پاکستانی معاشرہ اس وقت ایک عجیب فکری اور سماجی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک طرف جدید دنیا کی تیز رفتار تبدیلیاں ہیں، جنہوں نے انسان کی سوچ، ترجیحات اور طرزِ زندگی کو بدل کر رکھ دیا ہے، اور دوسری طرف دینی طبقہ ہے جو صدیوں پر محیط علمی روایت کا امین ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس علم کی کمی ہے، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے علمی سرمایہ اور عصرِ حاضر کے تقاضوں کے درمیان ایک واضح خلا پیدا ہو چکا ہے۔ یہی وہ خلا ہے جس نے معاشرے میں فکری انتشار، مذہب کے بارے میں غلط تعبیرات، اور نوجوان نسل میں دینی بیگانگی کو جنم دیا ہے۔
ایسے وقت میں یہ سوال غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ پاکستان کا عالمِ دین صرف مسجد کے محراب و منبر تک محدود کردار ادا کرے گا یا وہ معاشرے کی فکری و سماجی رہنمائی کا مرکزی ستون بھی بنے گا؟ حقیقت یہ ہے کہ آنے والا زمانہ صرف واعظ پیدا کرنے کا نہیں بلکہ ایسی “علمی قیادت” تیار کرنے کا متقاضی ہے جو روایت اور جدت کے درمیان ایک مضبوط پل بن سکے۔
اسلامی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ امت کے علماء نے ہمیشہ محض دینی مسائل کے جوابات نہیں دیے بلکہ تہذیبوں کی تعمیر کی ہے۔ امام ابو حنیفہؒ نے تجارت اور فقہ کو ساتھ لے کر ایک فکری نظام دیا، امام غزالیؒ نے فلسفے اور روحانیت کے درمیان توازن قائم کیا، ابن خلدونؒ نے عمرانیات کی بنیاد رکھی، اور شاہ ولی اللہؒ نے برصغیر کے فکری بحران کو علمی بصیرت کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کی۔ ان حضرات کی عظمت صرف اس میں نہیں تھی کہ وہ بڑے عالم تھے، بلکہ اس میں تھی کہ وہ اپنے زمانے کو سمجھتے تھے۔
آج کا مسئلہ بھی یہی ہے۔ اگر عالمِ دین اپنے زمانے کی زبان، اس کے فکری سوالات، اور اس کے سماجی تغیرات سے واقف نہیں ہوگا تو اس کی دعوت کا دائرہ محدود ہوتا جائے گا۔ محض یہ کہنا کافی نہیں کہ “اسلام مکمل ضابطۂ حیات ہے”، بلکہ اس ضابطے کو جدید دنیا کی زبان میں سمجھانا بھی ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج علمی رسوخ کے ساتھ ساتھ فکری بصیرت اور لسانی مہارت ناگزیر ہو چکی ہے۔
ہمارے مدارس نے ہمیشہ علمی روایت کی حفاظت کی ہے، اور یہ ان کا ایک عظیم تاریخی کارنامہ ہے۔ لیکن اب وقت صرف حفاظت کا نہیں بلکہ مؤثر پیشکش کا بھی ہے۔ آج دنیا ایک “گلوبل ولیج” بن چکی ہے۔ افکار سرحدوں کے پابند نہیں رہے۔ سوشل میڈیا، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور مصنوعی ذہانت نے علم کی ترسیل کے طریقے کو مکمل طور پر بدل دیا ہے۔ ایسے میں اگر عالمِ دین صرف روایتی دائرے تک محدود رہے تو وہ معاشرے پر اپنا مطلوبہ اثر قائم نہیں رکھ سکے گا۔
یہاں ایک بنیادی غلط فہمی کو بھی دور کرنا ضروری ہے۔ ٹیکنالوجی محض ایک سہولت نہیں بلکہ عصرِ حاضر کی قوت ہے۔ جس کے پاس علمی مواد کے ساتھ ڈیجیٹل مہارت موجود ہے، وہی آج کے ذہنوں تک پہنچ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب ایک مؤثر عالم وہی ہوگا جو صرف کتابوں کا آدمی نہ ہو بلکہ ڈیجیٹل دنیا کی نفسیات، میڈیا کے اثرات، اور جدید تحقیقی ذرائع سے بھی واقف ہو۔ اگر ایک عالم مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ریسرچ ٹولز، آن لائن پلیٹ فارمز اور میڈیا کمیونیکیشن کو دعوت اور تحقیق کے لیے استعمال کرنا سیکھ لے تو اس کی رسائی مسجد کی دیواروں سے نکل کر عالمی سطح تک پھیل سکتی ہے۔
لیکن صرف علمی اور تکنیکی مہارت کافی نہیں۔ اصل مسئلہ ذہنیت کا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو مسلسل شکوہ، مایوسی اور ردِ عمل کی نفسیات میں مبتلا ہے۔ حالانکہ قرآن کا مزاج امید، تعمیر اور اصلاح کا مزاج ہے۔ ایک حقیقی عالم صرف مسائل کی نشاندہی نہیں کرتا بلکہ راستہ بھی دکھاتا ہے۔ وہ معاشرے کو خوف نہیں بلکہ اعتماد دیتا ہے۔ وہ نوجوانوں کو یہ احساس دلاتا ہے کہ اسلام ماضی کی یادگار نہیں بلکہ مستقبل کی رہنمائی بھی ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی سیرت اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ مکہ کے سخت ترین دور میں بھی آپ ﷺ نے اپنے صحابہؓ کو ناامیدی نہیں سکھائی بلکہ مستقبل کی عظیم فتوحات کی بشارت دی۔ غزوۂ خندق کے موقع پر جب بھوک، خوف اور بے سروسامانی کی کیفیت تھی، اس وقت آپ ﷺ فارس اور روم کے محلات کی فتح کی خبر دے رہے تھے۔ یہ صرف حوصلہ افزائی نہیں تھی بلکہ ایک قائدانہ ذہنیت تھی، جو حالات سے بڑی سوچ رکھتی تھی۔
آج ہمیں اسی ذہنیت کی ضرورت ہے۔ ایسا عالم جو نوجوان کے سوال کو سمجھے، خاندان کے مسائل کو محسوس کرے، اور معاشرے کے انتشار کا حل پیش کر سکے۔ ایسا عالم جو صرف محراب کا امام نہ ہو بلکہ سماج کا مصلح بھی ہو۔
شاید اسی لیے اب دنیا بھر میں مساجد کے کردار پر دوبارہ غور ہو رہا ہے۔ مسجد صرف نماز کی جگہ نہیں بلکہ اسلامی معاشرے کا مرکز رہی ہے۔ نبی کریم ﷺ کی مسجد میں تعلیم بھی تھی، تربیت بھی، مشاورت بھی، سماجی خدمت بھی، اور امت کی فکری رہنمائی بھی۔ اگر آج ہماری مساجد دوبارہ کمیونٹی سینٹرز کا کردار ادا کرنا شروع کر دیں، جہاں نوجوانوں کی تربیت، خاندانی مشاورت، علمی نشستیں اور سماجی اصلاح کے عملی پروگرام ہوں، تو معاشرے میں ایک بڑی تبدیلی پیدا ہو سکتی ہے۔
اصل ضرورت ایک ایسے عالم کی ہے جو اپنے علم کو معاشرے کی تعمیر سے جوڑ دے۔ جس کی گفتگو میں حکمت ہو، فکر میں وسعت ہو، اور شخصیت میں اعتماد ہو۔ ایسا عالم جو صرف مسائل بیان نہ کرے بلکہ حل بھی پیش کرے۔ جو صرف ماضی پر فخر نہ کرے بلکہ مستقبل کی تیاری بھی کرے۔
پاکستان کو آج ایسے ہی علماء کی ضرورت ہے۔ ایسے علماء جو قدیم علمی روایت کے محافظ بھی ہوں اور جدید دنیا کے تقاضوں سے باخبر بھی۔ جو دین کی روح کو سمجھے اور زمانے کی زبان بھی جانتے ہوں۔ کیونکہ جب علم، بصیرت، کردار اور قیادت ایک شخصیت میں جمع ہو جائیں تو پھر وہ صرف ایک خطیب یا مدرس نہیں رہتا، بلکہ ایک عہد ساز انسان بن جاتا ہے۔