تمہید :‑
انسان جسے اللہ رب العزت نے تمام مخلوقات میں اشرف بنایا ہے اپنے حقیقی خالق کی یاد سے غفلت اس کو پستی کا شکار بنا دیتی ہے میرا عنوان اگرچہ خالص دینی ہے لیکن اس کے معاشرے اگر اس کی گہرائی پر غور و خوص کی جائے اور سماج میں گہرے اثرات ہیں
انسان کی زندگی آزمائشوں اور مشکلات سے بھری ہوئی ہے، لیکن قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ بعض پریشانیاں انسان کی اپنی غفلت کا نتیجہ بھی ہوتی ہیں۔ خاص طور پر اللہ کے ذکر سے دوری انسان کو روحانی، ذہنی اور دنیاوی مشکلات میں مبتلا کر دیتی ہے۔ ذکرِ الٰہی نہ صرف سکونِ قلب کا ذریعہ ہے بلکہ زندگی کے مسائل کا حل بھی ہے۔
"ومَن يَعْشُ عَن ذِكْرِ ٱلرَّحْمَـٰنِ نُقَيِّضْ لَهُۥ شَيْطَـٰنًۭا فَهُوَ لَهُۥ قَرِينٌ[1]
( جو شخص رحمان کے ذکر سے غفلت کرتا ہے ہم اس پر ایک شیطان مسلط کر دیتے ہیں پھر وہ اس کا ساتھی بن جاتا ہے)
[2] تو اللہ کی یاد دینی عمل کے ساتھ ساتھ دنیاوی اثرات بھی رکھتا ہے یہی میرے اس آرٹیکل کا اصل منشاء و مراد یہ ہے زندگی گزارنے کے لیے جو اصول و ضوابط قران تعلیمات سے مستنبط ہوتے ہیں یہی دراصل اللہ کی یاد کی
عملی صورت ہے اگرچہ ذکر لسانی اپنا درجہ رکھتی ہے لیکن عملی طور پر قرانی اصول و ضوابط کی پیروی کرنا
ذکرِ الٰہی کا مفہوم
ذکر کا لغوی معنی ہے "یاد کرنا”۔ شریعت میں اس سے مراد اللہ تعالیٰ کو دل، زبان اور عمل کے ذریعے یاد کرنا ہے
"فَاذۡكُرُوۡنِىۡٓ اَذۡكُرۡكُمۡ”[3]
ترجمہ: (تم میرا ذکر کرو، میں تمہیں یاد رکھوں گا)
یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ کا ذکر انسان کو اللہ کی خاص مدد اور رحمت کا مستحق بناتا ہے۔
ذکر سے غفلت کا مفہوم
غفلت کا مطلب ہے اللہ کی یاد سے دور ہو جانا، دنیا میں اس قدر مشغول ہو جانا کہ انسان اپنے رب کو بھول جائے۔
اصل اللہ کی یاد ہے
جس کو اللہ کا حکم سمجھ کر پورا کرتا ہے اور اس کے برکات اور انوارات اپنے عملی زندگی میں محسوس کرتا ہے خدانخواستہ یہی انسان اگر اللہ کے احکامات سے غافل ہے یا ناواقف ہے تو بس یہی وہ سورت ہے جس میں شیطان کا تصدق اس بندے پر واقع ہونا شروع ہو جاتا ہے جس کے بارے میں سورہ زخرف کی ایت اللہ رحمان کی یاد سے غفلت پر شیطان کا تسلط جو ان کا ایسا ساتھی بنتا ہے جو انہیں سیدھے یا درست راستے پر پڑا رفتہ رکاوٹ بن جاتا ہے اور یہ اسی خیال میں رہتا ہے کہ یہ ہدایت یافتہ ہے ذکر اللہ یعنی اللہ کے احکام سے غافل انسان صرف اخروی چوٹ نہیں کا تھا بلکہ اگر یہ خانگی زندگی میں ہے تو ان کا یہ سفر دشوار اور گھٹن سے بھرپور ہے اگر کسی جائز مسئلے میں پریشان ہے تو ان کی پریشانی کا 70 فیصد حصہ کریڈٹ ان کے احکام الہی سے ناواقف کی بنا پر ہے میرٹ لائف میں شادی طلاق اور دیگر امور میں ناواقف احکام الہی اس کی زندگی کو گھٹن سے گھٹن بنا کر رکھ دیتی ہے اور مفہوم ایت کے ان پر شیطان کی حکمرانی ہوتی ہے اور ان کے فیصلوں پر وہ سمجھتا ہے کہ میں ہدایت پر ہوں لیکن وہ شریف گمراہی کی دلدل میں پچھتا رہتا ہے اور اس کی خبر ان کو نہیں ہوتی سوائے کسی بڑے ظاہری نقصان کے
جہاد کے اصل معنی دین میں پیش آنے والی رکاوٹوں کو دور کرنے میں اپنی پوری توانائ صرف کرنے کے ہیں اور اس میں وہ رکاوٹیں بھی داخل ہیں جو کفار و فجار کی طرف سے پیش آتی ہے کفار سے جنگ ومقابلہ اس کی اعلی وصف ہےاور اسمیں وہ رکاوٹیں بھی داخل بھی ہیں جو میرے اس موضوع(اشرف مخلوق کا بھٹکنا ) سے متعلق ہے یعنی جو اپنے نفس اور شیطان کی طرف سے پیش آتی ہے ۔جہاد کی ان دونوں قسموں پر ا س آیت میں یہ وعدہ ہے کہ ہم جہاد کرنے والوں کو اپنی راستوں کی ھدایت کر دیتے ہیں یعنی جن مواقع میں خیر و شر حق و باطل نفع وضرر میں التباس ہوتا ہے عقل مند انسان سوچتا ہے کہ کس راہ کو اختیار کروں ایسے مواقع میں اللہ تعالی اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کو صحیح سیدھی بے خطر راہ بتا دہتے ہیں یعنی ان کے قلوب کو اسی طرف پھیر دیتے ہیں جس میں ان کی خیر و برکت ہو
علم پر عمل کرنا علم میں زیادتی کا باعث ہے
حضرت ابو درداء سے اس آیت کے حوالے سے منقول ہے کہ اللہ کی طرف سے جو علم لوگوں کو دیا گیا ہے جو لوگ اپنے علم پر عمل کرنے میں جہاد کرتے ہیں ہم ان پر دوسرے علوم بھی منکشف کردیتے ہیں جو اب تک حاصل نہیں
ذکرِ الٰہی سے غفلت اور دنیاوی پریشانیاں: قرآن و حدیث کی روشنی میں تحقیقی جائیزہ
ذکر سے غفلت کے اثرات
.1شیطان کا تسلط
جب انسان اللہ کو بھول جاتا ہے تو شیطان اس پر غالب آ جاتا ہے۔
"اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ فَأَنسَاهُمْ ذِكْرَ اللَّهِ”[4]
(ان پر شیطان غالب آگیا تو انہیں اللہ کی یاد بھلا دی)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ ذکر سے دوری انسان کو شیطان کے کنٹرول میں دے دیتی ہے۔
.2دل کا سخت ہو جانا
ذکر کی کمی دل کو مردہ بنا دیتی ہے۔ دل کی سختی انسان کو حق قبول کرنے سے روک دیتی ہے۔
"ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُم”[5]
(پھر تمہارے دل سخت ہوگئے)
. سکونِ قلب کا ختم ہو جانا
قرآن کہتا ہے:
"أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ”
(سن رکھو اللہ کی یاد سے دل مطمئین ہوتے ہیں)
یعنی سکون صرف اللہ کے ذکر میں ہے، اس کے بغیر بے چینی لازمی ہے۔
دنیاوی پریشانیاں اور ذکر سے غفلت
1 معیشت میں مشکلات
ترجمہ: "جو میرے ذکر سے منہ موڑے گا، اس کی زندگی تنگ کر دی جائے گی۔”
یہ آیت واضح ثبوت ہے کہ ذکر سے غفلت دنیاوی تنگی کا سبب بنتی ہے۔
2 ذہنی دباؤ اور ڈپریشن
اگرچہ قرآن لفظ "ڈپریشن” استعمال نہیں کرتا، لیکن بے سکونی، گھبراہٹ اور دل کی تنگی کو بیان کرتا ہے، جو آج کے دور میں ذہنی بیماریوں کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
3 برکت کا ختم ہونا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(جس گھر میں اللہ کا ذکر نہ ہو وہ قبر کی مانند ہے)[6]
یعنی ایسے گھروں میں برکت، سکون اور رحمت نہیں رہتی۔
4 فیصلوں میں غلطی
جب انسان اللہ کو بھول جاتا ہے تو وہ دنیاوی معاملات میں بھی غلط فیصلے کرتا ہے کیونکہ اس کی رہنمائی ختم ہو جاتی ہے۔
5 :‑ رزق میں بے برکتی
ذکر سے دوری رزق میں کمی یا بے برکتی کا سبب بنتی ہے، چاہے بظاہر آمدنی زیادہ ہو۔
احادیث کی روشنی میں ذکر کی اہمیت
- ذکر زندگی ہے
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جو اپنے رب کا ذکر کرتا ہے اور جو نہیں کرتا، ان کی مثال زندہ اور مردہ کی طرح ہے۔”[7] - بہترین عمل ذکر ہے
"کیا میں تمہیں تمہارے بہترین عمل کے بارے میں نہ بتاؤں؟ وہ اللہ کا ذکر ہے۔”[8]
ذکر چھوڑنے کے اسباب
دنیا کی محبت
گناہوں کی کثرت
بری صحبت
مصروف زندگی
دین سے دوری
ذکرِ الٰہی کے فوائد - سکونِ قلب
دل کو حقیقی سکون ملتا ہے۔ - اللہ کی مدد
اللہ خود بندے کا مددگار بن جاتا ہے۔ - برکت میں اضافہ
رزق، وقت اور زندگی میں برکت آتی ہے۔ - پریشانیوں سے نجات
اللہ مشکلات آسان کر دیتا ہے۔
عملی طریقہ
روزانہ تسبیح (سبحان اللہ، الحمدللہ، اللہ اکبر)
قرآن کی تلاوت
صبح و شام کی دعائیں
استغفار کی کثرت
درود شریف پڑھنا
نتیجہ
ذکرِ الٰہی سے غفلت انسان کو دنیاوی اور روحانی دونوں طرح کی مشکلات میں مبتلا کر دیتی ہے۔ قرآن و حدیث واضح طور پر بتاتے ہیں کہ جو شخص اللہ کو بھول جاتا ہے، اللہ اسے اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہے، اور شیطان اس کا ساتھی بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس، جو شخص اللہ کا ذکر کرتا ہے، اس کی زندگی میں سکون، برکت اور آسانی آ جاتی ہے۔
کتابیات (Bibliography)
نمبر شمار
مصنف
کتاب/ رسالہ
ناشر/ادارہ
جائے وسب طباعت
1
شفیع ،مفتی محمد
معارف القرآن
ادارہ معارف
2008ء کراچی
2
الغزالی ،ابوحامد محمد
احیاء العلوم
دارالمعرفہ
1982ء بیروت
3
ابن القیم جوزیہ،محمد بن ابی بکر
مدارج السالکین
دالحدیث
2005ء قاہرہ
4
لدھیانوی محمد یوسف
آپ کے مسائیل اور ان کا حل
مکتبہ لدھیانوی
2001ء کراچی
5
الاصبہانی ، ابونعیم
حلیۃ الاولیاء و طبقات الاصفیاء۔
دارالکتب العلمیہ
1988ء بیروت
6
البخاری محمد بن اسماعیل
صحیح لابخاری
دار السلام
1997ء ریاض
[1] القرآن، سورۃ الزخرف،آیت نمبر۳۶
[2]
[3] القرآن ، سورۃ البقرۃ،آیت ۱۵۲
[4] القرآن، سورۃ مجادلہ ،آیت نمبر۱۹
[5] القرآن، سورۃ البقرہ،آیت نمبر ۷۴
[6] صحیح مسلم ،جلد، صفحہ نمبر
[7] صحیح بخاریِ جلد ، صفحہ
[8] ترمزی شریف