ہر دور کی اپنی کچھ نمایاں خصوصیات اور مخصوص چیلنجز ہوتے ہیں۔ اگر گزشتہ صدیوں میں امت کو سیاسی استعمار، فکری یلغار یا تہذیبی کشمکش کا سامنا تھا، تو موجودہ دور کا سب سے بڑا سوال نوجوان نسل کی فکری اور اخلاقی تشکیل کا ہے۔ آج کا نوجوان ایک ایسی دنیا میں آنکھ کھولتا ہے جہاں معلومات کی فراوانی ہے لیکن بصیرت کی کمی، رابطوں کی کثرت ہے لیکن تعلقات کی کمزوری، اور ترقی کے بے شمار مواقع ہیں مگر شناخت کا شدید بحران بھی موجود ہے۔ ایسے ماحول میں علمائے کرام کی ذمہ داری محض چند دینی احکام کی تعلیم تک محدود نہیں رہتی، بلکہ وہ ایک ایسی نسل کی رہنمائی کا فریضہ اپنے کندھوں پر اٹھاتے ہیں جو اپنی فکری سمت، اخلاقی بنیادوں اور تہذیبی شناخت کے بارے میں مسلسل سوالات سے دوچار ہے۔
تاریخِ اسلام اس حقیقت کی گواہ ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام نے ہمیشہ نوجوانوں کو معاشرتی تبدیلی کا بنیادی سرمایہ سمجھا۔ قرآن کریم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر آتا ہے تو ان کے بارے میں کہا جاتا ہے: "انہوں نے کہا: ہم نے ایک نوجوان کو ان کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے، اس کا نام ابراہیم ہے۔” اسی طرح اصحابِ کہف کے بارے میں فرمایا گیا: "وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے تھے اور ہم نے ان کی ہدایت میں اضافہ کر دیا۔” گویا قرآن ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ نوجوانی صرف عمر کا ایک مرحلہ نہیں بلکہ عزم، ایمان اور تبدیلی کی صلاحیت کا نام ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی دعوت کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے نوجوانوں کی صلاحیتوں پر غیر معمولی اعتماد کیا۔ حضرت علی، حضرت زید بن ثابت، حضرت اسامہ بن زید، حضرت معاذ بن جبل اور حضرت عبداللہ بن عباس جیسے بے شمار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اپنی عمر کے اعتبار سے نوجوان تھے، لیکن آپ ﷺ نے انہیں صرف مستقبل کا سرمایہ نہیں سمجھا بلکہ انہیں حال کی ذمہ داریاں بھی عطا فرمائیں۔ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی قیادت میں ایک ایسا لشکر روانہ کیا گیا جس میں بڑے بڑے صحابۂ کرام موجود تھے۔ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن جیسے اہم خطے کی تعلیم و قضا کی ذمہ داری سونپی گئی۔ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو زبانیں سیکھنے اور وحی کی کتابت جیسے حساس کاموں پر مامور کیا گیا۔ یہ واقعات ہمیں بتاتے ہیں کہ نبوی تربیت نوجوانوں کو محض نصیحتوں کا مخاطب نہیں بناتی بلکہ انہیں ذمہ داری، اعتماد اور قیادت کے مواقع بھی فراہم کرتی ہے۔
آج کے نوجوان کا مسئلہ یہ نہیں کہ وہ سوال کرتا ہے؛ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اکثر اس کے سوالات سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔ وہ زندگی کے مقصد، دین کی حکمت، شناخت، رشتوں، کامیابی، ٹیکنالوجی، جنسیت، آزادی اور مستقبل کے بارے میں سوالات رکھتا ہے۔ اگر دینی حلقے ان سوالات کو محض بغاوت یا بے ادبی سمجھ کر نظر انداز کر دیں تو فکری خلا پیدا ہو جاتا ہے، اور تاریخ کا اصول ہے کہ خلا کبھی خالی نہیں رہتا؛ اسے کوئی نہ کوئی بھر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عصرِ حاضر میں علماء کی ایک بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ نوجوانوں کے سوالات کو سننے اور سمجھنے کی صلاحیت پیدا کریں۔
یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ موجودہ نسل صرف معلومات نہیں چاہتی بلکہ تعلق اور معنویت بھی چاہتی ہے۔ وہ ایسے رہنما کی تلاش میں ہے جو اس کی زبان سمجھے، اس کی الجھنوں کو محسوس کرے اور اس کے مسائل کے حقیقی تناظر کو جانتا ہو۔ محض خطابت اور نصیحت کافی نہیں رہی۔ اب عالمِ دین کو ایک مربی، مشیر، راہنما اور مکالمہ کرنے والی شخصیت بننا ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ نے نوجوان صحابی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: "اے لڑکے! میں تمہیں چند باتیں سکھاتا ہوں: اللہ کی حفاظت کرو، اللہ تمہاری حفاظت فرمائے گا…” یہ چند جملے صرف نصیحت نہیں تھے بلکہ شخصیت سازی کا ایک مکمل پروگرام تھے۔ آپ ﷺ نے نوجوانوں سے اس انداز میں گفتگو کی جس میں محبت بھی تھی، اعتماد بھی اور تربیت بھی۔
فکری رہنمائی کے ساتھ ساتھ اخلاقی رہنمائی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ڈیجیٹل دنیا نے نوجوان کو بے شمار مواقع فراہم کیے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسے اخلاقی آزمائشوں کے ایک نئے جہان سے بھی متعارف کرایا ہے۔ عفت، حیا، صبر، تحمل، دیانت، خاندانی ذمہ داری اور سماجی آداب جیسے اوصاف مسلسل کمزور پڑ رہے ہیں۔ ایسے میں علماء کی ذمہ داری صرف غلطیوں کی نشاندہی کرنا نہیں بلکہ مثبت کردار سازی کے ایسے نمونے پیش کرنا ہے جو نوجوانوں کے لیے قابلِ عمل اور قابلِ تقلید ہوں۔ اخلاق کی تعلیم محض الفاظ سے نہیں بلکہ شخصیت کے اثر سے منتقل ہوتی ہے۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی قرآنِ مجید کی عملی تفسیر بن گئی تھی۔
اس کے ساتھ ایک تہذیبی بحران بھی ہمارے سامنے ہے۔ گلوبلائزیشن اور سوشل میڈیا نے دنیا کو ایک عالمی گاؤں میں تبدیل کر دیا ہے۔ نوجوان مختلف ثقافتوں، نظریات اور طرزِ زندگی سے مسلسل متاثر ہو رہا ہے۔ اس صورتِ حال میں خطرہ یہ نہیں کہ نوجوان نئی چیزیں سیکھ رہا ہے؛ اصل خطرہ یہ ہے کہ کہیں وہ اپنی تہذیبی شناخت سے محروم نہ ہو جائے۔ اسلام نے کبھی علم اور تجربے کے دروازے بند نہیں کیے، لیکن اس نے ہمیشہ یہ تعلیم دی کہ انسان اپنی شناخت اور اصولوں پر قائم رہتے ہوئے دنیا سے تعامل کرے۔ علماء کرام کو نوجوان نسل میں ایسی متوازن سوچ پیدا کرنا ہوگی جو نہ تو تہذیبی مرعوبیت کا شکار ہو اور نہ ہی زمانے سے بے تعلقی اختیار کرے۔
یہاں ایک اور اہم نکتہ بھی توجہ کا مستحق ہے۔ نوجوانوں کی رہنمائی کا مطلب صرف انہیں غلط راستوں سے روکنا نہیں بلکہ ان کے اندر بڑے مقاصد پیدا کرنا بھی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ عظیم نوجوان وہ نہیں ہوتے جنہیں صرف گناہوں سے بچنے کی تلقین کی جائے، بلکہ وہ ہوتے ہیں جن کے سامنے کوئی بڑا مشن، کوئی بلند مقصد اور کوئی اجتماعی ہدف رکھا جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے نوجوانوں کو امت سازی، دعوت، علم، قیادت اور خدمتِ خلق کے عظیم مقاصد سے جوڑا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ تاریخ کے معمار بن گئے۔
عصرِ حاضر میں علماء کرام کو اپنی دعوت اور تربیت کے اسلوب پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ نوجوان نسل منبر سے نکلنے والی ایسی گفتگو چاہتی ہے جو ان کے زمانے کو سمجھتی ہو، ان کے سوالات سے واقف ہو اور ان کی زبان میں ان سے بات کرنا جانتی ہو۔ انہیں ایسے علماء کی ضرورت ہے جو صرف ماضی کے وارث نہ ہوں بلکہ حال کے نباض اور مستقبل کے معمار بھی ہوں۔ جو انہیں صرف خوف نہ دیں بلکہ امید بھی دیں، صرف ممانعت نہ سکھائیں بلکہ مقصد بھی عطا کریں، اور صرف مسائل نہ گنوائیں بلکہ امکانات بھی دکھائیں۔
حقیقت یہ ہے کہ نوجوان نسل کسی قوم کا آنے والا کل نہیں بلکہ اس کا موجودہ سرمایہ ہوتی ہے۔ اگر آج ہم ان کے فکری، اخلاقی اور تہذیبی سوالات کو سمجھنے میں ناکام رہے تو کل کی قیادت فکری خلا، اخلاقی کمزوری اور شناختی بحران کا شکار ہو جائے گی۔ لیکن اگر علماء کرام نبوی اسوہ کی روشنی میں محبت، حکمت، مکالمے اور بصیرت کے ساتھ اس نسل کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیں تو یہی نوجوان امت کی فکری تجدید، اخلاقی تعمیر اور تہذیبی احیا کا سب سے بڑا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
یہ وقت نوجوانوں سے خوف کھانے کا نہیں، بلکہ ان پر اعتماد کرنے، انہیں سمجھنے اور ان کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرنے کا ہے۔ کیونکہ ہر دور کی تاریخ بالآخر انہی نوجوانوں کے ہاتھوں لکھی جاتی ہے جنہیں کسی صاحبِ بصیرت معلم، مربی اور رہنما نے وقت پر پہچان لیا ہو