"قسم ہے زمانے کی! یقیناً انسان خسارے میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے، نیک عمل کیے، حق کی تلقین کی اور صبر کی نصیحت کرتے رہے۔”(سورۃ العصر) انسان کی زندگی میں بہت سی نعمتیں ایسی ہیں جن
علم اور کردار کا تعلق ہمیشہ سے ایک دوسرے کے ساتھ رہا ہے، لیکن انسانی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ محض علم انسان کو عظیم نہیں بناتا۔ دنیا میں ایسے بے شمار لوگ گزرے ہیں جو غیر معمولی علم
اور صبر کرنے والوں کو خوش خبری سنا دیجیے۔” (البقرۃ: 155) ہم ایک ایسے دور میں زندہ ہیں جہاں انسان پہلے سے زیادہ آسائشوں کا مالک ہے، مگر پہلے سے زیادہ بے چین بھی۔ ذرائع بڑھ گئے ہیں مگر تحمل
انسان کی زندگی کو اگر قریب سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی کامیابی یا ناکامی صرف اس کے حالات سے متعین نہیں ہوتی، بلکہ اس سے کہیں زیادہ اس زاویۂ نگاہ سے وابستہ ہوتی ہے جس
خود اعتمادی: وہ قوت جو ایمان سے جنم لیتی ہے تاریخِ انسانی کا مطالعہ اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ بڑے کارنامے ہمیشہ غیر معمولی وسائل رکھنے والوں نے انجام نہیں دیے، بلکہ اکثر وہ لوگ زمانے کا رخ
مسلم معاشرے کی تعمیر میں اہلِ علم کا کردار ہمیشہ بنیادی رہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی امت کو فکری، اخلاقی یا سماجی چیلنجز کا سامنا ہوا، رہنمائی کے لیے اہلِ علم ہی کی طرف رجوع کیا گیا۔
دنیا میں بعض لوگ ایک ہی کام کرتے ہیں، ایک ہی میدان میں محنت کرتے ہیں، ایک جیسی صلاحیتیں رکھتے ہیں، لیکن ان کی زندگیوں کے نتائج یکساں نہیں ہوتے۔ بعض کی محنت صرف دنیا تک محدود رہ جاتی ہے،
دنیا کا ہر انسان کامیابی، سکون اور باوقار زندگی کا خواہاں ہے، لیکن ایک بنیادی سوال ایسا ہے جسے اکثر لوگ پوری زندگی نظر انداز کیے رکھتے ہیں، اور وہ یہ ہے کہ "میں حقیقت میں کون ہوں؟” انسان دنیا
انسان کی زندگی کو اگر کسی ایک چیز سے پہچانا جائے تو وہ اس کے وسائل نہیں بلکہ اس کے عزائم ہوتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑے کارنامے ہمیشہ بڑے وسائل سے نہیں بلکہ بڑی ہمت رکھنے والے انسانوں
انسان کی زندگی میں کچھ سوالات ایسے ہوتے ہیں جن کے جواب پر اس کی پوری زندگی کی سمت متعین ہوتی ہے۔ ان میں سب سے بنیادی اور فیصلہ کن سوال یہ ہے کہ "میں کیوں زندہ ہوں؟” بظاہر یہ