عالمہ اور خاندان کی تعمیر: اصلاحِ فرد سے استحکامِ خاندان تک

خاندان کسی بھی معاشرے کی بنیادی اکائی ہے۔ معاشرے کی فکری، اخلاقی اور تہذیبی کیفیت کو سمجھنے کے لیے اس کے خاندانوں کی کیفیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایک مضبوط خاندان افراد کو محبت، تحفظ، تربیت اور

مصنف:اقراء شریف
تاریخ: 14 ستمبر 2026

دیگر مضامین

تمام مضامین دیکھیں

گوشۂ سہولت سے ایک قدم باہر: رسول ﷺ کی سیرت سے مسلسل جدوجہد کا سبق

انسان کو آرام چاہیے، سکون چاہیے، اپنے لیے ایک ایسی جگہ چاہیے جہاں زندگی کی

تاریخ: 3 اکتوبر 2026
مصنف:ابرار حسین

فقہ النوازل میں فقہاء کا منہج

اسلامی شریعت اپنی ساخت اور مزاج کے اعتبار سے ایک جامع اور ہمہ گیر نظامِ

تاریخ: 1 اکتوبر 2026
مصنف:مولانا عزیر احمد

کتب حدیث میں ضعیف وموضوع روایات کے ذکر کےاسباب و مقاصد:اصولی و تحقیقی مطالعہ

تمہیدعلمِ حدیث اسلامی علوم کا وہ عظیم الشان شعبہ ہے جس کے ذریعے رسول اللہ

تاریخ: 1 اکتوبر 2026
مصنف:محمد ندیم محمد

مقدمہ صحیح مسلم اور علل الصغیر ترمذی کے مناہج جرح و تعدیل کا تقابلی مطالعہ

تمہیدتیسری صدی ہجری علمِ حدیث کی تاریخ کا ایک اہم اور فیصلہ کن دور ہے،

تاریخ: 1 اکتوبر 2026
مصنف:محمد ذیشان

دیگر موضوعات

اقراء شریف

خاندان کسی بھی معاشرے کی بنیادی اکائی ہے۔ معاشرے کی فکری، اخلاقی اور تہذیبی کیفیت کو سمجھنے کے لیے اس کے خاندانوں کی کیفیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایک مضبوط خاندان افراد کو محبت، تحفظ، تربیت اور ذمہ داری کا احساس دیتا ہے، جبکہ کمزور خاندانی نظام رفتہ رفتہ فرد کی شخصیت، نئی نسل کی تربیت اور پورے معاشرے کے توازن کو متاثر کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے کی اصلاح کی کوشش میں خاندان کی تعمیر اور استحکام کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اس میدان میں ایک عالمہ اپنے علم، بصیرت اور تربیتی صلاحیت کے ذریعے نہایت مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔عالمہ کا تعلق صرف درس گاہ اور علمی مجالس سے نہیں ہوتا، بلکہ اس کا علم انسانی زندگی کے حقیقی مسائل سے جڑا ہوا ہوتا ہے۔ خاندان بھی انہی بنیادی میدانوں میں سے ایک ہے جہاں دین کے اصول عملی زندگی میں اپنا اثر دکھاتے ہیں۔ ایک عالمہ اگر خاندان کے مسائل کو صرف فقہی احکام کے زاویے سے نہیں بلکہ انسانی تعلقات، اخلاق، تربیت، ذمہ داری اور باہمی حقوق کے تناظر میں بھی سمجھتی ہو تو وہ بہت سے گھروں میں مثبت تبدیلی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔خاندان کی مضبوطی صرف اس بات سے نہیں ہوتی کہ اس کے افراد ایک چھت کے نیچے رہتے ہوں، بلکہ اس کی اصل بنیاد باہمی اعتماد، احترام، محبت، ذمہ داری اور حقوق کی ادائیگی پر قائم ہوتی ہے۔ قرآنِ کریم نے میاں بیوی کے تعلق کو سکون، محبت اور رحمت کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ یہ تصور واضح کرتا ہے کہ ازدواجی زندگی محض ایک سماجی معاہدہ نہیں بلکہ ایسا رشتہ ہے جس میں دونوں افراد ایک دوسرے کے لیے سکون اور رحمت کا ذریعہ بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ عالمہ اس قرآنی تصور کو عام فہم انداز میں خاندانوں تک پہنچا سکتی ہے اور انہیں یہ سمجھا سکتی ہے کہ ازدواجی تعلق مقابلے کے بجائے تعاون کا رشتہ ہے۔خاندان کے استحکام میں سب سے بنیادی کردار اخلاق کا ہے۔ بہت سے خاندانی مسائل کسی بڑے اختلاف سے نہیں بلکہ معمولی رویوں، سخت لہجے، عدمِ برداشت، بدگمانی اور ایک دوسرے کی قدر نہ کرنے سے پیدا ہوتے ہیں۔ ایک عالمہ اگر لوگوں کی توجہ ان چھوٹے مگر بنیادی رویوں کی طرف مبذول کرائے تو وہ بڑے مسائل پیدا ہونے سے پہلے ہی ان کی اصلاح میں مدد دے سکتی ہے۔ نرم گفتگو، درگزر، حسنِ ظن، وعدے کی پابندی اور دوسروں کے احساسات کا خیال رکھنا وہ اوصاف ہیں جو گھریلو زندگی کو مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔یہاں عالمہ کا کردار صرف نصیحت کرنے والی شخصیت کا نہیں بلکہ ایک سمجھ دار مربیہ کا ہے۔ اسے یہ شعور پیدا کرنا ہے کہ ہر اختلاف دشمنی نہیں ہوتا اور ہر رائے کا فرق رشتے کے خاتمے کا سبب نہیں بننا چاہیے۔ خاندان کے افراد اگر اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کرنا سیکھ لیں تو بہت سے تنازعات شدت اختیار کرنے سے پہلے ہی ختم ہو سکتے ہیں۔ عالمہ اپنے علمی اور تربیتی کردار کے ذریعے اختلاف کو سنبھالنے، گفتگو کے آداب اپنانے اور جذبات کے بجائے حکمت سے فیصلے کرنے کی تربیت دے سکتی ہے۔خصوصاً خواتین کی تربیت میں عالمہ کا کردار بہت اہم ہے۔ وہ خواتین کو ان کے حقوق اور ذمہ داریوں کا شعور دے سکتی ہے، انہیں ازدواجی زندگی کے مسائل کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے اور انہیں یہ سکھا سکتی ہے کہ ایک مضبوط خاندان کی تعمیر صرف قربانی دینے کا نام نہیں بلکہ حکمت، توازن، باہمی تعاون اور صحیح حدود کو سمجھنے کا بھی تقاضا کرتی ہے۔ اسی طرح وہ یہ شعور بھی پیدا کر سکتی ہے کہ اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہوئے دوسروں کے حقوق کو نظر انداز کرنا درست نہیں۔خاندان کے دوسرے افراد کے حوالے سے بھی عالمہ کی رہنمائی اہم ہے۔ ساس بہو کے تعلقات، میاں بیوی کے درمیان باہمی معاملات، والدین اور اولاد کے تعلقات، بہن بھائیوں کے درمیان حقوق اور خاندان کے بزرگوں کے ساتھ حسنِ سلوک جیسے معاملات بظاہر معمولی محسوس ہوتے ہیں، لیکن انہی تعلقات کی کیفیت گھر کے مجموعی ماحول کو تشکیل دیتی ہے۔ ایک عالمہ ان تعلقات میں اسلامی اخلاق اور اعتدال کو فروغ دے کر گھریلو سکون کی بنیاد مضبوط کر سکتی ہے۔خاندان کی تعمیر میں والدین کی تربیت بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اولاد کی تربیت صرف انہیں نصیحتیں کرنے یا ان کی ضروریات پوری کرنے سے مکمل نہیں ہوتی۔ بچے اپنے والدین کے رویوں سے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ والدین ایک دوسرے سے کیسے گفتگو کرتے ہیں، اختلاف کی صورت میں کیا رویہ اختیار کرتے ہیں، بڑوں کے ساتھ کس طرح پیش آتے ہیں اور مشکلات میں کس طرح صبر کرتے ہیں۔ ایک عالمہ والدین کو یہ احساس دلا سکتی ہے کہ ان کا اپنا کردار ہی اولاد کے لیے سب سے مؤثر تربیتی ذریعہ ہے۔اسی طرح عالمہ ماں کو یہ سمجھانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے کہ بچوں کی دینی تربیت محض انہیں کچھ سورتیں یا دعائیں یاد کرا دینے کا نام نہیں۔ اصل تربیت یہ ہے کہ بچے دین کو اپنی زندگی میں محسوس کریں۔ جب گھر میں نماز کی اہمیت ہو، قرآن سے تعلق ہو، سچائی کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے، گفتگو میں احترام ہو اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھا جائے تو بچے ان اقدار کو محض کتاب سے نہیں بلکہ اپنے ماحول سے سیکھتے ہیں۔ اس طرح گھر خود ایک تربیتی ادارہ بن جاتا ہے۔عالمہ خاندان کے اندر خواتین کو اپنی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ اپنی صلاحیتوں کو پہچاننے اور مثبت انداز میں استعمال کرنے کی ترغیب بھی دے سکتی ہے۔ ایک عورت گھر کی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے علم، دعوت، تدریس، تحریر یا سماجی خدمت کے میدان میں بھی اپنا کردار ادا کر سکتی ہے، بشرطیکہ ترجیحات، حدود اور ذمہ داریوں میں توازن قائم رکھا جائے۔ عالمہ اس توازن کی اہمیت واضح کر کے خواتین کو احساسِ کمتری یا غیر ضروری دباؤ سے بچانے میں مدد دے سکتی ہے۔خاندان کے استحکام کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ عورت اور مرد ایک دوسرے کو حریف کے طور پر نہیں بلکہ شریکِ زندگی کے طور پر دیکھیں۔ دونوں کی ذمہ داریاں اور صلاحیتیں مختلف ہو سکتی ہیں، لیکن خاندان کی کامیابی مشترکہ تعاون سے وجود میں آتی ہے۔ عالمہ اگر اس متوازن تصور کو حکمت کے ساتھ پیش کرے تو وہ بہت سے غلط تصورات کی اصلاح کر سکتی ہے جو کبھی عورت کو اس کے مقام سے محروم کرتے ہیں اور کبھی مرد و عورت کے تعلق کو مقابلے میں تبدیل کر دیتے ہیں۔اسلامی تاریخ میں خواتین نے خاندان کی تعمیر اور نسلوں کی تربیت میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کی زندگیاں اس حوالے سے ہمارے لیے بے مثال نمونے رکھتی ہیں۔ ان کے گھروں میں علم، عبادت، تربیت، صبر، قربانی اور حسنِ معاشرت کی ایسی روایات قائم ہوئیں جن کے اثرات پوری امت تک پہنچے۔ ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفاداری، اعتماد اور حوصلہ افزائی ہو یا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی علمی بصیرت اور تربیتی کردار، یہ مثالیں واضح کرتی ہیں کہ ایک خاتون خاندان کی حدود میں رہتے ہوئے بھی ایسی فکری اور اخلاقی تاثیر پیدا کر سکتی ہے جو وسیع معاشرتی دائرے تک پہنچ جائے۔خاندان کی تعمیر میں عالمہ کا ایک اہم میدان ازدواجی زندگی سے پہلے کی تربیت بھی ہے۔ بہت سے مسائل اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب نوجوان لڑکے اور لڑکیاں شادی کو صرف ایک سماجی رسم یا جذباتی تعلق کے طور پر دیکھتے ہیں، جبکہ اس کے ساتھ آنے والی ذمہ داریوں، حقوق، اخلاق اور باہمی تعاون سے پوری طرح واقف نہیں ہوتے۔ عالمہ اگر شادی سے پہلے نوجوان خواتین کی دینی، اخلاقی اور عملی تربیت کا اہتمام کرے تو وہ انہیں مستقبل کی ازدواجی زندگی کے لیے زیادہ باشعور بنا سکتی ہے۔اسی طرح شادی کے بعد پیدا ہونے والے مسائل میں بھی عالمہ کی رہنمائی مؤثر ہو سکتی ہے، بشرطیکہ وہ حکمت اور ذمہ داری کے ساتھ معاملہ کرے۔ ہر خاندانی مسئلے کا فوری حل علیحدگی یا قطع تعلق نہیں ہوتا، اور نہ ہر اختلاف کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کرنا درست ہے۔ ایک باشعور عالمہ مسئلے کی نوعیت کو سمجھنے، متعلقہ افراد کی بات سننے اور شرعی و اخلاقی اصولوں کی روشنی میں مناسب رہنمائی دینے کی کوشش کرتی ہے۔ جہاں معاملہ اس کی علمی یا عملی حدود سے باہر ہو وہاں ماہرین یا متعلقہ اہلِ صلاحیت سے رجوع کرنے کا شعور بھی اس کی ذمہ داری کا حصہ ہے۔خاندانی مسائل میں راز داری اور امانت داری بھی نہایت اہم ہیں۔ لوگ جب کسی عالمہ سے اپنے گھریلو مسائل بیان کرتے ہیں تو وہ دراصل اس پر اعتماد کرتے ہیں۔ اس اعتماد کی حفاظت ایک اخلاقی ذمہ داری ہے۔ عالمہ کو چاہیے کہ کسی کی نجی زندگی کو غیر ضروری گفتگو کا موضوع نہ بنائے اور نہ ہی کسی حساس معاملے میں جلد بازی سے فیصلہ صادر کرے۔ خیر خواہی کا تقاضا یہ ہے کہ اصلاح کی کوشش عزت، رازداری اور حکمت کے دائرے میں رہ کر کی جائے۔آج خاندان کو ایک اور بڑے چیلنج کا سامنا ہے اور وہ ہے بدلتا ہوا معاشرتی اور ڈیجیٹل ماحول۔ گھروں میں افراد ایک دوسرے کے ساتھ موجود ہوتے ہوئے بھی اپنی اپنی اسکرینوں میں مصروف رہتے ہیں۔ بچوں اور والدین کے درمیان گفتگو کم ہو رہی ہے اور بعض اوقات گھر کے اندر موجود جذباتی فاصلے کو محسوس ہی نہیں کیا جاتا۔ عالمہ اس صورتِ حال کی طرف توجہ دلا سکتی ہے اور خاندانوں کو یہ سمجھا سکتی ہے کہ ٹیکنالوجی سہولت ہے، تعلقات کا متبادل نہیں۔ گھر میں گفتگو، باہمی وقت، مشترکہ عبادت اور ایک دوسرے کی بات سننے کی روایت زندہ رکھنا ضروری ہے۔ایک عالمہ خاندانوں کو یہ بھی سمجھا سکتی ہے کہ گھریلو سکون صرف مسائل نہ ہونے کا نام نہیں۔ زندگی میں اختلاف، بیماری، مالی مشکلات، ذمہ داریوں کا دباؤ اور مختلف مزاجوں کا سامنا بہرحال ہوتا ہے۔ مضبوط خاندان وہ ہے جو مشکلات کے باوجود ایک دوسرے کا سہارا بننے، مسئلے کو مل کر حل کرنے اور آزمائش میں صبر کا دامن تھامنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اس شعور کی تربیت خاندانوں کو غیر حقیقی توقعات سے بچاتی ہے اور انہیں زندگی کے حقیقی مراحل کے لیے تیار کرتی ہے۔عالمہ اگر خاندان کی اصلاح کو اپنی دعوت اور تربیت کا اہم حصہ بنائے تو اسے صرف مسائل کے وقت سامنے آنے کے بجائے پہلے سے تربیتی ماحول پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ شادی سے پہلے تربیت، شادی کے ابتدائی برسوں میں رہنمائی، والدین کی تربیت، اولاد کی اخلاقی نشوونما اور خاندانی تعلقات کے آداب پر مسلسل گفتگو بہت سے مسائل کو شدت اختیار کرنے سے پہلے ہی کم کر سکتی ہے۔ اصلاح کا بہترین طریقہ اکثر یہ ہوتا ہے کہ خرابی پیدا ہونے کے بعد علاج کرنے کے بجائے اسباب کی سطح پر تربیت کی جائے۔یہ کردار عالمہ سے وسیع مطالعے، مضبوط علمی بنیاد اور انسانی معاملات کو سمجھنے کی صلاحیت کا تقاضا کرتا ہے۔ صرف جذبات کی بنیاد پر خاندانی مسائل میں رائے دینا مناسب نہیں۔ ایک عالمہ کو شرعی اصولوں کے ساتھ ساتھ انسانی نفسیات، معاشرتی حالات اور خاندانی تعلقات کی پیچیدگیوں کو بھی سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس کے ساتھ اسے یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ کہاں دینی رہنمائی کافی ہے اور کہاں کسی ماہرِ نفسیات، قانونی ماہر یا دیگر متعلقہ ماہر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔ یہ علمی دیانت اور ذمہ داری دونوں کا تقاضا ہے۔خاندان کی تعمیر دراصل افراد کی تعمیر سے شروع ہوتی ہے۔ جب ایک عالمہ فرد کو اپنے حقوق اور ذمہ داریوں کا شعور دیتی ہے، اسے حسنِ اخلاق سکھاتی ہے، اسے تعلقات نبھانے کا سلیقہ دیتی ہے اور اسے اپنی ذات سے آگے بڑھ کر دوسروں کی ضروریات کا خیال رکھنے کی تربیت دیتی ہے تو وہ بالواسطہ ایک مضبوط خاندان کی بنیاد رکھ رہی ہوتی ہے۔ اسی طرح جب وہ خاندانوں کو مضبوط کرتی ہے تو دراصل معاشرے کے اخلاقی ڈھانچے کو مضبوط بنانے میں حصہ لے رہی ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ عالمہ کو خاندان کے میدان میں اپنے کردار کو محض خواتین کے مسائل تک محدود نہیں سمجھنا چاہیے۔ وہ خواتین کی تربیت کے ذریعے پورے خاندان پر اثر ڈال سکتی ہے، والدین کی رہنمائی کے ذریعے نئی نسل کی تشکیل میں حصہ لے سکتی ہے، اور اپنے علمی و دعوتی کردار کے ذریعے خاندان میں دین کو ایک زندہ عملی حقیقت بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔ اس کی ایک درست بات، ایک بروقت رہنمائی اور ایک حکمت بھرا مشورہ کبھی کبھی ایک پورے گھر کے ماحول کو بدلنے کا سبب بن سکتا ہے۔آج ہمیں ایسی عالمات کی ضرورت ہے جو خاندان کے مسائل کو صرف شکایات کے طور پر نہ دیکھیں بلکہ انہیں اصلاح اور تربیت کے مواقع سمجھیں۔ جو عورت کو اس کے مقام اور ذمہ داری کا شعور دیں، مرد و عورت دونوں کو باہمی حقوق و فرائض سمجھائیں، والدین کو تربیت کی اہمیت بتائیں اور نئی نسل کو مضبوط خاندانی اقدار سے جوڑیں۔ ایسی عالمہ خاندان کو صرف مسائل سے بچانے کی کوشش نہیں کرتی بلکہ اسے محبت، ایمان، اخلاق اور ذمہ داری کا مرکز بنانے میں اپنا کردار ادا کرتی ہے۔
جب ایک عالمہ اپنے علم کو خاندانوں کی تعمیر کے لیے استعمال کرتی ہے تو اس کے اثرات ایک گھر کی چار دیواری تک محدود نہیں رہتے۔ ایک مضبوط گھر بہتر افراد تیار کرتا ہے، بہتر افراد بہتر معاشرتی رویے تشکیل دیتے ہیں اور یہی رویے آگے چل کر ایک مضبوط معاشرے کی بنیاد بنتے ہیں۔ اس طرح عالمہ کی اصلاحی کوشش فرد سے خاندان اور خاندان سے معاشرے تک ایک مسلسل سفر اختیار کرتی ہے۔حقیقی معنوں میں خاندان کی تعمیر اینٹوں اور دیواروں سے نہیں بلکہ ایمان، محبت، اخلاق، اعتماد اور ذمہ داری سے ہوتی ہے۔ اور جب ایک عالمہ ان اقدار کو علم اور حکمت کے ساتھ گھروں تک پہنچانے کی کوشش کرتی ہے تو وہ صرف خاندانوں کی اصلاح نہیں کر رہی ہوتی، بلکہ آنے والے معاشرے کی بنیاد مضبوط کر رہی ہوتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں عالمہ کا کردار ایک فرد کی معلمہ سے آگے بڑھ کر خاندانوں کی مربیہ اور معاشرتی استحکام کی معمار بن جاتا ہے۔

گوشۂ سہولت سے ایک قدم باہر: رسول ﷺ کی سیرت سے مسلسل جدوجہد کا سبق

انسان کو آرام چاہیے، سکون چاہیے، اپنے لیے ایک ایسی جگہ چاہیے جہاں زندگی کی دوڑ کچھ دیر کے لیے تھم جائے، ذمہ داریوں کا بوجھ ہلکا محسوس ہو اور آدمی خود کو محفوظ سمجھے۔ یہ انسانی فطرت ہے اور

مصنف: ابرار حسین
تاریخ: 3 اکتوبر 2026
فقہ النوازل میں فقہاء کا منہج

اسلامی شریعت اپنی ساخت اور مزاج کے اعتبار سے ایک جامع اور ہمہ گیر نظامِ حیات ہے جو ہر دور اور ہر معاشرتی صورتِ حال میں رہنمائی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم انسانی معاشرہ جامد نہیں بلکہ مسلسل

مصنف: مولانا عزیر احمد
تاریخ: 1 اکتوبر 2026
کتب حدیث میں ضعیف وموضوع روایات کے ذکر کےاسباب و مقاصد:اصولی و تحقیقی مطالعہ

تمہیدعلمِ حدیث اسلامی علوم کا وہ عظیم الشان شعبہ ہے جس کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال اور تقریرات کو محفوظ کیا گیا۔ محدثینِ کرام نے اپنی پوری زندگیاں اس مقدس علم کی خدمت میں

مصنف: محمد ندیم محمد
تاریخ: 1 اکتوبر 2026
مقدمہ صحیح مسلم اور علل الصغیر ترمذی کے مناہج جرح و تعدیل کا تقابلی مطالعہ

تمہیدتیسری صدی ہجری علمِ حدیث کی تاریخ کا ایک اہم اور فیصلہ کن دور ہے، جس میں احادیثِ نبویہ کی جمع و تدوین کے ساتھ رواۃ کی جانچ پڑتال اور نقدِ حدیث کے باقاعدہ اصول مرتب کیے گئے۔ اس علمی

مصنف: محمد ذیشان
تاریخ: 1 اکتوبر 2026
وراثت میں عورت کے حق کی شرعی حیثیت اور پاکستانی معاشرت میں عملی اطلاق(تحقیقی و تنقیدی مطالعہ)

انسانی معاشرے میں وراثت محض مالی وسائل کی تقسیم کا نام نہیں بلکہ معاشی انصاف، خاندانی استحکام اور سماجی توازن کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ کسی بھی معاشرے میں وراثتی نظام اس کے قانونی، اخلاقی اور تہذیبی تصورات کی عکاسی

مصنف: حافظ بابر حسین ستی
تاریخ: 30 ستمبر 2026
ذکراللہ سے غفلت؛ معاشرتی اثرات

تمہید :‑انسان جسے اللہ رب العزت نے تمام مخلوقات میں اشرف بنایا ہے اپنے حقیقی خالق کی یاد سے غفلت اس کو پستی کا شکار بنا دیتی ہے میرا عنوان اگرچہ خالص دینی ہے لیکن اس کے معاشرے اگر اس

مصنف: نازیہ فضل
تاریخ: 30 ستمبر 2026