فکر اسلامی کی تشکیل جدید: تعارف، اہمیت اور دائرہ کار

مقدمہ موضوع تحقیق کا تعارف اور اہمیت  جب  انسان کسی پیش آمدہ  مسئلے کے حل کے لیے اپنےپاس موجود علم کی طرف رجوع کرتا ہے، اور اس علم کے ذریعے وہ مسئلہ کے حل  یا نتیجے تک پہنچتا ہےاس حاصل

مصنف:محمد ظہور
تاریخ: 10 اگست 2026

دیگر مضامین

تمام مضامین دیکھیں

گوشۂ سہولت سے ایک قدم باہر: رسول ﷺ کی سیرت سے مسلسل جدوجہد کا سبق

انسان کو آرام چاہیے، سکون چاہیے، اپنے لیے ایک ایسی جگہ چاہیے جہاں زندگی کی

تاریخ: 3 اکتوبر 2026
مصنف:ابرار حسین

فقہ النوازل میں فقہاء کا منہج

اسلامی شریعت اپنی ساخت اور مزاج کے اعتبار سے ایک جامع اور ہمہ گیر نظامِ

تاریخ: 1 اکتوبر 2026
مصنف:مولانا عزیر احمد

کتب حدیث میں ضعیف وموضوع روایات کے ذکر کےاسباب و مقاصد:اصولی و تحقیقی مطالعہ

تمہیدعلمِ حدیث اسلامی علوم کا وہ عظیم الشان شعبہ ہے جس کے ذریعے رسول اللہ

تاریخ: 1 اکتوبر 2026
مصنف:محمد ندیم محمد

مقدمہ صحیح مسلم اور علل الصغیر ترمذی کے مناہج جرح و تعدیل کا تقابلی مطالعہ

تمہیدتیسری صدی ہجری علمِ حدیث کی تاریخ کا ایک اہم اور فیصلہ کن دور ہے،

تاریخ: 1 اکتوبر 2026
مصنف:محمد ذیشان

دیگر موضوعات

محمد ظہور

مقدمہ

موضوع تحقیق کا تعارف اور اہمیت 

جب  انسان کسی پیش آمدہ  مسئلے کے حل کے لیے اپنےپاس موجود علم کی طرف رجوع کرتا ہے، اور اس علم کے ذریعے وہ مسئلہ کے حل  یا نتیجے تک پہنچتا ہےاس حاصل شدہ نتیجے کو فکر کہا جاتا ہے۔ فکر کی تعریف یوں کی جاتی ہے:

الفکر”ترتیب أمور معلومة للتأدی الی مجهول”

”فکر سے مراد”امور معلومہ کو ایسے ترتیب دینا جو ایک مجہول شے تک پہنچا دے“۔ 

فکر اسلامی سے مراد انسانی عقل کی وہ کوشش ہے جو شریعت کے اصولوں کے مطابق ہو اور اس کا مقصد اسلام کی تعلیمات کو سمجھنا، ان سے احکام و عبرتیں اخذ کرنا، اور اسلام کے پیغام کو دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے۔

"والتفكير السديد وظيفة أمر الله بها عباده المسلمين، وهم الجديرون بها، وما ينتج عنه من فكر هو فكر إسلامي”

”صحیح اور متوازن سوچ ایک ایسا  عمل ہے جس کو اپنانے کا حکم اللہ تعالی نے دیا ہے، اور مسلمان اس کے زیادہ اہل بھی ہیں۔ مسلمان جب شریعت کے مقرر کردہ اصولوں اور اپنے عقیدے کی بنیاد پر غور و فکر کرتے ہیں تو اس سے پیدا ہونے والا فکر اسلامی کہلاتا ہے۔ “

تصور تشکیل جدید

فکر اسلامی کی تشکیل جدید سے مراد یہ ہے کہ اسلامی فکر کو عصرِ حاضر کے نئے مسائل اور چیلنجز کے مطابق پیش کرنا اور اس  طرح از سرِ نو منظم کرنا۔کہ اس کی بنیادیں شریعت اسلامیہ پر قائم ہوں۔ اس کا مقصد  دین میں کوئی نیا اضافہ یا کمی کرنا نا ہو۔ بلکہ اصل مقصد یہ ہوکہ اسلام کی اصل تعلیمات کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق سمجھا اور بیان کیا جائے۔یہ تشکیل جدید  امت کے فکری ارتقاء کا نام ہے، جو اجتہاد سے نمو پاتی ہے۔امت کے ایمان کی تجدید تربیت کے ذریعے ہوتی ہے۔اس کی اخلاقی طاقت عمل کے ذریعے مضبوط ہوتی ہے۔ اور اس کی شخصی شناخت علم و معرفت کے ذریعے نکھرتی ہے۔مزید تشکیل جدید کا مطلب یہ  ہے کہ اسلام کو اس کی اصل اور خالص شکل میں واپس لایا جائے، نہ کہ کوئی نیا دین یا نیا طریقہ ایجاد کیا جائے، بلکہ اجتہاد، علم اور تربیت کے ذریعے امت کے فکر کو تازہ کیا جائے ۔

خلاصہ یہ کہ فکر اسلامی کی تشکیل جدید سے مراد ہے کہ اسلامی فکر کو عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق اجتہاد، تحقیق اور تدبر کے ذریعے اس طرح پیش کیا جائے کہ اس کی اصل بنیادیں محفوظ رہیں۔

عَہد نَوجدید اور  متنوع نظریات کا دور ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام نے  انسان کو ضرورت سے زیادہ مادیت پسند بنا دیاہے۔ مغربی تہذیب  کی چکاچوند نے جدیدمسلم  نسل کو ذہنی غلام بنارکھا ہے، جدید ذہن  ہر گزرتی گھڑی کے ساتھ مذہب کے معاملے میں شکوک و شبہات  کا شکار ہو رہا ہے۔ اس

۔ جرجانی، علی بن محمد بن علی، التعریفات(بیروت:دار الدیان تراث)،۲۱۷
۔ الجربوع، عبد الله بن عبد الرحمن، الأمثال القرآنية القياسية المضروبة للإيمان بالله (المدينة المنورة: عمادة البحث العلمي بالجامعة الإسلامية، ۲۰۰۳)، ۲
3۔ الشریف، محمد بن شاكر، الحمد، خباب بن مروان، الحوار الإسلامي بين الدواعي والمعوقات(برطانيه: مجله البیان، اکتوبر:۲۰۰۵)، ۹
صورت حال کی حساسیت کے پیش نظر بیسویں صدی سے مسلم ممالک میں احیائے اسلام کی مختلف تحریکات چل رہی ہیں، کہیں سیاسی و ریاستی  لائحہ عمل  کو فروغ تو کہیں دعوتی رجحان پر زور دیا جارہا ہے۔ موجودہ  دور میں فکری بنیادوں پر احیائے اسلام کی کوشش بھی کی جا رہی ہیں۔مسلم مفکرین کی احیائےاسلام کے متعلق خدمات ناقابل فراموش ہیں جن میں علامہ اقبال،  جمال الدین افغانی ، سید قطب، ابو الاعلی مودودی، محمد اسد، ڈاکٹر غلام جیلانی برق  وغیرہ شامل ہیں۔

سابقہ تحقیقی کام  کا جائزہ

سابقہ تحقیقی کا م کے جائزہ کو دو موضوعات میں تقسیم کیا گیا ہے۔پہلا موضوع  کے تحت  فکر اسلامی  پر کی گئی تحقیقات  کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ دوسرا موضوع میں تشکیل جدید کے موضوع پر کام  کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ تاکہ تحقیقی خلاء کو موثرانداز سے واضح کیا جا سکے۔ 

پہلا موضوع : فکر اسلامی  

۱۔ الفكر الإسلامي المعاصر في العقيدة والشريعة والسلوك ،دکتور محمد مصطفی الزحیلی

یہ کتاب معاصر اسلامی فکر پر ایک جامع علمی کاوش ہے۔ اس میں عقیدہ، شریعت اور سلوک جیسے بنیادی پہلوؤں کو جدید تناظر میں زیر بحث لایا گیا ہے۔ مصنف نے دکھایا  ہے کہ فکرِ اسلامی ماضی کی طرح عصر حاضر کے تقاضوں سے بھی ہم آہنگ ہے۔کتاب میں عقائد  کو جدید فکر کے تناظر  میں مضبوط دلائل کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ شریعت کے حصے میں قانونی، اخلاقی اور معاشرتی مسائل کا جائزہ لیتے ہوئے فقہ اسلامی کی اجتہادی روح کو اجاگر کیا گیا ہے۔ سلوک اور اخلاق میں روحانیت، تزکیہ اور اسلامی اقدار کو نمایاں کیا گیا ہے۔

۲۔ معاصر اسلامی فکر، نجات اللہ صدیقی

یہ کتاب جدید اسلامی فکری مباحث پر ایک اہم اور عالمانہ کاوش ہے۔ مصنف نے اس میں معاصر دور کے مختلف فکری، معاشی، سماجی اور سیاسی چیلنجز کا تجزیاتی مطالعہ پیش کرتے ہوئے یہ استدلال قائم کیا ہے کہ اسلامی فکر اپنی اجتہادی روح اور اصولی لچک کے ذریعے ان مسائل کے قابلِ عمل حل فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ کتاب میں اسلامی معیشت، مالیاتی اداروں اور بینکاری نظام کے ساتھ ساتھ سیاسی شعور اور سماجی انصاف کے موضوعات پر تفصیلی بحث کی گئی ہے۔مصنف کے نزدیک عصرِ حاضر میں اسلامی فکر کی مؤثریت اسی وقت ممکن ہے جب اسے اجتہاد، تنقیدی بصیرت اور فکری جدت سے ہم آہنگ کیا جائے۔ یہ کتاب نہ صرف معاصر مسلم ذہن کو درپیش سوالات اور مسائل کا مدلل جواب فراہم کرتی ہے بلکہ اسلامی فکر کو عصرِ حاضر کے علمی و تہذیبی تناظر میں مربوط کرنے کی رہنمائی بھی پیش کرتی ہے۔

  1. AN INTRODUCTION TO ISLAMIC THOUGHT, ABDULLAH SAEED

عبداللہ سعیدکی یہ کتاب6200 ء میں  “Routldge” نے شائع ۔ راقم کے مطابق یہ کتاب فکر اسلامی کے تعارف اور اقسام میں سب سے جامع ہے۔ اس کتاب میں مصنف فکر اسلامی کا تعارف اس کی بنیادوں پر بحث کرتے ہوئے تدریجا  اس کی اقسام سیاسی اسلامی  فکر، قانونی فکر اسلامی  اور جدید دور میں ابھرنے والی احیائی تحریکوں کا تعارف اور اسباب پیش کرتے ہیں۔ مزید اپنی تصنیف میں مصنف نے فکر اسلامی کے ان جدید ابحاث کا بھی ذکر کیا ہے جو اس وقت علمی جامعات میں زیر بحث ہیں۔ یہ کتاب انگلش میں شائع ہوئی اور ابھی تک اس کا کوئی اردو ترجمہ نہیں کیا گیا ہے۔  

دوسرا موضوع:تشکیل جدید 

۱۔ مقالات سر سید، سر سید احمد خان

سر سید احمد خان انیسویں صدی کی مایہ ناز  شخصیت ہیں جن کے اثرات ادب، سیاست، معاشرت، تعلیم، مذہب اور صحافت پر یکساں طور پر مرتب ہوئے۔ ان کے عظیم کارناموں میں سب سے نمایاں ادبی خدمات ہیں۔ سر سید کے مقالات ایک ہمہ جہت سرمایہ ہیں جن میں ادب و علم کے ساتھ ساتھ مذہب، تاریخ، سیاست اور معاشرت کے پہلو بھی جھلکتے ہیں۔ ان میں فکر اسلامی کی تشکیل جدید سے متعلق درد و سوز اور نصیحت و سرزنش بھی شامل ہے، جو انہیں ایک سدا بہار گلدستہ بنا دیتا ہے۔ یہ مقالات عہدِ سر سید کے مختلف رسائل، خصوصاً تہذیب الاخلاق میں شائع ہوئے اور بعد میں محمد اسماعیل پانی پتی نے انہیں موضوعات کے اعتبار سے مرتب کر کے شائع کیا۔

۲۔ تجدید و احیائے دین، سید ابوالاعلی مودودی

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی کتاب تجدید و احیائے دین (۱۹۴۰ء)اسلامی فکر اور اصلاحی تحریکات کے تناظر میں ایک نہایت اہم علمی کاوش ہے۔ اس میں مصنف نے واضح کیا ہے کہ دین اسلام کی اصل روح ہمیشہ زندہ  رہی ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ مسلمانوں میں جمود اور بدعات پیدا ہوجاتی ہیں۔ ایسے ادوار میں تجدید و احیاء کی ضرورت پیش آتی ہے، جس کا مقصد دین میں نئی چیزیں داخل کرنا نہیں بلکہ اصل تعلیمات کو از سرِ نو زندہ کرنا ہے۔ مولانا نے تاریخ کے تناظر میں مختلف مجددین کے کردار پر روشنی ڈالی اور یہ واضح کیا کہ حقیقی تجدید قرآن و سنت کی بنیاد پر معاشرتی، فکری اور عملی زندگی میں انقلاب برپا کرتی ہے۔ یہ کتاب اسلامی تحریکات کو فکری بنیاد فراہم کرتی ہے اور آج بھی اصلاحی عمل کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہے۔

۳۔ فکر اسلامی کی تشکیل جدید، علامہ محمد اقبال 

یہ کتاب علامہ اقبال کی مشہور زمانہ کتاب The Reconstruction of Religious Thought in Islamکا اردو ترجمہ ہے۔اس میں علامہ اقبال کے فکر اسلامی کی تشکیل سے متعلق ۱۱ خطبات کو درج کیا گیا ہے۔ان خطبات کو  کتابی شکل  مییں ڈاکٹر سید حسین محمد جعفری صاحب  نے مرتب کیا۔اور اسلامک بک فاونڈیشن ، دہلی نے۱۹۹۵میں شائع سے شائع کروایا۔  

۴۔ فکراسلامی کی تشکیل جدید، ضیاء الحسن فاروقی و مشیر الحق

اس کتاب کو ضیاء الحسن فاروقی اور مشیرالحق صاحب نے مرتب کیا۔ دسمبر ۱۹۷۲ءجامعہ ملیہ اسلامیہ میں ہونے والے سیمینار جس کاعنوان فکر اسلامی کی تشکیل جدید تھا۔کتاب میں مختلف سکالرز کے پیش کیے گئے ۳۷ مقالات کو مرتب کیا گیا ہے۔ ان مقالات میں سے ایک مقالہ بعنوان جدید علم کلام اور اس کی اہمیت بھی موجود ہے، جس کو مولانا وحید الدین خان صاحب نے پیش کیا۔ یہ کتاب پاکستان میں مکتبہ رحمانیہ اردو بازار لاہور سے شائع ہوئی۔

۵۔ اسلام اور عصر حاضر (عصری اسلوب میں اسلام کا تعارف)۱۹۸۵

یہ کتاب اسلام کے بنیادی پیغام کو جدید ذہن اور سائنسی دور کے تناظر میں نئے اسلوب کے ساتھ پیش کرتی ہے۔ کتاب میں مذہب کی اہمیت، روحانی تہذیب، مذہب اور سائنس کا تعلق، جدید انسان کے فکری مسائل، اور اسلام کی عقلی و فطری بنیادوں کو نہایت سادہ، مدلل اور غیر مناظرانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ مصنف جدید تہذیب کے بحران، مادیت پرستی اور ذہنی انتشار کا تجزیہ کرتے ہوئے واضح کرتے ہیں کہ اسلام انسان کو مقصد، معنویت اور روحانی سکون فراہم کرتا ہے۔ یہ کتاب دراصل جدید ذہن کی تشکیلِ نو کے ذریعے اسلامی فکر کو عصرِ حاضر سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش ہے۔

۶۔ تجدید دین ۱۹۸۷

مولانا وحید الدین خان کی کتاب تجدیدِ دین اسلامی فکر میں تجدید کے مفہوم، اس کے تاریخی پس منظر، اور عصرِ حاضر میں اس کی ضرورت کو علمی اور منظم انداز میں واضح کرنے والی ایک بنیادی تصنیف ہے۔ کتاب کا مرکزی مقدمہ یہ ہے کہ “تجدید” کوئی اختراعی (innovative) عمل نہیں بلکہ دین کی اصل روح کو زمانے کے نئے تناظر میں دوبارہ مؤثر بنانا ہے۔ مولانا کے نزدیک تجدید کا حقیقی کارنامہ یہ ہے کہ اسلام کی بنیادی تعلیمات، یعنی قرآن و سنت، کو ایسے اسلوب، زبان اور فکری ترتیب کے ساتھ پیش کیا جائے جو جدید ذہن کے لیے قابلِ قبول اور قابلِ فہم ہو۔ اسی بنا پر کتاب میں “کارِ تجدید”، “صراطِ مستقیم کی پیروی”، “فقہ”، “تصوف”، “علمِ کلام”، اور کلاسیکی اسلامی علوم کی تدوین جیسے تاریخی مباحث کا تنقیدی جائزہ موجود ہے۔

۷۔مسائل اجتہاد

مولانا وحید الدین خان کی کتاب مسائلِ اجتہاد (2003) جدید تناظر میں اسلامی فکر کی حرکیّت، اجتہاد کی حقیقت، اور جدید دنیا میں اس کے اطلاق کی اہمیت کو اجاگر کرنے والی ایک نمایاں علمی کاوش ہے۔ اس کتاب میں مصنف اجتہاد اور تقلید کے باہمی تعلق کو ازسرِنو متعین کرتے ہوئے واضح کرتے ہیں کہ اسلام کی اصل روح جامد مقلدانہ رویے نہیں بلکہ فکر و تدبر اور ربانی تعقل میں پوشیدہ ہے۔ کتاب کے مضامین اجتہادی مسائل، تفسیر بالرائے، جدید دعوتی ماڈل، مذہب اور سائنس کا باہمی رشتہ، عقیدۂ خدا کی سائنسی توضیح، اور امنِ عالم کا نظریہ معاصر ذہن کو سامنے رکھ کر لکھے گئے ہیں۔ 

مولانا کے نزدیک اجتہاد کا بنیادی مقصد اسلامی تعلیمات کو بدلنا نہیں بلکہ انہیں نئے علمی، سماجی اور تہذیبی تناظر میں قابلِ فہم اور قابلِ عمل بنانا ہے۔ اس کتاب میں “سلطانی ماڈل” کے مقابل “دعوتی ماڈل” کو بطور نئے فکری زاویے پیش کیا گیا ہے، جو سیاسی غلبے کے بجائے اخلاقی و فکری غلبے کو مولانا کے نزدیک اجتہاد کا حقیقی راستہ قرار دیتا ہے۔ اسی طرح “ربانی تعقل”، “تفکر و تدبر” اور “فنِ تفکر” جیسے مباحث classical Islamic epistemology کے جدید تشکیلِ نو (reconstruction) سے گہرا ربط رکھتے ہیں۔

تحقیقی خلاء

مذکورہ بالا لٹریچر ریویو میں پیش کی گئی زیادہ تر کتب میں  فکر اسلامی    کے اہم اجزاء سے بحث کی گئی ہے یا پھر اس کی احیائے کی  کوششوں کے لیے فریم ورک دیا گیا ہے۔ جب کہ راقم کے مطابق اکیڈمک سطح پر اردو زبان میں اس تصور "فکر اسلامی کی تشکیل جدید”کا یا تو اجمالا ذکر ہے یا پھر ان کو تنقیص کا نشانہ بنایا گیا ہے۔تصور فکر اسلامی کی تشکیل جدید کے تعارف، اہمیت اور دائرہ کار کے  حوالہ سے نہ تو کوئی  اردو زبان میں کوئی کتاب لکھی گئی ہے اور نہ ہی کسی بھی جگہ کسی بھی سطح کا اردوتحقیقی مقالہ و آرٹیکل  لکھا گیا ہے۔

مسئلہ تحقیق

جہاں فکر اسلامی کی تشکیل جدید سے متعلق ابحاث جاری ہیں وہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ  اردو زبان میں اس تصور کا واضح تعارف اور اس کا دائرہ کا بھی واضح کیا جائے۔ تاکہ اس تصور کی طرف رجحان رکھنے والے  محققین ایک واضح دائرہ کار میں رہ کر  اپنی تحقیق کو آگے بڑھا سکیں۔ 

مقاصد تحقیق

  • فکر اسلامی کا تعارف اور اس کے تاریخی پس منظر سے بحث کرنا
  •  فکر اسلامی کے تصور تشکیل جدیدکو واضح کرنا
  • بیسویں صدی کے مفکرین کی آراء کی روشنی میں اس تصور کے دائرہ کار کا تجزیہ کرنا

 سوالات تحقیق

  • فکر اسلامی کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
  • فکر اسلامی کے تصور تشکیل جدید سے کیا مراد ہے؟
  • بیسویں صدی کے مفکرین نے اس تصور کے دائرہ کار سے متعلق کون کون سی  تجاویز  پیش کی ہیں؟

منہج  تحقیق

  • تحقیق کےمعیاری پیراڈائم  ( Qualitative Paradigm)میں رہتے ہوئے تجزیاتی منہج تحقیق اختیار کیا گیا ہے۔
  • فکر اسلامی  کی اصطلاح کی وضاحت کے لیےمستندعربی  لغات کا سہارا لیا گیا ہے۔
  • فکر اسلامی کی تعیین، تاریخی پس منظر  اور اہمیت  کو بیسویں صدی کے  مفکرین  کی اردوتصنیفات سےبیان کیا گیا ہے۔ 
  • تصور تشکیل جدید کے ضوابط اور دائرہ کار کے لیے برصغیر کے مسلم مفکرین کی آراء کے ساتھ عرب مفکرین کی پیش کردہ تجاویز کا ذکر کیا گیا ہے۔ 
  • جدید تحقیق کے ذرائع، مثلا علمی ویب سائٹس، لائبریریز، ای کتب، تحقیقی مجلات اور آرٹیکلز سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔

فکر کی لغوی و اصطلاحی تعریف

فکر،عقل کی اس  فعال کیفیت  کا نام ہے جو انسان کو موجودہ معلومات کی بنیاد پر نئی معلومات  کی طرف لے جاتی ہے۔ فکر باقاعدہ ایک  علمی اور عقلی عمل ہے، اس لیے علماء اسلام نے فکر کی مختلف تعریفات بیان کی ہیں۔ فکر کی تعریف میں امام راغب اصفہانی فرماتے ہیں:

”الفكرة قُوَّةٌ مُطْرِقَةٌ لِلْعِلْم إلى المَعْلُومِ، وَالتَّفكرُ جَوَلانُ تِلْكَ القُوَّةَ بِحَسَبِ نَظَرِ العَقْلِ وذلك للإنسان دون الحيوان ، ولا يقال إلا فيمايُمكن أن يحصل له صورة في القلب ولهذا روى : إذ كانَ اللهُ مُنَزَّهَا أَنْ يُوصَفَ بِصُورَة قال :  أو لَمْ يَتَفَكَّرُوا فِي أَنْفُسِهِمْ مَا خَلَقَ اللَّهُ السموات“

”الفکرۃ؛ وہ قوت ہے جو علم کو معلوم کی طرف لے جاتی ہے، اور تفکر کا مطلب ہے کہ اس قوت کو نظر و عقل کے مطابق حرکت دی جائے ۔یہ ملکہ انسان میں ہوتا ہے جانور میں نہیں،یہ تفکر صرف اسی چیز میں کیا جا سکتا ہے  جس کی تصویر  دل میں بن سکتی ہو“

عمیم الاحسان  مجددی کے مطابق فکر کی تعریف یہ ہے:

”الفكر ترتيب أمور معلومة للتأدي إلى مجهول أو تردد القلب بالنظر والتدبر بطلب المعاني“

”امور معلومہ کو ایسے ترتیب دینا کہ ان سے نا معلوم چیز معلوم ہوجائے یا ان امور کے بارے تدبر و تفکر کرنا “

فکر کو ایک ذہنی اور عقلی قوت قرار دیا  گیا ہے، اگر فکر کو  عقل سلیم  کی راہنمائی میسر ہو تو وہ معلومات کی گہرائی  کے ساتھ ساتھ  علم و حکمت کے نئے افق بھی روشن کرتی ہے۔ تفکر ایک  ارتقائی عمل ہے جو معلوم سے نامعلوم کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ ان تعریفات  سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ”فکر“ایک منظم اور  متعین سفر ہے۔ جب اس  فکر کو اسلام کی تعلیمات کے زیر اثر استعمال کیا جائے تو اسے فکر اسلامی کہا جاتا ہے۔

فکر اسلامی کی تعیین

انسان ہمیشہ کسی فکر کے حصول  کے لیے کسی مصدر، عقیدہ یا  نظریہ  کے ماتحت  رہ کر  ہی سوچتا ہے۔ جب وہ اس سوچ و بچار سے اس فکر کو حاصل کر لے تویہ  اس رجحان کی فکر کہلائے گی، جیسے کوئی شخص کسی مسئلے کے حل کے لیے سیاسی  یا قانونی فریم ورک   کا انتخاب کرے تو یہ اس شخص کی  سیاسی یا قانونی فکرکہلائے گی۔ اسی طرح کسی مسئلے کے حل کے لیے اسلامی  علمی روایت  کا انتخاب کر کے جو نتیجہ اخذ کیا جائے گا وہ  نتیجہ” اسلامی فکر“ کہلائے گا۔ 

عموما فکر اسلامی اور علم الکلام کو ایک ہی مفہوم میں استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ فکر اسلامی  کی اصطلاح علم الکلام سے وسیع تر مفہوم کی حامل ہے۔ جیسا کہ سعید احمد پالن پوری  لکھتے ہیں:

"فکر اسلامی کو ہم ” اسلامی مزاج” یا” اسلامی ذہنیت "سے بھی تعبیر کر سکتے ہیں، یعنی یہ لفظ علم الکلام سے وسیع تر مفہوم میں استعمال کیاجاتا ہے۔ "

اسی طرح فکر اسلامی کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"ہم اس کی تشریح اس طرح کرسکتے ہیں کہ  مختلف الخیال اور مختلف المذہب لوگوں کی باہمی گفتگو میں مذہب کی ضرورت، اس کی حقانیت اور ترجیح کے سلسلے میں جو تاریخی، اخلاقی، تمدنی اور علمی مسائل زیر بحث آتے ہیں، وہ سب انسانی فکر کاجزء ہیں اور ان کے متعلق اسلام

۔ اصبهانى، حسین بن محمد ، المفردات فی غریب القرآن( بیروت:دارلقلم، بیروت، ۱۴۱۶ھ)، ۲/۶۴۳
۔ برکتی، عمیم الاحسان، التعریفات الفقهية (بیروت: دارالکتب العلميه ۲۰۰۳ء)، ۱۶۷
۔ فاروقی ، ضیاء الحسن،فکر اسلامی کی تشکیل جدید(لاہور: مکتبہ رحمانیہ)،۲۷
نے جو تعلیمات پیش کی ہیں، انہی کا نام” فکر اسلامی” ہے۔ "

احمد سعید پالن پوری صاحب کی تشریح کے مطابق فکر اسلامی کی اصطلاح بہت وسعت کی حامل ہے، اور یہ  عقائد ، معاملات اور عبادات سب کو شامل ہے، کیونکہ اسلام  کی نظریاتی، اخلاقی، تمدنی تعلیمات  کوانہیں تین اقسام میں منحصر کیا جاتا ہے۔

اس تصور کو اگر مزید آسان انداز میں سمجھا جائے تو اتنا کہنا کافی ہو گا کہ فکر اسلامی سے مراد اسلام کی تعلیمی اور فکری روایت ہے۔ ایسی روایت جس سےمسلمان اپنی مذہبی ، معاشی ، سماجی اور سیاسی زندگی کو اسلام کے مطابق گزارنے کے لیے راہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ فکر اسلامی کی وضاحت کرتے ہوئے ڈاکٹروارث مظہری  لکھتے ہیں:

”اسلامی فکر اسلامی علوم و افکار کی تمام شاخوں کو شامل ہے جیسے تفسیر، حدیث،فقہ،تصوف ،کلام،فلسفہ، تاریخ،ادب وغیرہ۔ یہ تمام عناصر مل کر ایک کلی وجود بن جاتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ ان میں سے بعض کو بعض پر فوقیت حاصل ہے لیکن زمان و مکان کی تبدیلی اور اسلامی فکر کو درپیش سوالات وتحدیات کے لحاظ سے ایک کے مقابلے میں دوسرے پر ارتکازکی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔“

فکر اسلامی کی اصطلاح کو سمجھنے اور  اس کی تعیین کے لیے امت مسلمہ  کی نابغہ روزگار شخصیات کے مساعی کو جاننا ضروری ہے۔ جیسا کہ امام غزالی نے اپنی کتاب احیاء علوم الدین میں فکر اسلامی کو اخلاقیات اور تصوف کی بنیاد پر سمجھایا۔ ان کے مطابق، اسلامی فکر کا مقصد انسان کی روحانی اور اخلاقی تربیت ہے تاکہ وہ خدا کے قریب ہو سکے۔

ابن رشد نے اپنی کتاب تہافت التہافت میں اسلامی فلسفہ اور نو فلاطونیت کے فلسفہ کو یکجا کرنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق، عقل اور وحی دونوں اسلامی فکر کے بنیادی عناصر ہیں۔  

فکر اسلامی کے تناظر  میں مولانا احمدرضا خاں  نے عقائد اور شعائر اہلسنت  کے تحفظ کو سب سے زیادہ اہمیت دی۔ انہوں نے اپنے دور کے مطابق  اہل سنت وجماعت کی تعلیمات کا دفاع کیا۔ ان کی مشہور کتاب  فتاوی رضویہ جلد نمبر۸ میں اسلامی عقائد اور اصولوں کی تشریح اور دفاع ملتا ہے۔ تصوف اور روحانیت کے بھی بڑے حامی تھے۔ 

 گویا کہ دور صحابہ کا اجتہاد ہو یا تابعین کے ادوار میں تدوین حدیث ، یہ تمام کوششیں فکر اسلامی ہی کہلاتی ہیں۔ اسلامی تعلیمات کا ہر وہ گوشہ جس کو امت نے اپنایا، اور  اس کی ترقی و نشو نما  کے لیے کوشش کیں ان سب کو  فکر اسلامی کی اصطلاح کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔  اور جب  داخلی و خارجی عناصر کے زیر اثر مسلمان اسلامی  فکر سے دور ہونے لگے، تو مسلمانوں کو  اپنی اصل بنیاد  دین اسلام پر واپس لانے کے لیے کی جانے والی  احیائی  کوششوں کو تجدید دین، اقامت دین، اسلام  کی تعبیر نو اور فکر اسلامی کی تشکیل جدید جیسی اصطلاحات سے موسوم کیا جانے لگا۔  الغرض، فکر اسلامی کی تشکیل جدید سے مراد ایسی جدو جہد ہے جس کے ذریعے اسلامی تعلیمات

۔ ایضا: ۲۷
۔  اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اسلامک اسٹڈیز، جامعہ ہمدرد، نئی دہلی۔ ان کی مایہ ناز تصنیف” برصغیر ہند میں جدید علم کلام“اہل علم میں  مقبول ومعروف ہے۔ (برصغیر ہند میں جدید علم کلام،لاہور:صبح نور پبلکیشنز)
۔ مظہری، ڈاکٹر وارث، فکراسلامی اور اس کا مزاج، (مدرسہ ڈسکورسز، ۱۲ ستمبر ۲۰۲۳ء)، ۲۰۲۵ء
۔ غزالی، محمد بن محمد ، احیاء علوم الدین (بیروت: دارالکتب العلميه، ۱۹۸۸ء)، ۲۰
۔ ابن رشد ، محمد بن احمد ، تهافت التهافت ( قاهره: دار المعارف، ۱۹۶۹ ء)، ۸۰
کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق  نئے اسلوب  کے ساتھ پیش کرنا ہے۔ جو سامع کی ذہنی استعداد کے مطابق ہواور اس  سے اصل دین میں کوئی کمی و زیادتی پیش نا آئے۔  

چنانچہ فکر اسلامی کی تشکیل جدید محض اجتہادی یا فکری سرگرمی نہیں بلکہ یہ ایک ہمہ جہت دینی تحریک ہے، جس کا مقصد مسلم ذہن کو درپیش نئے سوالات کا جواب دینا اور اسلام کے ہمہ گیر پیغام کو عصر حاضر کی علمی، فکری اور تہذیبی زبان میں پیش کرنا بھی ہے۔ اس عمل میں جہاں ایک طرف اسلامی مصادریعنی قرآن و سنت، اجماع و قیاس کی روشنی میں مسائل کا ازسر نو جائزہ لیا جاتا ہے، وہیں دوسری طرف جدید علوم و افکار کو بھی اسلامی نقطۂ نظر سے پرکھا جاتا ہے تاکہ ایک ایسا فکری و عملی توازن قائم ہو سکے جو امت مسلمہ کو درپیش فکری انتشار، تہذیبی مغلوبیت اور عملی جمود سے نجات دلا سکے۔

فکر اسلامی کی تشکیل کے  تاریخی  ادوار

 پہلا دور

فکر اسلامی کا دور اول  رسالت مآب ﷺ کا ۲۳ سالہ دور نبوت  ہے ۔ جس میں آپ ﷺ نے خدائی احکامات کو  انسانوں کے سامنے پیش کیا۔ آپ ﷺ نے دور جاہلیت کی پستیوں ، ناانصافیوں اور بد اخلاقیوں کے نظام کے خلاف خدائی نظام پیش کیا عرب کے صحرا نشینوں کو  کتاب کا علم دیا ، ان کی روحانی تربیت فرمائی ان کو حکمت الہیہ  سے نوازا۔ ان کو دین اسلام کے اصولوں اور اس کی تعلیمات سے آگاہ کیا۔ یہ ایک انقلابی دور تھا جس میں بانی اسلامﷺ نے فکر اسلامی کی بنیاد رکھی اور اس کی تشکیل کی۔ 

دوسرا دور

دوسرا دور خلفائے راشدین کا ہے جس میں مسلمانوں کا سامنا عجمی تہذیب و تمدن سے ہوا بہت سے انتظامی اور شرعی معاملات سامنے آئے۔ صحابہ کرام نے اس دور میں نئے مسائل کو حل کرنے کے لیے قرآن و سنت کی طرف رجوع کیا۔ اگر مسئلہ  کا حل ان میں نا پا یا جا سکا تو صحابہ نے قرآن و سنت کی روشنی میں اپنے اجتہاد سے حل نکالنے کی کوشش کی۔ بعد میں یہی کوشش اور طریقہ امت کے لیے مشعل راہ بنا۔ اس دور میں اجتہاد زیادہ تر نئے پیش آمدہ  فقہی  مسائل اور انتطامی معاملات تک ہی محدود  رہا۔ 

تیسرا دور

فکر اسلامی کا تیسرا دور خلافت راشدہ کے اختتام سے لے کر سلجوقی حکومت کے برسراقتدار آنے تک رہا۔ عصر حاضر میں اس دور کو علوم و فنون کے لحاظ سے امت مسلمہ کا  سب سے اہم دور  مانا جاتا ہے۔ اسی دور میں فکر اسلامی نے مختلف مراحل طے کیےاور مختلف علمی شعبوں میں ترقی ہوئی ۔ تدوین حدیث ، تفسیر قرآن ، فقہ و اصول فقہ، علم الکلام، تصوف، فلسفہ ادبیات، تاریخ نگاری اور علم الرجال جیسے علوم ترقی کی منازل طے کرتے ہوئےعروج کو پہنچے۔ 

چوتھا دور

یہ دور امام غزالی کی پیدائش سے آپ کی وفات تک محیط ہے۔ امام غزالی نے اپنی فکر سے فکر اسلامی میں نئی اور قابل قدر جہات متعارف کروائیں۔اشاعرہ کے علم الکلام ، تصوف اور مدون فقہی قوانین کو اسلام کے اجزاء کے طور پر تسلیم کرایا۔ آپ نے اپنے دور میں موجود مکاتب فکر کو ایک معیاری قابل عمل راہ پیش کرنے کی کوشش کی۔ اس کا مثبت نتیجہ یہ نکلا کہ امام غزالی کے دور تک امت میں پایا جانے والا اختلاف کم ہوا اور ایک متفقہ مذہبی ڈھانچہ تشکیل پایا۔ 

پانچواں دور

اس  دور مسلمانوں کے فکری انحطاط  کا آغاز ہوا۔ فکر اسلامی اس دور کے میں اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود تھی۔ گذشتہ ادوار کی مساعی کی وجہ سے زندگی کا کوئی گوشہ اسلامی تعلیمات سے خالی نا رہا۔ جس سے مسلمانوں میں فکری سستی پیدا ہوئی جس کا خاتمہ آج تک نا ہوسکا۔ یہ دو ر امام غزالی کے وصال کے بعد سے لے کر  اٹھارویں صدی تک محیط ہے۔ اس دور میں مشہور مذاہب فقہ پر تقلید کو لازم قرار دیا گیا۔ تصوف اور فلسفہ کی جانب امت کارجحان بڑھا۔ اس دور میں امام شاطبی جیسے عظیم مجتہدین بھی پیدا ہوئے مگر وہ بھی اپنے وقت میں معاشرے پر اپنااثر نا جما سکے۔ 

چھٹا دور

یہ دور مسلمانوں کے زوال کا آخری مرحلہ ہے جس میں ان کا ہزار سالہ دور حکومت ختم ہو گیا اور وہ مغربی طاقتوں کے سائے میں جا پہنچے۔ کل کے  حاکم آج کے محکوم بنے۔ استعمار نے اس دور میں مسلمانوں کو جسمانی، سیاسی اور فکری تینوں طرح سے پست کیا۔ اس صورت حال میں مسلمانوں کوفکر اسلامی کی تشکیل جدید  کی ضرورت محسوس ہوئی ۔ اس تشکیلی عمل میں کوشش کرنے والوں میں سب سے اہم نام  سید جمال الدین افغانی ، سر سید احمد خاں جیسی شخصیات  اور اداروں میں ندوہ العلماء جیسے ادارے سر فہرست ہیں۔ یہ دور آج بھی جاری ہے۔ 

اسلامی فکر کی تشکیل جدید  کی ضرورت و اہمیت

لفظ تشکیل کا معنی  ہے مرتب کرنا، شکل دینا اور جدید کا مطلب ہوتا ہے نیا ۔ اور تشکیل جدید سے مراد ہے   نئے طور پر مرتب کرنا یا نئی شکل دینا۔ انیسویں صدی میں جب استعمار نے ریاستی طور پر مسلمانوں کو پسپا کر دیا تو اس نے اپنی تہذیبی افکار کو معاشرے میں پھیلا دیا جس سے بہت سے مسلمان متاثر ہوئے بنا نا رہ سکے۔ مغربی تہذیب نے عالم اسلام کی فکری بنیادوں پر حملہ کیا جس سے بہت سے نوجوان شکوک شبہات کا شکار ہوئے۔

”انگریز نے ہندوستان پر قدم تسلط رکھتے ہی اسلامی فکر و فلسفہ  اور اسلامی نظام تعلیم پر مسلسل کاری ضربیں لگانا شروع کر دیں۔ اسلامی علوم و فنون کی جگہ مغربی جدید علعم و فنون کو پزیرائی ملنے لگی۔ دیکھتے ہی دیکھتے سارے ہندوستان پر مغربی تعلیی فلسفہ گردش کرنے لگا۔ اسلامی نظریہ تعلیم و تعلم حوالہ در اعتناء رہا۔ مدارس دینیہ مفلوک الحالی کی عمر جاں گداز پر مجبور و مقہور ہو گئے۔ مگر غیرت و حمیت والے علماء نے اس دور میں علم حق کو تھامے رکھا۔ بھوک، پیاس کی شدت ، حالات  کے تھپیڑے برداشت کرتے رہے لیکن اسلام کے لافانی نظریہ تعلیم سے سر مو انحراف نہ کیا۔ “

ان  اثرات کے پیش نظر امت مسلمہ کے درد دل رکھنے والوں نے ان اثرات سے نبرد آزما ہونے کے لیے غور و فکر شروع کیا۔  اس سے پہلے امت نے ایسی فکر یلغار نا دیکھی تھی اس لیے  سابقہ اسلامی لٹریچر میں بھی کوئی واضح راہ نمائی نا ملی۔اس لیے ضروری  ہوا کہ اب تجدید دین کے اصول پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ، ان اثرات کو ختم کیا جائے۔  علامہ محمد اقبال نے اسلامی فکر کو جدید دور کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی۔ان کے نزدیک اجتہاد، جو کہ دین اسلام کا محرک اصول ہے کو بہت زیادہ اہمیت دی۔ اور اجتہاد کے ذریعے فکر اسلامی کی تشکیل پر زور دیا۔ 

”اجتہاد (اجتہاد کی ضرورت) اسلامی فکر کی تجدید کے لیے ضروری ہے۔ “

مولانا مودودی تجدید دین پر کام کے حوالے سے بیسویں صدی  کی مایہ ناز شخصیت  تھے۔ تجدیددین کے تصور کی وضاحت کے لیے انہوں نے ایک کتابچہ تجدید و احیائے دین کے نا م سے شائع کیا۔ جس میں انہوں نے  کار تجدید اور  سابقہ مجددین کے تجدیدی مساعی کا جائزہ لیا ، ان کے مطابق ضروری ہے کہ ہمیں اس خلاء کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے جس میں سابقہ مجددین کا کام نا مل پا رہا ہو۔ ان

 خواجہ، غلام السیدین،  علی گڑھ کی علمی تحریک (علی گڑھ: مسلم یونیورسٹی پریس، ۱۹۳۱ء)، ۶
۔ علامہ ، محمد اقبال، تشکیل جدید الہیات اسلامیہ( لاہور، شیخ غلام علی اینڈ سنز، ۱۹۳۰ء)، ۶۰۰
کی یہ اشاعتی  کوشش صرف اس لیے تھی کہ تجدید دین سے پہلے اس کی نوعیت اور پس منظر واضح ہو۔ تاکہ فکر اسلامی کی تشکیل جدید صحیح راہ پر ہو۔  اس تجدید کی ضرورت کے پیش نظر فرماتے ہیں :

”حالانکہ اگر اب ہمیں تحریک اسلامی کی تجدید واحیا کے لیے کوئی کوشش کرنی ہے تو اس قسم کی عقیدت مندی اور اس ابہام و اجمال سے کچھ کام نہ چلے گا۔ ہمیں پوری طرح اس تجدید کے کام کو سمجھنا پڑے گا اور اپنی پچھلی تاریخ کی طرف پلٹ کر دیکھنا ہو گا کہ ان بہت سی صدیوں میں ہمارے مختلف لیڈروں نے کتنا کتنا کام کسی کسی طرح کیا ہے ، ان کے کارناموں سے ہم کس حد تک فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور ان سے کیا کچھ چھوٹ گیا ہے جس کی تلافی پر اب ہمیں متوجہ ہونا چاہیے۔ “

تشکیل جدید اور مولانا وحید الدین خاں

مولانا وحید الدین خاں بھی  فکر اسلامی کی تشکیلِ جدید کو مسلمانوں کو درپیش معاصرمسائل میں شمار کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک دور جدید میں مسلمانوں کو جن چیلنجز کا سامنا ہے، ان میں سب سے بنیادی چیلنج اسلامی فکر کی تشکیل جدید  کا تھا ، لکھتے ہیں :

”دور جدید  میں مسلمانوں کے لیے جو مسائل پیدا ہوئے، ان میں سب سے پہلا اور سب سے اہم مسئلہ فکر اسلامی کی تشکیل جدید تھا۔  یعنی دور جدید کی واقعی نوعیت کو متعین کرنا اور پھر اسلام کے ساتھ اس کے مثبت یا منفی تعلق کو واضح کرنا“

مولانا تشکیلِ جدیدکو ”اصلاحِ دین“ (Reformation)  کی بجائے ”تطبیقِ نو“ (Re-application) سے تعبیر کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک دین اپنی اصل میں محفوظ اور مکمل ہے، اس میں کسی قسم کی ترمیم یا نظرثانی کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مسلمانوں کو درپیش  معاصر  سیاسی ، سماجی اور معاشرتی مسائل پردین اسلام  کو از سرِ نو لاگو کرنے کی ضرورت ہے۔  اس زاویے سے مولانا کا تصورتشکیل  جدید ایک اجتہادی نقطہ نظر  ہے جس کا مقصد دین کو عصر حاضر  کے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہے، نہ کہ اس کی اصل روح میں کوئی تبدیلی کرنا۔

مولاناکے مطابق تاریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ  دین کے اندر  وقت کے ساتھ مختلف قسم کی انسانی آمیزشیں کردیں گئی، جنہوں نے رب العزت کے اصلی پیغام کو دھندلا کر دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ آمیزشیں یا تو مذہب کی حقیقت کو  خارجی طور پرمتعین کرنے کی کوشش میں ظاہر ہوئیں،جیسا کہ یہود نے عہد نامہ قدیم میں آمیزش کردی یہاں تک کہ اس میں قربانی کی انتہائی جزئی تفصیلات شامل کردیں۔ یا پھر اس کی تعلیمات کو فلسفیانہ اور عقلی اصطلاحوں میں پیش کرنے کے نتیجے میں سامنے آئیں۔جیسے مسیحیوں نے تثلیث، کفارہ اور رہبانیت جیسے تصورات کو اصل تعلیمات مذاہب سمجھ لینا وغیرہ۔  مولانا ان اضافوں کو گرد و غبار سے تعبیر کرتے ہیں:

”دین کے اوپر گرد و غبار کی وجہ ہمیشہ سے ایک ہی رہی ہے۔ اور و ہ ہے آسمانی متن میں انسانی اضافہ۔ یہ اضافہ ابتداء وقتی محرکات کے تحر وجود میں آتا ہے۔ اس کے بعد رفتہ رفتہ مقدس بن  کر اصل خدائی مذہب کا جزء بن جاتا ہے۔۔۔۔ اس اضافہ کے محرکات دو قسم کے ہوتے ہی:۱- مذہب کی حقیقت کو خارجی طور پر متعین کرنے کی کوشش۔ ۲- مذہب کی تعلیمات کو عقلی اصطلاحوں میں بیان کرنا “ 

 مولانا کہتے ہیں کہ اگر آج اسلام پر بھی  ایسی گردوغبار پڑچکی ہےاس کی صفائی” تجدیددین“ کا اولین مرحلہ ہے۔ ان کے بقول، جب تک خدا کے دین کو ان انسانی اضافوں سے پاک نہیں کیا جائے گا،

۔ مودودی، سید ابو الاعلی،تجدید  و احیائے دین (لاہور: اسلامک پبلیکیشنز لمیٹڈ، ۱۹۶۰ء)، ۹

۔ مولانا، فکر اسلامی، ۶
۔ مولانا، وحیدالدین خان ، تجدید دین، ( دہلی: الرسالہ، ۱۹۸۴ء)، ۱۷

اس وقت تک اس کی اصل روح نمایاں نہیں ہو سکتی۔

”آج اسلام پر یہ سارے "گردوغبار” اسی طرح پڑ چکے ہیں جس طرح وہ پچھلی امتوں کے دین پر پڑے۔ اسلام میں تجدید کا کام سب سے پہلے ان آمیزشوں کو اس سے الگ کرنا ہے۔ خدا کے دین کو از سرنو زندہ کرنے کی کوئی کوشش اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک اس کو انسانی گردوغبار سے پاک نہ کردیا جائے۔ “

اس لیے  مولانا تجدید دین کی تعریف یوں کرتے ہیں: 

”تجدید دین، ایک لفظ میں، دین کو انسانی اضافوں سے پاک کر کے اس کو ابتدائی ربانی صورت میں نمایاں کرنا ہے، تاکہ انسان براہ راست خدا سے مربوط ہو جائے، تاکہ خدا اور انسان کے درمیان کوئی اور چیز حائل نہ رہے“

اس تعریف سے معلوم ہوتا ہے کہ مولانا کے نزدیک تجدید دین کا اصل مقصد فرد اور خدا کے درمیان حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہے تاکہ انسان براہِ راست وحی کی راہنمائی میں زندگی گزار سکے۔مولانا وحید الدین خان کا تصور تشکیل جدید،قرآن و سنت کی اصل تعلیمات کی تطبیقِ نو پر زور دیتا ہے، اور مسلمانوں کو دعوت دیتا ہے کہ جامد رسوم و روایات سے نکل کر دین اسلام کو اس کی اصل تعلیمات کے مطابق  قبول کریں۔ 

سابقہ ادوار میں جب کوئی توحید کی دعوت دیتا تھا ۔ تو حکومت وقت اس کی مخالفت کیا کرتی تھی ۔ تو آج کے لوگوں نے یہ غلط تصور قائم کر لیا کہ اگر آج اگر کسی دعوت توحید  کی مخالفت نہیں ہورہی تو اس کا مطلب ہے کہ اسکا دعوتی طریقہ درست نہیں ہے۔ کیونکہ اگر درست ہوتا تو  ضرور اس کو مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا۔ “ مولانا کے مطابق اسلامی دنیا میں گن اور بم کلچر کا رواج  اسی مجتہدانہ غلطی کا پیش خیمہ ہے۔  جس کی وجہ سے مسلمانوں کی ساخ خراب ہوئی اور دنیا کے کافر  حکمرانوں  نے ان پر تشدد کرنا شروع کردیا۔ اس سے مسلمانوں میں اجتہادی صلاحیت کا فقدان واضح ہو کر سامنے آجاتا ہے۔

مسلم ممالک کی جہادی تحاریک، سیاسی اسلام،مسئلہ قومیت، امامت اقوام کا مسلم نظریہ ان نظریات کے متعلق مولانا کا موقف یہ ہے کہ یہ دور دعوت اسلام کا دور ہے اور اس دور میں ان افکار کی تشریح نو ضروری ہے۔  کیونکہ ان کی وجہ سے اسلام اور مسلمانوں کو کافی نقصان ہو رہا ہے۔ 

ان افکار سے واضح معلوم ہوتا ہے کہ مولانا جدید دور کو ایک پرامن اور آزادی کادور سمجھتے ہیں۔  ان کے مطابق جتنی بھی پریشانیاں ہیں وہ مسلمانوں کی خود پیدا کردہ ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ  عصر جدید میں اسلامی فکر کی تشکیل جدید کی جائے اور  مذکورہ مسائل کو  دلائل و حقائق کی روشنی میں واضح کیا جائے کیا جائے۔ 

الغرض اس تشکیل کی ضرورت و اہمیت کو عالم اسلام کے بیشتر مفکرین نے محسوس کیا اور اس کے لیے مساعی کیں اس عمل میں بہت متنوع نظریات وجود میں آئے ۔ کسی نے اس کے لیے اقامت دین کا فلسفہ امت کے سامنے رکھا تو کسی نے  مغربی علوم کو سیکھ کر اس سے نجات کی تجویز پیش کی کہیں حسن البنا کی اخوان المسلمون سیاسی جدو جہد میں مصروف رہی تو کہیں ندوۃ العلماء اور علی گڑھ کی علمی تحاریک ۔ ہر ایک اپنی حد تک تشکیل جدید میں مصروف عمل  رہا اور یہ عمل آج تک جاری ساری ہے۔ بیسویں صدی میں تشکیل جدید، تجدیددین اور احیائے امت جیسی اصطلاحات کا ظہور

۔ مولانا، تجدیددین، ۱۸
۔ ایضا: ۲۱
۔ مولانا، فکر اسلامی،  ۱۰
ہوا۔مولانا  سید سلیمان ندوی بیسویں صدی کے ان افکار کو چند جملوں میں یو ں سمیٹا ہے، لکھتے ہیں:

”یورپ کے اثرات نے تعلیم یا فتہ مسلمانوں کے دماغی تواز ن میں فرق ضرور پیدا کیا ہے، مگر اسکی اصلاح و تدارک کے لیے آپ کیا چاہتے ہیں۔ ایک نسخہ تو نسخہ اسلام ہے جو بانی تحریک کا ہے، دوسرا نسخہ تجدید نبوت کا ہے جو قادیانیوں نے اختیار کیا ہے، تیسرا نسخہ ابطال شرعیت احادیث کا ہے جو اہل قرآن نے تجویز کیا ہے۔ "كل يدعي وصلا بليلى(ہر ایک لیلی سے تعلق کا داعی ہے)”“ 

یہ مکتوب  ماہنامہ ’ندیم‘ کے ستمبر ۱۹۳۹ءکے شمارے سے نقل کیاگیا تھا۔ اس سے اندازہ لگا یا جا سکتا ہے کہ تجدید کی کوششیں کس حد تک جاری تھیں۔ اپنے مکتوب میں مولانا ندوی نے  اگرچہ اسلام کی تجدید کی ضرور نفی کی  ہے،   مگر ساتھ میں معاملات اور فقہ میں جمود کو توڑنے  پر بھی  زور دیا ہے۔  اس سے معلوم ہوتاہے کہ وہ بھی فکر اسلامی کی اصلاح و تجدید کے قائل تھے مگر اس کو  اسلام کی تجدید کی بجائے جدید تعبیر کہنا زیادہ مناسب ہو گا اور ان کی یہ تعبیر معاملات اور فقہی امور تک محدود تھی۔ مگر ایسے احباب بھی تھے جنہوں نے اپنی تجدیدی افکار  کو عقائد اور الہیا ت کے میدان تک وسیع کیا  اور اسلام کے مسلمہ تصورات کو سائنس کے جدید تصورات کے تابع کرنے کی کوشش کی۔جن میں سر سید احمد خاں کا نام سب سے واضح نے انہوں نے معاد، فرشتوں اور جنت و دوزخ کے تصور  کی روایت سے ہٹ کر تعبیر پیش کی ۔  اس لیے ضروری ہوا کہ تشکیل جدید کے عمل کے کچھ ضوابط متعین کی جائیں۔ 

فکر اسلامی کی تشکیل جدید  کے ضوابط

فکر اسلامی کی تشکیل جدید ایک پیچیدہ عمل ہے۔ اور اگر اس کا اختیار ہر ایک کو دے دیا جائے تو آراء کا ایک ایسا گرداب اٹھ کر آتا ہے جس میں واضح راستہ بھی مدہم ہو جاتا ہے۔ استعمار کے بعد امت اسی آراء کے گرداب میں پھنس چکی ہے ۔ اس کا حل،  کار تجدید اور مجدد کے کام کی نوعیت کو واضح کرنا ہے۔  اس کے لیے ایسے ضوابط اور حد بندی کی ضرورت ہے تاکہ مجدد کے سامنے یہ بات واضح ہو کے کن امور میں تجدید کی جائے گی اور کن میں نہیں۔ یہ تحدید اور ضابطے کی تعیین قرآن و سنت کی تعلیمات سے مستنبط کی جائے گی جن کو اسلاف نے  اپنے کار تجدیدواضح فرما دیا ہے۔ اور اگر کوئی شخص ان ضوابط کے اندر رہ کر کار تجدید کرے تو وہ یقینا امت کا بھلا کرے گا، اور اگر ان کو پس پشت ڈال کر وہ اپنی عقل سے معاملات و عقائد میں تجدید کرے گا تو وہ مجدد نہیں متجدد بن جائے گا۔ 

ان ضابطوں میں ایک ضابطہ  تو یہ ہوگا کہ وہ پیش آمدہ مسائل کا حل تو تلاش کرے ۔ لیکن اس معاملے میں قطعیات اسلام کا پابند رہے۔ وہ  عقائد ، امثال اور احکام جن کا ذکر نصوص (قرآن و سنت ) میں واضح اور مبین انداز میں آچکا  ہے ان میں عقل کے گھوڑے نہیں دوڑائے گا۔ مزید امور غیبیہ جیسے وجود باری، ہیت ملائکہ، جنت و دوزخ اور سابقہ اقوام کی وہ اخبار جو قرآن پاک  اور احادیث صحیحہ

نومبر ۱۸۸۴ کو عظیم آباد، ہندوستان میں پیدا ہوئے اور ۱۹۵۳ میں کراچی پا کستان میں وفات پائی۔ علامہ سلیمان ندوی نے سیرت، ادب، تاریخ اور مذہب پر گراں قدر تحقیقی کام کیا، ماہنامہ معارف کے ذریعے دین و ادب کی خدمت کی، اور پاکستان آکر ملت اسلامیہ کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں۔ وہ ایک ممتاز عالم، مؤرخ، مصنف اور مدبر تھے، جن کی اہم تصانیف میں سیرت النبیؐ، حیات شبلی، سیرت عائشہ اور عربوں کی جہازرانی شامل ہیں۔(حیات سلیمان،دارالمصنفین علی گڑھ)
۔ چغانی،حبیب الرحمن،اسلامی تہذیب و ثقافت(پٹنہ:خدا بخش اورینٹل لائبریری، ۱۹۹۹ء)، ۱۰۳
کے ذریعے ہم تک پہنچی اور کسی تاویل کی محتاج نہیں ان میں تجدید کی کوئی مجال نہیں ہوگی۔احکام شرعیہ میں سے وہ احکام جن کے متعلق اخبار صحیحہ جمع کی جا چکی ہیں جیسے عبادات سے متعلقہ احکام، معاملات کے متعلق اصول و احکام اور وارثت کے احکام وغیرہ ۔ ان میں تجدید کے نام پر اجتہاد نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ یہ منصوص امور ہیں اور ان میں اجتہاد جائز نہیں۔ شیخ احمد الزرقا فرماتے ہیں:

”لا مساغ لاجتهاد في مورد النص لان الحكم الشرعى حاصل بالنص فلا حاجة لبذل الوسع في تحصيله بالاجتهاد فالاجتهاد ظنى و الحكم الحاصل به حاصل بظنى، بخلاف الحاصل بالنص بانه يقينى و لا يترك اليقينى للظنى ، و المراد بالنص الذى لا مساغ للاجتهاد معه هو,المفسر المحكم۔ “

”جہاں پر نص وارد ہو جائے وہاں اجتہاد کو کوئی مجال نہیں ہے : اس لیے کہ حکم شرعی نص کے ساتھ حاصل ہوتا ہے تو اس میں کسی مفہوم کی زیادتی کوئی ضرورت نہیں ہوتی کہ جو اجتہاد کے ساتھ حاصل ہو۔ پس اجتہاد ظنی ہے اور اس سے حاصل ہونے والا حکم وہ ہے کہ جو ظنی دلیل سے حاصل ہوا ہے۔ بر خلاف اس کے کہ جو نص سے حاصل ہوا اس لیے کہ وہ یقینی ہے اور یقینی کو ظنی کی وجہ سے نہیں چھوڑا جا سکتا۔ اور وہ نص کہ جس میں اجتہاد کو کوئی مجال نہیں ہے اس سے وہ نص مراد ہے کہ جو مفسر اور محکم ہو۔“

سب سے اہم ضابطہ صاحب تجدید کی اپنی قابلیت کا ہے۔ تجدید کرنے والے پر لازم ہے کہ وہ تجدید دین کی تعلیمات، اصول و ضوابط، قرآن و سنت کی قطعیات و ظنیات کی معرفت، اور اسلامی اصطلاحات اور ان کے مفاہیم سے مکمل طور پر واقف ہو۔ شریعت کو عقل پر مقدم رکھنے ولا ہو، قرآنی پاک اور سنت کے اشارات ، دلالات اور اقتضاءات سے راہنمائی لینے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ دین کے سابقہ اور مروجہ علوم کا ماہر ہو، بدعت کو مٹانے والا ہو، اصل دین کو اجاگر کرنے ولا ہو۔  کیونکہ تشکیل جدید قرآن و سنت کی اتباع کرتے ہوئے ہی ممکن ہے، عظیم آبادی لکھتے ہیں: 

” فظهر أن المجدد لا يكون إلا من كان عالما بالعلوم الدينية ومع ذلك من كان عزمه وهمته آناء الليل والنهار إحياء السنن ونشرها ونصر صاحبها وإماتة البدع ومحدثات الأمور ومحوها وكسر أهلها باللسان أو تصنيف الكتب والتدريس أو غير ذلك ومن لا يكون كذلك لا يكون مجددا البتة وإن كان عالما بالعلوم مشهورا بين الناس مرجعا لهم۔ “

”خلاصہ یہ کہ مجدد وہی ہوتا ہے جو دین کے تمام علوم کا ماہر ہو اور دن رات کی محنت صرف سنت کو زندہ کرنے اور بدعتوں کو ختم کرنے میں لگائے۔ چاہے وہ زبان سے، کتاب لکھ کر، تدریس سے یا کسی بھی ذریعے سے دین کا احیاء کرے۔ اگر کوئی شخص ایسا نہ ہو تو وہ مجدد نہیں کہلا سکتا، چاہے وہ جتنا بھی بڑا عالم ہو یا مشہور ہو۔“

ان چند بنیادی ضا بطوں پر عمل پیرا ہو کر ہی  تشکیل جدید کے عمل کی تکمیل ممکن بنائی جا سکتی ہے۔  اور یہی وہ معیار ہے جس پر امت  کسی شخص کے عمل تجدید کو پرکھ کر اس کی فکر کو قبول رد کر سکتی ہے۔ اگر ان تحدیدات کو نظر انداز کر کے ہر شخص کو تشکیل جدید کا اختیاردے دیا جا ئے تو اس سے حل تو نہیں نکلا گا مگر امت میں فکری انتشار ضرور برپا ہوگا۔ جو کہ موجودہ دور میں بھی امت کے لیے ایک چیلنج بن چکا ہے اس چیلنج کا واحد حل خود کو دین اسلام کی اصل تعلیمات سے جوڑنا ہی ہے۔ اور امت جب تک اپنی اصل کی طرف نہیں لوٹے گی یوں ہی غیروں کے ہاتھوں رسوا ہی رہے گی۔ اس لیے نجات صرف قرآن میں ہے اور رسول اللہ کے فرمان میں ہے۔  زرقا، احمد بن شیخ محمد، شرح  القواعد الفقهية (دمشق: دارالقلم، ۱۴۹۰ھ)، ۱/ ۱۴۷
 عظیم آبادی، محمد اشرف بن امیر، عون المعبودوحاشيةابن القیم(بیروت: دارالکتب العلميه، ۱۴۱۵ھ)، ۱ /۹

فکر اسلامی کی تشکیل جدید اورعالم  

اسلامی دنیا  میں اس فکر اسلامی کی تشکیل جدید  پر کام کرنےکے حوالے سے بہت سے تحقیقی ادارے وجود میں آئے۔ مجمع البحوث الاسلامیہ قاہرہ کے زیر اہتمام کئی سیمینارز اور کانفرنسز کا انعقاد ہو ئے۔ عام طور پر ان کا نفرنسز کا عنوان”الاجتهاد في شريعة الاسلام ” ہوتا تھا۔ اس موضوع پر پہلی مؤتمر مارچ ۱۹۶۲ء میں جامعہ ازھر میں منعقد ہوئی۔ کویت میں حکومت کے تعاون سے ہر سال اعلی پیمانے پر ایک انٹر نیشنل سیمینار کیا جاتا ہے جس میں دنیا بھر کی مسلم شخصیات جمع ہوتی ہیں۔ اس سالانہ سیمینار کا عنوان "ندوہ مستجدات الفکر الاسلامی” ( فکر اسلامی کے جدید پہلو)  ہوتا ہے۔ ڈاکٹر ذاکر حسین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک سٹڈیز کے تحت ۱۹۷۶ء میں بڑے پیمانے پر ایک سیمینارنئی دہلی میں ہوا جس کا موضوع تھا، ”فکر اسلامی کی تشکیل جدید“۔ اس سیمینار میں برصغیر کے منتخب علماء واہل فکر نے اسلامی علوم کے مختلف پہلوؤں پر اپنے مقالات پیش کئے۔ اس قسم کی کوششیں سارے عالم اسلام میں وسیع پیمانے پر جاری ہیں مگر ابھی تک یہ کوششیں اپنی  کثرت کے باوجود نتیجہ خیز  چابت نہیں ہوئیں۔ جس کا سبب یہ ہے کہ فکر اسلامی کی تشکیل جدید ایک مجتہدانہ عمل ہے جبکہ چوتھی صدی ہجری کے بعد سے مسلم دنیا پر  فکری و ذہنی جمود کی ایسی فضا چھائی ہوئی ہے کہ کوئی بھی شخص  بڑے پیمانے پراجتہاد کی ہمت کرنے کیلئے تیار نہیں۔ مسلم یونیورسٹیز میں باقاعدہ اس کے لیے شعبہ جات قائم ہیں جن میں نمل یونیورسٹی اسلام آباد میں قائم کردہ شعبہ  اسلامی فکر و ثقافت،  علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے زیر اہتمام شعبہ فکر اسلامی اس فیلڈ میں تحقیقی و علمی کام کے لیے کوشاں ہے۔ اس میں بین الاقوامی طور پر کیمبرج یونیورسٹی میں بھی Islamic Thought کے نام سے ایک شعبہ قائم ہے جس میں اسلام کی دینی و سیاسی تاریخ کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ 

خلاصہ

فکر اسلامی سے مراد اسلام کی تعلیمی اور فکری روایت ہے۔۔ اسلامی تعلیمات کا ہر وہ گوشہ جس کو امت نے اپنایا، اور اس کی ترقی و نشو نما  کے لیے کوشش کیں ان سب کو فکر اسلامی کی اصطلاح کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔  فکر اسلامی کی تشکیل جدید سے مراد ایسی جدو جہد ہے جس کے ذریعے اسلامی تعلیمات  کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق  نئے اسلوب  کے ساتھ پیش کرنا ہے۔ فکر اسلامی کا دور اول  رسالت مآب ﷺ کا ۲۳ سالہ دور نبوت  ہے ۔ جس میں آپﷺ نے خدائی احکامات کو  انسانوں کے سامنے پیش کیا۔ دوسرا دور خلفائے راشدین  کا ہے جس میں صحابہ کرام   نے نئے مسائل کو حل کرنے کے لیے قرآن و سنت کی طرف رجوع کیا۔ فکر اسلامی کا تیسرا دور خلافت راشدہ کے اختتام سے لے کر سلجوقی حکومت کے برسراقتدار آنے تک کا ہے،اسی دور میں فکر اسلامی نے مختلف مراحل طے کیےاور مختلف علمی شعبوں میں ترقی ہوئی ۔ چوتھا  دور امام غزالی کی پیدائش سے آپ کی وفات تک محیط ہے۔ آپ نے اپنے دور میں موجود مکاتب فکر کو ایک معیاری قابل عمل راہ پیش کرنے کی کوشش کی۔ پانچویں  دور میں مسلمانوں کے فکری انحطاط  کا آغاز ہوا۔ گذشتہ ادوار کی مساعی کی وجہ سے زندگی کا کوئی گوشہ اسلامی تعلیمات سے خالی نا رہا۔ جس سے مسلمانوں میں فکری سستی پیدا ہوئی جس کا خاتمہ آج تک نا ہوسکا۔ چھٹا  دور مسلمانوں کے زوال کا آخری مرحلہ ہے جس میں ان کا ہزار سالہ دور حکومت ختم ہو گیا اور وہ مغربی طاقتوں کے سائے میں جا پہنچے۔ یہ دور آج بھی جاری ہے۔

استعمار کی فکری یلغار نے جب شکوک شبہات کو فروغ دیا  عالم اسلام کے بیشتر مفکرین نے  فکر اسلامی کی تشکیل جدید کی ضرورت کو محسوس کیا ۔انہوں نے  اس کے لیے مساعی کیں اور  اس  طرح اس عمل میں بہت متنوع نظریات وجود میں آئے ۔ جس سے بیسویں صدی میں تشکیل جدید، تجدیددین اور احیائے امت جیسی اصطلاحات کا ظہور ہوا۔

فکر اسلامی کی تشکیل جدید ایک پیچیدہ عمل ہے۔ جس کے لیے مجدد کو دینی علوم کا ماہر ہونا ضروری ہے ورنہ وہ کار تجدید درست انداز سے ادا نہیں کر سکے گا۔ مجدد نصوص شرعیہ محکمہ میں بھی بے جا تاویل نا کرے کیونکہ واضح نص میں تاویل جائز نہیں ہوتی۔ ان ضابطوں کا خیال رکھتے ہوئے ہی عمل تشکیل کو امت کے لیے قابل قبول بنا یا جا سکتا ہے۔ اس لیے اسلامی دنیا  میں اس  فکر اسلامی کی تشکیل جدید کی ضرورت کے پیش نظر بہت سے تحقیقی ادارے  کام کر رہے ہیں۔جن میں مجمع البحوث الاسلامیہ قاہرہ، جامعہ ازھر،ڈاکٹر ذاکر حسین انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک سٹڈیز کے نام نمایاں ہیں۔

گوشۂ سہولت سے ایک قدم باہر: رسول ﷺ کی سیرت سے مسلسل جدوجہد کا سبق

انسان کو آرام چاہیے، سکون چاہیے، اپنے لیے ایک ایسی جگہ چاہیے جہاں زندگی کی دوڑ کچھ دیر کے لیے تھم جائے، ذمہ داریوں کا بوجھ ہلکا محسوس ہو اور آدمی خود کو محفوظ سمجھے۔ یہ انسانی فطرت ہے اور

مصنف: ابرار حسین
تاریخ: 3 اکتوبر 2026
فقہ النوازل میں فقہاء کا منہج

اسلامی شریعت اپنی ساخت اور مزاج کے اعتبار سے ایک جامع اور ہمہ گیر نظامِ حیات ہے جو ہر دور اور ہر معاشرتی صورتِ حال میں رہنمائی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم انسانی معاشرہ جامد نہیں بلکہ مسلسل

مصنف: مولانا عزیر احمد
تاریخ: 1 اکتوبر 2026
کتب حدیث میں ضعیف وموضوع روایات کے ذکر کےاسباب و مقاصد:اصولی و تحقیقی مطالعہ

تمہیدعلمِ حدیث اسلامی علوم کا وہ عظیم الشان شعبہ ہے جس کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال اور تقریرات کو محفوظ کیا گیا۔ محدثینِ کرام نے اپنی پوری زندگیاں اس مقدس علم کی خدمت میں

مصنف: محمد ندیم محمد
تاریخ: 1 اکتوبر 2026
مقدمہ صحیح مسلم اور علل الصغیر ترمذی کے مناہج جرح و تعدیل کا تقابلی مطالعہ

تمہیدتیسری صدی ہجری علمِ حدیث کی تاریخ کا ایک اہم اور فیصلہ کن دور ہے، جس میں احادیثِ نبویہ کی جمع و تدوین کے ساتھ رواۃ کی جانچ پڑتال اور نقدِ حدیث کے باقاعدہ اصول مرتب کیے گئے۔ اس علمی

مصنف: محمد ذیشان
تاریخ: 1 اکتوبر 2026
وراثت میں عورت کے حق کی شرعی حیثیت اور پاکستانی معاشرت میں عملی اطلاق(تحقیقی و تنقیدی مطالعہ)

انسانی معاشرے میں وراثت محض مالی وسائل کی تقسیم کا نام نہیں بلکہ معاشی انصاف، خاندانی استحکام اور سماجی توازن کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ کسی بھی معاشرے میں وراثتی نظام اس کے قانونی، اخلاقی اور تہذیبی تصورات کی عکاسی

مصنف: حافظ بابر حسین ستی
تاریخ: 30 ستمبر 2026
ذکراللہ سے غفلت؛ معاشرتی اثرات

تمہید :‑انسان جسے اللہ رب العزت نے تمام مخلوقات میں اشرف بنایا ہے اپنے حقیقی خالق کی یاد سے غفلت اس کو پستی کا شکار بنا دیتی ہے میرا عنوان اگرچہ خالص دینی ہے لیکن اس کے معاشرے اگر اس

مصنف: نازیہ فضل
تاریخ: 30 ستمبر 2026