انسان کو آرام چاہیے، سکون چاہیے، اپنے لیے ایک ایسی جگہ چاہیے جہاں زندگی کی دوڑ کچھ دیر کے لیے تھم جائے، ذمہ داریوں کا بوجھ ہلکا محسوس ہو
اور آدمی خود کو محفوظ سمجھے۔ یہ انسانی فطرت ہے اور اپنی جگہ ضروری بھی ہے۔ مسئلہ آرام کے وجود سے نہیں، مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب آرام ہماری منزل بن جائے، جب سہولت ہماری ترجیحِ اول بن جائے اور جب ہم کسی ایسی ذمہ داری سے صرف اس لیے پیچھے ہٹ جائیں کہ اس کے لیے ہمیں اپنے مانوس دائرے سے باہر نکلنا پڑے گا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کا گوشۂ سہولت، رفتہ رفتہ گوشۂ عافیت بن جاتا ہے، اور گوشۂ عافیت کبھی کبھی انسان کی صلاحیتوں، امکانات اور مقصدِ زندگی کے درمیان ایک خاموش دیوار کھڑی کر دیتا ہے۔
سیرتِ رسول اللہ ﷺ کا مطالعہ اس دیوار کو توڑنے کا ایک عظیم سبق دیتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی پوری زندگی ہمیں یہ دکھاتی ہے کہ مقصدِ حیات انسان کو مسلسل حرکت میں رکھتا ہے۔ حالات بدلتے رہے، راستے بدلتے رہے، وسائل کبھی کم ہوئے، مخالفت کبھی شدید ہوئی، ایک دروازہ بند ہوا تو دوسرا راستہ تلاش کرنا پڑا، لیکن مقصد اپنی جگہ قائم رہا۔ آپ ﷺ نے کبھی مشکلات کو اپنی زندگی کا عنوان نہیں بنایا، بلکہ ہر نئی صورتِ حال کو ایک نئے امکان، نئی حکمت اور نئی جدوجہد میں تبدیل کیا۔ یہی وجہ ہے کہ سیرتِ طیبہ کو صرف واقعات کی ایک تاریخی ترتیب کے طور پر پڑھنا اس کے اصل پیغام کو محدود کر دیتا ہے۔ سیرت دراصل یہ سکھاتی ہے کہ ایک بامقصد انسان حالات کا غلام نہیں ہوتا، وہ حالات کے اندر امکانات تلاش کرتا ہے اور اپنے مقصد کی طرف بڑھنے کے لیے راستے پیدا کرتا ہے۔
نبوت سے پہلے کی زندگی پر نظر ڈالیں تو یہی تربیت ہمیں ابتدا ہی سے دکھائی دیتی ہے۔ آپ ﷺ نے یتیمی دیکھی، بچپن میں والدین کی طویل رفاقت سے محروم رہے، بنو سعد کے ماحول میں پرورش پائی، بکریاں چرائیں، تجارت کی اور معاشرے کے مختلف طبقات اور حالات کو قریب سے دیکھا۔ بظاہر یہ زندگی کے مختلف اور منتشر تجربات تھے، لیکن بعد میں یہی تجربات ایک عظیم مشن کے لیے شخصیت سازی کا حصہ بن گئے۔ بکریاں چرانے میں صبر، نگرانی، کمزوروں کی رعایت اور قیادت کی ابتدائی تربیت تھی؛ تجارت میں دیانت، معاملہ فہمی اور لوگوں کے اعتماد کی حفاظت تھی؛ اور حلف الفضول جیسے اجتماعی معاہدے میں مظلوم کی حمایت اور معاشرتی انصاف کا شعور تھا۔ گویا زندگی کا کوئی تجربہ بے مقصد نہیں تھا۔ جو شخص اپنے مقصد کے لیے بیدار ہو، وہ اپنے گزرے ہوئے تجربات کو بھی آئندہ کی تعمیر کا سرمایہ بنا لیتا ہے۔
پھر وہ وقت آیا جب غارِ حرا کی خلوت سے وحی کا آغاز ہوا اور ایک عظیم ذمہ داری سامنے آئی۔ سب سے پہلے گھر سے دعوت کا آغاز ہوا، پھر دارِ ارقم ایک ایسا فکری اور تربیتی مرکز بنا جہاں انسان تیار کیے گئے۔ یہ مرحلہ بظاہر خاموش تھا، لیکن حقیقت میں مستقبل کی ایک بڑی تبدیلی کی بنیاد رکھی جا رہی تھی۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ ہر جدوجہد شور کے ساتھ شروع نہیں ہوتی۔ بعض اوقات سب سے اہم کام وہ ہوتا ہے جو خاموشی سے بنیادیں مضبوط کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے صرف لوگوں کو جمع نہیں کیا، بلکہ انسان تیار کیے، فکر بنائی، کردار بنائے اور ایسے افراد تیار کیے جو آگے چل کر دعوت، تعلیم، قیادت اور معاشرتی تبدیلی کے مختلف میدانوں میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
جب صفا کی بلندی سے علانیہ دعوت کا مرحلہ آیا تو مخالفت بھی سامنے آگئی۔ تمسخر ہوا، الزامات لگے، دباؤ ڈالا گیا، دنیاوی پیش کشیں کی گئیں اور یہ کوشش کی گئی کہ آپ ﷺ اپنے مقصد سے کچھ پیچھے ہٹ جائیں۔ لیکن یہاں سیرت کا ایک نہایت بنیادی اصول سامنے آتا ہے کہ راستہ بدل سکتا ہے، حکمتِ عملی بدل سکتی ہے، لیکن مقصد اور اصول نہیں بدلتے۔ اگر ایک راستہ بند ہو جائے تو بامقصد انسان یہ نہیں سوچتا کہ اب کچھ نہیں ہوسکتا، بلکہ یہ سوچتا ہے کہ اب کون سا دوسرا راستہ اختیار کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ مکہ کے حالات نے دعوت کو ختم نہیں کیا، بلکہ دعوت کے نئے مرحلے پیدا کیے۔
مخالفت بڑھی تو حبشہ کی طرف ہجرت ہوئی۔ یہاں ایک نہایت خوب صورت سبق سامنے آتا ہے کہ زمین بدل سکتی ہے، لیکن ضمیر نہیں بدلنا چاہیے؛ ماحول بدل سکتا ہے، لیکن اصول نہیں بدلنے چاہییں۔ پھر طائف کا واقعہ پیش آیا۔ جسم زخمی ہوا، پتھر لگے، ظاہری اعتبار سے کوئی فوری کامیابی نظر نہ آئی، لیکن دعوت کا سفر رکا نہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سیرت ہمیں بتاتی ہے کہ ایک بند دروازہ ہمیشہ اختتام نہیں ہوتا۔ کبھی وہ ہمیں کسی دوسرے دروازے تک پہنچانے کا ذریعہ بنتا ہے۔ طائف کے بعد بھی دعوت جاری رہی، قبائل سے رابطے ہوئے، نئے امکانات تلاش کیے گئے اور بالآخر بیعتِ عقبہ کی صورت میں مدینہ کا راستہ کھلا۔
یہاں ایک اور اہم حقیقت سامنے آتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی صرف حالات کے بدلنے کا انتظار نہیں کیا۔ آپ ﷺ نے حالات کے اندر موجود امکانات کو پہچانا اور انہیں مقصد کے لیے استعمال کیا۔ حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو مدینہ بھیجا گیا تاکہ وہاں قرآن، تعلیم اور دعوت کے ذریعے ایک نئی جماعت کی فکری و اخلاقی بنیاد قائم ہو۔ پھر ہجرت ہوئی۔ جگہ بدل گئی، لیکن مقصد نہیں بدلا۔ مکہ سے مدینہ کا سفر صرف ایک جغرافیائی تبدیلی نہیں تھا، بلکہ جدوجہد کے ایک نئے مرحلے میں داخلہ تھا۔ اس سفر میں توکل بھی تھا اور تدبیر بھی، اللہ پر اعتماد بھی تھا اور انسانی منصوبہ بندی بھی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا امانتیں واپس کرنے کے لیے مکہ میں رکنا، حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کی خدمت، حضرت عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کی معلومات پہنچانا، حضرت عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ کی معاونت اور راستے کی رہنمائی کے لیے ایک ماہر شخص کی خدمات حاصل کرنا اس بات کی واضح مثالیں ہیں کہ توکل کا مطلب تدبیر سے دست بردار ہونا نہیں۔
مدینہ پہنچنے کے بعد بھی آرام کی کوئی منزل نہیں آئی۔ ایک نیا شہر، نئی جماعت اور نئی ذمہ داریاں سامنے تھیں۔ مسجد تعمیر ہوئی، مہاجرین و انصار کے درمیان مواخات قائم ہوئی، تعلیم کا نظام تشکیل پایا، اہلِ صفہ کی تربیت ہوئی، معاشی خود کفالت کے لیے بازار قائم ہوا، معاشرتی نظم تشکیل دیا گیا، مختلف قبائل سے تعلقات قائم ہوئے اور ریاستی و اجتماعی معاملات کو منظم کیا گیا۔ گویا ایک مشن مکمل ہوا تو دوسرا شروع ہوگیا۔ یہی سیرت کا وہ پہلو ہے جو ہمیں گوشۂ سہولت سے باہر نکلنے کی دعوت دیتا ہے۔ کامیابی کا مطلب یہ نہیں کہ اب انسان ذمہ داریوں سے آزاد ہوگیا؛ کبھی ایک کامیابی دراصل اگلی ذمہ داری کا آغاز ہوتی ہے۔
پھر بدر کا مرحلہ آیا، جہاں وسائل محدود تھے مگر یقین، نظم، مشاورت اور استقامت موجود تھی۔ احد میں آزمائش آئی، نقصان ہوا، جسم زخمی ہوئے اور ایک مشکل تجربہ سامنے آیا، لیکن اس کے بعد بھی سفر نہیں رکا۔ حمراء الاسد کا واقعہ اسی تسلسل کی ایک مثال ہے کہ زخموں کے باوجود مومن اپنی ذمہ داری سے دست بردار نہیں ہوتا۔ پھر خندق کا مرحلہ آیا تو ایک نئی صورتِ حال کے لیے نئی حکمتِ عملی اختیار کی گئی۔ دفاع کا نیا طریقہ اپنایا گیا۔ اس سے سیرت کا ایک نہایت اہم اصول سامنے آتا ہے کہ مقصد کی حفاظت کے لیے طریقۂ کار میں جدت پیدا کرنا کمزوری نہیں بلکہ حکمت ہے۔ جو شخص ہر نئے مسئلے کے لیے صرف پرانے طریقے کو دہراتا رہے، وہ شاید اپنے مقصد کے ساتھ مخلص ہو، لیکن ضروری نہیں کہ وہ اپنے مقصد کی بہترین خدمت بھی کر رہا ہو۔
اسی طرح سیرتِ رسول ﷺ کو صرف غزوات اور جنگی واقعات تک محدود کرنا بھی درست نہیں۔ آپ ﷺ کی جدوجہد میں تعلیم تھی، دعوت تھی، تربیت تھی، معاشرتی تنظیم تھی، معاہدات تھے، سفارت کاری تھی، قبائل سے روابط تھے، معلومات کا حصول تھا اور مختلف لوگوں کی صلاحیتوں کو خیر اور عدل کے لیے استعمال کرنے کی حکمت تھی۔ وفود کے ساتھ معاملات، مختلف قبائل سے رابطے اور بادشاہوں کی طرف خطوط بھی اسی وسیع جدوجہد کا حصہ تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مقصد بڑا ہو تو اس تک پہنچنے کے ذرائع بھی متنوع ہونے چاہییں۔ ہر مسئلے کا جواب ایک ہی نوعیت کی سرگرمی نہیں ہوتا، اور ہر مشن میدانِ جنگ کا نام نہیں ہوتا۔ کبھی ایک کتاب لکھنا جدوجہد ہوتی ہے، کبھی ایک طالب علم تیار کرنا، کبھی ایک ادارہ بنانا، کبھی کسی نوجوان کی رہنمائی کرنا، کبھی دو انسانوں کے درمیان تعلق درست کرنا اور کبھی معاشرے کے کسی مسئلے کے حل کے لیے ایک نئے طریقے پر کام شروع کرنا۔
یہاں گوشۂ سہولت (comfort zone)کے تصور کو بھی درست طور پر سمجھنا ضروری ہے۔ گوشۂ سہولت سے باہر نکلنے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ہر وقت خود کو تھکاتا رہے، آرام کو برا سمجھے یا ہر خطرے میں کود پڑے۔ اسلام میں جسم، ذہن اور روح کے حقوق بھی ہیں اور آرام بھی زندگی کی ضرورت ہے۔ اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب آرام ہماری منزل بن جائے، سہولت ہماری ترجیح بن جائے اور ذمہ داری ہمارے لیے بوجھ بن جائے۔ بامقصد زندگی میں انسان آرام بھی کرتا ہے، لیکن آرام کے بعد دوبارہ اٹھتا ہے؛ تھکتا بھی ہے، لیکن مقصد نہیں چھوڑتا؛ کبھی پیچھے بھی ہٹتا ہے، لیکن راستہ تلاش کرنا نہیں چھوڑتا۔ یہی وجہ ہے کہ مومن کے سفر کو یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ وہ تھک سکتا ہے، زخمی ہوسکتا ہے، راستہ بدل سکتا ہے، حکمتِ عملی تبدیل کرسکتا ہے، لیکن مقصد سے دست بردار نہیں ہوتا۔ وہ راستہ بدل سکتا ہے، سمت نہیں؛ وہ طریقہ بدل سکتا ہے، اصول نہیں۔
آج ہمارے لیے اس سیرت کا سب سے اہم سوال شاید یہ ہے کہ ہمارا اپنا گوشۂ سہولت کہاں ہے؟
وہ کون سا کام ہے جسے ہم اس لیے مؤخر کر رہے ہیں کہ اس کے لیے ہمیں اپنی مانوس دنیا سے باہر نکلنا ہوگا؟
وہ کون سا علم ہے جسے حاصل کرنے کی ضرورت محسوس تو ہوتی ہے، لیکن اس کے لیے وقت نکالنا مشکل لگتا ہے؟
وہ کون سی نئی مہارت ہے جسے سیکھنے سے ہم بہتر استاد، بہتر مربی یا بہتر قائد بن سکتے ہیں، مگر ہم اس لیے قدم نہیں اٹھا رہے کہ ہم اپنے موجودہ طریقۂ کار سے مانوس ہیں؟
وہ کون سا نوجوان، ادارہ، خاندان یا معاشرتی مسئلہ ہے جس کے بارے میں ہم گفتگو تو بہت کرتے ہیں، مگر عملی طور پر اس کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھاتے؟
سیرت ہمیں یہ نہیں کہتی کہ ہر شخص ایک ہی راستے پر چلے۔ سیرت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہر شخص اپنے مقصد، اپنی صلاحیت اور اپنی ذمہ داری کے مطابق آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کرے۔ کسی کے لیے یہ ایک نئی کتاب کا مطالعہ ہوسکتا ہے، کسی کے لیے تدریس کے طریقے میں تبدیلی، کسی کے لیے نوجوانوں کی تربیت کا نیا منصوبہ، کسی کے لیے ادارہ سازی، کسی کے لیے تحقیق، کسی کے لیے سماجی خدمت اور کسی کے لیے اپنی ہی شخصیت کے کسی کمزور پہلو پر کام کرنا۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ہم کتنا بڑا کام کر سکتے ہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ ہم اپنے موجودہ مقام سے اگلا بامقصد قدم اٹھانے کے لیے تیار ہیں یا نہیں۔
اس کے لیے ضروری نہیں کہ ہم کسی بڑے انقلاب کا انتظار کریں۔ کبھی تبدیلی ایک چھوٹے مگر بامقصد قدم سے شروع ہوتی ہے: ایک نئی کتاب، ایک نئی ذمہ داری، کسی انسان کی تربیت، کسی مسئلے پر عملی کام، کوئی نئی مہارت یا اپنی شخصیت کی کسی کمزوری پر سنجیدہ محنت۔ رسول اللہ ﷺ کی سیرت ہمیں بتاتی ہے کہ راستے بدل سکتے ہیں، حالات دشوار ہوسکتے ہیں، انسان تھک بھی سکتا ہے، مگر مقصد کی طرف بڑھنے کا عمل رکنا نہیں چاہیے۔ اصل کامیابی یہ نہیں کہ انسان نے اپنے لیے کتنی سہولتیں جمع کیں، بلکہ یہ ہے کہ اس نے اپنی صلاحیت، وقت اور توانائی کو کسی بامقصد کام کے لیے کتنا استعمال کیا۔
اس لیے شاید آج ہمیں اپنی زندگی سے صرف ایک سوال کرنا ہے کہ گوشۂ سہولت سے باہر میرا اگلا قدم کیا ہے؟ ممکن ہے وہ قدم بہت چھوٹا ہو، مگر وہی کسی نئی ذمہ داری، نئی صلاحیت یا کسی بڑی تبدیلی کا آغاز بن جائے۔ رسول اللہ ﷺ کی سیرت ہمیں صرف واقعات یاد کرنے کے لیے نہیں، بلکہ مقصد، ہمت، حکمت اور مسلسل جدوجہد کے ساتھ زندگی گزارنے کے لیے ملی ہے۔