جامعہ الازہر اور قرویین کی شاندار تاریخ کا نوحہ: جب سائنس اور دین ایک تھے، تو پھر یہ دردناک خلیج کب اور کیسے پیدا ہوئی؟

1۔ مقدمہ: جب سائنس اور دین ہم قدم تھے اسلامی تاریخ کا ایک وہ سنہرا دور تھا جب علم کی خانوں میں کوئی تفریق نہیں تھی۔ بغداد، دمشق، اور اندلس کی گلیوں میں مسلم سائنسدانوں اور علماء کے نزدیک کائنات

مصنف:حافظ عبد الحمید
تاریخ: 15 جون 2026

دیگر مضامین

تمام مضامین دیکھیں

جذباتی ذہانت: وہ قوت جو انسان کو اپنے نفس کا قائد اور معاشرے کا رہنما بناتی ہے

علم اور کردار کا تعلق ہمیشہ سے ایک دوسرے کے ساتھ رہا ہے، لیکن انسانی

تاریخ: 21 جولائی 2026
مصنف:ابرار حسین

گھر: ایک ‘جائے سکینت یا محض چار دیواری؟ ہمارے کھوئے ہوئے سکون کا نوحہ

عالی شان عمارتیں اور کھوکھلے رشتے: ہمارے خاندانی سکون کو کس کی نظر لگ گئی؟انسانی

تاریخ: 21 جولائی 2026
مصنف:مولانا عبدالاحد

صبر:وہ قوت جو انسان کومعمولی سےغیر معمولی بنادیتی ہے

اور صبر کرنے والوں کو خوش خبری سنا دیجیے۔” (البقرۃ: 155) ہم ایک ایسے دور

تاریخ: 21 جولائی 2026
مصنف:ابرار حسین

مثبت سوچ: مومن کی وہ قوت جو اندھیروں میں بھی روشنی تلاش کر لیتی ہے

انسان کی زندگی کو اگر قریب سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس

تاریخ: 16 جولائی 2026
مصنف:ابرار حسین

دیگر موضوعات

حافظ عبد الحمید

1۔ مقدمہ: جب سائنس اور دین ہم قدم تھے

اسلامی تاریخ کا ایک وہ سنہرا دور تھا جب علم کی خانوں میں کوئی تفریق نہیں تھی۔ بغداد، دمشق، اور اندلس کی گلیوں میں مسلم سائنسدانوں اور علماء کے نزدیک کائنات کی تسخیر اور خالق کی پہچان دو الگ راستے نہیں بلکہ ایک ہی منزل کے جزو تھے۔ قرآن مجید میں بار بار کائنات پر غور و فکر کی دعوت نے مسلمانوں کو تحقیق اور جستجو پر ابھارا۔ اس دور میں ایک ہی شخص بیک وقت مفسرِ قرآن بھی ہوتا تھا اور ماہرِ فلکیات بھی۔تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ آٹھویں صدی عیسوی میں بغداد میں قائم ہونے والا "بیت الحکمہ” (House of Wisdom) محض ایک لائبریری نہیں تھا، بلکہ ایک عالمی ریسرچ سینٹر تھا۔ عباسی خلفاء کی سرپرستی میں، یہاں کے علماء نے یونانی، فارسی اور ہندوستانی سائنسی کاموں کا عربی میں ترجمہ کیا اور ان پر اپنی شاندار تحقیق کی بنیاد رکھی۔ اس دور کے مسلمانوں کے نزدیک لیبارٹری کی تحقیق اور محرابِ مسجد میں کی جانے والی عبادت، دونوں ہی اللہ کی رضا اور معرفت حاصل کرنے کے راستے تھے۔ابنِ سینا، الخوارزمی اور جابر بن حیان جیسے نامور ستارے اسی تعلیمی نظام کی پیداوار ہیں جہاں طب، ریاضی، کیمیا اور فلسفہ کو دین کا ہی حصہ سمجھا جاتا تھا۔ ان کے نزدیک "علمِ نافع” (نفع بخش علم) وہ تھا جو انسانیت کی فلاح کا باعث بنے، چاہے اس کا سرچشمہ لیبارٹری ہو یا محراب و منبر۔ اس دور میں سائنس کو دین سے الگ کوئی دنیاوی چیز نہیں سمجھا جاتا تھا، بلکہ یہ اللہ کی نشانیوں کو سمجھنے کا ایک ذریعہ تھی۔

2۔ جامعہ الازہر اور جامعہ قرویین: علم و دانش کے روشن مینار

جب ہم امت مسلمہ کی شاندار تعلیمی تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں، تو دو نام آسمانِ علم پر سورج اور چاند کی طرح چمکتے دکھائی دیتے ہیں مراکش کی جامعہ قرویین (Al-Qarawiyyin) اور مصر کی جامعہ الازہر (Al-Azhar)۔ یہ دونوں ادارے محض عمارتیں نہیں تھیں، بلکہ وہ تہذیبی کارخانے تھے جہاں سے انسانیت کی فکری اور سائنسی آبیاری ہوئی۔

جامعہ قرویین: ایک مسلم خاتون کا عظیم صدقہ جاریہ
یہ امت مسلمہ کے لیے کتنے فخر کی بات ہے کہ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز اور یونیسکو (UNESCO) کی دستاویزات کے مطابق دنیا کی سب سے قدیم، مسلسل کام کرنے والی ڈگری جاری کرنے والی یونیورسٹی کسی مغربی ملک میں نہیں، بلکہ 859 عیسوی میں مراکش کے شہر فاس میں قائم ہوئی۔ اور اس سے بھی بڑھ کر فخر کی بات یہ ہے کہ اس کی بنیاد ایک دور اندیش مسلم خاتون، فاطمہ الفہریؒ نے رکھی تھی۔جامعہ قرویین کا ماڈل اس بات کی شاندار مثال تھا کہ اسلام میں دینی اور دنیاوی علوم کے درمیان کوئی خلیج نہیں تھی۔ قرویین کے خوبصورت صحنوں اور ستونوں کے سائے میں جہاں طلباء کو قرآن، حدیث اور اسلامی فقہ کی باریکیاں سکھائی جاتی تھیں، وہیں طب (Medicine)، ریاضی (Mathematics)، فلکیات (Astronomy) اور کیمیا (Chemistry) کے علوم بھی اسی درجہ بندی اور اہمیت کے ساتھ پڑھائے جاتے تھے۔ یہ اسی جامعہ کا فیض تھا کہ مشہور یورپی پوپ سلویسٹر دوم (Pope Sylvester II) نے یہاں سے علمِ ریاضی سیکھا اور بعد ازاں یورپ میں عربی ہندسوں (Arabic Numerals) کو متعارف کروایا، جس نے یورپ کی سائنسی بیداری میں کلیدی کردار ادا کیا۔

جامعہ الازہر: ایک ہزار سالہ علمی ورثہ

دوسری جانب مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں 970 عیسوی کے لگ بھگ قائم ہونے والی ‘جامعہ الازہر’ نے ایک ہزار سال سے زائد عرصے تک علم کی شمع کو روشن رکھا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ الازہر نے علم کو کبھی خانوں میں تقسیم نہیں کیا۔ یہاں عظیم مفکر اور ماہرِ عمرانیات ابن خلدون اور علمِ طب کے ماہر ابن الہیثم جیسے درخشاں ستاروں نے اپنے علم کے موتی بکھیرے۔ الازہر کا تعلیمی فلسفہ واضح تھا: کائنات کے طبعی قوانین کو سمجھنا، دراصل اللہ کی تخلیق کی سنت کو سمجھنا ہے۔

ہمارے لیے آج کا سبق کیا ہے؟

ان دونوں عظیم جامعات کا سب سے بڑا کارنامہ ان کا "ہمہ گیر (Integrated) تعلیمی ماڈل” تھا۔ ان درسگاہوں سے فارغ التحصیل ہونے والا طالب علم اگر ایک طرف بہترین مفسر اور فقیہ ہوتا تھا، تو دوسری طرف وہ ستاروں کی چال اور انسانی جسم کی اناٹومی کا بھی گہرا علم رکھتا تھا۔ جب یورپ تاریخ کے تاریک ترین دور (Dark Ages) سے گزر رہا تھا، اس وقت یہ مسلم جامعات دنیا بھر کے طالب علموں کے لیے علم و تحقیق کا سب سے بڑا اور روشن مرکز تھیں۔آج مسلم معاشرے کو یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم نے اپنے ان روشن میناروں سے ملنے والی روشنی کو کہاں کھو دیا؟ ہم نے کیوں ان علوم کو آپس میں لڑا دیا جو کبھی ایک ہی چھت کے نیچے پروانچڑھتے تھے؟

3۔ دردناک خلیج کا آغاز: زوال کے اسباب اور نوآبادیاتی دور

ایک طویل عرصے تک علم کی دنیا پر حکمرانی کرنے کے بعد، مسلم معاشروں میں زوال کے سائے منڈلانے لگے۔ اس زوال اور سائنس و دین کے درمیان خلیج پیدا ہونے کی دو بڑی وجوہات تھیں: اندرونی فکری جمود اور بیرونی نوآبادیاتی تسلط 

اندرونی فکری جمود اور اجتہاد کا خاتمہ: مسلم دنیا کا زوال اچانک نہیں آیا۔ تیرہویں اور چودہویں صدی عیسوی کے بعد مسلم معاشروں میں ‘اجتہاد’ (نئی تحقیق اور غور و فکر) کے دروازے رفتہ رفتہ بند ہونا شروع ہو گئے۔ علمِ نافع کا وہ وسیع تصور، جو کائنات کی ہر شے کے مطالعے کو عبادت سمجھتا تھا، سکڑنے لگا۔ بعض حلقوں کی جانب سے سائنسی اور طبعی علوم (فزکس، کیمسٹری، فلکیات) کو محض "دنیاوی” قرار دے کر ان سے دوری اختیار کی جانے لگی۔ ساری توجہ صرف فقہ، کلام اور روایتی علوم پر مرکوز ہو گئی۔ کائنات کی تسخیر کا وہ قرآنی حکم جو مسلمانوں کو لیبارٹریوں تک لے گیا تھا، اب محض بحث و مباحثے تک محدود ہو کر رہ گیا۔

مغربی سامراج کا وار اور دوغلے نظامِ تعلیم کی بنیاد: اس فکری کمزوری کا بھرپور فائدہ مغربی سامراج نے اٹھایا۔ جب انگریزوں، فرانسیسیوں اور دیگر یورپی طاقتوں نے ایشیا اور افریقہ کے مسلم ممالک پر قبضہ کیا، تو انہوں نے سب سے گہرا وار ہمارے تعلیمی نظام پر کیا۔ برصغیر پاک و ہند میں لارڈ میکالے (Lord Macaulay) کا متعارف کردہ برطانوی نظامِ تعلیم اس کی سب سے بڑی اور تلخ مثال ہے۔نوآبادیاتی طاقتوں کا مقصد مسلم خطوں میں مفکر اور سائنسدان پیدا کرنا ہرگز نہیں تھا، بلکہ انہیں اپنی حکومت کا پہیہ چلانے کے لیے ایسے کلرک اور وفادار اہلکار درکار تھے جو سوچ میں مغربی اور شکل میں مقامی ہوں۔ انہوں نے ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی کے تحت "عصری تعلیم” (Modern/Secular Education) اور "دینی تعلیم” (Religious Education) کو دو بالکل الگ اور متضاد خانوں میں بانٹ دیا۔ نوآبادیاتی دور میں ریاست نے مدارس کی سرپرستی بند کر دی اور تمام وسائل اپنے قائم کردہ جدید تعلیمی اداروں کی طرف موڑ دیے۔مغربی سامراج کا وار اور دوغلے نظامِ تعلیم کی بنیاد:

مدارس کی بقا کی جنگ:

اس حملے کے نتیجے میں صدیوں سے قائم اسلامی درسگاہیں اپنی بقا کی جنگ لڑنے پر مجبور ہو گئیں۔ اپنے دین، عقیدے اور اسلامی تشخص کو بچانے کی فکر میں علماء نے ایک دفاعی خول اوڑھ لیا۔ انہوں نے اپنے نصاب سے جدید سائنس، ریاضی اور انگریزی کو نکال دیا اور خود کو صرف خالص مذہبی اور روایتی تعلیمات تک محدود کر لیا تاکہ

کم از کم دین کا بنیادی ڈھانچہ محفوظ رہے۔

دوسری طرف، حکومتی سرپرستی میں جو جدید سکول اور کالج بنے، وہ مادیت پرست مغربی افکار کے عکاس تھے۔ یہیں سے وہ دردناک خلیج پیدا ہوئی جس نے سائنس اور دین کو دو الگ راستوں پر ڈال دیا۔

4۔ عصری اور دینی تعلیم کی تقسیم: مسلم معاشرے کا المیہ

نوآبادیاتی دور (Colonial Era) کی سازشوں نے جو بیج بویا تھا، آج وہ ایک ایسا کانٹے دار درخت بن چکا ہے جس نے امتِ مسلمہ کو فکری اور سماجی طور پر دو لخت کر دیا ہے۔ آج کسی بھی مسلم ملک (چاہے وہ پاکستان ہو، مصر ہو یا انڈونیشیا) کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارا نظامِ تعلیم دو متوازی اور بسا اوقات ایک دوسرے سے متصادم راستوں پر چل رہا ہے۔ ہم نے علم کو "دینی” اور "دنیاوی” کے ایسے خانوں میں بانٹ دیا ہے جس کا اسلام کے اصل تصورِ علم میں کوئی وجود ہی نہیں تھا۔

ایک معاشرہ، دو مختلف دنیائیں:آج ہمارے معاشرے میں دو بالکل مختلف تعلیمی دھارے بہہ رہے ہیں۔ ایک طرف وہ جدید سکول، کالجز اور یونیورسٹیاں ہیں جہاں کیمبرج یا دیگر مغربی طرز کے نصاب پڑھائے جاتے ہیں۔ یہاں سے نکلنے والا نوجوان فزکس، کمپیوٹر سائنس، اور معاشیات میں تو ماہر ہوتا ہے، لیکن وہ اکثر اپنی شاندار اسلامی تاریخ، تہذیب اور دینی بنیادوں سے کٹا ہوا ہوتا ہے۔ اسے نظامِ کائنات تو سمجھ آ جاتا ہے، لیکن کائنات بنانے والے کے احکامات سے وہ عموماً بیگانہ رہتا ہے۔دوسری جانب ہمارے روایتی مدارس ہیں، جو یقیناً دین کے قلعے ہیں اور جنہوں نے قرآن و حدیث کے علم کو محفوظ رکھا ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ یہاں سے فارغ التحصیل ہونے والا طالب علم عموماً جدید دنیا کے سائنسی، معاشی اور ٹیکنالوجیکل چیلنجز سے پوری طرح آگاہ نہیں ہوتا۔ اسے یہ تو معلوم ہے کہ وراثت کے شرعی اصول کیا ہیں، لیکن وہ عالمی معیشت (Global Economy) اور مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کے اس دور میں ان اصولوں کے جدید اطلاق کو سمجھنے میں دقت محسوس کرتا ہے۔

"ملا” اور "مسٹر” کی تفریق:اس دوہرے نظامِ تعلیم کا سب سے بڑا اور خطرناک نقصان یہ ہوا ہے کہ اس نے مسلم معاشرے میں "ملا” اور "مسٹر” کی ایک گہری خلیج پیدا کر دی ہے۔ یہ دونوں طبقات ایک ہی دین کے ماننے والے اور ایک ہی معاشرے کا حصہ ہونے کے باوجود ایک دوسرے کی زبان اور نفسیات کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ جدید تعلیم یافتہ طبقہ مذہبی طبقے کو دقیانوسی سمجھتا ہے، اور مذہبی طبقہ جدید تعلیم یافتہ افراد کو دین سے دور اور مغرب زدہ سمجھتا ہے۔ اس عدم اعتماد نے ہماری قومی اور ملی وحدت کو پارہ پارہ کر دیا ہے۔

محراب اور لیبارٹری کی دوری کا نقصان:آج ہم اکثر یہ شکوہ کرتے ہیں کہ امتِ مسلمہ میں ابن الہیثم، الخوارزمی اور جابر بن حیان جیسے عظیم سائنسدان، ماہرینِ عمرانیات اور مفکرین کیوں پیدا نہیں ہو رہے۔ اس کا سیدھا سا جواب یہ ہے کہ ہم نے کائنات کی تسخیر کرنے والوں اور قرآن کی تفسیر کرنے والوں کو الگ الگ کمروں میں بٹھا دیا ہے۔ ہم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ سائنس کا دین سے اور دین کا سائنس سے کوئی تعلق نہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ لیبارٹری کی خردبین (Microscope) سے کائنات کے راز کھوجنا بھی اتنی ہی بڑی عبادت ہے جتنا مصلے پر بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرنا، بشرطیکہ نیت خالص ہو۔ جب تک یہ دونوں علوم ایک ہی ذہن میں یکجا نہیں ہوں گے، ہم دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل نہیں کر سکتے۔

5۔ امید کی کرن: امت مسلمہ کے لیے تجدیدِ نو کا لائحہ عمل

ماضی کی شاندار تاریخ اور حال کے دردناک المیے کا جائزہ لینے کے بعد، یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اب سب کچھ ختم ہو چکا ہے؟ یقیناً نہیں! اندھیرا جتنا بھی گہرا ہو، روشنی کی ایک کرن اس کا سینہ چیرنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ امت مسلمہ کو آج پھر سے اسی "ہمہ گیر (Integrated) تصورِ علم” کی طرف لوٹنا ہوگا جس نے جامعہ الازہر اور قرویین جیسی عظیم درسگاہوں کو جنم دیا تھا۔

اس خلیج کو پاٹنے اور تجدیدِ نو کے لیے ہمیں مندرجہ ذیل عملی اقدامات کی فوری ضرورت ہے:

 نصابی ہم آہنگی (Curriculum Integration):

سب سے پہلا قدم یہ ہے کہ ہمیں "دینی” اور "دنیاوی” علم کی مصنوعی تقسیم کو ختم کرنا ہوگا۔ ہمارے جدید سکولوں اور یونیورسٹیوں کے نصاب میں اسلامی اخلاقیات، قرآنی فہم اور سیرت النبی ﷺ کو اس طرح شامل کیا جائے کہ ہمارا انجینئر یا ڈاکٹر اپنی فیلڈ کا ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بااخلاق اور دیندار مسلمان بھی ہو۔ بالکل اسی طرح، مدارس کے نصاب میں جدید سائنس، ٹیکنالوجی، معاشیات اور انگریزی زبان کو لازمی قرار دیا جائے تاکہ وہاں کا طالب علم جدید دنیا کے تقاضوں کو سمجھ کر دین کی بہتر ترجمانی کر سکے۔

 تحقیق اور اجتہاد کا احیاء:

ہمیں اپنے نوجوانوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ لیبارٹری میں کی جانے والی تحقیق بھی ایک طرح کی عبادت ہے اگر اس کا مقصد انسانیت کی فلاح ہو۔ ہمیں فکری جمود کو توڑ کر ‘اجتہاد’ کے دروازے دوبارہ کھولنے ہوں گے۔ آج کی دنیا مصنوعی ذہانت (AI)، بائیو ٹیکنالوجی اور خلائی تسخیر کی دنیا ہے۔ مسلم مفکرین اور سائنسدانوں کو مل کر ان جدید

جذباتی ذہانت: وہ قوت جو انسان کو اپنے نفس کا قائد اور معاشرے کا رہنما بناتی ہے

علم اور کردار کا تعلق ہمیشہ سے ایک دوسرے کے ساتھ رہا ہے، لیکن انسانی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ محض علم انسان کو عظیم نہیں بناتا۔ دنیا میں ایسے بے شمار لوگ گزرے ہیں جو غیر معمولی علم

مصنف: ابرار حسین
تاریخ: 21 جولائی 2026
گھر: ایک ‘جائے سکینت یا محض چار دیواری؟ ہمارے کھوئے ہوئے سکون کا نوحہ

عالی شان عمارتیں اور کھوکھلے رشتے: ہمارے خاندانی سکون کو کس کی نظر لگ گئی؟انسانی تہذیب کی ابتدا ہی سے گھر محض اینٹ، گارے یا پتھر سے بنی ایک عمارت کا نام نہیں رہا، بلکہ یہ رشتے جوڑنے، دُکھ سُکھ

مصنف: مولانا عبدالاحد
تاریخ: 21 جولائی 2026
صبر:وہ قوت جو انسان کومعمولی سےغیر معمولی بنادیتی ہے

اور صبر کرنے والوں کو خوش خبری سنا دیجیے۔” (البقرۃ: 155) ہم ایک ایسے دور میں زندہ ہیں جہاں انسان پہلے سے زیادہ آسائشوں کا مالک ہے، مگر پہلے سے زیادہ بے چین بھی۔ ذرائع بڑھ گئے ہیں مگر تحمل

مصنف: ابرار حسین
تاریخ: 21 جولائی 2026
مثبت سوچ: مومن کی وہ قوت جو اندھیروں میں بھی روشنی تلاش کر لیتی ہے

انسان کی زندگی کو اگر قریب سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی کامیابی یا ناکامی صرف اس کے حالات سے متعین نہیں ہوتی، بلکہ اس سے کہیں زیادہ اس زاویۂ نگاہ سے وابستہ ہوتی ہے جس

مصنف: ابرار حسین
تاریخ: 16 جولائی 2026
خود اعتمادی: وہ قوت جو ایمان سے جنم لیتی ہے

خود اعتمادی: وہ قوت جو ایمان سے جنم لیتی ہے تاریخِ انسانی کا مطالعہ اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ بڑے کارنامے ہمیشہ غیر معمولی وسائل رکھنے والوں نے انجام نہیں دیے، بلکہ اکثر وہ لوگ زمانے کا رخ

مصنف: ابرار حسین
تاریخ: 16 جولائی 2026
عالمہ کا کردار: درس گاہ سے معاشرے تک

مسلم معاشرے کی تعمیر میں اہلِ علم کا کردار ہمیشہ بنیادی رہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی امت کو فکری، اخلاقی یا سماجی چیلنجز کا سامنا ہوا، رہنمائی کے لیے اہلِ علم ہی کی طرف رجوع کیا گیا۔

مصنف: اقراء شریف
تاریخ: 15 جولائی 2026