جذباتی ذہانت: وہ قوت جو انسان کو اپنے نفس کا قائد اور معاشرے کا رہنما بناتی ہے

علم اور کردار کا تعلق ہمیشہ سے ایک دوسرے کے ساتھ رہا ہے، لیکن انسانی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ محض علم انسان کو عظیم نہیں بناتا۔ دنیا میں ایسے بے شمار لوگ گزرے ہیں جو غیر معمولی علم

مصنف:ابرار حسین
تاریخ: 21 جولائی 2026

دیگر مضامین

تمام مضامین دیکھیں

گوشۂ سہولت سے ایک قدم باہر: رسول ﷺ کی سیرت سے مسلسل جدوجہد کا سبق

انسان کو آرام چاہیے، سکون چاہیے، اپنے لیے ایک ایسی جگہ چاہیے جہاں زندگی کی

تاریخ: 3 اکتوبر 2026
مصنف:ابرار حسین

فقہ النوازل میں فقہاء کا منہج

اسلامی شریعت اپنی ساخت اور مزاج کے اعتبار سے ایک جامع اور ہمہ گیر نظامِ

تاریخ: 1 اکتوبر 2026
مصنف:مولانا عزیر احمد

کتب حدیث میں ضعیف وموضوع روایات کے ذکر کےاسباب و مقاصد:اصولی و تحقیقی مطالعہ

تمہیدعلمِ حدیث اسلامی علوم کا وہ عظیم الشان شعبہ ہے جس کے ذریعے رسول اللہ

تاریخ: 1 اکتوبر 2026
مصنف:محمد ندیم محمد

مقدمہ صحیح مسلم اور علل الصغیر ترمذی کے مناہج جرح و تعدیل کا تقابلی مطالعہ

تمہیدتیسری صدی ہجری علمِ حدیث کی تاریخ کا ایک اہم اور فیصلہ کن دور ہے،

تاریخ: 1 اکتوبر 2026
مصنف:محمد ذیشان

دیگر موضوعات

ابرار حسین

چیف ایڈیٹر کاروانِ علم، ٹرینر و محقق دینی و عصری علوم کے امتزاج کے حامل ایک وژنری ٹرینر اور ریسرچر ہیں۔ آپ جامعۃ الرشید کراچی کے فارغ التحصیل ہیں اور اس وقت مدرسہ ڈاٹ پی کے میں شعبۂ تربیت و شخصیت سازی کی نگرانی کر رہے ہیں۔ آپ کا مقصد مدارس کے فضلائے کرام کو معیاری تدریسی، تکنیکی اور قائدانہ مہارتوں سے آراستہ کرتے ہوئے انہیں مؤثر سماجی و فکری رہنماؤں کے طور پر تیار کرنا ہے۔

علم اور کردار کا تعلق ہمیشہ سے ایک دوسرے کے ساتھ رہا ہے، لیکن انسانی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ محض علم انسان کو عظیم نہیں بناتا۔ دنیا میں ایسے بے شمار لوگ گزرے ہیں جو غیر معمولی علم رکھتے تھے، مگر اپنے مزاج، رویوں اور جذبات پر قابو نہ ہونے کی وجہ سے نہ خود سکون پا سکے اور نہ دوسروں کے لیے باعثِ خیر بن سکے۔ اس کے برعکس بعض لوگ علم میں اگرچہ بہت بلند مقام پر نہ تھے، لیکن ان کی بردباری، حلم، شفقت اور لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک نے انہیں دلوں کا حکمران بنا دیا۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے آج کی زبان میں "جذباتی ذہانت” کہا جاتا ہے، جبکہ اسلام نے چودہ سو برس پہلے اسے حسنِ اخلاق، حلم، صبر، حکمت اور تزکیۂ نفس کے نام سے انسان کی بنیادی صفات میں شمار کیا تھا۔
آج کا انسان معلومات کے اعتبار سے پہلے سے کہیں زیادہ مالا مال ہے، مگر جذباتی طور پر پہلے سے زیادہ کمزور دکھائی دیتا ہے۔ معمولی اختلاف تعلقات توڑ دیتا ہے، ایک تنقید انسان کو مایوسی میں دھکیل دیتی ہے، غصہ فیصلوں پر غالب آ جاتا ہے، اور سوشل میڈیا نے فوری ردِ عمل کو سوچ سمجھ کر گفتگو کرنے پر ترجیح دے دی ہے۔ ایسے ماحول میں جذباتی بصیرت محض ایک نفسیاتی مہارت نہیں بلکہ ایک دینی، اخلاقی اور سماجی ضرورت بن چکی ہے۔ خصوصاً علمائے کرام، اساتذہ، والدین، قائدین اور دعوتِ دین سے وابستہ افراد کے لیے اس کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے، کیونکہ وہ صرف الفاظ کے ذریعے نہیں بلکہ اپنے رویوں کے ذریعے بھی لوگوں کی تربیت کرتے ہیں۔
قرآن مجید انسان کو سب سے پہلے اپنے باطن کی اصلاح کی دعوت دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"جس نے اپنے نفس کو پاک کیا، وہی کامیاب ہوا، اور جس نے اسے آلودہ کیا، وہ نامراد ہوا۔”
(الشمس: 9-10)
یہ آیات ہمیں بتاتی ہیں کہ اصل کامیابی صرف بیرونی کامیابیوں کا نام نہیں بلکہ اپنے نفس کی تربیت اور اپنے جذبات کی درست رہنمائی بھی اس کا لازمی حصہ ہے۔ اسلام انسان کو جذبات سے محروم نہیں کرتا، بلکہ انہیں صحیح سمت دیتا ہے۔ غصہ، محبت، خوف، خوشی اور غم سب انسانی فطرت کا حصہ ہیں، مگر ان جذبات کو عقل، وحی اور اخلاق کے تابع رکھنا ہی ایمان کی پختگی کی علامت ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی پوری سیرت جذباتی بصیرت کا زندہ نمونہ ہے۔ ایک مرتبہ ایک شخص نے آپ ﷺ سے نصیحت طلب کی تو آپ نے صرف اتنا فرمایا: "غصہ نہ کرو۔” اس نے بار بار نصیحت چاہی، اور ہر مرتبہ یہی جواب ملا۔ یہ مختصر جواب دراصل انسانی شخصیت کی ایک بنیادی کمزوری کی طرف اشارہ تھا۔ انسان کے بہت سے گناہ، تعلقات کی خرابیاں اور زندگی کی ناکامیاں اسی وقت جنم لیتی ہیں جب وہ اپنے جذبات کو اپنے اوپر حاکم بنا لیتا ہے۔
اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے طاقت کی نئی تعریف پیش کرتے ہوئے فرمایا:
"طاقت ور وہ نہیں جو کشتی میں دوسرے کو گرا دے، بلکہ طاقت ور وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔”
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ حقیقی قوت دوسروں پر غلبہ حاصل کرنے میں نہیں بلکہ اپنے نفس پر حکومت کرنے میں ہے۔ جو شخص اپنے جذبات کا غلام ہے، وہ بظاہر کتنا ہی طاقت ور کیوں نہ ہو، حقیقت میں کمزور ہے۔
سیرتِ نبوی ﷺ میں اس کی بے شمار مثالیں ملتی ہیں۔ فتح مکہ کا دن انسانی تاریخ کا ایک عظیم ترین دن تھا۔ وہ لوگ جنہوں نے آپ ﷺ کو ستایا، آپ کے ساتھیوں کو قتل کیا، آپ کو وطن چھوڑنے پر مجبور کیا، آج آپ ﷺ کے سامنے بے بس کھڑے تھے۔ اگر کوئی دنیاوی فاتح ہوتا تو انتقام لیتا، مگر رحمتِ عالم ﷺ نے فرمایا:
"آج تم پر کوئی گرفت نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو۔”
یہ صرف معافی نہیں تھی بلکہ جذبات پر کامل غلبہ اور اعلیٰ ترین اخلاقی قیادت کا مظہر تھا۔ اسی فیصلے نے ہزاروں دلوں کو اسلام کے قریب کر دیا۔ کبھی کبھی ایک لمحے کا حلم وہ کام کر دیتا ہے جو برسوں کی بحث نہیں کر سکتی۔
دعوتِ دین کے میدان میں بھی جذباتی بصیرت کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ قرآن نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ فرعون جیسے سرکش انسان سے بھی "نرم گفتگو” کریں، شاید وہ نصیحت قبول کر لے۔ اگر باطل کے سب سے بڑے نمائندے کے ساتھ بھی نرم لہجے کا حکم ہے، تو اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ سختی اور تحقیر کا رویہ کس طرح درست ہو سکتا ہے؟
بدقسمتی سے آج ہمارے معاشرے میں اختلافِ رائے اکثر اختلافِ دل بن جاتا ہے۔ ہم دلیل سے پہلے ردِ عمل دیتے ہیں، بات سننے سے پہلے جواب تیار کر لیتے ہیں، اور کسی کی ایک لغزش کو اس کی پوری شخصیت پر غالب کر دیتے ہیں۔ جذباتی بصیرت ہمیں سکھاتی ہے کہ ہر اختلاف دشمنی نہیں ہوتا، ہر تنقید توہین نہیں ہوتی، اور ہر خامی تعلق ختم کرنے کا جواز نہیں بنتی۔
علمائے کرام کے لیے یہ وصف مزید اہم ہے۔ ایک عالم صرف مسائل بتانے والا نہیں بلکہ دلوں کو جوڑنے والا بھی ہوتا ہے۔ مسجد میں آنے والا ہر شخص ایک جیسی ذہنی کیفیت نہیں رکھتا۔ کوئی غم زدہ ہوتا ہے، کوئی پریشان، کوئی شکوک میں مبتلا، کوئی گناہوں کے بوجھ تلے دبا ہوا۔ اگر داعی صرف علم رکھتا ہو مگر انسانوں کے جذبات کو نہ سمجھتا ہو، تو اس کی بات درست ہونے کے باوجود دلوں تک نہیں پہنچتی۔ لیکن جب علم کے ساتھ ہمدردی، شفقت، تحمل اور حسنِ سماعت شامل ہو جائیں تو وہی گفتگو دلوں میں اتر جاتی ہے۔
امام ابن القیمؒ نے لکھا ہے کہ دلوں کی اصلاح صرف دلائل سے نہیں بلکہ حکمت، شفقت اور حسنِ اخلاق سے بھی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی دعوت کا سب سے بڑا راز صرف آپ ﷺ کے الفاظ نہیں بلکہ آپ ﷺ کا کردار تھا۔ قرآن نے اسی حقیقت کو یوں بیان کیا:
"یہ اللہ کی رحمت ہے کہ آپ ان کے لیے نرم خو ہیں، اور اگر آپ سخت دل ہوتے تو لوگ آپ کے پاس سے منتشر ہو جاتے۔”
)آل عمران: 159(
اس آیت میں قیادت کا ایک دائمی اصول بیان کر دیا گیا ہے۔ لوگوں کو علم سے پہلے انسانیت اپنی طرف کھینچتی ہے۔ نرم مزاجی، احترام اور حسنِ اخلاق وہ دروازے کھول دیتے ہیں جنہیں سختی کبھی نہیں کھول سکتی۔
جدید نفسیات بھی آج اسی نتیجے پر پہنچی ہے کہ انسان کی کامیابی کا بڑا حصہ اس کی ذہنی اور جذباتی پختگی سے وابستہ ہے۔ جو شخص اپنی کیفیت کو سمجھتا ہے، اپنے جذبات کو منظم رکھتا ہے، دوسروں کے احساسات کا احترام کرتا ہے اور مشکل حالات میں متوازن فیصلے کرتا ہے، وہ زندگی کے ہر میدان میں زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ اسلام نے یہ تعلیم صدیوں پہلے دے دی تھی، مگر افسوس کہ ہم نے اسے صرف اخلاقیات کا ایک باب سمجھا، حالانکہ یہ تو شخصیت سازی، دعوت، قیادت اور معاشرتی اصلاح کی بنیاد ہے۔
جذباتی بصیرت پیدا کیسے ہو؟ اس کا پہلا قدم خود احتسابی ہے۔ انسان روزانہ اپنے آپ سے پوچھے کہ آج میں نے کہاں غصے کو خود پر غالب آنے دیا؟ کہاں کسی کی بات پوری سنے بغیر فیصلہ کر لیا؟ کہاں میرے الفاظ نے کسی کا دل دکھایا؟ یہی محاسبہ انسان کو آہستہ آہستہ بہتر بناتا ہے۔
دوسرا قدم خاموشی سیکھنا ہے۔ ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں، ہر اختلاف پر بولنا دانش مندی نہیں، اور ہر اشتعال کا جواب اشتعال نہیں ہوتا۔ رسول اللہ ﷺ نے خاموشی، تحمل اور سوچ سمجھ کر گفتگو کرنے کی ایسی مثالیں قائم کیں جو آج بھی بہترین ابلاغی اصول سمجھی جاتی ہیں۔
تیسرا قدم دوسروں کے نقطۂ نظر کو سمجھنے کی کوشش ہے۔ ہر انسان اپنی زندگی کے تجربات، مشکلات اور ماحول کے مطابق سوچتا ہے۔ جب ہم لوگوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمارے اندر ہمدردی پیدا ہوتی ہے، اور یہی ہمدردی تعلقات کو مضبوط بناتی ہے۔
آخر میں یہ حقیقت ہمیشہ پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ انسان کی عظمت اس کے علم، دولت یا منصب سے پہلے اس کے اخلاق میں ظاہر ہوتی ہے۔ تاریخ میں وہی لوگ دلوں پر حکومت کر سکے جنہوں نے اپنے جذبات کو اپنے مقاصد کے تابع رکھا، نہ کہ اپنے مقاصد کو جذبات کے تابع۔
آج امت کو ایسے علماء، اساتذہ، والدین اور قائدین کی ضرورت ہے جو صرف ذہین نہ ہوں بلکہ صاحبِ بصیرت بھی ہوں؛ جو صرف تقریر نہ کر سکیں بلکہ دلوں کو بھی سمجھ سکیں؛ جو صرف اختلاف نہ دیکھیں بلکہ انسان بھی دیکھ سکیں؛ اور جو صرف حق بیان نہ کریں بلکہ حق کو حکمت، شفقت اور حسنِ اخلاق کے ساتھ پیش کرنا بھی جانتے ہوں۔
جذباتی بصیرت دراصل اپنے نفس پر حکومت کرنے کا نام ہے۔ اور جو شخص اپنے نفس کا قائد بن جائے، وہی معاشرے کی صحیح معنوں میں رہنمائی کرنے کا اہل بنتا ہے۔ یہی وہ وصف ہے جو ایک عام انسان کو باکردار شخصیت، ایک معلم کو مربی، ایک عالم کو مصلح، اور ایک قائد کو تاریخ ساز رہنما بنا دیتا ہے۔

گوشۂ سہولت سے ایک قدم باہر: رسول ﷺ کی سیرت سے مسلسل جدوجہد کا سبق

انسان کو آرام چاہیے، سکون چاہیے، اپنے لیے ایک ایسی جگہ چاہیے جہاں زندگی کی دوڑ کچھ دیر کے لیے تھم جائے، ذمہ داریوں کا بوجھ ہلکا محسوس ہو اور آدمی خود کو محفوظ سمجھے۔ یہ انسانی فطرت ہے اور

مصنف: ابرار حسین
تاریخ: 3 اکتوبر 2026
فقہ النوازل میں فقہاء کا منہج

اسلامی شریعت اپنی ساخت اور مزاج کے اعتبار سے ایک جامع اور ہمہ گیر نظامِ حیات ہے جو ہر دور اور ہر معاشرتی صورتِ حال میں رہنمائی فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم انسانی معاشرہ جامد نہیں بلکہ مسلسل

مصنف: مولانا عزیر احمد
تاریخ: 1 اکتوبر 2026
کتب حدیث میں ضعیف وموضوع روایات کے ذکر کےاسباب و مقاصد:اصولی و تحقیقی مطالعہ

تمہیدعلمِ حدیث اسلامی علوم کا وہ عظیم الشان شعبہ ہے جس کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال اور تقریرات کو محفوظ کیا گیا۔ محدثینِ کرام نے اپنی پوری زندگیاں اس مقدس علم کی خدمت میں

مصنف: محمد ندیم محمد
تاریخ: 1 اکتوبر 2026
مقدمہ صحیح مسلم اور علل الصغیر ترمذی کے مناہج جرح و تعدیل کا تقابلی مطالعہ

تمہیدتیسری صدی ہجری علمِ حدیث کی تاریخ کا ایک اہم اور فیصلہ کن دور ہے، جس میں احادیثِ نبویہ کی جمع و تدوین کے ساتھ رواۃ کی جانچ پڑتال اور نقدِ حدیث کے باقاعدہ اصول مرتب کیے گئے۔ اس علمی

مصنف: محمد ذیشان
تاریخ: 1 اکتوبر 2026
وراثت میں عورت کے حق کی شرعی حیثیت اور پاکستانی معاشرت میں عملی اطلاق(تحقیقی و تنقیدی مطالعہ)

انسانی معاشرے میں وراثت محض مالی وسائل کی تقسیم کا نام نہیں بلکہ معاشی انصاف، خاندانی استحکام اور سماجی توازن کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ کسی بھی معاشرے میں وراثتی نظام اس کے قانونی، اخلاقی اور تہذیبی تصورات کی عکاسی

مصنف: حافظ بابر حسین ستی
تاریخ: 30 ستمبر 2026
ذکراللہ سے غفلت؛ معاشرتی اثرات

تمہید :‑انسان جسے اللہ رب العزت نے تمام مخلوقات میں اشرف بنایا ہے اپنے حقیقی خالق کی یاد سے غفلت اس کو پستی کا شکار بنا دیتی ہے میرا عنوان اگرچہ خالص دینی ہے لیکن اس کے معاشرے اگر اس

مصنف: نازیہ فضل
تاریخ: 30 ستمبر 2026