مقصدِ زندگی:وہ سوال جو انسان کی پوری زندگی بدل دیتا ہے

انسان کی زندگی میں کچھ سوالات ایسے ہوتے ہیں جن کے جواب پر اس کی پوری زندگی کی سمت متعین ہوتی ہے۔ ان میں سب سے بنیادی اور فیصلہ کن سوال یہ ہے کہ "میں کیوں زندہ ہوں؟” بظاہر یہ

مصنف:ابرار حسین
تاریخ: 4 جولائی 2026

دیگر مضامین

تمام مضامین دیکھیں

جذباتی ذہانت: وہ قوت جو انسان کو اپنے نفس کا قائد اور معاشرے کا رہنما بناتی ہے

علم اور کردار کا تعلق ہمیشہ سے ایک دوسرے کے ساتھ رہا ہے، لیکن انسانی

تاریخ: 21 جولائی 2026
مصنف:ابرار حسین

گھر: ایک ‘جائے سکینت یا محض چار دیواری؟ ہمارے کھوئے ہوئے سکون کا نوحہ

عالی شان عمارتیں اور کھوکھلے رشتے: ہمارے خاندانی سکون کو کس کی نظر لگ گئی؟انسانی

تاریخ: 21 جولائی 2026
مصنف:مولانا عبدالاحد

صبر:وہ قوت جو انسان کومعمولی سےغیر معمولی بنادیتی ہے

اور صبر کرنے والوں کو خوش خبری سنا دیجیے۔” (البقرۃ: 155) ہم ایک ایسے دور

تاریخ: 21 جولائی 2026
مصنف:ابرار حسین

مثبت سوچ: مومن کی وہ قوت جو اندھیروں میں بھی روشنی تلاش کر لیتی ہے

انسان کی زندگی کو اگر قریب سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس

تاریخ: 16 جولائی 2026
مصنف:ابرار حسین

دیگر موضوعات

ابرار حسین

چیف ایڈیٹر کاروانِ علم، ٹرینر و محقق دینی و عصری علوم کے امتزاج کے حامل ایک وژنری ٹرینر اور ریسرچر ہیں۔ آپ جامعۃ الرشید کراچی کے فارغ التحصیل ہیں اور اس وقت مدرسہ ڈاٹ پی کے میں شعبۂ تربیت و شخصیت سازی کی نگرانی کر رہے ہیں۔ آپ کا مقصد مدارس کے فضلائے کرام کو معیاری تدریسی، تکنیکی اور قائدانہ مہارتوں سے آراستہ کرتے ہوئے انہیں مؤثر سماجی و فکری رہنماؤں کے طور پر تیار کرنا ہے۔

انسان کی زندگی میں کچھ سوالات ایسے ہوتے ہیں جن کے جواب پر اس کی پوری زندگی کی سمت متعین ہوتی ہے۔ ان میں سب سے بنیادی اور فیصلہ کن سوال یہ ہے کہ "میں کیوں زندہ ہوں؟” بظاہر یہ ایک سادہ سوال معلوم ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں یہی وہ سوال ہے جس کا جواب انسان کے خیالات، ترجیحات، فیصلوں، تعلقات، کامیابیوں اور ناکامیوں پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ جو شخص اپنے مقصد سے واقف ہو جائے، اس کی زندگی میں وضاحت پیدا ہو جاتی ہے، جبکہ جو اپنے مقصد سے غافل ہو جائے، وہ بظاہر بہت کچھ حاصل کر لینے کے باوجود اندر سے خالی اور بے چین رہتا ہے۔

آج کا انسان شاید تاریخ کے کسی بھی دور کے انسان سے زیادہ مصروف ہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ وہ اتنا ہی بامقصد بھی ہو۔ جدید دنیا نے انسان کو بے شمار سہولتیں فراہم کی ہیں، مگر اس کے ساتھ ایک بحران بھی پیدا کیا ہے، اور وہ ہے "معنی کا بحران”۔ لوگ پہلے یہ سوچتے تھے کہ زندگی کیسے گزاری جائے، آج بہت سے لوگ یہ سوچ رہے ہیں کہ زندگی آخر کیوں گزاری جائے۔ دنیا کے مشہور ماہرِ نفسیات اور مفکرین میں سے کئی افراد نے اس حقیقت کی نشاندہی کی ہے کہ انسان کی اصل ضرورت صرف آسائش، دولت یا شہرت نہیں بلکہ زندگی کے لیے ایک ایسا مقصد ہے جو اس کے وجود کو معنی عطا کرے۔

اسلام اس سوال کا جواب نہایت وضاحت کے ساتھ دیتا ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

"وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ”

یعنی "میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔”

یہ آیت مقصدِ زندگی کے بارے میں اسلام کا بنیادی اعلان ہے۔ تاہم یہاں عبادت کو صرف نماز، روزہ یا دیگر رسمی اعمال تک محدود سمجھ لینا درست نہیں ہوگا۔ اسلامی تعلیمات میں عبادت ایک جامع تصور ہے جو انسان کی پوری زندگی کو اپنے دائرے میں لے لیتا ہے۔ جب ایک انسان اللہ کی رضا کو اپنا سب سے بڑا مقصد بنا لیتا ہے تو اس کی تعلیم، تجارت، ملازمت، خاندان، خدمتِ خلق اور معاشرتی سرگرمیاں سب عبادت کا حصہ بن جاتی ہیں۔

یہی وہ نکتہ ہے جسے سمجھنے میں بہت سے لوگ غلطی کر جاتے ہیں۔ بعض لوگ دنیا کو مقصد بنا لیتے ہیں اور دین کو زندگی کے ایک گوشے تک محدود کر دیتے ہیں، جبکہ بعض لوگ دنیا اور آخرت کو ایک دوسرے کی ضد سمجھنے لگتے ہیں۔ اسلام دونوں انتہاؤں سے بچاتا ہے۔ اسلام دنیا چھوڑنے کی دعوت نہیں دیتا بلکہ دنیا کو صحیح مقام پر رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔ دنیا منزل نہیں، راستہ ہے۔ دنیا مقصد نہیں، ذریعہ ہے۔ دنیا انسان کی خدمت کے لیے پیدا کی گئی ہے، انسان دنیا کی خدمت کے لیے پیدا نہیں کیا گیا۔

رسول اللہ ﷺ کی پوری زندگی مقصدِ زندگی کے صحیح تصور کی عملی تفسیر ہے۔ آپ ﷺ کو اگر دنیاوی آرام مطلوب ہوتا تو مکہ کے سردار آپ کے قدموں میں اقتدار، دولت اور عزت رکھنے کے لیے تیار تھے۔ لیکن آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر وہ میرے ایک ہاتھ میں سورج اور دوسرے ہاتھ میں چاند بھی رکھ دیں تب بھی میں اپنے مشن کو نہیں چھوڑوں گا۔ یہ اعلان دراصل ایک ایسے انسان کا اعلان تھا جس نے اپنی زندگی کا مقصد دریافت کر لیا تھا اور اب وہ ہر قیمت پر اس کے حصول کے لیے تیار تھا۔

تاریخ کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ عظیم انسانوں کی عظمت کا راز ان کی صلاحیتوں میں نہیں بلکہ ان کے مقاصد میں ہوتا ہے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ، حضرت عمررضی اللہ عنہ، امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ، امام غزالیرحمۃاللہ علیہ، صلاح الدین ایوبی رحمۃ اللہ علیہ، شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ اور برصغیر کے بے شمار مصلحین کو دیکھ لیجیے، ان سب کی زندگیوں میں ایک قدر مشترک نظر آتی ہے: وہ اپنی ذات سے بڑے مقصد کے لیے جیتے تھے۔ جب انسان صرف اپنی ذات کے لیے جیتا ہے تو اس کی سوچ محدود ہو جاتی ہے، لیکن جب وہ کسی بڑے مقصد کے ساتھ جڑ جاتا ہے تو اس کی صلاحیتیں بھی غیر معمولی ہو جاتی ہیں۔

امام غزالی رحمہ اللہ نے "احیاء العلوم” میں بارہا اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ انسان کی اصل کامیابی اس بات میں نہیں کہ وہ کتنا مال جمع کرتا ہے یا کتنی شہرت حاصل کرتا ہے، بلکہ اس بات میں ہے کہ وہ اپنے خالق کو پہچانے، اپنی حقیقت کو سمجھے اور اپنی زندگی کو ایک بامقصد سفر بنا دے۔ ان کے نزدیک انسان کی سب سے بڑی محرومی یہ نہیں کہ وہ دنیا میں ناکام ہو جائے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے وجود کے مقصد کو سمجھے بغیر زندگی گزار دے۔

موجودہ دور کے بہت سے ماہرینِ شخصیت سازی اور کامیابی کے موضوع پر لکھنے والے مصنفین بھی مقصد کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔ ان کی زبان مختلف ہو سکتی ہے، لیکن ان کی بنیادی بات یہی ہوتی ہے کہ جو انسان واضح مقصد رکھتا ہے، وہ مشکلات کے باوجود آگے بڑھتا رہتا ہے، جبکہ جس کے پاس مقصد نہ ہو وہ معمولی رکاوٹوں سے بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ اسلام اس تصور کو مزید بلند کر دیتا ہے، کیونکہ یہاں مقصد صرف ذاتی کامیابی نہیں بلکہ اللہ کی رضا، انسانیت کی خدمت اور آخرت کی کامیابی ہے۔

اسی لیے ایک مسلمان کو خود سے چند بنیادی سوالات ضرور پوچھنے چاہئیں:
میں اپنی زندگی کس مقصد کے لیے گزار رہا ہوں؟
میری محنت کا رخ کیا ہے؟
میری صلاحیتوں سے امت کو کیا فائدہ پہنچ رہا ہے؟
اگر میں آج دنیا سے رخصت ہو جاؤں تو میرے بعد کون سی خیر باقی رہے گی؟
یہ سوالات انسان کو اپنی زندگی کا ازسرِنو جائزہ لینے پر مجبور کرتے ہیں اور اسے سطحی مصروفیات سے نکال کر بامقصد زندگی کی طرف لے جاتے ہیں۔

خاص طور پر علمائے کرام، اساتذہ، دعوتی کارکنوں اور سماجی رہنماؤں کے لیے مقصدِ زندگی کا شعور اور بھی اہم ہے۔ جو شخص لوگوں کی رہنمائی کرنا چاہتا ہے، اسے سب سے پہلے اپنے راستے کی وضاحت حاصل کرنی ہوتی ہے۔ جس قائد کے پاس مقصد نہ ہو وہ دوسروں کو منزل تک نہیں پہنچا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ انبیائے کرام کی دعوت کا آغاز ہمیشہ مقصد کی وضاحت سے ہوا۔ انہوں نے لوگوں کو صرف احکام نہیں دیے بلکہ انہیں بتایا کہ وہ کون ہیں، کہاں سے آئے ہیں اور انہیں کہاں جانا ہے۔

آج ہماری بہت سی پریشانیاں دراصل مقصد کے فقدان کا نتیجہ ہیں۔ لوگ مصروف ہیں مگر مطمئن نہیں۔ وسائل ہیں مگر سکون نہیں۔ کامیابیاں ہیں مگر خوشی نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کی روح کسی ایسے مقصد کے بغیر آسودہ نہیں ہو سکتی جو اس کی ذات سے بڑا ہو۔ انسان کو صرف روٹی نہیں چاہیے، اسے معنی بھی چاہیے۔ صرف روزگار نہیں چاہیے، اسے راستہ بھی چاہیے۔ صرف کامیابی نہیں چاہیے، اسے مقصد بھی چاہیے۔

زندگی کا اصل حسن اسی میں ہے کہ انسان اپنے ہر دن کو ایک بڑے مقصد سے جوڑ دے۔ جب طالب علم اپنی تعلیم کو امت کی خدمت کا ذریعہ سمجھے، جب تاجر اپنی تجارت کو امانت اور خدمت کا میدان سمجھے، جب عالم اپنا علم معاشرے کی اصلاح کے لیے استعمال کرے، جب والدین اپنی اولاد کی تربیت کو صدقۂ جاریہ سمجھیں، تو زندگی کے معمولی کام بھی عظیم بن جاتے ہیں۔

آخر میں ہر شخص کو اپنے آپ سے یہ سوال ضرور پوچھنا چاہیے: اگر میری زندگی ایک کتاب ہے تو اس کا مرکزی عنوان کیا ہے؟ کیا میں محض وقت گزار رہا ہوں یا واقعی کسی مقصد کے لیے جی رہا ہوں؟ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ جو شخص اپنا مقصد پا لیتا ہے، وہ راستہ بھی پا لیتا ہے؛ اور جو اپنا مقصد کھو دیتا ہے، وہ اکثر خود کو بھی کھو دیتا ہے۔

مقصدِ زندگی کوئی فلسفیانہ بحث نہیں، بلکہ ہر صبح بیدار ہونے کی وجہ ہے۔ یہی وہ چراغ ہے جو انسان کے سفر کو معنی دیتا ہے، اس کی جدوجہد کو وقار بخشتا ہے اور اسے ایک عام زندگی سے اٹھا کر ایک بامقصد زندگی کی طرف لے جاتا ہے۔

جذباتی ذہانت: وہ قوت جو انسان کو اپنے نفس کا قائد اور معاشرے کا رہنما بناتی ہے

علم اور کردار کا تعلق ہمیشہ سے ایک دوسرے کے ساتھ رہا ہے، لیکن انسانی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ محض علم انسان کو عظیم نہیں بناتا۔ دنیا میں ایسے بے شمار لوگ گزرے ہیں جو غیر معمولی علم

مصنف: ابرار حسین
تاریخ: 21 جولائی 2026
گھر: ایک ‘جائے سکینت یا محض چار دیواری؟ ہمارے کھوئے ہوئے سکون کا نوحہ

عالی شان عمارتیں اور کھوکھلے رشتے: ہمارے خاندانی سکون کو کس کی نظر لگ گئی؟انسانی تہذیب کی ابتدا ہی سے گھر محض اینٹ، گارے یا پتھر سے بنی ایک عمارت کا نام نہیں رہا، بلکہ یہ رشتے جوڑنے، دُکھ سُکھ

مصنف: مولانا عبدالاحد
تاریخ: 21 جولائی 2026
صبر:وہ قوت جو انسان کومعمولی سےغیر معمولی بنادیتی ہے

اور صبر کرنے والوں کو خوش خبری سنا دیجیے۔” (البقرۃ: 155) ہم ایک ایسے دور میں زندہ ہیں جہاں انسان پہلے سے زیادہ آسائشوں کا مالک ہے، مگر پہلے سے زیادہ بے چین بھی۔ ذرائع بڑھ گئے ہیں مگر تحمل

مصنف: ابرار حسین
تاریخ: 21 جولائی 2026
مثبت سوچ: مومن کی وہ قوت جو اندھیروں میں بھی روشنی تلاش کر لیتی ہے

انسان کی زندگی کو اگر قریب سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی کامیابی یا ناکامی صرف اس کے حالات سے متعین نہیں ہوتی، بلکہ اس سے کہیں زیادہ اس زاویۂ نگاہ سے وابستہ ہوتی ہے جس

مصنف: ابرار حسین
تاریخ: 16 جولائی 2026
خود اعتمادی: وہ قوت جو ایمان سے جنم لیتی ہے

خود اعتمادی: وہ قوت جو ایمان سے جنم لیتی ہے تاریخِ انسانی کا مطالعہ اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ بڑے کارنامے ہمیشہ غیر معمولی وسائل رکھنے والوں نے انجام نہیں دیے، بلکہ اکثر وہ لوگ زمانے کا رخ

مصنف: ابرار حسین
تاریخ: 16 جولائی 2026
عالمہ کا کردار: درس گاہ سے معاشرے تک

مسلم معاشرے کی تعمیر میں اہلِ علم کا کردار ہمیشہ بنیادی رہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی امت کو فکری، اخلاقی یا سماجی چیلنجز کا سامنا ہوا، رہنمائی کے لیے اہلِ علم ہی کی طرف رجوع کیا گیا۔

مصنف: اقراء شریف
تاریخ: 15 جولائی 2026