ہر دور کے اپنے غالب رجحانات ہوتے ہیں۔ کچھ ادوار میں انسان خوف کے زیرِ اثر زندگی گزارتا ہے، کچھ میں مادہ پرستی غالب آ جاتی ہے اور کچھ زمانے ایسے ہوتے ہیں جن پر مایوسی کے سائے چھا جاتے ہیں۔ موجودہ دور بظاہر ترقی، ٹیکنالوجی اور معلومات کی فراوانی کا دور ہے، لیکن اس کے باطن میں جھانک کر دیکھا جائے تو یہ بے چینی، اضطراب، ناامیدی اور معنوی خلا کا بھی دور ہے۔ افراد مستقبل سے خوف زدہ ہیں، خاندان عدم استحکام کا شکار ہیں، نوجوان اپنی شناخت کے بحران میں مبتلا ہیں اور امتِ مسلمہ اپنی اجتماعی صورتِ حال کو دیکھ کر بسا اوقات احساسِ محرومی اور شکست خوردگی کا شکار نظر آتی ہے۔ ایسے ماحول میں امید صرف ایک جذباتی ضرورت نہیں رہتی، بلکہ ایک فکری، ایمانی اور تہذیبی ضرورت بن جاتی ہے۔
اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ دین بنیادی طور پر امید کا دین ہے۔ قرآنِ مجید نے انسان کے سامنے حقیقتِ زندگی کو ہمیشہ توازن کے ساتھ پیش کیا ہے۔ اس میں آزمائشوں کا ذکر بھی ہے، مصائب کا بیان بھی ہے، لیکن ان سب کے درمیان امید کا چراغ کبھی بجھنے نہیں دیا گیا۔ قرآن اعلان کرتا ہے: "اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو، بے شک اللہ تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے۔” ایک اور مقام پر فرمایا: "بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے، بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔” یہ آیات محض تسلی کے کلمات نہیں بلکہ ایک مکمل فکری بیانیہ پیش کرتی ہیں کہ مشکلات مستقل نہیں ہوتیں، حالات جامد نہیں رہتے اور اللہ کی رحمت ہر تاریکی سے بڑی حقیقت ہے۔
قرآن کا انداز یہ نہیں کہ وہ انسان کو مصائب سے بے خبر رکھے، بلکہ وہ مشکلات کی موجودگی میں امید پیدا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی امید حقیقت سے فرار کا نام نہیں بلکہ حقیقت کا سامنا کرنے کی قوت کا نام ہے۔ یہ وہ امید نہیں جو انسان کو خوابوں کی دنیا میں لے جائے، بلکہ وہ امید ہے جو انسان کو جدوجہد، استقامت اور تعمیر کے راستے پر گامزن کرتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی پوری سیرت امید کے اسی اسلامی بیانیے کی عملی تفسیر ہے۔ مکہ مکرمہ میں جب آپ ﷺ اور آپ کے صحابہ شدید ظلم و ستم کا شکار تھے، بظاہر ہر دروازہ بند دکھائی دے رہا تھا اور مستقبل دھندلا نظر آ رہا تھا، تب بھی آپ ﷺ کی زبان سے مایوسی کا ایک لفظ نہیں نکلا۔ غزوۂ خندق کے موقع پر مسلمان شدید بھوک، خوف اور محاصرے میں مبتلا تھے۔ ایسے حالات میں جب ایک چٹان پر ضرب لگائی گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے فارس اور روم کے محلات دکھائے گئے ہیں۔ بظاہر یہ بات حالات سے مطابقت نہیں رکھتی تھی، لیکن درحقیقت یہی امید کا اسلامی بیانیہ تھا کہ حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، مومن اپنی نگاہ کو صرف موجودہ بحران تک محدود نہیں کرتا بلکہ اللہ کے وعدوں اور امکانات کی دنیا میں جیتا ہے۔
ہجرتِ مدینہ کے سفر کا واقعہ بھی امید کا ایک عظیم درس ہے۔ غارِ ثور کے دہانے تک دشمن پہنچ چکا تھا۔ ظاہری اسباب تقریباً ختم ہو چکے تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اگر ان میں سے کوئی اپنے قدموں کے نیچے دیکھ لے تو ہمیں دیکھ لے گا۔ اس موقع پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "غم نہ کرو، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔” یہ جملہ صرف اس لمحے کی تسلی نہیں تھا بلکہ ایک مکمل ایمانی فلسفہ تھا۔ جب انسان اللہ کی معیت پر یقین رکھتا ہے تو مایوسی اس کے دل میں جگہ نہیں پاتی۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیوں میں بھی امید ایک محرک قوت کے طور پر نمایاں نظر آتی ہے۔ حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مکہ میں ظلم و ستم کے ایام میں وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ کیا آپ ہمارے لیے دعا نہیں فرماتے؟ کیا آپ اللہ سے مدد نہیں مانگتے؟ آپ ﷺ نے سابقہ اہلِ ایمان کی آزمائشوں کا ذکر فرمایا اور پھر ارشاد کیا کہ اللہ اس دین کو ضرور مکمل کرے گا۔ یہ امید ایسی امید نہیں تھی جو عمل سے بے نیاز کر دے، بلکہ ایسی امید تھی جس نے ایک کمزور اور مظلوم جماعت کو دنیا کی عظیم ترین تہذیبی قوت میں تبدیل کر دیا۔
تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ امت کی نشاۃِ ثانیہ ہمیشہ امید کی بنیاد پر وجود میں آئی ہے۔ کوئی قوم اس وقت تک اٹھ نہیں سکتی جب تک وہ اپنے امکانات پر یقین نہ رکھے۔ شکست کا آغاز میدان میں نہیں بلکہ ذہن میں ہوتا ہے۔ جب کوئی قوم یہ مان لے کہ اب اس کے پاس دینے کے لیے کچھ نہیں، اس کا کردار ختم ہو چکا ہے اور وہ صرف دوسروں کی پیروی کے لیے رہ گئی ہے، تو اس کی زوال پذیری تقریباً یقینی ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس جب کوئی قوم اپنے مقصد، اپنے ورثے اور اپنی ذمہ داری کا شعور حاصل کر لیتی ہے تو اس کی تجدید کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔
یہاں علمائے کرام کی ذمہ داری غیر معمولی ہو جاتی ہے۔ علماء صرف احکام کے بیان کرنے والے نہیں، بلکہ امید کے معمار بھی ہیں۔ انہیں امت کو صرف اس کی کمزوریاں نہیں دکھانی چاہییں بلکہ اس کی قوتوں سے بھی متعارف کروانا چاہیے۔ انہیں صرف مسائل کی تشخیص نہیں کرنی چاہیے بلکہ امکانات کی نشاندہی بھی کرنی چاہیے۔ انہیں نوجوانوں کو صرف خطرات سے آگاہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ انہیں یہ بھی بتانا چاہیے کہ وہ اس امت کے مستقبل کی تعمیر میں کس طرح اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
بدقسمتی سے بعض اوقات دینی گفتگو کا بڑا حصہ شکایت، مایوسی اور مسلسل زوال کے بیان تک محدود ہو جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امت کو درپیش مسائل حقیقی ہیں اور ان کا ادراک ضروری ہے، لیکن اگر ہر گفتگو کا حاصل صرف افسوس اور مایوسی بن جائے تو نئی نسل کے اندر تعمیر کی قوت پیدا نہیں ہو سکتی۔ قرآن کا اسلوب یہ نہیں ہے۔ قرآن قوموں کے انحطاط کا ذکر کرتا ہے، مگر ساتھ ہی توبہ، اصلاح، صبر اور جدوجہد کے دروازے بھی کھلے رکھتا ہے۔ وہ انسان کو اس کی کمزوریوں سے آگاہ بھی کرتا ہے اور اس کے اندر موجود عظیم امکانات کو بھی جگاتا ہے۔
امید کا اسلامی بیانیہ دراصل عمل کا بیانیہ ہے۔ یہ انسان کو ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے کی دعوت نہیں دیتا، بلکہ اسے اپنے دائرۂ اثر میں جدوجہد کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اگر ایک عالم اپنی مسجد کو ایک فعال کمیونٹی سینٹر بنا دے، اگر ایک مدرس اپنے طلبہ میں مطالعے اور تحقیق کا ذوق پیدا کر دے، اگر ایک داعی چند نوجوانوں کو مقصدِ زندگی سے جوڑ دے، تو یہی چھوٹے چھوٹے اقدامات مستقبل کی بڑی تبدیلیوں کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔ تاریخ کی بڑی تبدیلیاں ہمیشہ چند صاحبِ یقین افراد کے دلوں میں پیدا ہونے والی امید سے شروع ہوئی ہیں۔
آج امتِ مسلمہ کو ایسے علماء کی ضرورت ہے جو امید کے سفیر بن سکیں۔ جو نوجوانوں کو یہ یقین دلائیں کہ اسلام ماضی کا قصہ نہیں بلکہ مستقبل کی رہنمائی کا سرچشمہ ہے؛ جو انہیں یہ احساس دلائیں کہ ان کا علم، ان کی صلاحیتیں اور ان کی خدمات امت کے لیے قیمتی سرمایہ ہیں؛ جو انہیں شکست خوردگی نہیں بلکہ ذمہ داری کا شعور دیں؛ اور جو انہیں یہ بتائیں کہ حالات خواہ کتنے ہی پیچیدہ کیوں نہ ہوں، اللہ تعالیٰ کے خزانے ختم نہیں ہوئے، امکانات کے دروازے بند نہیں ہوئے اور اس امت کا خیر ابھی باقی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مایوسی صرف ایک نفسیاتی کیفیت نہیں، بلکہ ایک تہذیبی بیماری بھی ہے۔ اور امید صرف ایک جذباتی احساس نہیں، بلکہ ایک ایمانی اور تہذیبی قوت ہے۔ جب امید ایمان سے جڑ جاتی ہے تو وہ انسان کے اندر استقامت پیدا کرتی ہے، اس کے اندر مقصدیت بیدار کرتی ہے اور اسے اپنی ذات سے بلند ہو کر امت اور انسانیت کے لیے کچھ کر گزرنے کی قوت عطا کرتی ہے۔
شاید یہی وہ پیغام ہے جس کی آج سب سے زیادہ ضرورت ہے: امتِ مسلمہ کے سامنے چیلنجز بہت ہیں، لیکن اس امت کے پاس قرآن بھی ہے، سیرتِ رسول ﷺ بھی ہے، ایک عظیم علمی ورثہ بھی ہے اور بے شمار باصلاحیت افراد بھی۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم مایوسی کی زبان چھوڑ کر امید کی زبان سیکھیں، شکایت کے بجائے تعمیر کا راستہ اختیار کریں اور اپنے دلوں میں اس یقین کو تازہ کریں کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو خیر کے لیے منتخب کیا ہے اور جب تک اس کے اندر خیر پیدا کرنے والے افراد موجود ہیں، اس کی تجدید اور نشاۃِ ثانیہ کا سفر بھی جاری رہے گا۔