خلاصہ
اسلام کی ترویج و اشاعت اور اسلامی تہذیب و ثقافت کی تشکیل میں روحانیت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ اسلام نے عبادات، اخلاقیات اور معاشرتی نظم کے ذریعے ایک متوازن تمدن کی بنیاد رکھی، جبکہ تصوف نے تزکیۂ نفس اور روحانی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ ابتدا سے ہی صوفیاء نے خانقاہوں، زاویوں اور رباطات کے ذریعے روحانی اصلاح، اخلاقی تربیت اور دینی شعور کو فروغ دیا، جو بعد ازاں تعلیمی، سماجی اور فلاحی مراکز میں تبدیل ہو گئے۔ اس طرح صوفی ادارے اسلامی تہذیب کی روحانی بنیادوں کو سمجھنے کے لیے ایک اہم موضوع کی حیثیت رکھتے ہیں۔
یہ تحقیقی مقالہ خالد بغدادی کی خانقاہ کو ایک کثیر الجہتی ادارے کے طور پر پیش کرتا ہے جو تعلیمی، روحانی اور سماجی خدمات کو یکجا کرتا ہے۔ تاریخی مصادر، سوانحی ادب اور جدید تحقیقی مطالعات کی روشنی میں یہ تجزیہ کیا گیا ہے کہ خالدیہ نقشبندیہ نے عثمانی معاشرے میں منظم خانقاہی نظام کے ذریعے علمی و فکری ترقی کو فروغ دیا۔ تحقیق سے واضح ہوتا ہے کہ یہ خانقاہ ایک غیر رسمی تعلیمی مرکز تھی جہاں قرآن، حدیث، فقہ اور اخلاقیات کی تعلیم دی جاتی تھی، جبکہ ساتھ ہی تزکیۂ نفس اور روحانی تربیت کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔
مزید برآں، اس خانقاہ نے سماجی اصلاح، عوامی رہنمائی اور حکمرانوں پر فکری اثرات کے ذریعے نمایاں کردار ادا کیا۔ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ خانقاہ اسلامی تہذیب میں ایک ایسے ادارہ جاتی ماڈل کی نمائندگی کرتی ہے جس نے تعلیم، روحانیت اور سماجی خدمت کو مربوط کیا، اور آج کے تعلیمی و فلاحی اداروں کے لیے ایک قابلِ تقلید نمونہ فراہم کرتی ہے۔
موضوع کا تعارف
اسلامی تہذیب و ثقافت کی تاریخ میں صوفی اداروں، بالخصوص خانقاہوں، زاویوں اور رباطات کو ایک ہمہ گیر نظام کی حیثیت حاصل رہی ہے جس نے روحانی تربیت کے ساتھ علم، اخلاق اور سماجی اصلاح میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ یہ ادارے ابتدائی اسلامی صدیوں سے ایک ایسے مرکز کے طور پر ابھرے جہاں قرآن و سنت کی تعلیم، تزکیۂ نفس اور معاشرتی رہنمائی کو باہم مربوط کیا گیا، جس سے اسلامی معاشرے میں دینی و دنیاوی علوم کا متوازن امتزاج قائم ہوا۔
ان اداروں میں نقشبندی سلسلہ خاص اہمیت رکھتا ہے جس نے وسطی ایشیا، برصغیر اور عثمانی دنیا میں گہرے اثرات مرتب کیے۔ اس سلسلے کی خالدیہ شاخ کے بانی خالد بغدادی تھے، جنہوں نے خانقاہی نظام کو ایک منظم تعلیمی اور اصلاحی ادارے کی صورت دی۔ ان کی خانقاہ محض عبادت گاہ نہیں بلکہ ایک جامع ادارہ تھی جہاں دینی تعلیم، روحانی تربیت اور سماجی اصلاح کو یکجا کیا گیا۔یہ مطالعہ خالد بغدادیؒ کی خانقاہ کو ایک ایسے ادارے کے طور پر پیش کرتا ہے جو تعلیمی، روحانی اور سماجی خدمات کے امتزاج سے اسلامی معاشرے کی فکری و عملی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے۔
تصوف کا تعارف
تصوف اسلامی علوم و معارف کا وہ باطنی اور روحانی پہلو ہے جس کا بنیادی مقصد انسان کے نفس کی اصلاح، دل کی صفائی اور اللہ تعالیٰ سے قریبی تعلق پیدا کرنا ہے۔ تصوف دراصل قرآن و سنت کی تعلیمات کی عملی تعبیر ہے، جس میں عبادات کے ساتھ ساتھ اخلاقی پاکیزگی، اخلاص، توکل، صبر اور شکر جیسے اوصاف کو اختیار کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔
لغوی معنیٰ:تصوف کا لفظ بابِ تفعل کا مصدر ہے جس کا معنی ہے : فلان صار من الصوفیۃ۔[1] یعنی فلاں آدمی صوفیاء میں سے ہو گیا۔باب تفعل کی خاصیات میں سے ایک خاصیت تکلف ہے چنانچہ مصباح اللغات میں ہے
صوفی بننا یا صوفیوں سی عادت بنانا[2]
اصطلاحی معنیٰ:ابوالقاسم عبدالکریم بن ہوازن قشیری اپنے رسالہ میں صوفی اور تصوف کے بارے میں فرماتے ہیں
لیس یشھد لھذا الاسم من حیث العربیۃ قیاس ولا اشتقاق، والاظھرفیہ انہ کاللقب،
اما قول من قال انہ من الصوف وتصوف اذا لبس الصوف کما یقال تقمص اذا لبس القمیص فذلک وجہ[3]
عربی زبان کے اعتبار سے اس نام کی شہادت نہ قیاس سے ملتی ہے نہ اشتقاق سے ،امر واضح یہی ہے کہ یہ لقب کی طرح ہے ۔یہ جو کہے کہ یہ لفظ صوف سے لیا گیا ہے اور تصوف کے معنی ہیں اس نے صوف پہنا جس طرح تقمص کے معنی ہیں اس نے قمیص پہنی تو یہ ایک وجہ ہو سکتی ہے۔
ذیل میں تصوف کی چند مشہور تعریفات بیان کی جاتی ہیں۔امام غزالیؒ فرماتے ہیں
التصوف شیئان: الصدق مع اللہ وحسن المعاملۃ مع الناس، فکل من صدق مع اللہ تعالیٰ و احسن معاملۃ الخلق فھو صوفی۔[4]
تصوف دو چیزیں ہیں: اللہ تعالی کے ساتھ سچ بولنا اور لوگوں کے ساتھ اچھا معاملہ کرنا پس جو کوئی اللہ تعالی کے ساتھ سچ بولے اور مخلوق کے ساتھ اچھا معاملہ کرے تو وہ صوفی ہے۔
تصوف کی تعریف کے بارے میں زین الدین محمد عبدالرؤوف نے لکھا ہے
الوقوف مع الآ داب الشرعیۃ ظاھرا فیری حکمھا من الظاھر فی الباطن، و باطنا فیری حکمھا من الباطن فی الظاھر۔[5]
شریعت کے ظاہری امور سے باخبر ہو کر اس پر باطن کو سنوارنا اور باطن سے باخبر ہو کر اس سے ظاہر کو سنوارنا
معجم الوسیط میں ہے
(التصوف) طریقۃ سلوکیۃ قوامھا التقشف التحلی بالفضائل لتزکوا النفس و تسموا الروح۔[6]
وہ سلوکی طریقہ جس میں فضائل پر بندہ مزین ہو جاتا ہے اور نفس رزائل سے پاک ہو جاتا ہے اور روح بلند ہو جاتا ہے ۔
محمد رواس قلعچی معجم لغۃ الفقہاء میں تصوف کی تعریف یوں کرتے ہیں
الصدق مع اللہ، والتحرر من سطوۃ الدنیا، و حسن التعامل مع الناس۔ ھذا ھو المشروع منہ۔[7]
اللہ تعالی کے ساتھ سچ بولنا اور دنیا کی محبت سے اپنے آپ کو بچانا اور لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا
صوفی کی وجہ تسمیہ
اہل تصوف کو صوفی کہنے کی کئی وجوہات ہیں۔ مثلاً اس لیے کہ ان کے عقائد صاف ہوتے ہیں۔ بشر بن حارث الصوفیؒ بیان فرماتے ہیں کہ جو اللہ تعالی کے لیے اپنے دل کو صاف کردے، اسے صوفی کہا جاتا ہے ۔صوفی اللہ تعالی کے سامنے صف اول میں ہوں گے۔ ان کے اوصاف اہل صفہ کے اوصاف کے قریب تر ہوں گے ۔اس لیے کہ وہ صوفی یعنی اونی لباس پہنا کرتے تھے ۔[8]
تصوف کی ابتداء:
لفظ تصوف کوئی نیا لفظ نہیں بلکہ یہ بہت پہلے سے استعمال ہوتا ہے۔ تاہم جس طرح لفظ تصوف کے اصل اور اس کی تعریف میں اختلاف ہے اسی طرح اس امر میں بھی اختلاف ہے کہ اس لفظ کے استعمال کب ہوا اور سب سے پہلے کس نے یہ لفظ استعمال کیا۔
ابن تیمیہ ابن الجوزی اور ابن خلدون وغیرہ کا اس بارے میں موقف یہ ہے کہ یہ لفظ ابتدائی تین صدیوں تک استعمال نہیں ہوا اور 300 ہجری تک ہمیں کہیں بھی اس لفظ کے بارے میں کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ اس کے بعد یہ لفظ مستعمل ہوا ۔تا ہم کئی اسلاف کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے اس لفظ کو استعمال کیا مثلا امام احمد بن حنبل ؒ،امام ابو سلیمان دارنیؒ، اور سفیان ثوریؒ سے یہ الفاظ منقول ہیں اور ان کی مخطوطات اور خطبات میں بھی یہ لفظ ملتا ہے۔[9] بلکہ سراج طوسی نے اپنی کتاب میں اس پر ایک باب قائم کیا اور ان لوگوں پر رد کرتے ہوئے فرمایا
اگر کوئی پوچھنے والا یہ کہے کہ ہم نے تو اصحاب رسول میں صوفی کا لفظ نہیں سنا اور نہ ہی تابعین یا تبع تابعین میں سے کسی نے اس لفظ کو استعمال کیا، اس زمانے میں تو عباد،زہاد،سیاحین، فقراء اور صالحین کے الفاظ استعمال ہوتے تھے۔ کسی نے بھی صحابی کے لیے لفظ صوفی کا استعمال نہیں کیا تو اس بارے میں یہ کہوں گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا صحابی ہونا شان اور مرتبے والا مقام ہے اور اس شرف پر چند حضرات ہی فائز ہوتے ہیں۔ یہ لفظ مخصوص حضرات کے لیے استعمال ہوا اور یہ اتنی عظمت والا لفظ تھا کہ اس کے ہوتے ہوئے ان لوگوں کے لیے کسی اور لفظ کے استعمال کو مناسب نہ سمجھا گیا۔ صحابہ کرام زہاد، متوکلین ،فقراء ،صالحین کے ائمہ تھے اور انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کی وجہ سے یہ مقام حاصل کیا۔ تو جب صحبت کی وجہ سے انہیں صحابی کا لفظ ملا جو کہ عظیم ترین لقب ہے تو ان کے لیے اس سے کم تر کسی لقب کا استعمال کیسے ہو سکتا ہے۔[10]
سفیان ثوری نے محمد بن اسحاق کے حوالے سے لکھا ہے کہ اسلام سے قبل ایسا وقت بھی آیا جب بعض اوقات طواف کرنے والا ایک آدمی بھی نہیں ہوتا تھا۔ دور دراز سے کوئی صوفی آتا اور طواف کرنے کے بعد چلا جاتا ،تو اس سے معلوم ہوتا کہ اسلام سے قبل بھی یہ لفظ معروف تھا اور اس زمانے میں اس لفظ کا استعمال نیک لوگوں کے لیے کیا جاتا تھا۔[11]
عبدالرحمن جامی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ابو ہاشم کوفی سب سے پہلے وہ شخص تھا جس نے صوفی کا لفظ استعمال کیا اس سے قبل یہ لفظ کبھی استعمال نہیں ہوا۔ شام کے علاقے رملہ میں سب سے پہلے صوفیوں کے لیے خانقاہ بنی اور اسے بنانے والا وہاں کا عیسائی بادشاہ تھا اس بارے میں یہ واقعہ نقل ہے ۔
ایک دفعہ رملہ کا عیسائی بادشاہ کسی جگہ گیا تو اس نے دو صوفی دیکھے جو آپس میں گفتگو کر رہے تھے۔ بادشاہ کے دل میں خیال ایا کہ ان لوگوں کے درمیان ان لوگوں کے ساتھ بات چیت کرنی چاہیے۔ اس وقت ان لوگوں نے اکٹھے کھانا شروع کیا اور انتہائی اچھے اخلاق کے ساتھ آپس میں پیش آ رہے تھے۔ بادشاہ ان کے معاملات اور اخلاق دیکھ کر بہت خوش ہوا۔ اس نے صوفیوں میں سے ایک کو بلایا اور دوسرے کے بارے میں پوچھا کہ یہ کون ہے؟ تو اس نے کہا میں اس کو نہیں جانتا ۔بادشاہ نے کہا تمہارا اس کے ساتھ تعلق کیا ہے ؟اس نے کہا کوئی نہیں بادشاہ نے پوچھا تو پھر تمہارے درمیان اتنی محبت اور اچھے اخلاق کیسے ہیں؟ درویش کہنے لگا یہ ہمارا طریقہ اور سلوک ہے ۔بادشاہ نے کہا تمہارے پاس کوئی رہنے کی جگہ یا ٹھکانہ ہے؟تو وہ بولے ہمارے پاس ایسا کچھ بھی نہیں۔ بادشاہ نے کہا کہ اچھا میں تمہارے لیے رہائش کا انتظام کرتا ہوں۔ چنانچہ اس نے رملہ میں ان کے لیے خانقاہ قائم کی۔[12]
ابتدا اسلام میں گو کہ لفظِ تصوف دیگر علوم اسلامیہ مثلاً علوم الحدیث، علمِ فقہ وغیرہ کی طرح باقاعدہ مستعمل نہیں تھا لیکن اس کا وجود دیگر علوم کی طرح مختلف اصطلاحات جیسا کہ تزکیہ نفس، احسان اور روحانیت وغیرہ سے قرآن و حدیث اور تعلیماتِ اسلام میں مذکور ہے۔ نبیِّ کریم ﷺکے زمانے میں علم تفسیر کے نام سے کوئی علم نہیں تھا، قرآن مجید تھا،اور نبیِّ پاک ﷺکی احادیث تھیں۔ صحابہ کرام نے قرآن سمجھنا ہوتا،تو رسولِ خدا ﷺسے سمجھ لیتے تھے، یہ نہیں تھا کہ جداگانہ علم تفسیر اور اصولِ تفسیر کو سامنے رکھ کر تدبرِ قرآن کرتے۔ اسی طرح زمانہِ رسالت میں احادیثِ مبارکہ تو موجود تھیں لیکن اصولِ حدیث،فن ِحدیث یا علم ِحدیث نام کا کوئی جدا علم نہیں تھا۔ اسی طرح نماز، روزہ،حج،زکوٰۃ،نکاح، طلاق، حلال و حرام وغیرہ کے شرعی مسائل تو تھے لیکن علم ِفقہ یا علمِ اصولِ فقہ کے نام سے کوئی علم نہیں تھا۔لوگوں کو جو مسائل پیش آتے، وہ نبیِّ پاک ﷺ یا اکابر صحابۂ کرام رضی اللہُ عنہم سے پوچھ کرعمل کرلیتے۔ مذکور بالا علوم باقاعدہ مدوّن و منضبط نہیں تھے، بلکہ زمانہِ صحابہ کے بعدمعرضِ تحریر میں آئے اور پوری اُمّت کے درمیان مقبول ہوئے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نےانسان کی کامیابی تزکیہ نفس کو قرار دیا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے
قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰىۙ۔[13]
بیشک جس نے خود کو پاک کرلیا وہ کامیاب ہوگا۔
مفتی احمد یار خان نعیمی اس آیت کی تفسیر کے تحت فرماتے ہیں
صوفیاء کے نزدیک تزکیہ کا مطلب دل کو بُرے عقیدے، بُرے خیالات اورتصور ِغیر سے پاک کرنا ہے۔ دل کی صفائی یا وہبی ہے یا کسبی یا عطائی۔ وہبی تزکیہ پیدائشی ہوتا ہے، کسبی اپنے اعمال سے جبکہ عطائی کسی کی نظر سے ، جیسے بادل اور سورج دور رہتے ہوئے بھی گندی زمین کو پاک کر دیتے ہیں ، ایسے ہی اللّٰہ والوں کی نظر دور سے بھی گندے دلوں کو پاک کردیتی ہے۔[14]
اللہ تعالیٰ نے اس تزکیہ اور پاکیزگی کو حاصل کرنے کی کا ذریعہ معلم کائنات ،جنابِ رسول اللہ ﷺ کے منصبِ رسالت کے امور میں شامل کیا ، جیسا کہ ارشاد ربانی ہے
رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِكَ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُزَكِّیْهِمْؕ۔[15]
اے ہمارے رب! اور ان کے درمیان انہیں میں سے ایک رسول بھیج جواِن پر تیری آیتوں کی تلاوت فرمائے اور انہیں تیری کتاب اور پختہ علم سکھائے اور انہیں خوب پاکیزہ فرمادے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے کارِ نبوت میں تزکیہ نفس بھی شامل تھا، یہی وجہ ہے کہ اصحابِ محمدﷺ نے اپنے قلوب کی تطہیر بارگاہِ رسالت ﷺ سے کر کے دنیا پر اپنا سکہ جمانے کے ساتھ ہی وہ عجز و انکساری اور حلم و بردباری کا بھی عظیم نمونہ بنے۔رسول اللہ ﷺ کی احادیث میں تصوف کی اصطلاحات جیسا کہ تقویٰ، زہد، ورع، احسان، تزکیہ، اصلاح نفس ، دنیا سے بے رغبتی اور حسنِ اخلاق وغیرہ کی کثیرروایات ملتی ہیں۔جیسا کہ حدیثِ جبرائیل میں فرمان رسول ہے
مَا الإِحْسَانُ؟ قَالَ:” أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ، كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنَّكَ إِنْ لَا تَرَاهُ، فَإِنَّهُ يَرَاكَ[16]
احسان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے ہو تو وہ یقیناً تمہیں دیکھ رہا ہے
اسی طرح ایک اور حدیث مبارکہ میں آپ ﷺ نے دنیا سے بے رغبتی کا درس دیتے ہوئے ارشاد فرمایا
كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ، أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ”، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ: إِذَا أَمْسَيْتَ فَلَا تَنْتَظِرِ الصَّبَاحَ، وَإِذَا أَصْبَحْتَ فَلَا تَنْتَظِرِ الْمَسَاءَ، وَخُذْ مِنْ صِحَّتِكَ لِمَرَضِكَ وَمِنْ حَيَاتِكَ لِمَوْتِكَ۔[17]
دنیا میں اس طرح ہو جا جیسے تو مسافر یا راستہ چلنے والا ہو۔“ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے شام ہو جائے تو صبح کے منتظر نہ رہو اور صبح کے وقت شام کے منتظر نہ رہو، اپنی صحت کو مرض سے پہلے غنیمت جانو اور زندگی کو موت سے پہلے۔
ہادی برحق ﷺ کی تعلیمات سے مستفید ہونے والے صحابہ کرام نے اپنی زندگیاں اخلاص، تقویٰ اور تسلیم و رضا کے اصولوں پر گزارتے ہوئے ان تعلیمات کو تابعین اور تبع تابعین میں منتقل کیا۔اسلامی فتوحات کے نتیجے میں اسلام کی ترویج و اشاعت نئے علاقوں میں ہونے کے ساتھ دیگر علوم اسلامیہ کی طرح تصوف کے اصول و قواعد اور اصطلاحات متعارف ہونا شروع ہوئی اور اس بارے میں باقاعدہ تصانیف مرتب ہوئیں۔ صوفیا نے وقت کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے بہت جلد تصانیف کرنا شروع کر دیا تھا۔ چنانچہ سب سے پہلے عبداللہ بن مبارک متوفی 181 ھ نے کتاب الزہد لکھی انہوں نے اس میں ان حدیث کا ذکر کیا ہے جن میں زہد کی ترغیب پائی جاتی ہے۔ اسی طرح ابو عبداللہ حارث بن اسد محاربی 243 ھ میں کتاب الخلوہ والتنقل فی العبادہ التفکر والاعتبار اور الرعایۃ لحقوق اللہلکھی۔ وقت کی صورت میں محسوس کرتے ہوئے انہوں نے ایسی کتابیں تصنیف کی جو صوفیاء کے متعدد مسائل پر مشتمل ہوں ۔چنانچہ جس طرح عربی ادب میں چار کتابیں بنیادی تصور کی جاتی ہیں اسی طرح تصوف میں بھی چار کتابوں کو بنیادی حیثیت دی جاتی ہے ۔سب سے پہلے کتاب التعریف اس کے مصنف ابوبکر بن ابو اسحاق محمد بن ابراہیم بن یعقوب بخاری کلا بازی ہیں ۔ اسی زمانے میں ابو نصر سراج طوسی نے کتاب اللمع فی التصوف لکھی۔ان کے معاصر ابو طالب مکی حارثی نے تصوف پر کتاب قوت القلوب فی معاملۃ المحبوب و وصف طریق المرید الی مقام التوحید رکھا۔ اس کتاب کی اہمیت کے پیش نظر شیخ امام محمد بن خالف اموی اندلسی متوفی 485 ھ نے اس کا اختصار کیا اس کا نام الوصول الی الغرض المطلوب من جواہر القوۃ القلوب رکھا ۔تصوف کی بنیادی کتابوں میں زمانے کے اعتبار سے آخری کتاب جو تصوف پر لکھی گئی وہ رسالہ قشیریہ ہے ۔ اس کے مولف ابوالقاسم عبدالکریم بن ھوازن قشیری(م 665 ھ) ہیں۔
مختلف ادوار سے گزرتے ہوئے تیرہویں صدی عیسوی میں تصوف کے سلاسل کا وجود عمل میں آیا۔ڈاکٹر محمد حفیظ الرحمن سلاسل طریقت کے ارتقا اور صوفیا کے مراکز کے قیام کے بارے میں لکھتے ہیں
تیرہویں صدی عیسوی کے مشہور شاعروں نے اس طرح کی روحانی شاعری کی تخلیق کی کہ پورا معاشرہ تصوف کے رنگ میں رنگ گیا اور مشائخ نے اس طرح کی روحانی تعلیم و تربیت کا نظام شروع کیا کہ کوئی بھی فرد ان کے اثر سے اچھوتا نہیں رہ سکا ۔منگولوں کے بربر حملوں اور ان کے اثرات کے بعد صوفیوں کو متحد ہو کر کہ حقیقی معنوں میں مذہب اسلام کو قائم کرنے اور اس کی ترویج و تبلیغ کے کام کرنے کے لیے آمادہ کیا۔ اور ہر مقام پر اسلامی تعلیم و تربیت کے مراکز کھولے گئے۔ اسی تناظر میں کئی سلسلوں کا وجود ہوا جن میں سے چند اہم کے نام خواجگان سلسلہ ،قادریہ سلسلہ، چشتیہ سلسلہ، سہروردیہ سلسلہ اور نقشبندی سلسلہ ہیں۔[18]
ان سلاسلِ طریقت کے مبلغین نے نہ صرف انفرادی زندگیوں میں بلکہ معاشرتی، سیاسی اور حکومتی ایوانوں میں بھی گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔ ان شخصیات میں سے ایک مولانا خالد بغدادی ہیں جو تصوف کے سلسلہ نقش بندیہ سے وابستہ ہوئے اور پھر اپنی عظیم خانقاہ سے علم و عرفان کی روشنی سے سلطنتِ عثمانیہ کے اندر معاشرے کی اصلاح فرمائی اور احیائے سنت اور ردِ بدعات کی تحریک سے نفوس کو پاک کیا۔
مولانا شیخ خالد بغدادی نقش بندی ؒ
آپ خالد بن احمد بن حسین شہرزوری کردی شافعی کے نام سے معروف تھے، اور ضیاء الدین، بہاء الدین اور شیخ الطریقۃ النقش بندیہ کے لقب سے یاد کیے جاتے تھے۔ سلسلۂ نسب حضرت عثمان غنی ؓسے ملتا ہے۔ سلیمانیہ کے قریب علاقہ شہر زور کے قصبہ قرہ طاغ میں ۱۱۹۰ھ/ ۱۷۷۶ء میں پیدا ہوئے۔[19]
وقت کے معروف اساتذہ سے مروّجہ علوم کی تعلیم حاصل کی اور معقولات، ریاضیات اور ہیئت وغیرہ میں بھی کمال پیدا کیا۔ حدیث کی پچاس کتابوں کی سند حاصل کی۔ مشہور عالم تھے اور ہرفن میں عجیب استعداد رکھتے تھے۔سائنسی علوم پر بھی کمال دسترس رکھتے تھے اور کسی بھی سوال کا فوراً جواب دیتے تھے۔
تحصیل علوم کے بعد سلیمانیہ واپس آگئے اور یہاں کے مدرسہ میں تدریس کا شغل اپنایا اور حکمت، علم کلام وبلاغت کی انتہائی کتابیں پڑھاتے رہے۔ آپ استاذالعلما تھے اور آپ کو شمس الشموس کا لقب بھی دیا گیا۔سلیمانیہ کے گورنر عبدالرحمن پاشاجو آپ کے علم اسے انتہائی متاثر تھے آپ کے پاس تشریف لائے اور پیشکش کی کہ سلیمانیہ کے کسی بھی مدرسے کو منتخب کر کے وہاں تدریس کے فرائض انجام دیں لیکن اپنے زُہد اور عجز کے پیش نظر آپ نے معذرت کر لی۔
۱۲۲۰ ھ/ ۱۸۰۶ء میں حج بیت اللہ و زیارت حرمین الشریفین سے مشرف ہوئے۔ مکہ معظمہ میں دہلی شریف جانے کا غیبی اشارہ پایا۔ پہلے شام واپس آئے۔ خدا طلبی کا جذ بہ دل میں موج زن تھا۔ اتفاق سے یہاں حضرت میرزا رحم اللہ بیگ (خلیفہ حضرت شاہ غلام علی دہلوی) جو کہ جہاں گشت تھے‘ سے آپ کی ملاقات ہوگئی۔ ان سے کامل مرشد کی غیر موجودگی کی شکایت کی۔ انھوں نے حضرت شاہ غلام علی دہلوی کا ذکر خیر کیا۔ لہٰذا یہ سن کر آپ ۱۲۲۴ھ/ ۱۸۰۹ء میں درس و تدریس ترک کرکے دہلی شریف کی طرف روانہ ہوئے اور ایران و افغانستان سے ہوتے ہوئے اور ہر جگہ اپنے علم کا سکہ منواتے ہوئے، لاہور کے راستے سے پورے ایک سال کی مدت میں ۱۲۲۵ھ/ ۱۸۱۰ء میں دہلی شریف حضرت شاہ غلام علی دہلوی کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
جب پشاور پہنچے تو حضرت شاہ غلام علی دہلوی کی زیارت خواب میں نصیب ہوئی۔ بیدار ہوئے تو لطائف خمسہ کو اپنے سینے میں جاری پایا۔ گو حضرت شاہ صاحب ہر طالب خدا کو مساوی توجہ دیتے تھے، لیکن آپ کی غربت، مسافرت اور استعداد فطرت کو دیکھ کر آپ سے بے حد شفقت فرماتے اور مربیانہ ممتاز بٹھاتے۔
روحانی مقام
ایک روز حضرت شاہ غلام علی دہلوی نے حاضرین مجلس سے فرمایا کہ جس وقت مولانا خالد رومی، جو ایک بے نظیر فاضل تھے، یہاں تشریف لائے، ہم نے انہیں کہا تھا کہ تمھیں تو ہم قطب بنا دیں گے۔ بعض حضرات ہماری بات پر ہنس پڑے اور مولانا (خالد) بھی متعجب ہو گئے۔ آخر جو کچھ ہم نے کہا تھا، وہی ہوا۔ اب وہ اپنے علاقے کے قطب ہیں۔ [20]
محمد بن عبد اللہ خانی خالدی، البہجۃ السنیہ فی آداب الطریقۃ الخالدیہ میں بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت شاہ غلام علی دہلوی نے فرمایا
بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ حضرت خواجہ باقی باللہ کی خوش بختی تھی کہ حضرت مجدد آپ کے مرید ہوئے اور حضرت مجدد کی خوش بختی تھی کہ سید آدم بنوری آپ کے مرید ہوئے۔ یہ میری خوش قسمتی ہے کہ مولانا خالد میرے مرید ہو گئے ہیں۔ [21]
آپ ہندوستان کے علما میں سے صرف حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کی تعریف کرتے تھے اور ان سے آپ نے صحاح ستہ کی اجازت بھی لی تھی۔ حضرت شاہ غلام علی دہلوی آپ پر بہت عنایات فرمایا کرتے تھے۔ ایک سال سے کم وقت میں تصوف کے پانچ سلاسل میں اجازت و خلافت کا شرف حاصل کیا اور اپنے پیر و مرشد نے آپ کو اپنے وطن واپس جانے کا حکم فرمایا۔ روانگی کے وقت آپ کو حضرت شیخ محمد عابد سنامی کے مزار مبارک تک وداع کرنے گئے اور خدا کے سپرد فرمایا۔ پھر رخصت کرتے وقت حضرت شاہ صاحب نے آپ کو اپنے وطن کی قطبیت عنایت فرمائی۔[22]
حضرت شاہ غلام علی دہلوی سے آپ کو تصوف کےمشہور سلاسل نقشبندیہ، قادریہ، سہروردیہ، کبرویہ اور چشتیہ کی اجازت عطا ہوئیں اس کے ساتھ ساتھ آپ کوحدیث، تفسیر،اوراد و حزب اور سلسلہ کی ترویج کی اجازات بھی عنایت کیں۔۱۴ ذی قعدہ ۱۲۴۲ھ/ ۱۰ اگست ۱۸۲۷ء کو طاعون کا حملہ ہوا اور شہادت پائی اور قاسیون کے دامن میں دفن ہوئے۔ [23]
علمی خدمات
تحصیل علم اور روحانی تربیت و اجازات کے بعد آپ اپنے وطن کو روانہ ہوئے۔ پہلے بغداد پہنچ کر تربیت و ارشاد کا سلسلہ شروع فرمایا۔ پانچ مہینے وہاں قیام کرکے وطن واپس ہوئے۔ ۱۲۲۸ھ / ۱۸۱۳ء میں پھر بغداد واپس ہوئے۔ اپنے وطن واپس پہنچ کر انھوں نے علمی اور تدریسی میدان میں بہت ریاضتیں کیں۔اس کا نتیجہ تھا کہ وہاں خلق کا اتنا ہجوم ہو جاتا کہ گویا سلطنت آپ ہی سے متعلق ہے۔ آپ کے خلفا اور پھر خلفا کے خلفا ہزاروں تھے۔ ۱۲۳۱ھ/ ۱۸۱۶ء تک آپ کے مریدین کی تعداد ایک لاکھ تھی اور عالم اسلام کے ایک ہزار متبحر عالم آپ سے فیض یاب ہوچکے تھے۔چنانچہ جواہر علویہ میں مذکور ہے
آپ کی خدمت میں طالبوں کا اس قدر مجمع ہوتا تھا کہ بیان سے باہر ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ ہزار خلیفہ تھے اور بعض نے بیان کیا ہے کہ لاکھوں آدمیوں نے آپ سے بیعت کی۔[24]
آپ کی قبولیت اور رجوع عام دیکھ کر لوگوں کو حسد ہوا اور اُن کے خلاف ایک فتنہ کھڑا کیا گیا۔ والی بغداد سعید پاشا کی طرف سے بعض علما کو اس کی تردید کا اشارہ ہوا۔ علماے بغداد نے اپنی مہروں سے مزین کر کے ان کی براء ت اور ان کے عالی مرتبہ ہونے کا فتویٰ دیا۔ کردوں، اہل کرکوک، اربل، موصل، عمادیہ، عینتاب، حلب، شام، مدینہ منورہ، مکہ معظمہ اور بغداد کے ہزاروں آدمیوں نے آپ سے نفع حاصل کیا۔
مولانا خالد بغدادی نے مختصر عرصہ میں اپنے شیخ سے جو علمی و روحانی استفادہ حاصل کیا اسے بہت جلد عوام الناس میں تقسیم کیا۔ اسی سلسلے میں آپ کے شیخ شاہ غلام علی دہلوی نے اپنے مکتوب میں آپ کی علمی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں
حال ہی میں ایک خط حضرت مولانا خالد کی نسبت باطن کی ترقیات کی بشارت اور ان کی توجہات سے طریقہ شریفہ کی اشاعت، ان کی نسبت شریفہ کی قوی تاثیرات، ملک روم اور بغداد میں پانچ سو متبحر علما کا ان کے طریقہ میں داخل ہونا، ان کے خلفا کی کثرت، ان کے ورع و تقویٰ اور اس طریقہ سے اخلاص کے تذکرہ اس خط کی رو سے جو انہوں نے بھیجا ہے۔ان کے طریقہ ، صبر وقناعت اور ورع پر استقامت اور وہاں طریقہ کے انوار کی اشاعت کی خبر سے دل کو بہت بہت خوشی ہوئی۔[25]
آپ کے حلقہ درس و ارادت کی مقبلوت عام تھی اور اس میں عوام کے ساتھ ساتھ بڑے علما کرام جوق در جوق شامل ہوتے اور آپ سے سائنسی علوم، تفسیر، حدیث، فقہ اور تصوف کے علم سے فیضیاب ہوتے۔ ابراہیم فصیح لکھتے ہیں
His noble lodge was overflowing. On the one hand he was guiding the people coming in crowds, and on the other, he was teaching the sciences of tafsir, hadith, fiqh and tasawwuf. In this way he was reviving the dhikr of the great mujtahid scholars, and of the noble awliya. [26]
ان کی عالی شان خانقاہ ہمیشہ مرجعِ خلائق بنی رہتی تھی۔ ایک طرف وہ جوق در جوق آنے والے لوگوں کی رہنمائی فرماتے، اور دوسری جانب تفسیر، حدیث، فقہ اور تصوف کے علوم کی تدریس میں مصروف رہتے تھے۔ اس طرح وہ اکابر مجتہد علماء اور جلیل القدر اولیاء کے طریقِ ذکر کو ازسرِ نو زندہ کر رہے تھے۔
آپ نے آخر میں شام کو اپنا مستقر بنا لیا اور ۱۲۳۸ھ/ ۲۳-۱۸۲۲ء میں اپنے خلفا اور مریدین کے ایک جم غفیر کے ساتھ شام کا سفر فرمایا اور ملک شام گویا آپ پر امڈ آیا۔ سلوک وارشاد کے ساتھ علوم شرعیہ کی اشاعت اور مساجد کی دوبارہ آبادی ورونق کی طرف بھی متوجہ رہے۔بہت مختصر وقت میں لاتعداد لوگ آپ کے حلقہ میں شامل ہوئے جن میں فقہ حنفیہ کے عظیم فقیہہ ابن عابدین اور تفسیر روح المعانی کے مصنف علامہ آلوسی بھی شامل تھے۔
علامہ ابنِ عابدین شامی نے آپ کی خانقاہ سے علمی و روحانی استفادہ کیا۔ آپ مولانا خالد نقش بندی کی روحانی خانقاہ کے علمی ماحول کے بارے میں لکھتے ہیں
آپ کے قیام بغداد (۱۲۲۸ھ/ ۱۸۱۳ء) کے دوران آپ کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ ایک ہزار صاحب تصنیف علما آپ کے حلقہ بگوش ہو کر ہمہ وقت سامنے کھڑے رہتے تھے۔ [27]
مولانا خالدؒ نے بے شمار شاگردوں کی تربیت کی۔ ان کے شاگردوں کی اپنے شیخ کے ساتھ محبت، ادب اور مکمل اطاعت بہت مشہور تھی۔بغداد کے مفتی، اہلِ علم کے شیخ، بغداد کے گورنر اور وزیر داؤد پاشا کے استاد، اسعد صدرالدین آپ سے انتہائی عقیدت رکھتے تھے۔ آپ فرمایا کرتے تھے
اگر میرے استاد، مولانا خالد مجھے یہ حکم دیں کہ: ‘اس دودھ کے برتن کو اپنے سر پر رکھو، اسے بازار لے جاؤ اور گھوم کر فروخت کرو’ تو میں بغیر کسی تامل کے ان کے حکم کی تعمیل کروں گا۔[28]
ان کی علمی مجالس میں شیخ علی سویدی فرمایا کرتے تھے:
مولانا خالد ظاہری اور باطنی علوم میں ایک بے کنار سمندر کی مانند ہیں، جبکہ ہم صرف ایک قطرہ ہیں۔[29]
آپ کثیر التصانیف تھے اور عربی و فارسی زبان میں شاعری بھی کرتے تھے۔ آپ کا فارسی دیوان ترکی سے ۷۴-۱۳۷۳ھ/ ۱۹۵۵ء میں طبع ہوا۔ علاوہ ازیں آپ کی تصانیف میں رسالہ اعتقادیہ ، رسالہ عرفانی ، سلسلہ طریقہ نقش بندیہ ، شرح مقامات حریری ، شرح العقائد العضدیہ ، رسالہ فی اثبات مسئلہ الارادۃ الجزئیہ ، العقد الجوہری فی الفرق بین کسبی ، الماتریدی والا شعری ،جلاء الا کدار ، بغیۃ الواجد فی مکتوبات حضرت مولانا خالد ، الرسالۃ الخالدیہ فی آداب الطریقۃ النقش بندیہ ، فرائد الفوائد (شرح حدیث جبریل) ، شرح اطباق الذہب ، تعلیقات حاشیہ ملا عبد الحکیم سیال کوٹی علی الخیالی ، حاشیہ علیٰ جمع الفوائد من الحدیث ، حاشیہ علی النہایہ فی فقہ الشافعی ، رسالہ فی اثبات الرابطہ ، رسالہ فی آداب المرید ، دیوان ، حاشیہ تتمہ سیال کوٹی لحاشیہ عبد الغفور علیٰ جامی شامل ہیں۔
آپ کے احوال و مناقب اور آثار پر متعد کتابیں لکھی گئی ہیں۔ علامہ ابن عابدینؒ مشہور بہ علامہ شامی مصنف ”رد المحتار شرح الدر المختار“ آپ کے شاگرد اور دست گرفتہ تھے۔ انھوں نے آپ کے مناقب میں ایک رسالہ ”سل الحسام الہندی لنصرۃ مولانا خالد النقش بندی“ (عربی) لکھا، جو مجموعہ رسائل ابن عابدین شامل ہے۔ یہ اس رسالے کے رد میں لکھا گیا ہے جو بعض حاسدوں نے حضرت مولانا خالد کی مخالفت میں تحریر کیا تھا۔ اس کے آخر میں علامہ ابن عابدین نے آپ کے احوال و مناقب بھی جمع کیے تھے۔
علامہ ابن عابدین ؒکے معاصر اور مشہور ادیب و شاعر شیخ عثمان بن سند النجدی نے ایک کتاب ”اصفی الموارد فی سلسال احوال الامام خالد“ (عربی) لکھی تھی۔آپ کی زندگی میں ہی آپ کے خلیفہ حضرت شیخ حسین الدوسری نے ایک کتاب ”الاساور العسجدیہ فی المآثر الخالدیہ“ (عربی) کے نام سے آپ کے حالات میں لکھی۔شیخ محمود آلوسی نے کتاب ”الفیض الوارد علیٰ روض مرثیہ مولانا خالد“ (عربی) تحریر کی۔
امراء سلطنت کی اصلاح اور معاشرتی فلاح میں کردار
مولانا خالدبغدادی نقش بندی ؒ نے نہ صرف علمی میدان میں خاطر خواہ خدمات پیش کی بلکہ امراء سلطنت کی اصلاح اور معاشرتی فلاح اور تربیت میں بھی بے مثال کردار ادا کیا۔مولانا خالد بغدادی چونکہ مجدد الف ثانیؒ کی شخصیت اورتعلیمات سے متاثر تھے اسی لیے برصغیر میں ان کی اصلاحی و مجددانہ تحریک کو مشرقِ وسطیٰ میں سلطنتِ عثمانیہ میں ترویج دی۔حضرت مجدد الف ثانیؒ کا مجددانہ انداز اپنایااور نہ صرف عوام الناس بلکہ امراء سلطنت کے ساتھ روابط اور ان کی اصلاح کی۔ اٹھارہویں صدی میں برصغیر کے دو ممتاز صوفی شخصیات مظہر جان ِ جاناں اور شاہ ولی اللہ دہلوی، جو خود بھی نقشبندی سلسلے سے وابستہ تھے، اس امر پر زور دیا کہ شریعت مسلم زندگی کا مرکزی ستون ہے۔لیکن شریعت کی پیروی محض انفرادی اور روزمرہ زندگی تک محدود نہیں، بلکہ حکمرانوں پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنے نظامِ حکومت کو شریعت کے مطابق استوار کریں۔ چنانچہ شیخ خالد نقش بندی نے اسی طرز پر بغداد کے گورنر داؤد پاشا (1817–1831) کو ایک مکتوب لکھتے ہوئے واضح کیا
وزیروں کے احکام کی اطاعت اس وقت تک واجب ہے جب تک وہ شریعت کے خلاف نہ ہوں۔[30]
آپ وزرا اور حکومتی افسران کو بھی شریعت کی اتباع کی تلقین کرتے تھے۔جب عکّا کے گورنر عبداللہ پاشا (1819–1832) نے شیخ خالد سے دعا کی درخواست کی، تو انہوں نے جواب دیا
وہ اسی قدر اس کے لیے دعا کریں گے جس قدر وہ (پاشا) شریعت کی پابندی کا اہتمام کرے گا۔[31]
آپ سمجھتے تھے کہ حکمرانوں کے لیے شریعت کی پابندی ناگزیر ہے اس لیے داؤد پاشا کوخط لکھتے ہوئے حضرت مجدد الف ثانی کے قول کی تکرار کی، "بادشاہوں کی نیکی دراصل رعایا کی نیکی ہوتی ہے، اور ان کی خرابی پوری قوم کی خرابی بن جاتی ہے۔”[32]
آپ کی خانقاہ درحقیقت ایک متوازن تحریک تھی جس کا مقصد یہ تھا کہ پوری مسلم اُمت اپنی مستند اور روایتی دینی اقدار کے مطابق زندگی گزارے اور معاشرے میں پیدا ہونے والی بدعات اور خرافات کو ختم کر کے سنتِ نبویﷺ کے مطابق انفرادی و اجتماعی زندگی گزاری جائے کیونکہ جب تک مسلمان اپنے دین کے حقیقی اصولوں یعنی قرآن و سنت کی طرف رجوع نہیں کریں گے، وہ نہ اخلاقی قوت حاصل کر سکتے ہیں اور نہ ہی اجتماعی استحکام و عظمت حاصل کر سکتے ہیں ۔ ابراہیم فارس اپنی کتاب المجد التالد میں واقعہ نقل کرتے ہیں
ایک مرتبہ بغداد کے گورنر سعید پاشا آپ کی زیارت کے لیے آئے۔ جب وہ وہاں پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ لوگ، حتیٰ کہ بڑے بڑے علماء بھی، نہایت ادب و احترام کے ساتھ خاموش بیٹھے ہیں، اور ان کے سر جھکے ہوئے ہیں، گویا وہ سب خدام کی طرح بیٹھے ہوں۔ جب مولانا خالد تشریف لائے، تو انہوں نے ان کی عظمت اور وقار کو دیکھا، جس کے باعث سعید پاشا کے گھٹنے کانپنے لگے اور ان کا جسم لرزنے لگا۔ انہوں نے نہایت نرم آواز میں ان سے دعا کی درخواست کی۔مولانا خالد نے ان کے لیے دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ انہیں خاتمہ بالخیر عطا فرمائے، یعنی ان کا آخری وقت ایمان کی حالت میں آئے۔پھر انہوں نے انہیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:قیامت کے دن ہر انسان کو اس کے اپنے نفس کے بارے میں جواب دہی کرنی ہوگی، لیکن تم سے نہ صرف تمہارے نفس کے بارے میں پوچھا جائے گا بلکہ ان لوگوں کے بارے میں بھی حساب لیا جائے گا جو تمہارے زیرِ اختیار ہیں۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ سے بہت زیادہ ڈرو، کیونکہ تمہارے سامنے ایک ایسا دن آنے والا ہے جس میں مائیں اپنے دودھ پیتے بچوں کو بھی خوف اور دہشت کی وجہ سے بھول جائیں گی۔ خوف کی شدت سے حاملہ عورتیں اپنے حمل گرا دیں گی۔ تم لوگوں کو مدہوش دیکھو گے، حالانکہ وہ مدہوش نہیں ہوں گے، بلکہ اللہ تعالیٰ کا عذاب بہت شدید ہوگا۔اس نصیحت اور وعظ کو سن کر سعید پاشا مزید کانپنے لگے اور بلند آواز سے رونے لگے۔مولانا خالدؒ اٹھے اور اپنا مبارک ہاتھ پاشا کی گردن پر رکھا، پھر دونوں ساتھ ساتھ مسجد کے قریب واقع خانقاہ میں تشریف لے گئے۔ [33]
آپ کے اعلی اخلاق و کردار سے امراء حکومت بھی متاثر تھے۔ یہی وجہ تھی کہ امراء و وزراء بھی آپ کی خانقاہ سے استفادہ کرتے۔لیکن ان عقیدت مندوں کے ساتھ ایک شخص جو ان سے حسد کرتا تھا، استنبول کے محل کے وزراء میں سے ایک تھا۔ وہ مولانا خالد کی شہرت اور عزت کو برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ آخرکار ایک دن اسے موقع ملا کہ وہ سلطان کے سامنے ان کی برائی کرے اور اس نے سلطان سے کہا کہ مولانا خالد کے پاس دسیوں ہزار آدمی ہیں۔ یہ صورتِ حال ریاست اور سلطنت دونوں کے لیے نہایت خطرناک ہے۔ ظاہر ہے کہ اس خطرے کے بڑھنے سے پہلے اسے ختم کرنا ضروری ہو گیا ہے۔سلطان محمود خان نے جواب دیا
No harm can come to the state from this blessed man of religion rather he can bring us great benefit. [34]
“اس بابرکت مردِ دین سے ریاست کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا، بلکہ وہ ہمارے لیے بڑا فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
مولانا خالد بغدادی نے وزراء اور امراء سے تعلقات قائم کرکے معاشرے میں مروجہ بدعات اور خرافات کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ان بدعات کو جو اسلام کی اصل شناخت کو مسخ کرنے کے درپے تھیں ان کا قلع قمع کیا اور مسلمانوں کو توحید و رسالت کی اصل بنیادوں تک شناسائی فراہم کی۔عرب مورخ بطرس أبو مَنَّه لکھتے ہیں
Because of their closeness to the sultan, the shaykhs of the Nakşbendi order were often assigned to look after the convents. Most importantly, as part of the Sunnitisation of the Bektaşis, a Nakşbendi shaykh took over the central Hacı Bektaş Veli convent in central Anatolia. The Nakşbendi shaykhs, who replaced Bektaşi shaykhs in other convents often came from the Halidiyye/Khalidiyya suborder of the revivalist and sharia-based Müceddīdī/Mujaddīdī branch, whose founder Shaykh Khalid had emphasised a strong fulfilment of sharia and the revival of the Sunna. He had urged his followers in Ottoman domains who had been active since the early nineteenth century that they should ‘rectify the beliefs’ (tasḥīḥ al-i‘tiqād) of the Muslims.[35]
سلطان کے ساتھ قربت کی وجہ سے نقشبندی سلسلے کے مشائخ کو اکثر خانقاہوں کی نگرانی اور انتظام کی ذمہ داری سونپی جاتی تھی۔ خاص طور پر بکتاشیوں کی اصلاح کے عمل کے تحت وسطی اناطولیہ میں واقع مرکزی خانقاہِ حاجی بکتاش ولی کا انتظام ایک نقشبندی شیخ کے سپرد کر دیا گیا۔دیگر خانقاہوں میں بھی جہاں بکتاشی مشائخ کی جگہ نقشبندی مشائخ مقرر کیے گئے، ان میں سے اکثر خالدیہ شاخ سے تعلق رکھتے تھے، جو مجددیہ سلسلے کی ایک اصلاحی اور شریعت پر مبنی شاخ تھی۔ اس کے بانی خالد بغدادی نے شریعت کی مضبوط پابندی اور سنت کی تجدید پر خاص زور دیا تھا۔انہوں نے سلطنتِ عثمانیہ کے علاقوں میں اپنے پیروکاروں کو، جو انیسویں صدی کے اوائل سے سرگرم تھے، اس بات کی تلقین کی کہ وہ مسلمانوں کے عقائد کی اصلاح کریں۔
خالد بغدادی کی تحریک نے نہ صرف معاشرتی سطح پر گہری اصلاحات پیدا کیں بلکہ سلطنتِ عثمانیہ کے انتظامی اور فیصلہ سازی کے ڈھانچے پر بھی نمایاں اثرات مرتب کیے۔ ان کی دعوتِ اصلاح، جو شریعت کی پابندی، سنتِ نبوی ﷺ کی پیروی اور بدعات کے خاتمے پر مبنی تھی، نے ہزاروں افراد کی اخلاقی، روحانی اور عملی تربیت کی، جس کے نتیجے میں معاشرے میں دینی شعور، دیانت داری اور نظم و ضبط کو فروغ ملا۔ ان کے مریدین اور خلفا نے خانقاہی نظام کے ذریعے علمی و فکری بیداری کو عام کیا اور عوام کے ساتھ ساتھ خواص تک اپنی اصلاحی فکر پہنچائی۔ مزید برآں، ان کے بااثر مریدین سلطنت کے اہم عہدوں تک پہنچے، جس کے باعث دینی اقدار ریاستی پالیسیوں اور فیصلہ سازی میں بھی شامل ہونے لگیں، اور بعض مواقع پر انہیں انتظامی اور سیاسی معاملات میں مشاورت کا کردار بھی حاصل ہوا۔ اس طرح ان کی تحریک نے ایک طرف معاشرتی اصلاح اور تزکیۂ نفس کے ذریعے افراد کی تعمیر کی، تو دوسری طرف ریاستی نظم و نسق میں دینی و اخلاقی بنیادوں کو مستحکم کر کے ایک ہمہ گیر اصلاحی انقلاب کی صورت اختیار کی۔
خواتین کی تعلیم و تربیت
اسلامی معاشرت کے خدوخال اور اصلاح میں خواتین کا مقام نمایاں ہے۔رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں مردوں کی طرح خواتین بھی تعلیم کے حصول کے لیے حاضر ہوتی تھیں۔۔ نبی کریم ﷺ کے دور سے لے کر قرونِ اولیٰ تک خواتین نہ صرف علمِ حدیث حاصل کرنے میں پیش پیش رہیں بلکہ اسے روایت کرنے، یاد رکھنے اور شاگردوں کو منتقل کرنے میں بھی مرد محدثین کے شانہ بشانہ رہیں۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ، حضرت ام سلمہؓ، حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ، اور شفاء بنت عبد اللہؓ جیسی جلیل القدر خواتین نے ہزاروں احادیث روایت کیں اور اپنی علمی بصیرت، فقہی فہم اور تنقیدی مہارت کی بنا پر عظیم علمی ورثہ چھوڑا۔حضرت عمر فاروقؓ نے شفاء بنت عبد اللہؓ کی علمی صلاحیت اور فہم و فراست کو دیکھتے ہوئے انہیں مدینہ منورہ کے بازار کی نگرانی کا منصب سونپا۔ ابن سعد اپنی مشہور کتاب الطبقات الکبریٰ میں بیان کرتے ہیں
"شفاء بنت عبد اللہؓ کو حضرت عمرؓ نے بطور محتسب بازار مقرر کیا، تاکہ وہ انصاف کے اصولوں پر نگرانی کریں اور دھوکہ دہی و ظلم سے روکیں۔”[36]
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ سے علم و تربیت حاصل کرنے کے بعد صحابیات مطہرات نے درس و تدریس کے ساتھ ساتھ انتطامی امور میں بھی اپنی خدمات پیش کیں۔ صاحبانِ طریقت کی زندگی کا ہر پہلو جس طرح سنتِ نبویﷺ کا آئینہ دار ہوتا ہے اسی طرح آپ کا اندازِ تعلیم و تربیت بھی رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ علم و حکمت کے نقوش کی پیروی میں نظر آتا ہے۔ جس طرح حضورﷺ کی بارگاہ میں خواتین کی تعلیم و تربیت کا خصوصی انتظام ہوتا تھا اسی طرح مولانا خالد بغدادی نقش بندیؒ کی روحانی و علمی خانقاہ سے صرف مرد ہی نہیں بلکہ خواتین بھی استفادہ کرتی تھی۔ خواتین کی اصلاح ، تعلیم و تربیت کے لیے آپ نے خصوصی کاوشیں کیں۔آپ کی اصلاحِ معاشرہ کی تحریک میں خواتین کا کردار نمایاں ہے، جو سلسلہ طریقت کے تیزی سے پھیلاؤ میں نہایت مؤثر ثابت ہوئیں اور آج بھی دور میں بھی آپ کی خانقاہ میں خاصا اثر و رسوخ اور کردار ادا کر رہی ہیں۔ علماء دمشق وأعيانها في القرن الثالث عشر الهجري میں مرقوم ہے
Though women are almost completely absent from scholar- ship on Shaykh Khalid’s life, his wife Khadija and other women were teachers, administrators, financial contributors, and political leaders in the Naqshbandiyya-Khalidiyya.[37]
اگرچہ شیخ خالدکردی کی زندگی پر لکھی گئی تحقیق میں خواتین کا ذکر تقریباً کم ملتا ہے ، لیکن ان کی اہلیہ خدیجہ اور ان کی خانقاہ سے تعلم و تربیت حاصل کرنے والے دیگر خواتین بطور معلمہ، منتظمہ، مالی معاون اور سیاسی رہنما کے طور پر سرگرم تھیں۔
اس سے معلوم ہوتا ہےآپ کی اہلیہ اور خانقاہ سے مستفید ہونے والی دیگر خواتین نہ صرف درس و تدریس کی خدمات سرانجام دیتی بلکہ مالی امور میں معاونت اور بطور سیاسی رہنما کے بھی شانہ بشانہ خدمات سرانجام دیتی ۔ اسی طرح آپ کی اہلیہ اور دیگر خواتین آپ کی اہلیہ اور دیگر خواتین کی طرح آپ کی صاحبزادی فاطمہ بھی دمشق کی ایک نمایاں معلمہ تھی۔ عبدالغنی ابراہیم الدروبی لکھتے ہیں
One of Khalid’s daughters, Fátima, was a prominent teacher of the order in Damascus in the nineteenth century, while the largest contributor to Khalid’s properties in Bagh- dad was a woman.[38]
شیخ خالد کی ایک بیٹی فاطمہ انیسویں صدی میں دمشق میں اس سلسلے کی ایک نمایاں معلمہ تھیں، جبکہ بغداد میں شیخ خالد کی جائیدادوں کے لیے سب سے بڑی مالی معاون بھی ایک خاتون ہی تھیں۔
آپ کی اہلیہ خدیجہ نے شیخ خالدبغدادی نہ صرف زندگی میں بلکہ ان کی وفات کے بعد ساٹھ سال سے زائد عرصے تک شام میں آپ کی خانقہ کی املاک اور اوقاف کی سرپرستی کی خدمات سرانجام دیں، اور سلطنتِ عثمانیہ کے اشرافیہ، حتیٰ کہ شاہی خاندان کے افراد کے ساتھ بھی قریبی روابط رکھے اور دینی امور میں ان کی اصلاح اور ان کی خدمات کا شامل رکھا۔آپ 111 برس کی عمر میں اپنی وفات تک، استنبول اور دمشق میں اور نقشبندیہ خالدیہ سلسلے کے ماننے والوں میں نمایاں سیاسی اثر و رسوخ رکھتی تھیں۔ Annabelle Bottcher اپنی کتاب میں لکھتی ہیں
ان خواتین کی خانقاہ میں اہمیت پر حیرت نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ شیخ خالد کی تعلیمات یا اس سلسلہ کی تعلیمات میں کوئی ایسی بنیادی بات نہیں جو خواتین کو اس سماجی تحریک یا عمومی طور پر سیاسی زندگی میں حصہ لینے سے روکے۔ جس طرح شیخ خالد سے ان کے مرد مریدوں تک روحانی نسبت موجود ہے، اسی طرح خواتین مشائخ کا بھی ایک فعال سلسلہ ان کی زندگی ہی سے جاری ہے۔آج بھی صرف دمشق میں ہر سال سینکڑوں لڑکیاں اور نوجوان خواتین اس طریقے میں تربیت حاصل کرتی ہیں اور اپنے حلقۂ اثر کو فروغ دیتی ہیں۔[39]
احیائے سنت و شریعت اور رَدِّ بدعات
شیخ خالد بغدادی نقش بندی کے نزدیک ان کی دعوت و جدوجہد کا محور اس امر کو یقینی بنانا تھا کہ معاشرے اور ریاست دونوں میں شریعت کی بالادستی قائم ہو۔ کیونکہ اسی صورت میں معاشرے کے مختلف طبقات میں اخلاق و صلاح کی تجدید ممکن تھی، اور حکمران و اہلِ اقتدار کے اعمال بھی راہِ راست پر آ سکتے تھے۔ بالفاظِ دیگر، اگر اُمت راہِ راست سے ہٹ گئی تھی تو اس کی ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہوتی تھی۔ چنانچہ حضرت مجدد الف ثانیؒ کی پیروی میں، شیخ خالد کے نزدیک نقشبندی مجددی مشائخ کا یہ اوّلین فریضہ تھا کہ وہ اربابِ اقتدار پر اثرانداز ہوں اور انہیں اتباعِ شریعت پر آمادہ کریں۔درحقیقت یہ نقشبندی مجددی سلسلے کے بنیادی اصول کی نہایت واضح تعبیر ہے۔ ان کی کوششوں ہی کا نتیجہ تھا کہ بغداد کو “مجمع البحرین” یعنی “دو سمندروں کے ملنے کی جگہ” کہا جانے لگا۔ یوں ایک بار پھر یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ شریعت کے علوم اور تصوف کے علوم آپس میں متضاد نہیں، بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں اور مل کر انسان کے اخلاق کو سنوارتے ہیں۔ شریعت، طریقت اور حقیقت کا نور اس طرح دلوں میں روشن ہوتا تھا جیسے پورا چاند طلوع ہو رہا ہو۔محمد اسعد نقش بندی بغیۃ الوجد میں لکھتے ہیں
When Khalid Al-Baghdadi migrated to Syria, that blessed land also began to come to life. The innovations that had invaded were minimized through his selfless struggle.[40]
جب خالد بغدادی شام کی طرف ہجرت کر گئے تو وہ بابرکت سرزمین بھی نئی زندگی سے ہمکنار ہونے لگی۔ ان کی بے لوث جدوجہد کے نتیجے میں پھیلتی ہوئی بدعات کافی حد تک کم ہو گئیں۔
آپ ہمیشہ اپنے مریدین کو اتباع سنت اور بدعات سے بچنے کا درس دیتے تھے۔ اپنے ایک مکتوب میں آپ تحریر کرتےہیں:
یہ بات واضح ہے کہ تمام سلاسل، بالخصوص سلسلۂ نقشبندیہ میں سب سے اہم ادب شریعت کی کامل پیروی ہے۔ اسی طرح ضروری ہے کہ انسان مصیبت اور سختی کے وقت صبر اختیار کرے اور فراخی اور آسانی کے وقت اللہ کا شکر ادا کرے۔ نبی کریم ﷺ کی سنت کو زندہ کرنے کی کوشش کرے اور بری بدعات سے اپنے آپ کو دور رکھے، اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے کامیابی کی دعا مانگتا رہے۔انسان کو چاہیے کہ دن رات کوشش کرے کہ دل میں آنے والے غیر ضروری خیالات کو ختم کرے، خواہ وہ آخرت سے متعلق ہی کیوں نہ ہوں، تاکہ دل میں بیداری اور ذکر کی کیفیت راسخ ہو جائے، یہاں تک کہ دل کی حالت ایسی ہو جائے گویا وہ ہر وقت اللہ کو دیکھ رہا ہے، اور دنیا و آخرت میں اس کی کوئی فکر باقی نہ رہے سوائے محبوبِ حقیقی کے۔ حالتِ حیرت کو دائمی ذکر اور شعور کے ساتھ جمع رکھے، اور اپنے تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ کے سامنے کامل سپردگی اختیار کرے۔[41]
اس سے واضح ہوتا ہے کہ آپ اپنے مریدین کو اللہ کی شکر گزاری، نبی کریم ﷺ کی سنت کو زندہ رکھنے اور آخرت کی فکر کی دعوت دیتے تھے۔اپنے زمانے کے ایک جلیل القدر عالم محمد امین السویدی احیائے سنت کے لیے آپ کی کاوشوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
“مولانا خالد بغدادی لوگوں کو قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کرنے کی دعوت دیتے تھے، اور یہی معیار وہ اپنے اعمال کے لیے بھی اختیار کرتے تھے۔ وہ اپنے دل پر وارد ہونے والے کسی الہام یا کشف کو اس وقت تک قبول نہیں کرتے تھے جب تک ان کے لیے ان دو عادل گواہوں، یعنی قرآن اور سنت میں کوئی دلیل نہ پا لیتے۔[42]
یہ بات واضح کرتی ہے کہ خالد بغدادی دینی معاملات میں کس قدر محتاط تھے اور وہ کتابِ الٰہی اور رسولِ اکرم ﷺ کی سنتِ مبارکہ کی کامل اطاعت و پیروی کرتے تھے۔امام آلوسی اپنے استاد خالد بغدادی کی اتباع سنت اور اعلی اخلاق کے بارے میں یوں لکھتے ہیں:
“انہوں نے اپنی جوانی ایسی گزاری جو فضائل سے بھرپور تھی، اور اپنے اردگرد اسلام کی خوبصورتی کو عام کیا۔ وہ اہلِ سنت والجماعت کے راستے پر چلنے میں نہایت پختہ عزم رکھتے تھے۔ وہ ایک لمحہ بھی بے فائدہ کام میں ضائع نہیں کرتے تھے، بلکہ یا تو کسی شرعی مسئلے کو حل کرنے میں مصروف رہتے یا عبادت میں مشغول ہوتے۔ ان کا ظاہر نہایت حسین اور اخلاق اعلیٰ تھے، جبکہ ان کا باطن نور سے معمور اور روشن تھا۔مختصراً یہ کہ اس صدی میں کوئی اور ایسا شخص نظر نہیں آتا جس نے ان کی طرح تمام خوبیوں کو یکجا کیا ہو، میں نے ان جیسا کوئی نہیں دیکھا۔”
ابن عابدین شامی آپ کے اوصاف اور شریعتِ مطہرہ کی پیروی کے بارے میں لکھتے ہیں
ضِيَاءُ الدِّينِ الشَّيْخُ خالد بغدادی النَّقْشَبَنْدِيُّ ، أَدَامَ اللَّهُ ظِلَّ فُيُوضَاتِهِ وَإِحْسَانِهِ عَلَى رُءُوسِ الطَّالِبِينَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ آمِينَ ۔ بِأَنَّهُ أَعْلَمُ مَنْ رَأَيْتُ، وَأَتْقَى وَأَوْرَعُ وَأَكْرَمُ وَأَزْهَدُ مَنْ فِي الْأَرْضِ فِي هٰذَا الْعَصْرِ، وَأَقْوَمُهُمْ عَلَى الشَّرِيعَةِ الْغَرَّاءِ وَالسُّنَّةِ النَّبَوِيَّةِ الزَّهْرَاءِ وَالْأَخْلَاقِ الْكَرِيمَةِ الْمُحَمَّدِيَّةِ الْعُلْيَا، وَنَاهِجٌ مَنَاهِجَ جَادَّةٍ فِي الطَّرِيقَةِ الْعَلِيَّةِ النَّقْشَبَنْدِيَّةِ، كَثَّرَ اللَّهُ تَعَالَى أَهَالِيَهُ، وَقَدَّسَ أَسْرَارَهُ وَسَوَائِرَهُ، وَجَعَلَنَا وَإِيَّاكُمْ مِنَ الصَّالِحِينَ مِنَ الْعُلَمَاءِ وَالْأَوْلِيَاءِ وَالْأَتْقِيَاءِ، وَكَذَا أَتْبَاعَهُ عَلَى هَدْيِهِ وَسِيرَتِهِ الشَّرِيفَةِ الطَّاهِرَةِ الْأَسْنَى۔[43]
ضیاء الدین شیخ خالد نقشبندی ، اللہ تعالیٰ قیامت تک طالبانِ حق کے سروں پر ان کی فیوضات اور احسانات کا سایہ قائم رکھے، آمین ۔ آپ کے بارے میں (میں گواہی دیتا ہوں کہ) وہ اُن تمام لوگوں میں سب سے بڑے عالم ہیں جنہیں میں نے دیکھا، اور وہ اس زمانے میں روئے زمین پر سب سے زیادہ متقی، پرہیزگار، کریم اور زاہد ہیں، وہ شریعتِ منورہ، سنتِ نبویہ اور اعلیٰ محمدی اخلاق پر سب سے زیادہ مضبوطی سے قائم ہیں، اور طریقۂ عالیہ نقشبندیہ کے مضبوط اور سیدھے راستوں پر گامزن ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے اہل و عیال کو برکت عطا فرمائے، ان کے اسرار کو مقدس بنائے، اور ہمیں اور آپ کو صالحین یعنی علماء، اولیاء اور متقینمیں شامل فرمائے، اور اسی طرح ان کے پیروکاروں کو بھی ان کی ہدایت اور پاکیزہ و بلند سیرت پر قائم رکھے۔”
مولانا خالد بغدادی نے اپنی خانقاہ کے زریعے ہزاروں افراد کی تربیت کی اور ان تربیت یافتہ سینکڑوں خلفاء کے ذریعے ایک گراں قدر خدمت انجام دی، جس کے نتیجے میں بدعات کا خاتمہ، شریعتِ نبوی کا نفاذا ور احیائے سنت کا عظیم فریضہ سرانجام پایا، سلسلۂ نقشبندیہ اسلامی علاقوں میں مزید وسیع ہوا اور بااخلاق مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ روحانیت کی اس نشر و اشاعت نے غالباً ہماری قریبی تاریخ کے روحانی بحران کو بڑی حد تک مؤخر کر دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کے نتیجے میں عوام کی روحانیت مضبوط ہوئی اور دین کو بدعات سے پاک کرنے میں مدد ملی۔
ابن عابدین شامی اپنے رسالہ سل الحسام الہندی میں مولانا خالد بغدادی کی اصلاحِ معاشرہ کے لیے کی جانے والی خدمات کو بیان کرتے ہیں
ان حضرة الامام المترجم قد تفضل الله تعالى به على أهل الشام وانعم * حيث جعلها محل قراره* ومحط رحاله وتسياره* ودخلها سنة ثمانية وثلاثين بخدمه وحشمه وجملة من الخلفاء والمريدين * فغصت ابوابد بالزحام وهرع إلى خدمته الخاص والعام * يتبرك بزيارته الامراء والحكام * نافذ الكلمة فيهم بلا نقض ولا إبرام* تتواد عليه المكاتبات من أعيان الدولة المنصورة * وامراء عامة الاقطار المعمورة. وهو مع ذلك لم يشتغل عن نشر العلوم الشرعيه * واشادة شعار الطريقة النقشبنديه وإرشاد السالكين * وتربية المريدين * واحياء كثير من مساجد دمشق الشام قد آلت إلى الاندراس والانهدام* بإقامة الصلوات والاوراد والاذكار وإرشاد الحلق إلى طرق السادة الابرار* حتى صار عين جلق * ويدرها المتالق* ودر تاجها * وسبب رواجها* والمشار إليه من بين اهلها والمعول عليه في دفع الملمات وحلها مالى ان اصيبت بعين الزمان۔[44]
بے شک اللہ تعالیٰ نے اس امام پر اہلِ شام کے لیے خاص فضل و احسان فرمایا، اور ان کے ذریعے شام کو شرف بخشا، کیونکہ اللہ نے اسے ان کے قیام، سفر اور مستقل ٹھکانے کے لیے مرکز بنا دیا۔ وہ سن 1238ھ میں اپنے خدام، خیمہ و لشکر اور مریدین و خلفاء کی بڑی جماعت کے ساتھ شام میں داخل ہوئے، جس کی وجہ سے دروازے لوگوں کے ہجوم سے بھر گئے اور ہر خاص و عام ان کی خدمت کے لیے دوڑ پڑا۔ امراء اور حکام ان کی زیارت کو باعثِ برکت سمجھتے تھے، اور ان کا حکم ان کے درمیان بلا کسی اختلاف کے نافذ ہوتا تھا۔ سلطنت کے بڑے بڑے افراد اور مختلف ممالک کے حکمرانوں کی طرف سے ان کے پاس خطوط آتے رہتے تھے۔اس سب کے باوجود وہ دینی علوم کی نشر و اشاعت، نقشبندی طریقت کے فروغ، سالکین کی رہنمائی اور مریدین کی تربیت سے غافل نہ رہے۔ انہوں نے دمشق کے کئی ایسے مساجد کو، جو ویران اور منہدم ہو چکے تھے، دوبارہ آباد کیا، وہاں نماز، اذکار اور اوراد کا اہتمام کیا اور لوگوں کو نیک لوگوں کے راستوں کی طرف رہنمائی دی۔یہاں تک کہ دمشق ان کے ذریعے ایک بار پھر علم و روحانیت کا مرکز بن گیا، اس کی رونق انہی کی برکت سے بڑھی، اور وہ اس شہر کی زینت، تاج اور اس کی ترقی کا سبب بنے۔ اہلِ شہر میں وہ ایک نمایاں شخصیت تھے، مشکلات کے وقت ان کی طرف رجوع کیا جاتا تھا، اور وہ ہر طرح کے مسائل کے حل میں مرجع سمجھے جاتے تھے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے حلقہ میں علما وقت اور مریدین کا جم غفیر ہوتا تھا ، اس کے ساتھ ساتھ امرا سلطنت کے ساتھ روابط اور امور سلطنت میں بھی پیش پیش رہتے ۔ اس سب کے باوجود دین کی اشاعت و خدمت اور اصلاح معاشرہ ،مساجد کی تعمیر و آباد کاری میں بھی سرگرم رہتے۔ ان تمام کاوشوں کی وجہ سے دمشق علم و روحانیت کا مرکز بنا۔اور یہی عالم بیشمار دیگر شہروں کا بھی تھا جہاں کے عوام و خواص آپ سے مستفید ہوتے تھے۔ جیسا کہ ابن عابدین شامی مزید لکھتے ہیں
انْتَفَعَ بِهِ خَلْقٌ كَثِيرُونَ مِنَ الأَكْرَادِ وَأَهْلِ كَرْكُوكَ وَأَرْبِيلَ وَالمَوْصِلِ وَالعِمَادِيَّةِ وَعَيْنْتَابَ وَحَلَبَ وَالشَّامِ وَالمَدِينَةِ المُنَوَّرَةِ وَمَكَّةَ المُعَظَّمَةِ وَبَغْدَادَ.وَهُوَ كَرِيمُ النَّفْسِ، حَمِيدُ الأَخْلَاقِ، بَاذِلُ النَّدَى، حَامِلُ الأَذَى، حُلْوُ المُفَاكَهَةِ وَالمُحَاضَرَةِ، رَقِيقُ الحَاشِيَةِ وَالمُسَامَرَةِ، ثَبْتُ الجَنَانِ، بَدِيعُ البَيَانِ، طَلْقُ اللِّسَانِ، لاَ تَأْخُذُهُ فِي اللهِ لَوْمَةُ لاَئِمٍ، يَأْخُذُ بِالأَحْوَطِ وَالعَزَائِمِ، يَتَكَلَّفُ الأَرَامِلَ وَالأَيْتَامَ، شَدِيدُ الحِرْصِ عَلَى نَفْعِ الإِسْلاَمِ.[45]
ان سے کرد، کرکوک، اربیل، موصل، عمادیہ، عینتاب، حلب، شام، مدینہ منورہ، مکہ مکرمہ اور بغداد کے بہت سے لوگ مستفید ہوئے۔وہ بلند نفس، عمدہ اخلاق والے، سخاوت کرنے والے، تکلیف برداشت کرنے والے، خوش مزاج اور خوش گفتار، نرم دل اور دلنشین ہم نشینی رکھنے والے، مضبوط ارادے والے، فصیح و بلیغ، کھری اور بے باک زبان رکھنے والے تھے۔ وہ اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی پرواہ نہیں کرتے تھے، ہمیشہ احتیاط اور عزیمت کو اختیار کرتے تھے، بیواؤں اور یتیموں کی کفالت کرتے تھے، اور اسلام کی خدمت کے لیے انتہائی کوشش کرنے والے تھے۔
خانقاہ مولانا خالد بغدادی کے معاشرے پر اثرات
خالد بغدادی کی اصلاحی اور تعلیمی خدمات اسلامی تاریخ میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ انہوں نے اپنی تدریس اور تربیت کے ذریعے ایک ایسے منظم علمی و روحانی نظام کی بنیاد رکھی جس میں شریعت کی پابندی، سنت کی احیاء اور تزکیۂ نفس کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ ان کی خانقاہیں محض عبادت گاہیں نہیں بلکہ علمی مراکز تھیں جہاں قرآن، حدیث، فقہ اور تصوف کی باقاعدہ تعلیم دی جاتی تھی، اور طلبہ کی ہمہ جہت تربیت کی جاتی تھی۔
ان کے فیض یافتہ افراد میں محمد امین السویدی، امام آلوسی اور دیگر علماء شامل ہیں جنہوں نے علمی و فکری میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ اسی طرح نقشبندیہ خالدیہ کے اثرات قفقاز تک پہنچے، جہاں امام شامل جیسے مجاہد رہنما سامنے آئے، جنہوں نے نہ صرف روحانی تربیت حاصل کی بلکہ عملی میدان میں بھی اسلام کے دفاع کے لیے جدوجہد کی۔
ان کے خلفاء نے تصنیف و تالیف، تدریس، اصلاحِ عقائد اور معاشرتی رہنمائی کے ذریعے ایک وسیع دینی نیٹ ورک قائم کیا، جس کے نتیجے میں اسلامی معاشرے میں دینی شعور اور اخلاقی بیداری کو فروغ ملا۔ حیفا یونیورسٹی کے پروفیسر اور تاریخ دان Itzchak Weismann اپنی کتاب میں لکھتے ہیں
His numerous deputies established secondary centers in their home cities and towns, forming a wide network that covered Kurdistan and the adjacent areas.[46]
ان کے بے شمار خلفاء نے اپنے اپنے شہروں اور قصبوں میں ثانوی مراکز قائم کیے، جس کے نتیجے میں ایک وسیع نیٹ ورک وجود میں آیا جو کردستان اور اس سے ملحقہ علاقوں تک پھیل گیا۔
قفقاز کے عظیم مجاہدِ اسلام ، امام شامل نقشبندی، جنہوں نے چوبیس برس تک مسلسل روسیوں کے خلاف جہاد کیا، اسی بابرکت سلسلے سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ بات واضح ہے کہ تصوف ،جس نے ایسے بے شمار بہادر مجاہد پیدا کیے وہ انسان کو معاشرے سے الگ ہو کر کنارہ کش ہونے اور ترکِ دنیا کی تعلیم نہیں دیتا۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ سچے صوفی اپنے اندر کی اصلاح کے ساتھ ساتھ اپنے معاشرے کو بھی بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لیے ان کی زندگی میں روحانی اورعملی دونوں طرح کی جدوجہد واضح نظر آتی ہے۔ عماد عبد اللطیف ندّاف لکھتے ہیں
The Khalidiyya was introduced into the North Caucasus a quarter of a century later by Isma‘il al-Kurdemiri, an indigenous deputy of Khalid who established himself in Shirvan in today’s Azerbaijan. His foremost deputy in the neighboring land of Daghestan was the learned Muhammad al-Yaraghi who, together with his own deputy Jamal al-Din al-Ghazi Ghumuqi, spread the path farther west to the more superficially Islamized Chechnia. The aggressive anti-Islamic policy of the Russians ultimately forced Yaraghi in 1829 to give his sanction to jihad. The war was conducted by three successive 105 SCHOLARSHIP AND ORGANIZATION Imams, the last of whom, Shamil, established an Islamic state in the territories under his control and continued the resistance for almost three decades.[47]
سلسلۂ خالدیہ کو تقریباً پچیس سال بعد شمالی قفقاز میں اسماعیل الکردمیری نے متعارف کرایا، جو مولانا خالد کے مقامی خلیفہ تھے اور موجودہ آذربائیجان کے علاقے شیروان میں مقیم ہوئے۔ان کے نمایاں خلیفہ پڑوسی خطے داغستان میں محمد الیراغی تھے، جنہوں نے اپنے خلیفہ جمال الدین الغازی غموقی کے ساتھ مل کر اس سلسلے کو مزید مغرب کی طرف چیچنیا تک پھیلایا، جہاں اسلام نسبتاً سطحی طور پر موجود تھا۔روسیوں کی اسلام مخالف جارحانہ پالیسی نے بالآخر محمد الیراغی کو 1829ء میں جہاد کی اجازت دینے پر مجبور کر دیا۔ اس کے بعد یہ جنگ تین مسلسل ائمہ کی قیادت میں لڑی گئی، جن میں آخری امام شامل تھے، جنہوں نے اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں میں ایک اسلامی ریاست قائم کی اور تقریباً تین دہائیوں تک مزاحمت جاری رکھی۔
ان کی تربیت کے اثرات یہ تھے کہ ان کے شاگرد نہ صرف علمی اعتبار سے ممتاز ہوئے بلکہ عملی اور اخلاقی میدان میں بھی نمایاں کردار ادا کرنے لگے۔ ان کے مریدین اور خلفاء نے مختلف علاقوں میں جا کر دینی علوم کی اشاعت، بدعات کے خاتمے اور اصلاحِ معاشرہ کا فریضہ انجام دیا۔ خاص طور پر ان کے خلفاء نے عثمانی سلطنت، شام، عراق، کردستان اور دیگر علاقوں میں خانقاہی نظام کو پھیلایا اور اسے ایک مؤثر اصلاحی تحریک کی صورت دی۔
سفارشات
- مختلف صوفی سلاسل (مثلاً نقشبندیہ، قادریہ، چشتیہ) کے خانقاہی نظام کا تقابلی جائزہ لیا جائے تاکہ ان کے تعلیمی، روحانی اور سماجی کردار کی مماثلتوں اور امتیازات کو واضح کیا جا سکے۔
- خالدیہ نقشبندیہ کے اثرات کو مختلف خطوں جیسے شام، عراق، کردستان اور برصغیر میں الگ الگ تحقیق کا موضوع بنایا جائے تاکہ اس کے پھیلاؤ اور اثر پذیری کی نوعیت کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔
- اس پہلو پر مزید تحقیق کی جائے کہ خانقاہی نظام نے کس حد تک ایک متبادل یا غیر رسمی تعلیمی نظام کے طور پر کردار ادا کیا اور اس کا تقابل عصری تعلیمی اداروں سے کیا جائے۔
- اس امر کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے کہ تصوف اور تزکیۂ نفس نے معاشرتی اصلاح، اخلاقی تربیت اور اجتماعی رویوں پر کس طرح اثر انداز کیا۔
- عثمانی دور میں صوفی اداروں اور ریاستی نظم کے باہمی تعلقات، اثرات اور حدود کا تحقیقی جائزہ لیا جائے، خاص طور پر پالیسی سازی میں ان کے کردار کو واضح کیا جائے۔
- اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ خانقاہی نظام کے اصولوں کو موجودہ دور کے تعلیمی و فلاحی اداروں میں کس حد تک نافذ کیا جا سکتا ہے۔
- خالدیہ سلسلے سے متعلق غیر مطبوعہ مخطوطات، خطوط اور دستاویزات کو تلاش کر کے تحقیق میں شامل کیا جائے تاکہ مزید مستند معلومات سامنے آ سکیں۔
مصادر و مراجع - القرآن: 87/14
- محمد بن اسماعیل البخاري ، صحیح بخاری ( لاہور: پروگریسو بکس، ۲۰۱۶)
- مسلم بن حجاج القشیری، صحیح مسلم (لاہور: خالد احسان پبلشر ،۲۰۰4)
- احمد یار خان نعیمی ، تفسیر نور العرفان(لاہور: پیر بھائی کمپنی، 2018)
- المعجم الوسیط(قاہرہ: دار الدعوۃ، سن)
- مولانا عبدالحفیظ، مصباح اللغات ( لاہور: مکتبہ قدوسیہ، 1999)
- ابوالقاسم قشیری، رسالہ قشیریہ(قاہرۃ: دار المعارف،سن)
- محمد عمیم الاحسان المجددی، التعریفات الفقھیۃ (بیروت: دارالکتب العلمیۃ، 2003)
- زین الدین محمد عبدالرووف بن تاج العارفین، (القاہرۃ: عالم الکتب، 1990)
- المعجم الوسیط(مصر: مکتبہ الشروق الدولیۃ، 2004)
- محمد رواس قلعچی، معجم لغۃ الفقھاء(بیروت: دار النفائس للطباعۃ والنشر والتوزیع، 1988)
- ابوبکر محمد بن اسحاق بن ابراھیم بن یعقوب الکلاباذی، التعرف لمذھب اھل التصوف (بیروت: دارالکتب العلمیۃ، سن)
- ابوالقاسم قشیری، رسالہ قشیریہ(قاہرۃ: دار المعارف،سن)،
- احسان الہی ظہیر، تصوف تاریخ و حقائق (لاہور: ادارہ ترجمان السنہ،2010)
- ابو طالب المکی، قوۃ القلوب (بیروت: دارصادر، سن)، 1: 267
- ابن عجیبہ الحسنی، ایقاظ الھمم (بیروت: مکتبہ مصطفیٰ البابی حلمی، 1981)، 213
- ڈاکٹر حفیظ الرحمن، تصوف اور صوفیا کی تاریخ (لاہور: شاکر پبلی کیشنز،2014)
- ڈاکٹر محمد نذیر رانجھا ،تاریخ وتذکرہ خانقاہِ مظہریہ(لاہور :مشتاق پرنٹرز، 2006)
- غلام محی الدین قصوری، ملفوظات شریفہ (حضرت شاہ غلام علی دہلویؒ)، 114
- محمد بن عبد اللہ خانی خالدی،البہجۃ السنیہ فی آداب الطریقۃ الخالدیہ(بیروت: دارالکتب2003)
- رؤف احمد رافت مجددی،درّ المعارف(استبول: مکتبہ الحقیقۃ، 2010)
- خیر الدین الزرکلی،الاعلام(بیروت، دارالعلم للمابین، 2004)
- محمد روف احمد، جواہر علویہ (لاہور: نولکشور پرنٹنگ ورکس، سن)
- محمد نذیر رانجھا، مکاتیب شریفہ (میانوالی: خانقاہ سراجیہ نقشبندیہ مجددیہ، 2009)
- ابراہیم فارس، المجد التالد فی مناقب مولانا خالد (استنبول: المکتبہ الہاشمیہ،2014)
- شامی، علامہ ابن عابدین،سل الحسام الہندی لنصرۃ مولانا خالد النقش بندی(استنبول: دارالسلام، 2024)
- محمد اسعد نقش بندی، بغیۃ الوجد (ترکیا: مکتبہ سیدا، 2012)
- عبدالمجید بن محمد الخانی، الحدائق الوردیۃ (اربل: دارئاراس،سن)
- ابراہیم فارس، المجد التالد فی مناقب مولانا خالد (استنبول: المکتبہ الہاشمیہ،2014)
- علامہ ابن عابدین شامی، مجموعہ رسائل ابن عابدین (دمشق: الدار الشامیہ، 2023)
- علامہ ابن عابدین شامی، سل الحسام الهندي(استنبول: در سعادت، 1325)
- ابنِ سعد،الطبقات الکبریٰ(کراچی : نفیس اکیڈمی، سن)
- Abu-Manneh, Butrus. “The Naqshbandiyya-Mujaddidiyya in the Ottoman Lands in the Early 19th Century.” Die Welt Des Islams 22, no. 1/4 (1982)
- Muti Al Hafiz, Ulama Dimashq wa-a’yanuha fi al-qarn al-thalith ‘ashar al-hijri (Bayrut: Dar al-Fikr, 1991), 2: 681-682
- Abd al-Ghani Ibrahim al-Durubi, al-Baghdadiyun: Akhbaruhum wa-Majalisuhum (Baghdad: Dar al-Shu’un al-Thaqafiya al-‘Ammah, 2001)
- Annabelle Böttcher, Islamic Teaching among Sunni Women in Syria, (Bloomington: Indiana University Press, 2002)
- Itzchak Weismann, The Naqshbandiyya: Orthodoxy and Activism in a Worldwide Sufi Tradition (New Yourk, Routledge, 2007)
- Imad ‘Abd al-Latif Naddaf, al-Shaykh Ahmad Kuftaru yatahaddathu (Beirut, 1997)
- Osman Nuri Topbas, Khalid Al-Baghdai (Istanbul: Ekram Publications, 2022)
[1] ۔ المعجم الوسیط، مجمع اللغۃ العربیہ بالقاھرۃ (قاہرہ: دار الدعوۃ، سن)، 1: 529
[2] ۔ مولانا عبدالحفیظ، مصباح اللغات ( لاہور: مکتبہ قدوسیہ، 1999)، 463
[3] ۔ ابوالقاسم قشیری، رسالہ قشیریہ(قاہرۃ: دار المعارف،سن)، ص 128
[4] ۔ محمد عمیم الاحسان المجددی، التعریفات الفقھیۃ (بیروت: دارالکتب العلمیۃ، 2003)، 58
[5] ۔ زین الدین محمد عبدالرووف بن تاج العارفین، (القاہرۃ: عالم الکتب، 1990)، 98
[6]۔ المعجم الوسیط(مصر: مکتبہ الشروق الدولیۃ، 2004)، 1: 829
[7] ۔ محمد رواس قلعچی، معجم لغۃ الفقھاء(بیروت: دار النفائس للطباعۃ والنشر والتوزیع، 1988)، 133
[8] ۔ ابوبکر محمد بن اسحاق بن ابراھیم بن یعقوب الکلاباذی، التعرف لمذھب اھل التصوف (بیروت: دارالکتب العلمیۃ، سن)، 21
[9] ۔ ابوالقاسم قشیری، رسالہ قشیریہ(قاہرۃ: دار المعارف،سن)، 1: 84
[10]۔ احسان الہی ظہیر، تصوف تاریخ و حقائق (لاہور: ادارہ ترجمان السنہ،2010)
[11] ۔ ابو طالب المکی، قوۃ القلوب (بیروت: دارصادر، سن)، 1: 267
[12] ۔ ابن عجیبہ الحسنی، ایقاظ الھمم (بیروت: مکتبہ مصطفیٰ البابی حلمی، 1981)، 213
[13] ۔ القرآن: 87/14
[14] ۔ احمد یار خان نعیمی ، تفسیر نور العرفان(لاہور: پیر بھائی کمپنی، 2018)، ۱۴: ۹۷۷
[15]۔ القرآن: 2/129
[16]۔ مسلم بن حجاج القشیری، صحیح مسلم (لاہور: خالد احسان پبلشر ،۲۰۰4)، 1: 92،الرقم: 97
[17]۔محمد بن اسماعیل البخاري ، صحیح بخاری ( لاہور: پروگریسو بکس، ۲۰۱۶)،3: 804، الرقم: 6416
[18] ۔ڈاکٹر حفیظ الرحمن، تصوف اور صوفیا کی تاریخ (لاہور: شاکر پبلی کیشنز،2014)، 49
[19] ۔ ڈاکٹر محمد نذیر رانجھا ،تاریخ وتذکرہ خانقاہِ مظہریہ(لاہور :مشتاق پرنٹرز، 2006)، ۳۱۶
[20] ۔ غلام محی الدین قصوری، ملفوظات شریفہ (حضرت شاہ غلام علی دہلویؒ)، 114
[21] ۔ محمد بن عبد اللہ خانی خالدی،البہجۃ السنیہ فی آداب الطریقۃ الخالدیہ(بیروت: دارالکتب2003)، ۸۲
[22] ۔ رؤف احمد رافت مجددی،درّ المعارف(استبول: مکتبہ الحقیقۃ، 2010)، ۵۰
[23]۔ خیر الدین الزرکلی،الاعلام(بیروت، دارالعلم للمابین، 2004)، ۲/۲۹۴
[24]۔ محمد روف احمد، جواہر علویہ (لاہور: نولکشور پرنٹنگ ورکس، سن)، 241
[25] ۔ محمد نذیر رانجھا، مکاتیب شریفہ (میانوالی: خانقاہ سراجیہ نقشبندیہ مجددیہ، 2009)، 207-208
[26] ۔ ابراہیم فارس، المجد التالد فی مناقب مولانا خالد (استنبول: المکتبہ الہاشمیہ،2014)، 136
[27]۔ شامی، علامہ ابن عابدین،سل الحسام الہندی لنصرۃ مولانا خالد النقش بندی(استنبول: دارالسلام، 2024)، ص ۳۱۸
[28] . Osman Nuri Topbas, Khalid Al-Baghdai (Istanbul: Ekram Publications, 2022), 25
[29] . Osman Nuri Topbas, Khalid Al-Baghdai (Istanbul: Ekram Publications, 2022), 25
[30]۔ محمد اسعد نقش بندی، بغیۃ الوجد (ترکیا: مکتبہ سیدا، 2012)، 109
[31] ۔ نفس مصدر، 245
[32] ۔ عبدالمجید بن محمد الخانی، الحدائق الوردیۃ (اربل: دارئاراس،سن)، 255
[33] ۔ ابراہیم فارس، المجد التالد فی مناقب مولانا خالد (استنبول: المکتبہ الہاشمیہ،2014)، 134-135
[34] Osman Nuri Topbas, Khalid Al-Baghdai (Istanbul: Ekram Publications, 2022), 27
[35] Abu-Manneh, Butrus. “The Naqshbandiyya-Mujaddidiyya in the Ottoman Lands in the Early 19th Century.” Die Welt Des Islams 22, no. 1/4 (1982): 13.
[36] ۔ ابنِ سعد،الطبقات الکبریٰ(کراچی : نفیس اکیڈمی، سن)،8: 404
[37] . Muti Al Hafiz, Ulama Dimashq wa-a’yanuha fi al-qarn al-thalith ‘ashar al-hijri (Bayrut: Dar al-Fikr, 1991), 2: 681-682
[38]۔ Abd al-Ghani Ibrahim al-Durubi, al-Baghdadiyun: Akhbaruhum wa-Majalisuhum (Baghdad: Dar al-Shu’un al-Thaqafiya al-‘Ammah, 2001), 149
[39]. Annabelle Böttcher, Islamic Teaching among Sunni Women in Syria, (Bloomington: Indiana University Press, 2002) , 292
[40]. محمد اسعد نقش بندی، بغیۃ الوجد (ترکیا: مکتبہ سیدا، 2012)، 190-191
[41]. محمد اسعد نقش بندی، بغیۃ الوجد (ترکیا: مکتبہ سیدا، 2012)،. 78
[42]. محمد اسعد نقش بندی، بغیۃ الوجد (ترکیا: مکتبہ سیدا، 2012)،. 78
[43] ۔ علامہ ابن عابدین شامی، مجموعہ رسائل ابن عابدین (دمشق: الدار الشامیہ، 2023)، 3: 165
[44]۔ علامہ ابن عابدین شامی، سل الحسام الهندي(استنبول: در سعادت، 1325)، 324
[45]۔ علامہ ابن عابدین شامی، سل الحسام الهندي(استنبول: در سعادت، 1325)، 323
[46]. Itzchak Weismann, The Naqshbandiyya: Orthodoxy and Activism in a Worldwide Sufi Tradition (New Yourk, Routledge, 2007), 102
[47] . Imad ‘Abd al-Latif Naddaf, al-Shaykh Ahmad Kuftaru yatahaddathu (Beirut, 1997), 191