی بحث کرتے ہیں۔ المختصر آپ کی تفسیر معارف القرآن عصر حاضر کی بہترین اور آسان، سادہ تفسیر ہے۔ مولانا اشرف علی تھانوی جب کسی آیت کی تفسیر یا وضاحت اور تشریح کے لیے قلم اٹھاتے ہیں ۔تو سب سے پہلے قران مجید کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ پھر احادیث مبارکہ اور صحابہ تابعین سے آراستہ کرتے ہیں۔ آپ اپنی تفسیر میں فلسفہ مباحث اور اسرائیلیات سے بھی بچتے ہیں۔ آپ نے اپنی تفسیر میں اختلاف کی صورت میں صرف مذہب حنفی کو اختیار کیا ہے۔ لیکن اگر ضرورت پڑے تو دوسرے مذاہب کو بھی بیان کر دیتے ہیں۔ آپ کی تفسیر میں اسباب نزول و روایات ، اختلاف ۔، حکم و توحید ، فقہیات ، ترجمہ و تفسیر ایجاز کے ساتھ بیان کیا ہے۔ آپ اپنی تفسیر میں مکی اور مدنی سورتوں کا حوالہ بھی دیتے ہیں۔ اور لغات کی رو سے الفاظ کے معنی بھی تحریر کرتے ہیں۔ آپ سلف صالحین کے اصولوں اور ان کی تفاسیر کی پیروی کرتے ہیں ۔ آپ تفسیر الجصاص سے بھی بھر پور استفادہ کرتے ہیں۔ آپ تفسیر میں اولا آیات بالآیات نقل کرتے ہیں۔ آپ اپنی تفسیر میں سبھی آیات کی تفسیر کے ساتھ احادیث کا احاطہ بھی پیش کرتے ہیں ۔ آپ کی تفسیر میں صحیح روایات کو ہی لیا گیا ہے۔ آپ کی تفسیر میں تفسیر بالماثور عن الرسول وعن صحابہ کی پیروی کی گئی ہے۔ اور اپ ساتھ ساتھ امور عقلیہ کا بھی التظام کرتے ہیں۔ آپ اجتہاد سے بھی کام لیتے ہیں اور مسائل کے سلسلے میں اپنی تقلید و کیفیت کا اظہار کرتے ہیں۔ آپ تاریخی واقعات بیان نہیں کرتے۔ آپ روح المعانی اور بیضاوی کا حوالہ دیتے ہیں۔ آپ اپنی تفسیر میں بیضاوی ، جلالین تفسیر رحمانی ،الاتقان ،معالم لتنزیل، روح المعانی احکام القرآن ،تفسیر ابن کثیر سے مدد لیتے ہیں۔ اپ کی تفسیر کو بغور مطالعہ سے پتہ چلتا ہے۔ کہ آپ فنون حدیث اور فن رجال پر بڑی گہری بصیرت حاصل کرتے ہیں۔ المختصر بیان القرآن عصر حاضر کی بہترین اردو تفسیر ہے۔
مصادر و مراجع
- اشرف علی تھانوی ، مولانا محمد ، تفسیر بیان القرآن ،’’ ناشر مکتبہ رحمانیہ ‘‘ لاہور جلد اول ص۳
- ۔ شاہد علی ، ڈاکٹر سید ، اردو تفاسیر بیسوی صدی میں ، ناشر مکتبہ قاسم العلوم ،ملتان ص۔ ۹۹۔۱۰۰۔
- شاہد علی ، ڈاکٹر سید ، اردو تفاسیر بیسوی صدی میں ، ناشر مکتبہ قاسم العلوم ،ملتان ص۔ ۱۵
- آل عمران ۔۱۰۲۔۱۰۳
- ابوالاعلی مودودی، سید، تفھیم القرآن ’’ ناشر ادارۃ ترجمان القرآن لاہور‘‘ جلد اول ص۔ ۲۷۷
- صحیح مسلم ْْ ۲۸۷۸
- محمد شفیع ، مولانا مفتی معارف القرٓان ،جلد ۲ ناشر اداراۃ المعارف کراچی،’’ربیع الثانی ۱۴۲۹ ھ ، اپریل ۲۰۰۸ ص۔۱۲۶۔۱۳۰
- ۔اشرف علی تھانوی ، مولانا محمد ، تفسیر بیان القرآن ،’’ ناشر مکتبہ رحمانیہ ‘‘ لاہور جلد اول ص۔۲۶۷۔
- ۔البقرہ ۱۹۶
- ۔تقی عثمانی ،مفتی ،محمد ،آسان ترجمہ قرآن ،مکتبہ معارف القرآن کراچی ۔جلد اول ۔ص۱۲۷۔
- ۔ جامع ترمذی، باب حج کا بیان حدیث۔ ۹۲۲
- محمد شفیع ۔ مولانا مفتی ۔معارف القرٓان ۔جلد ۲ ناشر اداراۃ المعارف کراچی ، ’’ ربیع الثانی ۱۴۲۹ ھ ، اپریل ۲۰۰۸ ۔ص۔۴۷۷۔۴۸۸
- جامع ترمذی، جلد اول حدیث۔ ۸۱۱۔
- اشرف علی تھانوی ، مولانا محمد ، تفسیر بیان القرآن ،’’ ناشر مکتبہ رحمانیہ ‘‘ لاہور جلد اول ص۔۱۳۸
- البقرہ ۔۲۱۷
- ۔احمد رضا خان ،امام ،ترجمہ کنزالایمان مع خزاین ا لعرفان طباعت اول ۱۴۳۳ ھ بمتابق جولائی ۲۰۱۲۔
- ۔ صحیح بخاری ۔باب غزوات کا بیان ،جلد دوم حدیث ۱۵۹۱
- التوبہ ۔۵
- ۔التوبہ ۳۶
- ۔البقرہ ۔۱۹۴
- محمد شفیع ۔ مولانا مفتی ۔معارف القرٓان ۔جلد ۲ ناشر اداراۃ المعارف کراچی ، ’’ ربیع الثانی ۱۴۲۹ ھ ، اپریل ۲۰۰۸ ۔ص۔۵۱۵ ۔
- شہاب الدین،سید محمود آلوسی البغدادی ،روح ا لمعانی،’’داراکتب العلمیۃ بیروت لبسنان جلد دوم
- ناصر الدین ابی سعید عبد اللہ بن عمر ،البیضاوی ،القاضی،دارالرشید دمشق ،بیروت ،جلد اول
- اشرف علی تھانوی ، مولانا محمد ، تفسیر بیان القرآن ،’’ ناشر مکتبہ رحمانیہ ‘‘ لاہور جلد اول ص۔۱۵۰۔
- ۔البقرہ۔۲۱۹
- وحید الدین،خان، مولانا ،تزکیر القرآن ۔مکتبہ الرسالہ نئی دہلی جلد ا اول ،ص ۹۳
- ۔النسا ۔۴۳
- ۔المائٰدہ ۔۹۰
- ۔الجصاص ْابو احمد بن علی الرازی۔ مترجم عبد القیوم ۔ ’’ناشر حافظ محمود احمد ‘‘اشاعت ۱۹۹۹اادارہ تحقیقات اسلامی پریس ، اسلام آباد
- عماد الدین ،اسماعیل بن کثیر ،الحافظ،مکتبہ اسلامیا ،’’ناشر محمد سرور عالم‘‘اپریل ۲۰۰۹ جلد ۱
- ۔ محمد شفیع ۔ مولانا مفتی ۔معارف القرٓان ۔جلد ۲ ناشر اداراۃ المعارف کراچی ، ’’ ربیع الثانی ۱۴۲۹ ھ ، اپریل ۲۰۰۸ ۔ص۔۵۲۲
- اشرف علی تھانوی ، مولانا محمد ، تفسیر بیان القرآن ،’’ ناشر مکتبہ رحمانیہ ‘‘ لاہور جلد اول ۔ص۱۵۳