Bakhti Rahman
PHD Scholar:International Islamic University Islamabad.
E-mail:[email protected]
Abstract:
This article examines the Shariah (Islamic legal) status of advertising and explores
the historical evolution of promotional practices from early human societies to the
contemporary digital era. It analyzes how the Qur’an, Sunnah, classical jurists, and
contemporary fatwas address issues such as truthfulness, consumer protection,
transparency, and the ethics of persuasion. The study highlights the transition of
advertising from simple market announcements in pre-modern societies to highly
sophisticated media-driven campaigns in the modern world. By situating
advertising within the broader principles of Islamic commercial ethics—such as
avoiding deception, fraud, exploitation, and false claims—the article offers a
comprehensive framework for evaluating current advertising practices. The
research concludes that while advertising is permissible in Shariah, its legitimacy
depends on adherence to ethical guidelines rooted in honesty, fairness, public
welfare, and moral responsibility.
Keywords:
Advertisement, Ethical Marketing, Digital Media Advertising,Islamic Jurisprudence, Public.
اشتہارات آج کے دور کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی مانند حیثیت رکھتی ہے ۔کیونکہ جو بھی نئی چیز مارکیٹ میں آجاتی ہیں فوری طور پر اس کی تشہیر کرکے لوگ آگاہ کئے جاتے ہیں ۔اور اس طریقے میں لوگوں کے لیے آسانی بھی ہے کہ گھر کے چوکٹ کے اندر ہر ضرورت پورا کر سکتا ہے ۔کاروبار باہمی تعاون ہی کی بدولت رواں دواں ہے ،اشتہار (تشہیر)اسی تعاون کی حصول کی ایک بہترین ذریعہ ہے ۔بغیر اشتہارات کے کاروبار کما حقہ ترقی نہیں کرسکتا کیونکہ اس کے بغیر ضرورت مند لوگ اپنے ضرورت کے اشیاء کے فراہمی سے واقف نہیں ہو سکتے اور نہ ہی تجارتی کمپنیاں وسیع پیمانے پر اپنی پراڈکٹ فروخت کر سکتی ہیں ،اس لئے کہ جب لوگوں کو چیز کے فراہمی اور مارکیٹ میں موجود ہونے کا علم نہ ہو وہ کیسے پھر اس چیز کو خریدں گے یا اس کے خریدنے پر آمادہ ہوں گے؟ اس مقصد کے حصول میں تشہیر اور اشتہارات کا بنیادی کردار ہیں ۔اور اس مقصد کی حصول کے لئے عام طور پر ،بینرز،سائن بورڈ ز،ریڈیو،انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، اخبارات اور رسائل کا استعمال ہوتا ہے۔
اشتہار کی لغوی تحقیق
اشتہار کا معنی ،شہرت ،مشتہری،اعلان ،نوٹس ۔اطلاع عام یا وہ کاغذ جس پر کسی امر کا اعلان ہو اور یہ لفظ اشتہار عربی گرامر کے ثلاثی مزید فیہ کے باب افتعال سے ہیں اور اس کا مادہ اصلی ،ش،ھ،ر، ہے اگر یہ مادہ ثلاثی مجرد سے فعل کے طور پر آجائے تو اس کے معانی اعلان کرنا اور پھیلانا کے آتے ہیں اوراگر یہ سیف یعنی تلوار وغیرہ کی طرف متعدی ہوجائے تو اس کا معنی ہوگا تلوار وغیرہ کو ہلانا اور اسے بلند کرنا اور اگر یہی لفظ بطور اسم استعمال کیا جائے تو اس کا معنی ہیں، مہینہ اور سال کے بارہ حصوں میں سے ایک حصہ،۔ اگر یہ مادہ باب افتعال سے ہو تو اس کا معنی ہیں ،کسی چیز کا خود بخود پھیلنا ۔ اگر یہی مادہ شھر باب تفعیل سے آئے تو پھر اس کا معنی مشہور کرنے ،شہرت دینے اور اڈنڈورا پیٹنے اور بدنام کرنے اور رسوا کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہیں ۔عربی زبان میں تشہیر کے لیے اعلان کا لفظ استعمال ہوتا ہیں اور اس کا معنی ہیں المجاھرہ اور اس پر دلیل امام مالک کا قول ہے "و قال مالک لیست بشرط و انما الشرط ھو الاعلان یعنی امام مالک کے نزدیک نکاح میں اعلان شرط ہیں ۔معجم مقایئس اللغۃ کے مطابق "شھر” کے لغوی معنی یہ ہے :”(شھر) الشین والھاء والراء یدل علی وضوح الامر "
"ش،ھ،ر کا مادہ کسی معاملے کی وضاحت پر دلالت کرتا ہے ” ۔اور مصباح الغات میں
یہ مادہ جب یعنی شھر ،یشھر (باب فتح) سے آجائے اس کا معنی ہوگا مشھور کرنا اور جب باب مفاعلہ سے شاھر یشاھر مشاھرة ماہواری پر معاملہ کرنا اور جب یہ الشھرة کے وزن پر مصدر آجائے تو معنی ہیں شھرت ،برائی میں مشہوری ،رسوائی،اور اس بات پر دلیل ایک حدیث ہے جس میں شہرت کا لفظ آیا ہیں اور وہاں بھی مشہوری کا معنی مراد ہیں۔
” من لبس ثوب شهرة في الدنيا , البسه الله ثوب مذلة يوم القيامة "
"جو شخص دنیا میں شہرت کا لباس پہنے گا اللہ تعالی اس سے قیامت کے دن ذلت کا لباس پہنائے گا "۔اسی طرح اشتہار کے لئےانگریزی زبان میں ADVERTISEMENT) )کا لفظ استعما ل کیا جاتا ہیں ۔ اسی طرح قرآن پاک نے "علن "مادہ اور اس کے مشتقات کو سولہ (۱۶)مقامات میں استعمال فرمایا ہے اور سب مقامات میں اس مادے کو خفاء ،اسرار کے مقابلے میں ذکر کیا ہے ۔ان میں سے صرف دو جگہ مندرجہ ذیل ہے ۔
۱-قوله تعالی "ربنا إنَّك تعلم ما نخفي وما نعلن”
۲-"قوله تعالی (واالله يعلم ما تسرون وما تعلنون”
اشتہار کی اصطلاحی تعریف
اس کی مختلف جہتوں سے مختلف تعریفات کی گئی ہیں جس نے جس انداز سے دیکھ لیا اس نے اس کی تعریف اس جہت سے کی لہذا اشتہار کی اصطلاحی تعریف درج ذیل ہیں ۔
"Advertising is the placement of announcements and messages in time or space by business firms, nonprofit organizations, government agencies, and individuals who seek to inform and or persuade members of a particular target market or audience regarding their products, services, organizations or ideas.”
”اشتہارات کاروباری فرموں ،تنظیموں،سرکاری ایجنسیوں اور ایسے افراد کے زریعہ اعلانات اور پیغامات کی جگہ ہیں جو کسی خاص ٹارگٹ مارکیٹ یا سامعین کو ان کی مصنوعات ،خدمات،تنظیموں ،یا خیالات کے بارے میں مطلع اور یا قائل کرنا چاہتے ہیں ۔”
گاڈنر کے مطابق
"اشتہار ات بڑے پیمانے پر فرخت کا زریعہ ہے جو بڑے پیمانے پر پیداوار کے ساتھ متوازی بڑھ گیا ہے اور اسے ضروری بنا دیا گیا ہے
"تشہیر فروخت کا فن ہیں ،تکنیک ہےطریق عمل ہے ،تشہیر صحیح معنوں میں کاروبار کے لئے معاونت ہے جو خرید نے والے اور فروخت کرنے والے کویکجا کرتی ہے ،تشہیر ذیادہ لوگوں کو کم قیمت پر اچھے اشتہار مہیا کرنے میں مدد دینے کا نام ہے”
مطلب یہ ہے کہ اشتہارات نے کاروبار میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت اختیار کی ہے اور اپنے ان گنت فائدوں کے ساتھ فروخت کرنے والے اور خریدنے والے کو اکھٹا کرنے کا بہترین ذریعہ ہے ۔
اشتہارات کی خصوصیات:
کمر شل کی سادگی
اشتہار میں موجود مواد اس طرز پر ہو کہ سامعین کو آسانی سے سمجھ میں آسکتا ہو اور اس کے مواد کا سادہ ہونا اس کے مقبولیت میں اضافہ کا باعث ہوگا کیونکہ اشتہار کے مواد جتنے سادہ اور آسان ہوگا اتنا ہی لوگ اس کو قبول کریں گے ۔اور اس کے ساتھ ہی تجارتی اشتہارات اپنے مواد کےساتھ ایماندار ہو جب اشتہار اس صفت کے ساتھ ہوگا تو صارفین کے رجہانات پر ایک اچھا اور مثبت اثر چھوڑے گا جو کہ بہت فائدے کی حامل بات ہے ۔اسی طرح اشتہار اگر مبہم ہو اور عام فہم نہ ہو تو دیکھنے والے کو دھوکہ میں ڈال سکتا ہے جو بعد میں اس کے لئے پریشانی کا سبب بنتا ہے
اشتہار کی مدت
اشتہار کی مدت کا بھی صارفین کے رویے پر اثر ڈال سکتی ہے کہ کن اوقات اور موسم میں اشتہار کے مثبت نتائج آسکتے ہیں تو ان لمحات میں اشتہار کو نشر کرنا ذیادہ فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہیں ۔ اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بات قابل توجہ ہے کہ اشتہار پرکشش ہو کہ لوگ اس کو محسو س کریں اور اس پر سوچیں اور غور کریں ۔
تجارتی اشتہارات کا شرعی حکم
تجارتی اشتہارات تو شرعا جائز ہے جیسا کہ پہلے اس پر تذکرہ ہوا کہ اصل اشیاء میں اباحت ہے جب تک حرمت پر کوئی شرعی دلیل نہ ہو اور قرآن میں بھی اللہ تعالی کا ارشاد ہے
"و ما جعل علیکم فی الدین من حرج ” "اور تم پر دین کے معاملے میں کوئی تنگی نہیں رکھی ” لیکن اس بات کے باوجود دوسرے فقہی مسائل اس سے متاثر ہو سکتے ہیں جو کہ درج ذیل ہیں :لازمی اشتہارات
قرآن پاک کی ترویج و اشاعت اور ایسے زرائع کی تشہیر جس کی بدولت امت مسلمہ کو استحکام ملتا ہے جیسا کہ تعلیمی اشتہارات وغیرہ،وبائی امراض سے بچاؤ کے لے عوام الناس کو خبر دار کرنا ،یا قدرتی آفات ،سیلاب وغیرہ سے لوگوں کو متنبہ کرنا جن سے عوام کی حفاظت ہوتی ہو ایسے اشتہارات کو شائع لازمی اور ضروری ہیں۔
مندوب اشتہارات
وہ تشہیر جس میں کسی مندوب (مسنون) چیز یا عمل کا اشتہار کیا جائے مثلا مسواک وغیرہ جو ہمارے پیارے پیغمبر حضرت محمد ؐ کی سنت ہیں ۔اسی طرح روزمرہ استعمال کی اشیاء کا اشتہار تاکہ لوگ ضروریات زندگی سے باخبر رہے اور ساتھ تجار کو بھی فائدہ ملے۔
حرام اشتہارات
یہ اشتہارات کی ان اقسام میں سے ہیں جن میں حرام اشیاء کی تشہیر کی جاتی ہے ،مثلا عریاں عورتوں کی تصاویر ،منشیات،شراب ،جادو ٹوٹا کی اشتہارات،اسی طرح مردوں کے لئے ریشم اور سونے کے زیورات اور چاندی کے برتن وغیرہ،حالانکہ ان اشیاء کے استعمال سے حدیث میں صریح ممانعت موجود ہیں ۔اور حرمت کی دلیل یہ ہے:
"و ان النبیﷺ نھانا عن الحریر والدیباج والشرب فی آنیۃ الذھب والفضۃ،و قال :ھن لھم فی الدنیا و ھن لکم فی الآخرۃ"
"اور بے شک نبی پاک ؐ نے ہمیں منع فرمایا دیباج اور ریشم سے اور سونے اور چاندی کے برتن میں پینے سے ،اور فرمایا ” یہ سب ان کے لئے دنیا میں ہیں اور تمھارے لئے آخرت میں ہیں "
مکروہ اشتہارات
یہ اشتہارات کی ان اقسام میں سے ہے کہ ان میں کسی مکروہ امر کی اشاعت ہوتی ہے مثال کے طور پر کوئی شخص باہیں ہاتھ سے کھاتا یا پیتا ہوا دکھایا گیا ہو۔حدیث پاک میں رسول اللہؐ نے فرمایا ہیں:
"قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا یأکلنّ أحدکم بشمالہ ولا یشربن بھا فإن الشیطان یأکل بشمالہ ویشرب بھا”
” تم میں سے کوئی شخص بائیں ہاتھ سے کھانا نہ کھائے اور نہ بائیں ہاتھ سے پیے کیونکہ یہ شیطان کا شیوہ ہے کہ وہ اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے اور بائیں ہاتھ سے پیتا ہے ۔”
مباح اشتہارات
یہ اشتہارات کی ان اقسام میں سے ہے کہ ان میں کسی حرام یا مکروہ امر کا تشہیر نہیں کیا جاتا بلکہ تاجروں کے لئے منافع بخش بھی ہے اور شرعی اصول کے عین موافق ہوا کرتے ہیں لھذا ایسی اشتہارات جو بے حیائی ،عریانی ،اور دوسرے عیوب سے پاک ہو اور تعمیر کا باعث ہو بمقابلہ تخریب کے اور بھلائی پھیلانے کا زریعہ ہو بمقابلہ برائی تو ان اوصاف کے حامل اشتہارات اور تشہیر مباح کے زمرے میں شامل کیا جائے گا ۔
اشتہاری اخلاقیات
تشہیر کا اصل مقصد صارفین کو اپنی نئی پراڈکٹس اور مصنوعات اور خدمات سے خبردار کرنا اور انہیں قائل کرنا ہوتا ہے ۔لھذا اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ وہ قواعد پر عمل نہ کرے اور ہر قسم خشک و یابس کو بھی تشہیر میں ملائے بلکہ کچھ حدود ہے ان کے اندر رہ کر اور ان کا التزام نہایت ضروری ہیں ۔
اخلاقی ایمانداری
جو بھی ڈیٹا یا فراہم کردہ معلومات ہو وہ سچائی پر مبنی ہو کیونکہ اکثر کمپنیوں اور ایجنسیوں کی فراہم کردہ معلومات میں درج ذیل کمزوریاں پائی جاتی ہیں۔
مبالغہ آرائی
کچھ مشتہرین اپنی پراڈکٹ کی تشہیر میں مبالغہ آرائی سے بھی کام لیتے ہیں ،مثلا ٹوتھ پیسٹ کہ اس کے استعمال کا مطلب ہے "کوئی گہا نہیں :”گہا نہیں ،اس کے علاوہ اگر کوئی چیز بہت ساری اوصاف کے ساتھ متصف بھی ہو تو تشہیر کرتے وقت صرف حقیقت حال کے بیان کرنے پر بس نہیں کیا جاتا بلکہ خوب اس کو بڑھا چڑھا کر اس کو پیش کیا جاتا ہے ،جو کہ مبالغہ آرائی کے حدود میں داخل ہوجاتا ہے اور بات حقیقت سے باہر نکل جاتی ہے۔جبکہ شریعت کا مزاج اس کے برعکس ہے کہ کسی چیز کو اس کے اصل سے اٹھا کر اوپر رکھا جائے اور یہ قاعدہ بھی ہے (وضع الشیء فی غیر محلہ ظلم )کسی چیز کو اپنے مقام سے اٹھا کر دوسری جگہ رکھنا ظلم ہے بلکہ ہر چیز کو اپنے مقام و مرتبے پر رکھنے کا حکم ہے ۔حدیث پاک میں بھی اس پر تذکرہ موجود ہے ،چنانچہ حضرت مطرف بن عبد اللہ اپنے والد ماجد سے روایت کرتے ہیں کہ میں بنی عامر کے ایک وفد کے ہمراہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ،ہم نے آپﷺ پر سلام کیا ،سلام کے بنو عامر کے لوگوں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ؐ !آپ ؐ ہمارے والد ہیں ،ہمارے سردار ہیں ،ہم پر بہت مہربانی اور سخاوت کرنے والے ہیں ،آپﷺ نے ارشاد فرمایا :
"قولوا بقولکم لا تستھوینکم الشیاطین”
"اپنی بات کہو ،کہیں شیطان تمہیں راہ راست سے نہ ہٹائیں”۔
اس حدیث پاک کی مذاج سے معلوم ہوا کہ کسی چیز کی تعریف میں حد سے تجاوز کرنا اور مبالغہ آرائی کرنا گمراہی اور بے راہ روی کا سبب ہے۔لھذا ہمیں بھی تشہیر کرتے وقت ان رہنماء اصول کی پابندی کرنی چاہیے۔اسی طرح ابو ہریرہ ٖ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : "لا تناجشوا”نجش (دھوکہ اور فریب ) نہ کرو ” اس کے تشریح میں علامہ ابن اثیر ؒ فرماتے ہیں :
"لا تناجشوا: النجش فی الاصل : المدح و الاطراء ،والمراد بہ فی الحدیث اللذی ورد النھی عنہ : انہ یمدح السلعۃ، و یزید فیھا و ھو لا یرید ھا لیسمعہ غیرہ فیزیدہ ،و ھذا خداع محرم"
"نجش کا معنی ہے تعریف اور مبالغہ آرائی ،جس حدیث میں نجش سے ممانعت آئی ہے اس سے مراد یہ ہے کہ اشیاء کی تعریف میں مبالغہ کیا جائے اور خود نیت اس کی خریداری کی نہ ہو بلکہ دوسروں کو سنانا مقصود ہو تاکہ وہ اس کو مہنگا خریدیں اور یہی دھوکہ اور حرام ہے "اس سے ثابت ہوا کہ کسی پراڈکٹ کی تعریف میں مبالغہ آرائی اور حدود سے تجاوز کرنا شرعا ناجائز اور شریعت کے خلاف ہے ۔
مشہور اشخاص کا غلط استعمال
تشہیر کے دوران کچھ اشتہار مشہور شخصیات کا استحصال کرتے ہے اور یہ اس وجہ سے کرتے ہیں کہ سامعین کو ہمدردی اور ان مشہور اشخاص کی نقل پر مجبور کرے اور اس دکھائی ہوئی پراڈکٹ کے استعمال اور اس کے خریدنے پر اس کو آمادہ کرے حالانکہ حقیقت میں اس شخص نے اس چیز کو استعمال نہ کیا ہو ۔جس طرح آج کل کے دور میں ہر جگہ نمایاں نظر آتا ہے کہ اکثر جگہوں میں مشہور اشخاص کے ہاتھ میں کوئی پراڈکٹ پکڑا نظر آتا ہے ۔
جعلی چھوٹ
بعض اوقات پراڈکٹس کی معیار اور فروختگی کی مقدار بڑھانے کے لئے یہ طریقہ اپنایا جاتا ہے جیسا کہ "دو کے لئے ادائیگی کریں اور تیسرا مفت حاصل کریں "یا ڈبے میں کوئی اور چیز مثلا صابن یا ٹوتھ پیسٹ کا ڈبہ رکھنا یہ بھی اخلاقی نطقہ نظر سے درست نہیں ۔
جھوٹ کا استعمال
بعض اوقات اشتہارات میں اکثر باتیں جھوٹی ہوتی ہے اور اسلام نے ہمیں ہر آن ہر سیکنڈ اور ہر گڑھی سچ بولنے کی طرف بلایا ہے اور جھوٹ بولنے سے منع فرمایا ہے اور اس عمل سے نفرت بھی دلائی ہے ،کیونکہ قرآن پاک میں بھی جھوٹ بولنے ممانعت آئی ہے۔
"فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْر"۰
"لہذابتوں کی گندگی اور جھوٹ بات سے اس طرح بچ کر رہو”
تشہیر شریعت کی نظر میں
تشہیر کاروبار کی اشاعت کا ایک بہترین اور لازمی حصہ ہے اور دور حاضر میں یہ ایک کامیاب کاروبار کی صورت اختیارکر چکی ہے اور اس کا تعلق چونکہ کاروباری لین دین اور بیع و شراء سے ہیں اس لئے کا شرعی حیثیت جاننا ضروری ہیں ۔
تشہیر کا تعلق عام طور پر معاملات کے ضمن میں ہونے کی وجہ سے اس کا حکم مباح اور جواز کا ہے جب تک کہ اس کی حرمت پر کوئی دلیل پیش نہ کی جائے جس طرح قرآن میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے ۔
"وَقَدْ فَصَّلَ لَكُم مَّا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ "
” حالانکہ اس نے وہ چیزیں تمہیں تفصیل سے بتا دی ہیں جو اس نے تمہارے لیے (عام حالات میں) حرام قرار دی ہیں"۔
اس آیت مبارکہ سے شریعت کے ایک قاعدہ کلیہ ثابت ہوا کہ جس چیز کی حرمت پر کوئی دلیل نہ وہ وہ حلال ہوگا یعنی حرمت پر دلیل کے نہ ہوتے ہوئے و ہ چیزاباحت پر باقی رہے گا ۔ اسی طرح قرآن میں ایک اور جگہ ارشاد ہے۔
"قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ”
” کہو کہ : آخر کون ہے جس نے زینت کے اس سامان کو حرام قرار دیا ہو جو اللہ نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کیا ہے اور (اسی طرح) پاکیزہ رزق کی چیزوں کو "؟
اور اسی طرح شریعت مقدسہ میں یہ بنیادی اصول ہیں کہ
(الاصل فى الاشىاء الاباحة)
چیزوں میں اصل اباحت ہیں یعنی جواز ہیں ۔ معاملات میں اصل جواز اور اباحت ہے اور حرمت کے لئے نص کی ضرورت ہیں اور یہ تشہیر بھی ان امور میں شامل ہے کہ
شریعت کی رو سے اس پر کوئی اعتراض نہیں البتہ اگر شرعی حدود کو عبور کرکے آگے چلا جائے پھر ناجائز ہوجا تا ہے اب ان دلائل کا تزکرہ کیا جاتا ہیں جن سے تشہیر کی جواز ثابت ہوتی ہیں ۔
قرآن پاک سے دلائل
"وَأَحَلَّ اللَّـهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا”
"حالانکہ اللہ تعالی نے بیع کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام قرار دیا ہے"
مذکورہ آیت سے یہ بات ثابت ہوتی ہیں کہ بیع فی نفسہ ایک جائز اور مباح عمل ہیں اب بیع اور اس کے دیگر صورتوں پر حرام کا حکم لگانے کے لئے دلیل کی ضرورت ہیں اور کاروباری تشہیر بھی اسی کے ضمن میں آتا ہیں کیونکہ آجکل کے موجودہ دور میں تشہیر نے مستقل کاروباری شکل اختیار کی ہیں۔ اسی آیت کے ذیل میں علامہ قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” مذکورہ آیت اس بات پر دال ہے کہ بیع عمومی طور پر مباح اور جائز ہے اس پر اور اس کے دیگر صورتوں پر حرمت کا حکم لگانے کے لئے دلیل کی ضرورت ہیں "۔اسی طرح شروع ہی سے اشتہارات تاجروں کی ضرورت رہی اور اس کے بہت سارے مثبت پہلوں بھی ہے اس وجہ اسلام نے بھی اس پر بابندی عائد نہیں کی اور اللہ تعالی قرآن مجید میں فرماتےہیں
” وَ مَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍؕ "
" اور تم پر دین کے معاملے میں کوئی تنگی نہیں رکھی”
اگر شریعت اشتہار کو ممنعوع قرار دیتے تو تاجر لوگوں کو کتنا مشکل ہوتا اور وہ کیسے لوگوں کو اپنی پراڈکٹس سے خبردار کرتے اور بالخصوص آجکل کےاس جدید دور میں جو کہ میڈیا کا دور ہے تو کتنا پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا جو کہ سب اپنی مصنوعات کی ترویج اسی اشتہار سے کرتے ہیں اور لوگوں کو کیسے مصنوعات کا معلوم ہوتا کہ یہ چیز مارکیٹ میں موجو د ہیں۔اسی طرح تشہیر کے جواز پر امت کا اجماع ہے جیسا کہ مسلمان تاجر بازاروں میں اپنے سامان کی فروختگی کے لئے آواز لگاتے تھے اور مسلمان علماء میں سے کسی نے اس پر نکیر نہیں کی اور اسی طرح احادیث کے ضمن میں بھی اس کی ذکر ملتی ہے جیسا کہ دلال ،منادی اور پھر اس کے متعلق فقہی احکام کا تذکرہ اور ان لوگوں کی اجرت کا مسئلہ تو اس سے تشہیر کی
جواز کا علم ہو جاتا ہے ۔
اشتہارات کا ارتقائی پس منظر
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ تشہیر کا فن انسانی تہذیب کی طرح ایک قدیم فن ہے اور اس کا انسانی زندگی کے ساتھ اور اس کے ضروریات کے ساتھ ایک قوی تعلق ہے ،جب سے بنی نوع انسان نے اس زمیں پر قدم رکھا اور آپس میں لین دین اور خرید و فروخت کرنے لگے تو وہاں سے تشہیر کا آغاز اور ابتدا ء بھی ہوا ۔اور یہ بات بھی معلوم ہے کہ قدیم یونانیوں کی زندگی میں غلاموں کا ایک خاص مقام تھا یا یوں کہا جا سکتا ہے کہ کہ یونانیو ں کی زندگی اور ضروریات کا انحصار غلاموں پر تھا اور اس دور کو غلاموں اور آقاؤں کے نا م سے بھی جانا جاتا ہے اور اس دور میں انسانی ضروریات کا مکمل دارومدار زراعت پر تھا جس کے خا طر مویشیوں اور انسانوں کی خدمت کا م آتی تھی ،اور اس دور میں انسانوں اور جانوروں کے لئے باقاعدہ منڈیا لگتی تھی جیسا کہ آجکل ہمارے ہاں جانوروں کی منڈیاں معروف ہے اور جب لوگ کسی انسان یا جانور کو منڈی میں فروخت کرنے کے لئے لاتے تھے تو اس پہلے با قاعدہ اس کی تشہیر کی جاتی تھی اور یہ خدمت مخصوص افراد سر انجام دیتا تھا جو کہ وہ دور دراز علاقوں کے اطراف میں سفر کرتے اور ڈھول بجا کر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے تھے اور ا س کے ساتھ فروخت کنندہ چیز کی اوصاف بھی بیان کرتے تھے ،اور اس طرح نوجوان غلاموں اور حسین لونڈیوں کی فروختگی کے وقت گاہکوں کے سامنے ڈھول بجا نے کے ساتھ ساتھ اشعار بھی کہتے اور ان اشعار میں وہ غلاموں کے اوصاف اور باندیوں کے حسن کے چرچے لگاتے تھے اور یہ طریقہ تشہیر صرف ان دو جنسوں کے لئے مختص نہیں تھا بلکہ اس کے علاوہ ضروریات زندگی کے چیزوں سے لوگوں کو خبر دار کرنے کے لئے بھی یہ استعمال کیا جاتا تھا ۔پس زمانہ گزرتا گیا اور فن تشہیر ترقی وسعت اختیار کرتا گیا یہاں کہ تمام مشرقی ممالک تک یہ پہنچا اور یورپ اور شام کے بازاروں میں بھی باآواز بلند طبلوں کے تھاپ کے ذریعے فروخت کرنے والے مال کی تشہیر کا طریقہ عام ہوا ،پھر آہستہ آہستہ ترقی کا دور ہوتا ہوا تشہیر کا انداز بھی اس کے ساتھ بدلتا گیا لیکن بنیادی کردار وہ آواز لگا کر گاہک کو متوجہ کیا جاتا تھا اسی ہی کو حاصل رہی جیسا کہ آج بھی بڑے شہروں میں ضروریات زندگی کے بارے میں لوگ بلند آواز سے نعرہ لگاتے ہے اور اسی طرح پھیری والے آواز لگا کر اپنی سامان کو فروخت کرتے ہے اسی طرح بازاروں میں حکیم حضرات بھی آواز لگا کر اپنی ادویات سے لوگوں کو خبر دار کرا کہ اس پر فروخت کرتے ہے اور وہ اس قدر عجیب طریقہ سے آواز لگاتا ہے کہ معمولی وقفے میں بے شمار لوگوں کا مجمع اس کے گرد جمع ہوجاتی ہے اور وہ مخصوص انداز میں چند لمحوں
میں اپنی دوائی فروخت کر جاتا ہے ،اسی طرح فلموں کی تشہیر کے لئے بھی یہ طریقہ اپنا یا جاتا ہے اور یہ طریقہ تشہیر گاؤں اور دیہات میں بھی بہت کارآمد ہوتی ہے کیونکہ وہاں کے لوگوں کا اشتہار سے اتنی واقفیت نہیں ہوتی تعلیم کی کمی کی وجہ سے ۔اب یہ طریقہ تشہیر مشرقی ممالک کے علاوہ روم و یونان سے نکل کر تمام یورپ میں پھیل گیا اور یہ آواز لگا نے والا طریقہ لمبے عرصے تک یورپ میں رائج رہا بالخصوص ازمنہ وسطی میں جبکہ وہاں پر ہفتہ وار اور پندرہ روزہ بازار سجتا تھا اور دوکاندار آواز لگا کر لوگوں کو متوجہ کرتے تھے اور اسی طرح پھیری والے حضرات جو سامان کو کندھوں پر رکھ کر جگہ جگہ گھومتے تھے وہ آواز لگا کر اپنا ساما ن فروخت کرتے تھے اور یہ طریقہ تشہیر اس ترقی کے دور میں بھی جاری و ساری ہے ۔
تجارتی نشان کا استعمال
جب کاروبار نے ترقی کی تو ساتھ ساتھ اشتہارات بھی ترقی کے راستوں سے پیچھے نہیں ھٹا اب چونکہ مارکیٹ بہت ساری اشیاء آنے لگے تو ایک مال کا دوسرے مال سے ممتاز کرنے کے لئے مخصوص نشانات کا استعمال ہونے لگا چونکہ دور قدیم میں جو پراڈکٹس تیار کی جاتی تھی وہ ایک محدود علاقے میں فروخت کی جاتی تھی تو مقابلے کا کوئی وجود نہیں تھا مگر جب پیداوار نے تیزی سے ترقی کی اور منڈیوں نے بھی وسعت اختیار کی یہاں تک کہ ایک کمپنی کا تیار شدہ پراڈکٹس دور دور کے علاقوں میں پہنچا تو اس کی وجہ سے تجارتی نشانات نے قومی اہمیت اختیار کرلی اور ایک ایسا دور آیا کہ پراڈکٹس کی بجائے تجارتی نشانات کی تشہیر پر ذیادہ توجہ اور زور دینے شروع ہوا آخر کار نتیجہ یہ ہوا کہ مال کی بجائے مخصوص نشانات دکھا کر فروختگی کا معاملہ وجود میں آیا اور پھر ازمنہ وسطی میں یہ نشانات عمومی طور پر "علامتی ” ہوتے تھے ،روم میں دودھ اور مکھن کی تشہیر کا علامت بکری ہوا کرتا تھا اور آٹے کے دکانوں پر خچر سے چلنے والی چکی کی تصویر لٹکائی جاتی تھی اور اسی طرح سنا ر کے دکان علامت چمکتی ہوئی تلوار ہوا کرتی تھی اور آگے بڑھ کر جب لندن میں سگرٹ کی دکان کا افتتاح ہوا تو اس پر ایک کالے رنگ کے کپڑوں سے ملبوس شخص کا تصویر آویزاں کیا گیا یہ اس بات کے لئے کہ یہ تمباکو جس علاقے سے آتا تھا وہاں کے لوگ کالے رنگ کے تھے ۔
تشہیر کے لئے تحریری طریقہ کا آغاز
برصغیر کے سرزمین پر ستر ھویں صدی میں تشہیر نے ایک نیا طرز اختیار کیا کیونکہ اس وقت لوگ تعلیم میں کافی آگے بڑھ چکے تھے ،تو اس تعلیمی ترقی کو مدنظر رکھتے ہوئے لوگوں نے فن تشہیر کے لئے زبانی اور علامتی طریقوں کو چھوڑ کر تحریری انداز تشہیر کو اپنایا ،لہذا ۱۶۲۲ ء میں ” ویکلی نیوز ” میں
نکولس بورن اور طامس آرچر نے ایک اخبار جاری کرتے ہوئے انھوں نے خبروں کے ساتھ اشتہارات کو بھی اہمیت کا لبادہ پہنایا تو اس کے متصل بعد "ریکوریس بریٹ نیکس ” کے نام پر اخبار شائع ہوا تو اس میں بھی اشتہارات نظر آنے لگے ،یہاں پر یہ بات بھی قابل اضافہ ہے کہ انگریزی کے مشہور انشاء پرداز جوزف ایڈیسن اور رچرڈسٹیل نے بھی اس فن کی طرف توجہ دی ،اس طرح ہوتا ہوا ان دونوں کے رسائل بھی اشتہارات سے مزین ہونے لگے اور ایک مخصوص انداز کے ساتھ بعض اشتہارات کو تیار کرتے تھے اور یہاں پر بھی بس نہیں کیا بلکہ ایڈیسن نے تو اس فن کے کچھ اصول بھی وضع کئے جو کہ وہ قریبا ایک صدی تک ماہرین تشہیر کے لئے نمونہ عمل تھی اور پھر کچھ زمانہ گزرنے کے بعد ان دونوں نے "سپیکٹر ” کے عملے کا حصہ بنے جو کہ وقت موجودہ کا ایک مشہور رسالہ ہوا کرتا تھا اور اس رسالے کے صفحات میں ،چائے ،کافی کتابوں وغیرہ کے اشتہارات نظر آتے تھے اور پھر سترھویں صدی کے اختتام تک انگلستان نے اس فن میں اس قدر ترقی کی راہیں طے کی کہ یہ فن اخبارات کے لئے آمدنی کا ایک بڑا وسیلے کے طور پر نمودار ہوا اور اس اشتہارات نے اخبار ات و رسائل کو اس قدر خود کفیل بنایا کہ وہ حکومت وقت سے بھی ٹکر لینے لینے کے لئے میدان میں اتر آ ئے اور وہ اخبارات بغیر کسی جھجک کے حکومت پر تنقید کرتے تھے ،کچھ مدت تک حکومت نے خاموشی کا سہارہ لیا مگر کچھ عرصہ بعد ۱۷۱۲ ء میں حکومت نے یہ اعلان کیا کہ آج کے بعد جو بھی اخبار بازار میں فروخت ہوگا اس سے حکومت ٹیکس وصول کرے گا لیکن اس اقدام کے باوجود بھی اخبار اس طرح تنقید کرتا رہا اور اشتہارات بھی اس طرح اپنی چمک و دمک کے ساتھ اخبارات میں شائع ہوتے تھے ،بلکہ تشہیر کی ترقی اس قدر بڑھ گئی کہ ایک وزیر کو یہ بات کہنا پڑا کہ تشہیر کے ذریعے عوام کو ہر قسم کی بات کا یقین دلانا ممکن ہے یہاں تک کہ اگر ایک جھوٹی بات کو بھی کئی بار دہرا یا جائے تو لوگ اس کو سچ سمجھتے ہے اور اٹھارہ صدی کے درمیان تک اشتہارات اخباروں کے ہر طرف نظر آنے لگے تو اس وقت مشہور مصنف اور ادیب ڈاکٹر سیموئیل جانسن کو کہنا پڑا کہ "فن اشتہار بازی ‘ نے انتہاء کی حدود کراس کر چکی ہے اور اب آگے ترقی کے لئے دروازے بند ہے اب اس دورمیں تشہیر و اشتہارات نے اتنی ترقی کی کہ اس کو اس بات کے کرنے پر بھی مجبور کردیا پھر یہ سلسلہ یہاں بھی نہ رکا بلکہ مسلسل آگے بڑھ کر ۱۷۸۸ء میں مسٹر جان والٹر نے ” لندن ٹائمز ” کا بنیاد رکھا جو کہ دنیا کے مشہور ترین اخباروں میں سے ایک ہے اور اس کے خصوصیات میں سے یہ بات بھی شامل ہے کہ ضروریات زندگی کے اخبار کے علاوہ خرید و فروخت کے سلسلے میں بھی پیش پیش تھا اور اس کا طرز تشہیر یہ تھا کہ ترتیب وار اشتہارات شائع کرتا تھا جن میں ہر قسم کے اشتہارات شامل ہوتے تھے جیسا کہ کرائے کے لئے خالی گھر ،قابل فروخت اشیاء اور زمینوں کی اشتہارات وغیرہ ،اسی طرح امریکہ میں تشہیر کی شروعات برطانوی دور حکومت سے ہوچکی تھی ۱۷۰۴ء میں امریکہ کاا ولین جامع اخبار
شائع ہوا تھا جو کہ ہر قسم کے اشتہارات پر مشتمل تھا لیکن اس کے باوجود اس فن کو اچھی صورت میں ڈالنے کے لئے پچیس سال کا عرصہ لگا ۔اسی طرح امریکہ کا ایک مشہور شخصیت بنیجا فرینکلن انھوں نے اپنی گزٹ کا اشاعت ۱۷۲۹ ء میں کیا جن میں تشہیر کو مزید اچھے انداز میں پیش کیا اور اس اقدام کے بعد وہ امریکہ میں باوا آدم کے نام جاناگیا اور انھوں نے اپنی اس گزٹ کو تجارتی اشتہارات کے ساتھ ساتھ اپنی ذاتی تجربات سے بھی مزین کرکے لوگوں کے سامنے پیش کیا اور انھوں نے اپنی کوشش اور عمل سے اس گزٹ کو تمام اخبارات پر فوقیت دی اور اس پر بھی بس نہیں کیا بلکہ اس گزٹ میں اشتہارات بھی اخبارات کے مقابلے میں ذیادہ ہوتے تھے اور وہ اخبار کے مدیر ہونے کے علاوہ مواد خود تیار کراکے اور اس کے لئے اشتہارات جمع کرنے کی ذمہ داری بذات خود اٹھاتے تھے اور اس گزٹ میں جھازوں کے اوقات ،کتابو ں ،چائے اور اس کے علاوہ دوسری اشیاء کی اشتہارات شامل ہوتے تھے اور جب یہاں تک چلی کہ برطانوٰی حکومت نے رسالوں اور اشتہارات پر ٹیکس لگایا تو اس کے مقابلے میں بنیجا من سب سے مقدم تھے اور اس نے اس کے خلاف گزٹ کے صفحات بھی وقف کر ڈالے ۔اسی طرح فن تشہیر کے ماہرین میں جارج واشنگٹن کا نام شمار کیا جاتا ہے آپ نے عوام کے لئے اس کی حالت بہتر بنانے کے لئے جنگ آزادی سے پہلے اشتہارات سے بہت کام کیا اور آپ کا لکھا ہوا ایک اشتہار جو کہ ۲۹ جنوری ۱۷۱۹ء میں شائع ہوا تھا جس میں آپ نے نئی مقیم ہونے والوں لوگوں کو اپنی زمینوں پر آباد ہونے کی دعوت دی تھی ،لھذا انیسویں صدی میں پیداور میں مزید اضافہ ہوا تو اس کی بدولت اشتہارات نے بھی اور ترقی کی اور اس ترقی نے اخبارات کو ہر قسم سیاسی اور سرکاری دباؤ سے آزاد بھی کرایا ۔
اشتہاری اداروں کا قیام
اس کے متعلق جو سب سے پہلے خیال کرنے والا جانا جاتا ہے وہ ہے فرانسیسی مصنف مونٹین جس نے سب سے پہلے یہ خیال ۱۵۸۸ء میں عوام کے سامنے پیش کیا کہ جو کوئی کسی چیز کو فروخت کرنا چاہے یا کوئی ملازمت کا متلاشی ہو یا کسی ملک کے سفر کا ارادہ رکھتا ہو وہ اس مقصد کے حصول کے لئے مقرر شدہ ایک افسر سے رجوع کرے تو وہ افسر ان اشیاء کا تلاش کرتا اور سفر کے دلالوں سے رابطے میں رہتا مطلب یہ کہ طرفین کے ضروریات سے با خبر رہتا اور لوگوں کے درمیان رابطہ قائم کرتا تھا اب اس کو جدید معنی کے لحاظ سے اشتہاری ادارے سے تو تعبیر نہیں کر سکتے البتہ ابتدائی صورت سے موسوم کر سکتے ہے اور اس کی ترقی یافتہ صورت میں مل سکتا ہے ۔اسی طرح ۱۸۴۱ء میں وانلے پالیمر نامی شخص نے مختلف اخبارات کے لئے اشتہارات کی فراہمی کا کام شروع کیا اور چار سال کی کم مدت میں اس نے اتنی ترقی کی کہ اس نے بوسٹن اور نیو یارک میں اپنے دفاتر کھول دی اس کی ذمہ داری یہ تھی کہ یہ لوگوں کے لئے ہر قسم کا اشتہار تیا ر کرتا تھا اور اشتہار کا مختلف اخباروں میں چھپوانے کی گارنٹی بھی لیتا تھا اور جو رقم اس کو ملتا تھا ان میں پچیس فیصد اپنے پاس رکھ کر باقی رقم اخبار کو دیتا تھا زمانہ گزرنے کے ساتھ اشتہارات نے اتنی ترقی کی کہ اخباروں کے کالم کم اور اشتہارات ذیادہ ہونے لگے تو پھر جارج روویل نے یہ خیال سوچا کہ اخبارات میں اشتہارات کے لئے مستقل جگہ خرید چاہئے لھذا اس طرح ہوتا ہوا خانہ جنگی کے بعد امریکہ اقتصادی میدان میں بہت آگے بڑھا تو اس کے ساتھ ساتھ فن تشہیر بھی ترقی کے منازل طے کرتا گیا اور ترقی کی وجہ سے نئے نئے پراڈکٹس ایجاد ہوئے اور کارخانہ دار لوگ گاہکوں سے رابطہ بڑھانے کے لئے سوچنے لگے تو اس قصد کی حصول کے لئے عوام کو ہر نئی چیز سے باخبر ہونے کے لئے تشہیر کا سہارہ اپنایا جانے لگا اور اخبارات کے ساتھ ساتھ گشت کرنے والے گروہ بھی بنائے گئے جو دور دور کے علاقوں میں جا کر اشیاء کی تشہیر کرتے ،تو اس کے بعد فلم ،ریڈیو وجود میں آیا تو یہ تشہیر کا ایک اہم زریعہ بنا ۔بیسویں صدی کے شروعات میں پیداوار اس قدر ذیادہ ہوگیا تھا کہ کارخانوں اور کاروباری اداروں کے درمیان شدید قسم کا مقابلہ شروع ہوا جس کی وجہ سے تشہیر کے ڈھانچے نے ایک الگ شکل اختیار کرلی تو آج امریکہ اور دیگر ممالک میں تشہیر وہی اہمیت کا حامل ہے جو اہمیت سرمائے اور دوسرے شعبوں کا حاصل ہے یہاں یہ بات بھی بے جا نہ ہوگا کہ کسی کارخانے وغیرہ کی بنیاد سے پہلے تشہیر کا انتظام پہلے سے کیا جاتا تھا ۔
بیسویں صدی کا آغاز اور برصغیر میں تشہیر
جب بیسویں صدی کا آغاز ہونے لگا تو برصغیر میں صنعتی ترقی اور آگے بڑھی اور تیار شدہ مال دور دراز کے علاقوں کے فروخت کرنے کا المیہ کھڑا ہوا تو فن تشہیر نے نئی اہمیت اپنی دامن میں لپیٹ دی تو برصغیر نے اس ترقی کے خاطر تشہیر کو بھی نئی بنیادوں پر کھڑا کرنے کی ضرورت محسوس کی اور وہ طریقہ جو پہلے سے جاری و ساری تھا وہ آہستہ آہستہ الوداع کہنے لگا اور جوں ہی اخباری صنعت نے ترقی کی تو تشہیر کے لئے نیا زریعہ بھی مہیا کیا اور دوسری جنگ عظیم کے دوران جنگی پروپیگنڈوں کے ساتھ ساتھ تجارتی اداوروں کی تشہیر کے لئے فلمیں بننے نظرآنے لگے ،بڑے بڑے صنعتی ادارے جیسا کی ٹاٹا ،ریلوے وغیرہ نے کلنڈر ،ڈائریاں بھی چاپ کر تقسیم کی اور پھر تیسرے عشرے کاروباری لوگوں کی تعاون سے ایک سپیشل ریل چلائی گئی جو لوگوں کو صنعتی ترقی سےخبردار کرتے تھے ۔
خلاصہ:
تشہیر انسانی سماج کا قدیم حصہ رہی ہے۔ جو ابتدا میں صرف معلومات کی ترسیل تک محدود تھی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ تجارت، معیشت اور ابلاغ کا اہم ترین ذریعہ بن گئی۔ جدید دور میں اشتہار بازی نے نہ صرف معاشی سرگرمیوں کو تیز کیا بلکہ خریداروں کے رجحانات، ترجیحات اور خریداری رویّوں پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ اس ارتقائی
سفر کے دوران اشتہارات کے مثبت اور منفی پہلو دونوں نمایاں ہوئے ہیں، جن میں سچائی، دیانت، مبالغہ، صارف کا استحصال، اور غیر اخلاقی ترغیب جیسے مسائل قابلِ توجہ ہیں۔
اسلامی نقطۂ نظر سے تشہیر مکمل طور پر ممنوع نہیں؛ بلکہ شریعت نے تجارت و اعلان کے اصول واضح کر دیے ہیں۔ قرآن و سنت کی روشنی میں اشتہار اُس وقت جائز اور مفید قرار پاتا ہے جب وہ جھوٹ، دھوکا، غلط بیانی، چھپاؤ، فریب اور صارف کے استحصال سے پاک ہو۔ فقہا نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ تشہیر میں صداقت، شفافیت اور امانت بنیادی اخلاقی تقاضے ہیں۔ جدید میڈیا، خصوصاً ڈیجیٹل تشہیر، نے نئے چیلنجز پیدا کیے ہیں جن کا شرعی و اخلاقی تجزیہ ضروری ہے۔
یہ مقالہ نہ صرف اشتہار کے تاریخی ارتقا کو واضح کرتا ہے بلکہ اس کے موجودہ تقاضوں کو اسلامی اصولوں کی روشنی میں پرکھتا ہے۔ اس نتیجے پر پہنچا گیا ہے کہ اشتہار اپنی اصل میں مباح ہے، لیکن اس کی شرعی حیثیت کا انحصار مکمل طور پر اس کے مواد، انداز اور مقاصد کی صداقت و اخلاقیات پر ہے۔
نتائج
شرعی اصولوں کے مطابق صارف کا استحصال، جھوٹی تعریف، غلط اعداد و شمار اور انسانی کمزوریوں کو استعمال کرنا ناجائز ہے۔
اسلام میں تشہیر بذاتِ خود جائز ہے، بشرطیکہ اس میں جھوٹ، دھوکا اور مبالغہ شامل نہ ہو۔
اشتہار کا ارتقا بتاتا ہے کہ قدیم ابلاغی ذرائع سادہ اور معلوماتی تھے، مگر جدید دور میں تشہیر میں مسابقت اور تجارتی دباؤ کی وجہ سے بے اعتدالیاں بڑھ گئی ہیں۔