کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ ہم میں سے بہت سے لوگ سوالوں سے نہیں، سوال کرنے والے سے پریشان ہوتے ہیں؟ بچہ کسی بات کی وجہ پوچھے تو ہم کہتے ہیں: ’’بس ایسے ہی ہوتا ہے۔‘‘ طالب علم کسی رائج تصور پر سوال اٹھائے تو اسے بدتمیزی یا گستاخی سمجھ لیا جاتا ہے۔ کوئی نوجوان کسی روایت، طریقۂ کار یا معاشرتی رویے کے بارے میں پوچھ بیٹھے کہ ’’ہم یہ کیوں کرتے ہیں؟‘‘ تو جواب دینے کے بجائے کبھی اسے خاموش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یوں آہستہ آہستہ ایک عجیب صورت پیدا ہوتی ہے: انسان کو معلومات تو بہت مل جاتی ہیں، مگر سوال کرنے کی آزادی کم ہوتی جاتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ بہت کچھ جانتا ہوا بھی بہت سی چیزوں کو سمجھے بغیر قبول کرتا رہتا ہے۔
یہیں سے ہماری گفتگو کا اگلا دروازہ کھلتا ہے۔ اگر انسان دنیا کو صرف آنکھوں سے نہیں بلکہ اپنے ذہنی سانچوں کے ذریعے دیکھتا ہے، اور اگر علم کا اصل کام محض معلومات جمع کرنا نہیں بلکہ ان سانچوں کو درست اور وسیع کرنا ہے، تو پھر ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: ان سانچوں کی اصلاح شروع کہاں سے ہوگی؟ اس کا پہلا جواب ’’سوال‘‘ ہے۔ کیونکہ جس ذہن کو اپنے موجودہ تصور پر کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، وہ اپنے تصور کو حقیقت سمجھ کر اس کے اندر آرام سے بیٹھا رہتا ہے۔
سوال دراصل ذہن کے دروازے پر دستک ہے۔ وہ ہمیں بتاتا ہے کہ شاید جو کچھ میں سمجھ رہا ہوں، حقیقت اس سے کچھ زیادہ وسیع ہو۔ شاید میری معلومات مکمل نہیں۔ شاید جس بات کو میں ہمیشہ سے ایک ہی زاویے سے دیکھتا آیا ہوں، اسے کسی دوسرے زاویے سے دیکھنے کی بھی ضرورت ہے۔ شاید جس نتیجے تک میں بہت جلد پہنچ گیا ہوں، وہاں پہنچنے سے پہلے مجھے کچھ اور دیکھنا چاہیے۔ اس معنی میں سوال جہالت کی علامت نہیں؛ اکثر اوقات اپنی محدودیت کو محسوس کرنے کی علامت ہوتا ہے۔
قرآن مجید کا اسلوب بھی انسان کو ایک ایسے ذہنی رویے کی طرف لے جاتا ہے جہاں غور، تدبر اور تعقل مسلسل حرکت میں رہتے ہیں۔ قرآن بار بار انسان سے پوچھتا ہے: أَفَلَا تَعْقِلُونَ، أَفَلَا تَتَفَكَّرُونَ، أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ۔ غور کیجیے، قرآن انسان کو صرف جواب نہیں دیتا؛ وہ اسے سوچنے والا انسان بھی بناتا ہے۔ کائنات کو دیکھتے ہوئے سوال پیدا ہوتا ہے، تاریخ کو دیکھتے ہوئے سوال پیدا ہوتا ہے، انسانی نفس کو دیکھتے ہوئے سوال پیدا ہوتا ہے، نعمتوں کو دیکھتے ہوئے سوال پیدا ہوتا ہے، اور اپنے انجام کو دیکھتے ہوئے بھی سوال پیدا ہوتا ہے۔ گویا ایمان ایک ایسے ذہن کی تشکیل چاہتا ہے جو حقیقت کے سامنے بیدار ہو، بے حس نہ ہو۔
یہاں ایک غلط فہمی دور کرنا ضروری ہے۔ سوال کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ہر بات کو شک کی نظر سے دیکھے، کسی اصول کو تسلیم نہ کرے یا ہر ثابت شدہ حقیقت کو محض اس لیے دوبارہ مسترد کر دے کہ وہ سوال کرنا چاہتا ہے۔ ایسا ذہن بھی زندہ نہیں ہوتا؛ وہ صرف اختلاف کا عادی ہوتا ہے۔ زندہ ذہن اور ضدی ذہن میں فرق ہے۔ زندہ ذہن سوال اس لیے کرتا ہے کہ حقیقت تک زیادہ درست طریقے سے پہنچ سکے، جبکہ ضدی ذہن سوال کو حقیقت سے بچنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔
اسی لیے سوال کی قدر صرف اس میں نہیں کہ وہ پوچھا گیا، بلکہ اس میں ہے کہ وہ کس نیت، کس علم اور کس طریقے سے پوچھا گیا ہے۔ ایک سوال ایسا ہوتا ہے جو انسان کو حقیقت کے قریب لے جاتا ہے اور ایک ایسا بھی جو محض بحث جیتنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ ایک سوال اپنی کم علمی کو تسلیم کرکے پیدا ہوتا ہے اور ایک سوال اپنے پہلے سے طے شدہ جواب کو ثابت کرنے کے لیے۔ دونوں بظاہر سوال ہیں، مگر دونوں کے پیچھے ذہنی رویہ بالکل مختلف ہے۔
اسلامی علمی روایت میں سوال کی یہ نزاکت بہت اہم رہی ہے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نبی کریم ﷺ سے مختلف امور کے بارے میں سوال کرتے تھے، اور قرآن مجید میں بھی متعدد مقامات پر يَسْأَلُونَكَ کے الفاظ آتے ہیں۔ یعنی سوال انسانی فطرت کا حصہ ہے۔ لیکن وحی نے سوال کو محض تجسس نہیں رہنے دیا؛ اسے ہدایت، فہم اور عمل سے جوڑ دیا۔ سوال کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ انسان حقیقت کو بہتر سمجھے اور پھر اس سمجھ کے مطابق اپنی زندگی کو بہتر بنائے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں سوال اور علم کا تعلق واضح ہوتا ہے۔ جس شخص کے سوال ختم ہوگئے، اس کا علم بھی ایک خاص مقام پر جاکر رک سکتا ہے۔ کیونکہ نئی معرفت اکثر نئی معلومات سے پہلے نئے سوال کی شکل میں آتی ہے۔ انسان پہلے یہ پوچھتا ہے کہ ’’یہ ایسا کیوں ہے؟‘‘ پھر وہ تحقیق کرتا ہے۔ تحقیق اسے کسی نتیجے تک پہنچاتی ہے، اور وہ نتیجہ مزید سوالات پیدا کرتا ہے۔ اس طرح علم ایک بند کمرہ نہیں رہتا بلکہ ایک کھلتا ہوا افق بن جاتا ہے۔
لیکن ہمارے تعلیمی اور معاشرتی ماحول میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ ہم اکثر جواب دینے والے انسان کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں، سوال پیدا کرنے والے انسان کو نہیں۔ امتحان میں عموماً یہ دیکھا جاتا ہے کہ طالب علم نے کیا یاد رکھا؛ کم یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس نے کیا سمجھا، کن سوالات پر غور کیا، کسی مسئلے کو کس زاویے سے دیکھا اور اس کے ذہن میں کون سے نئے سوال پیدا ہوئے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ایک شخص بہت کچھ دہرا سکتا ہے، مگر ضروری نہیں کہ وہ اس علم سے نئی صورتِ حال کو سمجھ بھی سکے۔
یہ فرق خاص طور پر دینی علم کے میدان میں بھی اہم ہے۔ دینی علوم کی عظیم روایت میں حفظ، روایت، نقل، فہم، استدلال اور تطبیق سب اپنی اپنی جگہ اہم ہیں۔ مسئلہ علم حاصل کرنے میں نہیں، مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب علم کی حفاظت کو علم کے مقصد پر غالب کر دیا جائے۔ اگر ایک طالب علم کسی عبارت کو درست پڑھ سکتا ہے مگر یہ نہیں پوچھ سکتا کہ اس علم کا تعلق انسانی زندگی کے کس مسئلے سے ہے، اگر وہ مسئلہ کا حکم جانتا ہے مگر اس کے پس منظر، علت، مقاصد اور معاشرتی اثرات پر غور نہیں کرتا، تو اس کے پاس علم کا ایک حصہ ضرور ہے، مگر علم کی پوری روح نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ بڑے اہل علم کے ہاں سوال صرف ابتدائی مرحلہ نہیں تھا؛ سوال تحقیق کا دروازہ بھی تھا۔ امام غزالی ہوں، ابن خلدون ہوں یا مسلم علمی روایت کے دوسرے بڑے مفکرین، ان کی علمی قوت کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ انہوں نے اپنے زمانے کے مسلمات کو دیکھتے ہوئے یہ پوچھا کہ اس کے پیچھے اصل حقیقت کیا ہے؟ ابن خلدون نے تاریخ کو محض واقعات کی فہرست کے طور پر قبول نہیں کیا؛ انہوں نے پوچھا کہ معاشرے بنتے کیسے ہیں، طاقت پیدا کیسے ہوتی ہے، عصبیت کیا کردار ادا کرتی ہے اور تہذیبیں عروج کے بعد زوال کی طرف کیوں جاتی ہیں۔ سوال نے تاریخ کو محض قصہ نہیں رہنے دیا، اسے انسانی معاشرے کے مطالعے کا میدان بنا دیا۔
یہاں سے سوال کی ایک اور اہم خصوصیت سامنے آتی ہے کہ اچھا سوال صرف معلومات نہیں مانگتا، وہ زاویۂ نظر بدل دیتا ہے۔
مثلاً ایک شخص پوچھتا ہے: ’’مسجد میں نمازیوں کی تعداد کیسے بڑھائی جائے؟‘‘ یہ ایک سوال ہے۔ لیکن کوئی دوسرا پوچھتا ہے: ’’لوگ مسجد سے دور کیوں ہو رہے ہیں، اور مسجد ان کی دینی، علمی، تربیتی اور معاشرتی ضرورتوں سے کس حد تک جڑی ہوئی ہے؟‘‘ دونوں سوال ایک ہی مسئلے کے گرد ہیں، مگر دوسرا سوال مسئلے کی جڑ تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی طرح ایک استاد پوچھ سکتا ہے: ’’طلبہ سبق کیوں یاد نہیں کرتے؟‘‘ لیکن اس سے آگے کا سوال یہ ہے: ’’ہم نے تعلیم کو اس طرح کیوں ترتیب دیا ہے کہ طالب علم کے لیے علم ایک زندہ تجربے کے بجائے صرف امتحان کی تیاری بن گیا ہے؟‘‘
سوال بدلتے ہی مسئلہ دیکھنے کا زاویہ بدل جاتا ہے۔ اور زاویہ بدل جائے تو ممکن ہے حل بھی بدل جائے۔
اسی لیے ایک زندہ معاشرہ وہ نہیں ہوتا جہاں سب لوگ ایک جیسے جواب دیتے ہوں؛ زندہ معاشرہ وہ ہوتا ہے جہاں لوگ درست سوال پوچھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ کیونکہ ہر زمانے کے مسائل ایک جیسے نہیں ہوتے۔ اگر مسائل بدل رہے ہوں اور ہمارے سوال وہی پرانے رہیں تو ہم نئے مسائل کے لیے پرانے جواب استعمال کرتے رہیں گے۔ پھر شکایت یہ ہوگی کہ زمانہ بدل گیا ہے، حالانکہ شاید اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہماری سوچ نے سوال بدلنے سے انکار کر دیا ہے۔
یہاں ’’روایت‘‘ اور ’’تجدید‘‘ کے درمیان وہ مصنوعی کشمکش بھی سمجھ میں آتی ہے جس میں ہم اکثر پھنس جاتے ہیں۔ روایت سے جڑے رہنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ہر نئے سوال سے خوف زدہ ہوجائیں، اور جدید دنیا کو سمجھنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ہر نئی بات کو درست مان لیں۔ ایک پختہ ذہن اپنے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے نئے سوالات کا سامنا کرسکتا ہے۔ وہ تحقیق کرتا ہے، موازنہ کرتا ہے، دلیل سنتا ہے، اختلاف کو سمجھتا ہے، پھر نتیجہ اخذ کرتا ہے۔
اصل کمزوری سوال سے نہیں، بغیر تحقیق کے یقین سے پیدا ہوتی ہے۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں علمی دیانت کا امتحان شروع ہوتا ہے۔ کبھی کبھی ایک سوال ہمیں اپنے ہی پسندیدہ تصور کے خلاف کھڑا کر دیتا ہے۔ کبھی کسی ایسے شخص یا مکتبۂ فکر سے کچھ سیکھنا پڑتا ہے جس سے ہم پہلے ہی ذہنی فاصلہ رکھتے ہیں۔ کبھی کسی ایسی کتاب کو پڑھنا پڑتا ہے جس کے بارے میں ہماری رائے کتاب پڑھنے سے پہلے ہی بن چکی ہوتی ہے۔ کبھی یہ ماننا پڑتا ہے کہ جس مسئلے پر ہم بہت پُراعتماد تھے، اس کے بارے میں ہماری معلومات دراصل محدود تھیں۔
یہ اعتراف آسان نہیں۔ لیکن شاید علم کا سب سے مشکل مرحلہ یہی ہے کہ انسان اپنے علم کی حد پہچان لے۔
قرآن مجید انسان کو تکبر کے بجائے طلبِ علم کا مزاج دیتا ہے: وَقُلْ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا۔ نبی کریم ﷺ نے علم کے ساتھ تواضع، بصیرت اور عمل کی تربیت دی۔ اسلامی علمی روایت میں اختلاف بھی ہوا، مناظرے بھی ہوئے، آرا مختلف بھی ہوئیں، لیکن علمی روایت کی صحت کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ دلیل کو سنا جائے، تحقیق کی جائے اور حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کی جائے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر سوال کا جواب ہمارے پاس فوراً موجود ہو۔ بعض سوال وقت مانگتے ہیں۔ بعض کے جواب کے لیے مختلف علوم کی ضرورت ہوتی ہے۔ بعض سوالات کا جواب ایک فرد نہیں، ایک پوری علمی روایت تلاش کرتی ہے۔ اور بعض اوقات سوال کا سب سے دیانت دار جواب یہ ہوتا ہے: مجھے ابھی معلوم نہیں۔
یہ جملہ بظاہر کم علمی کا اعتراف ہے، مگر حقیقت میں علمی بلوغت کی علامت بھی ہوسکتا ہے۔ کیونکہ ’’مجھے نہیں معلوم‘‘ کہنے والا شخص سیکھنے کے لیے ابھی کھلا ہوا ہے، جبکہ ’’میں سب جانتا ہوں‘‘ کا احساس انسان کے لیے علم کے دروازے بند کر دیتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ سوال کرنے کی تربیت صرف بچوں یا طلبہ کے لیے ضروری نہیں۔ عالم، استاد، والد، منتظم، قائد اور عام انسان، سب کے لیے ضروری ہے۔ ہر انسان کو کبھی نہ کبھی اپنے آپ سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ میں جو کچھ مانتا ہوں، اس کی بنیاد کیا ہے؟ جو رائے میں نے قائم کر رکھی ہے، کیا وہ مطالعے سے بنی ہے یا محض ماحول سے؟ جن لوگوں کے بارے میں میری رائے ہے، کیا میں نے انہیں واقعی سمجھنے کی کوشش کی ہے؟ جن مسائل پر میں دوسروں کو نصیحت کرتا ہوں، کیا میں نے کبھی خود اپنے رویے کو اسی معیار پر پرکھا ہے؟
یہ سوالات ہمیں دوسروں سے پہلے اپنے آپ کے سامنے کھڑا کرتے ہیں۔ اور شاید یہی سوال کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
اگر ہم اس مضمون کے آغاز سے اب تک کے سفر کو دوبارہ دیکھیں تو بات ایک دوسرے سے جڑتی ہوئی نظر آتی ہے۔ ہم نے پہلے دیکھا کہ انسان دنیا کو براہِ راست نہیں دیکھتا؛ اس کے ذہنی سانچے اس کے مشاہدے کو معنی دیتے ہیں۔ پھر ہم نے سمجھا کہ علم کا اصل کام معلومات جمع کرنا نہیں بلکہ انسان کے سوچنے کے انداز کو بہتر بنانا ہے۔ اب تیسرا قدم یہ سامنے آتا ہے کہ سوچنے کا انداز اس وقت بہتر ہوتا ہے جب انسان سوال کرنے، تحقیق کرنے اور اپنے پہلے سے بنے ہوئے تصورات کو دوبارہ دیکھنے کی صلاحیت پیدا کرے۔
اس لیے اگلی بار جب آپ کے ذہن میں کوئی سوال پیدا ہو تو اسے فوراً دبانے کے بجائے تھوڑی دیر اس کے ساتھ بیٹھیں۔ دیکھیں کہ یہ سوال کہاں سے آیا ہے۔ کیا یہ محض اعتراض ہے یا حقیقت جاننے کی خواہش؟ کیا آپ اس کا جواب پہلے ہی طے کر چکے ہیں یا واقعی جواب سننے کے لیے تیار ہیں؟ پھر اس سوال کو بہتر بنائیں، اس کے لیے معتبر علم تلاش کریں، مختلف زاویے دیکھیں، اہل علم سے پوچھیں اور آخر میں اپنے عمل کو بھی اس علم کے سامنے رکھیں۔
شاید یہی سوال کرنے کا صحیح ادب ہے۔
کیونکہ زندہ ذہن وہ نہیں جو ہر بات پر ’’کیوں؟‘‘ کہہ کر کھڑا ہوجائے، اور نہ ہی وہ جو ہر بات کو خاموشی سے قبول کرلے۔ زندہ ذہن وہ ہے جو حقیقت کے سامنے اپنے آپ کو کھلا رکھے، دلیل کو سنے، اپنی محدودیت کو پہچانے، اور جہاں ضرورت ہو وہاں اپنے پرانے فکری نقشے کو دوبارہ بنانے کے لیے تیار ہو۔
اور شاید علم کے سفر میں سب سے خوبصورت لمحہ وہ نہیں جب ہمیں کسی سوال کا جواب ملتا ہے، بلکہ وہ لمحہ ہے جب ایک اچھا جواب ہمارے اندر ایک بہتر سوال پیدا کر دیتا ہے۔
یہی سوال انسان کو رُکنے نہیں دیتا، یہی اسے سیکھنے پر مجبور کرتا ہے، یہی اس کے ذہن کو زندہ رکھتا ہے۔ اور جب سوال علم سے جڑ جائے، علم بصیرت میں بدلنے لگے، بصیرت کردار کو متاثر کرے اور کردار معاشرے کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالنے لگے، تو پھر سوال محض ذہنی سرگرمی نہیں رہتا؛ وہ انسان کی تعمیر کا آغاز بن جاتا ہے۔